مری بائیکاٹ مہم نے اپنا رنگ دکھا دیا،سیاحت سے ہونیوالی آمدنی میں 70فیصد تک ریکارڈ کمی،چھٹی کے دن بھی مال روڈ ویران،تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

مری بائیکاٹ مہم نے اپنا رنگ دکھا دیا،سیاحت سے ہونیوالی آمدنی میں 70فیصد تک ریکارڈ کمی،چھٹی کے دن بھی مال روڈ ویران،تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
جمعرات‬‮ 17 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:08
ملک کوہسار مری میں بائیکاٹ مری مہم رنگ دکھانے لگی جہاں سیاحت سے ہونے والی آمدنی میں 70 فیصد تک کمی واقع ہو گئی ہے،صورتحال سے مقامی آبادی بھی سخت پریشان ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ضروری اقدامات اٹھانے کی اپیل کر دی۔تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں مری میں آنے والے سیاحوں کو ہراساں کرنے کے مختلف واقعات سامنے آئے اس سلسلے میں کچھ روز پہلے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی جس میں مری کے ایک مقام پر آنے والے سیاحوں پر تشدد کیا گیا اور انہیں ہراساں کیا گیا۔جس کے بعد سوشل ’’بائیکاٹ مری’’

مہم شروع کر دی گئی۔اس حوالے سے ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔ریلیوں میں شامل لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ مری میں ہم اور ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔مری میں فیملیوں پر تشدد بند کرو۔اس کے علاوہ ’’ٹورسٹ کو عزت دو‘‘ کے پلے کارڈز بھی شامل تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں مختلف لوگوں نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مری کا رخ نہ کریں کیونکہ وہاں کے مقامی لوگ سیاحوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔جس کے باعث مری میں بائیکاٹ مری مہم رنگ دکھانے لگی۔چھٹی کے روز بھی مری کی مصروف ترین مال روڈ خالی خالی دکھائی دینے لگی۔اس موقع پر ایک صارف نے سوشل میڈیا پر مری مال روڈ کی ایک تصویر بنائی اور پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر اتوار کے روز مری کے مال روڈ کی ہے ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ 40 سال میں اتوار کے روز کبھی اتنی ویران مری کی مال روڈ نہیں دیکھی۔مقامی تاجر برادری اس حوالے سے خاصی پریشان ہے ،انکا کہنا ہے کہ اس مہم کا مری کو خاصا نقصان ہو رہا ہے۔سیاحت کے باعث ہونے والی آمدنی میں 70فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ اب سیاحوں کا رخ بھی مری کے علاوہ دوسرے مقامات کی جانب ہو چکا ہے۔مری میں مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنمائوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں ورنہ آنے والے عام انتخابات میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کوہسار مری میں بائیکاٹ مری مہم رنگ دکھانے لگی جہاں سیاحت سے ہونے والی آمدنی میں 70 فیصد تک کمی واقع ہو گئی ہے،صورتحال سے مقامی آبادی بھی سخت پریشان ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ضروری اقدامات اٹھانے کی اپیل کر دی۔تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں مری میں آنے والے سیاحوں کو ہراساں کرنے کے مختلف واقعات سامنے آئے اس سلسلے میں کچھ روز پہلے ایک ویڈیو سوشل میڈیاپر بھی وائرل ہوئی جس میں مری کے ایک مقام پر آنے والے سیاحوں پر تشدد کیا گیا اور انہیں ہراساں کیا گیا۔جس کے بعد سوشل میڈیا پر ’’بائیکاٹ مری’’ مہم شروع کر دی گئی۔اس حوالے سے ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔ریلیوں میں شامل لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ مری میں ہم اور ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔مری میں فیملیوں پر تشدد بند کرو۔اس کے علاوہ ’’ٹورسٹ کو عزت دو‘‘ کے پلے کارڈز بھی شامل تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں مختلف لوگوں نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مری کا رخ نہ کریں کیونکہ وہاں کے مقامی لوگ سیاحوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔جس کے باعث مری میں بائیکاٹ مری مہم رنگ دکھانے لگی۔چھٹی کے روز بھی مری کی مصروف ترین مال روڈ خالی خالی دکھائی دینے لگی۔اس موقع پر ایک صارف نے سوشل میڈیا پر مری مال روڈ کی ایک تصویر بنائی اور پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر اتوار کے روز مری کے مال روڈ کی ہے ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ 40 سال میں اتوار کے روز کبھی اتنی ویران مری کی مال روڈ نہیں دیکھی۔مقامی تاجر برادری اس حوالے سے خاصی پریشان ہے ،انکا کہنا ہے کہ اس مہم کا مری کو خاصا نقصان ہو رہا ہے۔سیاحت کے باعث ہونے والی آمدنی میں 70فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ اب سیاحوں کا رخ بھی مری کے علاوہ دوسرے مقامات کی جانب ہو چکا ہے۔مری میں مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنمائوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں ورنہ آنے والے عام انتخابات میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں