حضرت امیر خُسرو رحمة اللّٰه علیہ

حضرت امیر خُسرو رحمة اللّٰه علیہ
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:18
خواجہ نظامُ الدین اولیاؒ کے پاس ایک تیرہ سالہ لڑکا اپنے باپ کے ساتھ آیا باپ بیٹے کو اندر لے جانا چاہتا تھا لیکن بیٹے نے اندر جانے سے انکار کر دیا اور باپ سے کہا..آپ اندر تشریف لے جائیں، میں یہیں باہر کھڑا آپ کا انتظار کرتا ہُوں۔ باپ نے مزید اصرار نہیں کیا بلکہ اندر چلا گیا۔ باپ کے جاتے ہی اُس لڑکے نے فوراً ایک منظوم رقعہ لکھا جس میں فارسی کے دو شعر اسی وقت موزوں کیے تھے۔ تو آں شاہی کہ برایوان قصرت کبوترگر نشیند بازباز گردو، غریبے مستمند سے برور آمد بیاید اندروں

باز گردو ترجمہ! تم بادشاہ ہو کہ اگر تمھارے محل پر کبوتر بیٹھے تو باز بن جائے، ایک غریب حاجب مند دروازے پر باریابی کا منتظر ہے، وہ اندر آئے یا واپس جائے۔ منظوم رقعہ اندر گیا اور اسی وقت حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کا لکھا ہوا منظوم جواب آ گیا۔در آید گر بود مرد حقیقت، کہ باما ہم نفس ھم راز گردو، اگر ابلہ بودآں مرد ناداں ازاں راہے کہ آمد باز گردو۔ ترجمہ! اگر اُمید وار حقیقت شناس ہے تو اندر آ جائے اور ہمارا ہم دم و ہمراز بنے اور اگر ابلہ و ناداں ہے تو جس راہ سے آیا ہے ، اسی سے واپس جائے۔ جواب پاتے ہی یہ لڑکا اندر، خواجہ نظام الدّین اولیا کے پاس چلا گیا اور امیر خسرو ؒ کے نام سے شہرتِ دوام حاصل کی..!! یہ مُرشد سے عشق ہی تھا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمة اللّٰه علیہ کو حضرت امیر خُسرو رحمة اللّٰه علیہ سے اتنی مُحبّت ہوگئی کہ ایک مرتبہ فرمایا کہ اگر شریعت میں اِجازت ہوتی تو میں یہ وصیت کرتا کہ امیر خُسرو کو بھی میری ہی قبر میں دفن کیا جائے، جبکہ! یہ وصیت بھی فرمائی کہ خسرو رحمة اللّٰه علیہ کی قبر میرے پہلو میں ہونی چاہیے..!!حضرت خواجہ رحمتہ اللہ علیہ نے امیر خسرو رحمة اللّٰه علیہ سے اپنی بے پایاں اُنسیت کے باعث یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ میرے وصال کے بعد امیر خسرو رحمة اللّٰه علیہ میری تُربت کے قریب نہ آنے پائیں وگرنہ میرا جِسم بے تاب ہو کر قبر سے باہر آجاۓ گا..!! حضرت نظام الدین اولیاء رحمة الله علیہ، حضرت امیر خسرو کو ترک اللہ کہہ کر پکارتے اور امیر خسرو کی جانب اشارہ کر کے فرمایا کرتے کہ اے باری تعالیٰ اس ترک کے سینے میں جو آگ روشن ہے اس کی بدولت مجھے بخش دے..!!امیر خسرو پر اپنے پیر و مرشد کی صحبت کا اتنا اثر تھا کہ برسوں صائم الدہر رہے اورعشق الٰہی کی ایسی سوزش تھی کہ سینے پر سے کپڑا ایسا ہو جاتا تھا کہ گویا جل گیا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اولیائے اللہ کے نقشِ قدم پر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اُس مبارک سوز کے چند قطرے ہمیں بھی عطا فرمائے_ آمیندن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

وہ اوقات جب پانی “ نہ “ پینا صحت کیلئے فائدہ مند

وہ اوقات جب پانی “ نہ “ پینا صحت کیلئے فائدہ مند
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:25
بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو کھانا یا ورزش پانی پیے بغیر کرسکتے ہوں۔ ویسے تو ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس کا بہت زیادہ استعمال بھی سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ تو یہ اچھا خیال ہے کہ پانی کی مقدار کو جسمانی ضروریات کے مطابق محدود کردیا جائے، مگر ڈان کے مطابق کچھ کام یا چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے دوران پانی پینے سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے۔ سونے سے قبل سونے سے قبل پانی پینے سے گریز کرنے کی 2 وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ بستر پر جانے

اس سیال کا استعمال نیند کو متاثر کرسکتا ہے، اس عادت کے نتیجے میں رات کو پیشاب کے لیے اٹھنا پڑ سکتا ہے جبکہ سونے میں بھی معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری وجہ کا تعلق گردوں سے ہے۔ جیسا آپ کو علم ہوگا کہ دن کے مقابلے میں رات کو گردے اپنے افعال سست روی سے سرانجام دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کو صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھ پیر سوجنے کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔ رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد میں یہ مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔ورزش کے دوران ایک تحقیق کے مطابق ورزش کے دوران پانی پینا منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے، ورزش کے دوران جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے گرمی کا احساس ہوتا ہے، مگر خود کو ٹھنڈا کرنے کے لیے زیادہ پانی پینا مختلف اثرات جیسے سردرد، متلی، سرچکرانے وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح امراض قلب کے شکار افراد اگر ورزش کے دوران پانی استعمال کریں تو دل پر بوجھ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، اسی لیے ڈاکٹر ورزش کے بعد ہی پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔پیشاب کی رنگت ختم ہوجانا بے رنگ پیشاب اس بات کی نشانی ہے کہ جسم میں پانی کی مقدار زیادہ بڑھ چکی ہے، اس کی وجہ دن بھر میں زیادہ پانی پینا ہوتا ہے۔ ایسا ہونے سے جسم میں سوڈیم کی سطح کم ہوتی ہے جو کہ مختلف طبی مسائل بشمول ہارٹ اٹیک کا خطرہ بن سکتی ہے۔مرچوں کا احساس کم کرنے کی کوشش زیادہ مرچ مصالحے کے بعد اگر جلن کا احساس ہورہا ہو تو پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے، مرچوں میں موجود ایک مالیکیول اسی وقت تحلیل ہوتا ہے جب پانی کی جگہ ٹھوس سیال جیسے دودھ کو پیا جائے۔ اگر مرچوں کے اوپر پانی پیا جائے تو وہ مالیکیول برقرار رہتا ہے اور منہ سے غذائی نالی تک پھیل سکتا ہے، جس سے صورتحال زیادہ بدتر ہی ہوسکتی ہے۔کھانے سے قبل، دوران یا بعد میں پینا کھانے کے دوران پانی پینا بدہضمی کا باعث بن سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا منہ لعاب دہن بناتا ہے جس میں ایسے انزائمے ہوتے ہیں جو صحت مند نظام ہاضمہ کے لیے ضروری ہیں۔ کھانے کے دوران پانی پینا اس عمل کو کم کردیتا ہے جس کے نتیجے میں جسم غذا ہضم نہیں کرپاتا جو وقت گزرنے کے ساتھ معدے کے لیے نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ خیال رہے کہ ٹھنڈا پانی پینا اس صورتحال کو مزید بدتر کرسکتا ہے۔سمندری پانی یہ تو سب کو معلوم ہے کہ سمندر پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے مگر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ کیوں ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سمندری پانی مختلف وائرسز سے بھرا ہوتا ہے جو نقصان پہنچاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ غلطی سے بھی یہ پانی منہ میں چلاجائے تو اسے فوری تھوک دینا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سمندری پانی میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور جسم کو اسے خارج کرنے کے لیے بہت زیادہ خالص پانی کی ضرورت پڑسکتی ہے جس کا نتیجہ سنگین ڈی ہائیڈریشن کی شکل میں نکل سکتا ہے۔اگر پہلے ہی بہت زیادہ پانی پی چکے ہوں اوپر لکھا تو جاچکا ہے مگر پھر یاد دلاتے جائیں کہ بہت زیادہ پانی پینا سوڈیم کی سطح کم کرکے ناخوشگوار اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح یہ عادت گردوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اسے خون میں موجود اہم اجزاء کو ریگولیٹ کرنے کا کام چھوڑ کر پانی کے اخراج کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:58
زیرو پوائنٹ (جاوید چوہدری) یہ پرانی بات ہے‘ میاں نواز شریف کا اقتدار ختم ہو چکا تھا‘ یہ وزیراعظم سے ملزم بن چکے تھے‘ ان پر طیارہ ہائی جیک کرنے کا الزام تھا‘ یہ جنرل پرویز مشرف کی عدالتوں میں پیش ہوتے تھے اور یہ ملک کی مختلف جیلوں میں بھجوائے جاتے تھے‘ میاں صاحب کو2000ء کے شروع میں راولپنڈی جیل سے لانڈھی جیل کراچی منتقل کیا گیا‘ میاں صاحب جیل پہنچے تو ان کے ساتھ وہاں انتہائی توہین آمیز سلوک کیا گیا‘ قواعد کے مطابق پولیس ملزموں اور مجرموں کو جیل کے عملے کے حوالے کرتی ہے‘ملزمان کی وصولی

فریضہ عموماً اسٹنٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ادا کرتے ہیں‘ یہ کاغذات وصول کرتے ہیں‘ ملزم سے اس کا نام اور جرم پوچھتے ہیں‘ رجسٹر میں لکھتے ہیں اور ملزم کی وصولی کی رسید جاری کر دیتے ہیں‘ یہ قاعدہ عام ملزموں کیلئے ہے‘ وی وی آئی پی یا سیاسی قیدیوں کو جیل میں تکریم دی جاتی ہے‘ ان سے صرف دستخط لئے جاتے ہیں ‘ان سے تصدیقی سوال نہیں پوچھے جاتے لیکن میاں نواز شریف کو اس عمل سے بھی گزارا گیا‘ میاں صاحب کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش کیا گیا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کرسی پر بیٹھا تھا‘ اس نے رجسٹر کھولا اور نہایت بدتمیزی سے کہا ’’ نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے جواب دیا’’میاں محمد نواز شریف‘‘ سپرنٹنڈنٹ کا اگلا سوال تھا ’’والد کا نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے بتایا ’’ میاں محمد شریف‘‘ اس سے اگلی بات انتہائی نامناسب تھی‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہا ’’ سوچ کر بتاؤ‘‘ میاں نواز شریف یہ بات پی گئے‘ میاں صاحب کی جیب میں پین تھا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے ہاتھ بڑھا کر وہ پین میاں صاحب کی جیب سے نکالا اور کہا ’’ تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ میاں صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا مگر خاموش رہے۔ مجھے یہ واقعہ مخدوم جاوید ہاشمی نے سنایا تھا‘ یہ سناتے ہوئے ہاشمی صاحب کا گلہ روند گیا تھا جبکہ میرا دل بوجھل ہو گیا تھا‘ آپ بھی اس وقت کو تصور میں لائیے‘آپ کو بھی یقیناًافسوس ہو گا‘ میاں نواز شریف دوسری بار ملک کے وزیراعظم بنے تھے‘ یہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جو دو تہائی اکثریت لے کر ایوان میں پہنچے اور انہیں صرف اس ’’غلطی‘‘ کی سزا مل رہی تھی کہ انہوں نے 22 ویں گریڈ کے ایک افسر جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے کی جرأت کی تھی‘ میاں صاحب کے اس جرم کی پاداش میں منتخب حکومت کو گھر بھجوا دیا گیا‘ شریف خاندان کو گرفتار کر کے جیلوں میں پھینک دیا گیا‘ اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا‘ کیا یہ واقعی اتنا بڑاجرم تھا کہ ملک کو مارشل لاء کے اندھیروں میں بھی دھکیل دیا جاتا اور ملک کے منتخب وزیراعظم کو اٹک کے اس قلعے میں بھی رکھا جاتا جس میں دن کے وقت بھی سانپ رینگتے رہتے تھے‘ یہ سلوک صرف یہاں تک محدود نہیں تھا‘ میاں نواز شریف کو اٹک قلعے سے نکال کر ملک کی مختلف جیلوں کی سیر بھی کرائی گئی‘انہیں ائیر ٹائیٹ بکتر بند گاڑیوں میں عدالت لایا جاتا‘ طیارے میں ان کا بازو سیٹ سے باندھ دیا جاتااور ان کی ساری پراپرٹی ضبط کر کے انہیں پورے خاندان سمیت جلا وطن کر دیا گیا اور یہ وہاں سے واپس آئے تو انہیں دھکے دے کر‘ ان کے کپڑے پھاڑ کر‘ انہیں طیارے میں پھینک کر واپس سعودی عرب بھجوا دیا گیا‘ کیا کسی جمہوری لیڈر کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے؟ لیکن میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ یہ ہوا اور یہ سلوک بھی ریاستی اداروں نے جنرل پرویز مشرف کی ایما پر کیا‘ میاں نواز شریف کو اس دور میں جنرل محمود کے لہجے نے زیادہ تکلیف دی تھی‘ جنرل محمود بارہ اکتوبر 1999ء کو راولپنڈی میں کورکمانڈر تھے‘یہ میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے‘ میاں صاحب نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا‘ جاوید ہاشمی کے بقول جنرل محمود نے میاں نواز شریف کو دھمکی بھی دی اور گالی بھی۔ میاں صاحب جلا وطنی کے دوران اس سلوک پر بہت دل گرفتہ تھے‘ وہ جنرل محمود اور ان کے لہجے کو کبھی فراموش نہیں کر سکے‘ جنرل عزیز اس وقت ڈی جی ملٹری آپریشن تھے‘ میاں نواز شریف کو ان کے رویئے پر بھی افسوس تھا‘ جنرل عزیز کارگل کی جنگ میں بھی ملوث تھے‘ ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے پاک فوج کے تین ہزار جوان اور آفیسر شہید ہوئے ‘ میاں نواز شریف جنرل مشرف کے ساتھ ان کا کورٹ مارشل بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ان دونوںجرنیلوں نے وردی بچانے کیلئے حکومت کا تختہ الٹ دیا‘ اپنی نوکری بچا لی مگر پورا سسٹم برباد کر دیا‘ میاں نواز شریف جنرل کیانی کے رویئے سے بھی خوش نہیں تھے‘ میاں نواز شریف 10 ستمبر 2007ء کو لندن سے اسلام آباد پہنچے تھے‘ جنرل کیانی اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ میاں نواز شریف کو اسلام آباد سے سعودی عرب واپس بھجوانے کا فریضہ جنرل کیانی کے لوگوں نے نبھایا تھا۔یہ وہ واقعات ہیں آپ کو جن کا اثر میاں نواز شریف کی نفسیات پر دکھائی دے رہا ہے‘ آٹھ سال کی جلاوطنی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچ سال کی بیڈ گورننس اور 2013ء کے الیکشن میں میاں نواز شریف کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں‘ان تمام چیزوں نے میاں صاحب پر اثر کیا اور آپ کو یہ اثر اب ان کے چہرے پر نظر آتا ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر زبرستی بٹھایا گیا ہو اور یہ بھاگنے کا موقع تلاش کر رہے ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے‘ آپ اب دوسری حقیقت بھی ملاحظہ کیجئے‘ وہ جنرل پرویز مشرف جس نے 12 اکتوبر 1999ء کو صرف دو جیپیں وزیراعظم ہاؤس بھجوا کر دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت کو گھر بھجوادیا تھا‘ وہ عدالت سے بچنے کیلئے 48 دن ہسپتال میں چھپے رہے‘ وہ 18فروری کو رینجرز کے نرغے میں عدالت پیش ہوئے تو انہیں ملزم کے کٹہرے کے ساتھ کرسی پر بٹھا دیا گیا‘ خصوصی ٹریبونل کمرے میں داخل ہوا تو اسے جنرل پرویز مشرف نظر نہ آئے‘ ٹریبونل کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے اونچی آواز میں پوچھا ’’ ملزم کہاں ہے‘‘ جنرل پرویز مشرف یہ تین لفظ سن کر اپنی کرسی سے اٹھے اوراس عدالت کو سیلوٹ کیا جسے انہوں نے 9 مارچ 2007ء کو اپنی انا کے قدموں میں روند دیا تھا‘ عدالت نے ملزم کو دیکھا اور مسکرا کر واپس ہسپتال بھجوا دیا‘ یہ جنرل مشرف کا انجام ہے‘ آپ جنرل محمود کی کہانی بھی ملاحظہ کیجئے‘ جنرل پرویز مشرف اور جنرل محمود کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے‘ جنرل مشرف نے اس جنرل محمود کو فارغ کر دیا جس نے کبھی میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے اخلاقیات کی ساری حدود کراس کر دی تھیں‘ یہ جنرل محمود بے روزگار ہوئے‘ چند دوست درمیان میں آئے اور جنرل محمود کو ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی فرٹیلائزر کا سربراہ بنا دیا گیا‘ جنرل مشرف کی بدلتی ہوئی نظریں جنرل محمود کی نفسیات پر اثرانداز ہوئیں‘ یہ مذہب کی طرف چلے گئے‘ داڑھی رکھی‘ تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے اور یہ اب دوسری بار ریٹائر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں مصروف ہیں‘میاں نواز شریف 4 نومبر 2013ء کو خیر پور ٹامیوالی گئے‘ یہ فوج کی مشقیں دیکھنے وہاں گئے‘ جنرل عزیز بھی اس تقریب میں شریک تھے‘ میاں نواز شریف ظہرانے کے دوران جنرل عزیز کے عین سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل عزیز اور میاں نواز شریف دونوں کو اس وقت یقیناً1999ء کے وہ دن اور وہ راتیں یاد آئی ہوں گی جب جنرل عزیز نے میاں نواز شریف پر عرصہ حیات تنگ کر دیاتھا اور پیچھے رہ گئے جنرل اشفاق پرویز کیانی۔ جنرل کیانی صاحب کو شریف النفس اور فلاسفر آرمی چیف کہا جاتا تھا‘ سگریٹ اور کتاب جنرل صاحب کی دو کمزوریاں تھیں‘ یہ سروس کے دوران یس سر اور یس باس رہے تھے‘ شاید اسی لئے جنرل کیانی نے میاں نواز شریف کو اسلام آباد ائیر پورٹ سے دھکے دے کر سعودی عرب بھجوانے کا بندوبستکیا تھا لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور یہ میاں نواز شریف سے وقت لے کر ان سے ملاقات کیلئے جاتے تھے‘ آج کل خبر گردش کر رہی ہے جنرل کیانی سیکورٹی کی وجہ سے فیملی سمیت دوبئی شفٹ ہونا چاہتے ہیں لیکن فوجی قیادت انہیں اجازت نہیں دے رہی‘ ان کے دست رات جنرل پاشا پہلے ہی یو اے ای میں نوکری کر رہے ہیں۔ آپ اگر پچھلے پندرہ سال کے اس عروج و زوال کی داستان پڑھیں تو آپ کو جمہوریت کی طاقت پر یقین آ جائے گا‘ پاکستان میں اگر جمہوریت نہ ہوتی توشاید وہ میاں نواز شریف کبھی واپس نہ آتے جن کی جیب سے جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے یہ کہہ کر پین نکال لیا تھا ’’تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ یہ صرف جمہوریت‘ ووٹ اور بیلٹ باکس کی طاقت ہے جس کی وجہ سے آج وہ شخص تیسری بار ملک کا وزیراعظم ہے جسے جیل میں رکھنے‘سزا دینے‘ جلاوطن کرنے اور انتخابی عمل سے باہر رکھنے کیلئے بار بار پوری ریاستی طاقت استعمال ہوئی‘ یہ بھی جمہوریت کا کمال ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف جو بیک جنبش قلم پوری سپریم جوڈیشری کو گھر بھجوا دیتا تھا وہ آج خود اسی جوڈیشری کے رحم و کرم پر ہے‘ ہماری سیاسی لاٹ نے اپنی آنکھوں سے جمہوریت کا یہ معجزہ دیکھا مگر اس کے باوجود ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین فوج کو دعوت دے رہے ہیں‘ یہ فوج سے فرما رہے ہیں ’’آپ ملک کو ’’ٹیک اوور‘‘ کر لیں‘‘ کاش یہ بیان دینے سے قبل الطاف حسین ایک بار اس منظر کو نگاہوں میں لے آتے جب جنرل عزیز میاں نواز شریف کے سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور جسٹس فیصل عرب عدالت میں یہ صدا لگا رہے تھے ’’ ملزم جنرل پرویز مشرف کہاں ہیں‘‘ اور کاش اس بیان پر خوش ہونے والے لوگ بھی ایک بار‘صرف ایک بار جنرل محمود کے تبلیغی سیشن میں شریک ہو جائیں‘ یہ ٹریبونل کیلئے جنرل مشرف کا سیلوٹ دیکھ لیں‘ کاش ایک بار ایسا ہو جائے‘ مجھے یقین ہے یہ بھی جمہوریت کی طاقت پر یقین کر لیں گے‘ یہ بھی بیلٹ باکس کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اسلام کیا ہے؟ ایمان افروز واقعہ

اسلام کیا ہے؟ ایمان افروز واقعہ
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 11:59
سیدنا عمر اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان پیش آنے والے اس واقعہ میں، جو لوگ غور و فکر اور تدبر کرنا چاہتے ہوں، اُن کی عبرت کے لئے بہت سی باتیں پوشیدہ ہیں۔ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب (روضۃ المُحبین و نزھۃ المشتاقین) میں لکھتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے

مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔ ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بُڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟ بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔ حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، آپ نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔

دوران خون میں مسائل اور خاموش علامات

دوران خون میں مسائل اور خاموش علامات
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:30
اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ہمارا جسم 60 ہزار میل تک پھیلی خون کی شریانوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔ دل اور دیگر پٹھوں کے ساتھ یہ شریانیں خون کی گردش کا نظام تشکیل دیتی ہیں۔ یہ نیٹ ورک خون کو جسم کے ہر کونے تک پہنچاتا ہے تاہم جب یہ نظام مسائل کا شکار ہو تو خون کی روانی سست یا بلاک ہونے لگتی ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جسمانی خلیات آکسیجن اور غذائیت ضرورت کے مطابق حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ڈان کے مطابق اس ناقص سرکولیشن کی علامات سے واقفیت مسائل کو زیادہ سنگین

سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ہاتھوں اور ٹانگوں پر اثرات جب اعضاء کو مناسب مقدار میں خون نہیں ملا تو ہاتھوں یا پیروں میں ٹھنڈک یا سن ہونے کا احساس ہوسکتا ہے، اگر جلد کی رنگت ہلکی ہے تو ٹانگوں پر نیلاہٹ کی جھلک نظر آسکتی ہے۔ اسی طرح ناقص سرکولیشن جلد کو خشک کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ناخن بھربھرے ہوجاتے ہیں جبکہ بال گرنے لگتے ہیں، خصوصاً پیروں کے۔ اگر ذیابیطس کے شکار ہوں تو زخم بھرنے کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے۔ذہنی افعال میں اچانک کمی جسم کے دیگر حصوں کی طرح دماغ کو بھی خون کی صحت مند سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنا کام مناسب طریقے سے سرانجام دے سکے۔ جب دوران خون کی فراہمی میں مسئلہ ہوتا ہے تو دماغی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، اگر واضح طور پر سوچنے میں مشکل کا سامنا ہو یا یادداشت میں اچانک خرابی محسوس ہو، تو یہ سرکولیشن کے نظام میں خرابی کی نشانی ہوسکتی ہے۔کھانے کی خواہش ختم ہوجانا دوران خون کے نظام میں مسائل کی ایک اور علامت کھانے کی خواہش ختم ہوجانا ہے، غذائی نالی کو غذا ہضم کرنے اور آنتوں تک غذائیت پہنچانے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے، جب دوران خون سست پڑتا ہے تو نظام ہاضمہ بہت آسانی سے متاثر ہوجاتا ہے، بھوک کا احساس کم ہوتا ہے، مگر کم کھانا میٹابولزم کو زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔بغیر وجہ نظام ہاضمہ کے مسائل ناقص سرکولیشن سے صرف کھانے کی خواہش ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ جسم کی غذا سے حاصل ہونے والی غذائیت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ خون کی مناسب فراہمی کے بغیر اکثر غذائیں درست طور پر ہضم ہوئے بغیر گزر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں قے یا متلی، بدہضمی یا دیگر نظام ہاضمہ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔تھکاوٹ اس نظام میں گڑبڑ کے نتیجے میں جسم کی آکسیجن، وٹامنز اور منرلز کو ہر حصے میں پہنچانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، ایسا ہونے پر جسم ہر ممکن حد تک توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مشکل وقت پر کام آسکے۔ ایسا ہونے پر ہر وقت تھکاوٹ کا احساس طاری ہوتا ہے جو کہ روزمرہ کے کاموں کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔سینے میں کھچاﺅ جب سرکولیشن کا نظام ناقص ہوتا ہے تو دل کو عام معمول کی طرح خون نہیں مل پاتا، اس کے نتیجے میں سینے میں دباﺅ بڑھنے یا کھچاﺅ کا احساس ہوتا ہے، اس علامت کو انجائنا بھی کہا جاتا ہے۔آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ویسے تو سیاہ حلقوں کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر دوران خون کے نظام میں مسائل میں بھی یہ بہت عام علامت ہوتی ہے۔ اگر یہ جاننا چاہیں کہ سیاہ حلقے سرکولیشن نظام کا نتیجہ تو نہیں تو اس حصے کی جلد کو نرمی سے دبائیں، اگر ایسا کرنے پر جلد کی رنگت ہلکی ہوجائے اور انگلی ہٹانے پر واپس سیاہ ہوجائے تو یہ سرکولیشن مسائل کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے۔ہاتھوں اور پیروں میں سوجن سنگین کیسز میں خون کی ناقص سرکولیشن کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں میں سوجن سامنے آسکتی ہے جو کہ غذائیت کے عدم توازن اور جسم کی شریانوں میں سیال کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ایک بیوہ عورت کی کہانی

ایک بیوہ عورت کی کہانی
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:07
“میرا نام روشن آراء ہے، پتہ نہیں ماں باپ نے یہ نام کیوں رکھا کیونکہ نام سے تو میں روشن آراء ہوں، لیکن حقیقت میں روشنی میرے پاس کبھی نہیں آئی۔ میری قسمت میں جتنے غم آئے کاش وہ کبھی کسی کو نہ ملیں، زندگی کی کوئی رات اور کوئی دن خوشی سے اور ہنستے ہوئے نہیں گزرا، مگر اتنا ضرور ہے کہ آنے والی کل کے انتظار میں رات کو سوتے وقت تھوڑا مسکرا لیتی تھی کہ کل کا دن شاید کوئی خوشی کی نوید لائے۔ میری شادی 20 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی، شادی کے چند

تو بہت اچھے گزرے، شوہر بھی اچھے اور خوش اخلاق تھے۔ اپنی زندگی میں انہوں نے مجھے کوئی غم نہیں دیا تھا۔ کماتے بہت زیادہ نہیں تھے پر پھر بھی دن اچھے گزر رہے تھے، مگر تیسرے بچے کی پیدائش کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے یہ خبر ملی کہ میرے شوہر کی ایک حادثے میں موت ہو گئی ہے اور میں بیوہ ہو گئی ہوں۔ میری تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔ کئی دنوں تک تو مجھے کوئی ہوش ہی نہیں تھا مگر ایک مہینے کے بعد کچھ طبیعت سنبھلی تو میری ساس نے کمرے میں آ کر کہا “دیکھو! اب تمہارا شوہر تو چلا گیا ہے اور یہاں کمانے والا بھی اب صرف تمھارا ایک دیور ہی ہے، سسر بھی چل پھر نہیں سکتے اور اب کوئی اور آسرا بھی نہیں جو تمھیں ہم اپنے ساتھ رکھ سکیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ اور چاہو تو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤ اور اگر دوسری شادی کرنا چاہو اور رکاوٹ ہو تو بچوں کو کسی بھی یتیم خانے میں بھیج دینا۔۔!!”مجھے ساس کی یہ باتیں سن کر بہت حیرت ہوئی کہ اب یہ لوگ بھی میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے تو میں نے ان سے کہا کہ، “ماں! اس گھر میں تو میرے شوہر کی یادیں ہیں اور ویسے بھی میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی، کیوں کہ میں سلائی کڑھائی تو جانتی ہوں، محنت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں گی۔ آپ صرف مجھے اس گھر میں رہنے دیں۔ رہا سوال شادی کا تو وہ میں اب نہیں کروں گی، یہ بچے ہی میرا سہارا ہیں اور کوئی دوسرا باپ انہیں حقیقی پیار نہیں دے سکتا۔۔! “مگر انہوں نے میری بات نہ مانی اور مجھے کہا کہ “تم تین دن کے اندر اندر فیصلہ کر لو تاکہ ہم یہاں سے چلے جائیں، کیونکہ اب اس مکان کو بیچ کر تمھارا دیور کوئی چھوٹا موٹا کام دھندہ شروع کرے گا۔۔! “میں نے جب یہ سنا تو میرا دل غموں سے بھر آیا تب میں نے کہا، “ٹھیک ہے جب آپ مجھے رکھنا ہی نہیں چاہتے تو میں تین دن بھی رُک کر کیا کروں گی۔۔!”، لہٰذا میں نے اگلے ہی دن وہ گھر چھوڑ دیا اوراپنی ماں کے گھر آ گئی۔ میں ماں کے گھر میں کچھ ہی دن رہی تھی کہ بھابیوں نے میرے بھائیوں کے کان بھرنے شروع کر دئیے کہ، “روشن آراء کے بچے ہمارے بچوں کو مارتے ہیں، انہیں کھیلنے نہیں دیتے۔۔!”، حالانکہ میں اپنے بچوں کو اپنے کمرے میں ہی بند رکھتی تھی، نہ تو ان کو میرا کوئی بھائی کھیلنے کے لئے باہر لے جاتا، اور نہ وہ محلے میں باہر نکلتے، بس یہ بےچارے یتیم آپس میں ہی کھیل کر کمرے میں ہی تھک ہار کے سو جاتے۔ آہستہ آہستہ میں نے اپنا کچھ زیور بیچ کر ایک سلائی مشین لے لی اور محلے سے سلائی کا کام منگوانا شروع کر دیا۔ اللہ کی رحمت سے میرا کام لوگوں کو پسند آ گیا۔ اب میں نے اپنے بچوں کو محلے کے ایک سکول میں داخل کروا دیا اور خود انہیں چھوڑنے بھی جاتی اور لینے بھی۔ پتہ نہیں یہ عورت ہی عورت کی دشمن کیوں ہوتی ہے، میری بھابیوں کو میرا اس گھر میں رہنا پسند ہی نہیں تھا، اس لئے وہ میری بوڑھی ماں جو ہر وقت میرے غم میں نڈھالرہتی تھی اسے بھڑکاتی رہتی کہ، “کوئی غریب سا رنڈوا مرد دیکھ کر اس کی شادی کرواؤ اور اسے رخصت کرو، ورنہ اس کی باقی کی زندگی کیسے کٹے گی، اور اس کے بھائی اسے کب تک سنبھالیں گے۔۔؟، اور ویسے بھی اب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں گھر میں جگہ تنگ پڑ جائے گی اور اگر کوئی اس کے بچوں کو لینے کو تیار نہ ہوں تو ایک ایک کر کے کسی بے اولاد کو دے دیں، پل جائیں گے۔۔! ” لیکن ان ظالم بھابیوں کو یہ خیال نہ آیا کہ ان بچوں کی خاطر میں نے اپنا سسرال چھوڑا تھا اور شادی نہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، تو کیا میں ان بچوں کے بغیر رہ سکتی ہوں؟۔ کیا کوئی بھی ماں اپنے بچوں کے بغیر جی سکتی ہے؟ شاید ایسا تو کوئی جانور بھی نہ کر سکتا۔ اس رات میں سو نہ سکی اور اگلے دن اپنی کچھ چیزیں اور ایک سونے کی چوڑی جو میرے شوہر کی آخری نشانی تھی، بیچ کر گلی میں ہی ایک دو کمروں کا مکان کرائے پر لیا اور وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی۔ اب خرچے بھی بڑھ گئے تھے اس لئے مجھے سلائی کا کام بھی بڑھانا تھا۔ اس سب میں میری ایک دوست نے میری بہت مدد کی اور اپنی ماں سے کہہ کر اس نے مجھے ایک بوتیک کی مالکن سے ملوایا۔ اسے میرا کام پسند آ گیا اور وہمجھے ہر مہینے اتنا کام دینے لگی کہ میں اپنا گزارا کرنے لگی۔ اس کے باوجود میرے بچوں کو بہت محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران میرے بھائیوں نے میری خبر تو کیا لینی تھی کہ وہ میری ماں سے بھی تنگ آ گئے تھے۔ اس لئے میں اپنی بیمار ماں کو بھی اس گھر میں لے آئی تھی۔ بوتیک کی مالکن جس سے میں کام لیتی تھی اس نے مجھے کہا کہ “اگر میں تمھیں ایک چھوٹی سے فیکٹری لگا دوں تو کیا تم یہ کام سنبھال سکو گی۔۔؟ “میں نے کہا، “کیوں نہیں۔۔!” لہٰذا اس نے میرے اس گھر میں ہی مجھے کچھ مشینیں لگوا دیں اور کہا کہ “اب تم مجھے میرا آرڈر پورا کروا کہ دیا کرنا۔۔۔!”، میں یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیتی آئی۔ بفضلِ خدا آج میرا ایک بیٹا میڈیکل سائنس کا فائنل امتحان دے رہا ہے، دوسرا بیٹا بینک میں ملازمت کر رہا ہے۔ اور بیٹی کی شادی ہونے والی ہے۔ میرے بیٹے کہتے ہیں کہ، “ماں! اب یہ کام چھوڑ دو۔۔!”لیکن میں یہ کام نہیں چھوڑوں گی جب تک مجھ میں ہمت ہے۔ اپنے لئے کچھ رقم اور کفن خرید رکھا ہے، نہ جانے میری ماں کی طرح کب میں، میرے بچوں پر بوجھ بن جاؤں۔ آج میری ماں زندہ نہیں ہے اور اب مجھے بھی مرنا ہے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ میرے بچے نمازی ہیں اور میرا بہت احترام کرتے ہیں۔ بس میرا دوسری عورتوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ وہ کبھی بھی کسی موڑ پر ہمت نہ ہاریں اور کوشش کرتی رہیں، کیونکہ ہمت کرنے والوں کا ساتھ خدا ضرور دیتا ہے۔۔!”دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کیلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔۔

تمام چ

تمام چ
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:55
میں دوسری بار ملا تو وہ مکمل صحت مند تھے‘ شوگر کنٹرول تھی‘ بلڈ پریشر نارمل تھا‘ دل کی دھڑکنیں اعتدال میں تھیں‘ کولیسٹرول قابو میں تھا‘ آنکھیں صحیح تھیں اور گردے بھی ٹھیک کام کر رہے تھے‘ وہ دوڑ کر سیڑھیاں چڑھ رہے تھے اور گرم جوشی سے ہاتھ رگڑ رگڑ کر باتیں کر رہے تھے‘ میں حیران رہ گیا‘میں حیران کیوں نہ ہوتا‘ میں چھ ماہ پہلے ملا تھا تو وہ امراض کی چلتی پھرتی ڈکشنری تھے‘ وہ پاﺅں کی انگلی سے سر کے بالوں تک بیمار تھے‘ عمر پچاس سال تھی لیکن وہ لگتے 90 سال کے

تھے‘ مزاج میںبھی چڑچڑا پن تھا اور طبیعت میں بھی تلون تھا‘ سانسیں بھی اکھڑی اکھڑی تھیں‘ دھڑکنیں بھی بے قابوتھیں‘ وزن بھی زیادہ تھا‘ دماغ میں آندھیاں بھی چلتی تھیں اور وہ چلتے ہوئے لڑکھڑاتے بھی تھے‘ وہ علاج کےلئے لندن جا رہے تھے‘ ان کا خیال تھا وہ شایدزندہ واپس نہ آئیں چنانچہ وہ اپنے تمام دوستوں‘ رشتے داروں اور عزیزوں سے ملاقاتیں کر رہے تھے‘ میں دیر تک ان کے ساتھ بیٹھا رہا‘ وہ اس دوران اداس لہجے میں مجھ سے معافیاں مانگتے رہے اور میں انہیں تسلیاں دیتا رہا‘ وہ لندن چلے گئے اور میں اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا‘ مجھے چھ ماہ بعد ان کا فون آیا تو میں ان کی کھنکتی آواز سن کر حیران ہو گیا‘ میں اگلے دن ملاقات کےلئے گیا تو میں انہیں صحت مند دیکھ کر مزید حیران ہو گیا‘ وہ اپنی عمر سے 20 سال چھوٹے لگ رہے تھے‘وہ جوانوں کی طرح متحرک بھی تھے‘ میں نے ان سے اس کایاکلپ کا راز پوچھا‘ وہ اپنی کرسی سے اٹھے‘ اندر گئے اور اندر سے ایک فریم اٹھا لائے‘ یہ ایک تصویر تھی‘ تصویر میں یہ کھڑے تھے اور ان کے ساتھ سفید کوٹ میں ایک ڈاکٹر کھڑا تھا‘ وہ مسکرائے‘ ڈاکٹر کی تصویر پر انگلی رکھی اور جوشیلے انداز میں کہا ”یہ ساری جادوگری اس شخص کی ہے‘ اس نے مجھے ایک ماہ میں جوان کر دیا“ میں نے پوچھا ”سر کیسے؟“ وہ کرسی پر بیٹھ گئے اور بولے ”یہ سرجن ہے‘ اس نے مجھ سے ایک بانڈ پر دستخط کرائے‘یہ مجھے آپریشن تھیٹر میں لے کر گیا اور اس نے میرا آدھا معدہ کاٹ دیا“ وہ رکے‘ لمبی سانس لی اور بولے ”مجھے ہوش آیا تو میں بہت ناراض ہوا لیکن ڈاکٹر نے بتایا‘ دنیا کی ساری بیماریوں کا مرکزمعدہ ہے‘ ہمارا معدہ جتنا ایکٹو ہو گا ہم اتنے ہی بیمار ہوں گے ‘ ہم موت کے اتنے ہی قریب ہوں گے“ وہ رکے‘لمبا سانس لیا اور بولے ”ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا آپ کی شوگر کنٹرول کیوں نہیں ہوتی‘ میں نے جواب دیا‘ شاید میں کھانے میں احتیاط نہیں کرتا‘ وہ جوش سے بولا‘ ہاں سو فیصد‘ ہم ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں تو ہمارے جسم میں ضرورت سے زیادہ شوگر بن جاتی ہے‘ یہ شوگر ہمارا سارا نظام تباہ کر دیتی ہے‘ ڈاکٹر نے پھر پوچھا ‘آپ کاکولیسٹرول‘ آپ کا بلڈ پریشر اور آپ کا یورک ایسڈ کیوں بڑھتا تھا‘ میں نے جواب دیا‘ ظاہر ہے کھانے کی وجہ سے‘ ڈاکٹر نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور بولا یس‘ میں آپ کو یہی بتانا چاہتا ہوں‘ آپ زیادہ کھائیں گے تو آپ زیادہ بیمار ہوں گے‘ آپ کم کھائیں گے تو آپ کم بیمار ہوں گے‘ میں نے آپ کا معدہ آدھا کر دیا ہے‘آپ کی خوراک اب آدھی رہ جائے گی جس کے بعد آپ کی بیماریاں بھی آدھی ہو جائیں گی“۔میں خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا‘ انہوں نے فریم میز پر رکھا اور بولے‘ میں نے ڈاکٹر سے کہا ‘میں اپنی بیماریاں آدھی نہیں کرنا چاہتا‘ میں مکمل صحت مند ہونا چاہتا ہوں‘ آپ مجھے مکمل صحت کا راز بتائیں‘ ڈاکٹر نے قہقہہ لگایا اور بولا ‘ہماری آدھی بیماریاں کھانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور آدھی ٹینشن اور سستی کی بدولت ‘ ہم اگر صحت کو 100 نمبر دیں تو 50 نمبر معدے کے ہوں گے اور 25 ذہنی سکون اور 25 ایکسرسائز کے‘ آپ کھانا کنٹرول کر لیں آپ پچاس فیصد صحت مند ہو جائیں گے‘ آپ ٹینشن فری ہو جائیں ‘ آپ 75 فیصد صحت مند ہو جائیں گے اور آپ اگر ایکسرسائز کو اپنی روٹین بنا لیں تو آپ صحت کے سو نمبر حاصل کر لیں گے‘ میں نے آپ کا معدہ آدھا کر دیا‘ آپ اب آدھی خوراک لیں گے یوں آپ پچاس فیصد صحت یاب ہو جائیں گے‘آپ اگر اس کے بعد ٹینشن کم کر لیں اور روزانہ ایکسرسائز کریں تو آپ چھ ماہ میں مکمل صحت مند ہوں گے‘ ڈاکٹر خاموش ہوگیا‘ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا‘کیا آپ کا معدہ بھی آدھا ہے‘ ڈاکٹر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا‘نہیں‘ میرا معدہ پورا ہے لیکن میں اپنا آدھا معدہ استعمال کرتا ہوں‘ میں بھوک سے نصف کھانا کھاتا ہوں اور دن میں پانچ بار کھاتا ہوں‘ میں نے پوچھا ‘کیا مطلب؟ ڈاکٹر بولا ‘انسان سب سے کم کھانا سہ پہر کے وقت کھاتا ہے‘ میں جتنی خوراک سہ پہر کے وقت کھاتا ہوں میں اتنی ہی مقدار ناشتے‘ لنچ اور ڈنر میں لیتا ہوں‘ میں صبح ساڑھے سات بجے ناشتہ کرتا ہوں‘گیارہ بجے سنیکس لیتا ہوں‘ دو بجے لنچ کرتا ہوں‘ چار بجے کافی یا چائے کے ساتھ بسکٹ کھاتا ہوں اور میں ساڑھے چھ بجے ہلکا ڈنر کر لیتا ہوں‘ میں انڈیا میں کام کرتا رہا ہوں اور میرے والد کلکتہ کے رہنے والے تھے چنانچہ میںآپ کو مشورہ دوں گا آپ ہر وہ چیز ترک کر دیں جو ”چ“ سے شروع ہوتی ہے مثلاً چائے‘ چاول‘ چینی‘ چپاتی اور چنے ‘ چیئر ‘ چارپائی اور چڑچڑاپن اور چچڑ جیسے دوست اور رشتے دار آپ ہمیشہ صحت مند رہو گے‘آپ بھوک رکھ کر کھانا کھائیے‘ دوسرا یہ بات پلے باندھ لیجئے انسان کو خدا کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے سہارے‘ کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں ہوتی‘اللہ آپ کے ساتھ ہے تو آپ کو کوئی غم نہیں اور اگر اللہ آپ کے ساتھ نہیں تو پھر دنیا میں کوئی شخص آپ کو نہیں بچا سکتا‘ اللہ پر اپنے یقین کو مضبوط کرتے چلے جائیں آپ ٹینشن‘ اینگزائٹی اور ڈپریشن سے آزاد ہوتے چلے جائیں گے اور دن میں آٹھ آٹھ گھنٹوں کے تین وقفوں میں آدھ آدھ گھنٹہ ایکسرسائز کو اپنا معمول بنا لیں‘ آپ پرفیکٹ زندگی گزاریں گے‘ میں یہی کرتا ہوں‘ کم کھانا کھاتا ہوں‘ خدا پر یقین رکھتا ہوں اور روزانہ ایکسرسائز کرتا ہوں چنانچہ صحت مند ہوں“۔وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”پھر کیا ہوا؟“ بولے ”ڈاکٹر نے ٹھیک کہا تھا‘ میری خوراک آدھی ہوئی تو میری بیماریوں کی شدت بھی نصف ہو گئی‘میں نے اللہ پر یقین کو مضبوط کر لیا‘ میری ٹینشن بھی ختم ہو گئی اور میں اب روزانہ ایکسرسائز بھی کرتا ہوں چنانچہ میں تمہارے سامنے ہوں“ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور پوچھا ”اور آپ کا کاروبار کون دیکھتا ہے“ وہ ہنس کر بولے ”اوپر اللہ اور نیچے میرے ملازمین“ میں نے عرض کیا ”لیکن سر ہمارے ملک میں ملازمین سب سے بڑا ڈیزاسٹر ہوتے ہیں‘ میں نے ہر اس خاندان اور کاروبار کو تباہ ہوتے دیکھا جس نے ملازمین پر انحصار کیا“ انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے ” اورکیا وہ لوگ بچ جاتے ہیں جو ملازمین پر انحصار نہیں کرتے“ میں نے چند لمحے سوچا اور پھر قہقہہ لگا کر جواب دیا ”آپ کی بات درست ہے یہ بھی جلد یا بدیر فارغ ہو جاتے ہیں“ وہ ہنسے اور بولے ”گویا ایشو صرف وقت ہے‘دوسروں پر اعتبار کرنے والے جلدی فارغ ہو جاتے ہیں اور دوسروں پر انحصار نہ کرنے والے دیر سے فارغ ہوتے ہیں لیکن فارغ دونوں ہو جاتے ہیں‘ میرا چھوٹا بھائی کاروبار پر بہت توجہ دیتا ہے‘ یہ صبح سے رات تک دفتر میں کام کرتا ہے‘یہ کام کی اس زیادتی کی وجہ سے بیمار ہو چکا ہے‘ ہم دونوں فارغ ہو جائیں گے لیکن اس میں اور مجھ میں ایک فرق ہو گا‘ یہ شاید آخری عمر ہسپتال میں گزارے اور میںشاید دنیا سے چلتے پھرتے رخصت ہوں چنانچہ فائدے میں کون رہا‘ میں یا وہ“ وہ خاموش ہوئے اور میری طرف دیکھنے لگے‘ میں چپ رہا‘ وہ بولے ”اور ایک اور چیز یاد رکھو دنیا کا جو بھی شخص پورے یقین کے ساتھ اپنی جان‘ مال اور اولاد اللہ کے حوالے کر دیتا ہے اللہ کبھی اس کا یقین نہیں ٹوٹنے دیتا‘اللہ کبھی اس کو نقصان نہیں ہونے دیتا‘ ہم اگر اللہ کے دوست ہیں اور اللہ ہمارا دوست ہے تو پھر ہمیں نقصان کیسے ہو سکتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو‘ اپناسب کچھ اللہ کی نگرانی میں دے دو تم کبھی خسارے میں نہیں رہو گے“ وہ رکے‘ لمبی سانس لی اور بولے ”اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو متحرک بنایا ہے‘ ہمارے جسم کے اندر ہو یا ہمارے جسم کے باہر زندگی ہر وقت رواں دواں رہتی ہے‘ کارخانہ قدرت میں جو چیز رک جائے وہ فنا ہو جاتی ہے‘ آپ اپنے جسم کے جس عضو کو حرکت نہیں دو گے‘ آپ جس کو روزانہ چیلنج نہیں کرو گے وہ عضو ختم ہو جائے گا‘ وہ بیمار ہو جائے گا‘ آپ اپنے پورے جسم کو روزانہ ایکسرسائز کے چیلنج سے گزارو‘ آپ اپنے تمام اعضاءکو متحرک رکھو‘ یہ اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک آپ کی سانس میں سانس اور دل میں دھڑکن موجود رہے گی‘ انسان کا جسم بہت وفادار ہوتا ہے‘ آپ اس کی وفا ٹیسٹ کرو‘ یہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا“۔ میں اٹھا‘ ان کا ہاتھ چوما‘ ڈاکٹر کی تصویر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے گھر سے باہر آ گیا۔جاوید چودھری/زیرو پوائنٹ۔۔ .دن کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں ا

تمام چ

تمام چ
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:55
میں دوسری بار ملا تو وہ مکمل صحت مند تھے‘ شوگر کنٹرول تھی‘ بلڈ پریشر نارمل تھا‘ دل کی دھڑکنیں اعتدال میں تھیں‘ کولیسٹرول قابو میں تھا‘ آنکھیں صحیح تھیں اور گردے بھی ٹھیک کام کر رہے تھے‘ وہ دوڑ کر سیڑھیاں چڑھ رہے تھے اور گرم جوشی سے ہاتھ رگڑ رگڑ کر باتیں کر رہے تھے‘ میں حیران رہ گیا‘میں حیران کیوں نہ ہوتا‘ میں چھ ماہ پہلے ملا تھا تو وہ امراض کی چلتی پھرتی ڈکشنری تھے‘ وہ پاﺅں کی انگلی سے سر کے بالوں تک بیمار تھے‘ عمر پچاس سال تھی لیکن وہ لگتے 90 سال کے

تھے‘ مزاج میںبھی چڑچڑا پن تھا اور طبیعت میں بھی تلون تھا‘ سانسیں بھی اکھڑی اکھڑی تھیں‘ دھڑکنیں بھی بے قابوتھیں‘ وزن بھی زیادہ تھا‘ دماغ میں آندھیاں بھی چلتی تھیں اور وہ چلتے ہوئے لڑکھڑاتے بھی تھے‘ وہ علاج کےلئے لندن جا رہے تھے‘ ان کا خیال تھا وہ شایدزندہ واپس نہ آئیں چنانچہ وہ اپنے تمام دوستوں‘ رشتے داروں اور عزیزوں سے ملاقاتیں کر رہے تھے‘ میں دیر تک ان کے ساتھ بیٹھا رہا‘ وہ اس دوران اداس لہجے میں مجھ سے معافیاں مانگتے رہے اور میں انہیں تسلیاں دیتا رہا‘ وہ لندن چلے گئے اور میں اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا‘ مجھے چھ ماہ بعد ان کا فون آیا تو میں ان کی کھنکتی آواز سن کر حیران ہو گیا‘ میں اگلے دن ملاقات کےلئے گیا تو میں انہیں صحت مند دیکھ کر مزید حیران ہو گیا‘ وہ اپنی عمر سے 20 سال چھوٹے لگ رہے تھے‘وہ جوانوں کی طرح متحرک بھی تھے‘ میں نے ان سے اس کایاکلپ کا راز پوچھا‘ وہ اپنی کرسی سے اٹھے‘ اندر گئے اور اندر سے ایک فریم اٹھا لائے‘ یہ ایک تصویر تھی‘ تصویر میں یہ کھڑے تھے اور ان کے ساتھ سفید کوٹ میں ایک ڈاکٹر کھڑا تھا‘ وہ مسکرائے‘ ڈاکٹر کی تصویر پر انگلی رکھی اور جوشیلے انداز میں کہا ”یہ ساری جادوگری اس شخص کی ہے‘ اس نے مجھے ایک ماہ میں جوان کر دیا“ میں نے پوچھا ”سر کیسے؟“ وہ کرسی پر بیٹھ گئے اور بولے ”یہ سرجن ہے‘ اس نے مجھ سے ایک بانڈ پر دستخط کرائے‘یہ مجھے آپریشن تھیٹر میں لے کر گیا اور اس نے میرا آدھا معدہ کاٹ دیا“ وہ رکے‘ لمبی سانس لی اور بولے ”مجھے ہوش آیا تو میں بہت ناراض ہوا لیکن ڈاکٹر نے بتایا‘ دنیا کی ساری بیماریوں کا مرکزمعدہ ہے‘ ہمارا معدہ جتنا ایکٹو ہو گا ہم اتنے ہی بیمار ہوں گے ‘ ہم موت کے اتنے ہی قریب ہوں گے“ وہ رکے‘لمبا سانس لیا اور بولے ”ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا آپ کی شوگر کنٹرول کیوں نہیں ہوتی‘ میں نے جواب دیا‘ شاید میں کھانے میں احتیاط نہیں کرتا‘ وہ جوش سے بولا‘ ہاں سو فیصد‘ ہم ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں تو ہمارے جسم میں ضرورت سے زیادہ شوگر بن جاتی ہے‘ یہ شوگر ہمارا سارا نظام تباہ کر دیتی ہے‘ ڈاکٹر نے پھر پوچھا ‘آپ کاکولیسٹرول‘ آپ کا بلڈ پریشر اور آپ کا یورک ایسڈ کیوں بڑھتا تھا‘ میں نے جواب دیا‘ ظاہر ہے کھانے کی وجہ سے‘ ڈاکٹر نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور بولا یس‘ میں آپ کو یہی بتانا چاہتا ہوں‘ آپ زیادہ کھائیں گے تو آپ زیادہ بیمار ہوں گے‘ آپ کم کھائیں گے تو آپ کم بیمار ہوں گے‘ میں نے آپ کا معدہ آدھا کر دیا ہے‘آپ کی خوراک اب آدھی رہ جائے گی جس کے بعد آپ کی بیماریاں بھی آدھی ہو جائیں گی“۔میں خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا‘ انہوں نے فریم میز پر رکھا اور بولے‘ میں نے ڈاکٹر سے کہا ‘میں اپنی بیماریاں آدھی نہیں کرنا چاہتا‘ میں مکمل صحت مند ہونا چاہتا ہوں‘ آپ مجھے مکمل صحت کا راز بتائیں‘ ڈاکٹر نے قہقہہ لگایا اور بولا ‘ہماری آدھی بیماریاں کھانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور آدھی ٹینشن اور سستی کی بدولت ‘ ہم اگر صحت کو 100 نمبر دیں تو 50 نمبر معدے کے ہوں گے اور 25 ذہنی سکون اور 25 ایکسرسائز کے‘ آپ کھانا کنٹرول کر لیں آپ پچاس فیصد صحت مند ہو جائیں گے‘ آپ ٹینشن فری ہو جائیں ‘ آپ 75 فیصد صحت مند ہو جائیں گے اور آپ اگر ایکسرسائز کو اپنی روٹین بنا لیں تو آپ صحت کے سو نمبر حاصل کر لیں گے‘ میں نے آپ کا معدہ آدھا کر دیا‘ آپ اب آدھی خوراک لیں گے یوں آپ پچاس فیصد صحت یاب ہو جائیں گے‘آپ اگر اس کے بعد ٹینشن کم کر لیں اور روزانہ ایکسرسائز کریں تو آپ چھ ماہ میں مکمل صحت مند ہوں گے‘ ڈاکٹر خاموش ہوگیا‘ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا‘کیا آپ کا معدہ بھی آدھا ہے‘ ڈاکٹر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا‘نہیں‘ میرا معدہ پورا ہے لیکن میں اپنا آدھا معدہ استعمال کرتا ہوں‘ میں بھوک سے نصف کھانا کھاتا ہوں اور دن میں پانچ بار کھاتا ہوں‘ میں نے پوچھا ‘کیا مطلب؟ ڈاکٹر بولا ‘انسان سب سے کم کھانا سہ پہر کے وقت کھاتا ہے‘ میں جتنی خوراک سہ پہر کے وقت کھاتا ہوں میں اتنی ہی مقدار ناشتے‘ لنچ اور ڈنر میں لیتا ہوں‘ میں صبح ساڑھے سات بجے ناشتہ کرتا ہوں‘گیارہ بجے سنیکس لیتا ہوں‘ دو بجے لنچ کرتا ہوں‘ چار بجے کافی یا چائے کے ساتھ بسکٹ کھاتا ہوں اور میں ساڑھے چھ بجے ہلکا ڈنر کر لیتا ہوں‘ میں انڈیا میں کام کرتا رہا ہوں اور میرے والد کلکتہ کے رہنے والے تھے چنانچہ میںآپ کو مشورہ دوں گا آپ ہر وہ چیز ترک کر دیں جو ”چ“ سے شروع ہوتی ہے مثلاً چائے‘ چاول‘ چینی‘ چپاتی اور چنے ‘ چیئر ‘ چارپائی اور چڑچڑاپن اور چچڑ جیسے دوست اور رشتے دار آپ ہمیشہ صحت مند رہو گے‘آپ بھوک رکھ کر کھانا کھائیے‘ دوسرا یہ بات پلے باندھ لیجئے انسان کو خدا کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے سہارے‘ کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں ہوتی‘اللہ آپ کے ساتھ ہے تو آپ کو کوئی غم نہیں اور اگر اللہ آپ کے ساتھ نہیں تو پھر دنیا میں کوئی شخص آپ کو نہیں بچا سکتا‘ اللہ پر اپنے یقین کو مضبوط کرتے چلے جائیں آپ ٹینشن‘ اینگزائٹی اور ڈپریشن سے آزاد ہوتے چلے جائیں گے اور دن میں آٹھ آٹھ گھنٹوں کے تین وقفوں میں آدھ آدھ گھنٹہ ایکسرسائز کو اپنا معمول بنا لیں‘ آپ پرفیکٹ زندگی گزاریں گے‘ میں یہی کرتا ہوں‘ کم کھانا کھاتا ہوں‘ خدا پر یقین رکھتا ہوں اور روزانہ ایکسرسائز کرتا ہوں چنانچہ صحت مند ہوں“۔وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”پھر کیا ہوا؟“ بولے ”ڈاکٹر نے ٹھیک کہا تھا‘ میری خوراک آدھی ہوئی تو میری بیماریوں کی شدت بھی نصف ہو گئی‘میں نے اللہ پر یقین کو مضبوط کر لیا‘ میری ٹینشن بھی ختم ہو گئی اور میں اب روزانہ ایکسرسائز بھی کرتا ہوں چنانچہ میں تمہارے سامنے ہوں“ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور پوچھا ”اور آپ کا کاروبار کون دیکھتا ہے“ وہ ہنس کر بولے ”اوپر اللہ اور نیچے میرے ملازمین“ میں نے عرض کیا ”لیکن سر ہمارے ملک میں ملازمین سب سے بڑا ڈیزاسٹر ہوتے ہیں‘ میں نے ہر اس خاندان اور کاروبار کو تباہ ہوتے دیکھا جس نے ملازمین پر انحصار کیا“ انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے ” اورکیا وہ لوگ بچ جاتے ہیں جو ملازمین پر انحصار نہیں کرتے“ میں نے چند لمحے سوچا اور پھر قہقہہ لگا کر جواب دیا ”آپ کی بات درست ہے یہ بھی جلد یا بدیر فارغ ہو جاتے ہیں“ وہ ہنسے اور بولے ”گویا ایشو صرف وقت ہے‘دوسروں پر اعتبار کرنے والے جلدی فارغ ہو جاتے ہیں اور دوسروں پر انحصار نہ کرنے والے دیر سے فارغ ہوتے ہیں لیکن فارغ دونوں ہو جاتے ہیں‘ میرا چھوٹا بھائی کاروبار پر بہت توجہ دیتا ہے‘ یہ صبح سے رات تک دفتر میں کام کرتا ہے‘یہ کام کی اس زیادتی کی وجہ سے بیمار ہو چکا ہے‘ ہم دونوں فارغ ہو جائیں گے لیکن اس میں اور مجھ میں ایک فرق ہو گا‘ یہ شاید آخری عمر ہسپتال میں گزارے اور میںشاید دنیا سے چلتے پھرتے رخصت ہوں چنانچہ فائدے میں کون رہا‘ میں یا وہ“ وہ خاموش ہوئے اور میری طرف دیکھنے لگے‘ میں چپ رہا‘ وہ بولے ”اور ایک اور چیز یاد رکھو دنیا کا جو بھی شخص پورے یقین کے ساتھ اپنی جان‘ مال اور اولاد اللہ کے حوالے کر دیتا ہے اللہ کبھی اس کا یقین نہیں ٹوٹنے دیتا‘اللہ کبھی اس کو نقصان نہیں ہونے دیتا‘ ہم اگر اللہ کے دوست ہیں اور اللہ ہمارا دوست ہے تو پھر ہمیں نقصان کیسے ہو سکتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو‘ اپناسب کچھ اللہ کی نگرانی میں دے دو تم کبھی خسارے میں نہیں رہو گے“ وہ رکے‘ لمبی سانس لی اور بولے ”اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو متحرک بنایا ہے‘ ہمارے جسم کے اندر ہو یا ہمارے جسم کے باہر زندگی ہر وقت رواں دواں رہتی ہے‘ کارخانہ قدرت میں جو چیز رک جائے وہ فنا ہو جاتی ہے‘ آپ اپنے جسم کے جس عضو کو حرکت نہیں دو گے‘ آپ جس کو روزانہ چیلنج نہیں کرو گے وہ عضو ختم ہو جائے گا‘ وہ بیمار ہو جائے گا‘ آپ اپنے پورے جسم کو روزانہ ایکسرسائز کے چیلنج سے گزارو‘ آپ اپنے تمام اعضاءکو متحرک رکھو‘ یہ اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک آپ کی سانس میں سانس اور دل میں دھڑکن موجود رہے گی‘ انسان کا جسم بہت وفادار ہوتا ہے‘ آپ اس کی وفا ٹیسٹ کرو‘ یہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا“۔ میں اٹھا‘ ان کا ہاتھ چوما‘ ڈاکٹر کی تصویر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے گھر سے باہر آ گیا۔جاوید چودھری/زیرو پوائنٹ۔۔ .دن کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں ا

وفادار کتا

وفادار کتا
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:48
بغداد میں ایک شخص نے کتا پال رکھا تھا ایک دن اس کا کہیں جانا ہوا تو کتا بھی ساتھ ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ اس شخص کا گزر اس کے دشمنوں کے پاس سے ہوا، انہوں نے پکڑ لیا اور ایک مکان میں لے جا کر قتل کر کے کنوئیں میں پھینک دیا، کتا ان کے دروازے پر پڑا رہا ان لوگوں میں سے ایک شخص باہر نکلا تو کتا اسے کاٹنے کو دوڑا، اس نے لوگوں کو مدد کے لئے پکارا اور بمشکل جان بچائی۔ مگر اس واقعہ کی اطلاع خلیفہ کو بھی ہوئی تو خلیفہ نے

کو بلایا اور پوچھا آخر کیا وجہ ہے کتا تیرے پیچھے کیوں پڑ گیا؟ مقتول کی ماں نے دیکھا تو کہا میرے بیٹے کے دشمنوں میں یہ شخص بھی ہے کوئی تعجب کی بات نہیں یہ بھی قاتلوں میں شامل ہو۔ چنانچہ خلیفہ نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ چلو وہ سبھی جا رہے تھے اور کتا بھی ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ اس کنوئیں پر پہنچے تو کتے نے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا یہ ماجرا دیکھتے ہی اس شخص نے اقرار کر لیا کہ میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا ہے۔چنانچہ خلیفہ نے قصاص میں تمام کو قتل کرا ڈالا۔ کتا بھی اپنے مالک کا اتنا وفادار ہے کہ اس کا نمک کھاتا ہے تو پھر اس کی چوکھٹ سے لگا رہتا ہے اور اپنی وفاداری کا حق ادا کر دیتا ہے۔ لیکن ہم انسان اپنے رب العالمین سے کیسے غافل ہوئے کہ اس کی ہر طرح کی نعمت کے باوجود دنیا میں ایسے کھو گئے کہ اپنے رب کو بھول گئے اور اس کے نا شکرے ہو گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں نے تم کو عنایت کیا اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور نا شکرا ہے۔‘‘(سورہ ابراہیم آیت 34)مزید اچھی پوسٹ پڑھنے کے لئے فیس بک میسج بٹن پر کلک کریں

قلعی کھل گئی

قلعی کھل گئی
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:44
اٹلی میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔ اس کی رعایا اُسے بہت ناپسند کرتی تھی مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اس کی بہت تعریف کرتے تھے ۔ اُس بادشاہ کا ایک خوشامدی وزیر تھا ۔ وہ دن رات بادشاہ کی نیکی ، سچائی اور انصاف کی جھوٹی تعریفیں کرتا ۔ بادشاہ کا حکم تھا مجھے رعایا کے لوگوں کا حال سچ سچ بتایا کرو کہ کون کس حالت میں ہے اور میرے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ۔ اس طرح میں ان کی رائے اور سب کے حالات صحیح طور پر معلوم کر سکوں گا ۔

کے جواب میں دوسرے وزیر توخاموش رہتے ، مگر تعریف کرنے والا وزیر فوراََ کہتا ، حضور کی نیکی اور انصاف کے چرچے سارے ملک بلکہ دنیا بھر میں ہوتے ہیں ۔بھلا وہ کون بے وقوف آدمی ہوگا جو حضور کے انتظام سے خوش نہ ہو ہمارے ملک کی رعایا توبے حد آرام اور چین سے ہے ۔بادشاہ کو اس کی باتیں سنتے سنتے شک ہونے لگا کہ ہوسکتا ہے یہ خوشامدی مجھ سے سچی اور صاف باتیں نہیں کرتا اور اس کے دھوکے میں اپنی رعایا کے اصل حال سے بے خبر رہوں ۔ یہ سوچ کر اُس نے ارادہ کیا کہ اس وزیر کو کسی طرح آزمانا چاہیے ۔ پہلے تو وہ اسے باتوں باتوں میں سمجھاتا رہا کہ دیکھو دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہوتا جس کے سارے لوگ اپنے بادشاہ سے خوش ہوں اور کوئی بادشاہ ایسا ہوسکتا ہے کہ جو کسی معاملے میں بے جافیصلہ نہ کر بیٹھے ، جس سے کسی کو تکلیف پہنچے ۔ وزیر کو چاہیے کہ اس کے سامنے سچ بولے اور حق بات کہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم نڈرہوکرمیرے سامنے رعایا کا حال ، ان کے خیالات اور میرے انتظام کی صحیح حالت مجھے بتادیا کرو ، تاکہ میں سب لوگوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کروں ، لیکن وزیر اپنی خوشامد کی عادت سے بازنہ آیا اور اسی طرح جھوٹی سچی باتیں بنا کر تعریفیں کرتا رہا ۔آخر بادشاہ نے تنگ آکر اس کی آزمائش کے لیے اس سے کہا ہم تمھارے کام اور تمھاری باتوں سے بہت خوش ہیں اور اس صلے میں تمھیں بہت بڑا انعام دینا چاہتے ہیں ۔ یہ انعام ایک دن کی بادشاہت ہے ۔ کل تم بادشاہ بنوگے اور دربار میں سب امیروں ، وزیروں اور رعایا کے اعلاادنالوگوں کو جمع کرکے تمھاری دن بھر کی بادشاہت کا ہم اعلان کریں گے ۔ وزیر یہ سن کر بہت خوش ہوا ۔ دوسرے دن شاہی دربار میں مہمان آنا شروع ہوئے ۔ ہر طبقے کے لوگوں کو دعوت دی گئی تھی اور ان کے سامنے وزیر کو بادشاہ نے اپنا تاج پہنا کر اپنے تخت پر بٹھا دیا اور اعلان کیا کہ آج کے دن ہم بادشاہ نہیں ۔ آپ لوگوں کا یہ بادشاہ ہے ۔ اس کے بعد سب لوگ کھانے پینے میں مصروف ہوگئے ۔ خوشامدی وزیر کا یہ بادشاہ ہے ۔ اس کے بعد سب لوگ کھانے پینے میں مصروف ہوگئے ۔ خوشامدی وزیر بادشاہ بنا بڑی شان سے تخت پر بیٹھا نئے نئے حکم چلا رہا تھا اور خوشی سے پھولانہ سماتا تھا ۔ اصلی بادشاہ ایک دن کے نقلی بادشاہ کے پاس چپ چاپ بیٹھا تھا ۔ اتنے میں ایک دن کے بادشاہ کی نظر جو اچانک اٹھی تو وہ ایک دم خوف سے کانپنے لگا ۔ اصلی بادشاہ اس کی یہ حالت دیکھ کر مسکراتا رہا ۔قصہ یہ تھا کہ نقلی بادشاہ نے دیکھا کہ شاہی تخت کے اوپر اس جگہ جہاں وہ بیٹھا تھا سر پر ایک چمک دار خنجر لٹک رہا تھا جو بال جیسی باریک ڈوری سے بندھا ہوا تھا ۔ اُسے دیکھ کر نقلی بادشاہ کاڈر کے مارے برا حال ہوگیا کہ کہیں یہ بال ٹوٹ نہ جائے اور خنجر اس کے اوپر نہ آپڑے ۔ اس نے ضبط کر کے بہت سنبھلنے کی کوشش کی ، مگر اس سے خوف کی وجہ سے سیدھا نہ بیٹھا گیا ۔ آخر مجبور ہو کر اصلی بادشاہ سے کہنے لگا : ” حضور ! یہ خنجر میرے سر پر سے ہٹوادیا جائے ۔ اصلی بادشاہ نے مسکراکر کہا : ” یہ کیسے ہٹایا جاسکتا ہے ۔ یہ تو ہربادشاہ کے سر پر ہر وقت لٹکا رہتا ہے ۔اسے فرض کا خنجر کہتے ہیں ۔ اگر کوئی بادشاہ اپنے فرض سے ذرا غافل ہوتا ہے تو یہی خنجر اُس کے سر کی خبر لیتا ہے ، لیکن جو بادشاہ انصاف اور سچائی سے حکومت کرتا ہے یہ خنجر اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ “اب تو وزیر کی بہت بری حالت ہوگئی اور وہ پریشان ہو کر سوچنے لگا کہ اب کیا کرے ، کیا نہ کرے کیوں کہ اس کے دل میں خیال آرہے تھے کہ اس ایک دن کی بادشاہت میں وہ ایسے ایسے حکم چلائے جس سے اس کے خاندان والوں ، عزیزوں اور دوستوں کو خوب فائدے پہنچیں ، مگر اب تو اس کے سارے منصوبے خاک میں ملتے نظر آرہے تھے ۔ اس نے سوچا اگر کوئی حکم اس نے انصاف کے خلاف دیا تو یہ خنجر اس کی گرد اڑادے گا ۔ اصلی بادشاہ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر کہنے لگا ، اب تمھاری سمجھ میں آیا کہ بادشاہ کی ذمے داریاں کیا ہیںاور اس کی جان کو کیا کیا عذاب جھیلنے پڑتے ہیں ۔ یہ تخت آرام اور من مانی کے لیے نہیں ہے ۔ رعایا کا حال اور ملکی انتظام کے بارے میں صحیح صحیح حالات بتاؤ ۔ خوشامدی وزیر اپنے بادشاہ کی جھوٹی تعریف کر کے ملک ، بادشاہ اور رعایا کی بھلائی نہیں کرتے اور خود اپنے بھی خیرخواہ نہیں ہوتے ، بلکہ وہ اپنے بادشاہ کو اس چمک دار خنجر کی زد میں لاتے ہیں جو اس کے سر پر لٹک رہا ہے ۔ وزیر اپنے بادشاہ کی یہ باتیں سن کر بہت شرمندہ ہوا اور جھوٹی خوشامد سے بازرہنے کی توبہ کر کے بادشاہت سے دست بردار ہوگیا۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کیلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔۔