اگر آپ اپنی ہڈیوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو اس عام سی چیز کو اپنی خوراک کا حصہ بنالیں

اگر آپ اپنی ہڈیوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو اس عام سی چیز کو اپنی خوراک کا حصہ بنالیں
منگل‬‮ 1 مئی‬‮‬‮ 2018 | 9:57
محققین نے بزرگوں کے لئے دہی کے استعمال کو انتہائی فائدہ مند قرار دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس میں کولہے کی ہڈی کیلئے زیادہ کثافت ہوتی ہے اور یہ بزرگ مرد اور خواتین میں آسٹروپروسس کے خطرات کو کم کردیتا ہے۔آسٹروپروسس ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیوں کی مضبوطی کم ہو جاتی ہےاور ہڈی فریکچر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ خواتین کا دہی کھاناان میں 31فیصد آسٹو پینیا(ایسی حالت جس میں جسم نئی ہڈی نہیں بناتا)اور 39فیصد آسٹروپروسس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔اس کے برعکس مردوں میں دہی کا استعمال آسٹروپروسس

آٹھ قسم کے لوگوں سے ہمیشہ بچ کر رہیں

آٹھ قسم کے لوگوں سے ہمیشہ بچ کر رہیں
بدھ‬‮ 2 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:10
سب سے پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو دوسروں کی غیبت اور عیب جوئی کرتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً خود کو بہت پھنے خان تصور کرتے ہیں اور ہر انسان کو منہ پرطعنے دینے میں اور بدمعاشی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ دوسرے لوگوں کی زندگی کی تمام تر تفصیلات حاصل کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر دوسرے لوگوں کی ناکامیوں پر مسرت محسوس کرتے ہیں۔جو دوست یار ہر وقت آپ سے آپ کی اور اوروں کی زندگی کے حالات و واقعات کے بارے میں سوالات کرتے رہیں ان سے حد درجہ دور رہیں

یہ اوروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو بری عادات کا شکار ہوتے ہیں اور کوئی بھی تخلیقی یا تعمیراتی کام انجام نہیں دیتے۔ ان سے اجتناب کریں۔ یہ یہ خود کو مسلسل برباد کرنے پر تلے رہتے ہیں اور کوئی کام کا کام نہیں کرتے۔ یہ باقی لوگوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں حالانکہ دراصل ان کا اپنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ان کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ خود کو پھنے خان سمجھتے ہیں اور دن رات ’میں میں ‘کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔ یہ دن رات اپنی ذات کی خوبیاں الاپنے کے عادی ہوتے ہیں اور دراصل کسی کام کے نہیں ہوتے مگر اپنی بات کرتے نہیں تھکتے۔ ان کو آپ کی زندگی یا مسائل سے کوئی دلچسپی یا لینا دینا نہیں ہوتاوہ صرف اپنے بارے میں باتیں کرنا پسند کرتے ہیں۔چوتھی قسم کے لوگ انتہائی اور شدید جذباتی ہوتے ہیں۔ یہ نا صرف چھوٹی چھوٹی باتوں پر پہاڑ کھڑے کر لیتے ہیں بلکہ یہ یا تو خود ترسی میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنے رونے روتے رہتے ہیں یا مسلسل دوسرے انسان پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد ہی اسی غم کی حالت میں زندگی بسر کرنا ہوتا ہے۔ یہ آگے بڑھنے یا ترقی کرنے کے خواہاں نہیں ہوتے۔ ان کو وقت ضائع کرنے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ پانچویں قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہر وقت تیار شیار رہتے ہیںاور لش پش لگتے ہیں۔ انہیں آپ نے کبھی بکھرے بالوں اور منہ دھلے بغیر نہیں دیکھا ہو گا۔ ہر وقت صاف ستھرے تیار شیار نظر آتے ہیں۔ ان کا ظاہر ان کے باطن کے بالکل بر عکس ہوتا ہے۔ یہ شدید احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور اپنا ظاہر اچھا بنا کر لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ کسی کا سہارا بننے کے قابل نہیں ہوتے جبکہ ان کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ اگر خود کو اتنا سنبھالا ہوا ہے تو اور لوگوں کو بھی سہارا دے سکتے ہوں گے۔یہ لوگوں کے سامنے صرف اپنی خوبیاں الاپتے ہیں ،کبھی اپنا کوئی عیب نہیں بتاتے۔ ان کی فیس بک وال بھی ان کے کارناموں، میڈلز اور جاب شاب کی ٹرافیوں کی تصاویر سے بھری رہتی ہے۔چھٹی قسم سے تو ہمیشہ دور بھاگیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہر ایرے غیرے کو نصیحت کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو سب کچھ معلوم ہے اور یہ باقیوں سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ ہر محفل میں بیٹھ کر اپنا علم جھاڑنا ان کی خصلت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بھی اپنا وقت اور موڈ برباد مت کریں۔ساتویں قسم کے لوگ آپ کے حق میں زہر سے بھی کڑوے ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی ہر حرکت اور ہر حلیے پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ دراصل آپ سے حسد میں مبتلا ہوتے ہیں اور آپ کو کوئی بھی انعام یا تمغہ جیتتے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ آپ کی نوکری، کپڑوں جوتوں گاڑی وغیرہ کا مزاق بنا بنا کر آپ پر ہنستے رہتے ہیں۔ یہ آپ کے خیر خواہ نہیں بلکہ آپ کی جڑیں کاٹنے میں جتے رہتے ہیں۔آپ کا سچا دوست اور ساتھی وہ ہے جو آپ کے کارناموں پر آپ سے زیادہ چھلانگیں لگائے اور ناچے اور آپ کا حوصلہ بلند کرے کہ محنت کرتے رہو۔ آخری قسم کے لوگ وہ ہیںجو آپ کے رونے اور پریشان ہونے کو حقیقی خیال نہیں کرتے۔ یہ آپ کو بچہ یا بے وقوف تصورکرتے ہیں۔ ان سے فوراً کنارہ کشی اختیار کریں کیونکہ یہ آپ کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ آپ چاہے معمولی بات پر روئیں یا بڑی بات پر، آپ کا دوست وہ ہے جو آپ کی ٹینشن میں کمی کا باعث بنے۔پہلی نشانی ہے بہت زیادہ سوچنا۔ جو انسان بہت زیادہ سوچ بچار کرتا ہے اور خلا میں گھورتا رہتا ہے وہ پاگل اور بے حد ذہین ہوتا ہے۔ آئن سٹائن نے ایک دفعہ فارغ بیٹھ کر سوچنے کی اہمیت کے بارے میں بولا کہ اگر مجھے صرف ایک گھنٹے میں پوری دنیا کو بچانا پڑ جائے تو یقین کریں کہ میں 55منٹ بیٹھ کر سوچوں گا اور صرف پانچ منٹاصل میں عمل کروں گا۔ زیادہ ذہین لوگ صبح صادق بیدار ہوتے ہیں۔ مشکل ہے کہ کبھی سات بجے کے بعد بیدار ہوں۔ ارنیسٹ ھیمنگ وے بہت مشہور شاعر تھا اور وہ صبح چھ بجے بیٹھ کر اپنی نظمیں تحریر کرتا تھا۔ اس کی تمام نامور نظمیں صبح صبح کی آمد کا نتیجہ ہیں۔یہ لوگ دوسرے لوگوں سے ملنا جلنا اور ان سے بےجا گھلنے ملنے کو معیوب تصور کرتے ہیں۔ صرف شام کے اوقات میں کبھی کبھار لوگوں سے ملتے ہیں۔ ان کو تنہائی اور خلوت لذت دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جینیس لوگ ہمیشہ بہت زیادہ واک اور چہل قدمی کرتے تھے۔بیٹ ہو ون اور مہلر, ہر روزدو سے تین گھنٹے واک کرتے تھے۔ جینیس لوگ روز کی ایک سادی روٹین پر عمل کرتے ہیں کیونکہ اس سے ان کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ ایک ذہین انسان صرف تب تک اپنا دماغ ہوشیاری سے استعمال کر سکتا ہے جب تک اس کو یہ یقین ہو کہ اس کے کسی کام میں کوئی خلل نہیں پیدا ہو گا۔ یہ لوگ عموماً روز ایک ہی روٹین فالو کرتے ہیں۔ ان کو دماغی تسلی درکار ہوتی ہے کہ ان کا اپنی زندگی پر پورا کنٹرول ہے۔جیسے ٹولز ٹوئے ہمیشہ اپنے دن کی روٹین کو تحریر کر لیا کرتا تھا۔ جینیس لوگ ڈائری رکھنا پسند کرتے تھے۔موزارٹ اور ڈا ونچی اپنی ذاتی ڈائریاں رکھتے تھے اور اپنی ذاتی باتیں اور تمام تر راز اس ڈائری میں تحریر کرتے تھے۔ یہ لوگ ذہنی یکسوئی کے بادشاہ ہوتے ہیں اور ان کو کسی بھی جگہ کسی بھی وقت بٹھا دو تو اپنا کام بخوبی جاری رکھ سکتے ہیں۔’ اگاتھا کرسٹی ‘کو صرف ایک ٹائپ رائٹر مل جاتا تھا تو کہیں بھی بیٹھ کر مسلسل لکھتی جاتی تھی۔ آج اس کی تحریریں ہم سب گوگل کر کے اور نصاب میں پڑھتے ہیں۔کسی بھی عام انسان اور ذہانت کے شہنشاہ میں سب سے بڑا فرق ان کی دماغی آئیڈیاز کا ہے۔ عام انسان کام تب بند کرتا ہے جب اس کا دماغ پک جائے یا اس کی تخلیقی صلاحیت جواب دیں دے مگر ایک جینیس کام بیچ میں چھوڑ دیتا ہے۔وہ کام اس وقت چھوڑتا ہے جب اس کے دماغ میں اگلا آئیڈیا آجائے۔ اس کا دماغ کبھی انوکھے خیالات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ چوبیس گھنٹے ادھر ادھر پرواز کرتا رہتا ہے۔ موزارٹ دن میں بارہ گھنٹے میوزک سنتا تھا اور بمشکل چھ گھنٹے سو پاتا تھا۔ذہین لوگوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ انفرادی آزادی کسی طرح مفقود نہ ہونے پائے۔ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارناچاہتے ہیں اور عموماً اس کے عادی ہوتے ہیں۔ ذہین لوگ زیادہ تر بہت مزاحیہ ہوتے ہیں اور اپنے ارد گرد سلیقے اور صفائی کو بہت زیادہ پسند نہیں کرتے۔ان کے لیے دنیا اور اس کی قبولیت اتنی اہم نہیں ہوتی۔ ان کو لوگوں کی باتوں سے بہت کم فرق پڑتا ہے۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہدف با آسانی حاصل کر لیتے ہیں اور باقی لوگوں کی طرح یہ نہیں سوچتے کہ سٹائل اور طریقہ کار دنیا کے مطابق کرنا ہے۔ وہ بہت آگے کے مناظر دیکھ سکتے ہیں اور طریقہ کار ان کے لیے ہرگز اہم نہیں ہوتا۔جب وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں تو عام لوگ حیرت کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ تو ٹھیک سے کام بھی نہیں کر رہے تھے تو وہ اپنا مقصد کیسے حاصل کر بیٹھے۔ یہ بہت حساس ہوتے ہیں اور چاہے دوسرے کی مدد کریں یا نہیں، یہ شکل دیکھ کر اگلے کے حالات اور سوچ پڑھ لیتے ہیں۔ ان کو لوگوں سے گھلنا ملنا نا پسند ہوتا ہے مگر یہ دوسرے لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر بہت وقت اداس رہتے ہیں-

ہتھیلی پر موجود اس لکیر کا کیامطلب ہے؟ سنسنی خیز انکشافات

ہتھیلی پر موجود اس لکیر کا کیامطلب ہے؟ سنسنی خیز انکشافات
بدھ‬‮ 2 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:29
ہاتھ کی لکیریں آپکی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہیں۔ اگرچہ یہ ایک پیچیدہ علم ہے لیکن ہتھیلی کی نمایاں ترین لکیر کی مدد سے شخصیت کے بارے میں چند اہم اور بنیادی باتوں کا اندازہ ہر کوئی بآسانی لگا سکتا ہے۔ ’دل کی لکیر‘ شہادت یا درمیان والی انگلی کی بنیاد سے شروع ہو کر چھوٹی انگلی کی طرف جاتی ہے اور اسی کی مدد سے آپ اپنے بارے میں اہم معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر دل کی لکیر درمیان والی انگلی کے بالکل نیچے یا شہادت کی انگلی کے نیچے شروع ہونیچے شروع ہو رہیہے

ہو رہیہے تو دونوں صورتوں میں آپ پیدائشی طور پر قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ آپ پر عزم، زہین، آزاد مزاج اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ آپ جلدی جذباتی بھی نہیں ہوتے۔ اگر یہ لکیر درمیان والی انگلی اور شہادت کی انگلی کے درمیان شروع ہوتی

نظر آتی ہے تو آپ حساس شخصیت کے مالک ہیں اور لوگ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔ آپ فیصلہ کرتے ہوئے اپنی عمومی دانش کو استعمال کرتے ہیں۔ آپ میں ہچکچاہٹ اور جھجک بھی پائی جاتی ہے لیکن آپ ایک قابل بھروسہ شخصیت کے مالک ہیں۔ اگر دل کی لکیر شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان شروع ہوتی ہے تو آپکی شخصیت جذبات، محسوسات، محبت، شفقت اور نرم دلی سے عبارت ہے۔ آپ بہت شفیق اور خیال رکھنے والے ہیں۔

دنیا کی بہترین افواج کی تازہ ترین فہرست جاری کر دی گئی،پاک فوج کو فہرست میں کون سا نمبر دیا گیا ہے؟

دنیا کی بہترین افواج کی تازہ ترین فہرست جاری کر دی گئی،پاک فوج کو فہرست میں کون سا نمبر دیا گیا ہے؟
منگل‬‮ 1 مئی‬‮‬‮ 2018 | 4:09
گلوبل فائر پاور نامی بین الاقوامی جریدے نے دنیا کی بیس بہترین افواج کی فہرست جاری کر دی ہے، جاری کی گئی اس فہرست میں دفاعی بجٹ اور افرادی قوت کے حساب سے دنیا کی بڑی افواج کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس فہرست میں پاک آرمی کو بھی شامل کیا گیا ہے، امریکہ کو اس فہرست میں دنیا کی سب سے طاقتور اور بڑی فوج قرار دیا گیا ہے، واضح رہے کہ امریکی فوج کو 627 ارب ڈالرز سالانہ بجٹ ملتا ہے، امریکی فوجیوں کی تعداد بیس لاکھ سے زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر روس کی فوج ہے

چین کی فوج تیسرے نمبر دنیا کی بہترین اور طاقتور فوج قرار پائی ہے، پاک فوج کو اس فہرست می17 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ محدود وسائل ہونے کے باوجود پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاک آرمی کو سات ارب ڈالرز کا بجٹ ملتا ہے لیکن اس کے باوجود پاک آرمی اپنے آپ کو دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ثابت کرنے میں کامیاب رہی، گلوبل فائر پاور نامی بین الاقوامی جریدے کی طرف سے جاری کی گئیاس فہرست میں مسلم ممالک میں پاکستان کے علاوہ ایران، مصر، ترکی اور انڈونیشیا کی افواج شامل ہیں۔ گلوبل فائر پاور نامی بین الاقوامی جریدے نے دنیا کی بیس بہترین افواج کی فہرست جاری کر دی ہے، جاری کی گئی اس فہرست میں دفاعی بجٹ اور افرادی قوت کے حساب سے دنیا کی بڑی افواج کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس فہرست میں پاک آرمی کو بھی شامل کیا گیا ہے، امریکہ کو اس فہرست میں دنیا کی سب سے طاقتور اور بڑی فوج قرار دیا گیا ہے، واضح رہے کہ امریکی فوج کو 627 ارب ڈالرز سالانہ بجٹ ملتا ہے، امریکی فوجیوں کی تعداد بیس لاکھ سے زیادہ ہے

گیدڑ سنگهی کی حقیقت کیا ہے؟

گیدڑ سنگهی کی حقیقت کیا ہے؟

گیدڑ سنگهی دراصل گیدڑ کے سر میں نکلنے والا ایک دانا (پهوڑا ) ہوتا ہے،جو کہ اسکے سر میں اپنی شاخیں پهیلاتا ہے اور ایک خاص حد تک بڑا ہونے کے بعد خود بخود جهڑ کر گر جاتا ہے،گرنے کے بعد بهی یہ جاندار رہتا ہے، اور اسے جادو ٹونے کرنے والے اٹها کر لے جاتے ہیں اور اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں. اسے سندور میں ہی رکها جاتا ہے، ورنہ اسکی بڑهوتری ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ یہ مر جاتا ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ نر اور مادہ حالتوں میں ہوتا ہے .جادوگروں کے پاس شوہر یا محبوب یا سسرال والوں کو قابو کرنے کے خواہش مند خصوصاً محبت کا حصول چاہنے والے مرد و زن جب آتے ہیں تو انہیں ایک مخصوص رقم کے عوض یہ گیدڑ سنگهی دی جاتی ہے، گیدڑ

دی جاتی ہے، گیدڑ سنگهی کی ہمیشہ جوڑی ( نر اور مادہ ) ایک ساتھ رکهی جاتی ہے ورنہ بقول ان بدعقیدہ لوگوں کے یہ کام نہیں کرتی اور بےکار ہو جاتی ہے .اسکے علاوہ لوگ نعوذباللہ اسے شوقیہ گهر میں خیروبرکت کے لیے،روزگار کے حصول کے لیے،دولت میں اضافے کے لیے خریدتے ہیں اور بہت عقیدت سے اپنے پاس رکهتے ہیںگیدڑ سنگهی کے بال باقاعدہ بڑهتے ہیں اور انکی باقاعدگی، اور ایک خاص طریقے سے تراش خراش بهی کی جاتی ہے،

یہ تو تهی گیدڑ سنگهی کے بارے میں وہ معلومات اور عقائد،جو مجهے پتا چلے اور میں نے اپنا فرض جان کر آپ تک پہنچائے اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان میں کیا سچ ہے اور کیا جهوٹ، کیونکہ اللہ ہی سب سے بہتر علم رکهنے والا ہے محترم قارئین کرام اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ گیدڑ سنگهی جیسی عجیب الخلقت چیز کو لوگوں کو فروخت کرتے ہیں وہ بهی اس دعوے سے کہ :” اسے رکهنے سے آپکے معاشی مسائل دور ہوں گے اور آپ کے گهر روپے پیسے کی ریل پیل ہو گی … ” تو کیا ان لوگوں کی خود کی رہائش اور حلیے دیکھ کر بهی لوگوں کو عقل نہیں آتی …؟ اورانکے ذہنوں میں یہ سوال نہیں ابھرتا کہ فروخت کرنے والے کے پاس تو نجانے کتنی تعداد میں انکی جوڑیاں موجود ہیں پهر وہ کیوں ابهی تک خالی ہاتھ ہیں ان خالی الذہن لوگوں کو کوئی بتائے کہ یہ بهی بڑا شرک ہے کہ:

تم اللہ کے ہوتے ایک ڈرپوک جانور کے جسم سے خارج ہوئے پهوڑے کو اپنا مشکل کشا مانتے ہو … “اللہ تعالٰی اصلاح فرمائے ایسی سوچ رکھنے والوں کی، کہ پهر ہندوؤں اور انکے درمیان فرق کیا رہ گیا …؟فقط دن میں پانچ وقت زمین پر ٹکریں مارنے کا …؟جبکہ ان بدنصیبوں کو تو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے گهر کی خوشیاں ، خیروبرکت اور رونق اس بد شکل شے کی وجہ سے نہیں بلکہ بے دلی سے ہی سہی لیکن پانچ وقت رٹی رٹائی سورتیں ، آئیتں پڑهنے اور زمین پر سجدہ کرتے وقت سبحان ربی اعلیٰ کہنے کی ہی بدولت ہیں …! کاش کہ مجھ سمیت ہم سب کو عقل آسکے اور اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانان عالم کو بھلائی و ہدایت عطا فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے … آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین …

٧ لوگ ایسے ہیں جو الله کریم کو بہت پسند ہیں

٧ لوگ ایسے ہیں جو الله کریم کو بہت پسند ہیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس روز (یعنی قیامت کے دن) اپنے سائے میں رکھے گا جس روز اللہ کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا . انصاف کرنے والا حاکم۔ وہ جوان جو اپنی جوانی کو اللہ کی محبت میں صرف کر دے۔ وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو جب تک وہ دوبارہ مسجد میں نہیں چلا جاتا اس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے۔ وہ دو آدمی جو محض اللہ کے لئے آپس میں محبت رکھتے ہیں اگر یکجا ہوتے ہیں تو اللہ کی عبادت میں اور جدا ہوتے ہیں تو اللہ کی محبت میں یعنی حاضر و غائب خالص لوجہ اللہ محبت رکھتے ہیں۔ وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے اور (خوف اللہ سے) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ وہ آدمی جس کو کسی شریف النسب اور حسین عورت نے (برے ارادے سے) بلایا اور اس نے (اس کی خواہش کے جواب میں) کہہ دیا ہو کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔وہ آدمی جس نے اس طرح مخفی طور پر صدقہ دیا ہو کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ معلوم ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ یہ وو لوگ ہیں جو الله رب الکریم کو بے حد پسند ہیں.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس روز (یعنی قیامت کے دن) اپنے سائے میں رکھے گا جس روز اللہ کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا . انصاف کرنے والا حاکم۔ وہ جوان جو اپنی جوانی کو اللہ کی محبت میں صرف کر دے۔ وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو جب تک وہ دوبارہ مسجد میں نہیں چلا جاتا اس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے۔ وہ دو آدمی جو محض اللہ کے لئے آپس میں محبت رکھتے ہیں اگر یکجا ہوتے ہیں تو اللہ کی عبادت میں اور جدا ہوتے ہیں تو اللہ کی محبت میں یعنی حاضر و غائب خالص لوجہ اللہ محبت رکھتے ہیں۔ وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے اور (خوف اللہ سے) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ وہ آدمی جس کو کسی شریف النسب اور حسین عورت نے (برے ارادے سے) بلایا اور اس نے (اس کی خواہش کے جواب میں) کہہ دیا ہو کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔وہ آدمی جس نے اس طرح مخفی طور پر صدقہ دیا ہو کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ معلوم ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ یہ وو لوگ ہیں جو الله رب الکریم کو بے حد پسند ہی

خانہ کعبہ پر حملہ ہوااورسعودی اور فرنچ آرمی ناکام ہو گئی تو

خانہ کعبہ پر حملہ ہوااورسعودی اور فرنچ آرمی ناکام ہو گئی تو

1979میں جب خانہ کعبہ پر شدت پسندوں نےحملہ کیا تو سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32 علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیااور خانہ کعبہ کے دفاع کیلئے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیاگیا اور درخواست کی کہ پاکستان خانہ خدا کے دفاع کیلئے اقدامات کرے جس پر جنرل ضیاء الحق نے ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ ترتیب دیا اور اسے حرم کی پاسبانی کیلئے بھیجا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس دستے کی کی قیادت اس وقت میجر پرویز مشرف کر رہے تھے ۔انہوں نے آپریشن سے پہلے کعبہ کی حرمت لیے جوانوں کو جان دینے پر آمادہ کیا ۔ نہایت کم وقت میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی ۔ پاکستانی کمانڈوزنے دہشت گردوں کے سنائپرز سے نمٹنے کے لیے ایک عجیب ترکیب استعمال کی اور پورےمسجدالحرام میں پانی چھوڑا گیا ۔ پھر اس دستے کے کمانڈر نے سعودی حکومت سے فرمائش کی کہ ان کے جوانوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے مسجد میں جگہ جگہ ڈراپ کیا جائے ۔سعودی حکومت نے اس میں لاحق شدید خطرے اور حیرت کا اظہار کیا لیکن پاک آرمی کے اصرار پر انہیں مسجد میں گرایا جانے لگا ۔ جس وقتانہٰیں مسجد میں گرایا گیا اسی وقت پوری مسجد کی گیلی زمین میں کرنٹ چھوڑا گیا جسکی وجہ سے

دہشت گردوں کے شارپ شوٹرز اور سنائپرز کچھ دیر کے لیے غیر مؤثر ہوگئے ۔ پاک فوج نے غیر معمولی سرعت سے تمام دہشت گردوں پر قابو پالیا اور سب کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی۔اس طرح اللہ تعالی نے یہ عظیم سعادت پاکستان کو عطا کی۔ اللہ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھے۔آمین

ہار منہ لہسن کھانے کے کیا فوائد ہیں؟

ہار منہ لہسن کھانے کے کیا فوائد ہیں؟

لہسن ایک ایسی سبزی ہے جس کا استعمال قدیم زمانے میں رہنے والے لوگ بھی کیا کرتے تھے اور اس کی افادیت سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔مصری، رومن، ایرانی، یہود، عرب اور دنیا کی تمام اقوام نے لہسن کے فوائد پر کافی کچھ لکھا ہے اور اسے کبھی بھی خطرناک یہ نقصان دہ نہیں کہا گیا۔ان تمام فوائد کی سجہ سے اسے ’مصالحہ جات کا سردار‘ بھی کہا گیا ہے۔

آج ہم آپ کو لہسن کے خالی پیٹ استعمال کے فوائد بتائیں گے۔*صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو تا ہے اور انسانی جسم میں کئی خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔*خالی پیٹ لہسن کھانے سے پیٹ میں موجود بیکٹیریا پیٹ خالی ہونے کہ وجہ سے بہت کمزور ہو جاتا ہے اور یہ لہسن کی طاقت کے خلاف لڑ نہیں پاتاجس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔

*لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ ،سردی اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔ *یہ خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کا نظام دوران خون تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بلند فشار خون سے بھی نجات ملتی ہے۔اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں ، بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپکیطبیعت بحال ہو رہی ہے۔*اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔*اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔

اسپغول کے فوائد جن سے آپ واقف نہیں

اسپغول کے فوائد جن سے آپ واقف نہیں

اسپغول کا استعمال عام طور پر پیٹ کے امراض کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی غذا یا دوا ہے جسے لوگ بلاجھجک استعمال کرتے ہیں- لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اسپغول کو پیٹ کے امراض کے علاوہ بھی کئی بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے- اسپغول کا نام فارسی کے دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ ایک لفظ ’’اسپ‘‘ یعنی گھوڑا اور دوسرا ’’غول‘‘ یعنی کان۔ گویا گھوڑے کا کان یعنی اس دوا کی شکل گھوڑے کے کان سے ملتی ہے۔ فارسی کا یہ نام اس قدر ہوا کہ برصغیر میں بھی سب اسے اسپغول کے نام سے پکارا جانے لگا۔اسپغول کا پودا ایک گز بلند ہوتا ہے اور ٹہنیاں باریک ہوتی ہیں۔ سرخ رنگ اور سفیدی مائل چھوٹے بیج ہوتے ہیں جسے اسپغول کہتے ہیں۔ ذائقہ میں پھیکا ہوتا ہے اور منہ میں ڈالنے پر لعاب پیدا کرتا ہے۔تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ اسپغول کا اصل وطن ایران ہے۔ اگرچہ درست ہو مگر دنیا میں اکثر جگہوں پر یہ خودرو پیدا ہوتا ہے۔ عرب میں بھی اس کو پایا گیا ہے۔اسپغول پر کی جانے والی تحقیقکے مطابق اسپغول کے بیجوں میں فیٹس یعنی حشمی روغن پایا جاتا ہے۔

زلالی مادہ اور فالودہ نما جیلی جیسا لعاب ہے۔ دراصل یہ لعاب ہی وہ مادہ ہے جو انسانی جسم میں بیماری کے خلاف اپنا اثر دکھاتا ہے۔اس لعاب کی ایک حیرت انگیز مثال یہ ہے کہ انسانی جسم میں چوبیس گھنٹے تیزاب یعنی ہائڈروکلورک ایسڈ جیسے تیز اثر تیزاب اور لیلیے کے تیزاب میں رہنے کے باوجود اسپغول کے لعاب کا برائے نام حصہ ہضم ہوتا ہے اور تمام ہضم کے عمل کے درجات کو طے کرتا ہوا بڑی آنت میں موجود جراثیم پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان کوکولونائزیشن کو منجمد کردیتا ہے-ان تیزابوں کی اثرانگیزی اس پر کچھ اثر نہیں کرتی اور پھر آگے جاکر یہ لعاب یعنی جیلی ان جرثوموں مثلاً مبسی لس شیگا‘ سیسی لس فلیکس نر‘ سینسی لس کولائی اور سیسی کرکالر ابھی اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔مشاہدے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسپغول کا لعاب چھوٹی آنت کی کیمیائی خمیرات کا زیادہ اثر نہیں لیتا اور نہ معدے کے کرشمات کا اثر لیتا ہے اور نہ بڑی آنت میں موجودجراثیم اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔یہ لعاب آنتوں کے زخموں اور خراشوں پر بلغمی تہہ چڑھا دیتا ہے اور بیکٹیریا کے نشوونما کو احسن طریقہ سے روک دیتا ہے اور جو زہریلے مواد جو ان بیکٹیریا کی موجودگی سے پیدا ہوتے ہیں ان کو جذب کرلیتا ہے۔اسپغول کے بارے میں جو اطباء رائے رکھتے ہیں ان کے مطابق یہ دوسرے درجے کا سرد ہے اور بعض کے نزدیک تیسرے درجے کا سرد ہے۔

ہر دعا قبول ہو گی بس رات کوجب بھی آنکھ کھل جائے تویہ پڑھ لینا

ہر دعا قبول ہو گی بس رات کوجب بھی آنکھ کھل جائے تویہ پڑھ لینا

دعا کی قبولیت کیلئے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں، جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں مصیبت آنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے عبداللہ بن عبید فرماتے ہیںکہ میں نے اللہ کے رسولۖ سے عر ض کیا ۔کہ میں کیا پڑھا کروں اپنی حفاظت کے لیے مصیبتوں کو ٹالنے کے لیے پڑیشانیوں سے بچنے کے لیے میں کیا پڑھوں نبی اکرم ۖ نے ان کو حل بتا رہے ہیں کیا پڑھنا ہے تم نے اپنی مصیبت پریشانی اور غم کو دور کرنے کے لیے اور اتنی چھوٹی چھوٹی دعائیں ہیں ہم یہ نہیں کرتے اگر ہم کسی بیماری میں

جائیں تو ہم ڈاکٹر کے کہنے پے بہت ساری میڈیسن کھاتے ہیں دل بھی نہیں ہے کرتا میڈیسن کھانے کو لیکن ہم کھاتے ہیں کیوں کے بیماری کو کنڑول کرنا ہے ۔لیکن اگر ہم وہی کریں مصیبت غم نہ آئے کسی آفت کو دور کرنا ہے تو کنڑول کے لیے ازکار ہے نہ پیسہ جاتا ہے لیکن وہ ہم سے نہیں ہے ہوتا۔عبداللہ بن عبید نے کہا اللہ کے رسول اپنی حفاظت کے لیے میں صبح اور شام کے معاملے میں کیا پڑھوں تو نبی اکرم ۖ فرماتے ہیں ہر صبح اور شام تین تین مرتبہ تم سورة اخلاص پڑھو پھر تین مرتبہ سورة فلک پڑھیں پھر فرمایا تین مرتبہ سورة الناس پڑھومطلب تینوں سورة ایک ساتھ پڑھیں ہر وقت پریشانی والی چیز سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا صحابی فرما رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ۖ نے فرما اگر کوئی پریشانی مصیبت آجائے تو صبح شام تین تین مرتبہ سورة اخلاص سورة فلک اور سورة الناس کو تین تین بار پڑھا کرویہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا مصیبتوں کے لیے پریشانیوں کے لیے ۔

اگر آپ رات کو دوران نیند جاگ جائیں تو آپ ۖ نے فرمایا تو اس وقت دعا پڑھ کر اللہ سے جو بھی دعا کریں گے وہ پوری ہو گی انشا ء اللہ جو دعا پڑھنی ہے اگر بات اچھی لگے تو لازمی شیئر کریں شکریہ