آنکھ پھڑکنے کا مطلب کچھ برا ہونیوالا ہے ؟ اس میں کتنی حقیقت ہے ؟ ماہرین نے بتادیا

آنکھ پھڑکنے کا مطلب کچھ برا ہونیوالا ہے ؟ اس میں کتنی حقیقت ہے ؟ ماہرین نے بتادیا
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 16:20
آپ نے سنا ہوگا کہ آنکھ پھڑکنا کچھ اچھا یا برا ہونے کی نشانی ہے۔اب یہ توہم پرستی ہے یا درست، اس بحث کو چھوڑیں، بس یہ جان لیں کہ آنکھ پھڑکنے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔درحقیقت عام طور پر آنکھ پھڑکنا ہوسکتا ہے کہ ذہنی طور پر پریشانی کا باعث بنے مگر یہ کسی بیماری کے بجائے طرز زندگی، ایک وجہ ہوسکتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق آج کل لوگ اپنا بہت زیادہ وقت کمپیوٹر یا فون کی اسکرین کے سامنے گزارنے کے عادی ہوتے ہیں۔اور اس عادت کے نتیجے میں آنکھوں پر دباؤ بڑھتا ہے یا وہ خشک ہونے

ہے۔تاہم ایسا ہونے پر آنکھ پھڑکنے کے امکان بھی بڑھتے ہیں۔اسکرینوں سے ہٹ کر بہت تیز روشنی میں رہنا، آنکھ کی سطح یا اندرونی حصے میں خارش، جسمانی دباؤ، تمباکو نوشی، ذہنی تناؤ اور تیز ہوا کے نتیجے میں آنکھ پھڑکنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اگر آنکھ کی اس حرکت سے پریشان ہیں تو آنکھوں کو کچھ وقت تک آرام دیں۔اگر ممکن ہو تو اپنے سے کچھ دیر کے لیے وقفہ کریں اور شام میں ایسی سرگرمیوں کو اپنائیں، جس میں اسکرینوغیرہ کا کوئی دخل نہ ہو۔بہت کم ایسا ہوتا ہے جب آنکھ پھڑکنا کسی عارضے کی نشانی ہو اور وہ بھی اس وقت جب مناسب آرام اور اسکرین وغیرہ سے دوری کے باوجود یہ سلسلہ برقرار رہے۔اگر اس کے باوجود آنکھ کی لرزش نہ رکے تو یہ پلکوں کے ورم، آنکھوں کی خشکی، روشنی سے حساسیت اور موتیا وغیرہ کی علامت ہوسکتی ہے۔بہت سنگین معاملات میں یہ کسی دماغی اور اعصابی نظام کے مسئلے کی نشانی ہوسکتی ہے جس کے ساتھ چند دیگر علامات بھی سامنے آتی ہیں

چرچل کی تقریر اور ٹیکسی ڈرائیور

چرچل کی تقریر اور ٹیکسی ڈرائیور
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 15:45
ایک بار سر ونسٹن چرچل کی تقریر کرنے جلد سے جلد ریڈیو اسٹیشن پہنچنا تھا- اس لیے وہ ایک ٹیکسی میں سوار ہو کر ڈرائیور سے بولے “ برٹش براڈ کاسٹنگ ہاؤس چلو-“ ڈرائیور ان کی طرف دیکھ کر بےپروائی سے بولا “ مجھے افسوس ہے٬ میں اس وقت یہ جگہ نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ ٹھیک نصف گھنٹنہ بعد مسٹر چرچل کی تقریر نشر ہوگی جسے کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کرسکتا- میں اپنے وزیراعظم کی تقریر ضرور سنوں گا-“ چرچل نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئے اور اسی عالم میں ڈرائیور کو ایک پونڈ انعام دیا-

نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور بڑے شگفتہ لہجے میں بولا “ آپ انتہائی اچھے اور نیک انسان ہیں- چلیے میں آپ کو چھوڑ آؤں٬ چرچل اور ان کی تقریر کو جہنم میں ڈالیے- وزیراعظم کی تقریر تو ہوتی رہتی ہے٬ آپ جیسے نیک دل انسان تو کبھی کبھی ملتے ہیں-مزید پڑھیے:ونسٹن چرچل کی انگریزی ونسٹن چرچل کوآٹھویں جماعت میں ۳ سال ہوگیا تھا کیونکہ اسے انگریزی میں بہت مشکل کا سامنا تھا۔یہ ستم ظریفی کہ کچھ سال بعد آکسفورڈ یونیورسٹی والوں نے اسے اپنی آغازی تربیت پر بولنے کا کہہ دیا۔ وہ اپنی ساری چیزوں کے ساتھ جو کہ ایک سگار، چھڑی اور ٹوپی پر مشتمل تھیں ساتھ لے آیا۔ وہ یہ چیزیں اپنے ساتھ ہر جگہ لے جاتا تھا۔جیسے ہی چرچل پوڈیم پر پہنچا لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دی۔لاثانی شان و شوکت کے ساتھ اس نے اپنے ماننے والوں کے شکریہ کہا اور انہیں بیٹھنے کو کہا۔اس سنے سگار ہٹایا اور احتیاط سے ٹوپی پوڈیم پر رکھتے ہوئے اپنے منتظر لوگوں کو دیکھا۔پورے ہال میں آواز گونج اٹھی جب اس نے انگریزی میں کہا: کبھی ہمت مت ہارو۔کچھ سیکنڈز گزرے اور اس نے اپنی ایڑھیوں پر اونچا ہو کر پھر کہا:کبھی ہمت مت ہارو۔ اس کے الفاظ سب کے کانوں میں بجلی کی طرح گونجے۔پورے ہال میں سناٹا سا چھا یا ہوا تھا جب اس نے اپنی ٹوپی اور سگار لیا ور پلیٹ فارم چھوڑ دیا۔اسکا آغازی بیان ختم ہو چکا تھا۔ انسان کو کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ محنت کا پھل ہر انسان کو ملتا ہے چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔مزید اچھی پوسٹ پڑھنے کے لیے فیس بک میسج بٹن پر کلک کریں۔

پاکستانی کرنسی سے متعلق دلچسپ حقائق جو آپ نہیں جانتے

پاکستانی کرنسی سے متعلق دلچسپ حقائق جو آپ نہیں جانتے

  جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018  |  15:39

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرنسی میں متعدد تبدیلیاں واقع ہوئیں جو کہ عوام کی سہولتوں اور معیشت کی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئیں- 1971 تک پاکستانی کرنسی کا اجراﺀ دو زبانوں میں کیا جاتا تھا٬ ایک اردو اور دوسری بنگالی زبان- 80 کی دہائی تک “پیسہ“ سکہ کا استعمال ہوتا تھا اور اس سلسلے کو بند کر کے کرنسی نوٹوں تبدیل کر دیا گیا- لیکن پھر ان نوٹوں کو ایک مرتبہ دوبارہ نئے سکوں سے تبدیل کیا گیا-یہاں ہم پاکستان کرنسی کی تاریخ اور اس سے متعلق چند ایسے حقائق پیش کر رہے ہیں جن سے

آپ ناواقف ہوں گے-لفظ “روپیہ“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی “ چاندی کا سکہ “ کے ہیں-“ روپے “ کے نام کا پہلا سکہ شیر شاہ سوری نے 1545 میں متعارف کروایا تھا-پہلی جنگِ عظیم کے دوران چاندی کی کمی کی وجہ سے پہلی مرتبہ 1 روپے کے کرنسی نوٹ متعارف کروائے گئے-حیدرآباد ریاست کی اپنی کرنسی نوٹ ہوا کرتے تھے جن کی مالیت 1 روپے٬ 2 روپے اور 1000 روپے کی تھی-پاکستان میں 1948 میں نصف روپے کا سکہ اور ایک روپے کا سکہ متعارف کروایا گیا-ایک روپے کا سکہ دوسری بار 1979 میں متعارف کروایا گیا تھا-1962 میں 1 ٬ 2٬ ٬ 5 اور 10 پیسے کے سکے جاری کیے گئے لیکن 1976 میں 2 پیسے کے سکے کو بند کر دیا گیا-1979 میں 1 پیسے کے سکے کو بھی بند کردیا گیا-1947 میں آغاز میں پاکستان میں بھارتی روپیہ استعمال کیا جاتا تھا جس پر پاکستان کی مہر ثبت ہوتی تھی-2روپے٬ 5 روپے٬ 10 روپے اور 100 روپے کے کرنسی نوٹ 1953 میں متعارف کروائے گئے-1957 میں 50 روپے کا کرنسی نوٹ متعارف کروایا گیا-یہ کرنسی نوٹ بنگالی اور اردو دونوں زبانوں میں استعمال کیا جاتا تھا-1964 میں پہلی مرتبہ 500 روپے کے کرنسی نوٹ متعارف کروائے گئے-

شہید کون؟ امیر تیمور کا عالم سے دلچسپ سوال و جواب

شہید کون؟ امیر تیمور کا عالم سے دلچسپ سوال و جواب
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 15:13
امیر تیمور کی یہ عادت تھی کہ وہ جب کسی شہر کو فتح کرتا تو وہاں کے علماء کو اپنے دربار میں بلا کر کچھ خاص قسم کے سوالات کرتا کیونکہ وہ عالموں کی بہت عزت کرتا تھا۔ اگر وہ کسی عالم سے سوال کرتا اور وہ ادھر ادھر کی مارتا یعنی کسی دلیل کے بغیر بات کرتا تو امیر تیمور اس کو قتل کروا دیتا تھا۔ چنانچہ جب اس نے حلب کو فتح کیا تو شہر میں قتل عام کرایا اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ پھر علماء شہر کو قلعہ میں بلا کر اپنے سامنے بٹھایا اور

درباری مولوی عبدالجبار بن علامہ نعمان الدین حنفی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ ان علماء سے کہہ دیجئیے کہ میں ان سے ایک ایسا سوال پوچھوں گا جو میں نے سمر قندی اور میرات کے عالموں سے بھی دریافت کیا مگر ان لوگوں نے اس کا شافی جواب نہیں دیا۔ لہٰذا ان علماء کی طرح یہ لوگ بھی میرے سوال کا گول مول جواب نہ دیں بلکہ صاف صاف وضاحت کے ساتھ جواب دیں اور ان علماء میں جو سب سے زیادہ صاحب علم ہو وہی جواب دے۔چنانچہ درباری عالم عبدالجبار نے کہا کہ ہمارے سلطان آپ لوگوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کل جنگ میں ہمارے اور تمھارے آدمی بکثرت قتل ہوئے تو آپ لوگ یہ بتائیں کہ ہماری فوج کے مقتولین شہید ہوئے یا تمھاری فوج کے؟ یہ سوال سن کر تمام علماء گھبرا گئے۔ مگر علامہ ابن طمنہ جواب دینے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اور فرمایا کہ مجھے اس وقت ایک حدیث یاد آگئی ہے۔ ایک اعرابی حضور اکرمﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ایک شخص مال غنیمت کے لالچ میں جنگ کرتا ہے اور ایک شخص لڑتے ہوئے اور ناموری کے لئے قتال کرتا ہے اور ایک شخص خدا کی راہ میں کلمتہ اللہ کی بلندی کے لیے لڑتا ہے تو ان میں سےشہید کون ہے۔ تو حضوراکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے خدا کی راہ میں اعلاءک لمتہ اللہ کے لیے جنگ کی وہی شہید ہے۔ لہٰذا اے بادشاہ ہماری فوج کے مقتولین ہوں یا آپ کی فوج کے۔ جنھوں نے خدا کی راہ میں کلمہ حق کی بلندی کی نیت سے جنگ کی ہو گی وہ شہید ہوں گے اور جو مال غنیمت یا نامواری کے لیے لڑتے ہوئے مارے گئے ہوں کے وہ شہید نہیں ہوں گے علامہ کا یہ مسکت اور شافی جواب سن کر امیر تیمور حیران رہ گیا اور بے اختیار تیمور کی زبان سے خوب!خوب! نکلا۔ پھر اُس نے تمام علما کو عزت سے جانے دیا۔

دنیا کا خوبصورت ترین گاؤں٬ سانسیں تھم جائیں

دنیا کا خوبصورت ترین گاؤں٬ سانسیں تھم جائیں

  جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018  |  15:56

آسٹریا کے علاقے Gmunden میں ایک ایسا پرکشش گاؤں واقع ہے جسے دیکھنے والے اس کے سحر میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے- اس گاؤں کو Hallstatt کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں تقریبا 1000 افراد رہائش پذیر ہیں- اس گاؤں کی تاریخ کئی سو سال پرانی ہے- اس گاؤں کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے سال 2012 میں چین نے بھی اپنے صوبے Guangdong میں اس گاؤں کی نقل پر مبنی ایک پورا قصبہ تعمیر کیا ہے- آپ اس گاؤں کو دیکھتے ہی خود کو یہاں تصاویر کھینچنے سے نہیں روک سکتے ہیں- یہ کسی پریوں

روک سکتے ہیں- یہ کسی پریوں کے دیس کی مانند دکھائی دیتا ہے- 19ویں صدی کے اختتام تک اس گاؤں تک رسائی صرف کشتیوں یا پھر تنگ پگڈنڈیوں کے ذریعے ہی ممکن تھی- تاہم بعد میں یہاں ایک سڑک تعمیر کی گئی اور یوں پہلا باقاعدہ زمینی راستہ قائم ہوا-یہ گاؤں عالمی ثفافتے ورثے میں بھی شامل ہے اور خوبصورتی کے علاوہ نمک کی پیداوار کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے-نمک چونکہ قیمتی ذخائر میں سے ایک تھا اس لیے ماضی میں اس خطے کا شمار امیر ترین خطوں میں بھی ہوتا تھا- تاہم اب یہ گاؤں کے ایک سیاحتی مقام کی حیثیت بھی رکھتا ہے-سیاح 60 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے اس گاؤں کی سیر صرف 10 منٹ میں پیدل چل کر بھی کرسکتے ہیں-اس گاؤں میں آپ کو قدیم دور کی کئی نشانیاں بھی دکھائی دیں گی جو مختلف اوقات میں دریافت کی گئی ہیں- ان نشانیوں میں لباس٬ برتن اور لکڑی سے تیار کردہ اشیاﺀ شامل ہیں-

جوڑوں کا درد دور، فوری زخم بھرنے کیلئے یہ پتے استعمال کریں اور پھر کمال دیکھیں،جانئے طریقہ استعمال

جوڑوں کا درد دور، فوری زخم بھرنے کیلئے یہ پتے استعمال کریں اور پھر کمال دیکھیں،جانئے طریقہ استعمال
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 16:26
املی میں طبی خصوصیات ہوتے ہیں، اس سے ہم سبھی واقف ہیں۔ لیکن املی کی پتیاں بھی بیکار اور ضائع نہیں ہیں، کئی ایسے گھریلوں نسخے ہیں جس میں املی کی پتیوں کا استعمال کر صحت کی پریشانیوں سے راحت پا سکتے ہیں۔املی کی پتیوں میں انٹی سیپٹک صلاحیت سے بھر پور ہوتی ہیں۔ املی کی پتیوں کے عرق نکال کر ر زخموں پر لگایا جائے تو وہ زخم کو تیزی سے ٹھیک کرتا ہے۔ املی کے پتوں کا –> عرق کسی بھی دیگر انفیکشن میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ یہ نئی سیل کی تعمیربھی تیزی سے روکتا

املی کی پتیوں کے عرق سے دودھ پلانے والی خواتینوں میں دودھ کے معیار کافی بہترہوتے ہیں۔ املی کی پتیوں کا عرق رپروڈکٹیو ورجن کے انفیکشن کو بھی روکتا ہے۔ اور ا سکے علامت سے راحتفراہم کرنے میں مددگار ہے۔ املی کی پتی وٹامن سی کا ذخیرہ ہے۔جو کہ کسی بھی طرح کے انفیکشن سے جسم کی حفاظت کرتا ہے۔ جس سے جسم صحت یاب رہتا ہے۔ پتیوں کی کو اور اثر اندآزکرنے کے لئے پپیتا ، نمک اور پانی کو پتیوں میں ملایا جاسکتا ہے۔لیکن یہ یقینی بنائے کہ آپ بہت زیادہ نمک کااستعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ املی کی پتیوں میں سوجن کو کم کرنے والی صلاحیت ہوتے ہیں اور جوڑوں کے درد اور دیگر سوجن کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہاضمہ بہتر،وزن کم ،بند ناک کھولنے کیلئے یہ چند دانے استعمال کریں اور ڈاکٹروں کے پاس جانے سے چھٹکارا پائیں،استعمال واحد شرط

ہاضمہ بہتر،وزن کم ،بند ناک کھولنے کیلئے یہ چند دانے استعمال کریں اور ڈاکٹروں کے پاس جانے سے چھٹکارا پائیں،استعمال واحد شرط
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 16:28
کھانے میں لذت کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مرچ کھانے کی خواہش میں بھی اضافہ کرتی ہے ، گھر کے باورچی خانے سے بڑے بڑے ہوٹل والے اور خوانچہ فروش بھی کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال کرتے ہیں۔کالی مرچ ذائقہ بڑھانے سمیت غذاؤں میں اہم جزو کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔۔کالی مرچ تیار کیے جانے والے کھانوں کواچھا ذائقہ تو دیتی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ صحت کے لئے بھی بے حد مفید ہوتی ہے۔ کالی مرچ میں سرطانی رسولیوں کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے جب کہ اس کے علاوہ کا لی مرچ جلدی

بڑی آنت کے کینسر کا جسم میں پھلاؤ روکنے میں معاون سمجھی جاتی ہے۔۔کالی مرچ انسانی معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کے اخراج میں اضافہ کرتی ہے جس سے ہاضمے کا عمل بہتر ہو جاتا ہے اور غذائیں مناسب طریقہ سے ہضم ہونے کے باعث آپ کبھی بھی قبض کا شکار نہیں ہوں گے۔کالی مرچ جراثیم کے خلاف خصوصیات کے سبب امتیازی اہمیت رکھتی ہے ، یہ آنتوں کو متاثر کرنے والے امراض کے علاج میں مددکرتی ہے۔کھانے میں لذت کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مرچ کھانے کی خواہش میں بھی اضافہ کرتی ہے جب کہ برصغیر ہیکیا پوری دنیا میں کالی مرچ ذائقہ بڑھانے حتیٰ کہ غذاؤں میں اہم جزو کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔۔کالی مرچ وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے ، کالی مرچ کی اوپر والی تہہ ایسے اجزا سے بھر پور ہوتی ہے جو چکنائی سے بھر پور خلیوں میں کمی واقع کرنے کا سبب بنتی ہے اور بہتر طور پر چربی کو گھلا نے کے لئے مسلسل توانائی فراہم کرتی ہے۔۔پسی ہوئی کالی مرچ کو رنگ صاف کرنے والی کریم میں ملا کر استعمال کرنے سے جلد کے مردہ خلیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جس کے جلد صاف اور چمکدار بن جاتی ہے۔ نزلہ اور زکام کی وجہ سے بند ناک کو کھو لنے ، ڈپریشن میں کمی ، قوت قلب میں اضافہ اور اینٹی آکسیڈنٹس میں اضافہ کے لئے بھی کالی مرچ کا استعمال مفید ہے۔

5 طریقے جن سے سوشل میڈیا نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے

5 طریقے جن سے سوشل میڈیا نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 15:17
سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس نے جہاں ایک جانب ہماری زندگیوں میں کئی آسانیاں پیدا کی ہیں اور ایک دوسرے سے رابطوں کو سہولت کے ساتھ ممکن بنایا ہے وہیں دوسری طرف دیکھا جائے تو اس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کو ذہنی صحت کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے- بین الاقوامی جریدے Independent کے مطابق گزشتہ 25 سالوں کے دوران نوجواںوں میں پائے جانے والے دباؤ اور پریشانیوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے- اور اس دباؤ میں اضافے کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا کو قرار دیا جارہا ہے- 1500 نوجوانوں پر کیے جانے والے

سروے کے مطابق 14 سے 24 سال کی عمر کے نوجوان اس سوشل میڈیا کی وجہ سے دباؤ اور پریشانی کا شکار ہیں- سوشل میڈیا نوجوانوں کو کیسے دباؤ کا شکار بنا رہا ہے٬ آئیے جانتے ہیں:ہراساں یا پریشان کرنے کے واقعات آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سائبر سیکورٹی کمپنی کے mcafee کے مطابق سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پر 87 فیصد نوجوانوں کو ہراساں یا پریشان کیے جانے کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے- انہیں قابلِ اعتراض پیغامات یا ای میل٬ افواہیں اور نامناسب مواد ارسال کیا جاتا ہے- یہ انتہائی نقصان دہ طریقہ کار ہوتا ہے اور اسے کبھی بھی استعمال کیا جاسکتا ہے- کسی بھی نامعلوم شخص کی جانب سے تصاویر یا پیغامات ارسال کر کے تنگ کیا جاتا ہے جبکہ یہ پیغامات ارسال کرنے والے شخص کے بارے میں پتہ لگانا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے اور آپ بعض اوقات ان پیغامات یا تصاویر کو حذف بھی نہیں کرپاتے اور یوں آپ دباؤ کا شکار بن جاتے ہیں-ناخوش اور غیر محفوظ بناتی ہیں سماجی روابط کی ویب سائٹس پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر دیگر صارفین کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں- اکثر صارفین ایسی تصاویر یا پوسٹ شئیر کرتے ہیں جن سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک انتہائی حیرت انگیز اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں- دیگر صارفین ان تصاویر کو دیکھ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جیسے ان کی زندگی میں کوئی خوشی نہیں ہے اور وہ ایک عام سی زندگی جی رہے ہیں- اور یوں وہ خود کو دوسروں سے بہت پیچھے تصور کرتے ہیں اور احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں-خود کو تنہا محسوس کرنا یقیناً سوشل میڈیا نے روابط کا ایک جدید ترین ذریعہ تخلیق کیا ہے لیکن حقیقت میں ہم خود کو دوسروں سے بہت زیادہ منقطع محسوس کرنے لگے ہیں- یونیورسٹی آف پیٹرز برگ کی ایک تحقیق کے مطابق اگر کوئی صارف روزانہ صرف 2 گھنٹے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پر گزارتا ہے تو وہ اس سے دو گنا زائد خود کو سماجی طور پر تنہا محسوس کرتا ہے- سوشل میڈیا پر تو نوجوان مسلسل ہر سماجی سرگرمی پر نظر رکھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ کسی سے زیادہ ملتے نہیں ہیں اور نہ ہی آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں-سوشل میڈیا ایک نشہ سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس آج اس حد تک ہماری زندگی میں رائج ہوچکی ہیں کہ ہم صبح اٹھ کر سب سے پہلے انہیں ہی چیک کرتے ہیں اور رات کو سوتے سے قبل بھی آخری بار اسی پر پائے جاتے ہیں- برطانیہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق دو تہائی نوجوان اس وقت تک خود کو پرسکون محسوس نہیں کرتے جب تک کہ ان کی رسائی ان ویب سائٹس تک نہ ہوجائے- سوشل میڈیا کی یہ بری عادت ہمارے دماغ کے ان خطرناک حصوں کو بھی فعال کردیتی ہے جو کہ صرف منشیات یا کوکین جیسے نشے کرنے کی صورت میں ہی فعال ہوتے ہیں- سوشل میڈیا اب صرف وقت گزاری کی چیز نہیں رہی بلکہ ضروری حصہ بن چکی ہے-نامناسب مواد تک رسائی سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پر ہر قسم کے موضوع سے متعلق وسیع پیمانے پر معلومات حاصل کی جاسکتی ہے اور وہ بھی باآسانی- لیکن اسی خاصیت کی بدولت نوجوانوں کی نامناسب یا قابلِ اعتراض مواد تک رسائی بھی ممکن ہوجاتی ہے جو ان کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے- آغا خان یونیورسٹی کی ڈاکٹر عائشہ میاں کے مطابق اس وقت پاکستان کے 50 ملین افراد ذہنی خرابی سے متاثر ہوچکے ہیں اور یہ خرابی ان کے لیے اکثر اوقات دباؤ کا سبب بن جاتی ہے- پاکستان میں حکومت کی جانب سے سالانہ اخراجات کی مد میں صرف 2.4 فیصد صحت کے شعبے میں خرچ کیا جاتا ہے جبکہ مزید اس کا بھی صرف 2 فیصد دماغی امراض کے شعبے پر خرچ ہوتا ہے-