تیر اندازی کی مشق

تیر اندازی کی مشق

تمام وزیر میدان میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے۔سلطان غیاث الدین بھی ان کے ساتھ شریک تھا۔ اچانک سلطان کا نشانہ خطا ہوگیااور وہ تیر ایک بیوہ عورت کے بچے کو جا لگا۔اس سے وہ مرگیا۔ سلطان کو پتہ نہ چل سکا۔ وہ عورت قاضی سلطان کی عدالت میں پہنچ گئی۔ قاضی سراج الدین عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ” کیا بات ہے ؟ تم کیوں رو رہی ہو؟ عورت نے روتے ہوئے سلطان کے خلاف شکایت لکھوائی کہ سلطان کے تیر سے میرابچہ ہلاک ہوگیا ہے ۔قاضی سراج الدین نے عورت کی بات پوری توجہسے

اور پھر اسی وقت سلطان کے نام خط لکھا’’ آپ کے خلاف شکایت آئی ہے۔ فوراً عدالت میں حاضر ہو جائیں اور اپنے خلاف آنے والی شکایت کا جواب دیں ‘‘۔جاری ہے۔۔پھر یہ حکم عدالت کے ایک پیادے کو دے کر ہدایت کی’’’ یہ حکم نامہ فوراً سلطان کے پاس لے جاؤ‘‘ پیادے کو یہ حکم دے کر قاضی سراج الدین نے ایک کَوڑا نکالا اور اپنی گدی کے نیچے چھپا دیا۔پیادہ جب سلطان کے محل میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ سلطان کو درباریوں نے گھیر رکھا ہے اور قاضی کا حکم نامہ سلطان تک پہنچانا مشکل ہے۔ یہ دیکھ کر پیادہ نے اونچی آواز میں اذان دینا شروع کر دی۔بے وقت اذان سن کر سلطان نے حکم دیا’’ اذان دینے والے کو میرے سامنے پیش کرو‘‘’ پیادے کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا۔سلطان نے گرج کر پوچھا! بے وقت اذان کیوںدے رہے تھے ؟۔جاری ہے۔ قاضی سراج الدین نے آپ کو عدالت میں طلب کیا ہے آپ فوراً میرے ساتھ عدالت چلیں ۔پیادے نے قاضی صاحب کا حکم نامہ سلطان کو دیتے ہوئے کہا۔سلطان فوراً اْٹھا۔ ایک چھوٹی سی تلوار اپنی آستین میں چھپالی۔ پھر پیادے کے ساتھ عدالت پہنچا۔ قاضی صاحب نے بیٹھے بیٹھے مقتول کی ماں اور سلطان کے بیان باری باری سنے پھر فیصلہ سنایا ’’ غلطی سے ہو جانے والے قتل کی وجہ سے سلطان پر کفارہ اور اس کی برادری پر خون کی دیت آئے گی۔ہاں اگر مقتول کی ماں مال کی کچھ مقدار پر راضی ہو جائے تو اس مال کے بدلے سلطان کو چھوڑا جا سکتا ہے ‘‘۔۔جاری ہے۔سلطان نے لڑکے کی ماں کو بہت سے مال پر راضی کر لیا

پھر قاضی سے کہا :میں نے لڑکے کی ماں کو مال پر راضی کر لیا ہے ۔قاضی نے عورت سے پوچھا ’’ کیا آپ راضی ہو گئیں ؟‘‘ جی ہاں میں راضی ہو گئی ہوں ! عورت نے قاضی کو جواب دیا۔اب قاضی اپنی جگہ سے سلطان کی تعظیم کے لئے اٹھے اور انھیں اپنی جگہ پر بٹھایا۔ سلطان نے بغل سے تلوار نکال کر قاضی سراج الدین کو دیکھاتے ہوئے کہا:’’ اگر آپ میری ذرا سی بھی رعایت کرتے تو میں اس تلوار سے آپ کی گردن اڑا دیتا‘‘۔قاضی نے بھی اپنی گدی کے نیچے سے کَوڑا نکال کر سلطان غیاث الدین کو دکھاتے ہوئے کہا’’اور اگر آپ شریعت کا حکم ماننے سے ذرا بھی ہچکچاتے تو میں۔جاری ہے۔اس کَوڑے سے آپ کی خبر لیتا۔ بیشک یہ ہم دونوں کا امتحان تھا‘‘۔ایسے بھی حکمران تھے اور ایسے عادل منصفین تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو ایسے عادل جج اور نیک حکمران عطا فرمائے

الٹے الفاظ

الٹے الفاظ
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:20
ایک اللہ والے سے کسی نے اپنے مقدر کی شکایت کرتے ہوئے کہا‘ جو کام کرتا ہوں الٹا ہوتا ہے‘ ہر کام میں رکاوٹ آتی ہے‘ میرے تو سارے کام ہی الٹے پڑتے ہیں‘کچھ سمجھ نہیں آتی‘ لوگ کہتے ہیں میرے اوپر کسی نے بندش کرا دی ہے۔ بزرگ نے اس شخص کی بات سنی تو مسکرائے دیئے اور انہوں نے مسکراتے ہوئے اس شخص سے پوچھا‘ بیٹا آپ نے مہر (سٹیمپ) دیکھی ہے؟ وہ شخص کہنے لگا جی بالکل دیکھی ہے۔ اللہ والے نے پوچھا‘یہ بھی جانتے ہو کہ مہر پر لکھائی کیسے کی جاتی ہے؟ کہنے لگا‘ مہر

الٹے الفاظ لکھے جاتے ہیں‘ انہوں نے پوچھا‘میاں جانتے ہو وہ سیدھے کیسے ہوتے ہیں؟ کہنے لگا جب مہر کاغذ پر لگتی ہے تو الفاظ سیدھے ہو جاتے ہیں۔ باباجی نے قہقہہ لگایا اور اس شخص سے کہا‘ بیٹا جس طرح مہر اپنا ماتھا کاغذ پر ٹیکتی ہے تو اس کے الٹے الفاظ سیدھے ہو جاتے ہیں‘ اسی طرح تو بھی وضو کر کے مسجد جا اور اپنے مالک کے حضور ماتھا ٹھیک‘ تیرے بھی الٹے کام سیدھے ہو جائیں گے۔ سبحان اللہ! کیسے لوگ تھے جو مخلوق کو خالق کے قریب کرتے تھے۔

مچھیرا اور ہارورڈ سے پڑھا بزنس مین٬ عقلمند کون؟

مچھیرا اور ہارورڈ سے پڑھا بزنس مین٬ عقلمند کون؟

ایک بزنس مین ایک گاؤں میں گیا اور ندی کے کنارے بیٹھا مچھلیا ں پکڑ رہا تھا کہ ایک گاؤں والا عام آدمی آگیا۔ وہ غالباً کوئی مچھیرا تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی کشتی چلا رہا تھا اور جب اس نے اس پار پہنچ کر اپنی کشتی کنارے پر باندھی تو اس بزنس مین نے دیکھا کہ اس کی کشتی میں بہت زبردست مچھلیاں لدی ہوئی تھیں۔ اور دھوپ میں تو یہ مچھلیاں اور بھی اچھی لگ رہی تھیں۔ اسے لگا کہ یہ مچھلیاں تو بڑے مہنگے داموں بک جائیں گی۔ اس نے اس آدمی سے پوچھا کہ ان کا

کرو گے؟ وہ آدمی بولا کہ صاحب ان میں سے آدھی بازار میں بیچ آؤں گا اور باقی اپنے گھر لے جاؤں گا۔ میرے بیوی بچے کھا لیں گے۔ اس بزنس مین نے بولا تمہیں یہ مچھلیاں پکڑنے میں کتنا وقت لگا ہے؟ وہ مچھیرا بولا کہ صاحب تین سے چار گھنٹے۔۔۔وہ بزنس مین بولا کہ بھائی میری بات غور سے سنو میں بہت پتے کی بات بتانے جا رہا ہوں، اس سے تمہاری اگلی چند نسلیں امیر پیدا ہوں گی۔مچھیرا غور سے سننے لگا۔ اس نے بولا کہ میں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے اور میں تمہارا ہنر دیکھ کر تمہیں بتا سکتا ہوں کہ اگر تم اپنی محنت دگنی کر دو تو تم بہت آگے پہنچ سکتے ہو۔تین چار کی جگہ آٹھ گھنٹے روز کے لگا لیا کرو۔ تم اپنے فالتو وقت میں کیا کرتے ہو؟ مچھیرا بولا کہ ابھی بازار جا کر مچھلیاں بیچوں گا پھر گھر جاؤں گا بیگم میرے لیے بھی مچھلی بنا دے گی۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤں گا۔ پھر ہم رات کو دیر تک جاگ کر آپس میں باتیں کرتے رہیں گے، کبھی کبھی میں شام میں دل بہلانے کے لیے اپنی بستی کا چکر لگاتا ہوں ادھر اور مچھیروں کے ساتھ گیت گاتا ہوں۔ بڑا مزہ آتا ہے، ہفتے میں دو دن اپنی گھر والی کے ساتھ شام میں ادھر ندی کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہوں۔ زندگی بہت پرسکون گزر رہی ہے۔ہارورڈ کا گریجویٹ بولا کہ تم نرے بے وقوف ہو۔ آج کے بعد میری

نصیحت پر عمل کرو بس۔ اپنا کام دگنا کر دو تو اس سے دگنی مچھلیاں پکڑا کرو گے؟ مچھیرا بولا ہاں صاحب آپ ٹھیک بول رہے ہو پر اس سے کیا ہو گا؟ یہ بولا تم پھر آدھی سے زیادہ مچھلیاں بازار میں

بیچنا اور اس سے تمہیں زیادہ پیسے مل جائیں گے۔ان پیسوں کو جمع کرنا شروع کرنا۔ پھر ان پیسوں سے ایک بڑی کشتی خریدنا تاکہ تم اور زیادہ مچھلیاں پکڑ سکو۔ اس مچھیرے نے پوچھا صاحب بڑی کشتی لینے سے کیا ہو جائے گا؟ وہ آدمی بولا گدھے اس طرح تم اپنا کام بہتر بنا رہے ہو۔ پھر اور زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور اور دگنے پیسے کماؤ گے۔ پھر دو سے تین اور تین سے چار کشتیاں خرید لینا۔ پھر ان کے لیے ملازم مچھیرے رکھ لینا اور اس طرح تم اپنا کاروبار چلا سکتے ہو۔ پھر تم شہر خود ہی اپنے بندے بھیج کر مچھلیاں بیچ سکتے ہو۔ ابھی تم گاؤں کی منڈی میں کم داموں پر بیچ کر آتے ہو۔ وہ لوگ جب یہی مچھلیاں شہر لے کر جاتے ہیں تو دگنے پیسے کماتے ہیں۔ ہر طرح سے تمہارا منافع زیادہ ہوتا جائے گا۔ سمجھے؟ وہ مچھیرا بولا صاحب اس سب سے ہو گا کیا؟ وہ بزنس مین بولا اس سے تم ایک کروڑ پتی بھی بن سکتے ہو۔۔مچھیرا حیران ہو گیا اور بولا صاحب کتنا وقت لگے گا؟ وہ بولا یہی کوئی بیس سے بائیس سال لگ جائیں گے۔ لیکن اس کے بعد تمہیں محنت نہیں کرنی پڑے گی اور تم سکون سے گھر بیٹھ کر کھاؤ گے۔مچھیرا بولا کہ صاحب میں کروڑ پتی بن کر کیا کروں گا؟ وہ ہارورڈ کا پڑھا بزنس مین بولا پاگل آدمی یہ سوچو کہ تم ہر رات اپنی مرضی کے مطابق لیٹ سو سکو گے، اپنے بچوں کے ساتھ کتنا زیادہ وقت گزار سکو گے۔ پھر یاروں دوستوں کے ساتھ گانے گاتے پھرنا۔پیسوں کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ پیسوں کی ریل پیل ہو گی۔ بیوی کے ساتھ مزے کرتے پھرنا، ادھر

ادھر۔۔دنیا دیکھنا۔۔۔وہ مچھیرا بولا صاحب میں نے آپ کو بتایا تو ہے کہ میں تو یہ سب ابھی بھی کرتا ہوں۔ وہ آدمی بولا او سائیں اس میں اور اس میں بہت فرق ہے ، ابھی تمہیں روز کام کرنا پڑتا ہے اور ڈر لگتا ہے کہ کسی دن پیسے کم بھی پڑ سکتے ہیں۔ پھر تو تو نے ایک خزانہ جمع کیا ہوا ہو گا تو تب تجھے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ وہ مچھیرا بولا صاحب آپ کی ترکیب اور میری زندگی میں سب کچھ مشترک ہے سوائے اس کے کہ میں اپنی جوانی میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کا قائل ہوں۔ اور مجھے پیسوں کا کوئی ڈھیر اپنے سکون کے لیے نہیں چاہیے ہے۔ آپ کی کہانی میں تو میں پوری عمر صرف کام ہی کرتا رہوں گا اور حاصل دونوں سے ایک ہی چیزیں ہو رہی ہیں تو میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔ میری چھوٹی کشتی اور تھوڑی مچھلیوں کے ساتھ میری زندگی میں رونق بھی ہے اور خوشی اور مسرت بھی۔

نایٔن الیون

نایٔن الیون
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:22
اس حادثے میں کچھ لوگ بال بال بچ گئے کیونکہ ان کو چھوٹے موٹے کام پڑے جس کے لیے وہ ٹوئن ٹاور سے مجبوراً باہر نکلے۔ دراصل یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جس کی موت کا جو وقت لکھا گیا، اس کی موت اسی مقررہ گھڑی پر آنی ہے۔ ایک بڑی کمپنی کا ہیڈ اس لیے بچ گیا کہ اس کے چھوٹے بیٹا کا ’کنڈر گارڈن‘ میں پہلا دن تھا اور وہ خود اسے چھوڑنے گیا تھا۔وہ آفس سے لیٹ ہو گیا اور بال بال بچ گیا۔ ایک آدمی کی گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی اور وہ

‘لینے جا رہا تھا۔ اس کی گاڑی نے سٹارٹ ہونے میں اتنا وقت لے لیا کہ جب جہاز بلڈنگ سے ٹکرائے تو وہ نیچے اپنی گاڑی کو کوسنے میں مصروف تھا۔ ایک سیکٹری خود کو کوس رہی تھی کیونکہ اس سے کپڑوں پر کھانا گر گیا تھا اور اسے نکل کر باہر ڈرائی کلینر کی دکان کارخ کرنا پڑا۔ واپس آئی تو بلڈنگ ایک بھیانک منظر پیش کر رہی تھی۔ ایک آدمی کا بچہ بہت سست تھا اور وہ سکول کے لیے تیار ہونے میں تا خیر کر رہا تھا۔وہ آدمی صبح وقت پر آفس نہیں پہنچ سکا اور اپنی ناگہانی موت سے بچ گیا۔ ایک اس لیے لیٹ ہو گیا کہ اس کو ٹیکسی نہیں مل رہی تھی، وہ بھی بچ گیا۔ جو آدمی میرے میڈیکل سٹور پر آیا تھا، اس نے نئے جوتے خریدے تھے ۔ ا س کے وہ جوتے اسے تنگ تھے اور اس کی وجہ سے اس کے پاؤں چھل گئے تھے۔ وہ میری دکان پر آکر رکا تاکہ سنی پلاسٹ خرید لے اور اس طرح وہ اس بلاسے بچ گیا۔ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے میں یہ سوچنے لگا کہ اگر میرے بچے سکول کے لیے تیار ہونے میں کوئی تاخیر کر دیں،یا مجھے کوئی فون آجائے، یا مجھے سٹور پر پہنچنے کے لیے ٹیکسی نہ ملے، یا میرے کپڑے خراب ہو جائیں، یا میرے سے کوئی لفٹ مس ہو جائے تو کسی چھوٹی سے بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پہلے میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے اتنا چڑ جاتا تھا مگر اس دن جب وہ آدمی اپنے لیے پٹی لے کر گیا۔ اور کچھ وقت بعد جب میڈیا کے زریعے مجھے باقی لوگوں کی کہانیاں معلوم پڑیں تو میں سمجھ گیا کہ خدا اپنا کام کر رہا ہے۔ وہ اپنی پلیننگ کرتا ہے اور ہم انسان اپنی پلیننگ کرتے ہیں۔جب ہماری پلیننگ کے مطابق چیزیں نہیں چلتیں تو ہم چڑ جاتے ہیں مگر حقیقت واضح ہے کہ ہو گا وہی جو وہ چاہتا ہے۔ تو اگر میں دو منٹ کے لیے کہیں پھنس جاتا ہوں اور سٹور تھوڑی دیر سے کھولتا ہوں تو اس سے جو وقت ضائع ہوا ، اس میں کوئی بہتری پنہاں تھی۔ میں نے اپنی زندگی کا یہی موٹو بنا لیا ہے کہ کچھ بھی غلط ہو جائے، کہیں رک جاؤں ، پھنس جاؤں تو پریشان نہیں ہونا بلکہ اس بات کو بخوبی سمجھنا ہے کہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی گیم بہت اچھے سے کھیلتا ہے۔ وہ جو بھی کر رہا ہے اس سے سب ٹھیک ہی ہو گا۔دنیا مکافات عمل ہے، جب آپ کسی کا برا کرتے ہو تو خدا آپ کا برا کرتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ بڑا ذہین ہے اوہ سب کچھ ٹھیک کر لے گا سچی بات تو یہ ہے کہ انسان کی تو کوئی اوقات ہی نہیں، تین منٹ کے لیے اس کو آکسیجن نہ مل پائے تو مرا پڑا ہو۔ تو کہاں گئی وہ طاقت، قوت اور وہ ذہانت۔ اپنی پلیننگ ضرور کرو مگر جب بھی کسی چیز میں کوئی خلل پڑ جائے تو اس کو سر پر مت سوار کرو۔ جو ہوا، وہی ہونا تھا۔ انسان ہر جگہ مار اس لیے کھاتا ہے کہ نصیب سے زیادہ اور وقت سے پہلے ہر شے حاصل کرنا چاہتا ہے۔بہت عام سی بات ہے مگر بالکل کھرا سچ ہے۔۔۔نصیب اپنا اپنا

سراج الحق صاحب ٹوپی ٹیڑھی کیوں لگاتے ہیں

سراج الحق صاحب ٹوپی ٹیڑھی کیوں لگاتے ہیں
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:16
ایک انٹرویو میں کسی نے جناب سراج الحق صاحب (امیر ِ جماعتِ اسلامی) سے پوچھا کہ آپ ٹوپی ٹیڑھی کیوں لگاتے ہیں تو سراج الحق صاحب نے جو جواب دیا وہ بڑا حیران کن تھا۔انہوں نے کہا کہ بچپن میں جب وہ اسکول جاتے تھے تو اُن کے پاس پہننے کے لئے چپلیں نہیں تھیں۔ سو اسکول جاتے وقت اُن کی والدہ اُن کی ٹوپی زرا سی ٹیڑھی کردیا کرتیں کہ اس طرح دیکھنے والوں کی توجہ ٹوپی کی طرف رہے گی اور پیروں کی طرف کوئی نہیں دیکھے گا۔سراج الحق صاحب نے کہا کہ جب سے ایسی عادت ہے

میں ٹیڑھی ٹوپی ہی لگاتا ہوں۔میں سوچتا ہوں کہ وہ کیسی عظیم ماں ہو گی کہ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود اُنہوں نے اپنے بچوں کی پڑھائی لکھائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آج سراج الحق صاحب جماعتِ اسلامی کے امیر ہیں اور میرا ذاتی خیال ہے کہ جماعتِ اسلامی میں اگے بڑھنے کے لئے پڑھا لکھا اور قابل ہونا ضروری ہے۔آج ہماری قوم کا حال یہ ہےکہ بے شمار بچے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پڑھائی کے معاملے میں بالکل سنجیدہ نظر نہیں آتے نہ ہی اُن کے والدین کو اس بات کی کوئی خاص فکر ہوتی ہے۔ رہے کم وسائل والے لوگ تو اُن کے ہاں اس سوچ کا ہی فقدان ہے کہ پڑھائی لکھائی ہر بچے کے لئے ضروری ہے۔اور پھر ایسی مائیں بھی ملک میں خال خال ہی ہوں گی کہ جو بچوں کی پڑھائی کی راہ میں آنے والی کسی رُکاوٹ کو خاطر میں نہ لائیں۔کاش ہمارے وطن میں بھی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اسناد اور ڈگریوں کے حصول کے بجائے تعلیم کو قابلیت کے حصول اور زندگی کو خوب سے خوب تر بنانے کا نسخہ سمجھا جائے۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں

میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:23
انڈیا میں ایک بڑی عمر کے آدمی تھے۔ وہ فوت ہوگئے۔ کسی نے ان کو خواب میں دیکھاتو پوچھا: جی! آگے کیابنا؟ کہنے لگے: میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں۔ اس نے پوچھا: وجہ کیابنی؟ کہنے لگے: ایک مرتبہ ہندوؤں کی ہولی کا تھا اور وہ ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے پھر رہے تھے، میں اپنے گھر سے کسی دوسری جگہ پر جا رہا تھا۔ راستے میں مجھے پان کھاتے ہوئے تھوک پھینکنے کی ضرورت محسوس ہوئی،اس وقت مجھے اپنے سامنے ایک گدھا نظر آیا، میری طبیعت میں کچھ ایسی بات پیداہوئی کہ میں نے یہ کہہ دیا: ارے گدھے! تجھے

کسی نے نہیں رنگا،آ! میں تجھے رنگ دیتاہوں، یہ کہہ کر میں نے اپنی پان والی تھوک گدھے پر پھینک دی، اللہ تعالیٰ نے میرے اس عمل پر پکڑ لیا کہ تم نے کافروں کے عمل کے ساتھ مشابہت اختیار کی، چنانچہ اس وجہ سے میری قبر کو جہنم کا گڑھا بنادیاگیا۔—ایک آدمی بہت روتا تھا، اس سے پوچھا: بھئی! تم اتنا کیوں روتے ہو؟ تو وہ کہنے لگا: ’’مجھے یہ بات سوچ کر رونا آتا ہے کہ میں نے جب گناہ کیا تو میں نے اپنے گناہ پر گوار اس پروردگار کو بنایا جو مجھے سزا دینے پر قدرت رکھتا ہے، اللہ نے سزا کو قیامت کے دن تک موخر کر دیا اور مجھےقیامت تک ملت دے دی کہ تم نے اگر رو دھو کے منانا ہو تو منا لو،اللہ کی قسم! اگر مجھے اختیار دیا جائے کہ دو باتوں میں سے تو کس بات کو اختیار کرتا ہے، ساری مخلوق کے سامنے تیرا حساب کریں اور پھر تجھے جنت میں بھیج دیں یا تجھے کہا جائے کہ تو مٹی ہو جا، تو میں قیامت کے دن مٹی بن جانے کو اختیار کروں گا۔‘‘یعنی میں نہیں چاہوں گا کہ میرا نامۂ اعمال ساری مخلوق کے سامنے کھولا جائے۔—ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حج پر گئے ہوئے تھے ایک جگہ جا رہے تھے، ان کا تھیلا ان کے ہاتھ میں تھا ایک نوجوان آیا اور ان سے ان کا تھیلا چھینا اور بھاگ گیا ذرا آگے گیا تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا جیسےبینائی چلی گئی، اس نے رونا شروع کر دیا، لوگوں نے پوچھا: کیوں روتے ہو؟کہنے لگا: میں نے فلاں جگہ پر ایک بوڑھے میاں کا تھیلا چھینا ہے اور مجھے لگتا ہے وہ کوئی مقبول بندے تھے کہ میری بینائی چلی گئی، مجھے ان کے پاس لے چلو،میں ان سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔چنانچہ لوگ اس کو اس جگہ پر لے گئے، وہاں وہ بڑے میاں نہیں تھے، قریب ہی ایک حجام تھا، اس سے پوچھا تو کہا کہ وہ نماز پڑھنے آتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں، آپ اگلی نماز تک انتظار کریں، میں نشاندہی کر دوں گا۔اگلی نماز تک وہ بزرگ آ گئے، اس حجام نے ان کی نشاندہی کر دی، اب وہ نوجوان ان سے معافی مانگنے لگا اور کہنے لگا: حضرت! آپ مجھے معاف کر دیں،مجھ سے غلطی ہو گئی،میں بڑا شرمندہ ہوں اور توبہ کرتا ہوں، اب وہ فرمانے لگے کہ میں نے تو آپ کو اسی وقت معاف کر دیا تھا، جب بار بار اس نے معافی مانگی اور بار بار انہوں نے کہا کہ میں نے تو اسی وقت آپ کو معاف کر دیا تھا تو لوگ بڑے حیران ہو گئے، کسی نے پوچھا: حضرت! اس نے آپ کا تھیلا چھینا اور آپ کہتے ہیں کہ میں نے اسی وقت معاف کر دیا تھا! وہ بزرگ کہنے لگے: ہاں مجھے ایک خیال آ گیا تھاجس کی وجہ سے میں نے معاف کر دیا تھا، پوچھا! کیا خیال آ گیا تھا؟اس نے کہا کہ میں نے علماء سے مسئلہ سنا ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری امت کو حساب کتاب کے لیے پیش کیا جائے گا جب تک پوری امت کا حساب و کتاب پورا نہ ہو جائے گا میں اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھوں گا،میرے دل میں خیال آیا کہ اس نے میرا تھیلا چھینا، اگر میں نے معاف نہ کیا تو قیامت کے دن میرا یہ مقدمہ پیش ہو گااور جتنی دیر اس مقدمے کے فیصلے میں لگے گی، میرے محبوبؐ کو جنت میں جانے میں اتنی دیر ہو جائے گی، میں نے معاف کر دیا کہ نہ مقدمہ پیش ہوگا اور نہ میرے محبوبؐ کوجنت میں جانے میں دیر لگے گی۔کاش! ہمیں بھی اس نسبت کا لحاظ ہوتا اور ہم بھی اپنے جھگڑے سمیٹ لیتے، ہم نے آج زندگی کے اندر کتنے معاملات کو بکھیرا ہوا ہے! ہم بھی اس نسبت کی لاج رکھیں یہ نسبت بڑی عجیب ہے۔

دریا کل جاری ہو جائے گا

خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے:صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ فرعون کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ بارش نہیں ہو رہی ہے اور دریائے نیل بند ہے، آپ جاری کرا دیجئے، اس لیے کہ آپ کو ہم نے معبود بنایا ہے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے، دریا کل جاری ہو جائے گا رات کے وقت اٹھاتاج شاہی پہنااور پہنچا ’’نیل‘‘ میں یا ’’قلزم‘‘ میں۔ دریا خشک تھا، تاج زمین پر رکھا اور مٹی لی، سر پر ڈالی ، اس نے کہا اے احکم الحاکمین! اے رب العالمین! میں جانتا ہوں کہ آپہی مالک ہیں، آپ ہی

سب کچھ ہیں، میں نے ایک دعویٰ کیا اور وہ بھیغلط، آج تک آپ نے اس دعوے کو نبھایا اور ظاہر کے اعتبار سے مجھے ویسا ہی رکھا، میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آج بھی میری بات رہ جائے، خوب گڑگڑا کر دعا کی، وہ خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے۔ بہرحال فرعون نے رو کر گڑگڑا کر عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگی۔ دعا کا مانگنا تھا کہ پانی آنا شروع ہوا، سرسراہٹ محسوس ہوئی، فوراً تاج لیا اور چلا آیا اور دریائے نیل جاری ہو گیا۔ ایک مرتبہ حضرت علیؓ کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا۔آپؓ نے اپنے صاحبزادہ حضرت حسنؓ سے فرمایا کہ اپنی والدہ (حضرت فاطمہؓ) سے کہو کہ میں نے جو چھ درہم تمہارے پاس رکھے ہیں، ان میں ایک درہم دے دو۔ صاحبزادے گئے اور جواب لائے کہ وہ آپ نے آٹے کے واسطے رکھوائے تھے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آدمی اپنے ایمان میں اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے پاس کی موجودہ چیز سے اس چیز پر زیادہ اعتماد نہ ہو جو اللہ کے پاس ہے، اپنی والدہ سے کہو کہ وہ چھ درہم سب کے سب دے دو۔ حضرت فاطمہؓ نے تو یاد دہانی کے طور پر فرمایا تھا، ان کو اس میں کیا تامل ہو سکتاتھا،اس لیے حضرت فاطمہؓ نے دے دیے۔ حضرت علیؓ نے وہ سب سائل کو دے دئیے۔ حضرت علیؓ اپنی اپنی اس جگہ سے اٹھے بھی نہیں تھے کہ ایک شخص اونٹ فروخت کرتا ہوا آیا۔ آپؓ نے اس کی قیمت پوچھی، اس نے ایک سو چالیس درہم بتائے۔ آپ نے وہ اونٹ خرید لیا اور قیمت کی ادائیگی کا بعد وعدہ کر لیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص آیا، اور اونٹ کو دیکھ کرپوچھنے لگا یہ کس کا ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میرا ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ فروخت کرتے ہو۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ہاں، اس نے قیمت دریافت کی۔ حضرت علیؓ نے دو سو درہم بتائے وہ خرید کر لے گیا۔حضرت علیؓ نے ایک سو چالیس درہم اپنے قرض خواہ یعنی پہلے مالک کو دے کر ساٹھ درہم حضرت فاطمۃ الزہراؓ کو لا کر دیے۔ حضرت فاطمہؓ نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمؐ کے واسطے سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی کرتا ہے اس کو دس گنا بدلہ ملتا ہے۔

معروف موبائل کمپنی نے نے رمضان المبارک کے موقع پر پاکستان میں اپنے سمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا،نئی قیمتیں متعارف

معروف موبائل کمپنی نے نے رمضان المبارک کے موقع پر پاکستان میں اپنے سمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا،نئی قیمتیں متعارف
منگل‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:26
سام سنگ رمضان المبارک کی روح پرور ساعتوں کے موقع پر اپنے بہت سے معروف سمارٹ فونز بشمول گلیکسی جے سیون کور (2 جی بی ریم/16 جی بی روم)، گلیکسی جے 5 پرائم (2 جی بی ریم/16 جی بی روم) اور گلیکسی جے 7 پرو (3 جی بی ریم/32 جی بی روم) پر خصوصی قیمتیں پیش کر رہا ہے۔ اس محدود وقت کی پیشکش کے ذریعے یہ جدید خصوصیات کے حامل سمارٹ فون صارفین کے لئے انتہائی کم قیمتوں (18,999 روپے سے 28,999 روپے) پر 7 مئی سے 17 جون 2018ء تک دستیاب ہوں گے۔ سام گے۔ سام سنگ پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ یہ پیشکش تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے صارفین کو عالمی سطح پر مشہور ٹیکنالوجیز اور جدتیں فراہم کرنے کے لئے سام سنگ کے عزم کا اظہار ہے جس کے تحت آبادی کے زیادہ طبقوں کے لئے قیمتیں تیزی سے کم کی جا رہی ہیں۔ اپنی سام سنگ گلیکسی ڈیوائس کے ساتھ لطف اندوز ہونے کی خواہش رکھنے والے سماجی نیٹ ورکنگ اور آن لائن معلومات کے شائقین اب اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس دلکش موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ سمارٹ فونز انہیں ذاتی اور پروفیشنل زندگی میںاعلیٰ مقاصد اور خواہشات کی تکمیل کے قابل بناتے ہیں۔ سام سنگ سمارٹ فون کے صارفین ’’جذبہ ء رمضان‘‘ کی اس طرح کی کامیاب سیریز کے ساتھ خصوصی پیشکش کے ذریعے صارفین کو مختلف فائدوں سے بہرہ مند کرنے کے لئے پرعزم ہے اور صارفین کی جانب سے بھی اس میں پرجوش ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ سام سنگ گلیکسی ڈیوائسز نے صارفین کی توقعات کو بڑھاتے ہوئے حیران کن ایپلی کیشن، طاقتور کیمرے اور شاندار تجربات فراہم کرتے ہوئے انتہائی مقبولیت حاصل کی ہے۔ سام سنگ کی کامیاب ٹیکنالوجیز غیر معمولی کارکردگی اور صارفین کو موبائل انٹرنیٹ کے تیز ترین دور اور دوران سفر ہر وقت معلومات فراہم کرتی ہیں۔

آئی ایم ایف نے جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست جاری کردی،پاکستان حیرت انگیز پوزیشن پربراجمان

آئی ایم ایف نے جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست جاری کردی،پاکستان حیرت انگیز پوزیشن پربراجمان
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 9:56
قوت خرید میں مساوات (پی پی پی) کو پیش نظر رکھتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2018 میں جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست جاری کردی، رواں برس برس اپریل تک کے اعداد و شمار کے مطابق قوت خرید میں مساوات کے اعتبار سے جی ڈی پی کو پیش نظر رکھتے ہوئے 25.24 ٹریلین امریکی ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر چین ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں چینی اقتصادی نمو 9 فیصد رہی۔ امریکا 20.4 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ امریکا میں گزشتہ برس کے مقابلے

اقتصادی ترقی کی شرح 5.3 فیصد رہی۔10.4 ٹریلین ڈالر کے ساتھ بھارت اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں 9.8 فیصد زائد رہی۔ جاپان 5.6 ٹریلین ڈالر اور پچھلے سال کے مقابلے میں جی ڈی پی میں اضافے کی ساڑھے تین فیصد شرح کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق 2018 اپریل تک جرمنی کا جی ڈی پی 4.37 ٹریلین ڈالر جب کہ اقتصادی ترقی کی سالانہ شرح 5 فیصد کے قریب رہی۔۔روس اس فہرست میں چھٹے نمبر ،انڈونیشیا ساتویں،برازیل آٹھویں، برطانیہ نویں اورفرانس دسویں نمبر پررہا۔آئی ایم ایف کی اس فہرست کے مطابق پاکستان عالمی درجہ بندی میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ قوت خرید میں برابری کے اعتبار سے پاکستانی جی ڈی پی کا تخمینہ 1.14 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے جس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف کی اس اعتبار سے کی گئی درجہ بندی میں پاکستان ہالینڈ اور متحدہ عرب امارات سے آگے ہے۔

کس موسم میں کون سا رنگ پہنیں؟گرمیوں میں کون سا رنگ ٹھنڈک کا احساس دیتا ہے؟

کس موسم میں کون سا رنگ پہنیں؟گرمیوں میں کون سا رنگ ٹھنڈک کا احساس دیتا ہے؟
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:40
ملک بھر میں گرمی اس وقت اپنے جوبن پر ہے۔ خواتین اس موسم میں سب سے زیادہ خریداری لان کے ملبوسات کی کرتی ہیں۔ عید بھی قریب ہے۔ اس مناسبت سے بازاروں میں جا بہ جا لان کے کپڑوں کی بہار ہے۔ آج کل لان کے کڑھائی والے ملبوسات ہر عمراور طبقے کی خوایتن میں بے حد مقبول ہیں۔ خواتین کی اکثریت کپڑوں کا انتخاب کرتے وقت ان کے پرنٹ کو اہمیت دیتی ہے۔ ملبوسات خریدتے وقت موسم کی مناسبت سے ان کے رنگوں کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ جن رنگوں کے لباس ہم پہنتے ہیں، وہ نہ صرف ہماری

کے آئینہ دار ہوتے ہیں، بلکہ ہمارے مزاج، رویوں اور ماحول پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہر رنگ اپنی ایک تاثیر اور توانائی رکھتا ہے۔ کچھ رنگوں کا مزاج گرم ہوتا ہے تو کچھ کا سرد۔آج کل چوں کہ شدید گرمی کا موسم ہے، اس لیے کپڑوں کا انتخاب کرتے ہوئے ایسے رنگوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو موسم کی حدت کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ پہلے بات کرتے ہیں ان رنگوں کی جن کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔٭ سفید رنگ: سفید رنگ کی تاثیرٹھنڈی ہوتی ہے۔ اس میں سورج کی تیز شعاعوں کو منعکس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں کو جسم میں جذب ہونے سے روکتا ہے۔ اسکول اور کالج یونی فارم میں سفید رنگ شامل ہوتا ہی ہے، یونی ورسٹی کی طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو ملبوسات خریدتے وقت ایسے کپڑے کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں سفید رنگ نمایاں ہو۔ تیز دھوپ میں باہر نکلتے وقت سفید رنگ کا اسکارف یا دوپٹہ سر ڈھانپے کے لیے موزوں رہتا ہے۔٭آسمانی رنگ: یہ رنگ چوں کہ نیلے رنگ میں سفید رنگ کی آمیزش سے بنتا ہے، اس لیے اس کی تاثیر بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین اور یونی ورسٹی کی طالبات دن کے اوقات میں ایسے کپڑوں کا انتخاب کرسکتی ہیں جن میں آسمانی رنگ نمایاں ہو۔٭ گلابی رنگ: نو عمر اور نوجوان لڑکیوں کی اکثریت گلابی رنگ پسند کرتی ہے۔اس رنگ کا مزاج بھی ٹھنڈا ہوتا ہے۔گلابی رنگ ہر عمر کی خواتین پر جچتا ہے۔ اس رنگ کی یہ خوبی ہے کہ یہ ہر قسم کی تقریبات میں پہنا جا سکتا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا مذہبی تقریبات، یہ ہر جگہ آپ کی شخصیت کو باوقار انداز دیتا ہے۔گرمیوں کے موسم میں گلابی رنگ کے ملبوسات دن اور رات کے اوقات میں یکساں طور پر زیب تن کیے جاسکتے ہیں۔٭ نیلا رنگ: اس رنگ کی تاثیر بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔ یہ رنگ گہرا ہوتا ہے، اس لیے گرمیوں کے موسم میں رات کی تقریبات میں پہننے کے لیے انتہائی موزوں رہتا ہے۔گرمیوں میں رات کی تقریبات میں پہننے کے لیے نیلے رنگ پر سلور رنگ کی کڑھائی یا کام دانی آپ کی شخصیت میں چار چاند لگا دے گی۔٭ سبز رنگ: تاثیر کے لحاظ سے سبز رنگ بھی ٹھنڈے رنگوں میں شامل ہے۔ سبز رنگ کو دیکھتے ہی ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ اس رنگ میں بھی یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ اسے دن اور رات کے اوقات میں یکساں طور پر پہنا جا سکتا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے بھی سبز رنگ کے ساتھ سلور کڑھائی یا کام گرمیوں کی مناسبت سے موزوں رہتا ہے۔٭ فیروزی رنگ: یہ رنگ بھی نیلے اور سفید رنگ کی آ میزش سے بنتا ہے، اس لیے اس کی تاثیر بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔ گرمیوں میں دن کے وقت پہننے کے لیے یہ موزوں رنگ ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کو یہ رنگ پہننا چاہیے۔٭ سرمئی رنگ: گرمی کے موسم میں دن کے وقت پہننے کے لیے سرمئی رنگ ایک موزوں رنگ ہے۔ نوجوان اور نوعمر لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ سرمئی رنگ صرف عمر رسیدہ خواتین کے لیے مخصوص ہے۔ اس رنگ کی تاثیر بھی ٹھنڈی ہوتی ہے، اس لیے اگر آپ چاہیں تو اسے اپنی پسند کے کسی دوسرے رنگ کے ساتھ کمبی نیشن بنا کر پہن سکتی ہیں۔٭ سی گرین: یہ رنگ نیلے اور سبز رنگوں کی آمیزش سے بنتا ہے، اس لیے اس کا مزاج بھی ٹھنڈا ہوتا ہے۔گرمی کے موسم میں رات کی تقریبات میں پہننے کے لیے یہ ایک بہترین رنگ ہے۔جن رنگوں کا مزاج گرم ہوتا ہے، گرمی کے موسم میں انہیں پہننے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔اب بات کرتے ہیں ان رنگوں کی جو گرمی کے موسم میں پہننے کے لیے بالکل موزوں نہیں ہیں۔٭ سیاہ رنگ: کالا یا سیاہ رنگ مزاج کے اعتبار سے انتہائی گرم رنگ ہے۔ یہ سورج کی بالاے بنفشی شعاعوں کو تیزی سے اپنے اندر جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ رنگ پہن کر اگر ہم دن کے وقت باہر نکل جائیں تو ہمیں شدید گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں سیاہ اسکارف یا دوپٹہ اوڑھ کر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے البتہ رات کی تقریبات کے لیے آپ چاہیں تو سلور کام کے ساتھ پہن سکتی ہیں۔ جو خواتین عبایا پہنتی ہیں انہیں چاہیے کہ گرمیوں میں سیاہ کے بجائے اپنی پسند کے کسی ہلکے رنگ کا عبایا پہنیں تاکہ گرمی کا احساس کم ہو۔٭ نارنجی رنگ: یہ رنگ بھی مزاج کے اعتبار سے انتہائی گرم ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں تو دن کے وقت اسے دیکھنے سے ہی یہ آنکھوں میں چبھتا ہے، اس لیے گرمی میں نارنجی رنگ پہننے سے اجتناب کرنا چاہیے۔٭ زرد رنگ: پیلا یا زرد رنگ بھی مزاج کے لحاظ سے گرم ہوتا ہے۔ گرمیوں میں دن کے وقت پہننے کے لیے یہ بالکل موزوں نہیں، البتہ رات کی تقریبات میں سلور کام کے ساتھ پہنا جاسکتا ہے۔٭ سرخ رنگ: لال یا سرخ رنگ بھی مزاج کے اعتبار سے ایک گرم رنگ ہے۔ اسی وجہ سے یہ رنگ گرمی کے موسم میں دن کے وقت پہننے کے لیے موزوں نہیں ہے، لیکن رات کے وقت پہنا جاسکتا ہے۔ ایک بات کا خیال رکھیں کہ گرمیوں میں شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے کام بنواتے وقت سلور رنگ کا انتخاب کریں، کیوں کہ یہ ٹھنڈک کا کا احساس دلاتا ہے۔گرمی کے موسم میں کپڑے خریدتے وقت یہ بات بھی پیش نظر رکھیں کہ ہلکے رنگوں کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ ان رنگوں کے علاوہ کاسنی، انگوری، بادامی، پیچ، فان، بسکٹی وہ رنگ ہیں جنہیں آپ اپنی عمر کے لحاظ اور موقع محل کی مناسبت سے پہن سکتی ہیں جو نہ صرف موسم کی شدت سے مقابلہ کرنے میں آپ کی مدد کریں گے بلکہ آپ کی شخصیت کو بھی جاذب نظر بنائیں گے۔