آپ کے بچے جنت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں

آپ کے بچے جنت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:19
الحمدللہ، بیٹے کے ذہن میں جنت کا بہت دلچسپ اور مزے کا تصور ہے. ایک دن چاکلیٹ کھا رہا تھا، میں نے اسے بتایا کہ جنت میں ہمارے گھر سے بھی بڑی بڑی چاکلیٹس ہوں گی، اور جیلی اتنی بڑی ہوں گی کہ آپ ان کے اوپر چھلانگیں لگا سکیں گے، اور یہاں تو آپ کو دانت برش کرنے پڑتے ہیں اور زیادہ چاکلیٹ کھانے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں، جنت میں آپ جتنی مرضی چاکلیٹ کھانا، دانت بالکل بھی خراب نہیں ہوں گے، بے شک برش مت کرنا، کیونکہ اللہ کی بنائی ہوئی بہت سپیشل چاکلیٹس ہوں گی.

کی آنکھیں حیرت، تعجب اور خوشی سے چمک اٹھیں. اب جب بھی دعا مانگتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ “اللہ جی! میں جب جنت میں جاؤں تو مجھے بہت بہت بہت بڑا سا پیزا/چاکلیٹ /آئس کریم دینا.” وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جب وہ جنت میں جائے گا تو سپائیڈرمین کی طرح لٹک سکے گا یا آئرن مین کی طرح اڑ سکے گا. یا وہ جب چاہے گا، اپنے آپ کو روبوٹ بنا لے گا.الحمدللہ، اس کے ذہن میں شیطان کے بارے میں بھی اس کی عمر کے حسب سے واضح تصور ہے کہ شیطان نہیں چاہتا کہ وہ جنت میں جائے اور اس کے پاس اتنی ساری پاورز آ جائیں، اس لیے وہ ہم سے ایسے کام کروانا چاہتا ہے جس سے امی ابو اور اللہ جی ناراض ہوتے ہیں. کبھی کبھی غلطی ہو بھی جاتی ہے لیکن اگر اللہ سے معافی مانگ لی جائے تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے. میں نے کل صبح بیٹے کو بتایا کہ اب رمضان شروع ہو گیا ہے تو آپ جو بھی اچھا کام کریں گے، اللہ جی آپ کو اس کے 70 پوائنٹس (ثواب) دیں گے. عام دنوں میں اس کام پر ایک ہی پوائنٹ ملتا تھا. اور بیٹا یہ بات جانتا ہے کہ اللہ کے پاس اس کے جتنے زیادہ پوائنٹس ہوں گے، جنت میں اسے اتنی ہی زیادہ سپر پاورز اور چیزیں ملیں گی. (آج کے بچے بھی ناں! سپر پاورز کے چکر میں!) اور ماشاءاللہ صبح سے وہ اپنے پوائنٹس گن رہا تھا.میں نے بہنا کو سلام کیا ہے، 70 پوائنٹس امی کی فوراً بات مانی ہے. 70 پوائنٹس اپنے ناشتے کی پلیٹ پوری ختمکی ہے. 70 پوائنٹس مجھ سے تھوڑا سا دودھ میز پر گر گیا تھا. میں نے صاف کر دیا. ، 70 پوائنٹس کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھی، 70 پوائنٹس گھر سے نکلتے ہوئے دعا پڑھی، 70 پوائنٹس…… سکول سے واپسی پر ایک جگہ کوک کا خالی کین کسی نے پھینکا ہوا تھا. میں نے بیٹے کو کہا کہ اگر آپ اسے اٹھا کر کوڑا دان میں پھینک دو گے تو اس پر بھی آپ کو 70 پوائنٹس ملیں گے. ماشاءاللہ، اس کے بعد راستے میں تین چار بوتلیں اور بھی ملیں، بیٹے نے خود ہی اٹھا کر کوڑے دان میں ڈال دیں. رات کو اپنے بابا کو بتا رہا تھا کہ آج میرے ایک ہزار سے بھی زیادہ پوائنٹس ہو گئے اللہ جی کے پاس آپ کے بچے کیا کہتے/کرتے/سوچتے ہیں جنت کے بارے میں؟

وردی اس لئے پہنی جاتی ہے کہ ملک کیلئے لڑا جائے، مشرف سابق جنرل اسد درانی کے بارے میں بہت کچھ کہہ گئے

وردی اس لئے پہنی جاتی ہے کہ ملک کیلئے لڑا جائے، مشرف سابق جنرل اسد درانی کے بارے میں بہت کچھ کہہ گئے
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:08
سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ اسد دورانی خود کو بہت اونچا سمجھتے ہیں ۔ وردی اس لئے پہنی جاتی ہے کہ ملک کے لئے لڑا جائے بھارت کے ساتھ پر امن رہنا چاہئے نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے سے ڈر گئے تھے گزشتہ روز سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنرل ریٹائرڈ اسد دورانی خود کو بہت اونچا سمجھتے ہیں فوج کی وردی اس لئے پہنی جاتی ہےتا کہ ضرورت کے وقت ملک کے لئے جنگیں لڑ سکیں۔ اگر لڑ نہیں سکتے تو فوج میں آتے ہی کیوں ہیں انہوں

مزید کہا کہ کشمیرکے بارے میں کشمیریوں سے پوچھا جائے میں ہمیشہ اس بات کا خواہاں رہا ہے کہ ہمیں بھارت کے ساتھ پر امن رہنا چاہئے لیکن امن کی خاطر ملکی وقار اور عزت داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا سابق صدر پرویز مشرف کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے سے ڈر گئے تھے ۔

فرانسیسی جریدے کو ترک صدر طیب اردوان کی توہین کرنا مہنگا پڑ گیا ترک صدر کے حامیوں نے فرانس میں ایسا کام کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو جائے گا، فرانسیسی صدر پھٹ پڑے

فرانسیسی جریدے کو ترک صدر طیب اردوان کی توہین کرنا مہنگا پڑ گیا ترک صدر کے حامیوں نے فرانس میں ایسا کام کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو جائے گا، فرانسیسی صدر پھٹ پڑے
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:12
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ایک سیاسی جریدے کی جانب سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر کی گئی تنقید کا دفاع کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک تقریب سے ماکروں ن کہاکہ یہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے کہ لپوائنٹ نامی جریدے کے پوسٹرز کو دکانوںسے صرف اس وجہ سے ہٹا دیا جائے کہ اس نے آزادی کے دشمنوں کو ناراض کیا ہے۔ اس جریدے نے اپنے سرورق پر ترک صدر کی آمر کے عنوان سے ایک تصویر شائع کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایردوآن کے حامیوں نے جنوبی فرانس میں اخبارات اور کتابوں کی

سے یہ جریدے ہٹا دیے تھے۔

”میرے کفن پر اللہ کے رسول ﷺ کا پسینہ لگادینا “ کیا آپ جانتے ہیں یہ عظیم خاتون کون تھیں جو رسول اللہ ﷺ کے پسینہ مبارک سے خوشبو بنایا کرتی تھیں،ان کی آخری وصیت کیا تھی کہ جس سےعشق نبیﷺ کی ایسی گراں قدر مثال قائم ہوگئی کہ رہتی دنیا تک اسے یاد رکھا جائے گا

”میرے کفن پر اللہ کے رسول ﷺ کا پسینہ لگادینا “ کیا آپ جانتے ہیں یہ عظیم خاتون کون تھیں جو رسول اللہ ﷺ کے پسینہ مبارک سے خوشبو بنایا کرتی تھیں،ان کی آخری وصیت کیا تھی کہ جس سےعشق نبیﷺ کی ایسی گراں قدر مثال قائم ہوگئی کہ رہتی دنیا تک اسے یاد رکھا جائے گا
بدھ‬‮ 30 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:41
عشق مصطفیٰؐ جس دل میں سما جاتا ہے وہاں پھر کوئی اور نہیں سما سکتا ، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی نبی کریم ؐ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اکثر صحابہ کرامؓ میں آپ کےوضو مبارک کے پانی پر سے بحث ہو جاتا کرتی تھی، صحابہ کرامؓ آپ کے وضو مبارک کے پانی کو بھی زمین پر نہ گرنے دیتے، کئی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ آپ کے پسینے کو اپنے آپ پر مل لیا کرتے تھے۔صحابہ کرامؓ کی روایات کے مطابق آپ ؐ کا پسینہ مبارک نہایت خوشبو دار تھا۔ ایسی ہی ایک

کا ذکر اسلامی تاریخ میں موجود ہے جو آپؐ کے پسینہ مبارک کو جمع فرماتی اور ان سے خوشبو بناتی تھیں۔ آپؓ کا اسم گرام ام سلیمؓ بنت ملحان تھا ، آپؓ حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ اور مشہور صحابی رسولؐ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کی اہلیہ تھیں، آپؓ کی والدہ رسول کریمؐ کی رضاعی بہن بھی تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ آپؐ سے پردہ نہ فرماتیں ۔آپؐ اکثر اوقات ان کے گھر تشریف لے جاتے اور کبھی کبھار قیلولہ بھی فرما لیتے۔ سیدہ ام سلیم ؓبنت ملحان کا اللہ کے رسول ﷺ سے بے پناہ محبت اور احترام کا رشتہ تھا۔آپؓ اسلام قبول کرنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھیں ۔ آپؓ کا پہلا خاوند ملک بن نضر حالت کفر میں ملک شام میں گزر گیا۔ ام سلیم نے بچپن سے ہی انس بن مالکؓ کو اسلام اور نبی کریم ؐ کی محبت کا درس دیا ، آپؓ نہایت مدبر اور بہادر خاتون تھیں۔ سیرت نگاروں کے مطابق ایک بار جب آپؐ ام سلیمؓ کے گھر چارپائی پر قیلولہ فرما رہے تھے تو وہاں چمڑے کا ایک ٹکرا پڑا تھا ، آپؐ کو پسینہ آیا جس کے قطرے چمڑے کے اس ٹکڑے پر جذب نہ ہوئے ، ام سلیمؓ نے جھٹ سے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے آپؐ کے پسینہ مبارک کو ایک چھوٹی سے بوتل میں جمع فرماعشق مصطفیٰؐ جس دل میں سما جاتا ہے وہاں پھر کوئی اور نہیں سما سکتا ، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی نبی کریم ؐ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اکثر صحابہ کرامؓ میں آپ کےوضو مبارک کے پانی پر سے بحث ہو جاتا کرتی تھی، صحابہ کرامؓ آپ کے وضو مبارک کے پانی کو بھی زمین پر نہ گرنے دیتے، کئی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ آپ کے پسینے کو اپنے آپ پر مل لیا کرتے تھے۔صحابہ کرامؓ کی روایات کے مطابق آپ ؐ کا پسینہ مبارک نہایت خوشبو دار تھا۔ ایسی ہی ایکصحابیہ کا ذکر اسلامی تاریخ میں موجود ہے جو آپؐ کے پسینہ مبارک کو جمع فرماتی اور ان سے خوشبو بناتی تھیں۔ آپؓ کا اسم گرام ام سلیمؓ بنت ملحان تھا ، آپؓ حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ اور مشہور صحابی رسولؐ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کی اہلیہ تھیں، آپؓ کی والدہ رسول کریمؐ کی رضاعی بہن بھی تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ آپؐ سے پردہ نہ فرماتیں ۔آپؐ اکثر اوقات ان کے گھر تشریف لے جاتے اور کبھی کبھار قیلولہ بھی فرما لیتے۔ سیدہ ام سلیم ؓبنت ملحان کا اللہ کے رسول ﷺ سے بے پناہ محبت اور احترام کا رشتہ تھا۔آپؓ اسلام قبول کرنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھیں ۔ آپؓ کا پہلا خاوند ملک بن نضر حالت کفر میں ملک شام میں گزر گیا۔ ام سلیم نے بچپن سے ہی انس بن مالکؓ کو اسلام اور نبی کریم ؐ کی محبت کا درس دیا ، آپؓ نہایت مدبر اور بہادر خاتون تھیں۔ سیرت نگاروں کے مطابق ایک بار جب آپؐ ام سلیمؓ کے گھر چارپائی پر قیلولہ فرما رہے تھے تو وہاں چمڑے کا ایک ٹکرا پڑا تھا ، آپؐ کو پسینہ آیا جس کے قطرے چمڑے کے اس ٹکڑے پر جذب نہ ہوئے ، ام سلیمؓ نے جھٹ سے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے آپؐ کے پسینہ مبارک کو ایک چھوٹی سے بوتل میں جمع فرما لیا۔نبی کریمؐ یہ سب دیکھ رہے تھے ، آپؐ نے ام سلیمؓ سے دریافت کیا کہ ام سلیمؓ یہ آپ کیا کر رہی ہیں ، ام سلیمؓ کہنے لگیں”یارسول اللہﷺ آپ کا مبارک پسینہ ہے ، میں اسے دوسری خوشبوؤں میں شامل کر لیتی ہوں“ فرماتی تھیں” آپﷺ کا پسینہ بہترین خوشبو ہے“ ام سلیمؓ نے اپنے بیٹے انس بن مالک ؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ میری وفات کے بعد میرے کفن پر رسول اللہ ﷺ کا پسینہ لگا یا جائے ، چنانچہ آپؓ کی وفات کے بعد انس بن مالکؓ نے اپنی والدہ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے آپؐ کا پسینہ مبارک ان کے کفن پر لگایا تھا ۔ لیا۔نبی کریمؐ یہ سب دیکھ رہے تھے ، آپؐ نے ام سلیمؓ سے دریافت کیا کہ ام سلیمؓ یہ آپ کیا کر رہی ہیں ، ام سلیمؓ کہنے لگیں”یارسول اللہﷺ آپ کا مبارک پسینہ ہے ، میں اسے دوسری خوشبوؤں میں شامل کر لیتی ہوں“ فرماتی تھیں” آپﷺ کا پسینہ بہترین خوشبو ہے“ ام سلیمؓ نے اپنے بیٹے انس بن مالک ؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ میری وفات کے بعد میرے کفن پر رسول اللہ ﷺ کا پسینہ لگا یا جائے ، چنانچہ آپؓ کی وفات کے بعد انس بن مالکؓ نے اپنی والدہ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے آپؐ کا پسینہ مبارک ان کے کفن پر لگایا تھا ۔

کالا سیاہ سانپ

کالا سیاہ سانپ
پیر‬‮ 28 مئی‬‮‬‮ 2018 | 20:26
رات کے اڑھائی بجے اچانک کھٹ پٹ سے آنکھ کھلی آواز مسلسل کسی چیز کے گھسیٹنے سے بہت قریب سے آ رہی تھی جیسے ہی ڈرتے ہوئے بلب روشن کیا اور کمرے کا ماحول دیکھا اور دیکھتے ہی میرے تو ہاتھوں کے طوطے مینا کبوتر سب اڑ گئے دیکھتا کیا ہوں کہ ایک کالا سیاہ سانپ جو کہ ہماری ڈیڑھ لاکھ کی فریج کے اوپر بھن پھلائے بیٹھا ہے بیگم کو جلدی سے بیڈ سے اٹھایا جس نے کمرے میں اس موٹے تگھڑے سانپ کو دیکھ جو چیخ ماری یقینًا اس آواز نے ساتواں آسمان تو چھوا ہی ہو گا.

فوراً وائپر اٹھا کے سانپ کو کمرے سے نکالنے کی ناکام سی کوشش شروع کر دی اور ساتھ ہی بیگم کو ساتھ ہمسائے کو کال کرنے کا بول دیا اب جناب من کیا بتاؤں آپکو سانپ نے تو جیسے ہمارے کمرے کو اپنا ہی سمجھ لیا ہوڈیڑھ لاکھ کی فریج سے جو رینگا تو ساتھ پڑے تین لاکھ کی ڈریسنگ پر جا بیٹھا اس سے پہلے میرے دوستوں کہ بیگم دیکھ لیتی اپنی جان کی پرواہ کیے بنا سانپ کو مزید ڈرا کر باہر نکلنے کے لیے وائپر سے ڈرایا پر نا جی اس نے تو جیسے قسم ہی کھا لی ہو ڈریسنگ سے رینگتا ہو ساتھ پڑھے ہوئے پچھتر ہزار کی نئی ایل سی ڈی کے اوپر جا چڑھا منہ سے سوں سوں کی آوازیں نکال کے جیسے ہمیں ہی کمرہ بدر کرنے کی دھمکی لگا رہا ہو اتنی دیر میں ہمسائے سے بھی لوگ آ گئے اور اس سانپ کو ٹھکانے لگانے کی سوچنے لگے اس وقت تک سانپ ہماری نئی ایلسی ڈی سے اتر کے ہمارے بیڈ پر جو کے چند ہفتے پہلے چنیوٹ سے پورے سات لاکھ میں بنوا کے لایا تھا اس کے وسط میں نئی نویلی دلہن بنا شرما تے ہو ئے انداز میں براجمان ہو بیٹھا بیگم کو تو غشی کے دورے پڑھ رہے تھے کہ یہ آفت کب ٹلے گی اب باقی ساتھیوں کی مدد سے سانپ کو جو ڈرایا دھمکایا تب اسکو بھی شرم آ ہی گئی اور بیڈ سے سیدھا نیچے کی طرف لپکا فرش پر بچھے ایک لاکھ کے ایرانی قالین سے رینگتا ہوا گرے نائٹ کے مہنگے پتھر پر سے ہوتا ہوا باہر کھڑی نئ لینڈ کروزر کے نیچے سے جب سٹیل کے بنے گیٹ کے پاس پہنچا تب ہمارے گارڈ نے اس پر اپنی نئی پسٹل سے فائر کھول دیا جس سے سانپ صاحب موقع پر ہی دم دے گئے تو دوستوں یوں ہم بال بال بچے اور اس آفت سے جان بچائی….

مانگنے کا سلیقہ

مانگنے کا سلیقہ
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 23:20
ایک بہت هی گنہگار شخص حج ادا کرنے گیا وهاں کعبہ کا غلاف پکڑ کر بولا الٰہی اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں اور کلمہ حج میں دو حرف ہیں، “ح” سے تیرا حکم اور “ج” سے میرے جرم مراد ہیں۔ تو اپنے حکم سے میرے جرم معاف فرما دے ۔ آواز آئی ! اے میرے بندے تو نے کتنی عمدہ مناجات کی پھر کہو ! وہ دوبارہ نئے انداز سے یوں بولا : اے میرے بخشن ہار! اے غفار! تیری مغفرت کا دریا گنہگاروں کی مغفرت و بخشش کیلئے پرجوش ہے اور تیری رحمت کا خزانہ ہر

کیلئے کھلا ہے۔ الٰہی ! اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں اور حج دو حرف پر مشتمل ہے ح” اور “ج۔ ح” سے میری حاجت اور ج” سے تیرا جُود و کرم ہے۔ تو اپنے جُود و کرم سے اس مسکین کی حاجت پوری فرما دے.آواز آئی اے میرے بندے تو نے کیا خوب حمد کی، پھر کہو۔ وہ پھر عرض کرنے لگا اے خالق کائنات ! تیری ذات ہر عیب و نقص اور کمزوری سے پاک ہے تو نے اپنی عافیت کا پردہ مسلمانوں پر ڈال رکھا ہے۔ میرے رب اس گھر کی زیارت کو حج کہتے ہیں حج کے دو حرف ہیں ح” اور “ج ح” سے اگر میری حلاوت ایمانی اور ج” سے تیرا جلال مراد ہے تو تو اپنے جلال کی برکت سے اس ناتواں ضعیف بندے کے ایمان کی حلاوت کو شیطان سے محفوظ رکھناآواز آئی “اے میرے مخلص ترین عاشق و صادق بندے ! تو نے میرے حکم میرے جودو کرم اور میرے جلال کے توسل سے جو کچھ طلب کیا ہے تجھے عطا فرمایا ہمارا تو کام ہی مانگنے والے کا دامن بھر دینا ہے ، مگر بات تو یہ ہے کوئی مانگے تو سہی، کسی کو مانگنے کا سلیقہ تو آتا ہو۔ ﺍﮮ الله هم جیسے گنہگاروں کو بهی مانگے کا سلیقه اور توفیق عطا فرمادن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

قومیں جب تعصب کی عینک پہن لیں

قومیں جب تعصب کی عینک پہن لیں
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 23:18
تحریر(جاوید چوہدری) زیروپوائنٹ نادر شاہ درانی نے 1739ء میں ہندوستان پر حملہ کیا‘ دہلی فتح کیا اور شہر میں خون کی ندیاں بہا دیں‘ دہلی شہر میں نعشوں کا انبار لگ گیا‘ شہر کے ہر گھر سے دھواں اٹھنے لگا‘ دس دس سال کی بچیاں ’’ریپ‘‘ ہوئیں اور دہلی والوں کا مال و متاع لوٹ لیا گیا‘ دہلی کے بہادروں نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کا فیصلہ کیا‘ یہ لوگ اٹھے اور رات کے اندھیرے میں کوئلے سے دہلی کی دیواروں پر ’’مرگ بر ظالم‘‘ لکھ دیا‘ نادر شاہ درانی نے یہ بدعا پڑھی تو جامع مسجد

کھڑا ہو گیا‘ قہقہہ لگایا‘ اپنے سپاہی بلائے اور اس فقرے کے نیچے لکھوا دیا ’’ بعد ازاں مرگ مظلوم‘‘ نادر شاہ درانی کے کہنے کا مطلب تھا ’’ ظالم بھی مر جاتا ہے لیکن مظلوم ہمیشہ ظالم سے پہلے مرتا ہے‘‘ نادر شاہ چلا گیا مگر دنیا کو یہ حقیقت بتا گیا ’’مظلوم ظالم سے پہلے مرتا ہے‘‘ کیوں مرتا ہے؟ اس کا جواب دنیا کے کسی قانون‘ کسی آئین اور کسی عدالت کے پاس نہیں‘ عدالت خواہ قاتل کو سو بار پھانسی دے دے مگر مقتول زندہ نہیں ہو سکتا‘ وہ کبھی واپس نہیں آ سکتا‘ یہ وہ بنیادی نکتہ تھا جس نے پولیس کے ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد رکھی‘ پولیس ڈیپارٹمنٹ مجرم کو سزا دینے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا‘ مظلوم کو مظلوم بننے سے روکنے کیلئے بنایا گیا تھا‘ سزا دینا عدالت کا کام ہوتا ہے اور عدالتیں پولیسڈیپارٹمنٹ سے ہزاروں سال قبل بنائی گئی تھیں‘ یہ وجہ ہے پوری دنیا میں 15یا 1122 جیسے ادارے موجود ہیں‘ آپ ٹیلی فون کا ایک بٹن دباتے ہیں اور پولیس پانچ منٹ میں آپ کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے جبکہ دنیا کے کسی ملک میں عدالت کیلئے ایمرجنسی کال سسٹم نہیں‘ عدالتیں ہمیشہ آہستہ کام کرتی ہیں اور پولیس فوراً‘ کیوں؟ کیونکہ عدالت مجرم کو سزا دیتی ہے جبکہ پولیس جرم روکتی ہے اور جرم روکنے کی سپیڈ انصاف دینے والوں کی رفتار سے تیز ہونی چاہیے‘ ہمارے ملک میں یہ نظام مختلف ہے‘ ہمارے ملک میں پولیس ہو یا عدالت یہ جرم نہیں روکتی‘ یہ انصاف بھی نہیں دیتی‘ یہ صرف اور صرف مظلوموں میں اضافہ کرتی ہے‘ آپ کو میری بات پر یقین نہ آئے تو آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ آپ کو اس ملک میں تاحد نظر مظلوم ہی مظلوم نظر آئیں گے‘ ان مظلوموں کا تعلق کسی ایک طبقے سے نہیں ہو گا‘ آپ اندازہ کیجئے جس ملک میں پولیس کے آئی جی انصاف مانگ رہے ہوں ‘ چیف جسٹس سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہوں اور جس میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کا قائد کنٹینر پر کھڑا ہو کر سول نافرمانی‘ ہنڈی اور سرکاری بینکوں سے رقم نکالنے کا حکم دے رہا ہواور جس میں ملک کا سابق صدر غداری کا مقدمہ بھگت رہا ہو اور جس ملک میں دو تہائی اکثریت کے حامل وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس سے اٹھا کرہائی جیکنگ کی مقدمہ بنا دیا جاتا ہو اور جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی لیڈر کو ’’ سیکورٹی تھریٹ‘‘ قرار دے دیا گیا ہو اور جس میں آئی ایس آئی کے چیف کو ٹیلی ویژن سکرین پر قاتل ڈکلیئر کر دیا گیا ہو اور جس میں الیکشن کمیشن کے ایک سابق ملازم کے ’’انکشافات‘‘ پر پورے الیکشن پراسیس کو دھاندلی ثابت کر دیا گیا ہو آپ کو اس ملک میں کہاں کہاں مظلوم نظر نہیں آئیں گے؟ یہ ملک‘ ملک کم اور مظلومستان زیادہ ہے اور اس مظلومستان میں میرے جیسے لوگ پریشان پھر رہے ہیں اور یہ پوچھ رہے ہیں‘ ہم خود کو ایماندار‘ محب وطن اور غیر جانبدار کیسے ثابت کریں‘ ہمارے ملک میں کوئی بھی شخص اٹھتا ہے‘ ٹیلی فون کی ایک سم خریدتا ہے‘ انٹرنیٹ پر اپنا خفیہ اکاؤنٹ بناتا ہے‘ فیس بک یا ٹویٹر پر جاتا ہے یا پھر کوئی ’’بلاگ‘‘ بناتا ہے اور کسی بھی شخص کی ٹوپی یا پگڑی اتار کر اس میں غلاظت ڈال دیتا ہے اور کلمہ حق کا بے چارہ ہدف باقی زندگی دیوار گریہ تلاش کرتا رہ جاتا ہے۔ ملک میں اس وقت آٹھ صحافی خفیہ کلمہ حق کے ہدف ہیں‘ ان آٹھ مظلوموں کا صرف ایک جرم ہے‘ ان لوگوں نے اس پاگل پن کی رو میں بہنے سے انکار کر دیاجس کے آخر میں ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی‘ ہم ایٹم بم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے‘ عراق کی طرح نسلی‘ لسانی اور فرقہ وارانہ جنگ کا شکار بھی ہو جائیں گے‘ ہماری فوج کو بھی نقصان ہو گا اور ہم آئین اور پارلیمنٹ بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کھو دیں گے‘ ہمارے لئے کتنا آسان تھا ہم بھی ہجوم کے ساتھ شامل ہو جاتے‘ انقلاب زندہ باد‘ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے‘ شہزاد رائے کے ساتھ کھڑے ہو کر سالی کو منانے کی کوشش کرتے اور انقلاب کی برکات جھولی میں بھر کر واپس آ جاتے‘ پاکستان تحریک انصاف کا نیا پاکستان بھی خوش ہو جاتا اور ہمارا خفیہ کلمہ حق بھی راضی ہو جاتا لیکن ہم بے وقوف لوگ اس آئین کے ساتھ کھڑے ہو گئے جسے اس قوم نے آدھے ملک کی قربانی دے کر بنایا تھا اور ہم اس پارلیمنٹ کیحفاظت کیلئے بھی سامنے آ گئے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے یہ متحدہ پاکستان کی آخری منتخب پارلیمنٹ ہے‘یہ اگر ٹوٹ گئی تو پھر ہمیں ڈی چوک پر عزت کے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے دہائیوں کا سفر طے کرنا پڑے گا‘ ہم فرض کر لیتے ہیں سماجی مفتیوں کے فتوے درست ہیں‘ ہم مجرم ہیں‘ پھر سوال پیدا ہوتا ہے ہم اگر مجرم ہیں تو پھر آصف علی زرداری‘ الطاف حسین‘ اسفند یار ولی‘ مولانا فضل الرحمن‘ سراج الحق اور محمود اچکزئی بھی بکے ہوئے غدار ہیں کیونکہ یہ لوگ بھی اس وقت ہم آٹھ صحافیوں کی طرح پارلیمنٹ اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں‘ آپ ان کے بارے میں کیا کہیں گے؟ ہم جانتے ہیں ہمیں استقامت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی‘ ہماری کردار کشی بھی ہو گی‘ ہم پر حملے بھی ہوں گے‘ ہماری جعلی آڈیوز اور ویڈیوز بھی جاری ہوں گی‘ ہمارے نام چاند اور مریخ پر پلاٹ بھی نکل آئیں گے اور ہمیں سی آئی اے‘ موساد اور را کا ایجنٹ بھی قرار دے دیا جائے گا‘ ہمیں بے ایمان ثابت کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے‘ملک کے دو مفتی اینکر پرسنز نے ہمارے بارے میں حکومت سے رقم وصول کرنے کا فتویٰ بھی جاری کر دیا ‘ پی ٹی آئی اور ان کے وہ مہربان جو انقلابیوں کو انقلاب کے سمندر میں دھکا دے کر غائب ہو گئے وہ ہمارے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کر رہے ہیں‘آپ ہمیں غدار‘ بکاؤ اور منافق قرار دے رہے ہیں‘ آپ کرتے رہیں‘ آپ گوئبلز ازم کے اس سمندر میں جتنے چاہیں بیڑے اتار لیں‘ ہم لوگ بہر حال سسٹم کے ساتھ کھڑے ہیں‘ ہم پارلیمنٹ اور آئین کے ساتھ ہیں‘ پارلیمنٹ میں اگر کل عمران خان‘ الطاف حسین یا علامہ طاہر القادری بھی بیٹھ جاتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور کسی شخص کو صرف دھرنے کی بنیاد پر پارلیمنٹ توڑنے یا وزیراعظم طاہر القادری اور وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ مانگنے نہیں دیں گے‘ یہ ملک ہے اور اس ملکمیں ٹوٹا پھوٹا اور لولا لنگڑا ہی سہی مگر سسٹم موجود ہے اور ہم کسی طالع آزما کو یہ سسٹم توڑنے نہیں دیں گے‘ آپ کو میاں نواز شریف پسند نہیں یا آپ سمجھتے ہیں الیکشنز میں دھاندلی ہوئی ہے تو آپ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر کمیشن بنوائیں‘ تحقیقات کرائیں‘ کمیشن کی سماعت کو میڈیا کیلئے اوپن کر دیں تا کہ پوری قوم اپنی آنکھوں سے انصاف ہوتا دیکھے‘ آپ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر روز وزیراعظم تبدیل کریں‘ آپ کو الیکشن کمیشن اور انتخابات کے طریقہ کار پر اعتراض ہے تو آپ نئی انتخابی اصلاحات کر لیں‘ آپ وزارت عظمیٰ کی مدت پانچ سے تین سال کر لیں‘ آپ قانون بنا دیں وہ شخص جس کے بچے اور کاروبار باہر ہیں وہ ملک میں الیکشن نہیں لڑ سکے گا‘ آپ کو پارلیمانی جمہوریت پسند نہیں‘ آپ صدارتی نظام لے آئیں‘ آپ امیدواروں کیلئے آئین کی دفعہ 62 اور 63 کو لازم قرار دے دیں‘ آپ جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں‘ آپ جو نیا پاکستان تخلیق کرنا چاہتے ہیں ‘ آپ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کرکر جائیں‘ آپ کو کوئی نہیں روکے گا مگر سڑکوں کو عوامی پارلیمنٹ نہ بنائیں کیونکہ سڑکیں اگر ایک بار پارلیمنٹ بن گئیں تو پھر یہاں عوامی عدالتیں بھی بنیں گی‘ عوامی پولیس اور عوامی کمیشن بھی بنیں گے اور جس دھڑے کا کمیشن‘ پولیس اور عدالت تگڑی ہو گی وہ سڑک پر بیٹھ کر دوسرے کو غدار‘ منافق اور کافر قرار دے گا اور عوامی تارا مسیح آگے بڑھ کر اس کافر‘ اس منافق اور اس غدار کو پھانسی پر چڑھا دے گا‘ عمران خان یاد رکھیں شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات نے ملک توڑ دیا تھا‘ ہمیں خدشہ ہے آپ کے چھ نکات اس ملک کی رہی سہی روح قبض کر لیں گے‘ آپ خدا کیلئے ملک کے کسی ادارے کو بڑا مان لیں‘آپ پارلیمنٹ کو نہیں مانتے تو آپ سپریم کورٹ کو بڑا مان لیں‘ چیف جسٹس پرفیصلہ چھوڑ دیں اور اگر چیف جسٹس نے 2013ء کے الیکشن کو جعلی قرار دیا تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘ ہم آپ کے ساتھ مل کر نواز شریف سے استعفیٰ بھی مانگیں گے اور ہم مڈ ٹرم الیکشن کا مطالبہ بھی کریں گے‘ آپ کسی ایک پر اعتماد کریں‘ آپ کی بے اعتمادی ملک کو تباہ کر دے گی۔ اور آخر میں ہم جیسے لوگ! ہم لوگ اپنی حب الوطنی‘ ایمانداری اور غیر جانبداری ثابت کرنے کیلئے کیا کریں‘ ہم کون سا دروازہ کھٹکھٹائیں‘ کس ادارے سے رابطہ کریں اور کس سے سر ٹیفکیٹ لیں‘ آپ لوگ ہماری رہنمائی کریں‘ ہم اس دروازے پر جا کر بیٹھ جائیں گے‘ اس ادارے سے درخواست کریں گے‘ خدا را آپ ہمیں حب الوطنی کا سر ٹیفکیٹ جاری کر دیں ‘لوگوں کو ہم پر یقین نہیں آ رہا‘ ہم سر ٹیفکیٹ لے آئیں گے لیکن کیا گارنٹی ہے آدھی قوم اس سر ٹیفکیٹ کو بھی جعلی قرار نہیں دے گی؟ کیوں؟ کیونکہ جب قومیں تعصب کی عینک پہن لیتی ہیں تو یہ نعوذ باللہ نبیوں کو جادوگر اور کلام اللہ کو شاعری قرار دے دیتی ہیں جبکہ ہم تو معمولی صحافی ہیں‘ ہماری بات‘ ہمارے سر ٹیفکیٹ پر کون یقین کرے گا۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

غریبی

غریبی
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 23:15
ایک شخص واقعہ سناتا ہے کہ میں جب چھوٹا تھا تو میرے ماموں اپنے بچوں کے لیے روز کئی فروٹس لاتے میں ان کو کھاتے ہوئے تو نہیں دیکھتا تھا لیکن جانتا تھا کہ وہ فروٹس لذیذ ہونگے اگر کبھی مہینے میں ایک آدھ بار ہمارے گھر میں آم آ جاتے تو وہ دن خوشی کا دن ہوتا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ فروٹس کا شوق مرتا گیا ، زیادہ کھانے سے نہیں نا کھانے کی وجہ سے، انسان جب کسی چیز کے لیے ترستا ہے تو یا تو وہ اس کو پا لینے کی اتنی کوشش کرتا ہے کہ

کا مقصد بنا لیتا ہے یا پھر وہ خواہش اس کے دل کے اندر ہی دم توڑ دیتی ہے، میں سکول کا ایک ہونہار طالب علم تھا، سالانہ امتحان کے بعد جب مجھے انعام سے نوازا جاتا تو میں کبھی خوش نہیں ہو پاتا تھا ، پتہ ہے کیوں؟ کیوں کہ میرے جوتے ٹوٹے ہوتے تھے، میرے کپڑے پیوند زدہ ہوتے یا پھر اتنے پرانےکہ دیکھ کر ہی محسوس ہوتا کہ بہت پرانے ہیں، ایسے میں آٹھ نو سو طلباء کے مجمعے میں انعام لینا وہ بھی ٹوٹی ہوئی جوتی کے ساتھ بڑا عجیب لگتا تھا ، وقت ایسے ہی گزرتا رہا ، ہر سال اپنی جماعت میں پہلی پوزیشن لیتا لیکن فنکشن میں جانے سے کتراتا، ایک بڑی محرومی ہمیشہ یہ بھی رہی کہ میرے ابو کبھی اس فنکشن میں نہیں ہوتے تھے، دوسری پوزیشن لینے والا لڑکا جب اپنا انعام لے کر اپنے باپ کے پاس جاتا تھا تو میری نظریں ہمیشہ اس پر ہوتی تھیں ، ایک عجیب احساس تھا جس سے میں ساری زندگی محروم رہا، زندگی کی اور کئی محرومیاں رہیں، جن سے دل سے خواہشات آہستہ آہستہ رخصت ہو گئیں،اب دل میں اپنی ذات کے لیے کوئی خواہش نہیں رہی، اور میں جانتا ہوں میرے جیسے ہزاروں ہونگے جن کی زندگی میری زندگی جیسی رہی اور شائد ہمیشہ محرومیاں ان کا مقدر رہیں۔ کہتے ہیں کہ کوئی کسی کا دکھ نہیں سمجھ سکتا جب تک کہ وہ خود اس دکھ کی کیفیت کو نہ پہنچا ہو اور جس دکھ کے ساتھ جس محرومی کے ساتھ میں نے زندگی گزاری اس کا احساس مجھے ہمیشہ ہوتا ہے، جب کسی غریب کے بچے کو ٹوٹی ہوئی جوتی کے ساتھدیکھتا ہوں تو مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے لیکن میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بے حس ہو جائیں، میں بے حس نہیں ہوا، سارے احساس سارے جذبات ہمیشہ میرے ساتھ رہے، اور ان احساسات کا تقاضہ یہ تھا کہ میں کسی ایک چہرے پر بھی مسکراہٹ لا سکوں تو وہ میری محرومیوں کی تکمیل ہو گی، میں نے اپنے تئیں جو بھی کیا وہ میرا اپنا معاملہ رہا ہے ہمیشہ سے، لیکن پچھلے سال رمضان میں کچھ غریب خاندان کے بچوں کو عید کی شاپنگ کروائی، اور یہ کرنِ سحر کا پہلا آفیشل پراجیکٹ تھا، اب اس سال پھر کوشش ہے کہ کم از کم ایک ہزار بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکوں۔دن کی بہتر ین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس کے فیس بک پیج پر سینڈ میسج بٹن پر کلک کریں

باہر سے ایڈم

باہر سے ایڈم
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 23:10
میں نے کھانے کی ٹرے کھولی‘ کانٹے سے گوشت کا ٹکڑا اٹھایا‘ ہونٹوں کے قریب لے کر آیا مگر منہ میں ڈالنے سے قبل رک گیا‘ مجھے محسوس ہوا یہ گوشت شاید حلال نہ ہو‘ میں نے یہ خیال آتے ہی کانٹا ٹرے میں رکھ دیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا‘ غیر ملکی ائیر لائینز میں یہ معاملہ روٹین ہے‘ یہ لوگ حلال حرام کی تمیز نہیں رکھتے چنانچہ ان کی خوراک بالخصوص گوشت میں حرام کی گنجائش موجود ہوتی ہے‘ میں نے ٹرے آگے کھسکائی اور سیٹ کے ساتھ پشت لگا کر لیٹ گیا‘ میرے ساتھ درمیانی عمر کا

خوبصورت امریکی بیٹھا تھا‘ وہ مزے سے کھانا کھا رہا تھا‘ ہم نیویارک سے شکاگو جا رہے تھے‘ میں نے ایک دن شکاگو میں رک کر آگے نکل جانا تھا‘ آپ کو انٹرنیٹ پر مختلف ”پے اینگ“ میزبان مل جاتے ہیں‘ آپ ویب سائیٹس پر جائیں اور کسی منزل کا نام ڈالیں‘ آپ سے مختلف فیملیز رابطہ کریں گی‘ یہ لوگ معمولی رقم لے کر آپ کو چند دنوں کےلئے اپنے گھر میں ٹھہرا لیتے ہیں‘ آپ کو ان ویب سائیٹس پر ایسی فیملیز بھی مل جاتی ہیں جو آپ کو اپنے پاس فری ٹھہرا لیتی ہیں‘ان کا مقصد اجنبی لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے‘ یہ لوگ اجنبیوں کو اپناگھر‘ اپنا ٹاﺅن دکھانا چاہتی ہیں چنانچہ یہ لوگ اپنا گھر سال میں چند دنوں کےلئے اجنبیوں کےلئے کھول دیتے ہیں‘ میں نے شکاگو سے دو گھنٹے کی مسافت پر ایک گاﺅں میں ایسا ہی خاندان تلاش کیا تھا‘ یہ لوگ مکئی کاشت کرتے تھے اور سال میں ایک بار کسی ایشیائی باشندے کو اپنا مہمان بناتے تھے‘ میں نے انٹر نیٹ پر اس خاندان کو تلاش کیا اور اب میں نیویارک سے ان کے پاس ٹھہرنے اور شکاگو کی دیہاتی زندگی کو انجوائے کرنے جا رہا تھا لیکن جہاز میں حلال خوراک کا ایشو بن گیا‘ میں نے لمبی سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں ” برادر یہ کھانا حلال ہے‘ آپ کھا سکتے ہیں“ یہ فقرہ اچانک میریسماعت سے ٹکرایا‘ میں نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں‘ میرا ہم سفر امریکی مسکراتی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا‘ اس نے میری آنکھوں میں حیرت پڑھ لی‘ وہ دوبارہ بولا ”آپ کا کھانا حلال ہے‘ آپ اطمینان سے کھا سکتے ہیں“ میں نے اس سے پوچھا ” آپ یہ دعوے سے کیسے کہہ سکتے ہیں“ اس نے اپنا کانٹا نیچے رکھا‘ میری ٹرے سے کھانے کا ریپر اٹھایا اور اس کے کونے پر انگلی رکھ دی‘ ریپر پر سبز لفظوں میں حلال لکھا تھا‘ میں حیران ہو گیا‘ میں نے اطمینان سے کھانا شروع کر دیا‘ کھانے کے دوران میں نے اس سے اس کے وطن کے بارے میں پوچھا‘ اس نے جواب دیا ” میں امریکی ہوں‘ آرلینڈو میں رہتا ہوں“ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ” کیاآپ مسلمان ہیں“ اس نے بلند آواز میں ”الحمد اللہ“ کہا اور پھر بولا ” میں نے سات سال قبل اسلام قبول کیا تھا‘ میں آج کل عربی سیکھ رہا ہوں“ میری حیرت میں اضافہ ہو گیا‘ میں نے اس سے پوچھا ” لیکن امریکن ائیر لائین میں حلال کھانا کیسے آ گیا“ وہ مسکرایا اور نرم آواز میں بولا ” میں جب بھی ہوائی سفر پر نکلتا ہوں‘ میں ائیر لائین کے کچن میں فون کر کے پانچ حلال کھانوں کا آرڈر کر دیتا ہوں“ میں نے پوچھا ” پانچ کیوں؟“ اس کا جواب بہت دلچسپ تھا‘ اس کا کہنا تھا ” امریکن ائیر لائین میں عموماً چار پانچ مسلمان مسافر ہوتے ہیں‘ میں مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کا مسئلہ سمجھتا ہوں‘میں جہاز میں سوار ہو کر عملے کی مدد سے مسلمان مسافروں کو تلاش کرتا ہوں اور بعد ازاں یہ حلال کھانا انہیں پہنچا دیتا ہوں‘ میں جب فلائیٹ میں سوار ہوا تو میں نے لسٹ میں آپ کا نام پڑھ لیا چنانچہ میں نے آپ کےلئے حلال خوراک کی درخواست کر دی اور یوں آپ کو بھی حلال کھانا فراہم کر دیا گیا“ میں نے اس سے پوچھا ”لیکن جہاز کا عملہ آپ کو مسافروں کی لسٹ کیوں دے دیتا ہے“ اس نے قہقہہ لگایا اور بتایا ” میں ایف بی آئی میں کام کرتا ہوں‘ میرا سروس کارڈ یہ مرحلہ آسان بنا دیتا ہے“۔وہ عبداللہ تھا‘ اس کا پرانا نام ایڈم تھا‘ وہ آرلینڈو کا رہنے والا تھامگر ان دنوں وہ نیویارک میں کام کر رہا تھا‘ ٹریننگ کےلئے شکاگو جا رہا تھا‘ اس کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی اس کی شخصیت کی طرح حیران کن تھا‘ اس نے بتایا‘ وہ ٹیلی کام انجینئر تھا‘ وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا‘ اس کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا‘ والد دہریہ تھا‘ وہ بوڑھا ہو کر اولڈ پیپل ہوم میں پڑا تھا‘ اس کا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ جھگڑا ہوا‘ یہ جھگڑا طول پکڑ گیا‘ وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوا اور اس ڈپریشن نے اسے شراب‘ کوکین اور چرس کا عادی بنا دیا‘ وہ چوبیس گھنٹے نشے میں ڈوبا رہتا‘ اس کی راتیں شراب خانوں میں گزرتیں‘ وہ دھت ہو کر شراب خانے میں گر جاتا اور شراب خانے کے ملازمین اسے اٹھا کر فٹ پاتھ پر پھینک جاتے‘وہ اگلے دن اٹھتا تو گرتا پڑتا گھر پہنچتا‘ اس کی نوکری چلی گئی‘ اس کے سارے اثاثے بک گئے‘ اس پر دوست احباب کا قرض چڑھ گیا اور وہ پوری دنیا میں تنہا رہ گیا‘ وہ بری طرح برباد ہو چکا تھا لیکن پھر اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ وہ ایک رات نشے میں دھت ہو کر شراب خانے میں گرا‘ شراب خانے کے سٹاف نے اسے اٹھایا اور فٹ پاتھ پر لٹا دیا‘ وہاں سے ایک نوجوان گزرا‘ اس نے اسے اٹھایا‘ وہ اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا‘ گرمتولئے سے اس کا جسم صاف کیا‘ صاف سلیپنگ سوٹ پہنایا اور اسے صاف بستر پر لٹا دیا‘ صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس نوجوان نے اسے ناشتہ کرایا‘ اپنے کپڑے پہنائے اور اسے اس کے فلیٹ پر چھوڑ آیا‘ وہ اس رات دوبارہ شراب خانے گیا‘ اسے اس رات بھی حسب معمول فٹ پاتھ پر لٹا دیا گیا‘ وہ نوجوان دوبارہ آیا‘ اسے اٹھایا اور اپنے فلیٹ پر لے گیا اور اس کے بعد یہ معمول بن گیا‘ وہ روز رات کے آخری پہر فٹ پاتھ پر گرا دیا جاتا‘ وہ نوجوان آتا اور اسے اٹھا کر لے جاتا‘ یہ اس اجنبی نوجوان کے ساتھ بدتمیزی بھی کرتا لیکن وہ ہٹ کا پکا تھا‘ وہ مسکراتا رہتا اور اس کی خدمت کرتا رہتا‘ اس سارے عمل کے دوران معلوم ہوا‘ وہ نوجوان فلسطینی مسلمان ہے‘وہ پیزا ہٹ پر کام کرتا ہے اور فارغ وقت میں اس بگڑے ہوئے امریکی کی خدمت کرتا ہے‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ دونوں دوست بن گئے‘ ایڈم فلسطینی نوجوان عبداللہ کے رویئے اور خدمت سے متاثر ہوا اور آہستہ آہستہ اسلام کے حلقے میں داخل ہونے لگا اور پھر ایک دن اس نے اسلام قبول کر لیا‘ یہ اس کہانی کا ایک باب تھا‘ کہانی کا اگلا باب اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ایڈم نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عبداللہ رکھا اور اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا‘ مطالعے کے دوران اسے معلوم ہوا اسلام میں والدین کا بہت مقام ہے‘ والدین کی خدمت کرنے والے لوگ جنتی ہوتے ہیں‘ یہ معلوم ہونے کے بعد عبداللہ سیدھا اولڈ پیپل ہوم گیا اور اپنے والد کو اپنے گھر لے آیا‘اس کا والد کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکا تھا‘ وہ دہریہ تھا‘ وہ کسی مذہب اور خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا‘ اس نے پوری زندگی کوئی عبادت کی اور نہ ہی کسی مذہب کا مطالعہ۔ اس نے بس گستاخی میں پوری عمر گزار دی‘ عبداللہ ایڈم والد کو گھر لے آیا اور اس نے والد کی خدمت شروع کر دی‘ وہ ایک سٹور میں چار گھنٹے کام کرتا اور اس کے بعد گھر آ کر اپنے فلسطینی دوست کے ساتھ مل کر والد کو نہلاتا تھا‘ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا بھی کھلاتا تھا‘ اسے ویل چیئر پر بٹھا کر سیر کےلئے بھی لے جاتا تھا‘ وہ اسے کتابیں پڑھ کر سناتا تھا اور اس کی باتیں سنتا تھا‘ والد کےلئے یہ رویہ عجیب تھا‘ امریکا میں بچے اپنے والدین کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتے‘ وہاں والدین کی آخری عمر ہمیشہ تنہائی اور اولڈ پیپل ہوم میں گزرتی ہے لیکن نو مسلم عبداللہ نے یہ روایت بدل دی‘ اس نے والد اور والد کے دوستوں کو حیران کر دیا‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ والد کینسر کی آخری سٹیج پر پہنچ کر ہسپتال داخل ہو گیا‘ عبداللہ ہسپتال میں بھی والد کی خدمت کرتا رہا‘اس خدمت کا یہ نتیجہ نکلا اس کا وہ والد جس نے زندگی بھر اللہ کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا‘ اس نے انتقال سے چھ ماہ قبل اسلام قبول کر لیا‘ وہ ایمان کی حالت مین دنیا سے رخصت ہوا‘ والد کے انتقال کے بعد عبداللہ نے مختلف جابز کیں‘ وہ ان نوکریوں سے ہوتا ہوا ایف بی آئی میں پہنچ گیا۔وہ اس وقت میرے ساتھ بیٹھا تھا‘ وہ مسلمان تھا مگر اس کا حلیہ مسلمانوں جیسا نہیں تھا‘ وہ حلئے سے امریکی لگتا تھا‘ میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے داڑھی کیوں نہیں رکھی“اس نے اس سوال پر ایک عجیب انکشاف کیا‘ اس نے بتایا”ہم نے امریکا میں تبلیغ کا ایک نیٹ ورک بنارکھا ہے‘ ہم لوگ اپنا حلیہ نہیں بدلتے‘ ہم امریکا میں امریکی بن کر زندگی گزارتے ہیں‘ ہم غیر مسلموں کو صرف اپنے رویئے‘ خدمت اور محبت سے مسلمان بناتے ہیں“ میں نے اس سے عرض کیا”لیکن آپ یہ کام داڑھی رکھ کربھی کرسکتے ہیں“عبداللہ نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا”ہاں لیکن ہمارا خیال ہے ہم نے اگر اسلامی حلیہ اپنا لیا تو شاید امریکی لوگ ہمارے قریب نہ آئیں اور تبلیغ کیلئے دوسرے فریق کا آپ کے قریب آنا ضروری ہوتا ہے“ میں نے اس سے پوچھا” آپ کی یہ تکنیک کس حد تک کامیاب ہوئی“ اس نے ہنس کر جواب دیا” ہم الحمداللہ اس تکنیک سے سینکڑوں لوگوں کو مسلمان بنا چکے ہیں‘ یہ سب نومسلم میری طرح ہیں‘ باہر سے ایڈم اور اندر سے عبداللہ“۔۔۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔

معصوم مجرم

معصوم مجرم
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 22:49
مجھے جنگل میں چھپے آج پانچواں دن تھا۔ پانچ دن سے میں جنگلی پھلوں اور درختوں کے پتے کھا کرزندہ تھا۔ ویسے میری جیب میں نوٹوں کی ایک گڈی بھی تھی ، مگر اس جنگل بیاباں میں وہ رپے میرے لیے ردی کاغذوں کاس ایک ڈھیر کی طرح تھے۔ خودروجھاڑیوں میں چھپے ایک بڑے درخت کے کھوکھلے تنے کو میں نے اپنا ٹھکانا بنالیا تھا۔ سخت زمین پر نرم شاکوں اور پتوں کو بچھا کر بستر سابنالیا تھا، جہاں میں چھپا رہتا۔ جب بھوک لگتی تو باہر نکلتا، ذرا کھٹکاہوتا تو بھاگ کر اپنی پناہ گاہ میں چھپ جاتا۔ پانچ

دن پہلے رونما ہونے والا وہ خوفناکواقعہ بار بار میری آنکھوں کے سامنے اُبھرتا، جب میرے ہاتھوں ایک انسان کا قتل ہوگیا تھا۔ وہ ایک روشن صبح تھی جب جان پہچان کاایک شخص میرے پاس آیا اور درخواست کی کہ میں اس کے ساتھ چلوں۔ اس نے بتایا کہ ایک لفنگا اسے تنگ کرتا ہے اور اس رقم مانگتا ہے۔ میں چوں کہ اچھے قد کاٹھ تھا اور تن سازی بھی کرتا تھا۔ علاقے میں میرادبدبا بھی تھا، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ میں اس کے ساتھ جاکر اس لفنگے کو ذرا ڈرا دھمکادوں۔ مجھے چوں کہ اپنی دھاک بٹھانے کاایک موقع مل رہاتھا، اس لیے میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ اس نے مجھے ایک پستول بھی دیااور کہا: یہ صرف اسے ڈرانے کے لیے ہے۔ہم اسی وقت وہاں پہنچ گئے۔ وہ شخص ایک زیرزمین تہ خانے میں بیٹھاتھا۔ میں نے اس سے بات کی تو اس نے ذرا کٹر دکھائی۔ چنانچہ میں نے اسے ڈرانے کے لیے پستول نکال لیا۔ ہم میں ہاتھا پائی ہوئی۔ اسی دوران اچانک گولی چل گئی۔ وہ شخص خون میں لت پت گرپڑا، جو شخص مجھے لے کر آیاتھا، بولا: یہ کیاکردیاتم نے میں نے توصرف ڈرانے کے لیے کہاتھا، تم نے اسے جان سے مارڈالا۔ اس نے مجھے سے پستول لے لیا اور کہا: جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ پکڑے گئے تو پھانسی چڑھ جاؤ گے۔ میں وہاں سے بھاگنےلگاتواس نے نوٹوں کی ایک گڈی مجھے تھمادی، ساتھ ہی پستول دے کرکہا: اسے کسی ویران جگہ پھینک دینا۔ میں وہاں سے نکلا تو سخت گھبرایا ہوا تھا۔ سوچ رہاتھا کہ کہاں جاؤں ۔ گھر گیا تو پولیس پکڑلے گی۔ رشتے داروں کے ہاں سے بھی ڈھونڈنکالے گی۔ پھر میں نے جنگل میں چھپنے کافیصلہ کرلیا۔ پستول کو میں نے جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ جنگل میں تھوڑی سی تلاش کے بعد مجھے درختوں اور جھاڑیوں میں چھپی یہ کھوہ مل گئی اور میں یہاں چھپ گیا۔ بھوک لگتی تو جنگلی پھل یاپتے کھالیتا۔ قریب ہی ندی بہ رہی تھی، وہاں پیاس بجھا لیتا۔ پانچ دن اور گزرگئے۔ ان دس دنوں میں مجھے کوی انسانی شکل نظر نہ آئی تھی۔ تنہائی کاٹنے کو دوڑتی۔جرم کا احساس الگ جان کھاتا۔ ہر وقت پکڑنے جانے کا ڈرسا لگارہتا۔ اتفاق سے ابھی کسی بڑے درندے سے میرا سامنا نہیں ہواتھا۔ یہ خدشہ بھی ایک دن سامنے آہی گیا۔ میں اپنی پناہ گاہ میں بیٹھا تھا کہ ایک سیاہ چیز کو ادھر آتے دیکھا۔ یہ ایک بڑا کالا ریچھ تھا، جو میری بوسونگتا ادھیر چلاآرہاتھا۔ میں نے اپنی حفاظت کے لیے کچھ پتھر ریچھ کی تھوتھنی پردے مارا۔ تھوتھنی پر لگی ہوئی چوٹ اور میری خوفناک چیخ سے گھبرا کرریچھ غراتا ہوا واپس بھاگ گیا۔ ریچھ تو بھاگ گیا، مگر مجھے ڈرکالگ گیا کہ ریچھ کو میری موجودگی کا پتا چل گیا ہے۔ وہ اپنی چوٹ کا بدلہ لینے ضرورآئے گا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈا جائے۔ میں کھوہ سے نکلا اور کوئی دوسرا ٹھکانا ڈھونڈنے لگا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ کچھ آہٹیں سنائی دیں۔کچھ لوگ ادر آرہے تھے۔ مجھے لگا جیسے وہ میری تلاش میں ہی آرہے ہیں۔ میں بھاگا اور اپنی پناہ گاہ میں آکر چھپ گیا۔ پھر آہٹیں اور آوازیں واضح ہونے لگیں۔ ایک کتے کے بھونکنے کی آواز بھی آئی۔ وہ سدھائے ہوئے کتے کولے کر میری تلاش میں آئے تھے۔ پھرکسی نے کہا: وہ یہیں ہے۔ اس کے قدموں کے نشان ہیں یہاں۔ کھوجی کتا بھی جھنڈے کے پاس آکے بھونکنے لگا۔ تم پولیس کے گھیرے میں آچکے ہو، بالکل نکل آؤ۔ ایک آواز آئی۔ اب چھپے رہنا بے کار تھا۔ میں نہتا تھا اور ان کے گھیرے میں آچکا تھا۔ میں زینگتا ہوا کھوہ سے باہر نکل آیا۔ آؤآؤ۔ پولیس کی وردی پہنے ایک افسر نے نرمی سے کہا۔ کتے کے علاوہ وہ چارآدمی تھے۔ مجھے گھیرے میں لے کر وہ چل پڑے۔میرا اسے جان سے مارنے کاارادہ نہیں تھا۔ گولی اتفاقاََ چل گئی۔ میں نے اپنی صفائی میں کہا۔ پولیس انسپکٹر نے میری طرف دیکھااور کہا: کچھ فکرنہ کرو، اصل مجرم گرفتار ہوچکا ہے اور اس نے اقرار جرم کرلیا ہے۔ لیکن پستول تو میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے حیرت سے کہا۔ ایک پستول مجرم کے پاس بھی تھا۔ جب تمھاری مقتول سے ہاتھا پائی ہوئی تو اس نے پیچھے سے اسے گولی ماردی۔ اس کی مقتول سے دشمنی تھی۔ اس نے سازش کی اور تمھیں ساتھ ملایا تھا، تاکہ اپنا جرم تمھارے سرتھوپ دے۔ مگر آپ اس تک کیسے پہنچے؟ میں نے الجھ کرکہا۔ مقتول کے موبائل ڈیٹا سے مجرم کامقتول سے موبائل پررابطہ ہواتھا۔مجرم کا کہنا تھا کہ وہ بیچ بچاؤ کرارہا تھا مگر تمھارے پھینکے ہوئے پستول نے اس کابھانڈا پھوڑدیا، کیوں کہ جب جھاڑیوں سے ہمیں وہ پستول ملاتو اس پردومختلف ہاتھوں کی انگلیوں کے نشان مٹانا بھول گیا۔ جب ہم نے سختی کی تو اس نے بیچ اگل دیا۔ شکر ہے خدایا۔ میں نے ایک لمبی سانس لے کرکہا۔ اس آزمائش سے تم نے کیاسیکھا؟ انسپکٹر نے پوچھا۔ یہ کہ اپنی طاقت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور․ اور سوچ سمجھ کر کسی پر اعتبار کرنا چاہیے۔ انسپکٹر نے بات مکمل کردیدن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس کے فیس بک پیج پر سینڈ میسج بٹن پر کلک کریں