وفادار کتا

وفادار کتا
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:48
بغداد میں ایک شخص نے کتا پال رکھا تھا ایک دن اس کا کہیں جانا ہوا تو کتا بھی ساتھ ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ اس شخص کا گزر اس کے دشمنوں کے پاس سے ہوا، انہوں نے پکڑ لیا اور ایک مکان میں لے جا کر قتل کر کے کنوئیں میں پھینک دیا، کتا ان کے دروازے پر پڑا رہا ان لوگوں میں سے ایک شخص باہر نکلا تو کتا اسے کاٹنے کو دوڑا، اس نے لوگوں کو مدد کے لئے پکارا اور بمشکل جان بچائی۔ مگر اس واقعہ کی اطلاع خلیفہ کو بھی ہوئی تو خلیفہ نے

کو بلایا اور پوچھا آخر کیا وجہ ہے کتا تیرے پیچھے کیوں پڑ گیا؟ مقتول کی ماں نے دیکھا تو کہا میرے بیٹے کے دشمنوں میں یہ شخص بھی ہے کوئی تعجب کی بات نہیں یہ بھی قاتلوں میں شامل ہو۔ چنانچہ خلیفہ نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ چلو وہ سبھی جا رہے تھے اور کتا بھی ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ اس کنوئیں پر پہنچے تو کتے نے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا یہ ماجرا دیکھتے ہی اس شخص نے اقرار کر لیا کہ میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا ہے۔چنانچہ خلیفہ نے قصاص میں تمام کو قتل کرا ڈالا۔ کتا بھی اپنے مالک کا اتنا وفادار ہے کہ اس کا نمک کھاتا ہے تو پھر اس کی چوکھٹ سے لگا رہتا ہے اور اپنی وفاداری کا حق ادا کر دیتا ہے۔ لیکن ہم انسان اپنے رب العالمین سے کیسے غافل ہوئے کہ اس کی ہر طرح کی نعمت کے باوجود دنیا میں ایسے کھو گئے کہ اپنے رب کو بھول گئے اور اس کے نا شکرے ہو گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں نے تم کو عنایت کیا اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور نا شکرا ہے۔‘‘(سورہ ابراہیم آیت 34)مزید اچھی پوسٹ پڑھنے کے لئے فیس بک میسج بٹن پر کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں