پاکستانی کرنسی سے متعلق دلچسپ حقائق جو آپ نہیں جانتے

پاکستانی کرنسی سے متعلق دلچسپ حقائق جو آپ نہیں جانتے

  جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018  |  15:39

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرنسی میں متعدد تبدیلیاں واقع ہوئیں جو کہ عوام کی سہولتوں اور معیشت کی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئیں- 1971 تک پاکستانی کرنسی کا اجراﺀ دو زبانوں میں کیا جاتا تھا٬ ایک اردو اور دوسری بنگالی زبان- 80 کی دہائی تک “پیسہ“ سکہ کا استعمال ہوتا تھا اور اس سلسلے کو بند کر کے کرنسی نوٹوں تبدیل کر دیا گیا- لیکن پھر ان نوٹوں کو ایک مرتبہ دوبارہ نئے سکوں سے تبدیل کیا گیا-یہاں ہم پاکستان کرنسی کی تاریخ اور اس سے متعلق چند ایسے حقائق پیش کر رہے ہیں جن سے

آپ ناواقف ہوں گے-لفظ “روپیہ“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی “ چاندی کا سکہ “ کے ہیں-“ روپے “ کے نام کا پہلا سکہ شیر شاہ سوری نے 1545 میں متعارف کروایا تھا-پہلی جنگِ عظیم کے دوران چاندی کی کمی کی وجہ سے پہلی مرتبہ 1 روپے کے کرنسی نوٹ متعارف کروائے گئے-حیدرآباد ریاست کی اپنی کرنسی نوٹ ہوا کرتے تھے جن کی مالیت 1 روپے٬ 2 روپے اور 1000 روپے کی تھی-پاکستان میں 1948 میں نصف روپے کا سکہ اور ایک روپے کا سکہ متعارف کروایا گیا-ایک روپے کا سکہ دوسری بار 1979 میں متعارف کروایا گیا تھا-1962 میں 1 ٬ 2٬ ٬ 5 اور 10 پیسے کے سکے جاری کیے گئے لیکن 1976 میں 2 پیسے کے سکے کو بند کر دیا گیا-1979 میں 1 پیسے کے سکے کو بھی بند کردیا گیا-1947 میں آغاز میں پاکستان میں بھارتی روپیہ استعمال کیا جاتا تھا جس پر پاکستان کی مہر ثبت ہوتی تھی-2روپے٬ 5 روپے٬ 10 روپے اور 100 روپے کے کرنسی نوٹ 1953 میں متعارف کروائے گئے-1957 میں 50 روپے کا کرنسی نوٹ متعارف کروایا گیا-یہ کرنسی نوٹ بنگالی اور اردو دونوں زبانوں میں استعمال کیا جاتا تھا-1964 میں پہلی مرتبہ 500 روپے کے کرنسی نوٹ متعارف کروائے گئے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *