رزق میں کشادگی اور تنگدستی دور کرنے کیلئے وہ کونسی دعا تھی جو نبی کریمؐ نے امت سے بھی پہلے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو عطاکی،ایسی دعا کہ جو تنگدست کو غنی ، بھوکے کو شکم سیر کر دے،رزق دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہو

رزق میں کشادگی اور تنگدستی دور کرنے کیلئے وہ کونسی دعا تھی جو نبی کریمؐ نے امت سے بھی پہلے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو عطاکی،ایسی دعا کہ جو تنگدست کو غنی ، بھوکے کو شکم سیر کر دے،رزق دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہو
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:42
اگر کوئی مسلمان یہ چاہے کہ اسکو کثیر رزق عطا ہوتو اسکو دعائے جبرائیل ؑ پڑھنی چاہئے . یہ دعااللہ کریم نے اپنے محبوب نبیﷺ کو حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے سکھائی تھی اور سب سے پہلے سرکار دوجہاں ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو عطا کی تھی.حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں اس دعا کا ذکر موجود ہے.ایک روز آپؓنے شدید فقر و فاقہ کی وجہ سے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ایک ماہ ہو گیا گھر میں چولہا جلانے کی نوبت تک نہیں نوبت تک نہیں آئی. آپ صلی اللہ علیہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو تو پانچ بکریاں دے دوں اور چاہو تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی ایک دعا سکھائی ہے بتا دوں. یہ دعا پڑھو. یَااَوَّلَ الاَوَّلِینَ یَااٰخِرَ الاٰخِرِینَ‘ ذَاالقُوَّةِ المَتِینِ‘ وَ یَارَاحِمَ المَسَاکِینَ‘ وَیَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ.

علامہ اقبالؒ ٬ سکھ کا قبولِ اسلام اور انسان کی پناہ

علامہ اقبالؒ ٬ سکھ کا قبولِ اسلام اور انسان کی پناہ
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:41
علامہ اقبالؒ کے بھتیجے شیخ اعجاز احمد چونیاں میں سب جج کے عہدے پر مامور تھے۔ وہاں ایک گیانی سکھ تھا۔ جس کی تقریر کی بڑی دھوم تھی، بڑا جادو بیان تھا۔ شیخ صاحب بھی اس کی تقریر سننے کے شوق میں گاہے بگاہے سکھوں کے گوردوارے جایا کرتے تھے۔ بیدی خاندان کا یہ گرنتھی انارکلی گوردوارہ میں بھی رہ چکا تھا اور بڑے کھلے دل سے گفتگو کرتا تھا۔ ایک دن وہ شیخ صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ : ”میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ مجھے ڈاکٹر اقبال کی خدمت میں لے چلیے۔“ موسم گرما کی تعطیلات

right;”>موسم گرما کی تعطیلات ختم ہوتے ہی شیخ اعجاز احمد اس سکھ مقرر کو اپنے ہمراہ لے کر لاہور آئے اور علامہ اقبال کی خدمت حاضر ہوئے۔ سکھ نے پہلے اپنے مشرف بہ اسلام ہونے کا ارادہ ظاہر کیا…. پھر بولا کہ ”میرے بہت سے بال بچے ہیں، خرچ زیادہ، آمدنی کم ہے کیا اچھا ہو کہ مسلمان ہونے کے بعد میری مالی امداد کی بھی کوئی صورت نکل آئے۔“

علامہ اقبال اس گیانی سکھ کی زبان سے مالی امداد کا ذکر سن کر متاثر بلکہ متاسف ہوئے، انہوں نے فرمایا…. ”اول تو مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے، جہاں سے نومسلموں اور ضرورت مندوں کی مالی امداد کی جاتی ہو، دوسرے مسلمان ہونے کیلئے مالی امداد کی شرط…. یہ بات کسی طرح پسندیدہ نہیں۔“

اس کے بعد علامہ اقبال نے ایک واقعہ سنایا کہ میرے والد ضلع گوجرانوالہ میں ایک بزرگ سے ملنے گئے۔ یہ بزرگ گاﺅں سے باہر چار پائی پر بیٹھے چند صاحبوں سے باتیں کررہے تھے۔ اتنے میں ایک جنگلی خرگوش جس کے پیچھے کتے لگے ہوئے تھے بھاگتا ہوا ادھر آیا اور چارپائی کے نیچے بیٹھ گیا، اس خرگوش کا جو کتے تعاقب کررہے تھے وہ چار پائی پر آدمیوں کو بیٹھا دیکھ کر ٹھہر گئے، بلکہ یوں کہیے ٹھٹھک کر رہ گئے۔ وہ بزرگ یہ منظر دیکھ رہے تھے، انہوں نے خرگوش کو مخاطب کرکے فرمایا: ”اے عقلمند! پناہ بھی لی تو انسان کی!“

علامہ اقبال یہ واقعہ سنا رہے تھے اور ان کا چہرہ تمتاتا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ ان پر رقت طاری ہوگئی۔ انہوں نے صوفے پر اپنی ٹھوڑی رکھ دی اور زاروقطار رونے لگے۔ ان کی آنکھوں کے آنسو جو ابھی تک چھلک رہے تھے، اب موتیوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔ گیانی حکیم نے اس حکیمانہ مثال کو کچھ سمجھا، کچھ نہ سمجھا خاموشی کے ساتھ چلا گیا۔

موٹاپا پیدا کرنے والی عادتیں

موٹاپا پیدا کرنے والی عادتیں
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:40
دور جدید میں بدلتے ہوئے طرز زندگی سے جہاں ہمارے رہن سہن میں تبدیلی آئی تو طرز طعام اور عادات بھی اثر انداز ہوئیں اور کچھ مسائل نے جنم لیا جس میں ’’موٹاپا‘‘ گزشتہ کئی سالوں سے قابل توجہ موضوع رہا ہے۔ دنیا کے کچھ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر چار میں سے ایک فرد موٹاپے کا شکار ہورہا ہے جو عارضہ قلب، ذیابیطس، فشار خون اور بلڈ پریشر جیسے امراض کو گود مہیا کرتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنے اور بہتر صحت کی نعمت سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صحت مند

صحت مند خوراک کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایسی عادتیں بھی بدلیں جو ہمیں موٹاپے کا شکار بناتی ہیں۔

1۔ ناشتہ نا کرنا: بہت سے لوگ صبح کا ناشتہ اسکول، کالج یا دفتر جانے کی عجلت میں چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ اسے ضروری ہی نہیں سمجھتے۔ دراصل آپ کے جسم اور ذہن کے لیے ناشتہ چھوڑ دینا انتہائی نقصان دہ فعل ہے۔ کیونکہ ناشتہ چھوڑ دینے کے بعد باقی دن آپ جو کچھ کھاتے ہیں وہ میٹابولزم سست ہونے کے باعث جسم کے لیے زائد خوراک بن جاتا ہے۔ امریکن جرنل آف ایپی ڈیمالوجی کے مطابق ناشتہ نا کرنے والوں میں موٹاپے کے امکانات 4۔5 گنا بڑھ جاتے ہیں لہٰذا میٹابولزم کو درست رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ غذائیت سے بھرپور خوراک تھوڑی تھوری مقدار میں وقفے سے استعمال کریں۔

2۔ تیزی سے کھانا: بہت سے لوگ تیزی سے کھانے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ یہ عادت بھی اچھی صحت کے لیے ناموزوں ہے۔ یونیورسٹی آف روڈ آئیلینڈ کے مطابق جو لوگ آہستہ چبا کر کھانا کھاتے ہیں وہ تیز کھانے والوں کی نِسبت خوراک کا تیسرا حصہ لیتے ہیں۔ ہمارا معدہ سیر ہوجانے کا پیغام دماغ تک پہنچانے میں تقریباً 20 منٹ لگاتا ہے لہذا آپ کو 5 منٹ میں کھانے کے بجائے کم از کم 20 منٹ میں کھانا ختم کرنا چاہیے اور ایک لْقمے کو کم از کم بیس مرتبہ چبا کر کھانا چاہیے۔

3: بڑے لقموں میں کھانا: خوراک کو چھوٹے لقموں میں چبا کر کھانا لطف دیتا ہے اور زیادہ وقت لیتا ہے جس سے آپ کی بھوک بھی سیر ہو جاتی ہے۔ امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کے مطابق جو لوگ بڑے لقموں میں کھاتے ہیں وہ چھوٹے لقموں میں دیر تک چبانے والوں کی نسبت 52% زیادہ کیلوریز حاصل کرتے ہیں۔

4: کھاتے ہوئے ٹی وی یا موبائل فون کا استعمال کرنا: ٹیلی وڑن یا موبائل فون استعمال کرنے والوں کی اکثریت کی توَجّْہ کسی بھی دوسری چیز بشمْول کھانے کی طرف کم ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف برمِنگھم کے محققین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ جن کی توجّہ کھانے پر نہیں تھی وہ پوری توجہ سے کھانا کھانے والوں کی نسبت 5 سے 10 گنا زیادہ مقدار میں اسنیکس وغیرہ کھا گئے یہاں تک کہ ان میں اکثر کو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ انہوں نے کیا کھایا۔

5: کم چکنائی والی خوراک کا استعمال : کم چکنائی والی خوراک جس پر Low fat food یا Fat free کا لیبل لگا ہوتا ہے۔ ایسی خوراک بظاہر آپ کو کم کیلوریز کی وجہ سے مناسب لگتی ہے مگر دراصل اس میں چکنائی کو نشاستہ یا دوسرے کیمیکلز میں تبدیل کردیا جاتا ہے جو کہ چکنائی سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ ایسی خوراک جلد ہضم ہوجاتی ہے اور بھوک بھی جلد لگ جاتی ہے جس سے آپ خوراک زیادہ یا بار بار کھاتے ہیں۔

6: موٹے لوگوں سے دوستی کرنا : دا نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق اگر آپ کے دوست یا زوج پیٹو ہیں تو آپ میں موٹاپے کے امکانات 57% بڑھ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کے آپ موٹے دوستوں سے تعلق نا رکھیں یا دوستی نا کریں بلکہ ان کے ساتھ باہر کھانا کھانے کے بجائے کھیل کود یا سیر و تفریح کے پروگرام ترتیب دیں جس سے آپ ان کی صحبت سے زیادہ لطف اٹھائیں گے اور ان کی کیلوریز جسم میں ذخیرہ ہونے کے بجائے استعمال ہوکر ان کے موٹاپے میں بھی کمی لائیں گی۔

7: جنک فوڈ اور مشروبات کا بکثرت استعمال : جنک فوڈ اور کوک جیسے مشروبات کا بکثرت استعمال بھی وزن میں اضافے اور موٹاپے کا باعث بن جاتا ہے۔ پھل اور سبزیوں کا کم استعمال خوراک کو غیر متوازن بنا دیتا ہے۔ لہٰذا موٹاپے سے بچنے اور اچھی صحت کے لیے غذا میں تمام ضروری اجزا کا مناسب مقدار میں ہونا ضروری ہے۔اپنے وزن کو وقتا فوقتا چیک کرتے رہنا اور خوراک پر تھوڑی سی توجہ دینا، ہلکی پھلکی ورزش، چہل قدمی اور بھوک رکھ کر کھانا کھانے سے آپ موٹاپے جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

پھیکا تربوز قسمت والوں کو ملتا ہے

پھیکا تربوز قسمت والوں کو ملتا ہے
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:39
آج سے تین سال قبل آپ کسی بھی ریڑھی والے یا دکاندار سے تربوز کا تقاضا کرتے تھے تو وہ چیک کروا کردینے کے نرخ چند روپے فی کلو زیادہ ہی بتاتا تھا۔ نیز تربوز چیک کروانے کے لئے وہ کافی چھان پھٹک کے بعد تربوز منتخب کرتا اور پھر اس پر چھری پھیرتا تھا۔ کچا پھیکا تربوز نکل آنا نارمل بات تھی لیکن گزشتہ تین برسوں سے ایسا نہیں ہورہا۔ آپ سرخ تربوز کی فرمائش کریں وہ اطمینان سے کوئی بھی تربوز کٹ لگا کر آپ کو پیش کردیتا ہے جو سو فیصد سرخ ہی نکلتا ہے۔ ایسا کیوں؟کیمکل کی دکان سے

کی دکان سے ایک مضر رساں کیمیکل ملتا ہے جسے پانی میں حل کرکے سرنج کے ذریعے تربوز کی جڑ میں انجیکٹ کردیا جاتا ہے ، نتیجتا 48

گھنٹوں کے بعد تربوز سرخی مائل رنگت اختیار کرلیتا ہے۔ مذکورہ کیمیکل اتنا ارزاں ہے کہ آپ سو روپے میں ایک ہزار سے زائد تربوز سرخ بناسکتے ہیں۔ جس طرح کسی زمانے میں سرخ تربوز نصیب والوں کا نکلتا تھا اب پھیکا تربوز قسمت والوں کو ملتا ہے۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

وہ وقت جب ایک سپرپاور نےپاکستان کو نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی

وہ وقت جب ایک سپرپاور نےپاکستان کو نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:36
ایک مرتبہ روسی سفیر نے ایوان صدر میں جنرل محمد ضیاء الحق سے ملاقات کی اور تحکمانہ انداز میں کہا کہ جنرل صاحب آپ ایک روسی میزائل کی مار بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ ہمارے راستے سے ہٹ جائیں ورنہ آپ کاانجام بہت برا ہوگا ۔ سوویت یونین وہ سفید ریچھ ہے جہاں ایک بار پنجے گاڑ لیتا ہے وہاں سے نکلتا نہیں ہے ۔ آدھی سے زیادہ دنیا پر سوویت یونین کا قبضہ اس بات کا ثبوت ہے ۔ ضیاء الحق روسی سفیر کی یہ تلخ باتیں تحمل سے سنتے رہے پھر جب روسی سفیر جانے کے لیےکرسی سے اٹھا

لیےکرسی سے اٹھا تو جنرل صاحب نے الوداع کہتے ہوئے کہا مسٹرایمبسیڈریہ درست ہے کہ سوویت یونین نے آدھی دنیا پر قبضہ کررکھا ہے یہ بھی درست ہے کہ

آپ کا ایک میزائل مجھے یہیں بیٹھے بیٹھے قبر میں اتار سکتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھو ایک طاقت اور بھی ہے جو سوویت یونین سے کہیں بڑی ہے اور وہ طاقت اﷲ تعالی کی ہے جب تک اس نے میری زندگی لکھی ہوئی ہے دنیا کی کوئی طاقت مجھے نہیں مار سکتی جاؤ اور اپنے حکمرانوں کو بتا دو میں یہیں بیٹھا تمہارے میزائلوں کا انتظار کررہا ہوں ۔

روزانہ چند منٹ آپ اپنی ٹانگیں اس طرح دیوار کے ساتھ رکھیں تو اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ جان کر آپ کو افسوس ہوگا کہ پہلے کسی نے کیوں نہ بتایا

روزانہ چند منٹ آپ اپنی ٹانگیں اس طرح دیوار کے ساتھ رکھیں تو اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ جان کر آپ کو افسوس ہوگا کہ پہلے کسی نے کیوں نہ بتایا
جمعرات‬‮ 30 اگست‬‮ 2018 | 22:12
ورزش کرنا مشقت طلب کام ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بے شمار فوائد کے باوجود اکثر لوگ ورزش سے جی چراتے ہیں۔ تو کیوں نا آپ کو ایسی ورزش بتا دی جائے جو بہت آسان ہے لیکن اس کے فائدے بے پناہ ہیں۔ یہ بہت سادہ کام ہے، بس اپنی ٹانگیں چند منٹ کے لئے دیوار کے ساتھ لگائیں اور بے شمار فوائد پائیں۔ویب سائٹ organicremedieshouse کے بتائے گئے طریقے کے مطابق پہلی صورت یہ ہے کہ آپ کمر کے بل لیٹیں اور کولہوں کو دیوار کے بالکل ساتھ لگا کر ٹانگیں دیوار کے ساتھ سیدھی اوپر

لیں۔ چند منٹ تک اسی حالت میں رہیں اور پھر ٹانگیں نیچے کر لیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ پہلے کی طرح ٹانگیں سیدھی اوپر کرنے کے بعد ان میں فاصلہ پیدا کرتے ہوئے V کی شکل میں لے آئیں۔ یہ انداز بھی صرف چند منٹ کے لئے اپنائیں اور پھر ٹانگیں نیچے کر لیں۔اس طرح کرنے سے مثانے اور اردگرد کے مسلز کو کھنچاؤ اور پھیلاؤ کا موقع ملتا ہے۔تیسری صورت یہ ہے کہ ٹانگیں V شکل میں پھیلانے کے بعد انہیں موڑ کر پیروں کو قریب لائیں،اس طرح کہ دونوں پیروں کے تلوے آمنے سامنے آ جائیں۔ یہ مذکورہ بالا مسلز کو سب سے زیادہ متحرک کرنے والا انداز ہے۔اب اگر فوائد کی بات کیجئے تو یہ ورزش بے حد مفید ہے۔ اسے دن کے اختتام پر کریں تو اور بھی مفید ہے۔ اس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے اور ٹانگوں میں سوزش، کھنچاؤ اور سوجن ہو تو اس میں بھی بہتری آ جاتی ہے۔اگر آپ دن بھر بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو یہ ورزش ضرور کرنی چاہئیے۔ اس سے پنڈلیوں کو آرام ملتا ہے اور خصوصاً کمر درد کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔یہ ورزش جسم کو عمومی آرام اور سکون بھی مہیا کرتی ہے جس سے بہتر نیند آتی ہے۔ ذہن کو سکون ملتا ہے اور نظام انہضام میں بہتری آتی ہے۔ اس ورزش سے سر درد میں بھی افاقہ محسوس ہوتا ہے، خصوصاً میگرین جیسے شدید سر درد کے مریضوں کو یہ ورزش ضرور کرنی چاہئیے۔ مزید یہ کہ اس ورزش کو ذہنی پریشانی اور ڈپریشن جیسی کیفیات میں بھی مفید پایا گیا ہے

جنت کا پھل ’’انار‘‘

جنت کا پھل ’’انار‘‘
ہفتہ‬‮ 11 اگست‬‮ 2018 | 20:28
ایک مزیدار پھل انارہے سب اس کو بہت شوق سے کھاتے ہیں اس کی تین قسمیں ہیں۱)میٹھا ۲)کھٹ میٹھا ۳)کھٹا انار جلدی امراض کا بہترین قدرتی علاج ہے،جگر کے فعل کو درست رکھتا ہے،جسم سے زہریلی مادے ختم کر کے اچھا اور صاف خون بناتا ہے ،انار کارس پیاس بجھاتا ہے ،ہاضمہ اچھا رکھتا ہے، یہ پھل ٹی بی کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے ،انار کھانے سے دبلا پتلا جسم موٹا ہو جاتا ہے ،انار کا رس پرانی کھانسی کو بھی ختم کرتا ہے اور کھٹا انار ْ،دست،اور خارش کے لئے مفید ہوتا ہے ،اگر آپ انار کے

پر کالی مرچ اور نمک لگا کر کھائیں تو آپ کو بھوک زیادہ لگنے لگے گی،کھٹا انار یرقان(پیلیا)کے لئے بہت مفید ہے منہ میں چھالے ہیں تو انار کے پتوں کو پانی میں جوش دے کر اس سے کلی کرنے سے چھالے ختم ہو جاتے ہیں،انار سے پیشاب کی تکلیف بھی دور ہوتی ہے ۔اگر آپ کے مسوڑھوں سے خون آتا ہو اور آپ کے پکے دانت بھی ہل رہے ہوں تو میری خشک کلیاں باریک پیس کر منجن کے طور پر لگانے سے دونوں شکایتیں دور ہو جاتی ہیں۔ جن نونہالوں کو بھوک نہیں لگتی انھیں انار کے دانے خوب چبا کر چوسنا چاہئے۔ان پر سفید زیرہ ،سونٹھ، اور کالا نمک چھڑک کر کھانا زیادہ مفید ہوتا ہے۔ بزرگوں سے کہتے سنا ہے کے انار میں ایک دانہ جنت کا ہوتا ہے اس لئے انار کے دانوں کی قدر کریں اور پورا انار کھائیں۔

رزق خود چل کر آتا ہے

رزق خود چل کر آتا ہے
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:36
کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا۔ پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی۔ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا۔اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا ،سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کےجا

نہر کےجا کر بیٹھ گیا۔

ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نہر میں نیچے کی طرف بہتا ہوا آ رہا ہے۔ چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا دیکھتا ہے کہ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا۔واہ خدایا! واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔ حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا، پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا،ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے، اٹھائے اور کھا لئے۔مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ اس بار بھی وہی ہوا۔واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا۔اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا اور بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتا ہے. اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا۔ کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا کہ دیکھا، ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔

قریب جا کر دیکھا۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹکور کرتے، پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے۔جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟بابا جی بولے:کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا۔جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹکور کروں، سو میں فجر، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں۔

نان اور حلوے کی ٹکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں۔بے شک اللہ رازق ہے۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے، محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے۔جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔ جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، رزق تو انہیں بھی ملتا ہے مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو۔مزید اچھی پوسٹ پڑھنے کے لئے فیس بک میسج بٹن پر کلک کریں

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط اور شرابی کی توبہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط اور شرابی کی توبہ
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:35
اہل شام میں ایک بڑا بارعب اور قوی شخص تھا اور وہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ وہ کافی دن نہ آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اسکا حال پوچھا لوگوں نے کہا امیر المومنین اس کا حال نہ پوچھیں وہ تو شراب میں مست رہنے لگ گیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے منشی کو بلایا اور کہا کہ اس کے نام ایک خط لکھو ۔ آپ نے خط میں لکھوایا منجانب عمر بن خطاب بنام فلاں بن فلاں السلام علیکم ۔

علیکم ۔ میں تمہارے لیے اس اللہ کی حمد پیش کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ گناہوں کو معاف کرنے والا ، توبہ کو قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا اور بڑی قدرت والا ہے ۔ اسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ہمیں اسکی طرف لوٹ کر جانا ہے –

پھر حاضرین مجلس سے کہا کہ اپنے بھائی کے لیے سب مل کر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو پھیر دے اور اسکی توبہ کو قبول فرمائے ۔ سب نے مل کر دعا کی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خط قاصد کو دیا اور کہا یہ خط اسے اس وقت دینا جب وہ نشے میں نہ ہو اور اس کے سوا کسی کو نہ دینا –

جب اس کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خط پہنچا تو اس نے پڑھا اور بار بار ان کلمات کو پڑھتا رہا اور غور کرتا رہا کہ اس میں مجھے سزا سے بھی ڈرایا گیا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی یاد دلایا گیا ہے ۔ وہ خط پڑھ کر رونے لگا اور شراب نوشی سے توبہ کرلی اور ایسی توبہ کی کہ پھر کبھی شراب کے پاس نہ گیا –

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اسکی توبہ کی خبر ملی تو لوگوں سے فرمایا ۔ کہ ایسے معاملات میں تم لوگوں کو ایسے ہی کرنا چاہیے کہ جب کوئی بھائی کسی لغزش میں مبتلا ہوجائے تو اس کو درستی پر لانے کی فکر کرو اور اس کو اللہ کی رحمت کا بھروسہ دلاؤ اور اللہ سے اس کے لیے دعا کرو تاکہ وہ توبہ کرلے ، اور تم اس کے مقابلے پر شیطان کے مددگار نہ بنو ۔ یعنی اس کو برا بھلا کہہ کر یا غصہ دلا کر دین سے دور کردو گے تو یہ شیطان کی مدد ہوگی . (معارف القران جلد 7 صفحۃ 58)

ملک دشمن جاسوس اور ISI سولجر کا سچا واقعہ

ملک دشمن جاسوس اور ISI سولجر کا سچا واقعہ
جمعرات‬‮ 30 اگست‬‮ 2018 | 19:39
وہ کافی عرصہ سے وہاں رہ رہا تھا لوگ اس ڈاکٹر کی بہت عزت کرتے تھے وہ اکثر اوقات ان کا علاج معالجہ مفت کر دیا کرتا تھا۔ اس کے کلینک کے باہر ایک مخبوط الحواس نوجوان پڑا رہتا تھا جو کبھی کسی سے بات نہیں کرتا تھا بس اپنے آپ میں مگن سر جھکائے کچرے کے ڈھیر کے ساتھ پڑا رہتا۔۔ ڈاکٹر اکثر اوقات رحم کھا کر اسے کچھ نہ کچھ کھانے کو دے دیا کرتا کیونکہ نقد رقم جو بھی اس کو دی جاتی وہ وہیں کچرے میں پھینک دیا کرتا اس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ

مست ملنگ ہے۔۔ ڈاکٹر صاحب کے معاملات عجیب تھے وہ لوگوں کے بلاوجہ ٹیسٹ کیا کرتے اور ویکسین گھر گھر جا کر دیا کرتے۔ ایک ٹیم تشکیل دے رکھی تھی جو گھر گھر جا کر یہ سب کرتی تھی۔ فروری کی سرد رات کے 1 بجے پٹرولنگ کرتے سولجر اپنی مٹسوبشی وین ڈرائیور کو کاکول روڈ پر جانے کا کہا ابھی وہ وہاں پہنچے ہی تھے کہ وائرلیس میں سرسراہٹ ہوئی۔۔ آل ویپنز فری۔جس کا مطلب تھا ہوائی گھس پیٹھ ہوئی ہے۔۔ سولجر نے سگنل چیک کیا اور واپس کنفرم کیا۔ الفا گراونڈ ٹو ایگل ون کنفرم دی سگنل۔ دوسری طرف سے کہا گیا۔کنفرم۔۔ اس کے بعد دو ہیلی کاپٹر انتہائی نیچی پرواز کرتے ہوئے اسکے سر کے اوپر سے گزرے۔ اور کچھ دور ایک گھر کے اوپر منڈلانے لگے اس نے اپنے نائٹ وژن لگا کر ہیلی کاپٹر کو دیکھا اور چلایا انگیج وین … اس کے ساتھ پوزیشن لیے بیٹھے سولجرس نے RPG فائر کیا جو سیدھا جا کر ایک ہیلی کی دم پر لگا ہیلی ھوا میں چکر کھاتا زمین پر ڈھیر ہو گیا اور پھر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ادھر سولجر نے خود LMG سنبھالی ہوئی تھی جو مسلسل آگ اگل رہی تھی وائرلیس اپریٹر نے بیک اپ بلایا مگر دوسری طرف سے ان کو واپس آنے کا کہا گیا۔۔سولجر حیرت زدہ تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔۔ ڈاکٹر صاحب رات کے ایک بجے تیزی سے سامان پیک کر رہے تھے شاید کہیں جانے کی بہت جلدی تھی وہ اپنا بیگ اٹھائے گھر سے نکلے تو وہ ملنگ پاگل ان کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے غصے میں اس کو دھکا دیا اور اپنے پرس سے سارے پیسے نکال کر اس کے آگے پھینک دیے۔۔ وہ سرد لہجے میں بولا اپنے پیسے اٹھا لے۔ ڈاکٹر حیران رہ گیا کہ یہ تو بولتا ہی نہیں تھا اب کیسے بولا؟ مگر اس کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر ڈاکٹر سن ہو گیا۔ دل تو کر رھا ہے تمھارا بھیجا اڑا دوں مگر فرض کے ہاتھوں مجبور ہوں۔یو آر انڈر اریسٹ