آپ کی مونچھیں اسلامی ہیں یا غیر اسلامی ؟ ایسا جواب کہ ہر مسلمان ایک بار تو اپنی مونچھوں پر غور کرے گا

آپ کی مونچھیں اسلامی ہیں یا غیر اسلامی ؟ ایسا جواب کہ ہر مسلمان ایک بار تو اپنی مونچھوں پر غور کرے گا
بدھ‬‮ 11 جولائی‬‮ 2018 | 18:36
ہمارے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ مونچھوں سے مردوں کی مردانگی کا رعب پڑتا ہے اور یہ مقولہ تو بہت عام ہے کہ جس کی ”مونچھ نہیں وہ مرد نہیں“۔ مونچھ کا مردانگی کے ساتھ کتنا تعلق ہے اس سے قطع نظر اسکو فیشن یا کلچر کے طور پر رکھنے کا رواج صدیوں پرانا ہے اور اسلام نے اس رواج کے برعکس مونچھ پر جو احکام صادر فرمائے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ مونچھ شرافت اور تکبر کے مابین فرق واضح کرتی ہے ۔آتش پرست اور دیگر قبائلی اقوام لمبی گھنی مونچھوں پر اترایا کرتی تھیں جس

کے برعکس اسلام نے مونچھ منڈوانے کا حکم دیا ۔اسلام میں مونچھ کا کیا تصور ہے اس بارے ممتاز عالم دین مفتی محمد شبیر قادری نے احادیث کی روشنی میں اس تصور کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قرآن وحدیث میں مونچھیں منڈوانے یا جڑ سے اکھاڑنے کی ممانعت نہیں ہے مگر سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مونچھیں پست کرنا ہی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اپنی مونچھیں ترشواتے تھے کبھی منڈوائی یا جڑ سے اکھاڑی نہیں ہیں۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھی بڑھاو۔ حضرت ابن عمر ؓ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔ حضرت ابن عمر ؓسے ہی مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے”مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھاو“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”آتش پرستوں کی مخالفت کرو، مونچھیں ترشواو اور داڑھی بڑھاو“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے کہ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھیں مبارک کتروایا کرتے تھے اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیمؑ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے“حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”جو اپنی مونچھوں کا کچھ حصہ (جو ہونٹ سے زائد ہو) نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں“ لہذامونچھیں تراش کر پست کرنا سنت ہے، مونڈھنا یا جڑ سے اکھاڑنا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے اور نہ اس کی ممانعت ہے۔مونچھیں پست ہونی چاہئیں اور ہونٹوں کے کناروں پر ابھری نہیں ہونی چاہئےں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں