روایت۔۔۔

روایت۔۔۔
پیر‬‮ 16 اپریل‬‮ 2018 | 14:47
شادی کی پہلی رات اس نے اس کا گھونگھٹ اٹھا کر کہا۔۔۔ سنو یہ شادی ایک زبردستی کا فیصلہ تھا۔۔۔ میں کسی اور کو چاہتا تھا مگر میرے گھر والے راضی نہیں ہوئے۔۔۔ ابا کو دل کی تکلیف تھی اس لئے ان کے آگے لڑ نہ سکا۔۔۔ میری ہاں ایک مجبوری تھی۔۔ شائد میں تمہیں زندگی میں وہ پیار نہیں دے سکوں گا جس کی تم حقدار ہو۔۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ وہ گم صم بیٹھی خالی کمرہ دیکھ رہی تھی۔۔ من میں آٰیا وہ بھی چیخ چیخ کر بول دے۔۔۔ ایک تم

کر بول دے۔۔۔ ایک تم ہی کیا۔۔ میں بھی کسی کو دل و جان سے چاہتی تھی۔۔

زندگی گزارنا چاہتی تھی اس کے ساتھ۔۔غریب تھا۔۔۔پر محنتی تھا۔۔۔بس گھر والوں کو پسند نہ آیا۔۔۔میں بھی ہار گئی۔۔۔ تم سے شادی ہو گئی۔۔ تم مرد تو کہہ سکتے ہو ہم عورتیں کیسے کہیں۔۔۔جذبات تھے کہ لفظوں کا پیرہن چاہ رہے تھی۔۔۔جیسے کہہ رہے ہوں۔۔یہ چپ کی روایت توڑ دو آج۔۔۔توڑ دو۔۔۔۔ مگر حلق تک آتے آتے۔۔۔لفظوں نے اشکوں کی شکل لے لی۔۔۔۔ آواز دم توڑ گئی۔۔ وہ روایت نہ توڑ سکی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *