دوران خون میں مسائل اور خاموش علامات

دوران خون میں مسائل اور خاموش علامات
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:30
اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ہمارا جسم 60 ہزار میل تک پھیلی خون کی شریانوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔ دل اور دیگر پٹھوں کے ساتھ یہ شریانیں خون کی گردش کا نظام تشکیل دیتی ہیں۔ یہ نیٹ ورک خون کو جسم کے ہر کونے تک پہنچاتا ہے تاہم جب یہ نظام مسائل کا شکار ہو تو خون کی روانی سست یا بلاک ہونے لگتی ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جسمانی خلیات آکسیجن اور غذائیت ضرورت کے مطابق حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ڈان کے مطابق اس ناقص سرکولیشن کی علامات سے واقفیت مسائل کو زیادہ سنگین

سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ہاتھوں اور ٹانگوں پر اثرات جب اعضاء کو مناسب مقدار میں خون نہیں ملا تو ہاتھوں یا پیروں میں ٹھنڈک یا سن ہونے کا احساس ہوسکتا ہے، اگر جلد کی رنگت ہلکی ہے تو ٹانگوں پر نیلاہٹ کی جھلک نظر آسکتی ہے۔ اسی طرح ناقص سرکولیشن جلد کو خشک کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ناخن بھربھرے ہوجاتے ہیں جبکہ بال گرنے لگتے ہیں، خصوصاً پیروں کے۔ اگر ذیابیطس کے شکار ہوں تو زخم بھرنے کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے۔ذہنی افعال میں اچانک کمی جسم کے دیگر حصوں کی طرح دماغ کو بھی خون کی صحت مند سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنا کام مناسب طریقے سے سرانجام دے سکے۔ جب دوران خون کی فراہمی میں مسئلہ ہوتا ہے تو دماغی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، اگر واضح طور پر سوچنے میں مشکل کا سامنا ہو یا یادداشت میں اچانک خرابی محسوس ہو، تو یہ سرکولیشن کے نظام میں خرابی کی نشانی ہوسکتی ہے۔کھانے کی خواہش ختم ہوجانا دوران خون کے نظام میں مسائل کی ایک اور علامت کھانے کی خواہش ختم ہوجانا ہے، غذائی نالی کو غذا ہضم کرنے اور آنتوں تک غذائیت پہنچانے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے، جب دوران خون سست پڑتا ہے تو نظام ہاضمہ بہت آسانی سے متاثر ہوجاتا ہے، بھوک کا احساس کم ہوتا ہے، مگر کم کھانا میٹابولزم کو زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔بغیر وجہ نظام ہاضمہ کے مسائل ناقص سرکولیشن سے صرف کھانے کی خواہش ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ جسم کی غذا سے حاصل ہونے والی غذائیت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ خون کی مناسب فراہمی کے بغیر اکثر غذائیں درست طور پر ہضم ہوئے بغیر گزر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں قے یا متلی، بدہضمی یا دیگر نظام ہاضمہ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔تھکاوٹ اس نظام میں گڑبڑ کے نتیجے میں جسم کی آکسیجن، وٹامنز اور منرلز کو ہر حصے میں پہنچانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، ایسا ہونے پر جسم ہر ممکن حد تک توانائی بچانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مشکل وقت پر کام آسکے۔ ایسا ہونے پر ہر وقت تھکاوٹ کا احساس طاری ہوتا ہے جو کہ روزمرہ کے کاموں کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔سینے میں کھچاﺅ جب سرکولیشن کا نظام ناقص ہوتا ہے تو دل کو عام معمول کی طرح خون نہیں مل پاتا، اس کے نتیجے میں سینے میں دباﺅ بڑھنے یا کھچاﺅ کا احساس ہوتا ہے، اس علامت کو انجائنا بھی کہا جاتا ہے۔آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ویسے تو سیاہ حلقوں کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر دوران خون کے نظام میں مسائل میں بھی یہ بہت عام علامت ہوتی ہے۔ اگر یہ جاننا چاہیں کہ سیاہ حلقے سرکولیشن نظام کا نتیجہ تو نہیں تو اس حصے کی جلد کو نرمی سے دبائیں، اگر ایسا کرنے پر جلد کی رنگت ہلکی ہوجائے اور انگلی ہٹانے پر واپس سیاہ ہوجائے تو یہ سرکولیشن مسائل کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے۔ہاتھوں اور پیروں میں سوجن سنگین کیسز میں خون کی ناقص سرکولیشن کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں میں سوجن سامنے آسکتی ہے جو کہ غذائیت کے عدم توازن اور جسم کی شریانوں میں سیال کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

آخر میں آذربائیجان کیوں جاؤں؟ مجبور کردینے والے دلچسپ حقائق

آخر میں آذربائیجان کیوں جاؤں؟ مجبور کردینے والے دلچسپ حقائق

  جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018  |  13:51

آذربائیجان (Azerbaijan) جس کو سرکاری طور پر جمہوریہ آذربائیجان بھی کہا جاتا ہے تاریخی ورثے٬ ثقافتی ورثے اور قدرتی نظاروں کے اعتبار سے ایک امیر ترین ملک ہے- حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک منفرد ملک ہونے کے باوجود بہت کم سیاح اس ملک کی سیر کو جاتے ہیں- شاید اس کی ایک وجہ لوگوں کے درمیان آذربائیجان سے متعلق معلومات کی کمی ہے- اس ملک کی ثقافت٬ فن تعمیر اور فیشن میں مشرق اور مغرب کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے- آئیے ہم آپ کو تفصیل سے وہ دلچسپ وجوہات بتاتے ہیں جن کی بنا پر آپ کو

ملک کی سیر ضرور کرنی چاہیے-Its untouched nature آذر بائیجان ہر موسم میں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے جس کی وجہ یہاں موجود خوبصورت پہاڑ ہیں- جہاں دیکھوں Caucasus نامی یہ پہاڑی سلسلہ دکھائی دیتا ہے- موسمِ سرما ان پہاڑوں سے بہتے جھرنے اور نہریں منجمد ہوجاتی ہیں- آذربائیجان کی منجمد جھیلوں کا نظارہ انتہائی سحر انگیز ہوتا ہے-Ski Resorts Shahdag اسکائنگ کے لیے ایک بہترین مقام ہے- دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقام نہ صرف سستا ہے بلکہ یہاں لوگوں کا زیادہ ہجوم بھی نہیں ہوتا- آذر بائیجان میں کئی بہترین ریزورٹ ہیں جن میں Shahdag ہوٹل٬ Zirve ہوٹل٬ Park Chalet اور Pik Palace شامل ہیں-Baku یہ آذربائیجان کا دارالحکومت ہے اور اسے Baki اور ہواؤں کے شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے- اس شہر میں موجود سمندر کے ساحل کے ساتھ کئی پرکشش عمارات اور راستے تعمیر کیے گئے ہیں جو کہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں- اگر آپ اس شہر کی سیر کو جائیں تو نظامی اسٹریٹ٬ فاؤنٹین اسکوائر٬ میڈن ٹاور اور فلیم ٹاورز دیکھنا نہ بھولیں-Sheki یہ آذربائیجان کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جو کہ پہاڑ کی ڈھلوان پر واقع ہے- یہاں آپ کو اسلامی فنِ تعمیر کے کئی شاہکار دکھائی دیں گے- اس کے علاوہ اس شہر کے کھانے بھی انتہائی مزیدار ہوتے ہیں- اکثر سیاح اس دلچسپ اور خوبصورت شہر کو نظرانداز کرنے کی غلطی کرتے ہیں مگر آپ ایسا نہ کیجیے گا- اس شہر میں واقع Sheki Khans کا محل اور مٹھائیوں کی مقامی دکانیں بھی شہرت رکھتی ہیں-Villages آذربائیجان کے دور دراز علاقوں میں کئی ایسے گاؤں واقع ہیں جو خوبصورتی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے اور یہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں- ان میں سے اکثر گاؤں کے رہائشی سیاحوں کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں- انہیں نہ صرف رہائش فراہم کرتے ہیں بلکہ کھانا اور گاؤں کی سیر بھی کرواتے ہیں- گاؤں میں رہنے والوں کا ذریعہ معاش جانور یا پھر کھیتی باڑی ہوتی ہے-The People اس ملک کے باشندے مہمان نواز اور دوستانہ رویے کے حامل ہیں- یہ سیاحوں سے مل کر خوش ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں- تاہم یہاں کے زیادہ تر باشندے انگریزی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں اور وہ صرف روسی زبان میں ہی بات کرنا جانتے ہیں- لیکن اس کے باوجود وہ سیاحوں کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں-Hot Wine آذربائیجان میں پایا جانے والا یہ الکوحل سے پاک کچھ میٹھا اور کھٹا مشروب ہے جو کہ موسمِ سرما میں استعمال کیا جاتا ہے- یہ مشروب اسکائی ریزورٹ کے قریب میں واقع کسی کیفے سے حاصل کیا جاسکتا ہے-Gobustan دنیا میں موجود مٹی کے 800 آتش فشاں میں سے 350 آذر بائیجان میں پائے جاتے ہیں- یہ دیکھنے میں انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں اور ان آتش فشاں سے بہت زیادہ مٹی اور ہائیڈرو کاربن گیسوں کا اخراج ہوتا ہے- اور یہی تیل اور گیس کی دریافت کے حوالے سے مدد بھی فراہم کرتے ہیں- اس حوالے سے سب سے بہترین مقام Gobustan ہے جو کہ باکو شہر کے قریب ہی واقع ہے-The Cuisineآذربائیجان کے کھانے آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے کیونکہ یہ انتہائی مزیدار اور لذیذ ہوتے ہیں- اس لیے جب بھی آذربائیجان جانا ہو یہاں کے کھانوں کا لطف ضرور اٹھائیے- آذربائیجان کی مشہور ڈشز میں Piti اور کباب بھی شامل ہیں-

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان

پچھلے پندرہ سال کے عروج و زوال کی داستان
جمعرات‬‮ 31 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:58
زیرو پوائنٹ (جاوید چوہدری) یہ پرانی بات ہے‘ میاں نواز شریف کا اقتدار ختم ہو چکا تھا‘ یہ وزیراعظم سے ملزم بن چکے تھے‘ ان پر طیارہ ہائی جیک کرنے کا الزام تھا‘ یہ جنرل پرویز مشرف کی عدالتوں میں پیش ہوتے تھے اور یہ ملک کی مختلف جیلوں میں بھجوائے جاتے تھے‘ میاں صاحب کو2000ء کے شروع میں راولپنڈی جیل سے لانڈھی جیل کراچی منتقل کیا گیا‘ میاں صاحب جیل پہنچے تو ان کے ساتھ وہاں انتہائی توہین آمیز سلوک کیا گیا‘ قواعد کے مطابق پولیس ملزموں اور مجرموں کو جیل کے عملے کے حوالے کرتی ہے‘ملزمان کی وصولی

فریضہ عموماً اسٹنٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ادا کرتے ہیں‘ یہ کاغذات وصول کرتے ہیں‘ ملزم سے اس کا نام اور جرم پوچھتے ہیں‘ رجسٹر میں لکھتے ہیں اور ملزم کی وصولی کی رسید جاری کر دیتے ہیں‘ یہ قاعدہ عام ملزموں کیلئے ہے‘ وی وی آئی پی یا سیاسی قیدیوں کو جیل میں تکریم دی جاتی ہے‘ ان سے صرف دستخط لئے جاتے ہیں ‘ان سے تصدیقی سوال نہیں پوچھے جاتے لیکن میاں نواز شریف کو اس عمل سے بھی گزارا گیا‘ میاں صاحب کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش کیا گیا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کرسی پر بیٹھا تھا‘ اس نے رجسٹر کھولا اور نہایت بدتمیزی سے کہا ’’ نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے جواب دیا’’میاں محمد نواز شریف‘‘ سپرنٹنڈنٹ کا اگلا سوال تھا ’’والد کا نام بتاؤ‘‘ میاں صاحب نے بتایا ’’ میاں محمد شریف‘‘ اس سے اگلی بات انتہائی نامناسب تھی‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہا ’’ سوچ کر بتاؤ‘‘ میاں نواز شریف یہ بات پی گئے‘ میاں صاحب کی جیب میں پین تھا‘ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے ہاتھ بڑھا کر وہ پین میاں صاحب کی جیب سے نکالا اور کہا ’’ تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ میاں صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا مگر خاموش رہے۔ مجھے یہ واقعہ مخدوم جاوید ہاشمی نے سنایا تھا‘ یہ سناتے ہوئے ہاشمی صاحب کا گلہ روند گیا تھا جبکہ میرا دل بوجھل ہو گیا تھا‘ آپ بھی اس وقت کو تصور میں لائیے‘آپ کو بھی یقیناًافسوس ہو گا‘ میاں نواز شریف دوسری بار ملک کے وزیراعظم بنے تھے‘ یہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جو دو تہائی اکثریت لے کر ایوان میں پہنچے اور انہیں صرف اس ’’غلطی‘‘ کی سزا مل رہی تھی کہ انہوں نے 22 ویں گریڈ کے ایک افسر جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے کی جرأت کی تھی‘ میاں صاحب کے اس جرم کی پاداش میں منتخب حکومت کو گھر بھجوا دیا گیا‘ شریف خاندان کو گرفتار کر کے جیلوں میں پھینک دیا گیا‘ اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا‘ کیا یہ واقعی اتنا بڑاجرم تھا کہ ملک کو مارشل لاء کے اندھیروں میں بھی دھکیل دیا جاتا اور ملک کے منتخب وزیراعظم کو اٹک کے اس قلعے میں بھی رکھا جاتا جس میں دن کے وقت بھی سانپ رینگتے رہتے تھے‘ یہ سلوک صرف یہاں تک محدود نہیں تھا‘ میاں نواز شریف کو اٹک قلعے سے نکال کر ملک کی مختلف جیلوں کی سیر بھی کرائی گئی‘انہیں ائیر ٹائیٹ بکتر بند گاڑیوں میں عدالت لایا جاتا‘ طیارے میں ان کا بازو سیٹ سے باندھ دیا جاتااور ان کی ساری پراپرٹی ضبط کر کے انہیں پورے خاندان سمیت جلا وطن کر دیا گیا اور یہ وہاں سے واپس آئے تو انہیں دھکے دے کر‘ ان کے کپڑے پھاڑ کر‘ انہیں طیارے میں پھینک کر واپس سعودی عرب بھجوا دیا گیا‘ کیا کسی جمہوری لیڈر کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے؟ لیکن میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ یہ ہوا اور یہ سلوک بھی ریاستی اداروں نے جنرل پرویز مشرف کی ایما پر کیا‘ میاں نواز شریف کو اس دور میں جنرل محمود کے لہجے نے زیادہ تکلیف دی تھی‘ جنرل محمود بارہ اکتوبر 1999ء کو راولپنڈی میں کورکمانڈر تھے‘یہ میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے‘ میاں صاحب نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا‘ جاوید ہاشمی کے بقول جنرل محمود نے میاں نواز شریف کو دھمکی بھی دی اور گالی بھی۔ میاں صاحب جلا وطنی کے دوران اس سلوک پر بہت دل گرفتہ تھے‘ وہ جنرل محمود اور ان کے لہجے کو کبھی فراموش نہیں کر سکے‘ جنرل عزیز اس وقت ڈی جی ملٹری آپریشن تھے‘ میاں نواز شریف کو ان کے رویئے پر بھی افسوس تھا‘ جنرل عزیز کارگل کی جنگ میں بھی ملوث تھے‘ ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے پاک فوج کے تین ہزار جوان اور آفیسر شہید ہوئے ‘ میاں نواز شریف جنرل مشرف کے ساتھ ان کا کورٹ مارشل بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ان دونوںجرنیلوں نے وردی بچانے کیلئے حکومت کا تختہ الٹ دیا‘ اپنی نوکری بچا لی مگر پورا سسٹم برباد کر دیا‘ میاں نواز شریف جنرل کیانی کے رویئے سے بھی خوش نہیں تھے‘ میاں نواز شریف 10 ستمبر 2007ء کو لندن سے اسلام آباد پہنچے تھے‘ جنرل کیانی اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ میاں نواز شریف کو اسلام آباد سے سعودی عرب واپس بھجوانے کا فریضہ جنرل کیانی کے لوگوں نے نبھایا تھا۔یہ وہ واقعات ہیں آپ کو جن کا اثر میاں نواز شریف کی نفسیات پر دکھائی دے رہا ہے‘ آٹھ سال کی جلاوطنی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچ سال کی بیڈ گورننس اور 2013ء کے الیکشن میں میاں نواز شریف کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں‘ان تمام چیزوں نے میاں صاحب پر اثر کیا اور آپ کو یہ اثر اب ان کے چہرے پر نظر آتا ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر زبرستی بٹھایا گیا ہو اور یہ بھاگنے کا موقع تلاش کر رہے ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے‘ آپ اب دوسری حقیقت بھی ملاحظہ کیجئے‘ وہ جنرل پرویز مشرف جس نے 12 اکتوبر 1999ء کو صرف دو جیپیں وزیراعظم ہاؤس بھجوا کر دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت کو گھر بھجوادیا تھا‘ وہ عدالت سے بچنے کیلئے 48 دن ہسپتال میں چھپے رہے‘ وہ 18فروری کو رینجرز کے نرغے میں عدالت پیش ہوئے تو انہیں ملزم کے کٹہرے کے ساتھ کرسی پر بٹھا دیا گیا‘ خصوصی ٹریبونل کمرے میں داخل ہوا تو اسے جنرل پرویز مشرف نظر نہ آئے‘ ٹریبونل کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے اونچی آواز میں پوچھا ’’ ملزم کہاں ہے‘‘ جنرل پرویز مشرف یہ تین لفظ سن کر اپنی کرسی سے اٹھے اوراس عدالت کو سیلوٹ کیا جسے انہوں نے 9 مارچ 2007ء کو اپنی انا کے قدموں میں روند دیا تھا‘ عدالت نے ملزم کو دیکھا اور مسکرا کر واپس ہسپتال بھجوا دیا‘ یہ جنرل مشرف کا انجام ہے‘ آپ جنرل محمود کی کہانی بھی ملاحظہ کیجئے‘ جنرل پرویز مشرف اور جنرل محمود کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے‘ جنرل مشرف نے اس جنرل محمود کو فارغ کر دیا جس نے کبھی میاں نواز شریف سے استعفیٰ لینے کیلئے اخلاقیات کی ساری حدود کراس کر دی تھیں‘ یہ جنرل محمود بے روزگار ہوئے‘ چند دوست درمیان میں آئے اور جنرل محمود کو ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی فرٹیلائزر کا سربراہ بنا دیا گیا‘ جنرل مشرف کی بدلتی ہوئی نظریں جنرل محمود کی نفسیات پر اثرانداز ہوئیں‘ یہ مذہب کی طرف چلے گئے‘ داڑھی رکھی‘ تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے اور یہ اب دوسری بار ریٹائر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں مصروف ہیں‘میاں نواز شریف 4 نومبر 2013ء کو خیر پور ٹامیوالی گئے‘ یہ فوج کی مشقیں دیکھنے وہاں گئے‘ جنرل عزیز بھی اس تقریب میں شریک تھے‘ میاں نواز شریف ظہرانے کے دوران جنرل عزیز کے عین سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل عزیز اور میاں نواز شریف دونوں کو اس وقت یقیناً1999ء کے وہ دن اور وہ راتیں یاد آئی ہوں گی جب جنرل عزیز نے میاں نواز شریف پر عرصہ حیات تنگ کر دیاتھا اور پیچھے رہ گئے جنرل اشفاق پرویز کیانی۔ جنرل کیانی صاحب کو شریف النفس اور فلاسفر آرمی چیف کہا جاتا تھا‘ سگریٹ اور کتاب جنرل صاحب کی دو کمزوریاں تھیں‘ یہ سروس کے دوران یس سر اور یس باس رہے تھے‘ شاید اسی لئے جنرل کیانی نے میاں نواز شریف کو اسلام آباد ائیر پورٹ سے دھکے دے کر سعودی عرب بھجوانے کا بندوبستکیا تھا لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور یہ میاں نواز شریف سے وقت لے کر ان سے ملاقات کیلئے جاتے تھے‘ آج کل خبر گردش کر رہی ہے جنرل کیانی سیکورٹی کی وجہ سے فیملی سمیت دوبئی شفٹ ہونا چاہتے ہیں لیکن فوجی قیادت انہیں اجازت نہیں دے رہی‘ ان کے دست رات جنرل پاشا پہلے ہی یو اے ای میں نوکری کر رہے ہیں۔ آپ اگر پچھلے پندرہ سال کے اس عروج و زوال کی داستان پڑھیں تو آپ کو جمہوریت کی طاقت پر یقین آ جائے گا‘ پاکستان میں اگر جمہوریت نہ ہوتی توشاید وہ میاں نواز شریف کبھی واپس نہ آتے جن کی جیب سے جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے یہ کہہ کر پین نکال لیا تھا ’’تم یہاں پیپر دینے آئے ہو‘‘ یہ صرف جمہوریت‘ ووٹ اور بیلٹ باکس کی طاقت ہے جس کی وجہ سے آج وہ شخص تیسری بار ملک کا وزیراعظم ہے جسے جیل میں رکھنے‘سزا دینے‘ جلاوطن کرنے اور انتخابی عمل سے باہر رکھنے کیلئے بار بار پوری ریاستی طاقت استعمال ہوئی‘ یہ بھی جمہوریت کا کمال ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف جو بیک جنبش قلم پوری سپریم جوڈیشری کو گھر بھجوا دیتا تھا وہ آج خود اسی جوڈیشری کے رحم و کرم پر ہے‘ ہماری سیاسی لاٹ نے اپنی آنکھوں سے جمہوریت کا یہ معجزہ دیکھا مگر اس کے باوجود ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین فوج کو دعوت دے رہے ہیں‘ یہ فوج سے فرما رہے ہیں ’’آپ ملک کو ’’ٹیک اوور‘‘ کر لیں‘‘ کاش یہ بیان دینے سے قبل الطاف حسین ایک بار اس منظر کو نگاہوں میں لے آتے جب جنرل عزیز میاں نواز شریف کے سامنے بیٹھے تھے‘ جنرل کیانی میاں نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے اور جسٹس فیصل عرب عدالت میں یہ صدا لگا رہے تھے ’’ ملزم جنرل پرویز مشرف کہاں ہیں‘‘ اور کاش اس بیان پر خوش ہونے والے لوگ بھی ایک بار‘صرف ایک بار جنرل محمود کے تبلیغی سیشن میں شریک ہو جائیں‘ یہ ٹریبونل کیلئے جنرل مشرف کا سیلوٹ دیکھ لیں‘ کاش ایک بار ایسا ہو جائے‘ مجھے یقین ہے یہ بھی جمہوریت کی طاقت پر یقین کر لیں گے‘ یہ بھی بیلٹ باکس کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں

کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:27
چاول، دودھ، پھل، ڈرائی فروٹ اور گوشت وغیرہ ہماری غذا کا حصہ ہیں، لیکن کیاہم اس بات سے واقف ہیں کہ ان میں کونسی چیز کب اور کس وقت کھانا انسانی جسم کو فائدہ پہنچتا ہے اور کس وقت کھانے صحت کے لئے مضر –> ثابت ہوسکتا ہے۔آپ کے جسم کو کس چیز کی ضرورت ہے اور وہ کس وقت لینے سے فائدہ ہوگا جبکہ کسی اور وقت کھانے سے کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں، آیئے جانتے ہیں۔چاولچاول ہماری روزمرہ کی غذا میں شامل ہے، لیکن ہم میں بہت سے ہیں جو نہیں جانتے کہ انہیں رات میں کھانے سے

بڑھتا ہے جبکہ دوپہر میں یہ انسانی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں کیونکہ اس دوران ہمارا میٹابولزم بہتر طور پر کام کرتا ہے اور کاربوہائیڈریٹ کو استعمال کےلئے کافی دورانیہ مل جاتا ہے۔دودھ کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںدودھ پینے کا بہترین وقت رات کا ہے، گرم دودھ انسانی جسم کےلئے سکون بخش ہے اور نیند کےلئے بہترین ثابت ہوتا ہے، زیادہ جسمانی حرکت رکھنے والوں کے سوا صبح سویرے دودھ ہضم کرنا مشکل کام ہے، جس سے کھانے کی اوقات بھی بدل جاتی ہیں۔دہیکونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںدہی رات کے بجائے دن کے اوقات میں کھانا چاہیے، یہ دن کے اوقات میں نظام ہضم درست رکھنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ رات میں دہی کھانا خاص طور پر وہ جنہیں پرانی کھانسی ہے ان کے لئے بلغم کی افزائش کا سبب بن سکتاہے۔سیب کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںسیب کھانے کا بہترین وقت صبح ہے، شام یا رات میں اسے کھانا صحت کےلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے، سیب کا چھلکا صبح میں فائبرپیکٹن ہوتا ہے جو قبض کشا ہے، سیب ایک طرف رات میں نظام ہضم پر بوجھ ڈالتا ہے اور ساتھ ہی پیٹ میں تیزابیت پیدا کرتا ہے جو بے چینی کا سبب بنتی ہے۔کیلاکونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں کیلا دوپہر میں کھانے سے نظام ہضم کو تقویت پہنچاتا ہے، کیلا قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہےاور سینے کی جلن میں راحت بخشتا ہے جبکہ رات میں کیلا کھانے سے بلغم کی افزائش ہوتی ہے اور خالی پیٹ کھانے سے پیٹ کا نظام بگڑسکتا ہے ۔شوگر( چینی)کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں چینی رات کے مقابلے میں دن میں لینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس دوران ہمارا لبلبہ موثر کارکردگی دکھاتا ہےجبکہ رات میں چینی کااستعمال موٹا پے اور نیند میں بے آرامی کا سبب بنتا ہے۔اخروٹ کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں اخروٹ فائدہ مند مرکبات جو اومیگا تھری ،چربی اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپورہے ، یہ دماغی صلاحیت کو پروان چڑھاتا ہے اس لئے اسے صبح ، دوپہر یا رات کے بجائے شام کو کھایا جائے یہ جسم کےلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہےجبکہ دیگر اوقات میں کھانے سے اس کی افادیت انتہائی کم رہتی ہے ۔دالیں اور لوبیا کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںدالیں اور لوبیا فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں،یہ نظام ہضم میں مددگار ثابت ہوتے ہیںاور کولیسٹرول لیول کم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ صبح میں لینے سے یہ دن کے اوقات میں شدید بھوک کا باعث بنتی ہیں۔پنیر کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیں پنیر رات کے بجائے صبح سویرے کھانا صحت کے لئے بہترین ہے ،سبزی خور افراد کےلئے پنیر گوشت کا متبادل ہے،جس سے وزن بڑھتا ہے جبکہ رات میں کھانےسے نظام ہضم پر بوجھ پڑتا ہے جس کی وجہ سے بدہضمی اورچربی میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔گوشت کونسی چیز کب کھائیں، کب نہ کھائیںگوشت دوپہر میں کھانا ،رات میں کھانے سے بہتر ہے ،گوشت ہاضمے کےلئے سخت غذا ہے،اس میں پروٹین بھی زیادہ ہوتے ہیں۔اگر انہیں دن کے اوقات میں کھایا جائے تویہ عام طور پر جسم کی مضبوطی اور کنسنٹریشن (توجہ ) کی سطح بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں جبکہ رات میں کھانے سے نظام ہضم پر بوجھ پڑتا ہے ،جس سے رات میں بے آرامی کی شکایت بڑھ جاتی ہے

کیوی پھل جگر کی چربی دورکرنے میں معاون

کیوی پھل جگر کی چربی دورکرنے میں معاون
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:51
طبی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر خواتین دوران حمل زائد چکنائی والی غذائیں کھاتی ہیں تو اس سے ان کے بچوں پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ان میں موٹاپا اور جگر پر زائد چربی کا مرض (این اے ایف ایل ڈی) سرِفہرست ہیں۔ ماہرین نے اس کے لیے چوہیا کو کیوی پھل، پپیتے اور اجوائن میں موجود ایک اہم مرکب دیا جس میں پائرولو کیونولائن کائنن (پی کیو کیو) پایا جاتا ہے۔ جب چوہیا کو یہ مرکب کھلایا گیا تو اس سے ان کا دودھ پینے والے بچوں میں این اے ایف ایل ڈی سے بچاؤ نوٹ کیا

گیا۔یونیورسٹی آف کولوراڈو کی ماہر کیرن جونشر اور ان کے ساتھیوں نے اپنی ان تحقیقات کو ایک جرنل ’’ہیپاٹولوجی کمیونی کیشن‘‘ میں شائع کروایا ہے۔واضح رہے کہ این اے ایف ایل ڈی (Non alcoholic fatty liver disease) کی بیماری میں جگر پر دھیرے دھیرے چربی چڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور صرف امریکا میں ہی 30 سے 40 فیصد افراد اس سے متاثر ہیں جو شراب نوشی نہ کرنے کے باوجود جگر پر چکنائی سے متاثر ہیں۔ آگے چل کر یہ مرض شدت اختیار کرکے جگر کے کئی امراض کی وجہ بنتا ہے۔اگر مرغن اور چکنائی سے بھرپور غذائیں بے تحاشا کھائی جائیں تو اس سے موٹاپے، بلڈ پریشر، بلند کولیسٹرول اور دیگر امراض جنم لیتے ہیں اور پھر وہ این اے ایف ایل ڈی کی وجہ بنتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نہ صرف ہماری غذا کی اپنی اہمیت ہے بلکہ ہماری ماؤں کی غذا بھی اہمیت رکھتی ہے، جب ہم رحمِ مادر میں ہوتے ہیں۔ دورانِ حمل ماں کی غذا کے بچے پر اچھے یا برے دونوں طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ ماں کی غذا کا اثر بچے اور پوتے یا نواسے پر بھی ہوسکتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ کیوی اور پپیتے میں پایا جانے والا مرکب ’پی کیو کیو‘ ایسی چوہیا کو دیا گیا جب وہ حاملہ تھی اور اسے چکنائی سے بھرپورغذا دینے کے باوجود بھی اس کے بچوں میں فیٹی لیور بیماری بہت کم دیکھی گئی۔ پی پی کیو ایک طرح کا اینٹی آکسیڈنٹ مرکب ہے جو جسم کو فری ریڈیکلز سے بچاتا ہے۔ فری ریڈیکلز ڈی این اے اور دیگر خلیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ کولوراڈو یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ جو لوگ جگر پر چربی اور چکنائی کے شکار ہیں وہ تازہ کیوی ضرور کھائیں کیونکہ ان کا دیرپا استعمال جگر کو فعال اور چکنائی سے پاک رکھ سکتا ہے۔

بالوں کا گرنا٬ چند غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت

بالوں کا گرنا٬ چند غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:48
بالوں کا گرنا آج ایک ایسا سنگیں مسئلہ بن چکا ہے کہ جس سے ہر جوان٬ نوجوان٬ لڑکا٬ لڑکی٬ عورت٬ مرد غرض کہ ہر عمر کا فرد دوچار ہے- بالوں کے گرنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ بالوں کی درست نشو و نما نہ کرنا یا موروثیت وغیرہ- لیکن اس حوالے سے اکثر افراد میں کئی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں- آج ہم انہی غلط فہمیوں اور ان حقیقت کے حوالے سے آپ کو بتائیں گے- غلط فہمی: اکثر لوگوں کے درمیان یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ بہت زیادہ بال دھونے سے انسان جلدی

ہوجاتا ہے- حقیقت: زیادہ شیمپو کرنے سے آپ کے بالوں کے گرنے پر نہ تو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور نہ ہی مثبت- بعض اوقات صرف اس وجہ سے بھی خراب بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان کی جگہ نئے اور موٹے بال آنے لگتے ہیں-غلط فہمی: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بال کٹوانے سے یا گنجا ہونے سے دوبارہ پہلے سے زیادہ تیزی سے اور موٹے آتے ہیں- اور ایسا وہ گرتے بالوں کو روکنے کے حوالے سے ایک تدبیر کے طور پر سوچتے ہیں- حقیقت: اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے کیونکہ بال اپنے بنیادی حصے سے ویسے ہی موٹے ہوتے ہیں- اس لیے بال کٹوانے کے بعد آنے والے نئے بال آپ کو صرف چند دن کے لیے موٹے لگتے ہیں- اور اس سے گرتے بالوں کی روک تھام پر کوئی اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے-غلط فہمی: ایک غلط فہمی لوگوں میں یہ بھی عام پائی جاتی ہے کہ روزانہ 40 سے 100 بالوں کا گرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں- حقیقت: روزانہ اتنی تعداد میں بالوں کے گرنے کا کوئی سنہری اصول موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس بات میں کوئی حقیقت- اس کے علاوہ کوئی دوائی بھی ایسی نہیں ہے جو گرنے والے بالوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی رونما کرسکے-غلط فہمی: اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بالوں کو Blow drying کرنا بھی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ بھی بالوں کے گرنے کی وجہ بن سکتا ہے- حقیقت: یہ بات کسی حد تک صحیح ہے کہ ہئیر ڈرائیر کا آپشن Blow drying استعمال کرنے سے آپ کے بال تباہ ہوسکتے ہیں اور گر بھی سکتے ہیں- لیکن اس صورت میں گرنے والے بال دوبارہ واپس اگ آتے ہیں-غلط فہمی: ایک غلط بات جو لوگوں میں عام پائی جاتی ہے وہ یہ بھی ہے کہ اگر بالوں کو رنگا جائے تو وہ پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے گرنے لگتے ہیں- حقیقت: بالوں کو رنگ کرنا یا بلیچ کرنا بالوں کو سخت ضرور کرتا ہے لیکن ان کے گرنے کا سبب نہیں بنتا- اگر کیمیکل بہت زیادہ سخت ہوگا تو بال آپ کی چوٹی سے نکل جائے گا لیکن دوبارہ واپس بھی آجائے گا- غلط فہمی: اکثر لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جب عمر زیادہ بڑھے گی تو بال گرنا خود ہی رک جائیں گے- حقیقت: ایک بات یاد رکھیں کہ جب ایک بار بال گرنا شروع ہوجائیں تو یہ عمر کے کسی بھی حصے میں نہیں رکتے- صرف ہر انسان کے بالوں کے گرنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے-

جادو کی حقیقت اورجنات کی حدود!

جادو کی حقیقت اورجنات کی حدود!
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:05
آج کل فلموں ٗ ڈراموں میں جادو اور جنات کو ایک مخصوص انداز میں پیش کیا جاتاہے۔ فلموں ٗڈراموں اور کہانیوں کا ہی کمال ہے کہ ہم میں سے اکثر اس بات کے حامی ہوں گے کہ جنات انسانوں میں حلول کر کے ان سے عجیب و غریب حرکات کرواتے ہیں ۔ حدیث میں بھی ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہےلیکن حلول کرنے کا جو تصور ان فلموں میں عکس بند کر کے دکھایا جاتا ہے وہ مبالغہ اور جھوٹ ہے۔جادو کی تعریف: اگر اللہ تعالیٰ کے طرف سے ہماری سوچ اور نظریات میں محسوس

غیر محسوس طریقے سے کوئی تبدیلی ہو تو اسے ہدایت کہیں گے لیکن اگر اس کے برعکس کسی بھی سطح پر کفر کے حق میں محسوس یا غیر محسوس طریقے سے ہمارے نظریات اور بالآخر ہمارے افعال کی تبدیلی یا تبدیلی کی کوشش جادو کہلائے گی۔جادو کی اقسام: جادو اپنی قسم میں ایک ہی ہےکی ہر قسم میں نتائج غیر محسوس طریقوں سے ہی رونما ہوتے ہیں لیکن پہچان کے لئے اسے دو سادہ مگر بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتاہے۔ اس کی ایک قسم وہ ہے جس میں منتر پڑھے جاتے ہیں اور منتر پڑھنے کے کام میں انسان بھی جنات کیمدد کے لئے اپنی نیت اور ایمان کا حصہ ڈالتے ہیں۔ جو قسم باقاعدہ منتر کے ساتھ ہوتی ہے اسے بامنتر جادو کہتے ہیں جبکہ دوسری قسم کا جادو جنات ہم پر بے منتر کرتے ہیں‘ اسے بے منتر جادو کہتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اشرف المخلوق ہوتے ہوئے بھی جادو کاخوف ہمیں کپکپا دیتاہے۔جادو کا اصل مقصد کیاہوتاہے: اللہ یا بندوں میں سے کسی کے حقوق کوغصب کرنا ہی جادو کرنے یا کروانے والے کا مقصد ہوتاہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے واقعے پر غور کرنے سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہےکہ جادو کاہو جانا اور جادو کے برے نتائج ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو تو ہوا لیکن نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے حقوق اللہ اور نہ ہی حقوق العباد میں کمی واقع ہوئی۔ جادو کی قسم کوئی بھی ہو شیطان کا اصل ہدف ہمیں حقوق اللہ اورحقوق العباد سے غافل کرنا ہے۔ ملاحظہ ہوں سورہ الاعراف کی آیات 10تا18 ۔ ’’اور ہم ہی نے تم کو ابتداء میں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہکرو تو سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا‘‘ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے تجھے حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیاہے اور اسے مٹی سے بنایاہے۔ فرمایا تو بہشت سے اتر جا۔تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرےلہٰذا تو یہاں سے نکل جا۔ اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جسدن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا ٹھیک ہے ٗ تجھے مہلت دی جاتی ہے ۔ پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (انسانوں) کو گمراہ کرنے کے لئے بیٹھوں گا پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے ٗ دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کوشکرگزار نہیں پائے گا۔ اللہ نے فرمایا یہاں سے نکل جا مردود ۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیرویکریں گے‘ میں (ان کو اورتم سب کو) جہنم میں بھر دوں گا۔ جواہم بات ان آیات مبارکہ سے واضح ہو رہی کہ شیطان انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان سیدھے رستے پر بیٹھتا ہے۔ اسلام کی عمومی تعلیمات کے تحت ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ دوقسم کے حقوق پر مشتمل ہے جنہیں ہم حقوق اللہ اورحقوق العباد کے نام سے جانتے ہیں۔کیا انسان جنات کے آگے بے بس ہے؟جنات اور جادو کی حدود کیا ہیں؟شیطان یا جنات محض دل میں خیال ڈالنے اور دھوکا دینے کی حد تک ہی زندگی میں دخل دے سکتاہے۔ خیال میں‘ سوتے میں یا جاگتے میں‘ خاص انداز میں نظر آنا ٗ اس کی آواز سنائی دینا یعنی برائی کی طرف مائل ہونا وغیرہ ‘دخل دینے ہی کی اقسام ہیں ۔ شیطان کا زور اس حد تک ہی ہے۔جنات میں انسانوں سے کہیں زیادہ طاقت تو ہے مگر انسان کو اللہ کا ساتھ اور علم کی طاقت دے کر جنات کو کھلا نہیں چھوڑدیاگیا کہ وہ جو چاہیں جس طرح چاہیں کرتے پھریں‘ اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہوتا۔ جنات لپٹ اور چمٹ کر ہم سب انسانوں کو کب کا حواس باختہ اور بیمار بنا چکے ہوتے اور ہم انسان صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے ہوتے۔اس طرح اگر جادو میں اس قدر طاقت ہے تو فرعون کے درباری جادو گر اسے اپنے جنات کی مدد سے گرا کر اس کے مال و متاع پر خود ہی قبضہ کر چکے ہوتے اوراس طرح انعام و اکرام کے لئے درخواست کرتے اور بھیک نہ مانگتے پھرتے ۔ سورہ الاعراف کی آیات113اور 114 کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ’’اور جادو گر فرعون کے پاس آ پہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں انعام عطا کیا جائے۔ فرعون نے کہا کہ ہاں ضرور اور میں تمہیں اپنے خاص بندوں میں شامل کر لوں گا‘‘۔آخر فرعون کے دور کے جادوگروں کو یا ان کے قابو میں آئے جنات کو کسچیز نے فرعون کے مال و دولت پر قبضہ کرنے سے روک رکھا تھا؟ جادو گر فرعون سے انعام کی درخواست کیوں کررہے تھے؟ اگر جادو اور جنات زور آور ہیں تو اسرائیل ٗ بھارت ٗ افریقہ اور بنگال کے ماہر جادو گر متحد ہو کر اپنے جادو کے ذریعے دنیا کے مال و دولت پر قبضہ کیوں نہیں کر لیتے۔ جنات کے ذریعے یہ سب کچھ کر لینے میں آخر کس نے روک رکھاہے ؟حقیقت کیاہے؟ جو لوگ سختی سےحقوق اللہ اورحقوق العباد کا خیال رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے آگے شیطان کو بے بس کر دیتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے میں سختی سے کاربند رہتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جنات کو حقوق اللہ اور حقوق العباد پر سختی سے عمل کر کے ان کی حد میں رکھا جا سکتاہے یا عرف عام میں انہیں قابو کیا جاسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ جناتانسانوں سے لپٹ کر انہیں دیوانہ بنا سکتے ہیں ٗ قابل تسلیم نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید سے صرف یہی ثابت ہوتاہے کہ شیطان صرف خیال ڈالنے یا شک ڈالنے کی حد تک ہی انسان کے ذہن میں مداخلت کرسکتاہے۔اس سے زیادہ نہیں ٗ اس کی دلیل کے طورپر شیطان کے اپنے الفاظ ہیںجو قرآن مجید کی سورۃ ابراہیم کی آیات نمبر22, 21 میں اللہ تعالیٰ نے درج فرمائے ہیں کہ ’’میرا تمہارے اوپر کوئی زور تو نہیں تھا‘ میںنے تو صرف تمہیں آواز دی تھی‘‘ خودا للہ تعالیٰ نے سورہ الناس آیت 5 میں شیطان کے اس محدودا ختیار کے متعلق فرمایا کہ ’’ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتاہے‘‘ جب کہ سورۃ الاعرافآیت200میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اگر شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی اکساہٹ محسوس ہو تو اللہ کی پناہ مانگو‘‘ ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ کہو میرے پروردگار میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں‘‘ اوردوسری طرف سورۃ الاعراف آیت201میں فرماتے ہیں ’’جو لوگ پرہیز گار ہیں ان کا حال تو یہ ہوتاہے کہ جب انہیں کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چونک جاتے ہیں اور پھر(انہیں) صحیح راستہ نظر آنے لگتاہے۔‘‘اگریہ اس طرح تسلیم کرلیا جائےکہ شیطان یا جنات انسانوں کو ذہنی اور جسمانی طور سے اس طرح کنٹرول کر سکتے ہیں جیسے ہم ریموٹ کے ذریعے آلات کنٹرولکرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان انسانوں کو جہنم میں کیوں ڈالیں گے جب کہ قصورتو جنات کا تھا؟اللہ نے ہمیں غوروفکر کرنے کا حکم دیاہے‘ ہمیں بے سروپاباتوں پر اعتقاد نہیں رکھنا چاہئے‘ ہم اللہ کی مخلوق ہیں اور اس نے ہمیں اشرف بنایا ہےوہی رازق مالک کارساز اور نگہبان ہے۔ ہمیں بس اپنے رب پر کامل یقین رکھنا چاہئے کہ وہ ہمیں بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔ ہمیں معاشرے میں پھیلے ہوئے جعلی اور شعبدہ باز عاملین سے محتاط رہنا چاہئے جو ہمارے مال کے ساتھ ایمان پر بھی ڈاکا ڈال رہے ہیں۔

روزے کے فوائد

روزے کے فوائد
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:07
رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے رب کا خاص انعام ہے ا س مبارک مہینے میں لو گ عبادات کر کے اپنے رب کو منانے کی کوشش کرتے ہیں دن کو روزہ رکھ کر رات کو قیام کرتے ہیں ،روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے اندر ریاکاری کا تصور ہی نہیں ہوسکتا باقی عبادات نظر آنے والی ہیں کہ دوسرے لوگ عبادت کرتا ہوا دیکھ رہے ہوتے ہیں لکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ رب کے علاوہ کسی کو اس کا علم نہیں ہوتا ۔اس مبارک مہینہ میں جب لوگ روزے رکھتے ہیں تو بڑے ہی

و طہارت اور نیکی و روحانیت کا ماحول رہتا ہے ، لوگ نمازی بن جاتے ہیں ، گھر گھر میں قرآن کی تلاوت ہونے لگتی ہے ،فلم دیکھنے والے فلم دیکھنا ، اور شرابی شراب پینا بند کردیتے ہیں ، زنا کار زنا کاری اور جھوٹ بولنے والے کذب بیانی ترک کر دیتے ہیں ، ہر آدمی جھگڑے لڑائی اور گالی گلوچ سے بچنے لگتا ہے ، لوگ بکثرت صدقہ و خیرات کرنے لگتے ہیں ، تراویح و تہجد کا اہتمام ہونے لگتا ہے ، ایک دوسرے کے یہاں افطار بھیجنے ، اجتماعی افطار کرنے کا اہتمام ہوتا ہے جس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے ۔غرضیکہ روزے میں تقوی و پرہیزگاری کے مظاہر بڑے واضح طور پر نظر آتے ہیں ، اور ہر طرف ایمان و عمل کی بہار نظر آتی ہے ، برائیوں اور گناہوں کا دائرہ بہت تنگ ہوجاتا ہے ، اور بہت ہی بدبخت اور بد قسمت قسم کے لوگ ہی اس ماہ میں گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ خوف الہی اور تقوی و پرہیزگاری کے پیدا کرنے میں روزے کی بڑی تاثیر ہے ، جس کی بنا پر اﷲ نے رمضان کے روزے فرض کئے ہیں۔گناہ معاف ہوجاتے ہیں روزوں کاایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:جس نے رمضان المبارک کے روزے ایمان کے ساتھ اور خالص اﷲ سے اجر وثواب حاصل کرنے کے لئے رکھے اس کے پہلے کے تمام (صغیرہ)گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔(صحیح البخاری: 3/33،کتاب الصوم )قارئین کرام !یہ بہت ہی بڑا فائدہ ہے کہ ان روزوں کی وجہ سے سال بھر کے صغیرہ گناہوں کی جن میں کتنوں کے بارے میں ہمیں کچھ غم نہیں رہتا یا جنہیں ہم بھول گئے اور توبہ نہیں کی ان کی مغفرت و بخشش ہوتی ہے ، اور کبیرہ گناہوں سے سچے دل سے توبہ کر لیں تو اس طرح گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتے ہیں ۔جنت کے آٹھ دروازے ۔۔۔باب الریان اﷲ تعالی نے روزے داروں کی تکریم اور اعزاز کے لئے جنت میں ان کے داخلہ کے لئے ایک خصوصی دروازہ بنایا ہے ، جس کا نام ہے : باب الریان ۔جس سے صرف روزے دار ہی داخل ہو سکتے ہیں ۔حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:جنت میں آٹھ دروازے ہیں ، ان میں سے ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔(صحیح البخاری: 4/145،کتاب بد الخلق ،صحیح مسلم: 3/158،کتاب الصیام )بو اور خوشبو روزے کی حالت میں معدے کے خالی ہونے کی وجہ سے اس کے منہ سے جو بو نکلتی ہے وہ اﷲ تعالی کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندہے ، اور روزہ ڈھال ہے جو روزہ دار کو گناہوں اور جہنم کے عذاب سے بچاتا ہے ۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:ابن آدام کے ہر عمل کا ثواب دس گناہ سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے ،اس کے بارے میں اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اورمیں اس کا خصوصی ثواب دوں گا، کیونکہ بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے ،اور روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں : ایک خوشی افطار کے وقت دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ،اور روزے دار کی منہ کی بو (جو خلو معدہ کی وجہ سے خارج ہوتی ہے )اﷲ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ اور پاکیزہ ہے۔(صحیح مسلم: 3/158، کتاب الصیام باب فضل الصیام)رمضان المبارک کے روزوں کی وجہ سے انسان کو کئی سبق ملتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ دار کو غریبوں، مسکینوں کے دکھ درد کا احساس ہوتا ہے ، کیونکہ جب روزہ دار کو بھوک و پیاس لگتی ہے اور اس سے اسے تکلیف ہوتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اسی طرح غریبوں کو جب کھانا نہیں ملتا اور ان کے بال بچے بھوکے رہتے ہیں تو انہیں بھی تکلیف ہوتی ہوگی ، جس سے اس کے اندر غریبوں سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور ان کے ساتھ تعاون اور صدقہ و خیرات کے بیشمار دینی و دنیوی فوائد ہیں۔روزے کی وجہ سے کھانا پانی اوراﷲ کے عطا کردہ مال و دولت اور دوسرے انعامات کا احساس ہوتا ہے ، اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری چیزیں جو ہمیں وافر مقدار میں میسر ہیں وہ اﷲ کے کس بڑے فضل و کرم کا نتیجہ ہے ۔اور پھر اس کے اندر امتنان و شکر کے جذبہ پیدا ہوجاتے ہیں ، اور وہ اﷲ کی ناشکری اور اس کی نعمتوں کی ناقدری کو چھوڑ کر اس کا شکر گزار بندہ ہو جاتا ہے

حقوق مرداں

حقوق مرداں
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:19
صرف عورت کے حقوق کے بارے میں لکھنا تو نامناسب ہو گا اس لیے آج مرد حضرات کے لیے بھی چند الفاظ۔۔۔ آپ نے لوگوں کو یہ زنانہ رونا تو بہت روتے دیکھا ہوگا کہ مرد ظالم ہے ، مرد وحشی ہے، مرد درندہ ہے اور عورت کا کوئی احساس نہیں کرتا ہے لیکن کیا آپ کو مرد کی اس پنا ہ کے بارے میں بھی کسی نے بتایاہے کہ دس بہنوں کے ہوتے ہوئے کوئی بھی بہن خود کو اتنی محفوظ تصور نہیں کرتی جتنی کہ دس بہنیں ایک بھائی کی موجودگی میں خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں…کیا

کو مرد کے اس تحفظ کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا… کیا آپ کو مرد کی اس قربانی کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے کہ دن ہو یا رات ، سردی ہو یا گرمی ، بارش ہو یا طوفان ، جنگل ہو یا صحرا ، خشکی ہو یا تری مرد نے اپنوں کے لیے وہاں کام کیا اورروٹی پانی کا بندوبست کیا …کیا آپ کو مرد کی اس ترجیح کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے کہ جب اسے آخری وقت کی بیماری نے آ لیا اور اسے اپنی صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ اس نے اپنوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر نہ ہی خرچ ہو بلکہ اپنوں کے لیے ہی بچا رہے …کیا آپ کو مرد کی اس قربانی کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے کہ وہ بازار عید کی خریداری کرنے کے لیے گیا اور اس نے اپنوں کے لیے ساری خریداری کی مگر جب اپنی باری آئی تو یہ سوچ کر خریداری نہیں کی کہ میں اپنے لیے کچھ بھی خریدنے والی رقم سے اپنوں کے لیے ہی کچھ خرید لیتاہوں اور اپنے لیے پچھلے سال کے جوتوں اور کپڑوں سے کام چلالوں گا …کیا آپ کو مرد کی اس بلند ہمت کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے کہ جب اسے بتایا گیا کہ مرد کبھی روتا نہیں ہے تو اس نے اپنی ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں عورت کے آنسو تو صاف کیے لیکن خود کبھی رویا نہیں…کیا آپ کو مرد کے اس تحفظ کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کو بھی اس میں ضرور یاد رکھا…آپ کو یہ تو بتایا جاتاہے کہ بڑے بڑے لوگوں کو جننے والی عورتیں ہیں لیکن آپ کو یہ نہیں بتایا جاتاہے یہ ممکن کب ہوتا ہے ؟ کیوں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی …مرد دھوپ میں سایہ ، مشکلات میں پاسبان ، ضرورت میں مدد دینے والا، اپنوں کے لیے سب سے لڑنے والا، اپنوں کے آنسو پونجنے والا ، غمخوار اور دکھ درد بانٹنے والا ہے…مرد کبھی مکر کے ٹسوے بہاتے نہیں ، مرد نے کبھی اپنے حصے کے کام سے ہاتھ نہیں کھینچتا، مرد نے اپنوں کو چھت دی اگر چہ اس کے لیے اس کو پہاڑوں کو کیوں نہ تراشنا پڑا اور مرد اپنوں کے لیے ہمیشہ حالات کے تپھیڑوں سے لڑتاآرہاہے اور کبھی اس کا رونا روتا نہیں ہے ۔بڑی عجیب بات ہوگی کہ اب بھی اگر کوئی پوچھے کہ مرد کون ہے… مردکون ہے ؟..

وائٹننگ انجیکشن٬ گوری رنگت اور چند غلط فہمیاں٬ ڈاکٹر عبداﷲ یحییٰ

وائٹننگ انجیکشن٬ گوری رنگت اور چند غلط فہمیاں٬ ڈاکٹر عبداﷲ یحییٰ
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:31
آج کل نوجوانوں میں گوری رنگت کے حصول کا شوق جنون کی حد تک پایا جاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ گوری رنگت حاصل کرنے کے لیے اکثر افراد مختلف ٹوٹکے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں- تاہم اس سلسلے میں وائٹننگ انجیکشن Glutathione Injection کا طریقہ کار بھی اختیار کیا جارہا ہے جو انتہائی تیزی سے مقبول بھی ہورہا ہے- لیکن ان انجیکشن کے حوالے سے لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں جس کی وجہ اس حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی لاعلمی ہے- ان انجیکشن کی حقیقت کیا ہے؟ یہ انجیکشن کب لگوائے جاسکتے

اور کب نہیں؟ ان کا طریقہ کار کیا ہے؟ اس کے بعد کیا احتیاطی تدابیر اپنانی چاہیے؟ ان تمام اہم سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہماری ویب کی ٹیم نے معروف ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر عبداﷲ یحییٰ سے اسی حوالے سے خصوصی ملاقات کی-ڈاکٹر عبداﷲ یحییٰ کے مطابق “ آج کل ہر کوئی رنگ گورا کروانا چاہتا ہے اور اس لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کلینک کا رجوع کر رہی ہے- اس سلسلے میں رنگ گورا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے وائٹننگ انجیکشن جنہیں Glutathione Injection بھی کہا جاتا ہے ان کا استعمال بڑھ رہا ہے“-“ یہ انجیکشن دراصل اینٹی اوکسیڈنٹ ہیں یعنی یہ ہمارے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کر کے اسے صاف کرتے ہیں“- “ ابتدا میں یہ انجیکشن کینسر کے مریضوں کو کیمو تھراپی سے قبل لگائے جاتے تھے- اسی دوران ڈاکٹروں نے دیکھا کہ جس مریض کو یہ انجیکشن لگایا جاتا ہے اس کی رنگت میں فرق پیدا ہونے لگتا ہے اور وہ سانولے سے گورا ہوجاتا ہے“- “ اس کے بعد ہی خصوصی طور پر اس انجیکشن کا استعمال رنگ گورا کرنے کے حوالے سے کیا جانے لگا“-“ کینسر کے علاوہ کئی اور بیماریوں میں بھی کیے جاتے ہیں- جیسے کہ جسم میں کہیں بھی سوزش ہو چاہے ہڈیوں کی ہو یا پھر جوڑوں کی ان کا علاج بھی ان انجیکشن کے ذریعے کیا جاتا ہے- موتیے یا کالے پانی کا مسئلہ بھی اس انجیکشن کے ذریعے حل کیا جاتا ہے- اس کے علاوہ سانس کی بیماریوں کا علاج بھی اس انجیکشن کے ذریعے کیا جارہا ہے“-ڈاکٹر عبداﷲ یحییٰ کا مزید کہنا تھا کہ “ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی خواتین کو یہ انجیکشن نہیں لگایا جاتا- اس کے علاوہ ایسی لڑکیوں کو بھی یہ انجیکشن نہیں لگائے جاتے جن میں ابھی ماہواری کے عمل کا آغاز نہ ہوا ہو“- “ مردوں میں یہ انجیکشن 15 سال سے کم عمر لڑکوں کو نہیں لگائے جاتے اور نہ ہی بزرگ افراد کو لگائے جاتے ہیں کیونکہ وہ مختلف دوائیں استعمال کر رہے ہوتے ہیں“-“ رنگ گورا کرنے کے لیے اس انجیکشن کا کورس شروع کروانے سے قبل مریض کے جگر اور گردوں کا مخصوص ٹیسٹ کروایا جاتا ہے- اور وہ ٹیسٹ نارمل ہونے کی صورت میں ہی یہ انجیکشن لگوائے جاسکتے ہیں“-“ ان انجیکشن کی تعداد کا تعین مریض کی عمر اور اس کے وزن کے اعتبار سے کیا جاتا ہے“-ڈاکٹر عبداﷲ یحییٰ کورس کی مدت اور طریقہ کار کے حوالے سے کہتے ہیں کہ “ پہلے مہینے میں مریض کو 10 انجیکشن لگائے جاتے ہیں اور ہر انجیکشن تیسرے دن لگتا ہے- مکمل علاج میں 16 سے 20 انجیکشن لگائے جاتے ہیں- اور اس کے بعد بھی دیکھ دیکھ بھال ضروری ہوتی ہے“-“ مریض ان انجیکشن کو لگوانے کے بعد 48 سے 72 گھنٹے تک دھوپ میں نہیں جاسکتا اور نہ ہی چولہے کے پاس کھڑا ہوسکتا ہے- اس کے بعد جب بھی وہ دھوپ میں جائے گا تو سن بلاک لگا کر جائے گا“-“ اس انجیکشن کے بعد استعمال ہونے والے فیس واش مختلف ہوتے ہیں اور انہیں استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے- اس کے علاوہ مریض کو وائٹنگ کریم اور چند دواؤں کا اسپتال بھی لازمی کرنا ہوتا ہے“-انجیکشن سے متعلق غلط فہمیوں کے بارے میں ڈاکٹر عبداﷲ یحییٰ کا کہنا تھا کہ “ لوگوں میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ انجیکشن جلد کے کینسر کا سبب بنتے ہیں لیکن یہ بات غلط ہے- البتہ یہ انجیکشن جگر اور گردوں پر اثر انداز ضرور ہوتے ہیں اور اسی لیے ان دونوں اعضاﺀ کے پہلے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں کہ آیا یہ درست انداز میں کام کر رہے ہیں یا نہیں“- “ یاد رکھیں کہ ایسا نہیں ہے کہ ان انجیکشن کے لگوانے کے بعد آپ کی رنگت پوری طرح گوری ہوجائے گی اور آپ فنکاروں کی طرح دکھائی دینے لگیں گے- یہ انجیکشن صرف آپ کی رنگت کے 2 سے 3 شیڈ کم کردیتے ہیں“-