نوکری چھوڑنے کے پانچ عجیب و غریب انداز

نوکری چھوڑنے کے پانچ عجیب و غریب انداز
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:03
جمعرات کو ایک عجیب واقعہ ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ اچانک ہی ڈلیٹ ہو گیا اور تقریباً گیارہ منٹ بعد اسے بحال کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر خوب باتیں ہونے لگیں۔ کچھ کو لگا کہ شاید انکا اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تو کچھ کو لگا تکنیکی خرابی ہو گئی۔ لیکن جب اس واقعہ کی حقیقت سے پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ کارنامہ ٹوئٹر کے ایک ملازم کا تھا۔اس شخص کا ٹوئٹر کمپنی میں ملازمت کا آخری دن تھا اور نوکری چھوڑنے سے پہلے اس نے اس دن کو یادگار

نوکری چھوڑنا ہمارے کریئر کا ایک بڑا اور اہم فیصلہ ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ دفتر سے پریشان ہوکر، تنخواہ کم ہونے پر یا پھر ساتھیوں کے ساتھ تال میل ٹھیک نہ ہونے پر نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔لیکن کئی مرتبہ ہم خوشی خوشی نوکری چھوڑتے ہیں یا تو ریٹائرمنٹ پر یا بہتر نوکری مل جانے پر، حالات چاہے جو بھی ہوں سب سے اہم یا مشکل ہوتی ہے اپنے باس یا ساتھیوں کو نوکری چھوڑنے کی خبر دینا۔ ہم آپکو نوکری چھوڑنے کے سب سے عجیب و غریب پانچ واقعات بتاتے ہیں۔ 2010 میں سٹیون سلیٹر نام کے ایک مرد ائر ہوسٹس پرواز کے دوران مسافروں سے اتنے پریشان ہوئے کہ انھوں نے پیٹربرگز سے نیویارک جانے والی پرواز کے دوران ہی نوکری چھوڑ دی۔سٹیون مسافروں کو بار با رسمجھا تے رہے کہ وہ زیادہ سامان لیکر جہاز پر سوار نہ ہوں کئی لوگوں نے انکی درخواست کو نظر انداز کیا۔ اس کے بعد سٹیون نے پرواز کے درمیان ہی انٹر کام پر اپنی ملازمت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان سبھی کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے پچھلے بیس سال تک میرا ساتھ دیا’۔ حالانکہ اس طرح نوکری چھوڑنے پر انہیں اپنی کمپنی کو دس ہزار ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑا۔2013 میں کرس نام کے ایک شخص نے جو ہومز ہوائی اڈے پر سرحدی فوج میں کام کرتے تھے ملازمت چھوڑنے کے اپنے فیصلے کا اعلان ایک کیک کے ذریعے کیا۔ کرس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی نوکری سے بیزار ہو چکے تھے اب وہ کیک بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔ماریا شفرین ایک اینی میٹر کا کام کرتی تھیں انہوں نے اپنی نوکری چھوڑنے کی خبر یو ٹیوب پر ایک ڈانس ویڈیو پوسٹ کر کے دی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ ڈانس میرے باس کے لیے ہے جنہیں ہمیشہ اس بات کی فکر رہتی تھی کہ ہر ویڈیو کو کتنے لوگوں نے دیکھا۔ 2011 میں روہڈز آئلینڈ میں ایک ہوٹل کے ملازم نے جب نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو پورے بینڈ باجے کے ساتھ آئے اور باس کے ہاتھ میں استفعی تھما دیا۔ انکا یہ ویڈیو بھی وائرل ہو گیا اور اسے سات لاکھ لوگوں نے دیکھا۔ آج وہ ایک نئے بینڈ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور گانے بھی گاتے ہیں۔ آسٹریلیا کی ایک اخبار میں کام کرنے والے لیوک بینج کو جب معلوم ہوا کہ انکی جگہ کسی اور کو رکھا جا رہا ہے تو انھوں نے نوکری چھوڑنے کا عجیب طریقہ اپنایا اخبار کے ساتھ اپنے آخری ایڈیشن کو ہائی جیک کر کے انھوں اس پر فحش تصاویر لگا دیں اور فرنٹ پیج پر اپنا برہنہ کارٹون بنا کر لگایا۔

دبئی میں جاب کی تلاش

دبئی میں جاب کی تلاش
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:00
اگر آپ دبئی میں جاب حاصل کرنا چاہ رہے ہیں تو یہ میری یہ تحریر خاص آپ کے لئے ہی ہے. دبئی میں جاب کا حصول آجکل بہت سارے لوگوں کی آرزو ہے ۔نوجوانوں کو اپنی آمدن بڑھانے کے لئے ، خوشحالی لانے کے لئے، قرضوں سے جلدی چھٹکارا پانے کے لئے یا اپنی محنت کا اچھا معاوضہ پانے کے لئے یو اے ای یا قریبی دوسرے خلیجی ممالک میں جاب تلاش کرنے کا اچھا موقع ہے . اگر آپ دبئی میں جاب حاصل کرنا چاہ رہے ہیں تو یہ میری یہ تحریر خاص آپ کے لئے ہی ہے. دبئی

کا حصول آجکل بہت سارے لوگوں کی آرزو ہے . نوجوانوں کو اپنی آمدن بڑھانے کے لئے ، خوشحالی لانے کے لئے، قرضوں سے جلدی چھٹکارا پانے کے لئے یا اپنی محنت کا اچھا معاوضہ پانے کے لئے یو اے ای یا قریبی دوسرے خلیجی ممالک میں جاب تلاش کرنے کا اچھا موقع ہے .کیونکہ ایک تو یہ پاکستان کے قریب ہیں ، کبھی بھی صرف دو سے تین گھنٹے کی فلائٹ سے آ جا سکتے ہیں دوسرا وہاں پر آج بھی اچھی جاب ملنے کی امکانات موجود ہیں. لیکن اس کے لئے پہلے اچھی معلومات کا ہونا بھی بہت ضروری ہے . اب ذرا میری اگلی ترتیب دہ باتوں کو آرام و دھیان سے پڑھیے اور اس پرعمل کیجئے گا.١. دبئی میں مناسب جاب حاصل کرنے کے لئے آپکے پاس کالج لیول کی تعلیم اور ایک / دو سال کا تجربہ ہونا لازمی ہے. اس سے زیادہ ہو تو کیا ہی بات ہے جناب…مگر یہ بھی نہیں کہ اس کے بغیر جاب نہیں مل سکتی ، مل جائے گی مگر بہت کم لیول کی ، زیادہ وقت و محنت والی اور پھر ساتھ میں سالانہ اچھی ترقی و تنخواہ نہیں ہو گی .٢.اسکے بعد سب سے پہلے خود کو ذہنی طور پر بہت سارے وقتی سمجھوتے کرنے پر تیار کریں کیوں کہ میڈیا میں نظر آنے والا دبئی وہاں سیر کرنے جانے والوں کے لئے ہے . مگر وہاں جاب کرنے والوں کے لئے شروع کے کچھ سالوں کے لئے ذرا مختلف ہے جس کے لئے قدم قدم پر آپکو صبر ، ہمت ، برداشت، سمجھوتے وغیرہ کرنے پڑیں گے، گرم موسم ، ایک کمرے میں کافی لوگوں کے ساتھ بنکر بیڈ پر رہنا، کئی مرتبہ دن میں صرف ایک دفعہ ہی اچھے سے کھانا، گھر والوں کی یاد وغیرہ وغیرہ. . . مگر یاد رہے کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا تو پڑتا ہی ہے. ہو سکتا ہے کہ اچھی جاب ملنے پر آپ کو کافی سہولت ہو جائے اور سب کچھ جاتے ہی سیٹ ہو جائے یا کچھ وقت لگے مگر آپ نے پہلے سے یہ سب ذہن میں لازمی رکھنا ہے.٣. اپنے تعلیمی اسناد ، تجربہ لیٹر، سی وی کی سوفٹ کاپی، پاسپورٹ اور کم از کم پندرہ سفید بیک گراؤنڈ والی پاسپورٹ سائز تصاویر کو تیار رکھیں. ساتھ ہی انگلش بول چال اور لکھنے میں ذرا روانی بھی لائیں کہ یہ بہت فرق ڈالنے والی بات. یہ بھی یاد رہے کہ دبئی میں اچھے عہدے کی جاب کے لئے آپکو اپنی تعلیمی اسناد کو متعلقہ تعلیمی بورڈ ، ایچ ای سی ، فارن آفس اور یو اے ای کی ایمبیسی سے پاکستان میں ہی جانے سے پہلے اتیستتیوں کروانی پڑے گی. دبئی جانے سے پہلے یہ کام کروا لیں تو یقین مانیں بہت سہولت ہو جائے گی . آجکل تو یہ سب ویسے بھی بہت آسان ہو گیا کہ کچھ اچھی کورئیر کمپنیز یہ کروا دیتی ہیں. یہ سب نہ بھی ہو تو بھی جاب مل سکتی، آپ بعد میں بھی کروا سکتے مگر بہترین ادارے میں جاب کے لئے یہ سب شروع میں ہی لازمی ہوتا ہے. اس لئے بہتر یہی ہے کہ پہلے ہی کروا لیں.٤. سب سے اہم بات کہ جاب کے لئے آپ کا دبئی میں خود موجود ہونا بہت ضروری ہے کہ ادارے انہی کو انٹرویو کے لئے پہلے فون کال اور پھر ای میل کرتے جو دبئی میں موجود ہوں. یاد رہے کہ دبئی میں پہلے سے آپکے کسی دوست یا رشتہ دار کا ہونا بہت ضروری ہے . جو آپ کے لئے رہائش کا بندوبست کر سکے . اپنے پاس رکھے یا کسی دوسری جگہ بیڈ سپیس کا انتظام کرے. اور پھر آپ جہاں بھی رہیں گے وہاں وائی فائی کا ہونا لازمی ہو جو بہت اہم ہے باقی کھانا پینا تو آپ اپنے روم میں خود بنا سکتے، شیئرنگ پر کر سکتے یا باہر ہوٹل سے بھی کھا سکتے ہیں. اپنا یا کسی دوست کا لیپ ٹاپ ہو تو کیا ہی بات ورنہ آپ کسی نیٹ کیفے بھی جا سکتے مگر یہ مہنگا بھی پڑتا ہے اور کئی جگہ تو نیٹ کیفے کافی دوری پر ہوتا ہے.٥. تو پھر جناب اب کسی ” اچھے جاننے والے” کی مدد سے دبئی کے لئے وزٹ ویزا کے لئے اپلائی کریں جو کہ تقریباً تین دن کے اندر مل ہی جاتا ہے. یاد رہے کہ ٹریول ایجنٹ کو آجکل ویزا فیس کے ساتھ قابل واپسی سیکورٹی بھی جمع کروانی پڑتی ہے. پھر اسکے بعد آپک و آنے جانے کا (ریٹرن ) ٹکٹ بھی لینا پڑے گا اسکے لئے پہلے ہی دیکھ لیں کہ کون سی ایئر لائن آپکو سستی پڑ رہی ہے جو کہ آپ خود بھی مختلف ایئر لائن کی ویب سائٹ پر جا کر چیک کر سکتے ہیں. یاد رہے ویزا نکلنے کی بعد بھی آپ کے پاس دو مہینہ کا وقت ہوتا کہ اس کے اندر اندر آپ دبئی جا سکتے یہ نہیں کہ آج صبح ملا تو بھاگم بھاگ میں لگ گئے . آرام و تسلی سے سب کرنا ہے بس.٦. دبئی میں پہلے دن ہی وہاں کی سم حاصل کریں اور موبائل نمبر کو اپنی سی وی میں لکھیں اب آتا اصل مرحلہ … جاب اپلائی کرنے کا… اگر آپ وہاں کا مشہور اخبار ” گلف نیوز”روزانہ خرید کر پڑھیں ، تاکہ ذرا انگلش بھی بہتر ہو، موجودہ حالات سے بھی با خبری ہو اور ساتھ ہی جاب کے اشتہارات بھی دیکھ سکیں . یاد رہے کہ دبئی میں تقریباً ہر جگہ پہلے ای میل یا آن لائن ہی اپلائی کرنا پڑتا ہے… پھر انٹرویو کے لئے ادارے آپ سے فون کال اور ای میل پر خود ہی رابطہ کریں گے…جاتے ہی انٹرویو کال کا انتظار نہیں کرنا. پہلا ہفتہ سمجھیں صرف اپلائی کرتے ہی گزر جانا ہے اسکے بعد آپکو رسپانس ملنا شروع ہو گا.٧. آپکی سہولت کے لئے آن لائن جاب کی تلاش اور اپلائی کرنے کے لئے کچھ اچھی و مفید ویب سائٹ دی جا رہی ہیں جن پرآپ اپنا فری اکاؤنٹ اور سی وی بنا کر مختلف جاب کے لئے اپپلائی کر سکتے ہیں. ان کو ” روزانہ” کی بنیاد پر چیک کریں. اس کے علاوہ بھی اور بہت اچھی سائٹس ہیں جو آپکو آن لائن جاب سرچ کرنے کے دوران نظر آئیں گی . کچھ ہائرنگ کمپنیز کی سائٹس پر جاب اپپلائی کے لئے پیسے بھی درکار ہوتے ہیں مگر آپ فی الحال فری سہولت والی سائٹس سے ہی کوشش کریں.www.indeed.ae www.careerjet.ae www.monstergulf.com www.dubai.dubizzle.com www.gulftalent.com www.naukrigulf.com www.efinancialcareers.com www.laimoon.com/uae٨. اگر آپ کے پاس مختلف فیلڈ کا تجربہ ہے تو سب کی علحیدہ علحیدہ سی وی بنائیں اور پوسٹ کے لحاظ سے اپپلائی کریں، یہ نہیں کہ مارکیٹنگ کی جاب کے لئے اکاؤنٹس کا تجربہ سامنے ہو..یاد رہے کہ ادارے سی وی کے شروع سے ہی پہلا اندازہ لگاتے ہیں اگر شروع میں ہی جاب کے مطابق تجربہ لکھا ملے تبھی وہ مکمل سی وی پرغور کرتے ہیں. یہ اصول صرف باہر ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی جاب اپپلائی کرتے ذہن میں رکھا کریں. خاص طور پر آن لائن کیوں کہ اس میں سی وی کی بھر مار ہوتی ہے.٩. دبئی قیام کی دوران ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ فی الحال وہاں ایک مقصد ” جاب کا حصول” لے کر آںے ہیں تو اپنی پوری توجہ اسی مقصد پر صرف کریں. اپنے قیام کے آخری دن تک دل جعمی و دلچسپی سے جاب سرچ کریں. فضول میں باہر کی آوارہ گردی سے اجتناب کریں اور اپنا پورا فوکس جاب کی تلاش میں لگا دیں. دبئی میں موجود اپنے جاننے والوں کو اپنے قیام کی مقصد سے آگاہ کریں تاکہ وہ بھی آپکو کوئی جاب ریفر کر سکیں. خود بھی انٹرنیٹ پر خوب سرچ کریں اور مختلف اداروں کی ویب سائٹ پر جا کر ان کے کیریئر سیکشن پر اپپلائی کریں.١٠.دبئی میں اپنے ابتدائی دنوں میں ہی کسی دوست کی ساتھ مل کر میٹرو بس اور ٹرین پر سفر کرنے کا طریقہ سیکھ لیں تاکہ انٹرویو پر جانے کے لئے مشکل نہ ہو. ہمیشہ راستہ و منزل اچھے سے کونفرم کر کے ہی جائیں اور وقت سے کافی پہلے نکلیں تاکہ آرام و تسلی سے جا سکیں. وہاں کے قوانین کا خاص خیال رکھیں. باہر سفر کرتے ہوے پاسپورٹ اور ویزا کی فوٹو کاپی ضرور ساتھ میں رکھیں.١١. انٹرویو کے لئے فون کال آئے تو اطمینان و غور سے سمجھ کر سنیں . جو نہ سمجھ آئے وہ دوبارہ پوچھ لیں. بات کا جواب اعتماد سے دیں. یہی باتیں انٹرویو دیتے ہوئے ذہن میں رکھیں. انگلش کو اچھے سے سمجھنے کے لئے پہلے ٹھیک سے سننا بہت ضروری ہوتا ہے. اگر آپ کو سٹارٹ میں چار سے پانچ ہزار درہم تک کی آفر ملتی تو قبول کرنے میں ہرج نہیں کہ اگر آپ خود کو ساتھ ساتھ بہتر بناتے جائیں گے تو اچھی تنخواہ و ترقی لازم ہے. اس سے کم تنخواہ پر کام ملنا آسان ہے مگر پھر سمجھوتے کرنا ذرا زیادہ بڑھ جاتے ہیں. یاد رہے کہ یہ صرف ایک مشورہ ہے ، باقی فائنل فیصلہ آپ نے اپنے موجودہ حالات دیکھ کر ہی کرنا ہے کہ آپ کو کم از کم کتنے تک کی تنخواہ” وارے” میں ہے.. .بہت بہتر ہو کہ اس بارے میں بھی آپ پاکستان سے ہی ذہن بنا کر آئیں.١٢. لازمی یاد رکھیں کہ دبئی میں جاب شروع کرنے ، چھوڑنے، کسی دوسری کمپنی میں جانے، چھٹیاں حاصل کرنے یا پاکستان مستقل واپس آنے کی اصول و ضوابط پر لازمی عمل کرنا ہوتا ہے. جس پر عمل نہ کرنے سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے . اس لئے کوشش کریں کہ اس بارے میں اپنے وہاں پر موجود دوستوں سے معلومات لے لیں یا خود آن لائن لیبر لاء کی پالیسی کو پڑھ لیں. یہ بھی یاد رہے کہ جاب ملنے پر اکثر کمپنیز آپ کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں اور آپکو کوئی خاص ضرورت پڑنے پر ہی واپس کرتی ہیں. (اگرچہ انکا یہ کام قانون کے خلاف ہے اور آپ شکایت بھی کر سکتے ہیں مگر بات آتی ہے پھر “مجبوری کا نام شکریہ” والی بس).١٣. حرف آخر یہ ہے کہ اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرنے کے بعد نتیجہ الله پر چھوڑ دیں. اگر دبئی میں جاب آپکے لئے بہتر ہو گی تو رب آپکا ضرور انتظام کر دے گا. بس آپ نے آخری دن تک بھرپور کوشش کرنی ہے . اگر دبئی میں جاب نہ ملے اور پاکستان واپس آنا پڑے تو دل چھوٹا مت کرنا. پاکستان میں ہی کوشش جاری رکھنا یا اگر کوئی انتظام ہو سکے تو کچھ عرصہ بعد پھر سے دبئی جا کر کوشش کر لینا..یہی سوچنا کہ چلو جاب نہ سہی اسی بہانے ایک نئے ملک کی سیر ہی ہو گئی . جہاز کا سفر بھی ہو گیا. دبئی کی دنیا بھی دیکھ لی ، کچھ اور نہیں تو دبئی جانے کا اور دیکھنے کا آپکا خواب تو پورا ہو ہی چکا نا.

اگر آپ ایک گیلن پانی روزانہ پئیں تو کیا ہوگا؟

اگر آپ ایک گیلن پانی روزانہ پئیں تو کیا ہوگا؟
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:57
اگر آپ ایک گیلن (3.7 لیٹر) پانی روزانہ پینا شروع کردیں تو کیا ہوگا؟ سننے میں تو یہ بہت زیادہ لگتا ہے کہ مگر یاد رکھیں کہ جسم کا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے تو اتنا پانی پینا کوئی خاص بات نہیں۔ تاہم روزانہ اتنا پانی پینے پر آپ کے ساتھ یہ 7 چیزیں ضرور ہوسکتی ہیں جو کہ ڈان کی ایک رپورٹ میں شائع کردہ ہیں۔ شروع میں پیٹ پھولا ہوا لگے گا اگر آپ اچانک ہی پانی کااستعمال بڑھا دیں گے تو آپ کو غیراطمینان بخش تک پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوگا۔ فکرمند مت ہوں یہ

ختم ہوجائے گا تاہم دن بھر میں ایک ساتھ گلاس پینے کی بجائے کچھ گھونٹ لے کر پینا اس احساس کو کم کرسکتا ہے۔ہر وقت پیشاب آنا جب پیٹ بھرنے کا احساس ختم ہونا شروع ہوگا تو آپ جسم میں موجود اضافی نمکیات کو باہر نکالنے لگیں گے اور بار بار ٹوائلٹ کے چکر لگانے پڑسکتے ہیں۔ تاہم اس عمل کے نتیجے میں آپ کے جسم کے لیے غذا کو ہضم کرنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ اور بار بار ٹوائلٹ سے جانے سے آپ کو جسمانی طور پر زیادہ حرکت کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔خوراک کی کم مقدار استعمال کرنے کا امکان اس کی ایک وجہ ہے جب ہی طبی سائنس تجویز دیتی ہے کہ کھانے سے پہلے ایک گلاس پانی پینا جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ آپ کو پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے جو آپ کو بہت زیادہ غذا جسم کا حصہ بنانے سے روکتا ہے۔بہتر ورزش پانی جسم میں آکسیجن اور گلوکوز کو درست طریقے پہنچانے سے مدد دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ ورزش کے دوران خود کو توانائی سے زیادہ بھرپور محسوس کرتے ہیں۔ مزید براں یہ جوڑوں اور مسلز کے لیے لبریکنٹس کا کام کرتا ہے۔جسمانی وزن میں کمی اگر آپ زیادہ پیشاب کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ جسمانی فضلے کو زیادہ خارج کررہے ہیں، آپ کم کھاتے ہیں اور زیادہ بہتر ورزش کرپاتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ پانی پینا بذات خود وزن کم نہیں کرتا مگر اس مثبت اثرات ضرور فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔آنکھوں کے نیچے حلقے غائب ہوسکتے ہیں آنکھوں کے نیچے حلقے عام طور پر جسم میں نمکیات کی مقدار بڑھ جانے کی بدولت بھی نمایاں ہوجاتے ہیں ، خاص طور پر اگر آپ زیادہ نمکین غذائیں یا رات گئے اسنیکس کھانے کے عادی ہو تو وہ نمک پپوٹوں کے نیچے جمع ہونے لگتا ہے۔ زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں اضافی نمک جسم سے باہر نکل جاتا ہے جس کے نتیجے میں آنکھوں کے گرد حلقے بھی غائب نظر آنے لگتے ہیں۔پانی کی طلب بڑھتی ہے جتنا آپ پانی یا کوئی مشروب استعمال کریں گے اس کی طلب بھی اتنی ہی بڑھے گی تاہم دیگر مشروبات کسی بھی طرح صحت کے لیے فائدہ مند نہیں۔ خوش قسمتی سے پانی مفت، خالص اور جسم کے لیے محفوظ ہوتا ہے، وہ آپ کے لیے بہترین مشروب ہے۔

قصہ ہشت درویش

قصہ ہشت درویش
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:24
آٹھویں درویش نے پہلے درویش سے کہااتنی طول طویل خرافات سُن کر سر میں درد سا ہونے لگا ہے پہلے مجھے اونٹ مارکہ بیڑی پلا ،کہ حواس قائم ہوں تاکہ پھر اپنی دلدوز داستاں سنا کر تیرے بھی سر میں درد لگا سکوںپہلے درویش نے دوسرے درویش کی جیب سے بیڑی نکال کے پیش کیدو کش لگانے کے بعد یہ بزرگ یوں گویا ہوا بچپن تھانیرنگی زمانہ دیکھیے کہ خبر ہی نہ ہوئی اور جوانی آن ٹپکیایک عفیفہ کہ نام اُس کا اب ذہن میں نہیںالبتہ اس کے والد گرامی شہرکے سب بڑے کھمبوں پہ رات کو لالٹین باندھ کر

دارین کمایا کرتے تھے، تاکہ اللہ کے وہ بندے جو رات کو دوسروں کے گھروں میں روزی روٹی کے سلسلہ میں نقب لگاتے ہیں ، اُن کو مشکل نہ ہو(لوگ ایویں بکواس کرتے ہیں، کہ ڈاکو ان کو باقاعدہ حصہ دیا کرتے تھے)اور دن میں سود پہ پیسہ دے کر خدمت خلق کیا کرتے تھےایسے لوگ اب جہاں میں کہاں ملیں گےتو ایک روز اس عفیفہ نے مجھے رستہ میں گزرتے ہوئے کہا، اے بھلے آدمی! مدت سے تو مجھے روزن دیوار سے دیکھا کرتا ہےکیوں نہ تو مستقل ہمارے گھر میں ہی منتقل ہو جائےوالد گرامی ایک عدد ملازم کی تلاش میں ہیں ، جو اُن کے ساتھ مل کر دن رات اللہ کی مخلوق کی خدمت بجا لائےمیں نے باقاعدہ بغلیں بجائیںاور ساڑھے تین درم کے بتاشے لے کر وہیں غربا میں تقسیم کیاتفاق سے اس وقت ہم دونوں ہی وہیں تھےگھر تو اپنا نام کا تھاسو ہمسایے کا ہی ایک جوڑا چھت سے اٹھایااور اُس عفیفہ کے گھر جا وارد ہوئےپہنچتے ہی اُس خضر صورت بزرگ نے میرا ماتھا چوما اور لالٹینوں میں تیل ڈالنے پر مامور کیا چند ہی روز میں ہمیں یقین ہو گیا، کہ یہ عفیفہ ہم سے محض فلرٹ کر رہی ہےسو اُس شب ہم نے اُس بزرگ کے گھر کو خیر باد کہہ دیادل دنیا سے اوب سا گیا تھادنیا کے مال سے نفرت ہو چلی تھیاسی لیے سوچا ، کیوں نہ اس بزرگ کو بھی اس آزار سے نکالتے چلیںسو چلتے چلتے اُس کی تجوری کا بوجھ ہلکا کیا اور شہر سے باہر نکل پڑادیکھا تو صحرا میں ایک جگہ کچھ لوگ الاؤ کے گرد رقص کرتے تھے اور نامانوس زبان میں عجب نغمے گاتے تھےاُن کے ہاتھوں میں چھوٹےچھوٹے پیالے تھےجن میں نجانے کوئی مشروب تھاصحرا، رات، رقص،الاؤ، مشروبمیں نے بزرگ کی دولت کو کمر سے کس کے باندھا اور اُس حلقہ میں شامل ہواتھوڑی دیر میں ان میں سے ایک نے میرے ہاتھ میں وہی جام پکڑایاخمار میں تھاایک ہی لمحہ میں سارا جام چڑھا گیارقص کرتے کرتے مجھے لگا، کہ آسماں کے تارے میرے قریب ہی کہیں آ گئے ہوںبلکہ ایک دو کو تو ہاتھ بڑھا کر میں نے پکڑنا چاہااسی دوران میں معرفت کی دنیا میں اتر گیااور پھر میری آنکھ اگلی صبح ہی کھلیفوراً کمر کی طرف ہاتھ بڑھایا، تو خبر ہوئی کہ وہ بھی میرے درویش بھائی تھےاور مجھے دنیا کے علائق سے ہٹا دینے پہ مامور تھےحق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھےتیسرا درویش: اے پیر جواں سالابھی سے سر دو اسپرین والی درد سے بھر گیا ہےاپنی داستان کو کل رات تک اٹھاکہ آج رات مجھے کل رات کی تھکن اتارنا ہےوہ والی تھکن جو پرسوں رات چوتھے درویش کے چوتھے عشق کا قصہ سنتے سنتے ہوئی تھی پانچواں درویش: بھلے لوگو! مدت ہوئی ملائی کا برف کھائےتم میں سے کوئی شہر جائے اور کسی نیک دل تاجر کو سفوفِ دلپذیر سنگھا کرصبح تک کے لیے میٹھی نیند سلا کر اس کی دعائیں لےاور ملائی کا برف اُس کے برفاب خانے سے لائےکیا کہا تھا گنجوی خراسانی نے اک آگ لگی میری سینے میں ہائے ظالم نے کیا مصرعہ کہاتیر ہی تو مار ڈالا سینے میںچھٹا درویش: تیر سے یاد آیا درویش بھائیو! تمہیںبھی کچھ یاد آیا؟؟ ایک تھا تیر انداز ، ایک تھی کمان اور ایک ہی تھا تیر اُس مردِ نیک نہاد نے کمان کا چلہ کھینچاتیر چڑھایااور پھر ساتواں درویش: پھر کیا ہوا؟ آٹھواں درویش:پھر خاک ہونا تھادن چڑھنے کو آ گیا ہے اور ابھی ملائی کا برف نہیں آیاتف ہے ایسی درویشی پہ پہلا درویش: بھائیو! دنیا فانی ہے اور آنی جانی ہےکیوں خواہشات دنیا میں اتنا مگن ہوتے ہوعبرت سرائے دہر میں ہر منظر سے عبرت پکڑوہمارے ہمسائے ہی میں ایک خوبرو ، فرشتہ صفت عطار کا لونڈا دوائیں بیچتا تھاکل میں اس سے دوا لینے گیا تو بھلا چنگا تھاحیرت ہے کہ آج شام میں اس کوچے میں گیا تو اسے دیکھ کر میری سٹی گم ہو گئیکچھ دیر میں اپنی سٹی ڈھونڈتا رہاجب مل گئی تو کیا دیکھتا ہوںکہ وہ بدستور بھلا چنگا ہی تھاکیا زمانہ آ گیا کیا زمانہ آ گیاآٹھواں درویش: رات تمام ہوئیمگر نہ میری داستانِ درد تم نے سماعت کی اور نہ خس خانہ برفاب کا وہ جگر پارہ آیاجسے کہیں تو شہنشاہِ اثمارکے رس میں ملا کے پیش کرتے ہیں تو کہیں مرکب اسود یعنی موسوم بہ چکلیت میں ملا کے نوش جاں کرتے ہیں کہیں رس بھری کارس اس میں ملاتے ہیں تو کہیں میوہ ہائے خشک کا انبار اس کے تودہ پہ استادہ کرتے ہیںہائے نواب اجہل الزماں کے دیوان خانہ کی رونق ! وائے ملک یسارالدولہ کے زنان خانہ کی رونق!!استغفراللہ! یہ کیا ہفوات بک گئے ہم ہم کہنا چاہ رہے تھے ملک یسارالدولہ کے نعمت خانہ کی رونق یہی ملائی کا برف ہی تو ہوتی تھیقسما قسم ذائقوں اور فواکہات میں ملوث و ملفف کر کے نقرئی طشتریوں میں ادھ کھلے چاند کی راتاے چشم فلک! دہائی ہےدہائی ساتواں درویش: صاحبو! دیکھتا ہوں کہ لذائذ جسمانی و نفسانی کے بہت دلدادہ ہوتے جاتے ہونفس کا غلام اور تربوز کا بیج ایک ہی خاصیت رکھتے ہیںکچھ عرصہ قبل تک تو یہ خاصیت مجھے یاد تھیاب بھولنے لگا ہوںایک تجویز ہے کہ ہم آٹھوں بھائی آج رات نکلیں اور گلیوں کوچوں میں آوارگی کریںنئے لوگ، نئی کہانیاں،نئی خوشبوئیں، نیا کوتوال اور نئے سپاہیکوتوالی کے سابقہ ملازم تو ہم آٹھوں بھائیوں کی جان کے درپے ہی ہو گئے تھے قرارداد منظور ہوتی ہے آدھی رات کے قریب کا وقت ہے، چاند ڈیڑھ نیزے پہ اور سورج بستر میں پڑا ہےتارے دون کی لے رہے ہیں اور ستارے خرگوش کی نیند سے حظ اٹھاتے ہیںایسے میں یہ قلندر صفت مردان باصفا شہر کی سیر کو نکلتے ہیںاگلی شب: تکیے پہ آٹھوں درویش ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈال کے حال کھیل رہے ہیںتزکیہ نفس اور اسرار معرفت کی یہ مجلساللہ اللہ پہلا دریش کہ عمر اور قفس کے تجربے میں سب سے فائق تھایوں گویا ہوااے چمنستان معرفت کی بلبلو! کل رات کی داستاں جلد سناؤ، کہ عقل جلا مانگتی ہے ذرا یہ نمدہ تو ادھر کھسکاناآٹھواں درویش: صاحبو! کل رات جو میں تکیے سے نکل شہر میں وارد و صادر ہواتو بیڑی جلانے کو لمحہ بھر ایک گلی کی نکڑ پہ رکا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گدھا ایک پختہ عمر کو کان سے پکڑ کے کھینچے جا رہا تھادم بخود، انگشت بدنداںفہم نماندیا خدا یہ کیا ہو رہا اس شہر میں تھوڑا آگے چلا تو ایک درویش کو شرطوں کی وردی میں دیوار پھلانگ کر ایک تاجر کے گھر جاتے دیکھاپوچھا ، اے درویش بھائی تم تو بندی خانے میں تھےکہنے لگا، چپ کر میں چپ ہو ررہاآگے چلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑھیا غازہ و خم کاکل لگائے سجائے بیچ رستے کے تخت بچھائے بیٹھی ہے اور ہر آنے جانے والے کو آخرت سے ڈرا رہی ہے صاحبو! یہ دیکھ کر میری تابِ مجال جواب دی گئیاور شہر سے صحرا کو نکل آیاالبتہ اتنا ضرور ہوا کہ نکلتے نکلتے ایک بھاگتے ہوئے چور کی لنگوٹی ضرور لے آیاشکر ہے وہ درویش بھائیوں میں سے نہیں تھااللہ بس باقی ہوسساتواں درویش: صاحبو! میں جب شہر پہنچا تو دیکھتا ہوں کہ امیر شہر کی سواری جاتی ہےخدام حشم جلو میں قطار اندر قطار چلتے تھےیہ دیکھ کرحصول خلعت شاہی کی پرانی خواہش میرے اندر عود کر آئی اور میں نے آوازہ ہوس بلند کر دیاافسوس ہے اس نفس پہمیں نے صدا دی! اے امیر شہرتیری توصیف کو تملق بھی کمتر صنعت ہے اور تیری صورت کی مدح کو خود نظیفی و اباابائی قصیدہ لکھ کر لائیں تو حق ادا نہ کر سکیں گےشجاعت کا تذکرہ کروں یا سخاوت کاابھی یہ سب کہہ رہاتھا کہ امیر نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دیا ور کہا درویش لگتے ہومیں بھی کبھی درویش تھایہ بتاؤ بستہ الف کے درویش ہو یا بستہ ی کےمیں حیران ہی تو رہ گیاامیر شہر نےمیری تلاشی کا حکم دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پچھلے ہفتے جو ہار ہم نے شربت روح افزا پلا کر فارس کے تاجر سے ہدیتاً وصول کیا تھااُس کو دیکھ کر کہنے لگاایسی رعایا مالک دوجہاں ہر ایک کوعنایت فرمائےکہ بادشاہ کی زیارت کو آویں تو ایسے خوبصورت تحفے لے کر آویںہم تیرا یہ ہدیہ قبول کرتے ہیں سر پیٹنے کا مقام تھاسو خوب پیٹاجانب صحرا آئے اور سر میں مٹی ڈال کر رقص درویش کیااور اس شعر کی قوالی کیا کیے درویشی بھی ہے عیاری، سلطانی بھی ہے عیاریچھٹا درویش: تکیے کے بھائیو! مدت ہوئی میں بادیہ گردی کا اسیر ہوااور شہروں کی بود و باش سے تائباور صرف صحراؤں میں بھٹکے قافلوں کو مزید بھٹکا کر نان شبینہ کا انتظام کیا کرتا تھاکل جب آپ کی تجویز و قرارداد پہ شہر میں جا موجود ہواتو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مانوس شکل سرائے کی انتظارگاہ میں قہوے کے فنجان کے فنجان لنڈھا رہی ہےغور کیا تو یہ اعلیٰ حضرت نادرکلوروی ثم بغدادی تھےان کے ایک قافلے کو ایک دفعہ بیچ صحرا کے اس فقیر نے دنیاوی مال و دولت کے دلدر سے چھرایا تھاحضرت کی نظر مجھ پہ پڑی تو اپنے چار ہٹے کٹے مریدوں سمیت فوراً آن ملےانتہائی محبت سے ملےان چاروں نے بھی باری باری معانقہ کیااس عمل میں ہماری تین پسلیاں مجروح ہوئیں اور باقی مضروباسس کے بعد وہ مجھے باصرار اپنے حجرے میں لے گئے اور ان چاروں احباب کو میرے ساتھ حال بے حال کھیلنے کا حکم دیاانہوں نے تعجیل سے تعمیل کیاس سے آگے بیان میرے بس میں نہیںبس یہی کہہ رہا ہوں تب سے درویش کی موت آئے تو شہر کا رخ کرتا ہے پانچوں درویش: بھائیو! اب تم سے کیا چھپاؤں، جب رات میں نے شہر کا قصد کیا تو مجھ پہ نیند کا غلبہ ہوااتنا غلبہ اتنا غلبہ ہواکہ میں چلتے چلتے رستے میں موجود ایک کٹیا میں پڑ کے سو رہادن چڑھے ہوش آئیتو واپس آ گیانادم ہوں معافی کا خواستگار ہوں ہاں اتنا ضرور ہے کہ رستے میں ایک پان فروش کو چونا لگاتے دیکھا تو خود اس کو چونا لگا کر سکھایا کہ اصل میں چونا کیسے لگاتے ہیںیہ جو ہندوستان کے خوشبو دار پتوں میں خوشبو کی لپٹیں مارتا قوام آپ چبا رہے ہینیہ اسی مرد حق پرست کا ہی آپ بھائیوں کے لیےتحفہ تو تھاچوتھا درویش: یہ شہر بھی عجیب ہوتے ہیںایسے ایسے لوگ ان میں جا بستے ہیں جن کی جیبیں بھری اور دل و دماغ خالی ہوتے ہیںمدت سے میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا احقر العباد قدس سرہ العزیز کے دروس ہائے فلسفہ سے اپنے علمی پیاس بجھایا کرتا ہوںآج جو شہر کا رخ کیا تو ان کا مدرسہ سامنے آ گیادل کی ضد کہ شیخ کی قدم بوسی کی جائے اور ادھر سے آپ بھائیوں کے حکم کی بجا آوریسو میں نے ایک درمیانی راہ نکالی اور سنیما میں لگی تازہ نمائشِ متحرک تصاویر(فلموں) کے اشتہار دیکھنے لگاان میں سے ایک مجھے بہت بھایانام کچھ یوں تھا ’’اندلس کے باغات میں لختئی رقص‘‘ بمعہ چہار ہزلیات از نواب مسؤل امبیٹھوینصف درم خرچ کر میں وسطی طبقے میں جا بیٹھاپردہ سیمیں پہ عجب مناظر تھےعجب ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی ، کہ برق خود مختار بعد از تبسم رخصت ہوئیہمیں وطن مالوف کی بہت یاد آئیجہاں ایسی ہی برکات و فیوض رئیس سلطنت کے دم قدم سے جاری تھیں صاحبو! اُن کانام نامی تو آپ بخوبی جانتے ہوں گےمیں نے نعرہ مستانہ بلند کیا تمام ناظرین وجد میں آ گئے اور رقص بسمل شروع کیاموقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے ٹکٹیں ان کی جیبوں میں اور نقدی و ماکولات اپنے جبہ میں منتقل کرنا شروع کیںپھر اسی ہاؤ ہو میں سے نکلےشہروالوں کی عاقبت ناندیشی پہ سخت تاسف کرتے کرتے آپ بھائیوں کی خدمت میں دوبارہ ھاضر ہوا شک نہیں کہ کبوتر با کبوترباز بہ بازباری تھی تیسرے درویش کیلیکن اس نے ہوشیار ریل مسافر کی طرح عین وقت پہ ایک ہزار رکعت نفل کی نیت کیتاکہ مالِ مسروقہ شریفہ میں درویش بھائیوں کو شامل کرنے کی نوبت نہ آئے کیا وقت آ گیاکیسے لوگ چہرہ زمین پہ آن بسےاتنی حرصاتنا لالچالحفیظ و الامان دوسرے درویش کی ڈھنڈیا پڑیتو پتہ چلا کہ وہ پہلے درویش کی معیت میں پچھلی رات کا تمام مال غنیمت سمیٹ کر کب کے یاد خدا میں مصروف ہونے کو پہاڑ کی کھوہ کا رخ کر چکے نفل پڑھتے درویش نے کمر کے پٹکے کو اور زور سے باندھا اور سلام پھیرے بغیر ہی جانب مشرق برہنہ پا دوڑ لگا دی بقیہ پانچ درویشوں نے ایک دوسرے کی داڑھیاں اور جبے ہاتھوں میں لیے اور حال کھیلنے لگے وہ دن اور آج کادن سب درویش ویرانوں میں بستے ہیںہاں کبھی کبھار شہروں کا رخ کرتے ہیں تو براہ راست ایوانوں میں پہنچائے جاتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں چلتے ہو تو صھرا کو چلیے والسلام مع الاکرام

ہاتھ کی رگوں میں خون نیلا کیوں نظر آتا ہے؟

ہاتھ کی رگوں میں خون نیلا کیوں نظر آتا ہے؟
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:20
خون کا رنگ سرخ ہوتا ہےاور یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کے جسم میں خون کسی اوررنگ کا ہو مگر آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہو گا کہ آپ جب بھی اپنے جسم کی ابھری ہوئی نسوں(رگوں) کو دیکھتے ہیں تو آپ کو ان رگوں میں نیلاہٹ نظر آتی ہے یعنی یہ نیلی نظر آتی ہیں جبکہ دوسری جانب ان نسوں پر دوڑنے والا خون سرخ رنگ کاہوتا ہے، سرخ ہونے کےباوجود ہاتھوں کی رگوں میں خون کا رنگ نیلا کیوں نظر آتا ہے اور اس کی کیا وجہ ہے ، اس سوال کا جواب یہہے کہ ہمارے جسم

انتہائی باریک رگیں جو ایک جال کی صورت میں پھیل ہوتی ہیں جو دل سے خون لے جانے اور اسے واپس دل تک پہنچانے کا کام سر انجام دیتی ہیں ،دل سے خون جسم میں جانے کے عمل کے دوران یہ خون آکسیجن سے بھرپور ہوتا ہے جسے ہم صاف خون کہتے ہیں اور جب جسم سے واپس یہ خون دل تک پہنچتا ہے تو اس میں آکسیجن کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔ ہیموگلوبن ، آئرن اور آکسیجن خون کا رنگ سرخ بناتے ہیں اور اسی وجہ سے لوگوں کا خیال ہےکہ کیونکہ دل تک واپس پہنچنے کے دوران خون میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے تو اس لئے خون کا رنگ تبدیل ہو کر نیلا نظر آتا ہے مگر اس مِتھ میں کوئی صداقت نہیں بلکہ خون کا رنگ سرخ کے بجائے نیلا نظر اس لئے آتا ہے کہ سرخ اور نیلی روشنی کا طول موج ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ دونوں ہماری جلد میں مختلف گہرائی تک سرایت کرسکتی ہیں۔ سرخ روشنی کا بڑا حصہ جلد میں جذب ہوکراندرتک چلاجاتا ہے جب کہ نیلی روشنی ہماری کھال میں تھوڑی سی گہرائی تک اترنے کے بعد رگوں سے ٹکرا کر باہر کی سمت واپس لوٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہاتھوں کی رگیں سرخ کے بجائے نیلی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا رگوں کا نیلا نظرآنا بصری دھوکے کے سوا اورکچھ نہیں۔

مختصر مزاحیہ کہانی

مختصر مزاحیہ کہانی
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:32
ایک فرم کا مالک اپنے دو ماتحتوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے نکا۔راستے میں انھیں ایک بوتل پڑی نظر آئی ۔ایک ماتحت نے بوتل اٹھائی ،اس پر ڈھکنا لگا ہوا تھا اور اندر کوئی دودھیا سی چیز نظر آرہی تھی ۔ ماتحت نے آن کی آن میں ڈھکنا کھولا، اس دھوئیں نے ایک جن کی صورت اختیار کر لی ۔ساتھ ہی جن اپنی خوف ناک آواز میں بولا “تم لوگوں نے مجھے اس بوتل سے نجات دلائی میں تم تینوں کی اییک ایک خواہش پوری کروں گا۔بولو تمہاری کیا کیا خواہش ہے ” اس پر فرم کے

نے کہنا چاہا : ” میری خواہش ہے کہ ۔۔۔” اس وقت اس کا ایک ماتحت بول پڑا ۔ “سر مہربانی کر کے پہلے مجھے اپنی خواہش کا اظہار کرنے دیں ” “اچھی بات ہے پہلے تم خواہش بیان کر لو۔۔۔” اس نے جن سے کہا : “آپ مجھے ایک جزیرے پر بھیج دیں جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود ۔۔ بس میںکھاؤں پیوں ، عیش کروں ۔۔۔کوئی کام نہ کروں اور میرے علاوہ وہاں کوئی نہ ہو ” “اچھی بات ہے ” یہ کہہ کر جن نے چٹکی بجائی ۔۔۔ اور وہ ماتحت غائب ہو گیا ۔ اب پھر مالک نے کہنا چاہا: “میری خواہش یہ ہے کہ ۔۔۔۔” ایسے میں دوسرا ماتحت بولا : “سر ! مہر بانی فرما کر مجھے خواہش بیان کرنے کی اجازت دیں ” “اچھی بات ہے ۔۔ تم پہلے بیان کر لو۔” “مجھے ساحلِ سمندر پر بھیج دو ۔۔۔ جہاں میرا خوب صورت بنگلہ ہو ” “اچھی بات ہے ” جن نے کہا اور چٹکی بجائی ۔۔۔وہ بھی غائب ہوگیا۔ اب مالک کی باری تھی ۔۔۔ اس نے جن سے کہا “یہ دونوں میری فرم میں کام کرتے تھے ۔۔۔ میری خواہش ہے کہ ان دونوں کو واپس لے آؤ ” جن نے چٹکی بجائی اور وہ دونوں واپس آگئے ۔ سبق : اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ پہلے بڑوں کو بات کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

مرتے وقت دماغ میں کیا ہوتا ہے؟

مرتے وقت دماغ میں کیا ہوتا ہے؟
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:27
مرتے وقت کسی کے دماغ میں کیا ہوتا ہے؟ اس حوالے سے کسی کے پاس بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ سائنسدانوں کو کچھ معلومات ضرور ہیں لیکن یہ سوال پھر بھی ایک راز ہی ہے۔ تاہم بعض سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک تحقیق کی ہے جس سے نیورو سائنس کے بارے میں دلچسپ معلومات ملتی ہے۔ یہ تحقیق جینز ڈرائر کی سربراہی میں کام کرنے والے برلن اور اوہائیو کی سنسناٹی یونیورسٹی اور چیریٹی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ اس کے لیے سائنسدانوں نے بعض مریضوں کے اعصابی نظام کی انتہائی قریب سے نگرانی کی ہے، اور اس

لیے انہوں نے ان مریضوں کے خاندان والوں سے پیشگی اجازت لی تھی۔یہ افراد یا تو کسی شدید سڑک حادثے میں زخمی ہو گئے تھے یا پھر انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ موت کے وقت انسانوں اور جانوروں کا دماغ ایک ہی طرح کام کرتا ہے۔ اس تحقیق کا اہم مقصد مرتے وقت نہ صرف دماغ کی نگرانی کرنا تھا بلکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرنا تھا کہ کیسے کسی کو اس کی زندگی کے آخری لمحات میں بچایا جا سکتا ہے۔ جو ہم پہلے سے جانتے ہیں۔۔۔ سائنسدانوں کی اس تحقیق سے پہلے ’مردہ دماغ‘ کے بارے میں جو کچھ بھی ہم جانتے ہیں وہ سب معلومات جانوروں پر کیے جانے والے تجربات سے حاصل کردہ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ مرتے وقت: جسم میں خون کی گردش رک جاتی ہے اور اس کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال جسے سریبرل اسکیمیا کہا جاتا ہے، میں کیمیائی اجزا کم ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دماغ میں ’الیکٹریکل اکٹیویٹی‘ مکمل طور پر خارج ہو جاتی ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ دماغ کو ٹھنڈا کرنے کا یہ عمل نیورونز کے اپنی توانائی کو محفوظ کرنے کی وجہ سے شروع ہوتا ہے، لیکن توانائی کو محفوظ بنانے سے کام نہیں ہوتا کیونکہ مرنے کا ڈر پھر بھی رہتا ہے۔ اس سب کے بعد ٹیشو ریکوری ناممکن ہو جاتی ہے۔انسانوں میں: تاہم سائنسدانوں کی یہ ٹیم اس سارے عمل کو انسانوں کے حوالے سے مزید گہرائی میں جا کر سمجھنا چاہتی تھی۔ لہٰذا انھوں نے بعض مریضوں کے دماغ کی اعصابی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ ڈاکٹروں کی طرف سے ہدایات دی گئیں تھی کہ ان مریضوں کو الیکٹروڈ سٹرپس وغیرہ کی مدد سے ہوش میں لانے کی کوشش نہ کی جائے۔سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ نو میں سے آٹھ مریضوں کے دماغ کے خلیے موت سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھیں معلوم ہوا کہ دماغ کے خلیے اور نیورونز دل کی دھڑکن رک جانے کے بعد بھی کام کر رہے تھے۔ اس کے لیے خلیے گردش کرنے والے خون کا استعمال کرتے ہیں اور اس سے کیمیکل انرجی اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق جب جسم مر جاتا ہے اور دماغ میں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے تو مرنے والے نیورون بچی توانائی کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔الیکٹرو میکینیکل توازن کی وجہ سے دماغ کے خلیے تباہ ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے تھرمل انرجی نکل جاتی ہے اور اس کے بعد انسان مر جاتا ہے۔ لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ موت آج جتنی طاقتور ہے ضروری نہیں کہ مستقبل میں بھی اتنی ہی ہو۔ جینز ڈرائر کا کہنا ہے کہ ’ایکسپینشنل ڈی پولارائزیشن سیلولر ٹرانسفارمیشن شروع کرتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے، لیکن یہ موت نہیں، کیونکہ انرجی کی سپلائی کو بحال کر کے ڈی پولارائزیشن کو الٹ کیا جا سکتا ہے۔‘

مصائب سے مت گھبرائیے

مصائب سے مت گھبرائیے
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:27
اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ درحقیقت یہی خواہش پریشانیوں کوجنم دیتی ہے۔ کیا ایسا ہوسکتاہے کہ آپ کسی راستے سے گزریں اور اس میں گڑھے، موڑ، اسپیڈ بریکر نہ آئیں؟ جب ذرا سے راستے میں آپ اتنا کچھ برداشت کرسکتے ہیں تو زندگی میں پیش آنے والی خلافِ مزاج باتوں سے کیوں گھبرا جاتے ہیں؟ اب دیکھتے ہیں کہ کیا مصیبتیں ہمیں صرف پریشان کرنے کے لیے ہوتی ہیں یا ان کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟رسول الله

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہِ خَیْرًا یُصِبْ مِنْہُ الله تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بلائیں ، پریشانیاں اور مصائب یونہی بے سبب نہیں بھیجتے۔ اب دیکھتے ہیں کہ عقل مند لوگوں ان مصائب سے کس کس طرح کے فائدے اٹھاکر دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ گئے۔ابن اثیر کی ’’جامع الاصول‘‘ اور ’’النہایہ‘‘ جیسی شاہ کار کتابوں کی وجہ تصنیف یہ بنی کہ وہ چلنے پھرنے سے معذور تھے، لیکن قسمت کا رونا رونے کے بجائے انہوں ہمت و محنت سے کام لیا اور ان عظیم کتابوں کی تصنیف کے کام میں جُت گئے۔امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کو حاکم وقت نے ناراض ہوکر ایک کنوئیں میں بند کراودیا۔ انہوں نے اس فرصت کو غنیمت جانا اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے دھونے کے بجائے فقہی مسائل کی بے نظیر کتاب ’’المبسوط‘‘کی پندرہ جلدیں اپنے ان شاگروں کو زبانی لکھوا دیں جو کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ کر لکھتے جاتے تھے۔ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاوی قید و بند کی حالت میں لکھے۔پس ثابت ہوا کہ اہل بصیرت حضرات دکھ درد اور مصائب میں مبتلا ہونے پر انہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرلیتے ہیں۔لہٰذا تمام مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ آپ ان میں گھرکر خود کو پریشان نہ کریں بلکہ انہیں دور کرنے یا ان کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے لیے ان تدابیر پرعمل کریں:۱) سب سے پہلے پیش آنے والے مسئلہ کوسمجھیں۔ عقل مند افراد مصائب کے سامنے ہمت نہیں ہارتے بلکہ ٹھنڈے دل ودماغ سے ان کامشاہد ہ کرتے ہیں۔ گہری نظر سے ان کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں حل کرنے کا مرحلہ بخیر و خوبی طے ہوسکتا ہے۔۲) اکثر مسائل اپنے اندر ہی اپنا حل رکھتے ہیں، لہٰذا کسی بھی مسئلہ پر بجائے بوکھلانے کے اس کو حل کرنے کے لیے صبر اورسکون کے ساتھ کمر بستہ ہوجائیں۔اللہ نے انسان کو وہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ہر مسئلے کا حل تلاش کرسکتا ہے،بس تھوڑی سی کوشش کرنی پڑتی ہے پھر مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔۳) اگر آپ پریشانی پر پریشان ہوگئے تو آپ پرگھبراہٹ طاری ہوجائے گی، یہ کچھ حد تک تو فطری ہوتی ہے لیکن اگر آپ نے اس کو اپنے حواس پر طاری کرلیا تو یہ آپ کو بدحواسی کی طرف لے جائے گی، ایسی صورت میں حالات آپ کو بد سے بدتر لگنے لگیں گے۔لہٰذا کسی بھی پریشانی کواپنے اوپر طاری نہ ہونے دیں۔مسئلہ کا حل سوچنے کے بجائے بدحواسی کے آگے ہتھیارڈالنے کا مطلب اپنا دشمن آپ بننا ہے۔۴) دماغ سے صحیح حل اسی وقت نکلتا ہے جب دماغ کی مجموعی حالت پُر سکون ہو،دماغ کو پُرسکون رکھنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔بس بے جا بھاگ دوڑ، چیخ و پکار یا رونے دھونے سے پرہیز کریں، تھوڑا تحمل اور بردباری سے کام لیں ۔تحمل سے کام لینا اس طرح ممکن ہوگا کہ اپنی مشکل کو بڑا نہ سمجھیں۔ آپ کو اپنی مشکل اس وقت چھوٹی لگنے لگے گی جب آپ دنیا کے ان لوگوں کو دیکھیں گے جو آپ سے سو گنا زیادہ مشکلات کا شکار ہیں، تب آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ ان مشکلات میں گھرے لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔۵) اگر مسئلہ آپ سے کسی طرح حل نہ ہو رہا ہو تو کسی ایسے فرد سے رابطہ کریں جو سمجھدار، تجربہ کار اور آپ کا مخلص ہو،جو آپ کی پریشانیوں پر ہرطرح سے غور کرے اور آپ کو مفید مشورہ دے۔لیکن کسی بھی مشورہ پرعمل کرنے سے پہلے اسے اپنے ذاتی فیصلے کے ساتھ اچھی طرح پرکھیں،کیوں کہ آپ کے لیے کیاصحیح ہے اور کیا غلط یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۶) اپنی ذات پر اعتماد آپ کی اصل کامیابی ہے۔اس اعتماد کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ کہہ کر اپنی کمر خود ٹھونکیں کہ ہاں میں یہ کام کرسکتا ہوں۔ یہ اعتماد مشکلات کے حل کے لیے ایسے ہی کام کرتا ہے جیسے گاڑی کوچلانے کے لیے پیٹرول۔اگر آپ نے اپنے اندر اس اعتماد کو پروان چڑھا لیا تو کوئی پریشانی آپ کوپریشان نہیں کرسکتی۔ کیوں کہ اب آپ وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔۷) کسی بھی پریشانی کے حل کو التوا میں نہ ڈالیں۔بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر وہ کوئی فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں تو اسے التوا میں ڈال دیتے ہیں، یہ نہایت غلط سوچ ہے۔ یقین جانیے مسئلہ چاہے کتنا ہی بڑا اور مشکل کیوں نہ ہو آپ کی صلاحیتوں کے سامنے ہیچ ہے۔لیکن اسے کل پر ٹالنے یا نظریں چرانے سے اس کا حل نہیں نکلے گا۔خود اعتمادی سے یہ کہہ کر اس کے سامنے کھڑے ہوجائیں کہ ہاں میں تم سے نمٹ سکتا ہوں۔ پھر ناممکن ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکیں۔ان سب باتوں سے ہم نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ مشکلات و مصائب انسان کو توڑنے کے لیے نہیں، اسے مضبوط و خود اعتماد بنانے اور ایک نئی زندگی پہلے سے بہتر طریقے سے گزارنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ یہ مشکلات انسان کی شخصیت کی تعمیر و تربیت کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیوں کہ آزمائش کی ان بھٹیوں سے گزرنے کے بعد اس کا اصل جوہر نکھر کر سامنے آتا ہے،اور اس کی وہ صلاحیتیں جو اب تک چھپی ہوئی ہوتی ہیں اس طرح ظاہر ہوتی ہیں کہ وہ خود بھی حیران رہ جاتا ہے۔ہر مضبوط اور کامیاب شخصیت کے پیچھے مصائب ،تکالیف اور رنج و الم کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ غم اور مشکلات آپ کو وقتی طور پر تو پریشان کردیتے ہیں، آپ کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں، آپ کی ہمت جواب دیتی نظر آتی ہے اور آپ کو اپنی زندگی لاحاصل لگنے لگتی ہے۔ لیکن درحقیقت آپ کی آج کی مشکل آپ کا کل محفوظ بناتی ہے، یہ اندر ہی اندر آپ کی تربیت کرتی ہے اور آپ کا مستقبل تاب ناک بنانے کے لیے آپ کو تیار کرتی ہے۔اگر آپ نے آج کی پریشانی کو اپنے ذہن پر سوار کرلیا تو آپ کا آج اور کل دونوں تاریک ہوجائیں گے۔اس لیے بہادر بنیے، مصائب سے سبق تو سیکھیئے لیکن ان کو اپنے دل کا روگ نہ بنائیے۔ہمت سے کام لیجئے اور تازہ اُمنگ سے ایک نئی زندگی جینے کا ارادہ کیجیے۔ایک نئی اور خوشگوار زندگی آپ کا استقبال کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے!!!

ہاتھ کی گرفت صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

ہاتھ کی گرفت صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:41
کہا جاتا ہے کہ کسی شخص کے مصافحے یا ہاتھ کی گرفت سے اس کے بارے میں بہت کچھ جانا جاسکتا ہے مگر اب معلوم ہوا کہ اس کی صحت کے بارے میں مستند اندازہ لگانا ممکن ہے۔یہ بات اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی –> تحقیق میں سامنے آئی۔گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہاتھ کی گرفت کی مضبوط زندگی کی معیاد، ہارٹ اٹیک کے خطرے، پھیپھڑوں کے امراض اور کینسر کے خطرے پیشگوئی کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔دہائیوں سے ہاتھ کی گرفت کی مضبوطی سے بوڑھے افراد میں جسمانی توازن کی کمی یا

کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔مگر اب محققین نے دریافت کیا ہے کہ کسی بالغ شخص کی صحت کو لاحق طبی خطرات کا اندازہ اس چیز سے لگانا ممکن ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ گرفت کی مضبوطی سے آسانی سے تخمینہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں کسی فرد کو کون سے امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ ہاتھ کی گرفت کا خون کی شریانوں سے جڑے امراض سے تعلق ہے جو کہ حیران کن امر ہے۔انہوں نے بتایا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ تعلق اندازوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔اس تحقیق کے 2007 سے 2010 کے دوران لاکھوں افراد کے مصافحے کاتجزیہ کرکے ان کو مستقبل میں لاحق ہونے والے طبی خطرات کی پیشگوئی کی گئی۔تحقیق میں برسوں تک ان افراد کے طبی معائنے کیے گئے اور ان کی صحت اور طرز زندگی کے بارے میں سوالات کیے گئے۔اس عرصے میں 3 فیصد افراد کا انتقال ہوگیا، جبکہ 6 فیصد امراض قلب کی تشخیص ہوئی، 2 فیصد نظام تنفس کے امراض کے شکار ہوئے جبکہ 6 فیصد کے قریب میں کینسر سامنے آیا۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔مختلف عناصر جیسے غذا، بیٹھنے کا وقت،عمر وغیرہ کو مدنظر رکھ کر محققین نے مسلز کی کمزوری کو دریافت کیا، اور معلوم ہوا کہ مردوں میں 26 کلوگرام سے کم جبکہ خواتین میں 16 کلوگرام سے کم ہاتھ کی گرفت مخصوص امراض کا خطرہ ظاہر کرتی ہے۔ہاتھ کی گرفت میں ہر 5 کلوگرام کی کمی سے امراض قلب کا خطرہ خواتین میں 19 فیصد جبکہ مردوں میں 22 فیصد تک بڑھ گیا۔اسی طرح نظام تنفس کا خطرہ 31 فیصد خواتین میں اور مردوں میں 24 فیصد تک بڑھ گیا، جہاں تک کینسر کا تعلق تھا، اس کا خطرہ خواتین میں 17 فیصد جبکہ مردوں میں 10 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

ان چار قسم کے مردوں سے کبھی بھول کر بھی شادی مت کریں کیو نکہ ۔۔۔

ان چار قسم کے مردوں سے کبھی بھول کر بھی شادی مت کریں کیو نکہ ۔۔۔
منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:46
اس انفارمیشن کی وجہ سے میری تمام بہنیں اپنی زندگی بتاہ ہونے سے بچا سکتی ہیں ہر بہن اپنا رشتہ ہونے سے پہلے ان باتوں کا خیاک ضرور رکھیں اور اپنی زندگی کو ایک اچھے انسان کے ہاتھوں سیونپے دولت شوہرت کو دیکھ کر رشتہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اچھے اخلاق والے انسان سے کرنی چاہئے اس بات کا دھیاں خاص طور والدین کو رکھنا چاہئے یہ انفامیشن آپ کو اچھا رشتہ ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوگی ان مردوں سے نکاح کرنے سے بچیں اور اپنی ازواجی زندگی کو تباہ ہونے سے بچائیں۔۔ 1۔ پہلا وہ مرد جو کے غیرعورتوں

ساتھ تعلقات رکھتا ہو اور شادی شدہ ہوتب بھی اپنی بیوی کے علاوہ دوسری عورتوں سے جنسی تعلقات رکھتا ہو۔۔2۔دوسرا وہ شخص جو کہ سود خور ہو مطلب کو ایسیا کاروبار جو کہ شریعت کی نظر میں سود کے دائرے میں آئے اس سے بھی شادی نہکریں کیونکہ سود ایک لعنت ہے۔۔3۔ تیسرا وہ شخص جوکہ لواطق ہو مطلب ہم جنسیت کا شکار ہونے والا ہم جنسیت کہتے ہیں کہ مردکا مرد سے غیراخلاقی جنسی تعلق ہے ایک انتہائی بڑا گناہ ہے اس کا عذاب حضرت لوط علیہ السلام کی پوری قوم کو کھا گیا۔4۔ چوتھا وہ شخص جو شراب پیتا ہو اس شخص سے بھی شادی نہ کریں ایسے شخص کو اپنی اور اپنے گھر کی کوئی پرواہ نہی ہوتی۔