کیا نشہ کی حالت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

کیا نشہ کی حالت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

سوال: کوئی شخص نشہ کی حالت میں طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہوجاتی ہے اور ہوجاتی ہے تو کتنی؟ جبکہ شوہر طلاق سے منکر ہے.
الجواب وبالله التوفیق:
نشہ کى حالت مىں طلاق دىنے سے شرعا طلاق واقع ہوجاتى هے …لىکن اس مىں شوهر کا اقرار یا دو عادل مرد ىا ایک مرد اور دو عورت کى شرعى شهادت شرط هے ..
مستفاد :فتاوى قاسمىه
صورت مسؤله مىں تو شوهر منکر… لهذا اب اگر دو عادل مرد يا ايک مرد اور دو عورت اس بات کى گواهى دے کہ اس شخص نے طلاق دى هے تو طلاق واقع هوگى ورنہ نہىں
والله تعالى اعلم بالصواب
…………
احناف کے نزدیک حرام چیز کے مثلاً شراب کے نشے میں زجرًا وتوبیخاً طلاق ہے تاکہ آئندہ وہ شراب کی عادت ترک کردے، یہی وجہ ہے کہ اگر کسی کو جائز وحلال چیز کے کھانے پیسے سے نشہ آگیا اور اس حالت میں طلاق دی تو طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، اور چونکہ نشہ کی حالت میں عقل باقی رہتی اور وہ شریعت کے احکام کا مکلف ہوتا ہے اس لیے نشہ کی حالت میں اس کا نکاح کو قبول کرنا صحیح ہوگا، یعنی نشے کی حالت میں نکاح بھی صحیح ہوجاتا ہے۔ چنانچہ فتاوی قاضی خاں میں لکھا ہے، في باب الخلع، خلع السکران جائز وکذلک سائر تصرفاتہ إلا الردة والإقرار بالحدود والإشہاد علی شہادة نفسہ (خانیة مع الہندیة: ۱/۵۳۶) اور الاشباہ میں ہے: وقدمنا في الفوائد أنہ من محرم کالصاحي إلا في ثلث الردة والإقرار بالحدود الخالصة والإشہاد علی شہادة نفسہ (الأشباہ: ج۳/۳۷)
اس میں صراحت کے ساتھ نکاح کا ذکر تو نہیں ہے لیکن سائر تصرفاتہ میں نکاح، طلاق عتاق، بیع بھی داخل ہونا اصولاً سمجھ میں آتا ہے۔
فون پر بذریعہ توکیل نکاح اور فون پر طلاق شوہر کے اقرار کے بعد واقع ہوجاتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
نشے کی حالت میں دی گئی طلاق صحیح مذہب کے مطابق واقع ہوجاتی ہے پس صورت مسئولہ میں جبکہ عورت اقرار کر رہی ہے اور شوہر بھی انکار نہیں کر رہا ہے عورت پر تین طلاق واقع ہوگئی، دونوں کا رشتہٴ نکاح بالکلیہ ختم ہوگیا، اب حلالہ شرعی کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔ طلاق السکران واقع ہدایہ:۲/۳۵۸، ط: تھانوی دیوبند۔ درالمختار: ۴/۴۴۴، ط: زکریا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *