چرچل کی تقریر اور ٹیکسی ڈرائیور

چرچل کی تقریر اور ٹیکسی ڈرائیور
جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018 | 15:45
ایک بار سر ونسٹن چرچل کی تقریر کرنے جلد سے جلد ریڈیو اسٹیشن پہنچنا تھا- اس لیے وہ ایک ٹیکسی میں سوار ہو کر ڈرائیور سے بولے “ برٹش براڈ کاسٹنگ ہاؤس چلو-“ ڈرائیور ان کی طرف دیکھ کر بےپروائی سے بولا “ مجھے افسوس ہے٬ میں اس وقت یہ جگہ نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ ٹھیک نصف گھنٹنہ بعد مسٹر چرچل کی تقریر نشر ہوگی جسے کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کرسکتا- میں اپنے وزیراعظم کی تقریر ضرور سنوں گا-“ چرچل نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئے اور اسی عالم میں ڈرائیور کو ایک پونڈ انعام دیا-

نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور بڑے شگفتہ لہجے میں بولا “ آپ انتہائی اچھے اور نیک انسان ہیں- چلیے میں آپ کو چھوڑ آؤں٬ چرچل اور ان کی تقریر کو جہنم میں ڈالیے- وزیراعظم کی تقریر تو ہوتی رہتی ہے٬ آپ جیسے نیک دل انسان تو کبھی کبھی ملتے ہیں-مزید پڑھیے:ونسٹن چرچل کی انگریزی ونسٹن چرچل کوآٹھویں جماعت میں ۳ سال ہوگیا تھا کیونکہ اسے انگریزی میں بہت مشکل کا سامنا تھا۔یہ ستم ظریفی کہ کچھ سال بعد آکسفورڈ یونیورسٹی والوں نے اسے اپنی آغازی تربیت پر بولنے کا کہہ دیا۔ وہ اپنی ساری چیزوں کے ساتھ جو کہ ایک سگار، چھڑی اور ٹوپی پر مشتمل تھیں ساتھ لے آیا۔ وہ یہ چیزیں اپنے ساتھ ہر جگہ لے جاتا تھا۔جیسے ہی چرچل پوڈیم پر پہنچا لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دی۔لاثانی شان و شوکت کے ساتھ اس نے اپنے ماننے والوں کے شکریہ کہا اور انہیں بیٹھنے کو کہا۔اس سنے سگار ہٹایا اور احتیاط سے ٹوپی پوڈیم پر رکھتے ہوئے اپنے منتظر لوگوں کو دیکھا۔پورے ہال میں آواز گونج اٹھی جب اس نے انگریزی میں کہا: کبھی ہمت مت ہارو۔کچھ سیکنڈز گزرے اور اس نے اپنی ایڑھیوں پر اونچا ہو کر پھر کہا:کبھی ہمت مت ہارو۔ اس کے الفاظ سب کے کانوں میں بجلی کی طرح گونجے۔پورے ہال میں سناٹا سا چھا یا ہوا تھا جب اس نے اپنی ٹوپی اور سگار لیا ور پلیٹ فارم چھوڑ دیا۔اسکا آغازی بیان ختم ہو چکا تھا۔ انسان کو کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ محنت کا پھل ہر انسان کو ملتا ہے چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔مزید اچھی پوسٹ پڑھنے کے لیے فیس بک میسج بٹن پر کلک کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *