ترکی پوری اسلامی دنیا پر بازی لے گیا ،بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سب سے دبنگ قدم اٹھا لیا

ترکی پوری اسلامی دنیا پر بازی لے گیا ،بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سب سے دبنگ قدم اٹھا لیا
مئ 15, 2018 0 تبصرے 250 مناظر
انقرہ( آن لائن )بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح پرترکی نے اپنے امریکہ اور اسرائیل میں تعینات سفیروں کو احتجاجاً واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ترک حکومت کے ترجمان نے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح ہونے کے حوالے سے گزشتہ روز (پیر)کو اپنے امریکہ اور اسرائیل میں تعینات سفیروں کو بلانے کا اعلان کیا۔ترجمان نے امریکی سفارتخانے کے افتتاح کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ترکی اپنے

سفیروں کو امریکہ اور اسرائیل میں سے احتجاجاً واپس بلا لے گا۔ترکی کی حکومت نے سفیروں کو واپس بلانے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں ہلاک ہونے والوں کیلیے ترکی میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔خیال رہے کہ دوسری جانب امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے موقع پر غزہ کے حالات انتہائی خراب ہوگئے، اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے 58 فلسطینیوں کو شہید کردیا جبکہ 2700 سے زائد زخمی ہیں۔نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں 74 بچے، 23 خواتین اور 8 صحافی شامل ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ اور مغربی کنارے کی سرحد پر مزید فوجی تعینات کردئیے ہیں، عرب میڈیا کے مطابق یروشلم میں امریکی سفارتخانہ باقاعدہ طور پر آج کام شروع کردے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے بیت المقدس میں اپنے سفارتخانے کا سرکاری طور پر افتتاح کیا۔افتتاح کی تقریب میں واشنگٹن سے آنے والے ایک امریکی وفد اور اسرائیلی رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔

لنڈا بازار کی حقیقت

لنڈا بازار کی حقیقت
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 18:35
کیا آپ جانتے ہیں کہ استعمال شدہ کپڑوں’ جوتوں اور پرانی دوسری اشیاء کے بازار کو “لنڈا بازار” کیوں کہا جاتا ہے ؟ اس کے متعلق مشہور ہے کہ ایک برطانوی خاتون کا نام Linda لینڈا تھا . وہ بہت رحم دل تھی اسے غریبوں سے خاص ہمدردی تھی اس نے غریبوں کے لیے کچھ کرنے کا سوچا.چونکہ اس کے پاس اپنے وسائل کم تھے اس لئے اس نے اپنے دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی. اس کے دوستوں نے اسے کچھ پرانے جوتے کپڑے وغیرہ دیئے. جو اس نے غریبوں کے لیے ایک اسٹال پہ سجائے اور غریب

وہاں سے وہ کپڑے مفت لینے لگے. دوسرے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب ہوئی اور ان لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑوں اور جوتے وغیرہ لینڈا کو دینے شروع کر دئیے. اور اس کا یہ اسٹال کافی مشہور ہو گیا .جو بعد میں ایک مارکیٹ کی شکل اختیار کر گیا.آخر اس جگہ کو لینڈا مارکیٹ کہا جانے لگا . جو درحقیقت غریبوں کی مارکیٹ تھی. انگریزوں کی برصغیر آمد کے ساتھ ہی انگریزوں کی پرانی اشیاء جو بے کار ہو جاتی تھیں. سستے داموں میں ہند و پاک میں بک جاتی تھیں. گویا انگریز جاتے ہوئے وراثت میں ہمیں لینڈا مارکیٹ دے گئے جسے ہم لنڈا بازار کہتے ہیں. جو ہمارے ہاں مقامی زبان میں اس کا بگڑا ہوا نام ہے..!! اس کہانی کے اندر بھی ہمارے لئے ایکسبق موجود ہے. لینڈا ایک غیر مسلم ہو کر بھی خیر خواہی کے جذبے سے سرشار تھی. اور آج ہم اکثر مسلمان جو اسلام کے نام لیوا ہیں. اپنے غریب بہن بھائیوں کا خیال تک نہیں رکھتے .حالانکہ ہمارے دین اسلام کے نام مطلب ہی خیر خواہی ہے. اس لئے آپ تمام بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ اپنے اردگرد خاندان ‘گلی اور محلے کے لوگوں کی خبر گیری رکھا کریں. اور کوئی غریب ہے اور حقدار ہے تو اس کی ضرور مدد کیا کریں ان شاءاللہ یہ مدد کرنا آپ کا رائیگاں نہیں جائیگا. کیونکہ ایک کے بدلے سات سو گنا سے بھی زیادہ کا اجر ہے .

پورے سال کا رزق چند لمحوں میں پانے کی گھڑیاں آگئیں

پورے سال کا رزق چند لمحوں میں پانے کی گھڑیاں آگئیں
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 18:32
رمضان کی چاند رات(جس رات رمضان کا چاند نظر آجائے) کو مغرب کی نماز کے بعد 21 مرتبہ سورۂ قدر پڑھیں ان شاء اللہ پورے سال کا رزق آپ کے پیچھے اس طرح سے بھاگے گا جیسے کہ پانی گہرائی کی طرف ۔ اللہ پاک نے رزق کے چار دروازے رکھے ہیں . پہلے تین تو صرف مسلمانوں کے لیے ہیں اور چوتھا ساری دنیا کے لیے ہے یعنی مسلم، غیر مسلم ، بت پرست ، دہریے وغیرہ رزق حاصل کرنے کا سب سے پہلا دروازہ نماز ہے .جو شخص بھی نماز کا اہتمام کرتا ہے اللہ پاک اس کو

رزق عطا فرماتے ہیں . اہتمام یہ ہے کہ نماز کے وقت سے پہلےیا وقت ہوتے ہی اس کی تیاری میں لگ جانا اور وقت پر نماز ادا کرنا رزق حاصل کرنے کا دوسرا دروازہ استغفار ہے . جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ پاک اسے غیب سے رزق عطا فرماتے ہیں کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہجو کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ پاک اسے ہر غم سے نجات عطا فرماتے ہیں ، ہر پریشانی میں راستہ دیتے ہیں اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو . علماء کرام فرماتے ہیں کہ کثرت کا مطلب ہے کہ کم از کم تین سو مرتبہ . تو جو روزانہ تین سو سے زیادہ مرتبہ استغفار کرے گا ان شاءاللہ اسے بہترین رزق ملے گا رزق حاصل کرنے کا تیسرا دروازہ تقویٰ ہے . تقویٰ کے معنی گناہوں سے بچنا ہے .یاد رہے کہ مسلمان کے ذمہ ہر نیکی کرنا نہیں ہے لیکن ہر گناہ سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے . جو ہر گناہ سے بچتا ہے وہ اللہ کے ہاں متقی کہلاتا ہے . اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر کام کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ اس کام سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع تو نہیں فرمایا . اگر منع فرمایا ہے تو ہم رک جائیں . جو اللہ کا ہوجاتا ہے تو پھر اللہ اپنے بندوں کو اسکی خدمت پر مامور فرمادیتے ہیں رزق حاصل کرنے کا چوتھا دروازہ ذریعہ معاش اختیار کرنا ہے . اور یہ دروازہ سب کے لیے ہے ، کوئی کافر ہو یا مسلم ، بتوں کو پوجنے والا ہو یا آتش پرست . اگر وہ معاش کا کوئی ذریعہ اختیار کرے گا تو اللہ اسے رزق عطا فرمائیں گے . مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے پہلے تین دروازے بھلا دیے اور آخری دروازے کو ہی لازمی سمجھ لیا . جبکہ ان تین دروازوں سے رزق حاصل کرنا بہت آسان ہےیہاں کوئی میری بات سے یہ مطلب نہ لے کہ ملازمت ، کاروبار یا معاش کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ جو ہم نے اختیار کیا ہوا ہے اسے چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کام نہ کریں . کام ضرور کریں لیکن اگر ہم چوتھے دروازے کے ساتھ ساتھ پہلے تین دروازوں کو بھی استعمال کریں گے تو ہم تھوڑی محنت میں ہی زیادہ رزق ملے گا . ہماری مشقت کم ہوجائے گی . اور ہماری کمائی غیر ضروری جگہوں پر نہیں لگے گی اور ہمارا مال ضائع نہیں ہوگا .

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، نواز شریف کے ممبئی حملوں بارے متنازعہ بیان پربھارت بھی کھل کر سامنے آگیا، بھارتی وزیر دفاع نے دوٹوک اعلان کر دیا

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، نواز شریف کے ممبئی حملوں بارے متنازعہ بیان پربھارت بھی کھل کر سامنے آگیا، بھارتی وزیر دفاع نے دوٹوک اعلان کر دیا
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:52
واز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان سے بھارتی موقف کی تائید ہوتی ہے کہ ممبئی حملہ پاکستان سے کیا گیا تھا، ہمیں یقین ہے کہ اس حملے کے ذمے دار پاکستان میں ہیں اور اس معاملے پر ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا ہے، بھارتی خاتون وزیر دفاع کا پریس کانفرنس سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی خاتون وزیر دفاع نرملا ستھارامن نےایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ انکشاف ہے، نواز شریف کے اس بیان سے بھارت مؤقف کی

تائید ہوتی ہے کہ ممبئی حملہ پاکستان سے کیا گیا تھا، ہمیں یقین ہے کہ اس حملے کے ذمے دار پاکستان میں ہیں اور اس معاملے پر ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔بھارتی وزیر دفاع نے جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی تجویز کو ناقابل عمل آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا معاملہ بہت اہم ہے اور اسے حساس طریقے سے نمٹنا ہوگا‘۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک انگریزی اخبارکو انٹرویو میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف نےکہا تھا کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردینا قابل قبول نہیں، عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے۔ نواز شریف نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کر دیں۔اس بیان پر ملک کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کا اغاز ہوگیا ہے اور سابق وزیرِ اعظم کے اس بیان پر تنقید کی جارہی ہے جب کہ بھارت نے نوازشریف کے بیان کو جواز بناکر پاکستان کے خلاف مزید زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان سے بھارتی موقف کی تائید ہوتی ہے کہ ممبئی حملہ پاکستان سے کیا گیا تھا، ہمیں یقین ہے کہ اس حملے کے ذمے دار پاکستان میں ہیں اور اس معاملے پر ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا ہے، بھارتی خاتون وزیر دفاع کا پریس کانفرنس سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی خاتون وزیردفاع نرملا ستھارامن نےایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ انکشاف ہے، نواز شریف کے اس بیان سے بھارت کے اس مؤقف کی تائید ہوتی ہے کہ ممبئی حملہ پاکستان سے کیا گیا تھا، ہمیں یقین ہے کہ اس حملے کے ذمے دار پاکستان میں ہیں اور اس معاملے پر ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔بھارتی وزیر دفاع نے جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی تجویز کو ناقابل عمل آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا معاملہ بہت اہم ہے اور اسے حساس طریقے سے نمٹنا ہوگا‘۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک انگریزی اخبارکو انٹرویو میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف نےکہا تھا کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردینا قابل قبول نہیں، عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے۔ نواز شریف نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کر دیں۔اس بیان پر ملک کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کا اغاز ہوگیا ہے اور سابق وزیرِ اعظم کے اس بیان پر تنقید کی جارہی ہے جب کہ بھارت نے نوازشریف کے بیان کو جواز بناکر پاکستان کے خلاف مزید زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔

دودھ فروش

دودھ فروش
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 10:00
آج سے تقریباً 95سال قبل یعنی20ستمبر1916ء کو لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک بچہ پیدا ہوا‘ چاربہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹاتھا‘ پوراگاؤں ان پڑھ مگر اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا‘اس کے گاؤں میں کوئی سکول نہ تھالہٰذا یہ ڈیڑھ میل دور دوسرے گاؤں پڑھنے جاتا‘ راستے میں ایک برساتی نالے سے اسے گزرناپڑتا‘چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ 8میل دور دوسرے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے جاتا‘اس نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا‘مذید تعلیم حاصل کرنے لاہورآیا‘یہاں اس نے سنٹرل ماڈل سکول میں(جوکہ اس وقت کا نمبر

تھا) داخلہ لے لیا‘اس کا گاؤں شہر سے13کلومیٹر دور تھا‘ غریب ہونے کیوجہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالات کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے بلکہ ان حالات کے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کرشہر میں بیچے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھے گا چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا‘ مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا‘ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا‘ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا اور مسجد میں جا کر کپڑے بدلتا اور سکول چلا جاتا‘ کالج کے زمانہ تک وہ اسی طرح دودھ بیچتا اور اپنی تعلیم حاصل کرتا رہا‘ اس نے غربت کے باوجود کبھی دودھ میں پانی نہیں ملایا۔بچپن میں اس کے پاس سکول کے جوتے نہ تھے‘ سکول کے لئے بوٹ بہت ضروری تھے‘ جیسے تیسے کر کے اس نے کچھ پیسے جمع کر کے اپنے لیے جوتے خریدے‘ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ گاؤں میں بھی جوتے پہنتا تو وہ جلدی گھِس جاتے چنانچہ وہ گاؤں سے والد کی دیسی جوتی پہن کر آتا اور شہر میں جہاں دودھ کا برتن رکھتا وہاں اپنے بوٹ کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیتا اور اپنے سکول کے جوتے پہن کے سکول چلا جاتا۔ والد سارا دن اور بیٹا ساری رات ننگے پاؤں پھرتا‘ 1935ء میں اس نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پھر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا‘ اب وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے گاؤں سے ریڑھیمیں دودھ لاتا اور شہر میں فروخت کر دیتا ‘اس کام میں کبھی اس نے عار محسوس نہ کیا‘ فرسٹ ائیر میں اس کے پاس کوٹ نہ تھا اور کلاس میں کوٹ پہننا لازمی تھا چنانچہ اسے کلا س سے نکال کر غیر حاضری لگا دی جاتی‘ اس معاملے کا علم اساتذہ کو ہوا تو انہوں نے اس ذہین طالبعلم کی مدد کی‘ نوجوان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا‘ 1939ء میں اس نے بی اے آنر کیا‘ یہ اپنے علاقہ میں واحد گریجویٹ تھا‘یہ نوجوان اس دوران جان چکا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی کام آسانی سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا‘ کامیابیوں اور بہتریں کامیابیوں کے لیے ان تھک محنت اور تگ و دو لازمی عنصر ہے۔معاشی دباؤ کے تحت بی اے کے بعد اس نے باٹا پور کمپنی میں کلرک کی نوکری کر لی چونکہ اس کا مقصد اور گول لاء یعنی قانون پڑھنا تھا لہٰذا کچھ عرصہ بعد کلرکی چھوڑ کر قانون کی تعلیم حاصل کرنے لگا اور 1946ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا۔ 1950ء سے باقاعدہ پریکٹس شروع کر دی‘ اس پر خدمت خلق اور آگے بڑھنے کا بھوت سوار تھا‘ اس نے لوگوں کی مدد سے اپنے علاقے میں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے‘ اس جذبہ کے تحت 1965ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوا‘ پیپلزپارٹی کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعرے سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہو گیا۔ 1970ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹپر ایم این اے منتخب ہوا اور نواب مظفر قزلباش کے بھائی کو جن کے گھر یہ دودھ بیچتا کرتا تھا‘ شکست دی۔ 1971ء میں دوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں وزیر خوراک اور پسماندہ علاقہ جات بنا‘ 1972ء کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا‘ وزارت اعلیٰ کے دوران اکثر رکشے میں سفر کرتا‘ اپنے گورنر مصطفی کھر کے ساتھ نبھانہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے کر ایک مثال قائم کی‘ 1973ء میں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی‘ 1973ء میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا گیا۔ 1976ء میں وفاقی وزیر بلدیات و دیہی مقرر گیا‘ دو دفعہ سپیکر قومی اسمبلی بنا اور 4 سال تک انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کا ریکٹر رہا۔ایک مفلس و قلاش ان پڑھ کسان کا بیٹا جس نے کامیابی کا ایک لمبا اور کٹھن سفر اپنے دودھ بیچنے سے شروع کیا اور آخر کار پاکستان کا وزیراعظم بنا‘ یہ پاکستان کا منفرد وزیراعظم تھا جو ساری عمر لاہور میں لکشمی مینشن میں کرائے کیمکان میں رہا‘ جس کے دروازے پر کوئی دربان نہ تھا‘ جس کا جنازہ اسی کرائے کے گھر سے اٹھا‘ جو لوٹ کھسوٹ سے دور رہا‘ جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی پھرتی ۔ میرے قارئین اور ہم وطنو! ملک معراج خالد تاریخ کی ایک عہد ساز شخصیت تھے‘ آپ 23 جون 2003 ء کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے‘ ان کے ہم سے رخصت ہوئے آج 12 سال ہو گئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ ایسے افراد کو 800 سالوں تک بھی یاد رکھتی ہے‘ یہ کسی کے ساتھ بے ایمانی نہیں کرتے‘ جس نے اپنا مقصد حیات انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کیا‘ جنہوں نے اپنے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی‘ جنہوں نے قوم پر ایک احسان کیا‘ قومی دولت لوٹنے کے بجائے انہیں واپس لٹایا۔ آج تاریخ پھر اس موڑ پہ ہے جہاں اسے ایسے باہمت و محب وطن رہنما کی ضرورت ہے۔شاعر نے کیا خوب کہا اپنی کوتاہی سے تقدیر کو بدنام نہ کر عزم کو ہمت تو مقدر بھی بدل دیتے ہیں

پاکستان کی نامور اداکارہ بابرہ شریف کی دکان پر قبضہ کر لیا گیا قبضہ چھوڑانے کیلئے اداکارہ نے کیا کام کر دیا

پاکستان کی نامور اداکارہ بابرہ شریف کی دکان پر قبضہ کر لیا گیا قبضہ چھوڑانے کیلئے اداکارہ نے کیا کام کر دیا
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 10:08
پاکستان کی نامور اداکارہ بابرہ شریف کی دکان پر قبضہ،قبضہ چھوڑانے کیلئے اداکارہ نے عدالت سے رجوع کرلیا،بابرہ شریف کی ایم ایم عالم روڈ پر دکان ہے جو انہوں نے ایک جیولر کو کرایے پر دی ہے لیکن گزشتہسات ماہ سے دکاندار دکان کا کرایہ بھی نہیں دے رہا اور نہ دکان خالی کررہا ہے۔اداکارہ نے سول کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا ہے۔جبکہ دوسری جانب عدالت نے جیولر کو سات ماہ کا کرایہ ادا کرنے اور دکان فوری خالی کرنے کا حکم دے دیا

معروف موبائل کمپنی نے نے رمضان المبارک کے موقع پر پاکستان میں اپنے سمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا،نئی قیمتیں متعارف

معروف موبائل کمپنی نے نے رمضان المبارک کے موقع پر پاکستان میں اپنے سمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا،نئی قیمتیں متعارف
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:26
سام سنگ رمضان المبارک کی روح پرور ساعتوں کے موقع پر اپنے بہت سے معروف سمارٹ فونز بشمول گلیکسی جے سیون کور (2 جی بی ریم/16 جی بی روم)، گلیکسی جے 5 پرائم (2 جی بی ریم/16 جی بی روم) اور گلیکسی جے 7 پرو (3 جی بی ریم/32 جی بی روم) پر خصوصی قیمتیں پیش کر رہا ہے۔ اس محدود وقت کی پیشکش کے ذریعے یہ جدید خصوصیات کے حامل سمارٹ فون صارفین کے لئے انتہائی کم قیمتوں (18,999 روپے سے 28,999 روپے) پر 7 مئی سے 17 جون 2018ء تک دستیاب ہوں گے۔ سام گے۔ سام سنگ پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ یہ پیشکش تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے صارفین کو عالمی سطح پر مشہور ٹیکنالوجیز اور جدتیں فراہم کرنے کے لئے سام سنگ کے عزم کا اظہار ہے جس کے تحت آبادی کے زیادہ طبقوں کے لئے قیمتیں تیزی سے کم کی جا رہی ہیں۔ اپنی سام سنگ گلیکسی ڈیوائس کے ساتھ لطف اندوز ہونے کی خواہش رکھنے والے سماجی نیٹ ورکنگ اور آن لائن معلومات کے شائقین اب اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس دلکش موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ سمارٹ فونز انہیں ذاتی اور پروفیشنل زندگی میںاعلیٰ مقاصد اور خواہشات کی تکمیل کے قابل بناتے ہیں۔ سام سنگ سمارٹ فون کے صارفین ’’جذبہ ء رمضان‘‘ کی اس طرح کی کامیاب سیریز کے ساتھ خصوصی پیشکش کے ذریعے صارفین کو مختلف فائدوں سے بہرہ مند کرنے کے لئے پرعزم ہے اور صارفین کی جانب سے بھی اس میں پرجوش ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ سام سنگ گلیکسی ڈیوائسز نے صارفین کی توقعات کو بڑھاتے ہوئے حیران کن ایپلی کیشن، طاقتور کیمرے اور شاندار تجربات فراہم کرتے ہوئے انتہائی مقبولیت حاصل کی ہے۔ سام سنگ کی کامیاب ٹیکنالوجیز غیر معمولی کارکردگی اور صارفین کو موبائل انٹرنیٹ کے تیز ترین دور اور دوران سفر ہر وقت معلومات فراہم کرتی ہیں۔

خشک آلو بخارا کھانے کا وہ فائدہ جو آج تک آپ کو کسی نے نہیں بتایاہوگا

خشک آلو بخارا کھانے کا وہ فائدہ جو آج تک آپ کو کسی نے نہیں بتایاہوگا
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:21
خشک آلو بخارا کھانے میں بہت مزیدار لگتا ہے اور اسے کھانوں میں ذائقے کے لئے بھی استعمال کیا جاتاہے لیکن سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ آلو بخارا صحت کے لئے بہت مفید ہے لیکن اگر اسے خشک کرکے استعمال کیا جائے تو یہ کئی طرح کے کینسر بالخصوص بڑی آنت کے کینسرکے لئے بہت مفید ہے۔ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں ماہر نینسی ٹرنر کاکہنا ہے کہ خشک آلو بخارے میں یہ صلاحیت موجود ہےکہ یہ ’کولون مائیکروبائیوٹا‘(پیٹ میں موجود مفید بیکٹیریا)کی تعداد کو بڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی آنت کے کینسر کے امکانات

ہوجاتے ہیں۔نینسی کا کہنا ہے کہ ہمارے پیٹ میں کروڑوں طرح کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جن میں سے صرف400کے بارے میں مکمل معلومات موجود ہیں اور اگر خشک آلو بخارے کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو مفید بیکٹیریا کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور بڑی آنت کے کینسر کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک آلو بخارے اور تازہ آلو بخارے کی خصوصیات میں تھوڑا فرق ہے اور ان کا اپنا ایک اثرہے۔خشک آلو بخارے میں گھلنے والا اور نہ گھلنے والا دونوں طرح کا فائبر پایا جاتا ہے جو کہ تازہ آلو بخارے میں نہیں ہوتا۔خشک آلو بخارے میں چینی کی ایک قسم ’سوربی ٹول‘پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے معدے اور چھوٹی آنت میں مفید بیکٹیریا کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔اس کے استعمال سے معدے اور آنتوں میں انٹی آکسیڈینٹس کی تعداد بڑھنے لگتی ہے اور بڑی آنت میں موجود سوزش والے بیکٹیریا کم ہونے لگتے ہیں اور ہم بڑی آنت کے کینسر سے محفوظ رہتے ہیں۔

میاں بیوی کی لڑائی

میاں بیوی کی لڑائی

ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس کے بچوں ہی کے سامنے بڑی بے دردی سے مارا، جس سے بچے خوف زدہ ہوکر رونے لگ گئے. بچوں کا یہ حال دیکھ کر ماں رنجیدہ ہوگئی، جیسے ہی اس کے شوہر نے اس کے چہرے پر مارا تو روتے ہوئے کہنے لگی میں بچوں کی وجہ سے رو رہی ہوں اور پھر اچانک کہا.۔ . میں جا کر کے تیری شکایت کروں گی.. شوہر: تجھے کس نے کہہ دیا میں تجھے باہر جانے کی اجازت دوں گا.. بیوی: کیا تیرا خیال ہے تو نے دروازے اور کھڑکیوں سمیت سارے رابطے کے دروازے بند کر دیے ہیں؟..اسی لیے تو مجھے شکایت کرنے سے روک لےگا.. شوہر: انتہائی تعجب کے ساتھ پھر تم کیا کروگی؟.. بیوی: میں رابطہ کروں گی.. شوہر: تیرے سارے موبائل میرے پاس ہیں اب جو تو چاہے کر.. جیسے ہی بیوی حمام کی طرف لپکی، شوہر نے سمجھا

شاید یہ حمام کی کھڑکی سے بھاگنے کی کوشش کرے گی، اسی لیے شوہر بھاگ کر جلدی سے حمام کے باہر کھڑکی کے پاس کھڑا ہوکر انتظار کرنے لگا، جب شوہر نے دیکھا کہ یہ عورت نکلنے کی بالکل کوشش نہیں کر رہی ہے تو وہ واپس اندر آیا اور حمام کے دروازے کے پاس آ کر کھڑا اسکے نکلنے کا انتظار کرنے لگا. جب وہ حمام سے باہر نکلی تو چہرہ وضو کے پانی سے تر تھا اور لبوں پر بہت ہی پیاری سی مسکراہٹ سجا رکھی تھی. بیوی نے کہا: میں تیری صرف اس سے شکایت کروں گی جس کے نام کی تو قسم اٹھاتا ہے اس سے مجھے تیری بند کھڑکیاں تیرے مقفل دروازے اور موبائلوں کی ضبطگی سمیت کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی اور اس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے ہیں. شوہر نے اپنا رخ بدلا اور کرسی پر بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ گہری سوچ میں ڈوب گیا..۔۔

اندر جاکر بیوی نے نماز اداکی اور خوب لمبا سجدہ کیا، شوہر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا. جب وہ نماز سے فارغ ہوکر بارگاہِ ایزدی میں دعا کے لیے اپنے ہاتھوں کو اٹھانے لگی تو شوہر اس کی طرف لپکا اور ہاتھوں کو پکڑ لیااور کہا کہ سجدے میں میرے لیے کی گئی بد دعائیں کافی نہیں ہیں؟ عورت نے پرسوز لہجے میں کہا کہ تیرا خیال ہے کہ میں اس سب کے بعد بھی جو تو نے میرے ساتھ کیا ہے، اتنی جلدی اپنے ہاتھ نیچے کرلوں گی؟ شوہر: بخدا!.. یہ سب مجھ سے غصہ میں ہوا ہے میں نے قصداً نہیں کیا.. بیوی: اسی لیے میں تیرے لیے تھوڑی دعا پر اکتفا نہیں کرسکتی. بددعائیں تو میں شیطان کے لیے کر رہی تھی جس نے تجھے غصہ دلایا، میں اتنی احمق نہیں ہوں کہ اپنے شوہر اور شریکِ حیات کے لئے بددعا کروں.. یہ سن کر شوہر کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی شروع ہو گئی اور اس نے بیوی کے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے کہا:

میں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔۔۔ کبھی بھی آپ کو برائی کے ارادے سے ٹچ تک نہیں کرونگا.. یہ ہی وہ نیک بیوی ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول نے خیرخواہی کی تاکید کی تھی.. تم ان کے بن کر رہو وہ تمہاری بن کر رہیں گی. اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی نیک بیویاں عطا فرمائے.

شادی کامیاب ہونے کیلئے میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہو

شادی کامیاب ہونے کیلئے میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہو

اکثرشادی کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھی جاتی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان عمر کا کتنا فرق ہے۔ ہمارے ہاں یہ رواج بہت تیزی سے مقبولیت پاچکا ہے کہ عورت کی عمر مرد سے کم از کم پانچ سال کم ہونی چاہیے ورنہ شادی کامیاب نہیں ہوتی. لیکن حال ہی میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر عورت اور مرد کے درمیان عمر کا فرق بڑھتا جائے تو ان کے درمیان طلاق ہونے کی شرح بھی بڑھتی جاتی ہے۔

ضروری نہیں کہ مرد کی عمر زیادہ ہو اور عورت کی عمر کم تب ہی شادی کامیاب ہو گی بلکہ اگر دونوں کی عمر برابر یا انتہائی تھوڑا فرق ہو تب بھی شادی کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہی ہوتے ہیں۔ تحقیق میں 3,000شادی شدہ اور طلاق یافتہ جوڑوں کو شامل کیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ اگر عورت اور مرد کے درمیان عمر کا فرق ایک سال (مرد عورت سے ایک سال بڑا یا چھوٹاہوسکتا ہے) ہو تو ان میں طلاق ہونے کا تین فیصد چانس موجود ہے،

اگر دونوں کے درمیان عمر کا فرق پانچ سال تک ہو تو طلاق ہونے کا امکان 18فیصد ہو جاتا ہے لیکن اگر یہی فرق 10سال پر چلا جائے تو39فیصد امکان ہے کہ ایسے جوڑوں میں طلاق ہوجائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر شادی جس میں عمر کا فرق زیادہ ہو کا برا انجام ہو لیکن بہتر ہے شادی کرتے ہوئے عمر کا خیال رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ یہ فرق کم سے کم ہو۔