صوابی میں مٹی کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنا یاسر شاہ کو مہنگا پڑ گیا، قومی کرکٹر کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات نے مداحواں کو افسردہ کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک)صوابی میں مٹی کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنا یاسر شاہ کو مہنگا پڑ گیا، آئرلینڈ اور انگلینڈ کی سیریز کی تیاری کے سلسلے میں یاسر شاہ صوابی میں مقامی ٹورنامنٹ کا میچ کھیلتے ہوئے ان فٹ ہوئے اور ان دونوں سیریز سے باہر ہوگئے۔پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر یاسر شاہ کے کولہے کیہڈی میں ہیر لائن فریکچر ہے اور مکمل صحت یاب ہونے کے لیے انہیں کم از کم ڈھائی ماہ کا وقت درکار ہے۔31 سالہ یاسر شاہ کو ایک ماہ صرف سوئمنگ کی اجازت ہوگی اور ایک ماہ مکمل آرام کرنا ہوگا

تاہم اس کے بعد چھ ہفتے ری ہیبلی ٹیشن کے عمل سے گزرنا ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو یاسر شاہ کی ایک اور میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد بورڈ ان کے بارے میں حتمی میڈیا ریلیز جاری کرے گا۔پیر کو یاسر شاہ نے لاہور میں پاکستان ٹیم کے فٹنس ٹیسٹ میں بھی شرکت نہیں کی جس سے جیو کی اس خبر کی تصدیق ہوچکی ہے کہ یاسر شاہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے میں پاکستان ٹیم کی نمائندگی نہیں کرسکیں گے۔یاسر شاہ کی ایم آر آئی رپورٹ میں کولہے میں اسٹریس فریکچر کی تصدیق ہوگئی ہے۔

پاکستان اور آئرلینڈ کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ 11 مئی سے 15 مئی تک ڈبلن میں کھیلا جائے گا جبکہ انگلینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 24-28 مئی کو لارڈز اور دوسرا یکم جون سے پانچ جون تک لیڈز میں کھیلا جائے گا۔چیف سلیکٹر انضمام الحق نے تصدیق کی ہے کہ یاسر شاہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے

اور یہ ٹیم کیلئے بہت بڑا دھچکا اور نقصان ہے۔واضح رہے کہ سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن غیرقانونی قرار دیے جانے کے بعد سے یاسر شاہ ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کے سب سے کامیاب باؤلر رہے ہیں اور 2014 سے اب تک 28 ٹیسٹ میچوں میں 165 وکٹیں لے کر پاکستان کی جیت میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔چیف سلیکٹر انضمام الحق نے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کے دوران لیگ اسپنر کی عدم دستیابی کی تصدیق کر دی ہے۔انضمام الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یاسر شاہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دوروں سے باہر ہو گئے ہیں جو ہماری ٹیم کے لیے بڑا دھچکا ہے۔میڈیکل رپورٹس میں یاسر شاہ کی کوہلے کی ہڈی میں اسٹریس فریکچر کا انکشاف ہوا ہے اور انہیں انجری سے بحالی کے لیے کم از کم 4 سے 6 ہفتے درکار ہیں۔انضمام نے نے کہا کہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے نوجوان لیگ اسپنر شاداب خان، آف اسپنر بلال آصف اور لیفٹ آرم اسپنر کاشف بھٹی کو طلب کر لیا گیا ہے۔

شاداب خان محدود اوورز کی کرکٹ میں تو بہت کارگر رہے ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں وہ کچھ متاثر کن آغاز نہ کر سکے اور اب تک بارباڈوس میں کھیلے گئے اپنے واحد ٹیسٹ میچ میں صرف وکٹ لے سکے تھے۔مئی 2016 میں مکی آرتھر کے ہیڈ کوچ بننے کے بعد یاسر شاہ نے قومی ٹیم کے 17 میں سے 16 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی اور 89 وکٹیں حاصل کیں۔2016 میں لارڈز کے مقام پر پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دی تو اس کا مرکزی کردار بھی یاسر شاہ ہی تھے

جنہوں نے 10وکٹوں کی فتح گر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔وہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹوں کی تیز ترین سنچری کے ساتھ ساتھ کم ترین ٹیسٹ میچوں میں 150وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔پاکستان رواں سال 11 سے 15مئی تک ڈبلن میں آئرلینڈ سے ٹیسٹ میچ کھیلے گا جو میزبان ٹیم کا پہلا ٹیسٹ میچ ہو گا جس کے بعد قومی ٹیم دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے انگلینڈ جائے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں