ایک بیوہ عورت کی کہانی

ایک بیوہ عورت کی کہانی
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:07
“میرا نام روشن آراء ہے، پتہ نہیں ماں باپ نے یہ نام کیوں رکھا کیونکہ نام سے تو میں روشن آراء ہوں، لیکن حقیقت میں روشنی میرے پاس کبھی نہیں آئی۔ میری قسمت میں جتنے غم آئے کاش وہ کبھی کسی کو نہ ملیں، زندگی کی کوئی رات اور کوئی دن خوشی سے اور ہنستے ہوئے نہیں گزرا، مگر اتنا ضرور ہے کہ آنے والی کل کے انتظار میں رات کو سوتے وقت تھوڑا مسکرا لیتی تھی کہ کل کا دن شاید کوئی خوشی کی نوید لائے۔ میری شادی 20 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی، شادی کے چند

تو بہت اچھے گزرے، شوہر بھی اچھے اور خوش اخلاق تھے۔ اپنی زندگی میں انہوں نے مجھے کوئی غم نہیں دیا تھا۔ کماتے بہت زیادہ نہیں تھے پر پھر بھی دن اچھے گزر رہے تھے، مگر تیسرے بچے کی پیدائش کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے یہ خبر ملی کہ میرے شوہر کی ایک حادثے میں موت ہو گئی ہے اور میں بیوہ ہو گئی ہوں۔ میری تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔ کئی دنوں تک تو مجھے کوئی ہوش ہی نہیں تھا مگر ایک مہینے کے بعد کچھ طبیعت سنبھلی تو میری ساس نے کمرے میں آ کر کہا “دیکھو! اب تمہارا شوہر تو چلا گیا ہے اور یہاں کمانے والا بھی اب صرف تمھارا ایک دیور ہی ہے، سسر بھی چل پھر نہیں سکتے اور اب کوئی اور آسرا بھی نہیں جو تمھیں ہم اپنے ساتھ رکھ سکیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ اور چاہو تو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤ اور اگر دوسری شادی کرنا چاہو اور رکاوٹ ہو تو بچوں کو کسی بھی یتیم خانے میں بھیج دینا۔۔!!”مجھے ساس کی یہ باتیں سن کر بہت حیرت ہوئی کہ اب یہ لوگ بھی میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے تو میں نے ان سے کہا کہ، “ماں! اس گھر میں تو میرے شوہر کی یادیں ہیں اور ویسے بھی میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی، کیوں کہ میں سلائی کڑھائی تو جانتی ہوں، محنت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں گی۔ آپ صرف مجھے اس گھر میں رہنے دیں۔ رہا سوال شادی کا تو وہ میں اب نہیں کروں گی، یہ بچے ہی میرا سہارا ہیں اور کوئی دوسرا باپ انہیں حقیقی پیار نہیں دے سکتا۔۔! “مگر انہوں نے میری بات نہ مانی اور مجھے کہا کہ “تم تین دن کے اندر اندر فیصلہ کر لو تاکہ ہم یہاں سے چلے جائیں، کیونکہ اب اس مکان کو بیچ کر تمھارا دیور کوئی چھوٹا موٹا کام دھندہ شروع کرے گا۔۔! “میں نے جب یہ سنا تو میرا دل غموں سے بھر آیا تب میں نے کہا، “ٹھیک ہے جب آپ مجھے رکھنا ہی نہیں چاہتے تو میں تین دن بھی رُک کر کیا کروں گی۔۔!”، لہٰذا میں نے اگلے ہی دن وہ گھر چھوڑ دیا اوراپنی ماں کے گھر آ گئی۔ میں ماں کے گھر میں کچھ ہی دن رہی تھی کہ بھابیوں نے میرے بھائیوں کے کان بھرنے شروع کر دئیے کہ، “روشن آراء کے بچے ہمارے بچوں کو مارتے ہیں، انہیں کھیلنے نہیں دیتے۔۔!”، حالانکہ میں اپنے بچوں کو اپنے کمرے میں ہی بند رکھتی تھی، نہ تو ان کو میرا کوئی بھائی کھیلنے کے لئے باہر لے جاتا، اور نہ وہ محلے میں باہر نکلتے، بس یہ بےچارے یتیم آپس میں ہی کھیل کر کمرے میں ہی تھک ہار کے سو جاتے۔ آہستہ آہستہ میں نے اپنا کچھ زیور بیچ کر ایک سلائی مشین لے لی اور محلے سے سلائی کا کام منگوانا شروع کر دیا۔ اللہ کی رحمت سے میرا کام لوگوں کو پسند آ گیا۔ اب میں نے اپنے بچوں کو محلے کے ایک سکول میں داخل کروا دیا اور خود انہیں چھوڑنے بھی جاتی اور لینے بھی۔ پتہ نہیں یہ عورت ہی عورت کی دشمن کیوں ہوتی ہے، میری بھابیوں کو میرا اس گھر میں رہنا پسند ہی نہیں تھا، اس لئے وہ میری بوڑھی ماں جو ہر وقت میرے غم میں نڈھالرہتی تھی اسے بھڑکاتی رہتی کہ، “کوئی غریب سا رنڈوا مرد دیکھ کر اس کی شادی کرواؤ اور اسے رخصت کرو، ورنہ اس کی باقی کی زندگی کیسے کٹے گی، اور اس کے بھائی اسے کب تک سنبھالیں گے۔۔؟، اور ویسے بھی اب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں گھر میں جگہ تنگ پڑ جائے گی اور اگر کوئی اس کے بچوں کو لینے کو تیار نہ ہوں تو ایک ایک کر کے کسی بے اولاد کو دے دیں، پل جائیں گے۔۔! ” لیکن ان ظالم بھابیوں کو یہ خیال نہ آیا کہ ان بچوں کی خاطر میں نے اپنا سسرال چھوڑا تھا اور شادی نہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، تو کیا میں ان بچوں کے بغیر رہ سکتی ہوں؟۔ کیا کوئی بھی ماں اپنے بچوں کے بغیر جی سکتی ہے؟ شاید ایسا تو کوئی جانور بھی نہ کر سکتا۔ اس رات میں سو نہ سکی اور اگلے دن اپنی کچھ چیزیں اور ایک سونے کی چوڑی جو میرے شوہر کی آخری نشانی تھی، بیچ کر گلی میں ہی ایک دو کمروں کا مکان کرائے پر لیا اور وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی۔ اب خرچے بھی بڑھ گئے تھے اس لئے مجھے سلائی کا کام بھی بڑھانا تھا۔ اس سب میں میری ایک دوست نے میری بہت مدد کی اور اپنی ماں سے کہہ کر اس نے مجھے ایک بوتیک کی مالکن سے ملوایا۔ اسے میرا کام پسند آ گیا اور وہمجھے ہر مہینے اتنا کام دینے لگی کہ میں اپنا گزارا کرنے لگی۔ اس کے باوجود میرے بچوں کو بہت محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران میرے بھائیوں نے میری خبر تو کیا لینی تھی کہ وہ میری ماں سے بھی تنگ آ گئے تھے۔ اس لئے میں اپنی بیمار ماں کو بھی اس گھر میں لے آئی تھی۔ بوتیک کی مالکن جس سے میں کام لیتی تھی اس نے مجھے کہا کہ “اگر میں تمھیں ایک چھوٹی سے فیکٹری لگا دوں تو کیا تم یہ کام سنبھال سکو گی۔۔؟ “میں نے کہا، “کیوں نہیں۔۔!” لہٰذا اس نے میرے اس گھر میں ہی مجھے کچھ مشینیں لگوا دیں اور کہا کہ “اب تم مجھے میرا آرڈر پورا کروا کہ دیا کرنا۔۔۔!”، میں یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیتی آئی۔ بفضلِ خدا آج میرا ایک بیٹا میڈیکل سائنس کا فائنل امتحان دے رہا ہے، دوسرا بیٹا بینک میں ملازمت کر رہا ہے۔ اور بیٹی کی شادی ہونے والی ہے۔ میرے بیٹے کہتے ہیں کہ، “ماں! اب یہ کام چھوڑ دو۔۔!”لیکن میں یہ کام نہیں چھوڑوں گی جب تک مجھ میں ہمت ہے۔ اپنے لئے کچھ رقم اور کفن خرید رکھا ہے، نہ جانے میری ماں کی طرح کب میں، میرے بچوں پر بوجھ بن جاؤں۔ آج میری ماں زندہ نہیں ہے اور اب مجھے بھی مرنا ہے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ میرے بچے نمازی ہیں اور میرا بہت احترام کرتے ہیں۔ بس میرا دوسری عورتوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ وہ کبھی بھی کسی موڑ پر ہمت نہ ہاریں اور کوشش کرتی رہیں، کیونکہ ہمت کرنے والوں کا ساتھ خدا ضرور دیتا ہے۔۔!”دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کیلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں