پیغمبر اسلام نے 51 برس تک حضرت خدیجہ کے سوا کسی خاتون سے نکاح نہ کیا

پیغمبر اسلام نے 51 برس تک حضرت خدیجہ کے سوا کسی خاتون سے نکاح نہ کیا
جمعہ‬‮ 31 اگست‬‮ 2018 | 14:44
پچھلے دنوں ایک بہن نے اپنا یہ مسئلہ مجھ سے ڈسکس کیا کہ ان کا شوہر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ پہلی بیوی سے کئی بچے ہیں، وہ خوش بھی ہیں، مگر چونکہ خوشحال ہیں اس لیے دوسری شادی کا سودا بری طرح سوار ہو گیا ہے۔ اور اس کے بغیر باز آنے کو تیا رنہیں۔ہمارے سماجی پس منظر میں عام طور پر دوسری شادی کو پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ جب مردوں کو یہ کرنا ہوتا ہے تو وہ مذہب اور شریعت کو اپنی حمایت میں پیش کرتے ہیں۔ اتفاق سے پچھلے دنوں بعض ایسی مشہور شخصیات کی حادثاتی

شخصیات کی حادثاتی موت یا قتل کا سانحہ پیش آیا جو مذہبی طور پر معروف تھے اور شوبز سے متعلق بھی تھے۔ ان کاجہاں اور پہلوؤں سے میڈیا پر تذکرہ رہا وہیں ان کی دو تین شادیوں کی خبریں بھی عام ہوئیں۔ جس سے لوگوں میں یہ تاثر

قوی ہوا کہ اسلام ایک سے زیادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں زمانہ قبل از اسلام سے عرب کا ایک رواج تھیں۔ جنگ احد کے موقع پر جب مدینے کی چھوٹی سی بستی میں ستر لوگ شہید ہوگئے اور ہر چوتھے گھر میں کوئی خاتون بیوہ اور بچے یتیم ہو گئے تو اسلام نے اس رواج سے فائدہ اٹھا کر یتیم و بیواؤں کی سرپرستی کا راستہ دکھایا۔ اس میں بھی بیویوں کے درمیا ن عدل اور زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی حد مقرر کر دی گئی۔یہ اسلام کی تعلیم ہے۔ جبکہ پیغمبر اسلام کا معاملہ یہ ہے کہ آپ نے 51 برس تک

حضرت خدیجہ کے سوا کسی خاتون سے نکاح نہ کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے باقی ساری شادیاں بیواؤں اور یتیموں کو سہارا دینے یا کسی دینی مصلحت سے کی تھیں اور سب کی سب بیوہ مطلقہ عورتوں سے کیں۔ آپ کی واحد کنواری بیوی حضرت عائشہ تھیں۔جاری ہے۔ جن سے آپ نے اللہ کے حکم پر شادی کی (بخاری، 5078)۔ اس شادی کی حکمت یہ تھی کہ سیدہ ایک غیر معمولی ذہین ٹین ایجر خاتون تھیں۔ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ وہ ایک دہائی تک رسالتمآب کے ساتھ رہ کر دین سیکھتی رہیں اور اپنی کم عمری کی بنا پر حضور ﷺکے بعد بھی اگلی کئی دہائیوں تک امت کو تعلیم دیتی رہیں۔آج

بھی ہم اجازت کو اپنے متعدد سماجی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں بڑی تعداد میں جوان لوگ حادثات ، جرائم اور بیماریوں میں مارے جاتے اور اپنے پیچھے بیوائیں اور یتیم چھوڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح گھروں میں ایک بڑی تعداد ان لڑکیوں کی ہے جن کی شادی کی عمر مختلف اسباب سے نکل گئی ہے۔۔جاری ہے۔ہمارے معاشرے میں ایسی خواتین اور بچے بے سہارا رہ جاتے ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور اکثروہ نفسیاتی مریض بن کر رہ جاتے ہیں۔ایسے میں صاحب حیثیت مرد اگر ان خواتین اور بچوں کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑھیں تو یہ بہت بڑی نیکی ہو گی اور اس کا اجر وہ اللہ کے ہاں پائیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں دوسری تیسری شادی کا خیال صرف اس خوشحال شخص کوآتا ہے جس کے سامنے کوئی خوبصورت اور جوان عورت آجائے

اور وہ عورت بھی اس کے مال و شہرت سے متاثر ہوکر اس سے شادی کرنے پر تیار ہوجائے۔ اس کے بعد سماجی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے لوگ اسلام اور پیغمبر اسلام کو بیچ میں لاتے ہیں۔۔جاری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں دوسری شادی ممنوع نہیں لیکن ہم اسلام اور پیغمبر اسلام کی زندگی سے یہ بتا چکے ہیں کہ اسلام میں دوسری شادی کی تلقین اصلاً یتیموں اور بیواؤں کی مدد کے لیے کی گئی ہے۔ بدقسمتی سے کوئی شخص دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کے اس پہلو پر توجہ نہیں دلاتا۔ بلاشبہ جس مقصد کے لیے اسلام نے دوسری شادی کی تلقین کی ہے وہ ایک عظیم خدمت ہے۔ وہ ایک عظیم قربانی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کو نمایاں ہوکر سامنے آنا چاہیے۔

موت کی بو

موت کی بو
جمعرات‬‮ 30 اگست‬‮ 2018 | 10:36
مجھے کسی صاحب نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا‘ وہ ترکی کے راستے یونان جانا چاہتے تھے‘ ایجنٹ انہیں ترکی لے گیا‘ یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے‘ سردیاں یورپ میںداخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا‘ برف کی وجہ سے سیکورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے‘ بارڈر پرگشت رک جاتا تھا‘ ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے تھے اور انہیں یونان کے کسی ساحل پر اتار دیتے تھے‘ یہ ایجنٹوں کی عام پریکٹس تھی‘ اس صاحب نے بتایا ”ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے‘ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا ایک

کا ایک

گوجرانوالہ کا ایک گندہ سا لڑکا تھا‘ وہ نہاتا بھی نہیں تھا اور دانت بھی صاف نہیں کرتا تھا ‘ اس سےخوفناک بو آتی تھی‘ تمام لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے‘ ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے‘ ہم میں سے کوئی میں سے کوئی شخص اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا‘ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رونا شروع ہو گیا‘ ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا‘ کشتی جبیونان کی حدود میں داخل ہوئی تو کوسٹ گارڈ ایکٹو تھے‘ یونان کو شاید ہماری کشتی کی مخبری ہو گئی تھی‘ ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ تھے‘ اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہو گئی‘ وہ الٹیاں کرنے لگا‘ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کر دیا‘ ایجنٹ ٹینشن میں تھا‘ اسے غصہ آ گیا‘ اس نے دو لڑکوں کی مدد لی اور اسے اٹھا کر یخ پانی میں پھینک دیا‘ وہ بے۔جاری ہے ۔چارہ ڈبکیاں کھانے لگا‘ ہم آگے نکل گئے‘ ہم ابھی آدھ کلو میٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہو گئی‘ ایجنٹ نے کشتی

موڑنے کی کوشش کی‘ کشتی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور وہ پانی میں الٹ گئی‘ ہم سب پانی میں ڈبکیاں کھانے لگے‘ میں نے خود کو سردی‘ پانی اور خوف کے حوالے کر دیا‘ میری آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھا‘ مجھے عملے نے بتایا کشتی میں سوار تمام لوگ مر چکے ہیں‘ صرف دو لوگ بچے ہیں‘میں نے دوسرے شخص کے بارے میں پوچھا‘ ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹا دیا‘ دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا تھا جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا‘ سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں‘ مجھے کوسٹ گارڈز نے بچا لیا تھا جبکہ باقی لوگ گولیوں کا نشانہ بن گئے یا پھر سردی سے ٹھٹھر کر مر چکے تھے‘ میں پندرہ دن ہسپتال رہا‘ میں اس دوران یہ سوچتا رہا ”میں کیوں بچ گیا“ مجھے کوئی جوابنہیں سوجھتا تھا‘ میں جب ہسپتال سے ڈسچارج ہو رہا تھا‘مجھے اس وقت یاد آیا میں نے اس لڑکے کو لائف جیکٹ پہنائی تھی‘ ایجنٹ جب اسے پانی میں پھینکنے کےلئے آ رہا تھا تو میں

نے فوراً باکس سے جیکٹ نکال کر اسے پہنا دی تھی‘ یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچا لیا‘ مجھے جوں ہی یہ نیکی یاد آئی‘ مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آ گیا‘ جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارہ تھا‘ ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے تھے بلکہ وہ جب تک ہماری کشتی میں موجود رہا ہم کوسٹ گارڈز سے بھی محفوظ رہے‘۔جاری ہے ۔ یخ پانیسے بھی اور موت سے بھی‘ ہم نے جوں ہی اسے کشتی سے دھکا دیا موت نے ہم پر اٹیک کر دیا‘ میں نے پولیس سے درخواست کی ”میں اپنے ساتھی سے ملنا چاہتا ہوں“ پولیس اہلکاروں نے بتایا ”وہ پولیس وین میں تمہارا انتظار کر رہا ہے“ میں گاڑی میں سوار ہوا اور جاتے ہی اسے گلے سے لگا لیا‘ مجھے اس وقت اس کے جسم سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں آ رہی تھی‘ مجھے معلوم ہوا میرے ساتھیوں کو اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی‘ یہ ان لوگوں کی موت تھی جو انہیں اس سے الگ کرنا چاہتی تھی اور وہ جوں ہی الگ ہوئے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ عسرت میں گزرا‘ مجھے انہوں نے ایک دن اپنی کہانی سنائی‘ انہوں نے بتایا ”میرے والد مل میں کام

کرتے تھے‘ گزارہ مشکل سے ہوتا تھا‘ ان کا ایک کزن معذور تھا‘ کزن کے والدین فوت ہو گئے ‘ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیںرہا‘ میرے والد کو ترس آگیا‘ وہ اسے اپنے گھر لے آئے‘ ہم پانچ بہن بھائی تھے‘ گھر میں غربت تھی اور اوپر سے ایک معذور چچا سر پر آ گرا‘ والدہ کو وہ اچھے نہیں لگتے تھے‘ وہ سارا دن انہیں کوستی رہتی تھیں‘ ہم بھی والدہ کی وجہ سے ان سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے والد کو ان سے محبت تھی‘ وہ انہیں ہاتھ سے کھانا بھیکھلاتے تھے‘۔جاری ہے ۔ان کا پاخانه بھی صاف کرتے تھے اور انہیں کپڑے بھی پہناتے تھے‘ اللہ کا کرنا یہ ہوا‘ ہمارے حالات بدل گئے‘ ہمارے والد نے چھوٹی سی بھٹی لگائی‘ یہ بھٹی کارخانہ بنی اور وہ کارخانہ کارخانوں میں تبدیل ہو گیا‘ ہم ارب پتی ہو گئے‘ 1980ءکی دہائی میں ہمارے والد فوت ہو گئے‘ وہ چچا ترکے میں مجھے مل گئے‘ میں نے انہیں چند ماہ اپنے گھر رکھا لیکن میں جلدہی تنگ آ گیا ‘ میں نے انہیں پاگل خانے میں داخل کرا دیا‘

وہ پاگل خانے میں رہ کر انتقال کر گئے بس ان کے انتقال کی دیر تھی ہمارا پورا خاندان عرشسے فرش پر آ گیا‘ ہماری فیکٹریاں‘ ہمارے گھراور ہماری گاڑیاں ہر چیز نیلام ہو گئی‘ ہم روٹی کے نوالوں کو ترسنے لگے‘ ہمیں اس وقت معلوم ہوا ہمارے معذور چچا ہمارے رزق کی ضمانت تھے‘ ہم ان کی وجہ سے محلوں میں زندگی گزار رہے تھے‘ وہ گئے تو ہماری ضمانت بھی ختم ہو گئی‘ ہمارے محل ہم سے رخصت ہو گئے‘ ہم سڑک پر آ گئے۔۔جاری ہے ۔یہ واقعات آپ کےلئے ہیں‘ہم نہیں جانتے ہم کن لوگوں کی وجہ سے زندہ ہیں‘ ہم کن کیرہے ہیں‘ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم کس کو بس سے اتاریں گے‘ ہم کس کو کشتی سے باہر پھینکیں گے اور ہم کس کے کھانے کی پلیٹ اٹھائیں گے اور وہ شخص ہمارا رزق‘ ہماری کامیابی اور ہماری زندگی ساتھ لے جائے گا‘ ہم ہرگزہرگز نہیں جانتے لہٰذا ہم جب تک اس شخص کو نہیں پہچان لیتے ہمیں اس وقت تک کسی کو بس‘ کشتی اور گھر سے نکالنے کا رسک نہیں لینا چاہیے‘ کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہو وہ سب اس شخص کا ہو اور اگروہ چلا گیا تو سب کچھ چلاجائے‘ ہم ہم نہ رہیں‘ مٹی کا ڈھیر بن جائیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ائیر ہوسٹس اور پائلٹس کی اصل تنخواہ کتنی ہو تی ہے ؟ جواب جان کر آپ کے سب اندازے غلط ثابت ہو جائیں گے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ائیر ہوسٹس اور پائلٹس کی اصل تنخواہ کتنی ہو تی ہے ؟ جواب جان کر آپ کے سب اندازے غلط ثابت ہو جائیں گے
جمعرات‬‮ 30 اگست‬‮ 2018 | 10:34
فضائی سفر کے شعبے کو چمک دمک اور پیسے کی دنیا قرار جاتا ہے۔ پائلٹوں اور ائرہوسٹسوں کی زندگی کے معمولات میں تو ہر کسی کو دلچسپی ہوتی ہے لیکن اکثر لوگ یہ جاننے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان کی کمائی کتنی ہوتی ہے۔ ’ٹیلی گراف ٹریول‘ نے یہ بات جاننے کیلئے متعدد پائلٹوں ، ائیرہوسٹسوں اور بیگج ہینڈلنگ سٹاف سے بات چیت کی اور کچھ نہایت دلچسپمعلومات اکٹھی کی ہیں۔پہلا دلچسپ انکشاف تو یہ سامنے آیا کہ اگرچہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ فضائی سفر کی دنیا میں پائلٹ ہی سب سے زیادہ رقم کماتے

رقم کماتے

رقم کماتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس شعبے میں سب سے زیادہ تنخواہیں ائیرٹریفک کنٹرولرز کی ہوتی ہیں، جو اوسطاً سالانہ 91 ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ پاکستانی روپے) کماتے ہیں، یعنی ماہانہ تقریباً 11 لاکھ روپے۔ دراصل یہ دنیابھر میں سب سے زیادہ کمائی والی نوکریوں میں سے ایک ہے۔ ائیرٹریفک کنٹرولرز سے زیادہ کمانے والے صرف ڈاکٹر اور پیٹرولیم انجینئر ہوتے ہیں۔اس کے بعد پائلٹوں کا نمبر ہے جو سالانہ اوسطاً79 ہزار پاﺅنڈ، یعنی تقریباً پونے دس لاکھ پاکستانی روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ ان کا اس اوسط مقدار سے کافی زیادہ کمانے کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر برٹش ائیرلائن میں پائلٹوں کی سالانہ تنخواہ 1 لاکھ 40 ہزار پاﺅنڈ تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ائیرہوسٹسوں کا نمبر ہے جو سالانہ اوسطاً 25 ہزار پاﺅنڈ،

یعنی تقریباً تین لاکھ پاکستانی روپے ماہانہ کماتی ہیں۔ائیرپورٹ پر بیگج ہینڈلر کی نوکری کرنے والے افرادبھی سالانہ اوسطاً 22 ہزار پاﺅنڈ کما لیتے ہیں۔ ایرو سپیس انجینئر سالانہ اوسطاً 81 ہزار پاﺅنڈ کماتے ہیں جبکہ ائیرکرافٹ مکینک کی اوسطاً سالانہ تنخواہ 45 ہزار پاﺅنڈ تک ہوتی ہے۔ آپ ان تنخواہوں کا موازنہ دیگر شعبوں میں دی جانے والی اوسط تنخواہوں سے بھی کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کیئرئیر کاسٹ کے مطابق کچھ دیگر اہم ترین شعبوں میں سالانہ اوسطاًتنخواہ کی کیفیت درج زیل ہے۔سرجن: 409665 ڈالرآرتھو ڈینٹسٹ :280000ڈالرسائیکاٹرسٹ: 194740ڈالرجنرل پریکٹشنر :190490 ڈالرچیف ایگزیکٹو : 181210 ڈالرڈینٹسٹ :193900 ڈالرپیٹرولیم انجینئر:128230 ڈالراوڈی ایٹرسٹس :124830ڈالرفارماسسٹ : 122230 ڈالر

خوداعتماد افراد کی 10 عادتیں

خوداعتماد افراد کی 10 عادتیں
جمعرات‬‮ 30 اگست‬‮ 2018 | 10:32
اگر شخصیت میں اعتماد ہو تو کم تعلیم کے باوجود زندگی میں ترقی ممکن ہے جبکہ خوداعتمادی سے محرومی اعلیٰ تعلیم اور صلاحیت کو بھی ماند کردیتی ہے۔ درحقیقت حقیقی اعتماد شخصیت میں ایک جادو سا بھر دیتا ہے ۔ ایسا ہونے پر لوگوں کو خود پر اور اپنی صلاحیت پر یقین ہوتا ہے اور خوداعتمادی سے بھرپور افراد کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں کرنے سے گریز کرتے ہیں جو ڈان کے توسط سے درج ذیل ہیں۔ جواز نہیں تراشتے خوداعتماد لوگوں کو جس ایک چیز پر یقین ہوتا ہے وہ ذاتی تاثیر ہے، ان کا ماننا ہوتا ہے

ہوتا ہے

ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو بنا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کبھی بھی ٹریفک میں پھنسنے کی وجہ سے تاخیر یا ترقی نہ ملنے پر انتظامیہ کی شکایات نہیں کرتے، درحقیقت ایسے افراد کبھی بہانے یا جواز نہیں تراشتے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

وہ ہمت نہیں ہارتے خوداعتمادی کی دولت سے مالامال افراد اپنی پہلی کوشش ناکام ہونے پر ہار نہیں مانتے، وہ اس کام میں سامنے آنے والی مشکلات اور ناکامیوں کو رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں جسے عبور کرنا ہوتا ہے۔ وہ بار بار ایک چیز مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ آخر ان کی ناکامی کی وجہ کیا ہے اور کس طرح اگلی بار اس سے بچا جاسکتا ہے۔

وہ کام کرنے کے لیے اجازت ملنے کا انتظار نہیں کرتے خوداعتماد افراد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کوئی انہیں بتائے کہ کیا کرنا ہے یا کیسے کرنا ہے، وہ وقت ضائع کیے اور سوالات کیے بغیر اپنے کام کو نمٹاتے ہیں، وہ بس اپنے کام کو نمٹانا چاہتے ہیں اور اسے پورا کرتے ہیں۔انہیں توجہ کی خواہش نہیں ہوتی لوگ ان افراد کو زیادہ نہیں پسند کرتے جو توجہ حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں، خوداعتماد افراد جانتے ہیں کہ وہ اپنی حد تک کتنے موثر ہیں اور انہیں خود کو اہم ثابت کرنے میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ ایسے افراد بس اپنے اندر درست رویہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ خود کو ملنے توجہ کو بھی دیگر افراد کے کام کی جانب مبذول کراتے ہیں۔

انہیں مسلسل تعریف کی ضرورت نہیں ہوتی کیا آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو چاہتا ہے لوگ اسے مسلسل سراہے؟ خوداعتماد افراد ایسا نہیں کرتے، انہیں نہیں لگتا کہ ان کی کامیابی کا انحصار دیگر افراد کی تعریف پر ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جتنا بھی اچھا کام کریں، ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسا ہوگا جو لازمی تنقید کرے گا۔

وہ کام ٹالتے نہیں لوگ کاموں کو ٹالتے کیوں ہیںَ کئی بار اس کی وجہ بس یہ ہوتی ہے کہ وہ سست ہوتے ہیں جبکہ متعدد بار اس کی وجہ ان کا خوفزدہ ہونا ہوتا ہے، یعنی تبدیلی، ناکامی یا ہوسکتا ہے کامیابی کا خوف۔ خوداعتماد افراد کاموں کو ٹالتے نہیں کیونکہ وہ خود پر یقین رکھتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات انہیں مقصد کے قریب لے جائیں گے۔دیگر افراد سے موازنہ نہیں کرتے ایسے افراد اپنے فیصلے دوسروں کے سر تھوپتے نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ خاص ہوتا ہے، اور انہیں دیگر افراد کی ہمت یا حوصلہ توڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی تاکہ خود اچھا محسوس کرسکیں۔ دیگر افراد سے موازنہ کرنا شخصیت کو محدود کرتا ہے ۔ خوداعتمادی کے نتیجے میں لوگ اپنا وقت دیگر افراد سے موازنہ میں ضائع نہیں کرتے۔

تنازعے سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے خوداعتماد افراد کی نظر میں تنازعہ ایسی چیز نہیں جس سے ہر قیمت پر بچا جائے، بلکہ وہ اسے ایسے دیکھتے ہیں کہ اس کو کیسے موثر طریقے سے نمٹائیں۔ ناخوشگوار بات چیت یا فیصلے کرنے سے وہ ہچکچاتے نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تنازع زندگی کا حصہ ہے۔

وسائل کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیتے ایسے افراد اپنے راستے سے اس لیے پیچھے نہیں ہٹ جاتے کیونکہ ان کے پاس وسائل، عملہ یا رقم نہیں، اس کی بجائے وہ آگے بڑھنے کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بغیر ہی آگے بڑھ سکیں۔بہت زیادہ مطمئن نہیں ہوتے ایسے افراد جانتے ہیں کہ بہت زیادہ اطمینان ان کے مقاصد کے حصول کے لیے خاموش قاتل ثابت ہوتا ہے۔ جب وہ اطمینان محسوس کرنے لگتے ہیں تو اسے خطرے کی جھنڈی کے طور پر لیتے ہیں اور اپنی شخصیت کی حدود کو پھیلانے لگتے ہیں، ان کے خیال میں تھوڑا سا عدم اطمینان ذاتی زندگی اور کیرئیر دونوں کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں-

فرمانبردار بیوی

فرمانبردار بیوی
جمعرات‬‮ 30 اگست‬‮ 2018 | 10:24
تحریر محمّد صدیق بخاری یہ7 199 اکتوبر کی آخر ی رات تھی ۔جوں جوں رات بیت رہی تھی اس کی بے کلی اور بے قراری میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا۔ وہ کبھی بیٹھ جاتی اور کبھی ادھر ادھر گھومنے لگتی ۔ اسے طرح طرح کے اندیشے اور خیال آر ہے تھے۔ اس کا دلِ مضطرب مسلسل دعا میں مصروف تھا۔وہ اللہ سے اپنے شوہر کی خیریت مانگ رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا خاوند کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور جو بات کہتا ہے اسے پورا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہے ۔ اس کے

اس کے

اس کے خاوند نے مغرب کے وقت اسے فون کیا تھا کہ وہ سفر سے واپس آ گیا ہے اور عشا تک گھر پہنچ جائے گا۔ اس پیغام سے وہ بہت خوش ہوئی کیونکہ وہ کم وبیش چالیس دن بعد واپس آر ہا تھا۔اس مسافر کی والدہ اور اس کے بچے الگ منتظر تھے مگر مغرب سے عشا ہو ئی وہ نہ آیا ۔ عشا کے بعد بھی رات ڈھلتی رہی، مگر وہ نہ آیا۔ ایک گھنٹہ ، دو گھنٹے ، تین گھنٹے ، مگر پھر بھی دروازے پر کوئی دستک نہ ہوئی ۔ اب تو وہ بہت مضطرب ہو گئی تھی۔آخر وہ نماز کے لیے کھڑی ہو گئی ۔ اور سجدے میں اپنے رب کوپکارتی رہی۔ نمازسے کچھ سکون ملا تو وہ بستر پر دراز ہوئی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ ہرہر آہٹ پر چونک جاتی اور ہر ہر دستک پر تڑپ اٹھتی مگر بے سود۔

کروٹیں بدلتے بدلتے تہجد کا وقت آن پہنچا تھا۔ وہ ایک بار پھر رب کے حضور سجدہ ریز ہو گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اتنی بے قراری اور اضطراب بے وجہ نہیں ۔ دل تھا کہ سنبھل ہی نہیں پا رہا تھا۔ اِدھر اس کی یہ بے قراری تھی اور اُدھر اس کا خاوند لاہور کے جنا ح ہسپتا ل میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ چالیس دن کا سفر کر کے ژوب ،بلوچستان سے واپس آیاتھا اور رائے ونڈ سے اس نے اپنی بیوی کو اطلاع دی تھی کہ وہ عشا کے بعد گھر پہنچ جائے گا۔حسب ِوعدہ وہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ رائے ونڈ سے لاہور کے لےے ایک پرائیویٹ کار میں روانہ ہوا مگر ابھی رائے ونڈ سے پانچ ہی کلومیٹر دور آئے تھے کہ کا رایک ٹریکٹر ٹرالی کے ساتھ براہ راست ٹکر ا گئی ۔اللہ کی شان تھی کہ ڈرائیور سمیت اس کے دونوں ساتھی بالکل محفوظ رہے مگر تقدیر کو اس کا امتحاں مقصود تھا۔ اس کی ٹانگ تین جگہ سے اس طرح ٹوٹ گئی تھی کہ ہڈی کے بعض ٹکڑے ہی غائب ہو گئے تھے۔ہاتھ ، پسلیاں، چہرہ اور سر بھی بری طرح مجروح تھے۔پیشانی سے ایک بڑا شگاف سر کے اندر تک چلا گیا تھا اور اس میں سے بے تحاشا خون بہ رہا تھا ۔ وہ مکمل بے ہوشی میں تھا۔ اس کے ساتھیوں نے بڑی مشکل سے اسے پچکی ہوئی گاڑی میں سے نکالا اور جیسے تیسے ہسپتال پہنچایامگر انہیں امید نہ تھی کہ زندگی کی شمع جلتی رہے گی۔

سورج نکل آیا تھا مگر اسے محسوس ہی نہ ہوا کیونکہ اس کا اپنا سورج جو گہنا گیا تھا۔ وہ ہسپتال جانے کی تیاری کر رہی تھی ۔ اور ساتھ ہی ساتھ تلاوت اور دعا میں مصروف تھی۔ لوگو ں کی تسلیاں اسے طفل تسلیا ں محسوس ہو رہی تھیں۔ البتہ اپنے مالک کے کرم سے اسے امید ضرور تھی کہ اس کے سر کا سائباں قائم رہے گا ۔ اس نے کہا مالک !میں اس بے رحم دنیا کی چلچلاتی دھوپ میں تنہا سفر نہیں کر سکتی تو کرم فرمادے ۔ وہ کبھی گھر سے باہر نہ نکلی تھی مگر اس کے مالک نے اسے اس مشکل گھڑی سے نبرد آزما ہونے کے لیے بے پناہ حوصلہ دے دیا تھا۔ اس نے ایک بچے کوگود اٹھایا ، ایک کو انگلی لگایا اور ہسپتال کے لیے روانہ ہو گئی۔ وہاں پہنچی تو آنسوﺅں کاسیلاب پھر امڈ آیامگر اس نے انتہائی صبر سے خود کو تھامے رکھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا خاوند نیم بے ہوشی میں ہے تا ہم پہچانتا ضرور ہے ۔ وہ اس بات پر اپنے مالک کی بے انتہاشکر گزار تھی کہ وہ ایک با رپھر اپنے شوہر کو زند ہ حالت میں دیکھ رہی تھی۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے شوہر کو تسلی دینے کی کوشش کی ۔تھوڑی دیر بعد اس کے شوہر نے کہا کہ اب تم گھر چلی جاﺅ اسے عجیب سا لگا ۔وہ وہاں اور رکنا چاہتی تھی مگر اس کے شوہر کو یہ فکر تھی کہ اس نے اکیلے جانا ہے اس لیے رات سے پہلے پہلے گھر پہنچ جائے۔ اسکا دل چاہتا تھا کہ وہ ہسپتال ہی میں رہے اور اپنے خاوند کی خدمت کرے مگر اس کے گھر کو کون سنبھالتا اس لیے ہر روز وہ چاروناچار ہسپتال سے واپس لوٹ آتی۔ اس کے شوہر کے ہر ہر زخم پر پٹی بندھ چکی تھی مگر ٹانگ کے فریکچر باقی تھے ۔ فریکچروں کے آپریشن کے بعد اسے گھر منتقل کر دیا گیا۔

اب اس کی مشقت میں اس حوالے سے تھوڑی کمی ہو گئی تھی کہ اسے ہسپتال نہیں جانا پڑتاتھا مگر ایک اور حوالے سے مشقت زیادہ ہو گئی تھی۔اب اس کی ڈیوٹی چوبیس گھنٹے کی ہو گئی تھی۔پہلے تو رات کو چند گھنٹے آرام کے مل جاتے تھے مگر اب وہ بھی نہ تھے۔جوں ہی وہ سونے لگتی تو اس کا شوہر آواز دیتا کہ اس کے پاﺅں کویا ٹانگ کو سیدھا کر دے ، اوپر کر دے یا نیچے کر دے اور وہ پھر بیدار ہو جاتی ۔ کبھی پاﺅں سہلاتی ، کبھی سر دباتی اور کبھی باتیں کر کے اسے تسلی دینے لگتی حالانکہ خود اسے تسلی کی ضرورت تھی ۔ اس نے کبھی اسے محسوس نہ ہونے دیا کہ اب وہ اس کا محتاج ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اب وہ اپنی بشری حاجات کے لیے بھی ہر وقت اس کا محتاج تھا۔ اس نے کبھی ماتھے پہ بل نہ ڈالا اور کبھی اکتاہٹ کا اظہا ر نہ کیا۔اگر اس کا شوہر بیماری کے ہاتھوں مجبور کوئی سخت بات کہہ بھی دیتا تو وہ ہنس کر ٹال دیتی اور کبھی شکا یت نہ کرتی۔وہ اس محتاجی کی حالت میں بھی اسے اپنے سر کا تاج سمجھتی تھی ۔اور یہ کوئی دو چار ہفتوں کی بات نہ تھی ،پورا ڈیڑھ برس اسی حال میں گزرا تھا۔اکیلی جان ، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ذمہ داری، بوڑھی والدہ کی خدمت اور شوہر کی نگہداشت۔یہ اسی کا حوصلہ تھا کہ سب کچھ بطریق احسن ہو رہا تھا اورکسی کوبھی کوئی شکایت نہ تھی۔ اور پھروہ دن بھی آیا کہ اس کا شوہر ایک بار پھر اپنے پاﺅں چلنے کے قابل ہو گیا۔ اس دن وہ کتنی خوش ہوئی تھی اور اس نے اپنے رب کاکتنا شکر ادا کیا تھا یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس نے کسی کو بتایا ہی نہیں ۔ وہ کہتی ہے کہ یہ اس کا اور اس کے رب کا معاملہ ہے ۔

اس مہیب سا ل کو گزرے تیر ہ برس ہو گئے مگر آج بھی اس کا شوہر اس کا احسان مند ہے ۔وہ اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا کہ شادی تو آئیڈیل سے دستبرداری کا نام ہے مگر ساتھ ہی کہا کرتا تھا ، لیکن دوستو، مجھے تو میرا آئیڈیل مل گیا ہے ۔ اس بھیانک سال کا ایک ایک پل اُس کے اس دعوے پر مہر تصدیق ثبت کر گیا تھا۔ آج بھی جب کبھی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے تو وہ شرما کے کہتی ہے، جانِ من، میں نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیاتھا بلکہ اپنا فرض اداکیا تھا ۔اور وہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ کیا اس زمانے کی ازدواجی زندگی میں وفاداری ، محبت اور ایثارکی اس سے بہترمثال مل سکتی ہے؟ یا پھر بہتر نہیں توکیا ایک مسلمان بیوی اور مشرقی عورت کی اس جیسی مثال ہی مل سکتی ہے ؟ اور پھر اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ایسی مثالیں ملنا نا ممکن نہیں تو محال ضرور ہیں۔ اس کے شوہر کو ہمیشہ یہ اعتراف رہا اور ہے کہ اُس کی زندگی توبس دو عورتوں سے عبارت ہے ایک اُس کی ماں اور دوسری اُس کی بیوی۔اوراکثر شب تنہائی میں وقتِ نیم شب وہ جب ان عورتوں میں سے ایک کے لیے بخشش مانگتا ہے اور دوسری کے لیے سلامتی اور عافیت ،تو نہ جانے اس کی آنکھوں سے آنسو کیوں چھلک آتے ہیں ۔ اور وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ آنسو شکر کے ہیں یا عجز کے عجز اس بات کا کہ وہ ان دونوں کے احسانات کا بدلہ نہ ادا کر پایا۔ اور شکر اس بات کا کہ اس کے مالک نے جو بھی دیااس کی طلب سے سوِا دیا

..دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

—آج کعبہ میں کچھ غیر معمولی واقعہ ہونے والے تھا، نماز عشا کا وقت ہو چکا تھا

—آج کعبہ میں کچھ غیر معمولی واقعہ ہونے والے تھا، نماز عشا کا وقت ہو چکا تھا

کبوتر کے پاؤں

کبوتر کے پاؤں
بدھ‬‮ 29 اگست‬‮ 2018 | 10:41
طوفان نوح گزر جانے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی تو حضرت نوح علیہ السلام نے روئے زمین کی خبر لانے کے لئے کبوتر کو بھیجاتو وہ زمین پر نہیں اترا بلکہ ملک سبا سے ایک زیتون کی ایک پتی چونچ میں لے کر آ گیاتو آپ نے فرمایا کہ اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہےتم زمین پر نہیں اترے اس لئے پھر جاؤ اور روئے زمین سے خبر لاؤ ۔تو کبوتر دوبارہ روانہ ہوا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی زمین پر اترااوردیکھ لیا کہ پانی

میں حرم کعبہ کی زمین پر اترااوردیکھ لیا کہ پانی زمین حرم سے ختم ہو چکا ہے اورسرخ رنگ کی مٹی ظاہر ہو گئی ہے۔کبوتر کے دونوں پاؤں سرخ مٹی سے رنگین ہو گئے۔ اور وہ اسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس واپس آ گیا اور عرض کیا کہاے خدا کے پیغمبر !آپ میرے گلے میں ایک خوبصورت طوق عطا فرمائیے اور مجھے زمین حرم میں سکونت کا شرف عطا فرمائیے۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے سر پر دست شفقت پھیرا اوراس کے لئے دعا فرمائی کہ اس کے گلے میں دھاری کا ایک خوبصورت ہارپڑا رہے اور اس کے پاؤں سرخ ہو جائیں اور اس کی نسل میں خیر و برکت رہے اور اس کو زمین حرم میں سکونت کا شرف ملے۔کبوتر کی خاص عادت یہ ہے کہ اگر اس کو ایک ہزار میل کے فاصلے سے بھی چھوڑا جائے تو یہ اُڑ کر اپنے گھر پَہُنچ جاتا ہے نیز دُور دراز ملکوں سے خبریں لاتا اور لے جاتا ہے۔اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگرکبھی کسی کا پالتو کبوتر اور کسی جگہ پکڑا گیا اورتین تین سال یا اس سے بھی زیادہ مُدَّت تک اپنے گھر سے غائب رہا مگر باوُجُود اس طویل غیر حاضری کے وہ اپنے گھر کو نہیں بھولتا اور اپنی ثباتِ عقل ،قُوَّتِ حافِظہ اور کششِ گھر پر برابر قائم رہتا ہے اور جب کبھی اسے موقع ملتا ہے اُڑ کر اپنے گھر آجاتا ہے۔اگر کسی شخص کے اَعْضاء شل ہوجائیں یا لَقْوہ ، فالج کا اَثر ہو جائے تو ایسے شخص کو کسی ایسی جگہ جہاں کبوتر رہتے ہوں وہاں یا کبوتر کے قریب رہنا مفید ہے ،یہ کبوتر کی عجیب و غریب خاصیّت ہے ،اس کے علاوہ ایسےشخص کے لیے اس کا گوشت بھی فائدہ مند ہے۔ عجائب القرآن صفحہ 318 تفسیر صاوی جلد 3 صفحہ 912

سنی لیون کو کون نہیں جانتا۔ انہوں نے اور ان کے شوہر ڈینیل ویبر نے گزشتہ برس ایک بچی کو گود لیا تھا۔

سنی لیون کو کون نہیں جانتا۔ انہوں نے اور ان کے شوہر ڈینیل ویبر نے گزشتہ برس ایک بچی کو گود لیا تھا۔

نفس کا فریب

نفس کا فریب
بدھ‬‮ 29 اگست‬‮ 2018 | 10:33
مثنوی مولانا روم میں شہرِ بغداد کی ایک حکایت مذکور ہے۔ حکایت کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ برف باری کے موسم میں بغداد کے ایک سپیرے کا گزر پہاڑی علاقے سے ہوا۔ سخت سردی سے ٹھٹھر کر پہاڑوں کے دامن میں بڑے بڑے اژدھے بے حس و حرکت پڑے ہوئے تھے۔ انہی اژدھوں میں سپیرے اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہے کی نظر ایک عظیم الشان اژدھے پر پڑی۔ سپیرے کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا اور وہ اس اژدھے کو اٹھا کر بغداد کے گلی کوچوں میں گھسیٹ لایا۔وہ اژدھا ایک

کو اٹھا کر بغداد کے گلی کوچوں میں گھسیٹ لایا۔وہ اژدھا ایک بڑے ستون کی مانند عظیم جسامت کا حامل تھا۔ وہ درحقیقت زندہ تھا لیکن سردی سے ٹھٹھر کے مثلِ مردہ کے بے حس و حرکت تھا۔بغداد پہنچ کرسپیرے نے تماشہ لگالیا اور اپنی بہادری اور مہارت کا خوب ڈھنڈورا پیٹا کہ اس اژدھے کے شکار میں مجھے سخت محنت اٹھانی پڑی ہے اور اپنی جان پر کھیل کر میں اسے شکار کرکے شہر میں لایا ہوں۔دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے۔ سب کی زبانوں پر سپیرے کی دلیری کے قصے تھے اور لوگ اژدھے کےبظاہر مردہ جسم کے نزدیک ہوکر اس کی بے پناہ جسامت کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا ،سورج کی شعاعوں کی تمازت سے اژدھے کے جسم میں ٹھنڈک کے آثار کم ہونا شروع ہوئے اور زندگی کی حرارت اس کے رگ و پے میں دوڑنے لگی۔کچھ ہی دیر میں جو اژدھا مردہ تھا زندہ ہوگیا اور اس نے پھنکارتے ہوئےحرکت کرنا شروع کردی۔ یہ منظر دیکھ کر لوگوں کی خوف کے مارے چیخیں نکل گئیں اور مجمع میں بھگدڑ سی مچ گئی۔بہت سے لوگ بھاگتے ہوئے ایک دوسرے سے ٹکرا کر زخمی ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا پورا مجمع تتر بتر ہوگیا۔ سپیرا حیرت اور خوف سے سکتے میں آگیا اور اژدھے کا پہلا شکار وہی ثابت ہوا۔اس حکایت کو بیان کرکے مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اﷲ علیہ نے ایک نہایت اہم سبق بیان فرمایا ہے کہ انسان کو کبھی بھی اپنے نفس پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اپنی فطرت کے اعتبار سے نفس کے اندر گناہوں سے طبعی رغبت اور میلان پایا جاتا ہے۔ بسا اوقات آدمی کے ارد گرد گناہوں اور اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کے اسباب و مواقع موجود نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ گناہوں سے محفوظ و مامون ہوتا ہے۔ نیز ااذکار و اشغال کی کثرت اور اعمالِ صالحہ کی پابند ی کی بدولت کبھی اسے اپنے نفس پر اطمینان ہو جاتا ہے۔لیکن یہیں شیطان اور نفس اسے دھوکا دیتے ہیں کہ اب تیری طبیعت میں گناہوں سے رغبت ختم ہو چکی ہے ۔اب تو فرشتوں کی طرح معصوم ہو چکا ہے۔ تیرا دل صاف، نظر پاک اور نیت صادق ہے اس لئے اب تجھے زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس حسین فریب میں آکر رفتہ رفتہ انسان گناہوں کے قریب ہوتا چلاجاتا ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوپاتا۔ یہاں تک کہ نفس کے اژدھے میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے دام میں گرفتار کرکے انسان کو ذلت و بربادی کی پستیوں میں دھکیل دیتا ہے۔اسی لئے شریعتِ مطہرہ میں ایک مسلمان کونہ صرف اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں حلال اور حرام کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے بلکہ مشتبہ امور سے بچنے کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔اسی وجہ سے متقی شخص شبہات سے بھی بچتا ہے۔ اب اس احتیاط کو خواہ نفس پرور دنیا پرست طبقہ نفسیاتی ہونے کا طعنہ دے یا دقیانوسی ہونے کا بہتان لگائے، اﷲ رب العزت سے ڈرنے والے کو ان الزامات کی ذرہ برابر بھی پروا نہیں ہوتی۔ اس کے پیشِ نظر قرآنِ کریم کا یہ فرمانِ عالیشان ہوتا ہے کہ ترجمہ: یہ اﷲ کی قائم کردہ حدود ہیں لہٰذا ان سے باہر نہ نکلو اور جو لوگ ان سے تجاوز کرتے ہیں وہی دراصل ظالم ہیں۔ ( سورہ بقرہ ، آیت 229)نیز نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی یہ حدیثِ مبارکہ اس کے لئے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہے جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے( کہ حلال ہیں یا حرام)۔پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں مبتلا ہو گیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ( شاہی محفوظ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کوچرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے( اور شاہی مجرم قرار پائے)۔ سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔(صحیح بخاری)مسلمان کی ساری زندگی اسی فکر میں گزرتی ہے کہ میرے کسی عمل سے میرا رب مجھ سے ناراض نہ ہوجائے۔اسی ادھیڑبن میں اس کی صبح و شام ہوتی ہے کہ میں کس طرح اپنے پالنے والے کو راضی کرلوں۔وہ ہر قدم پر احتیاط کرتا ہے کہ جادۂ مستقیم سے کہیں منحرف نہ ہوجائے۔نفس و شیطان کے خلاف جہاد میں وہ ہر وقت سر بکف رہتا ہے۔شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے خوب کہا ہے کہ ؂ یہ شہادت گہہ اُلفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

’’کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی ٗ‘ پاک فوج کا رواں سال یومِ دفاع و شہداء منفرد انداز میں منانے کااعلان

’’کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی ٗ‘ پاک فوج کا رواں سال یومِ دفاع و شہداء منفرد انداز میں منانے کااعلان
بدھ‬‮ 29 اگست‬‮ 2018 | 10:08
راولپنڈی (این این آئی)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے رواں سال یومِ دفاع و شہداء منفرد انداز میں منانے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ چھ ستمبر کو وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر ملک گیر مہم کا فوکل پوائنٹ ہونگے ٗ کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی ٗہر شہید کی تصویر پر شہادت کی تفصیل اور جائے شہادت لکھا جائے گا ٗافواجِ پاکستان کے شہداء کے لواحقین اور غازیوں کیلئے چھاؤنیوں میں دن کے وقت تقاریب منعقد ہونگی ٗ۔تعلیمی اداروں میں شہدا کی یاد اور وطن سے محبت کی تقریبات ہونگی ٗ تمام ادارے

اپنے شہداء کی یاد میں خصوصی تقاریب منعقد کریں گے ٗ بسوں ٗ ویگنوں ٗ ٹرکوں ٗ پرائیویٹ گاڑیوں ٗ ٹرینوں اور تمامائیر پورٹس پر شہداء کی تصاویر لگائی جائیں گی ٗ شاپنگ مال شہیدوں کی تصاویر سے سجائے جائیں گے۔ منگل کو 6ستمبر کو یومِ دفاع و شہداء کے سلسلے میں آئی ایس پی آر میں پلاننگ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس دور ان ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزارت اطلاعات کے ہم آہنگ سول سوسائٹی ، میڈیا اور افواجِ پاکستان کے نمائندوں کو پلان سے آگاہ کیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ ’’ہمیں پیار ہے پاکستان سے‘‘ کے نام سے یومِ دفاع و شہداء منایا جائے گاٗ رواں سال یومِ دفاع و شہداء منفرد انداز میں منایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر ملک گیر مہم کا فوکل پوائنٹ ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ شرکاء کو شہیدوں کی لسٹ اور ایڈریس مہیاء کیے گئے اور اس سلسلے میں مرکزی تقریب جی ایچ کیو میں منعقد ہو گی اور یہ براہِ راست نشر کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ قوم کے نمائندے ہر شہید کے گھر جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی ٗہر شہید کی تصویر پر شہادت کی تفصیل اور جائے شہادت لکھا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ شہیدوں کے لواحقین کا شکریہ ادا کیا جائے گا ٗوطن کی حفاظت اور بقاء کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو سلام کیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ شہیدوں کے لواحقین کو سلام پیش کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ شاپنگ مال شہیدوں کی تصاویر سے سجائے جائیں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بسوں، ویگنوں ٗ ٹرکوں اور پرائیویٹ گاڑیوں پرشہداء کی تصاویر لگائی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے انتظامیہ ٹرینوں اور اسٹیشنوں پر شہدا کی تصاویر آویزاں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ائیر پورٹس پر شہدا کی تصاویر لگائی جائیں گی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یومِ دفاع کے سلسلے میں افواجِ پاکستان ہتھیاروں کی نمائش کریں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ افواجِ پاکستان کے شہداء کے لواحقین اور غازیوں کیلئے ہر چھاؤنیوں میں دن کے وقت تقاریب منعقد ہو نگی ٗ۔ تعلیمی اداروں میں شہدا کی یاد اور وطن سے محبت کی تقریبات ہونگی انہوں نے کہاکہ تمام ادارے اپنے اپنے شہداء کی یاد میں خصوصی تقاریب منعقد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر آف کامرس ٗانجمن تاجران اور سول سوسائٹی نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے اور تمام شرکاء کا بھرپور شرکت کا عزم ظاہر کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی قوم سے بھرپور شمولیت کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ آئیے زندہ قوم کی طرح اپنے شہداء کو یاد رکھیں ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے شہداء نے اپنا آج ہمارے محفوظ کل کیلئے قربان کیا ۔انہوں نے کہاکہ شہید ہمارے اصل ہیروہیں انہوں نے کہا کہ شہیدوں کو سلام ۔ہمیں پیار ہے پاکستان سے ۔

’’کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی ٗ‘ پاک فوج کا رواں سال یومِ دفاع و شہداء منفرد انداز میں منانے کااعلان
بدھ‬‮ 29 اگست‬‮ 2018 | 10:08
راولپنڈی (این این آئی)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے رواں سال یومِ دفاع و شہداء منفرد انداز میں منانے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ چھ ستمبر کو وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر ملک گیر مہم کا فوکل پوائنٹ ہونگے ٗ کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی ٗہر شہید کی تصویر پر شہادت کی تفصیل اور جائے شہادت لکھا جائے گا ٗافواجِ پاکستان کے شہداء کے لواحقین اور غازیوں کیلئے چھاؤنیوں میں دن کے وقت تقاریب منعقد ہونگی ٗ۔تعلیمی اداروں میں شہدا کی یاد اور وطن سے محبت کی تقریبات ہونگی ٗ تمام ادارے

اپنے شہداء کی یاد میں خصوصی تقاریب منعقد کریں گے ٗ بسوں ٗ ویگنوں ٗ ٹرکوں ٗ پرائیویٹ گاڑیوں ٗ ٹرینوں اور تمامائیر پورٹس پر شہداء کی تصاویر لگائی جائیں گی ٗ شاپنگ مال شہیدوں کی تصاویر سے سجائے جائیں گے۔ منگل کو 6ستمبر کو یومِ دفاع و شہداء کے سلسلے میں آئی ایس پی آر میں پلاننگ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس دور ان ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزارت اطلاعات کے ہم آہنگ سول سوسائٹی ، میڈیا اور افواجِ پاکستان کے نمائندوں کو پلان سے آگاہ کیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ ’’ہمیں پیار ہے پاکستان سے‘‘ کے نام سے یومِ دفاع و شہداء منایا جائے گاٗ رواں سال یومِ دفاع و شہداء منفرد انداز میں منایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر ملک گیر مہم کا فوکل پوائنٹ ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ شرکاء کو شہیدوں کی لسٹ اور ایڈریس مہیاء کیے گئے اور اس سلسلے میں مرکزی تقریب جی ایچ کیو میں منعقد ہو گی اور یہ براہِ راست نشر کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ قوم کے نمائندے ہر شہید کے گھر جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی ٗہر شہید کی تصویر پر شہادت کی تفصیل اور جائے شہادت لکھا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ شہیدوں کے لواحقین کا شکریہ ادا کیا جائے گا ٗوطن کی حفاظت اور بقاء کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو سلام کیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ شہیدوں کے لواحقین کو سلام پیش کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ شاپنگ مال شہیدوں کی تصاویر سے سجائے جائیں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بسوں، ویگنوں ٗ ٹرکوں اور پرائیویٹ گاڑیوں پرشہداء کی تصاویر لگائی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے انتظامیہ ٹرینوں اور اسٹیشنوں پر شہدا کی تصاویر آویزاں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ائیر پورٹس پر شہدا کی تصاویر لگائی جائیں گی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یومِ دفاع کے سلسلے میں افواجِ پاکستان ہتھیاروں کی نمائش کریں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ افواجِ پاکستان کے شہداء کے لواحقین اور غازیوں کیلئے ہر چھاؤنیوں میں دن کے وقت تقاریب منعقد ہو نگی ٗ۔ تعلیمی اداروں میں شہدا کی یاد اور وطن سے محبت کی تقریبات ہونگی انہوں نے کہاکہ تمام ادارے اپنے اپنے شہداء کی یاد میں خصوصی تقاریب منعقد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر آف کامرس ٗانجمن تاجران اور سول سوسائٹی نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے اور تمام شرکاء کا بھرپور شرکت کا عزم ظاہر کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی قوم سے بھرپور شمولیت کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ آئیے زندہ قوم کی طرح اپنے شہداء کو یاد رکھیں ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے شہداء نے اپنا آج ہمارے محفوظ کل کیلئے قربان کیا ۔انہوں نے کہاکہ شہید ہمارے اصل ہیروہیں انہوں نے کہا کہ شہیدوں کو سلام ۔ہمیں پیار ہے پاکستان سے ۔