پی ایس ایل میچز پاکستانیوں کیلئے خوشی کی خبر لے آئے ۔۔ دنیا کے عظیم ترین کرکٹر نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا ۔۔ نام جان کر عمران خان بھی خوش

پی ایس ایل میچز پاکستانیوں کیلئے خوشی کی خبر لے آئے ۔۔ دنیا کے عظیم ترین کرکٹر نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا ۔۔ نام جان کر عمران خان بھی خوش

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پی ایس ایل میچز کے کامیاب انعقاد کے بعد عظیم آسٹریلوی کرکٹر نے 31 برس بعد پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی نے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کے لیے آفیشلز کا اعلان کر دیا ہے۔ اگلے ماہ کراچی میں شیڈول پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کو پاکستانی امپائرز ہی سپروائز کریں گے۔ جبکہ پاکستان ویسٹ انڈیز

سیریز کے لئے آسٹریلوی بیٹسمین ڈیوڈ بون میچ ریفری ہوں گے۔ سابق آسٹریلوی بلے باز ڈیوڈ بون 1987ء کے بعد پہلی بار پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ڈیوڈ بون کے پاکستان آنے کے باعث ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے معاملے کو بڑا بریک تھرو ملے گا۔

Wasim Akram Jesa Bowling Style-Swing Kay Sultan Ki Nannay Hassan Ko Bowling Tips.Geo Pakistan

A video of a kid bowling with a silky smooth left-arm action in a backyard has gone viral on Twitter — even the great Wasim Akram could not help but notice the kid’s raw talent.

The shalwar kameez-clad kid, who doesn’t seem older than 10 years, can be seen bowling multiple deliveries to a single stump with superb control and accuracy.

Soon after the video was uploaded on Twitter, Akram took notice of it, saying:

While some saw a bit of of Akram in the kid, others likened him to Mohammad Amir.

It remains unknown who and from where the kid is, but many on Twitter have urged people of influence to find and nurture him into an asset for Pakistan cricket.

Asif talks about his three sixes to Hasan Ali, PSL 2018 Final

They came of their lots; guys, women, kids; old and young citizens of pakistan all pushed by way of the love of the sport and the craving to watch a sport of high first-class cricket being played in karachi after nine long years. the lines to get into the enduring countrywide stadium were long, roads closures brought about inconvenience and the safety became enormously strict. but the smiles on the faces of the audiences informed a tale of its own. much like it had been in lahore a few days in advance, it was a story of a painful but an immensely fruitful wait to peer a few unique cricket being performed among first-rate groups, islamabad united and peshawar zalmi, in karachi, the ‘metropolis of lighting fixtures’.and what the jam-packed crowd at the country wide stadium noticed unfold in the front in their eyes did now not disappoint them. an islamabad united team, powered with the aid of the uncooked firepower of the tournament’s highest run-getter luke ronchi, and led in part with the aid of the collective expertise of misbah-ul-haq, rumman raees and jp duminy at unique stages of the event, duly picked up any other pakistan extremely good league (psl) identify to feature to the one from the inaugural version in 2016.

Even as the manner wherein islamabad finished off the match appeared to signify complete domination of all facets, it might be truthful to mention that the adventure to the final absolutely started out with some clever picks at some stage in the draft degree. the choice of all-rounders and kids along with shadab khan, faheem ashraf, hussain talat, amad butt, asif ali, sahibzada farhan and zafar gohar confirmed a willingness to accept as true with in youth, which changed into an crucial element of islamabad’s capability to take on the very quality of fighters inside the psl. considering the devastation triggered to islamabad’s possibilities and reputation at some stage in the 2017 edition of the psl, wherein the ugly spectre of corruption disadvantaged them of the abilities of sharjeel khan, khalid latif and the bowling electricity provided by way of mohammad irfan, their upward push to the top in psl 2018 was not anything quick of what they deserved.

And whilst it came to the choice of remote places players, andre russell, who had lately become available after serving a doping associated ban, was the best preference to guide the tough-hitting all-rounder brigade, as changed into the enjoy of seasoned campaigners samit patel and duminy. of path, the inclusion of ronchi, who probably carried the batting in the line-up all the way, was a masterstroke which the control can take complete credit score for. ronchi’s selection in the long run brought about mayhem to the bowling plans of the competition groups. while the extra charitable evaluations placed the leadership of the getting old and in reality unfit veteran misbah as an important thing for islamabad’s success, the reality became that he turned into at the helm of matters more for continuity functions in preference to any special capabilities with the bat. raees, who additionally captained the crew within the absence of misbah at some stage in the early degree of the match, himself picked up a knee harm in sharjah and was declared undeserving to hold. there was a actual hazard that the islamabad marketing campaign ought to fizzle out particularly with the likes of freshmen multan sultans looking like favourites at the earlier degrees of the event.

محمد آصف دبئی ایئر پورٹ سے گرفتار : سابق پاکستانی فاسٹ باؤلر سے متعلق انتہائی افسوسناک خبر آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک ) سپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ فاسٹ باﺅلر محمد آصف نے اپنی سزا تو پوری کر لی مگر ان کے ستارے اب بھی گردش میں ہیں کیونکہ نا تو وہ قومی ٹیم میں دوبارہ شامل ہو سکے اور نہ ہی کسی اور ملک میں کھیلنے کے قابل رہے ہیں کہ جہاں بھی جائیں

’پکڑے‘ جاتے ہیں۔محمد آصف گزشتہ دنوں ٹیپ بال ٹورنامنٹ کھیلنے کیلئے دبئی گئے تو امیگریشن حکام نے انہیں حراست میں لے لیا اور چند گھنٹے ’قید‘ رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا اور یوں وہ ٹیپ بال ٹورنامنٹ بھی نا کھیل پائے۔ محمد آصف 10 سال قبل آخری مرتبہ دبئی گئے تھے تو ان کی جیب سے منشیات برآمد ہونے پر پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔

اس کیس کی وجہ سے انہوں نے 10 سالوں میں متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے سے گریز کیا لیکن 10 سال بعد بھی یہ ”کارنامہ“ ان کے آڑے آ گیا اور انہیں دبئی ائیرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق محمد آصف نے شارجہ میں ایک ٹیپ بال ٹورنامنٹ کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا اور علامہ اقبال ائیرپورٹ سے دبئی روانہ ہوئے لیکن جب دبئی ایئرپورٹ پر اترے تو سکیننگ کے دوران انہیں امیگریشن حکام نے دبئی میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ اس دوران وہ امیگریشن حکام کی حراست میں رہے اور بعدازاں انہیں ڈی پورٹ کرکے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

اگر آپ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیں

اگر آپ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیں

کیا آپ ہر وقت خود کو تھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں یا کوئی کام کرتے ہوئے بھی تھکن کا احساس غالب آجاتا ہے؟ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ صرف نیند کی کمی نہیں جو آپ کو توانائی سے محروم کررہی ہوتی ہے بلکہ چند چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر آپ پر بھاری پڑتی ہیں۔ یہ وہ خراب عادتیں ہوتی ہیں جو طرز زندگی کو متاثر کرکے آپ کو تھکاوٹ کا ایسا شکار بنادیتی ہیں۔ تو دیکھیں پھر اس اردو کے نیچے ایک ویڈیو ہے اس کو کلک کرکے پلے کریں اور خد بھی دیکھیں اور دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں جزاک اللہ خییر اور رمل بھی کریں

سر کے ان حصوں میں درد کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟

سر میں درد ہونے کی صورت میں گولی کھاکر اس سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں لیکن کچھ سر درد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ کس بڑی بیماری کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ ماہر نیورولوجسٹ ڈاکٹر ثاقب قریشی کا کہنا ہے کہ سر میں ہونےوالے کچھ درد جو تصویر میں بتائے گئے ہیں کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر گولی کھانے کی بجائے دیگر چیزوں کو بھی چیک کریں۔اس کا کہنا ہے کہ سردرد کی چار اقسام ایسی ہیں جوہمارے جسم کے ساتھ منسلک ہوتی ہیںاوران کا علاج دوائی سے کرنے کی بجائے کچھ قدرتی طریقے اپنائیں۔ سائی نس

سردردسائی نس ایک ایسا مرض ہوتا ہے جسمیں بلغم کی وجہ سے ناک بند ہوجاتی ہے اور ساتھ سر پر دباﺅ پڑتا ہے۔اگر انفیکشن کی وجہ سے سائی نس تیز ہوجائے تو ہماری گالوں پر دباﺅ بڑھ جائے گا،آنکھ اور ماتھے میں درد ہوگا اور ساتھ بخار بھی تیز ہوجائے گا۔ایسی صورت میں بہت زیادہ پانی پئیں اور کوشش کریں کہ نیم گرم پانی کا استعمال کیا جائے،پانی کے ساتھ وٹامن سی والی غذاﺅں کا استعمال کریں۔ادرک ملا گرم سوپ بھی آپ کو بہت سکون دے گا۔مالٹا،سبز چائے،لیموں اور امرود کا استعمال کریں۔اس میں موجود انٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے انفیکشن کم ہوگی اور آپ کے درد میں کمی آئے گی۔ذہنی تناﺅسے دردیہ ایک بہت ہی عام پایا جاے والا درد ہے جس میں سر،گردن اور کنپٹیوںپر دباﺅ کی وجہ سے درد رہتا ہے۔اس درد کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے درد کے ساتھ قے بھی ہوجاتی ہے۔ذہنی تناﺅ کی وجہ سے سر اور گردن میں درد رہنے لگتی ہے ۔ایسی صورت میں آپ کو چاہیے ادرک والی چائے میں منٹ کے تیل کے چند قطرے ملائیںاور پی لیں۔آپ چاہیں تو منٹ آئل کے چند قطرے ماتھے پر لگالیں،اس سے آپ کو کافی سکون ملے گا۔کلسٹر سردردیہ درد زیادہ تر خواتین میں ایک آنکھ کے اوپر ہوتا ہے۔
یہ یکدم ہوتا ہے جس میں آنکھ کے اوپرشدید درد ہوتا ہے اور ساتھ ہی ناک بند ہوجاتا ہے یا ناک بہنے لگتا ہے۔ایسی کریم جس میں capsaicin cayenneپایا جاتا ہے کو ناک کے پاس اور درد والی جگہ لگانے سے کافی ریلیف ملے گا۔

میگرین(آدھے سر کا درد)
آدھے سر کے درد کو میگرین کہاجاتا ہے اور یہ 25سے55سال کے درمیان کے افرادمیں ہوسکتا ہے۔یہ عام سردرد سے بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے جس کی وجہ نیورومسائل بتائی جاتی ہے۔ایک تہائی افراد میں یہ درد وقفے سے سر کے آدھے حصے میں ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جی متلانا،قے آنا، روشنی کی چبھن اور دیگر تکالیف بھی ہوتی ہیں۔اس درد کا شکار ہونے والے کئی افراد کو وٹامن بی 12، میگنیشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے کافی سکون ملتا ہے۔

سر میں درد ہونے کی صورت میں گولی کھاکر اس سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں لیکن کچھ سر درد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ کسی بڑی بیماری کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ ماہر نیورولوجسٹ ڈاکٹر ثاقب قریشی کا کہنا ہے کہ سر میں ہونے

والے کچھ درد جو تصویر میں بتائے گئے ہیں کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر گولی کھانے کی بجائے دیگر چیزوں کو بھی چیک کریں۔اس کا کہنا ہے کہ سردرد کی چار اقسام ایسی ہیں جوہمارے جسم کے ساتھ منسلک ہوتی ہیںاوران کا علاج دوائی سے کرنے کی بجائے کچھ قدرتی طریقے اپنائیں۔

سائی نس سردرد
سائی نس ایک ایسا مرض ہوتا ہے جسمیں بلغم کی وجہ سے ناک بند ہوجاتی ہے اور ساتھ سر پر دباﺅ پڑتا ہے۔اگر انفیکشن کی وجہ سے سائی نس تیز ہوجائے تو ہماری گالوں پر دباﺅ بڑھ جائے گا،آنکھ اور ماتھے میں درد ہوگا اور ساتھ بخار بھی تیز ہوجائے گا۔ایسی صورت میں بہت زیادہ پانی پئیں اور کوشش کریں کہ نیم گرم پانی کا استعمال کیا جائے،

پانی کے ساتھ وٹامن سی والی غذاﺅں کا استعمال کریں۔ادرک ملا گرم سوپ بھی آپ کو بہت سکون دے گا۔مالٹا،سبز چائے،لیموں اور امرود کا استعمال کریں۔اس میں موجود انٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے انفیکشن کم ہوگی اور آپ کے درد میں کمی آئے گی۔

ذہنی تناﺅسے درد
یہ ایک بہت ہی عام پایا جاے والا درد ہے جس میں سر،گردن اور کنپٹیوںپر دباﺅ کی وجہ سے درد رہتا ہے۔اس درد کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے درد کے ساتھ قے بھی ہوجاتی ہے۔ذہنی تناﺅ کی وجہ سے سر اور گردن میں درد رہنے لگتی ہے ۔ایسی صورت میں آپ کو چاہیے ادرک والی چائے میں منٹ کے تیل کے چند قطرے ملائیںاور پی لیں۔آپ چاہیں تو منٹ آئل کے چند قطرے ماتھے پر لگالیں،اس سے آپ کو کافی سکون ملے گا۔

کلسٹر سردرد
یہ درد زیادہ تر خواتین میں ایک آنکھ کے اوپر ہوتا ہے۔یہ یکدم ہوتا ہے جس میں آنکھ کے اوپرشدید درد ہوتا ہے اور ساتھ ہی ناک بند ہوجاتا ہے یا ناک بہنے لگتا ہے۔ایسی کریم جس میں capsaicin cayenneپایا جاتا ہے کو ناک کے پاس اور درد والی جگہ لگانے سے کافی ریلیف ملے گا۔

میگرین(آدھے سر کا درد)
آدھے سر کے درد کو میگرین کہاجاتا ہے اور یہ 25سے55سال کے درمیان کے افرادمیں ہوسکتا ہے۔یہ عام سردرد سے بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے جس کی وجہ نیورومسائل بتائی جاتی ہے۔ایک تہائی افراد میں یہ درد وقفے سے سر کے آدھے حصے میں ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جی متلانا،قے آنا، روشنی کی چبھن اور دیگر تکالیف بھی ہوتی ہیں۔اس درد کا شکار ہونے والے کئی افراد کو وٹامن بی 12، میگنیشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے کافی سکون ملتا ہے۔

سر میں درد ہونے کی صورت میں گولی کھاکر اس سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں لیکن کچھ سر درد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ کسی بڑی بیماری کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ ماہر نیورولوجسٹ ڈاکٹر ثاقب قریشی کا کہنا ہے کہ سر میں ہونے

والے کچھ درد جو تصویر میں بتائے گئے ہیں کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر گولی کھانے کی بجائے دیگر چیزوں کو بھی چیک کریں۔اس کا کہنا ہے کہ سردرد کی چار اقسام ایسی ہیں جوہمارے جسم کے ساتھ منسلک ہوتی ہیںاوران کا علاج دوائی سے کرنے کی بجائے کچھ قدرتی طریقے اپنائیں۔

سائی نس سردرد
سائی نس ایک ایسا مرض ہوتا ہے جسمیں بلغم کی وجہ سے ناک بند ہوجاتی ہے اور ساتھ سر پر دباﺅ پڑتا ہے۔اگر انفیکشن کی وجہ سے سائی نس تیز ہوجائے تو ہماری گالوں پر دباﺅ بڑھ جائے گا،آنکھ اور ماتھے میں درد ہوگا اور ساتھ بخار بھی تیز ہوجائے گا۔ایسی صورت میں بہت زیادہ پانی پئیں اور کوشش کریں کہ نیم گرم پانی کا استعمال کیا جائے،

پانی کے ساتھ وٹامن سی والی غذاﺅں کا استعمال کریں۔ادرک ملا گرم سوپ بھی آپ کو بہت سکون دے گا۔مالٹا،سبز چائے،لیموں اور امرود کا استعمال کریں۔اس میں موجود انٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے انفیکشن کم ہوگی اور آپ کے درد میں کمی آئے گی۔

ذہنی تناﺅسے درد
یہ ایک بہت ہی عام پایا جاے والا درد ہے جس میں سر،گردن اور کنپٹیوںپر دباﺅ کی وجہ سے درد رہتا ہے۔اس درد کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے درد کے ساتھ قے بھی ہوجاتی ہے۔ذہنی تناﺅ کی وجہ سے سر اور گردن میں درد رہنے لگتی ہے ۔ایسی صورت میں آپ کو چاہیے ادرک والی چائے میں منٹ کے تیل کے چند قطرے ملائیںاور پی لیں۔آپ چاہیں تو منٹ آئل کے چند قطرے ماتھے پر لگالیں،اس سے آپ کو کافی سکون ملے گا۔

کلسٹر سردرد
یہ درد زیادہ تر خواتین میں ایک آنکھ کے اوپر ہوتا ہے۔یہ یکدم ہوتا ہے جس میں آنکھ کے اوپرشدید درد ہوتا ہے اور ساتھ ہی ناک بند ہوجاتا ہے یا ناک بہنے لگتا ہے۔ایسی کریم جس میں capsaicin cayenneپایا جاتا ہے کو ناک کے پاس اور درد والی جگہ لگانے سے کافی ریلیف ملے گا۔

میگرین(آدھے سر کا درد)
آدھے سر کے درد کو میگرین کہاجاتا ہے اور یہ 25سے55سال کے درمیان کے افرادمیں ہوسکتا ہے۔یہ عام سردرد سے بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے جس کی وجہ نیورومسائل بتائی جاتی ہے۔ایک تہائی افراد میں یہ درد وقفے سے سر کے آدھے حصے میں ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جی متلانا،قے آنا، روشنی کی چبھن اور دیگر تکالیف بھی ہوتی ہیں۔اس درد کا شکار ہونے والے کئی افراد کو وٹامن بی 12، میگنیشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے کافی سکون ملتا ہے۔

سر میں درد ہونے کی صورت میں گولی کھاکر اس سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں لیکن کچھ سر درد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ کسی بڑی بیماری کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ ماہر نیورولوجسٹ ڈاکٹر ثاقب قریشی کا کہنا ہے کہ سر میں ہونے

والے کچھ درد جو تصویر میں بتائے گئے ہیں کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر گولی کھانے کی بجائے دیگر چیزوں کو بھی چیک کریں۔اس کا کہنا ہے کہ سردرد کی چار اقسام ایسی ہیں جوہمارے جسم کے ساتھ منسلک ہوتی ہیںاوران کا علاج دوائی سے کرنے کی بجائے کچھ قدرتی طریقے اپنائیں۔

سائی نس سردرد
سائی نس ایک ایسا مرض ہوتا ہے جسمیں بلغم کی وجہ سے ناک بند ہوجاتی ہے اور ساتھ سر پر دباﺅ پڑتا ہے۔اگر انفیکشن کی وجہ سے سائی نس تیز ہوجائے تو ہماری گالوں پر دباﺅ بڑھ جائے گا،آنکھ اور ماتھے میں درد ہوگا اور ساتھ بخار بھی تیز ہوجائے گا۔ایسی صورت میں بہت زیادہ پانی پئیں اور کوشش کریں کہ نیم گرم پانی کا استعمال کیا جائے،

پانی کے ساتھ وٹامن سی والی غذاﺅں کا استعمال کریں۔ادرک ملا گرم سوپ بھی آپ کو بہت سکون دے گا۔مالٹا،سبز چائے،لیموں اور امرود کا استعمال کریں۔اس میں موجود انٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے انفیکشن کم ہوگی اور آپ کے درد میں کمی آئے گی۔

ذہنی تناﺅسے درد
یہ ایک بہت ہی عام پایا جاے والا درد ہے جس میں سر،گردن اور کنپٹیوںپر دباﺅ کی وجہ سے درد رہتا ہے۔اس درد کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے درد کے ساتھ قے بھی ہوجاتی ہے۔ذہنی تناﺅ کی وجہ سے سر اور گردن میں درد رہنے لگتی ہے ۔ایسی صورت میں آپ کو چاہیے ادرک والی چائے میں منٹ کے تیل کے چند قطرے ملائیںاور پی لیں۔آپ چاہیں تو منٹ آئل کے چند قطرے ماتھے پر لگالیں،اس سے آپ کو کافی سکون ملے گا۔

کلسٹر سردرد
یہ درد زیادہ تر خواتین میں ایک آنکھ کے اوپر ہوتا ہے۔یہ یکدم ہوتا ہے جس میں آنکھ کے اوپرشدید درد ہوتا ہے اور ساتھ ہی ناک بند ہوجاتا ہے یا ناک بہنے لگتا ہے۔ایسی کریم جس میں capsaicin cayenneپایا جاتا ہے کو ناک کے پاس اور درد والی جگہ لگانے سے کافی ریلیف ملے گا۔

میگرین(آدھے سر کا درد)
آدھے سر کے درد کو میگرین کہاجاتا ہے اور یہ 25سے55سال کے درمیان کے افرادمیں ہوسکتا ہے۔یہ عام سردرد سے بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے جس کی وجہ نیورومسائل بتائی جاتی ہے۔ایک تہائی افراد میں یہ درد وقفے سے سر کے آدھے حصے میں ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جی متلانا،قے آنا، روشنی کی چبھن اور دیگر تکالیف بھی ہوتی ہیں۔اس درد کا شکار ہونے والے کئی افراد کو وٹامن بی 12، میگنیشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے کافی سکون ملتا ہے۔

آن لائن ہراسمنٹ، حل اور احتیاطی تدابیر

دورِ جدید میں سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز میں دستیاب باہمی رابطوں کی تیز ترین اپلیکیشنز جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کررہی ہیں وہیں اِن جدید ذرائع ابلاغ سے جڑے نت نئے خطرات اور جرائم بھی سامنے آرہے ہیں۔ اِنہی خطرات میں سے سب سے حساس اور پوری دنیا میں تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ آن لائن ہراسمنٹ اور ذاتی معلومات کے افشا ہونے کا ہے۔

اگر قرض کے بوجھ تلے دبے ہوں تو اس مشکل سے نجات

سر کے ان حصوں میں درد کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟

اگر کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو اور قرض کی بروقت ادائیگی کی کوئی ممکن صورت نہ دکھائی دیتی ہو تو وہ یہ عمل کرے۔

روزانہ نماز عشاءکے بعد چار رکعت نفل نماز قرض کی جلد ادائیگی کی غرض سے اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورہ فلق پڑھے۔ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورہ کافرون پڑھے۔ یوں نماز مکمل کرکے سلام پھیرے۔

اس کے بعد پھر دو رکعت نماز نفل اس طرح سے پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورة اخلاق پڑھے۔ دوسری رکعت میں تین مرتبہ سورہ العصر اور تین مرتبہ

سورہ اخلاص پڑھ کر نماز مکمل کرے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ میں جاکر یہ دعا سات مرتبہ مانگے۔ اس کے بعد سجدہ سے سر اٹھائے اور بیٹھ کر دس مرتبہ یہ پڑھے

رب السموت ورب الارض رب العالمین ولہ الکبریاءفی السموات والارض وھو العزیز الحکیم

ہر روز بلا ناغہ چالیس یوم تک پڑھے، حق تعالیٰ نے چاہا تو ضرور قرض کی جلد اور بروقت ادائیگی کا انتظام ہوجائے گا اور قرض خواہ بھی اس دوران تنگ نہ کریں

اگر بیوی میں یہ نشانیاں ہیں تو دوسری شادی کیں

ایک بیوی کی حیثیت سے ایک عورت کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟ * کیا ایک بیوی ایک خاندان کے بہتر مستقبل کی معمار ہو سکتی ہے؟ * کیا آپ کا شماربری اور جاہل قسم کی بیویوں میں تو نہیں ہوتا؟ * اگر ایسا ہے تو کیا آپ نے کبھی اپنی ذات میں ان خامیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو آپ کو آپ کو اس صف میں شمار کرتی ہیں۔ * کیا آپ ان خامیوں کو دور کر کے خود کو ایک بہتر خاتون،بیوی اور ماں ثابت کر سکتی ہیں؟ کونسی نشایاں ہوں تو دوسری شادی کر لینی چاہئے؟ دیکھیں اس اردو کے نیچے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کونسی شانی ہو تو مرد

1: پہلی نشانی شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرنا: ایک جاہل بیوی ہمیشہ اپنے شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرتی ہے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہنے کے بجائے ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کبھی خوشدلی سے پیش نہیں آتی اورمعمولی باتوں پر سسرالیوں سے لڑجھگڑ گھر میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرلیتی ہے۔ 2: شوہر کو اہمیت نہ دینا جاہل بیوی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ کبھی شوہر کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کا وہ حق دار ہے۔ایسی اکثر بیویاں شوہر کو محض پیسہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں اور شوہر کی بجائے اس کی آمدنی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔شوہر کو بہرصورت بیوی کی ایک مناسب اور بے غر ض توجہ درکار ہوتی ہے جس سے لاپرواہی فاصلوں کو جنم دیتی ہے۔ 3: گھر پہ توجہ نہ دینا جہالت کی ایک نشانی اپنے گھر پر توجہ نہ دینا بھی ہے۔ایسی بیوی گھریلو معاملات سے لاپرواہ سی نظر آتی ہے۔حتیٰ کہ گھر کے ضروری کام کاج اور اہم معاملات بھی جو ایک عورت ہی کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں ادھورے پن کا شکار نظر آتے ہیں۔ایسی خاتون کا گھر صفائی ستھرائی سے عاری نظر آتا ہے ۔یہ ماحول آہستہ آہستہ گھر کے افراد کے رویوں میں بھی رچ بس جاتا ہے اور معیارِزندگی کو زوال کا شکار بنا دیتا ہے۔ 4: بچوں پر توجہ نہ دینا ایک جاہل اور لاپرواہ مزاج کی حامل بیوی گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کے معاملات میں بھی بے توجہی برتتی ہے۔وہ نہ تو خود زندگی کے درست طور طریقوں کو اہمیت دیتی ہے اور نہ ہی بچوں کو ان کا درس دیتی نظر آتی ہے۔اس ماحول میں پلنے والے بچے کبھی بھی زندگی کی صیح اقدار سے آگاہ نہیں ہوپاتے کیونکہ بحرحال ایک بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ بچوں کے معاملے میں اس فرض اس سے کوتاہی میاں بیوی کے درمیان شکوے شکایتوں کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ 5: وقت کی پابندی نہ کرنا جاہل بیوی کو وقت کی اہمیت کا قطعاً ادراک نہیں ہوتا۔اسکے بچے سکول اور شوہر آفس ہمیشہ لیٹ ہی پہنچتا ہے۔ناشتہ، لنچ یا ڈنر وغیرہ کے کوئی

اوقات مقرر نہیں ہوتے۔ٖاس خاتون کے گھریلو امور افراتفری کا شکار رہتے ہیں۔مناسب ٹائم مینجمنٹ کی عدم موجودگی افرادِخانہ کے مزاج میں چڑچڑے پن کوجنم دیتی ہے اور گھر کا پرسکون ماحول بد نظمی کی نظر ہو جاتا ہے۔ 6: شوہر سے بدزبانی معمولی لڑائی جھگڑوں میں بعض اوقات مصلحتاً خاموشی اختیار کر لینا اور غلطیوں کواگنور کر دیناگھریلو ماحول پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔مگر ایک جاہل بیوی ان خصوصیات سے ناآشنا ہوتی ہے۔معمولی باتوں پر بحث وتکرار اور پھر بدزبانی پر اتر آتی ہے ۔اس کا رویہ شوہر کے ساتھ عزت و احترام سے عاری ہوتا ہے۔بحث و تکرار، بد زبانی و بد تہذیبی کا یہ رویہ بالآخر شوہر کو گھر اور بیوی سے بددل کر دیتا ہے۔ 7: شوہر کی گھر آمد کو اہمیت نہ دینا اس آرٹیکل کو پڑھنے والی تمام خواتین سے میری گزارش ہے کہ ایک لمحے کے لئے ذرا یہ تصور کیجیئے کہ آپ ایک شوہر ہیں جو اپنے کام سے تھکا ہارا ،بھوکا پیاسا واپس آیا ہے اور آپ کی بیوی نے نہ تو آپ کی آمد ہی کو اہمیت دی ،نہ آپ کے ہاتھوں میں پانی کا گلاس تھمایا اور نہ کھانے کا پوچھا۔تو آپ کیسا محسوس کریں گی؟ ایک جاہل بیوی شوہر کی آمد پر ایسے ہی رویے کا مظاہرہ کرتی ہے۔ 8: دوسری عورتوں کے سامنے شوہر کی برائی بیان کرنا ایک جاہل بیوی شوہر کی خوبیوں پر کم اور خامیوں پر زیادہ توجہ رکھتی ہے۔نہ صرف یہ بلکہ وہ دیگر خواتین اور لوگوں کے سامنے بھی بڑے دکھ کے ساتھ ان خامیوں کا تذکرہ کرتی نظر آتی ہے۔اسے اس حقیقت کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ شوہر کی خامیوں کا دوسروں کے سامنے یوں برملا اظہار ان خامیوں کو دور تو نہیں کرسکتا ہاں مگر گھر کی فضا میں کچھ پیچیدگیاں ضرور پیدا کر دیتا ہے۔
9: شوہر کے والدین سے بدتمیزی شوہر کے ماں باپ کی عزت نہ کرنا اور ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آناجاہل بیوی کی سب سے اہم نشانی ہے۔یہ رویہ گھریلو ماحول میں عدم برداشت کے عناصر کوجنم دیتا ہے ۔

Miandad Ke Ghar Main Soug Ka Samaa

ISLAMABAD: In an apparent rebuff to the Council of Islamic Ideology (CII)’s stand on child marriage, Marvi Memon, along with other members of the Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N), on Tuesday proposed harsher punishments for those found guilty of the act.

The CII had recently ruled that laws on child marriage were un-Islamic, but members from the ruling PML-N took an opposing stance on the floor of the National Assembly on Tuesday by proposing that punishment for those who contract and solemnize the marriage should be harsher.

The CII in its 191th meeting on March 10 had given the ruling that laws related to minimum age of marriage were un-Islamic and that children of any age could get married if they attain puberty.
The move in the National Assembly earned the ire of other members, most prominently Maulana Muhammad Khan Shirani, the chairman of the CII.

“The CII had already given its recommendations over the Act and it should have not come in the National Assembly,” said Shirani after Marvi Memon of PML-N introduced a bill seeking amendments in the Act.

Movers of the bill also include Asiya Naz Tanoli, Muhammad Pervaiz Malik and Shaista Pervaiz.

Shirani opposed the proposed amendments saying that they were contrary to Islamic teachings and laws. In order to substantiate his arguments, he quoted Article 2, 7 and 227 of the Constitution, several verses from Quran and Hadith and said that according to Islamic laws marriage can be solemnised when a girl attains puberty.

“Parliament could not legislate laws which are against the teachings of Quran and Sunnah,” he added.

Another JUI-F member, Moulana Ameer Zaman said that the issue should be referred to the CII further perusal and discussion.

Commenting over the issue, Minister for Religious Affairs Sardar Yousaf said that the bill be referred to the relevant standing committee for further deliberations as it was proposed by the Speaker NA.

However, SA Iqbal Qadri from the Muttahida Qaumi Movement [MQM] had a different take as he also opposed the idea of introducing the bill in lower house but on a different ground.

“After the passage of 18th Constitutional Amendment the subject [marriage] has become a provincial subject and the bill should not have come here,” he added.

Amendments proposed by the Bill

The bill had sought amendments in the Child Marriage Restraint Act, 1929 proposing six amendments in the existing laws.

The bill has proposed strict punishment through amendment which says “Whoever, being a male above eighteen years of age, contracts child marriage shall be punishable with rigorous imprisonment which may extend to two years, or with fine which may extend to one hundred thousand rupees, or with both.”

Before the amendment, the Act said that the punishment should be “simple”, may extend to “one month” and fine may extend to one thousands rupees.

Similarly, the punishment for solemnizing the child marriage has been suggested to be “rigorous” instead of “simple”, for “two years” instead of existing “one month” and the fine should be “one hundred thousands” instead of one thousands.

The bill has also proposed three substitutions in section 8, 9 and 12. Substation in section 8 reads “Jurisdiction under this Act:- The Family Court, established under section 3 of the West Pakistan Family Court Act 1964 (No.XXXV of 1964) shall exercise jurisdiction under this Act and may take cognizance of an offence in the manner provided by section 190 of the code of Code of Criminal Procedure 1898 (No. V of 1898).”

Substitution of Section 9 says that offences under this Act shall be cognizable “All offences under this Act shall be cognizable; such cognizance shall in no case be taken after the expiry of one year from the date on which offence in alleged to have been committed.”

The final amendment proposed substitution of Section 12 that relates to Power to issue injunction prohibiting marriage “(1) Notwithstanding anything to the contrary contained in any other law, the court may, if satisfied from information laid before it through a complaint or otherwise that a child marriage in contravention of this Act is going to be arranged or is about to be solemnized, issue an injunction prohibiting such marriage. (2) Whoever, knowing that an injunction has been issued against him under sub-section (1) of this section, disobeys such injunction, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to one year with fine which may extend to one hundred thousand rupees, or both.”


Miandad Ke Ghar Main Soug Ka Samaa