امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

امریکہ کا ایک ڈاکٹرکہتا ہے!میرا دل کرتا ہے کہ

ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ! ﮐﯿﻮﮞ؟ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﮑﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﺳﭙﯿﺸﻠﺴﭧ ﺗﮭﮯ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﺩﯼ ﻧﻈﺮﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭘﻤﭗ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻥ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺅﭦ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺧﻮﻥ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺜﻼ ﺗﯿﻦ

ﻣﻨﺰﻟﮧ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻤﭗ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﭘﻤﭗ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺧﻮﻥ ﮐﻮ ﭘﻤﭗ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺜﻼ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﭘﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺠﺪﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻟﻤﺒﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ، ﻟﯿﭩﺎ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ، ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺟﺒﮑﮧ ﺳﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺧﻮﻥ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺩﯾﻦ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﺟﺪﯾﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ :43 ﻭَﺃَﻗِﻴﻤُﻮﺍ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗُﻮﺍ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﺍﺭْﻛَﻌُﻮﺍ ﻣَﻊَ ﺍﻟﺮَّﺍﻛِﻌِﻴﻦَ
:43 ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮٰﺓ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ) ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ( ﺟﮭﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮﻭ ﻭَﺍﺳْﺘَﻌِﻴﻨُﻮﺍ ﺑِﺎﻟﺼَّﺒْﺮِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ۚ ﻭَﺇِﻧَّﻬَﺎ ﻟَﻜَﺒِﻴﺮَﺓٌ ﺇِﻟَّﺎ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْﺨَﺎﺷِﻌِﻴﻦَ :45 ﺍﻭﺭ ) ﺭﻧﺞ ﻭﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ( ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﮔﺮﺍﮞ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ) ﮔﺮﺍﮞ ﻧﮩﯿﮟ ( ﺟﻮ ﻋﺠﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ

ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﺍﺫْﻛُﺮُﻭﺍ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺫِﻛْﺮًﺍ ﻛَﺜِﻴﺮًﺍ

:41 ﺍﮮ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ

:42 ﻭَﺳَﺒِّﺤُﻮﻩُ ﺑُﻜْﺮَﺓً ﻭَﺃَﺻِﻴﻠًﺎ

:42 ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ
ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﻳَﻌْﻤُﺮُ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻣَﻦْ ﺁﻣَﻦَ ﺑِﺎﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻴَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺂﺧِﺮِ ﻭَﺃَﻗَﺎﻡَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗَﻰ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﺨْﺶَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪَ ۖ ﻓَﻌَﺴَﻰٰ ﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﺃَﻥْ ﻳَﻜُﻮﻧُﻮﺍ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﻬْﺘَﺪِﻳﻦَ

:18 ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮﺓ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ) ﺩﺍﺧﻞ ( ﮨﻮﮞ

حضرت ابراہیم کا اللہ سے سوال؟

حضرت ابراہیم کا اللہ سے سوال؟

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو رحمن (اللہ ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں، اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چنانچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو ) عرض کیا کہ ” میرے پروردگار ” ! یہ

کیا ہے ؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام ) ” یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا ” میرے وقار میں اضافہ فرما ۔” (مالک ) مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ لباس کا بیان ۔ حدیث 415

میرے بھائیوں اور محترم بہنوں! سر کے پہلے بال کا سفید ہو جانا انسان کے لئے موت کی بڑھنے اور الله سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے قریب ہو جانے کا سگنل ہوتا ہے لہٰذا اپنی باقی ماندہ زندگی الله کی مرضی سے گزارنے کا سگنل ہوتا ہےگناہوں اور نافرمانیوں سے باز آنے اور آخرت بچانے کی فکر کرنے سگنل۔

خوشحال زندگی گزارنے کیلئے صبح و شام 3،3مرتبہ یہ 3سورتیں پڑھیں

خوشحال زندگی گزارنے کیلئے صبح و شام 3،3مرتبہ یہ 3سورتیں پڑھیں

نبی کریمؐ کو کائنات کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا، آپ نہ صرف احکامات خداوندی قیامت تک کے انسانوں کیلئے دے کر بھیجے گئے بلکہ آپ کی ذات اطہر و طاہر کو سرتاپا رحمت بنا دیا گیا، آپ نے قیامت تک آنیوالی انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے پیغام کو نہ صرف انسانوں تک پہنچایا بلکہ ان کے مصائب و آلام دور کرنے کیلئے شریعت کے بتائے طریقوں کو اپنانے کا درس دیا۔ نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کامفہوم ہے کہ ’’جوشخص صبح و شام تین تین مرتبہ سورہ اخلاص، سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھےگا وہ

الناس پڑھےگا وہ ہر طرح کے مصائب اور رنج و غم سے محفوظ رہے گا۔‘‘آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں ہر انسان ذہنی پریشانی، بے سکونی میں مبتلا ہے تو ایسے میں اس حدیث میں نبی کریمؐ کے بتائے ہوئے طریقے سے نہ صرف دلی سکون، ذہنی آسودگی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ جادو، حسد اور شریروں کی شرارتوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

سورہ اخلاص

سورہ الفلق

سورہ الناس

ایک شخص کی والدہ کی واحد خواہش حج کرنا تھا،

ایک شخص کی والدہ کی واحد خواہش حج کرنا تھا،

معروف کالم نگار و سینئر صحافی جاوید چودھری نے اپنے کالم میں لکھا کہ وہ نائب قاصد تھا‘ پوسٹل سروس کے چیئرمین کے دفتر پر کام کرتا تھا‘ وہ صاحب کی فائلیں ڈی جی کے آفس لے کر جاتا تھا‘ فائلیں وہاں سے اکاؤنٹس برانچ جاتی تھیں اور پھران فائلوں کو واپس چیئرمین آفس لانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘بندہ محمد بشیر کی ذمہ داریاں یہیں تک محدود نہیں تھیں بلکہ گرمیوں میں صاحب کے آنے سے پہلے اے سی آن کرنا اور سردیوں میں ہیٹر جلا کر دفتر گرم کرنا‘ میز کی صفائی‘ ڈسٹ بین کلیئر کرنا‘ باتھ میں تولیہ‘ صابن‘ ٹشو پیپرز‘ ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش رکھنا۔ صاحب کی گاڑی کا دروازہ

کھولنا‘ ڈکی سے بریف کیس نکالنا‘ مہمانوں کا استقبال‘ چائے پانی کا بندوبست‘ ٹفن باکس کھول کر لنچ لگانا‘ برتن دھونا‘ صاحب کا۔ کوٹ اتارنا‘ میٹنگ سے پہلے کوٹ پہنانا‘ صاحب کا بریف کیس گاڑی تک لانا‘ صاحب کیلئے دروازے کھولنا‘ صاحب کے جانے کے بعد دفتر کو اپنی نگرانی میں لاک کرانا‘ بیگم صاحبہ کی فرمائشیں پوری کرنا‘ خانساماں کو سبزی‘ ترکاری‘ گوشت اور اناج کی دکانوں تک لے کر جانا‘ درزی سے کپڑے لانا‘ بیگم صاحبہ کے جوتے تبدیل کرانا اور دھوبی کے ساتھ حساب کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا لیکن ان تمام فرائض کی ادائیگی کے بعد اسے صرف آٹھ ہزار روپے ملتے تھے‘ یہ آٹھ ہزار روپے اس کی کل متاع تھے‘ زندگی کے تمام تقاضے آٹھ ہزار روپے کے اس کمزور سے ستون پر کھڑے تھے اور یہ ستون روز دائیں بائیں لرزتا کانپتا تھا۔وہ نسلوں سے غریب تھا‘ والد بھی نائب قاصد تھا‘ وہ فوت ہونے سے پہلے اسے بھی نائب قاصد بھرتی کراگیا‘ تعلیم انڈر میٹرک تھی اور یہ تعلیم بھی اس نے ٹھنڈی ننگی زمین پر بیٹھ کر حاصل کی تھی‘ بہنیں شادی شدہ تھیں مگر وہ بھی عسرت ناک زندگی گزار رہی تھیں‘ ایک بڑا بھائی تھا‘ وہ غربت کی وجہ سے بھاگ گیا‘ وہ آخری بار کراچی میں دیکھا گیا‘اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ملی‘ چیئرمین صاحب کی مہربانی سے

والد کا سرکاری کوارٹر اس کے نام منتقل ہو گیا‘ یہ بوسیدہ‘ بدبودار کوارٹر اس کی کل کائنات تھا لیکن ٹھہریئے کوارٹر کے علاوہ بھی اس کی ایک کائنات تھی۔ یہ کائنات بوڑھی بیمار والدہ تھی‘ بندہ محمد بشیر نے بچپن میں مولوی صاحب سے سن لیا‘ ماں کی خدمت کرنے والا دنیا اور آخرت دونوں میں سرفراز ہوتا ہے‘یہ نقطہ بیج بن کر اس کے دماغ کی زرخیز مٹی میں گرا اور وہ بیج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تناور درخت بن گیا‘ماں اس کی واحد پناہ گاہ تھی اور وہ ماں کا تنہا سہارا تھا‘ وہ دن کے وقت چیئرمین صاحب کی چاکری کرتا تھا اور صبح‘ شام اور رات میں والدہ کی خدمت‘ یہ اس کی کل زندگی تھی‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں بندہ محمد بشیر نے شادی نہیں کی کیوں؟ یہ وجہ بھی اس کی زندگی کی طرح دلچسپ تھی‘ بندہ محمد بشیر کی والدہ حج کرنا چاہتی تھی‘ یہ والدہ کی زندگی کی واحد خواہش تھی‘ بندہ محمد بشیر جب ماں کی گود میں تھا تو ماں اسے تھپتھپاتی تھی‘ ہلاتی تھی‘ لوریاں دیتی تھی اور ساتھ ساتھ کہتی جاتی تھی’’میرا محمد بشیر مجھے حج کرائے گا‘ میرا محمد بشیر مجھے مکے مدینے لے کر جائے گا‘‘ بندہ محمد بشیر یہ فقرہ سن سن کر بڑا ہوا تھا چنانچہ اس نے ماں کے حج کو بھی اپنے فرائض کا حصہ بنا لیا تھا‘ وہ ماں کو ہر صورت حج کرانا چاہتا تھا حج مہنگا تھا اور بندہ محمد بشیر کی آمدنی قلیل تھی‘ وہ اگر اس قلت میں شادی بھی کر لیتا تو ماں کا حج ناممکن ہو جاتا چنانچہ اس نے ماں کے حج تک شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا‘ وہ ہر ماہ اپنی قلیل آمدنی سے ڈیڑھ دو

ہزار روپے بچاتا لیتا تھااور ماں کے حج فنڈ میں جمع کر دیتا تھا‘ یہ فنڈ چیونٹی کی طرح رینگتا رینگتا آگے بڑھ رہا تھا‘ ہم سٹوری کو یہاں روکتے ہیں اور آپ کو یہ بتاتے ہیں لوگ محمد بشیر کو بندہ محمد بشیر کیوں کہتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے محمد بشیر کو عاجزی اور انکساری کی نعمت سے نواز رکھا تھا‘ وہ جس کو بھی اپنا تعارف کراتا تھا‘ ذرا سا جھکتا تھا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا تھا ’’بندے کا نام ہے محمد بشیر‘‘ سننے والوں کو ہنسی آ جاتی تھی‘ لوگوں نے آہستہ آہستہ اس کا نام ہی بندہ محمد بشیر رکھ دیا‘ وہ اس ٹائٹل پر خوش تھا‘وہ درخواستوں میں خود اپنا نام بندہ محمد بشیر لکھ دیتا تھا اور یوں وہ سچ مچ بندہ محمد بشیر بن گیا۔ہم واپس ماں کے حج کی طرف آتے ہیں‘ بندہ محمد بشیر نے بہرحال 2005ء میں حج کے پیسے جمع کر لئے‘ وہ درخواست جمع کرانے گیا تو پتہ چلا ماں محرم کے بغیر حج نہیں کر سکتی۔ یہ نئی افتاد تھی‘وہ بڑی مشکل سے دس سال میں ایک حج کے پیسے جمع کر پایا تھا‘ وہ اب اپنے لئے کہاں سے پیسے لاتا؟ وہ ہمت ہار گیا اور پریشانی کے عالم میں گلیوں میں پھرنے لگا‘ اس دوران ایک اور واقعہ پیش آ گیا‘محمد نعیم ساتھی نائب قاصد تھا‘ نعیم کا بیٹا پتنگ اڑاتا ہوا چھت سے گر گیا‘ بچہ شدید زخمی تھا‘ نعیم کو آپریشن کیلئے دو لاکھ روپے چاہیے تھے‘ اس نے دوڑ بھاگ کرکے لاکھ روپے جمع کر لیے‘ لاکھ روپے کی کمی تھی‘ نعیم مجبوری کے عالم میں بندہ محمد بشیر کے پاس آ گیا‘ محمد بشیر عجیب مخمصے کا شکار ہوگیا‘ وہ حج کی دوسری درخواست کے لیے خود

قرض تلاش کر رہا تھا جبکہ محمد نعیم اس سے ماں کی درخواست کے پیسے بھی مانگ رہا تھا‘ وہ نعیم کو انکار کرتا تو بچے کے بچنے کے امکانات کم ہو جاتےاور وہ اگر حج کے پیسے نعیم کو دے دیتا تو ماں بیمار تھی وہ حج کے بغیرہی دنیا سے رخصت ہو جاتی‘ محمد بشیر بری طرح پھنس گیا‘ نعیم کے پاس وقت کم تھا‘ وہ محمد بشیر کے قدموں میں جھک گیا اور یہ وہ لمحہ تھا جس میں بشیر نے اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا‘ وہ گھر گیا‘ الماری سے رقم نکالی اور نعیم کے حوالے کردی۔ وہ اس کے بعد سیدھا مسجد گیا‘ دو رکعت نماز نفل پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کی ’’یا باری تعالیٰ میری کوشش میں کوئی کمی نہیں تھی‘ شاید آپ ہی کو منظور نہیں تھا‘آپ اب میری ماں کو صبر دے دیں‘ آپ اسے حوصلہ دے دیں‘‘ یہ دعا دعا کم اور دوا زیادہ تھی‘ وہ اطمینان قلب کی دولت سمیٹ کر گھر واپس آیا اور گہری نیند سو گیا۔ بندہ محمد بشیر کا اگلا دن حیران کن تھا‘ محکمے نے دو سٹاف ممبرز کو سرکاری اخراجات پر حج پر بھجوانے کا فیصلہ کیا‘ قرعہ اندازی ہوئی اور بندہ محمد بشیر اور محمد نعیم کے نام نکل آئے‘ محمد نعیم کو ہسپتال میں اطلاع دی گئی‘ وہ سیدھا دفتر آیا‘ چیئرمین سے ملاقات کی اور محمد بشیر کی زندگی‘ دس سال تک ماں کے حج کیلئے رقم جمع کرنےاور پھر یہ رقم زخمی بچے کے آپریشن کیلئے دینے تک ساری داستان انہیں سنا دی‘ چیئرمین کے ماتھے پر پسینہ آ گیا‘ محمد نعیم نے چیئرمین سے عرض کیا ’’میری درخواست ہے آپ میری جگہ محمد بشیر کی والدہ کو

حج پر بھجوا دیں‘ میں جوان آدمی ہوں‘ مجھے اللہ تعالیٰ مزید مواقع دے گا‘‘ چیئرمین کے پاس انکار کی گنجائش نہیں تھی‘ نعیم نے درخواست دی۔ چیئرمین نے منظوری دے دی اور یوں بندہ محمد بشیر اپنی والدہ کو ساتھ لے کر حج پر روانہ ہو گیا‘ محمد بشیر حج کے دوراناپنی ماں کی جی جان سے خدمت کرتا رہا‘ یہ خدمت دیکھ کر ایک ساتھی خاندان متاثر ہوا اور حج کے دوران ہی اسے بیٹی کا رشتہ دے دیا‘ وہ اور اس کی والدہ واپس آئے‘ چند ماہ بعد شادی ہوئی‘ سسر نے بیٹی کو جہیز میں دس مرلے کا چھوٹا سا مکان دے دیا‘ یہ لوگ نئے گھر میں شفٹ ہوئے‘ لڑکی پڑھی لکھی اور سمجھ دار تھی‘ اس نے گھر میں دس سلائی مشینیں رکھیں۔ محلے کی لڑکیاں اکٹھی کیںاور اپنا بوتیک بنا لیا‘ بوتیک کامیاب ہو گیا‘ آج دس برس بعد بندہ محمد بشیر ملک محمد بشیر بن چکا ہے‘ یہ ہر سال دس ضرورت مندوں کو حج کراتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہے‘ یہ اپنی کامیابی کو کامیابی نہیں حج اکبر کہتا ہے‘ ایک ایسا حج جس کا دروازہ محمد نعیم کے زخمی بیٹے کے زخمی سر میں تھا اور محمد بشیر اس پھٹے ہوئے کھلے سر سے ہوتا ہوا خانہ کعبہ پہنچا تھا ’’دی بیسٹ روڈ ٹو مکہ‘‘۔

میں بادشاہ بن کر نہیں آیا

میں بادشاہ بن کر نہیں آیا
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 11:20
سلطان صلاح الدین ایوبی رح کو جب مصر کا گورنر مقرر کیا گیا تو آپ جب مصر تشریف لائے تو کہا گیا:’’حضور آپ بڑی لمبی مسافت سے تشریف لائے ہیں پہلے آرام کر لیں۔‘‘۔۔۔۔۔ سلطان ایوبی رح نے جواب دیا:’’میرے سر پر جو دستار رکھ دی گئی ہے میں اس کے اہل نہ تھا۔ اس دستار نے میرا آرام اور میری نیند ختم کر دی ہے۔ کیا آپ حضرات مجھے اس چھت کے نیچے نہیں لے چلیں گے جہاں میرے فرائض میرا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔’’کیا حضور کام سے پہلے طعام پسند نہیں کریں گے؟‘‘۔ سلطان کے نائب نے پوچھا۔لمبے

قوی ہیکل گارڈز دونوں اطراف کھڑے تھے۔ سلطان انکو دیکھ کر مسکرا اٹھے لیکن اگلے ہی لمحے وہ خوشی زائل ہو گئی جب وہاں چار نوجوان لڑکیاں ہاتھوں میں پھولوں کی پتیاں لئے کھڑی تھیں۔ انھوں نے سلطان کے قدموں میں پتیاں بکھیرنی شروع کر دیں۔ اور ساتھ ہی دف، طاوس و رباب اور شہنائیاں بجنے لگیں۔ سلطان نے پھولوں کی پتیاں دیکھیں تو قدم روک لئے۔’’صلاح الدین ایوبی پھولوں کی پتیاں مسلنے نہیں آیا‘‘۔ سلطان نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جو ان لوگوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔’’اگر میری راہ میں کچھ پچھانا چاہتے ہو تو وہ ایک ہی چیز ہے جو میرے دل کو بھاتی ہے‘‘۔ صلاح الدین ایوبی نے کہا۔’’آپ حکم دیں‘‘۔ نائب نے کہا۔ “صلیبیوں کی لاشیں”۔ سلطان نے مسکرا کر کہا لیکن اگلے ہی لمحے سلطان کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔’’مسلمان کی زندگی پھولوں کی سیج نہیں۔۔۔جانتے ہو صلیبی سلطنت اسلامیہ کو چوہوں کی طرح کھا رہے ہیں؟۔اور جانتے ہو وہ کیوں کامیاب ہو رہے ہیں؟صرف اسلئے کہ ہم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کر دیا ہے۔۔ میری نظریں فلسطین پر لگی ہیں، اور تم میری راہ میں پھول بچھا کر مصر سے بھی اسلام کا پرچم اْتروا دینا چاہتے ہو؟ سلطان نے ایک نظر سب کو دیکھا اور دبدبے سے کہا”آْٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے میں نے ان پر قدم رکھا تو میرح روح کانٹوں سے چھلنی ہو جائے گی۔ہٹا دو ان لڑکیوں کو میرے راستے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ میری تلوار انکے دلکش بالوں میں اْلجھ کر بیکار ہو جائے۔””حضور کی جاہ و حشمت”۔مت کہو مجھے حضور۔ سلطان نے بولنے والے کو یوں ٹوکا جیسے کسی کافر کی گردن کاٹ دی ہو۔ مزید کہا:حضور وہ تھے جن کو تم کلمہ پڑھتے ہو۔ اور جن کا میں غلام بے دام ہوں۔ میری جان فدا ہو اْس حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ہے۔ میں یہی پیغام لے کر مصر آیا ہوں۔ صلیبی مجھ سے یہ پیغام چھین کر بحیرہء روم میں ڈبو دینا چاہتے ہیں۔ شراب میں غرق کر دینا چاہتے ہیں۔ میں بادشاہ بن کر نہیں آیا۔

دنیا کا سب سے امیر آدمی اینڈریو

دنیا کا سب سے امیر آدمی اینڈریو
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 12:25
دنیا کا سب سے امیر آدمی اینڈریو کارنیگی کہتا تھا کہ فیصلہ نہ لے پانے سے بہت بہتر ہے کہ تم برا فیصلہ کر لو اور رسک لے لو۔کیاآپ جانتے ہیں کہ 95% لوگوں کو ایسے کیوں لگتا ہے جیسے ان کے پاس کسی نہ کسی چیز کی کمی ہے اور وہ خوش نہیں رہ سکتے؟ یہ بات اینڈریو کارنیگی نے کہی ہے کہ اتنے زیادہ لوگ اپنی زندگی اطمینان اور خوشی سے عاری گزار رہے ہیں کیونکہ وہ کوئی غلط فیصلہ لینے سے گھبراتے ہیں۔ اینڈریو کار نیگی دنیا کا جانا مانا سب سے امیر آدمی تھا۔ اس نے

میں امیر ترین ہونے کا ریکارڈ قائم کیا اور جب وہ 66 سال کا ہو گیا تو رٹائر ہو گیا۔ اس نے اپنی ساری دولت چیریٹی کردی اور فلانتھروپسٹ بن گیا۔ انڈریو کا دعوہ تھا کہ وہ پیسے کمانے کہ وہ پیسے کمانے کا گر جان گیا تھا اور اس کے لیے کسی بھی وقت دنیا کا امیر ترین آدمی بننا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ 1901 میں رٹائر ہوا تھا۔ ایک دفعہ اس کے پاس ایک لڑکا آیا۔۔۔نپولین ہل۔لڑکے نے بتایا کہ وہ جاب کے سلسلے میں آیا تھا۔ اینڈریو نے سٹاپ واچ ٹیبل کے نیچے اپنے ہاتھ میں ساٹھ سیکنڈ کے سٹاپر پر سیٹ کی اور اس سے سوال کیا کہ تم اپنی زندگی کے اگلے بیس سال ابھی ایک منٹ میں میرے حوالے کر سکتے ہو۔اگلے بیس سال تم صرف میرے لیے کام کرو گے اور تمہارا کام ہو گا دنیا کے تمام امیر اور کامیاب لوگوں کی ہر طرح کی سٹریٹیجی اور زندگی کی حکمت عملی کو پڑھنا اور تحریر کرنا۔ پر شرط یہ تھی کہ وہ لڑکا ایک منٹ کے اندراندر ہاں کرتا اور مطلب یہ تھا کہ آگے وہ کامیاب ہو تا یا ناکام اس کو بیس سال کا کانٹریکٹ سائن کرنا تھا۔ لڑکے نے بتیس سیکنڈ بعد ہاں بول دیا اور اینڈریو کہتا ہے کہ وہ تبھی جان گیا تھا کہ نپولین ہل ایک کامیاب آدمی بنے گا۔ نپولین ہل 1883میں پیدا ہوا تھا اور جس دن سے اس نے اینڈریو کار نیگی کے لیے کام شروع کیا تھا وہ کبھی زوال کی طرف نہیں گیا بلکہ ایک غریب گھرانے کا لڑکا اتنی بلندی پر پہنچا کہ اس نے ’تھنک اینڈ گرو رچ‘ جیسی ایک کتاب لکھی جو اپنے وقت کی بیسٹ سیلر بنی اوروہ تھامس ایڈیسن، فرینک رووز ویلٹ، ہینری فورڈ اور ماہاتما گاندھی جیسے معروف لیڈروں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ حاصل کلام صاف ہے کہ کوئی رسک نہیں لو گے تو جدھر بیٹھے ہو وہیں بیٹھے رہ جاؤ گے اورزندگی میں کبھی کچھ نیا نہیں سیکھ سکوگے۔ اینڈریو جیسے امیر ترین آدمی نے تو دنیاکو یہی بولا کہ برا فیصلہ کوئی فیصلہ نہ لے پانے سے بہت بہتر ہوتا ہے۔

دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ جاننا بہت آسان

دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ جاننا بہت آسان
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 15:39
دودھ صحت کے لیے بہت فائدہ مند مشروب ہے مگر اس صورت میں اگر وہ خالص ہو، اس میں ملاوٹ نہ صرف معیار ناقص کرتی ہے بلکہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔دودھ میں پانی کے ساتھ ساتھ ڈیٹرجنٹ، یوریا، سینیتھک ملک اور مختلف کیمیکلز کو ملایا جاسکتا ہے یا ملایا جاتا ہے۔ان میں سے بیشتر کیمیکلز دودھ میں شامل ہونے کے بعد طویل المعیاد بنیادوں پر صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ اگر دودھ میں ڈیٹرجنٹ ملا ہوا ہو تو وہ فوڈ پوائزننگ اور معدے کی دیگر پچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے

دیگر کیمیکلز سے امراض قلب، کینسر اور جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔تاہم دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ، اس کو جانچنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔نیچے موجود ویڈیو میں بھارت کے محکمہ خوراک نے دودھ کے خالص ہونے یا نہ ہونے کا آسان طریقہ بتایا ہے۔اور یہ آپ کو علم ہی ہوگا کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہونے کے باوجود موجودہ دور میں ملاوٹ شدہ دودھ کتنا عام ہوتا جارہا ہے۔تو اس ویڈیو میں دیا گیا طریقہ جانیں اور اس خطرے سے خود کو محفوظ رکھیں

پارٹ ٹائم منافق

پارٹ ٹائم منافق
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 15:31
عبداللہ آج اپنے دوست کے بیٹے کی شادی میں شرکت کےلیے بحرین جارہا تھا۔ سفر اسے ہمیشہ سے ہی پسند تھا اور آج تو اس کی شوخی موسم کی وجہ سے زوروں پر تھی۔ بحرین میں بارش شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی تھی اور آج تو ساون کھل کر برس رہا تھا، اس محبت کی طرح جو انجام سے بےنیاز ہو۔ مگر شاید قدرت کو کچھ اورہی منظور تھا۔ شادی ہال میں داخل ہوتے ہی ایک بزرگ ڈاکٹر صاحب اس کے ساتھ بیٹھ گئے، اس ضمیر کی طرح جو گناہ سے روکتا تو نہیں لیکن اس کا مزہ

کرکرا کر دیتا ہے۔ بارش کا خنک موسم، کھانے کی کھاج اور بیک گراؤنڈ میں چلتے آئٹم سونگز، ڈاکٹر صاحب کی آواز میں سب دب گئے۔ وہ گویا ہوئے، ’’عبداللہ، آج جمعے کا مبارک دن ہے، یہ کالے کپڑے کیوں پہنے ہیں؟‘‘عبداللہ: ’’جی وہ سفید پہنتے ہوئے شرم آتی ہے کہ کہیں فرشتے منافقوں میں نہ لکھ لیں۔ ابھی اندر باہر ایک جیسا ہے (same same)؛ اس میں آرام رہتا ہے۔‘‘ڈاکٹر صاحب شاید اپنی بزرگی کے زعم میں جواب سننے کے عادی نہیں تھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے غصّے کو قابو کیا اور کہنے لگے: ’’کیا بچکانہ باتیں ہیں۔ بڑے ہوگئے ہو، کنپٹی اور داڑھی میں سفیدی آرہی ہے اور تم شوخیوں میں لگے ہوئے ہو۔‘‘’’جی اسی بات کا تو رونا ہے۔ بال سفید ہو گئے، دل کالا رہ گیا ہے،‘‘ عبداللہ نے جواب دیا۔اب ڈاکٹر صاحب کو سنہری موقع مل گیا اور کہنے لگے، ’’یہ سب دین سے دوری ہے۔ اگر دین پر چلو تو یوں گناہوں میں زندگی نہ گزرے۔ نفاق سے بالکل پاک ہوجاؤ…‘‘ ابھی وہ اپنا وعظ شروع ہی کرتے، عبداللہ نے بات بیچ میں سے اُچک لی۔’’ارے بزرگوار، دین سے دوری والے تو پھر بھی بھلے ہیں۔ میرے جیسوں کا پوچھیے جو آس پاس رہتے ہوئے بھی منافق ہیں۔‘‘’’کیا تمہارا ضمیر مرگیا ہے جو ایسی باتیں کر رہے ہو؟‘‘ بزرگوار نے تیر چلایا۔عبداللہ: ’’جی بالکل سچ کہا۔ جب میں نے کوئی 20 سال پہلے جاب شروع کی، اسی دن مرگیا تھا۔‘‘عبداللہ سوچنے لگا کہ کچھ لوگوں کا کسی صحبت یا نیکیوں کے شوق میں لائف اِسٹائل تو بدل جاتا ہے مگر سوچ وہی رہتی ہے۔ خدا کے ہر بندے کو اپنے بنائے معیارات و ترجیحات پر تولنا اور اس پر کوئی نہ کوئی قدغن لگانا۔ڈاکٹر صاحب نے بات بگڑتے دیکھی تو انہوں نے ماحول بدلنے کےلیے ایک اور سوال کردیا۔ مگر اب عبداللہ کا دل بھر آیا تھا، اب اسے کہاں چھوڑنا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا۔’’آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘’’جی، پارٹ ٹائم کنسلٹنگ کرتا ہوں اور پارٹ ٹائم منافق ہوں۔‘‘’’مجھے تو فل ٹائم لگتے ہو،‘‘ وہ کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔’’جی نہیں، کچھ نشانیاں ہیں منافق کی، وہ خوش قسمتی سے نہیں ہیں۔ لہذا فی الحال تو پارٹ ٹائم ہی ہوں۔‘‘اب باقی لوگ بھی متوجہ ہوگئے تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ عبداللہ اپنی بات کی وضاحت کرے۔’’جی ضرور! دیکھیے سب سے پہلے تو ضمیر کو نکال دیجیے۔ ہم کام پیسہ کمانے کےلیے کرتے ہیں۔ عزت و شہرت کےلیے، بیوی بچوں کےلیے مگر اس پر ملمع اسلام، وژن اور امت کا چڑھا دیتے ہیں۔ یہ بڑی غلط بات ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ بندے کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اگر مرنے کے بعد فرشتوں نے پوچھ لیا کہ یہ جو لا اِلٰہ کہتے تھے یہ سچ تھا یا تمہاری باقی باتوں کی طرح جھوٹ یا اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کی کوئی کہانی؟ تو کیا جواب دیں گے؟’’لڑکپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا۔ دنیا میں ہمیشہ اپنے سے اوپر والے امیر کو دیکھا اور اصل میں جو سب سے اوپر والا ہے اسے بھلا دیا۔ آپ نیک لوگ ہیں آپ کا ضمیر زندہ ہوگا، میرا تو مرچکا ہے۔‘‘’’رہا سوال نفاق کا، تو کیوں جھوٹ بولوں؟ بالکل ہے اور شاید موت تک رہے۔ نفاق کا کھٹکا آخری سانس تک لگا رہے یہ اس سے بہتر ہے کہ ’نفاق سے پاک‘ ہونے کا دعویٰ پیش کروں۔‘‘لوگوں کے چہرے سوالیہ نشان بنے ہوئے تھے۔ صرف بیک گراونڈ میوزک عبداللہ کے دل کی دھڑکنوں کا ساتھ دے رہا تھا۔عبداللہ نے بہتی آنکھوں کے ساتھ بات پھر سے جوڑی۔’’دیکھئے جناب! تین باتیں ہیں۔ جب تک باقی رہیں مجھے اپنے نفاق پر ان شاء اللہ پورا یقین رہے گا۔’’پہلی یہ کہ اللہ میرے لیے بڑا نہیں ہے۔ میں روز نماز میں کہتا ہوں کہ اللہ اکبر، مگر دل نہیں مانتا۔ نماز سے باہر تو پیسہ اکبر ہے، اولاد، بیوی، خاندان، عزت، شہرت، علم، سفارش، اثر و رسوخ، تعلقات، نیکیاں، یہ سب اکبر ہیں۔ کوئی پریشانی یا مصیبت آجائے تو سب سے پہلے نظر بینک بیلنس پر، پھر دوست احباب اور تعلقات پر، پھر رشتے داروں پر، پھر اپنی تعلیمی اسناد اور ڈگریوں پر، پھر اپنی نام نہاد پرسنیلٹی اور شخصیت پر، پھر ذہانت و حاضر جوابی پر۔ پھر… پھر… اللہ پاک تو کہیں آخر میں جا کر آتے ہیں۔ ترجیحات میں اللہ سب سے آخر میں ہے۔’’حتٰی کہ نیند بھی اس سے زیادہ پیاری ہے۔ بیوی کی کال بھی، کرکٹ کا میچ بھی، باس کی ای میل بھی، نیکیوں کا ڈھنڈورا بھی، انسانیت کی خدمت بھی، لوگوں کا علاج بھی، اسٹریٹجک میٹنگز بھی، لوگوں کی زندگی بدل دینے والی ٹریننگ بھی۔ اللہ کا نمبر سب سے آخری ہے۔ جب دنیا میں کوئی کام کرنے کے قابل نہیں بچتا تب اللہ یاد آتے ہے۔ جب ساری عقل، پیسہ اور چالیں فیل ہوجاتی ہیں تب دعا مانگتا ہوں۔’’اِن ساری حقیقتوں کے سامنے جب اللہ اکبر سنتا ہوں تو آنسو نکل آتے ہیں۔ بندہ منہ پر تو جھوٹ نہ بولے۔ جس کے بارے میں پتا کچھ نہیں، اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کیوں کرے؟’’دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ میرے لیے تصور ہے، حقیقت نہیں۔ جیسے امریکا کا تصور ہوتا ہے، اچھے حسین چہرے کا، بڑی گاڑی کا، چاند و مریخ کا، بالکل ایسے ہی۔ فلم میں زلزلے کی عکس بندی ہوتی ہے، یہ ایک تصور ہے جسے دیکھ کر ہم انجوائے کرتے ہیں۔ ایک زلزلہ وہ ہے جو نظر کے سامنے حقیقت بن کر آتا ہے۔ دونوں کے احساسات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔’’جن لوگوں کی زندگی میں اللہ سبحانہ و تعالی حقیقت ہوتے ہیں، ان کی زندگی میری جیسی نہیں ہوتی۔ اِمام ابوزاعی رحمتہ اللہ علیہ کی جائے نماز ہمیشہ گیلی رہتی کہ وہ اتنا روتے تھے۔’’تخلیق سے خالق کی پہچان ہوتی ہے۔ ہم آئی فون دیکھ کر اِسٹیو جابز کو داد دیتے ہیں۔ مجھے دیکھ کر سبحان اللہ کہنا تو درکنار، کسی کو اللہ یاد تک نہیں آتا۔ میں تو خود ہاتھ پر تسبیح باندھے گھومتا ہوں کہ ایک visual reminder رہے کہ مسلمان ہوں۔ پتا نہیں یہ تسبیح دل میں کب جائے گی۔’’اللہ کو حقیقت ماننے کا دعوی تو وہ کرے جس کی کمر بستر کی گرمی کو ترسے۔ میرے جیسے منافقوں کو تو ڈرنا ہی چاہیے۔ کسی دن کوئی اللہ والا زبان کی نیچے آگیا تو آہوں کے حصار میں دعائیں راکھ کردے گا۔’’اور تیسری سب سے بڑی وجہ کہ میرا معبود اور محبوب ایک نہیں۔ معبود غلط ہوجائے تو اتنی تباہی نہیں مچتی جتنی محبوب کے غلط ہوجانے سے ہوتی ہے۔ سب کی طرح میرا معبود بھی اللہ ہے مگر محبوب کوئی اور… پیسہ، عزت، شہرت، علم، عشق، بیوی، بچے، نیند، فلاں اور فلاں۔’’ہر وہ آئیڈیا جس میں پیسہ نظر آئے، مجھے پسند آجاتا ہے۔ ہر وہ جگہ جہاں فائدہ دکھائی دے، جانے کے لائق ٹھہری۔ ہر وہ گفتگو جہاں عزت ملنے یا سراہے جانے کی امید ہو، وہاں جانا لازم ٹھہرا۔ ہر وہ شخص جو تعریف کرے، بھلا لگے۔ آپ میرے درد کو کیا جانیں، مجھ سے میرا محبوب بدل گیا ہے۔ نام اس کا، خیالات کسی اور کے؛ ذکر اس کا، دل کسی اور کا۔ جائے نماز اس کی، سجدہ کہیں اور؛ جبین اس کی، نشان کسی اور کا۔ اگر میں نیک ہوتا تو دنیا میں اتنا ظلم کیوں ہوتا؟ مجھے کوئی نیک کہے تو دل چاہتا ہے کہ اس کا منہ نوچ لوں۔‘‘’’بس! اتنی سی بات ہے۔ بتائیے، ہوں ناں پارٹ ٹائم منافق؟‘‘ڈاکٹر صاحب پھر سے گویا ہوئے: ’’تم اپنا دماغی علاج کرواؤ، تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟‘‘’’جی، بہت سیدھا سا مسئلہ ہے۔ علم و عشق آپ جیسے نیک لوگوں کو آگے لے جاتا ہے۔ رتبے بڑھاتا ہے، سیڑھیاں چڑھاتا ہے۔ میں اپنے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی تمام تر صفات کا میں بھکاری ہوں کہ یہ دونوں میرے لیے حجاب بن گئے۔‘‘کھانا ٹھنڈا ہوگیا، لوگ خاموش ہوگئے، بارش رک گئی اور گانے بھی بند ہو گئے۔عبداللہ اپنے گناہوں اور نفاق کی پوٹلی اُٹھائے آج پھر اپنے مالک کے سامنے سربسجود تھا۔’’اے اللہ! کچھ نہیں پاس جو تیری نذر کروں۔ یہ جان ہے، یہ لے لے۔ اب تو پورا مل جا میرے مالک۔ اب تو لوگ تیرے نام پر طعنے دیتے ہیں۔ اب تو تنہا نہ چھوڑ۔ تُو تو جانتا ہے… تو میرے اور میرے گناہوں کے بیچ آجا۔ مجھ سے نہیں چھوٹتے۔’’تجھے میرے گناہوں کا واسطہ، ایک واری میں پار لگا دے۔ مجھ سے نہیں چڑھی جاتیں یہ سیڑھیاں۔ تو خود ہی اوپر لے جا۔ آمین!‘‘

3ہوٹلوں کے باتھ رومزکی سوریج لائنیں جام ہوگئیں مرمت کیلئے توڑ پھوڑ کی گئی تو اس میں سے ایسی چیز برآمد ہوگئی کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں

3ہوٹلوں کے باتھ رومزکی سوریج لائنیں جام ہوگئیں مرمت کیلئے توڑ پھوڑ کی گئی تو اس میں سے ایسی چیز برآمد ہوگئی کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
ہفتہ‬‮ 28 اپریل‬‮ 2018 | 15:29
سوئٹزرلینڈ میں نامعلوم شخص نے ایک لاکھ سے زائد یورو کے کرنسی نوٹس بیت الخلا میں فلش کردیے۔مقامی میڈیا کے مطابق جنیوا میں سوئس بینک یو بی ایس اور اس کے قریب میں واقع تین ہوٹلوں کے بیت الخلا کی سیوریج کی لائنیں جام ہوگئیں۔ جب مرمت کے لیے توڑ پھوڑ کی گئی تو یہ دیکھ کر سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ سیوریج کی لائنوں میں سے کرنسی نوٹ برآمد ہوئے جو لائنیں چوک ہونے کیوجہ بنے تھے۔حکام کے مطابق ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد مالیت کے یورو نوٹ نامعلوم شخص نے 4 بیت الخلا

کی گڈیوں کی صورت میں بہائے۔ سوئس پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں اور نوٹ بہانے والے کا سراغ لگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔حکام نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ نوٹ کالا دھن ہوسکتے ہیں جن سے جان چھڑانے کے لیے انہیں ٹوائلٹس میں فلش کردیا گیا۔ سوئس اخبار ٹربییون ڈی جنیوا نےاپنی خبر میں بتایا کہ یہ نوٹ ایک ہسپانوی خاتون نے ضائع کیے تاہم اس حرکت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔واضح رہے کہ سوئس بینک منی لانڈرنگ اور کالا دھن چھپانے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔