بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:16
ابو الفاخر زین العابدین عبدالکلام (مختصراً: اے پی جے عبد الکلام) بھارت کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنس دان، جو 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے، اور 27 جولائی 2015ءکو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ عبد الکلام بھارتکے گیارہویں صدر تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن بھی ملے۔عبد الکلام کی صدارت کا

دور 25 جولائی 2007ء کو اختتام پزیر ہوا۔ابتدائی زندگیڈاکٹر عبدالکلام کا تعلق تامل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں

کو اپنی کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبدالکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبدالکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے دوران بھی عبدالکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔

اور اس کے بعد اس کرافٹ منصوبے پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبدالکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیاسیاسی زندگی 15 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالکلام نے 1974ء میں بھارت کا پہلا ایٹم بم تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں ’میزائل مین‘ بھی کہا جا تا ہے۔

بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو شکست دی ہے۔ عبدالکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا ، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ عبدالکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدرتھے۔انھیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔وفات عبدالکلام 83 برس کی عمر میں،27 جولائی 2015ء بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گرپڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور دم توڑ دیا۔

اعزازات عبدالکلام کو حکومت ہند کی طرف سے 1981ء میں آئی اے ایس کے ضمن میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ عبد الکلام کوبھارتکے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے 1997ء میں نوازا گیا۔ 18 جولائی، 2002ء کو عبد الکلام کو نوے فیصد اکثریت کی طرف سے بھارت کا صدر منتخب کیا گیااور انہوں نے 25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالا، اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی اس وقت کی حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے کیا تھا جسے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ صدر کے عہدے کے لئے نامزدگی پر ان کی مخالفت کرنے والوں میں اس وقت سب سے اہم جماعت بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی ساتھی جماعتیں تھیں۔

بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی طرف سے 87 سالہ محترمہ لکشمی سہگل کا اندراج کیا تھا جو سبھاش چندر بوس کے آزاد ہند فوج اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے شراکت کے لئےمعروف ہیں۔ کتابیں عبد الکلام نے اپنی ادبی و تصنیفی کاوشوں کو چار بہترین کتابوں میں پیش کیا ہے: پرواز (ونگس آف فائر کا اردو ترجمہ)انڈیا 2020- اے وژن فار دی نیو ملینیممائی جرنیاگنیٹڈ مائنڈز- انليشگ دی پاور ودن انڈیا ان کتابوں کا کئی ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس طرح عبد الکلام ہندوستان کے ایک ایسے سائنس دان ہیں، جنہیں 30 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں مل چکی ہیں۔

بیل اور گدھا

بیل اور گدھا
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:14
کسی گاؤں میں‌ ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ ‌دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھی قسم کا بیل اور عربی گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں‌ ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر

نکل آیا۔ زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس

نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا “چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں ‌اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ میں ایک فقیر ہوں۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں، جو تمھاری خدمت میں پیش کروں۔ ہاں، میں جانوروں اور حیوانوں کی بولیاں‌ سمجھ سکتا ہوں۔ تم چاہو تو یہ علم میں تمھیں سکھا سکتا ہوں، لیکن تم کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہو گا کہ تم یہ بھید کبھی کسی کو نہیں بتاؤ گے، اور یہ بھی سن لو کہ اگر تم نے یہ بھید کسی سے کہہ دیا تو پھر زندہ نہ رہ سکو گے۔”چودھری نے کہا: “بابا! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں یہ بھید کبھی کسی کو نہیں بتاؤں گا اور تمھارا یہ احسان عمر بھر یاد رکھوں گا۔”خیر، فقیر نے اسے جانوروں اور حیوانوں کی باتیں سمجھنے کا عمل سکھا دیا اور چلا گیا۔ زمیندار کے پاس جو بیل تھا،

وہ بیچارہ صبح سے پچھلے پہر تک ہل میں ‌جتا رہتا۔ شام کو جب وہ گھر آتا تو اس کے کھانے کے لیے بھوسا ڈال دیا جاتا، لیکن گدھے کو سبز گھاس اور چنے کا دانہ کھانے کو ملتا۔ غریب بیل یہ سب کچھ دیکھتا اور چپ رہتا۔وقت اسی طرح‌ گزر رہا تھا۔ ایک دن جب بیل کھیتوں سے واپس آتے ہوئے گدھے کے پاس سے گزرا تو گدھے نے اسے لنگڑاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا: “بھائی آج تم لنگڑا لنگڑا کر کیوں چل رہے ہو؟”بیل نے جواب دیا: “گدھے بھائی! آج مجھے بہت کام کرنا پڑا۔ میں جب تھک جاتا تھا تو نوکر میری پیٹھ اور ٹانگوں پر زور زور سے لاٹھیاں مارتا۔ میری ٹانگ میں چوٹ لگ گئی ہے۔ خیر! اپنی اپنی قسمت ہے۔”گدھا چپ رہا اور بیل اپنے تھان کی طرف چلا گیا۔ جہاں بیل بندھا کرتا تھا، وہاں زمیندار کو اپنے نوکر کے لئیے گھر بنوانا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد زمیندار نے بیل کے لیے بھی گدھے کے پاس ہی کھرلی بنوا دی۔ جب دونوں کو وقت ملتا، ایک دوسرے سے باتیں بھی کر لیتے۔ایک روز بیل کو اداس اور خاموش دیکھ کر گدھے نے اس سے پوچھا: “بیل بھائی! کیا بات ہے؟ آج تم چپ چپ کیوں ہو۔ کوئی بات ہی کرو۔”بیل نے کہا: “گدھے بھائی! کیا بات کروں؟ آج پھر بڑی لاٹھیاں پڑی ہیں۔”گدھا کہنے لگا: “بیل بھائی! سچ جانو تم۔ تمھاری جو درگت بنتی ہے، وہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں تمھارا دکھ بانٹ نہیں سکتا۔”بیل بولا: “گدھے بھائی! تم نے سچ کہا۔ دکھ تو کوئی کسی کا نہیں بانٹ سکتا،

لیکن تم کچھ مشورہ تو دو کہ اس مصیبت سے میری جان کیسے چھوٹے گی، اور نہیں تو دو چار دن ہی آرام کر لوں۔”گدھے نے کہا: “ایک ترکیب میری سمجھ میں آئی ہے۔ اس پر عمل کرو گے تو پانچ، سات روز کے لیے تو بچ جاؤ گے۔ کہو تو بتاؤں؟”بیل بولا:” نیکی اور پوچھ پوچھ۔ بتاؤ، کیا ترکیب ہے؟”گدھے نے بتایا: “تم یہ کرو کہ جب ہل والا تمھیں ہل میں جوتنے کے لیے لینے آئے تو تم آنکھیں بند کر کے کھڑے ہو جانا۔ وہ تمھیں کھینچے تو تم دو قدم چلنا اور ٹھہر کر گردن ڈال دینا۔ پھر بھی اگر اسے رحم نہ آئے اور کھیت پر لے ہی جائے تو کام نہ کرنا اور زمین پر بیٹھ جانا۔ کیسا ہی مارے پیٹے، ہرگز نہ اُٹھنا۔ گر گر پڑنا، پھر وہ تمھیں گھر لے آئے گا۔ گھر لا کر تمھارے آگے چارا ڈالے تو کھانا تو ایک طرف رہا تم اسے سونگھنا تک نہیں۔ گھاس، دانہ نہ کھانے سے کم زوری تو ضرور آ جائے گی، مگر کچھ دن آرام بھی مل جائے گا، کیونکہ بیمار جانور سے کوئی محنت نہیں لیا کرتا۔ لو یہ مجھے ایک ترکیب سوجھی تھی، تمھیں بتا دی۔ اب تم کو اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔”اتفاق سے زمیندار جو اس وقت ان کے پاس سے گزرا تو

اس نے ان دونوں کی باتیں سن لیں اور مسکراتا ہوا اِدھر سے گزر گیا۔ چارے بھوسے کا وقت آ گیا تھا۔ نوکر نے گدھے کے منہ پر دانے کا توبڑا چڑھایا اور بیل کے آگے بھی چارا رکھ دیا۔ بیل دو ایک منھ مار کر رہ گیا۔ اگلے دن ہل والا بیل کو لینے آیا تو دیکھا کہ بیل بیمار ہے۔ رات کو کچھ کھایا بھی نہیں۔ نوکر دوڑا ہوا مالک کے پاس گیا اور کہنے لگا: “نہ جانے رات بیل کو کیا ہوا۔ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور آج مجھے پورے کھیت میں ہل چلانا ہے، کہو تو باغ میں سے دوسرا بیل لے آؤں؟”زمیندار نے بیل اور گدھے کی باتیں تو سن ہی لی تھیں۔ دل میں بہت ہنسا کہ گدھے نے خوب سبق پڑھایا ہے۔زمیندار ہل والے سے بولا: “اچھا جاتا کہاں ہے؟ دوسرا بیل لانے کی کیا ضرورت ہے۔ گدھے کو لے جاؤ۔ ہل میں لگا کر کام نکال لو۔”گدھے پر مصیبت آ گئی۔ پہلے تو دن بھر تھان پر کھڑے کھڑے گھاس کھایا کرتا، اب جو صبح سے ہل میں جتا تو شام تک سانس لینے کی مہلت نا ملی۔ دم بھی مروڑی گئی، ڈنڈے بھی پڑے۔ سورج ڈوبنے کے بعد جب گدھا لوٹ کر اپنے تھان پر آیا تو بیل نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا: “بھیا تمھاری مہربانی سے آج مجھ کو ایسا سکھ ملا کہ ساری عمر کبھی نہیں ملا تھا۔ خدا تم کو خوش رکھے۔” گدھا کچھ نہ بولا۔ وہ اس سوچ میں تھا کہ اگر دو چار دن یہی حال رہا تو

میری جان ہی چلی جائے گی۔ اچھی نیکی کی کہ اپنے کو مصیبت میں پھنسا دیا۔دوسرے دن پھر ہل والا گدھے کو لے گیا اور شام تک اسے ہل میں لگائے رکھا۔ جب گدھا تھکا ہارا واپس آیا تو بیل نے پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور خوشامد کی باتیں کرنی چاہیں۔گدھا کہنے لگا: “میاں ان باتوں کو رہنے دو۔ آج میں نے مالک کی زبان سے ایک ایسی بُری خبر سنی ہے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔ خدا تم کو اپنی حفاظت میں رکھے۔”بیل نے کان کھڑے کر کے پوچھا: “گدھے بھائی! سناؤ تو، میرا تو دل دھڑکنے لگا۔”گدھا بولا: ” کیا سناؤں۔ مالک ہل والے سے کہہ رہا تھا کہ اگر بیل زیادہ بیمار ہو گیا ہے اور اُٹھنے کے قابل نہیں رہا تو قصائی کو بلا کر اس پر چھری پھروا دو۔” بیل قصائی کے نام سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا:‌ “پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو؟”گدھا بولا: “میں تو ہر حال میں‌ تمھاری بھلائی چاہتا ہوں۔ اب میرا یہ مشورہ ہے کہ تم کھڑے ہو جاؤ۔ چارا، بھوسا کھانے لگو اور صبح کو جب ہل والا آئے تو خوشی خوشی اس کے ساتھ جا کر ہل میں جت جاؤ۔”یہ باتیں بھی زمیندار چھپا ہوا سن رہا تھا اور دونوں کی باتوں پر اسے دل ہی دل میں ہنسی آ رہی تھی۔ جان جانے کے ڈر سے بیل نے پھر گدھے کے مشورے پر عمل کیا۔ چارے کی ساری ناند صاف کر دیں اور کلیلیں کرنے لگا۔

صبح ہوئی تو زمیندار اپنی بیوی کو ساتھ لیے بیل کے تھان پر پہنچا۔ بیل نے جو اپنے مالک کو دیکھا تو اچھلنا شروع کر دیا۔ اتنے میں‌ ہل والا بھی آ گیا۔ اس نے بیل کو بالکل تندرست پایا۔ کھول کر لے چلا، تو وہ اس طرح ‌دُم ہلاتا اور اکڑتا ہوا چلا کہ مالک کو بے اختیار ہنسی آ گئی۔بیوی نے پوچھا: “تم کیوں ہنسے؟ ہنسی کی تو کوئی بات نہیں۔”زمیندار نے جواب دیا: “ایسی ہی ایک بھید کی بات ہے، جو میں نے سنی اور دیکھی جس پر میں ہنس پڑا۔”بیوی بولی:‌ ” مجھے بھی وہ بات بتاؤ۔”زمیندار نے کہا: “وہ بتانے کی بات نہیں ہے، اگر بتا دوں گا تو مر جاؤں گا۔”بیوی بولی: “تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تم مجھ پر ہنسے تھے۔” زمیندار نے بہت سمجھایا کہ نیک بخت! تجھ پر میں کیوں ‌ہنسوں گا، تجھ کو تو وہم ہو گیا ہے۔ اگر مرنے کا ڈر نہ ہوتا تو ضرور بتا دیتا۔مگر وہ کب ماننے والی تھی، بولی: “چاہو مرو یا جیو، میں پوچھ کر ہی رہوں گی۔”جب بیوی کسی طرح نہیں مانی تو زمیندار نے سارے پڑوسیوں‌کو جمع کیا اور سارا قصہ سنایا کہ میری بیوی ایک ایسی بات کے لئے ضد کر رہی ہے، جسے ظاہر کرنے کے بعد میں مر جاؤں گا۔ لوگوں اس کی بیوی کو بہت سمجھایا اور

جب وہ نہ مانی تو اپنے گھر چلے گئے۔ زمیندار لاچار ہو کر وضو کرنے چلا گیا کہ بھید کھلنے سے پہلے دو نفل پڑھے۔زمیندار کے ہاں‌ ایک مرغا اور پچاس مرغیاں پلی ہوئی تھیں اور ایک کتا بھی تھا۔ زمیندار نے جاتے جاتے سنا کہ کتا مرغے پر بہت غصے ہو رہا ہے کہ کم بخت!‌ تُو کہاں ‌مرغیوں‌ کے ساتھ ساتھ بھاگا چلا جاتا ہے۔ ہمارے تو آقا کی جان جانے والی ہے۔مرغ نے پوچھا: “کیوں‌بھائی! اس پر ایسی کیا آفت آ پڑی! جو اچانک مرنے کو تیار ہو گیا۔”کتے نے ساری کہانی مرغے کو سنا دی۔مرغے نے جو یہ قصہ سنا تو بہت ہنسا اور کہنے لگا: “ہمارا مالک بھی عجیب بے وقوف آدمی ہے۔ بیوی سے ایسا دبنا بھی کیا کہ مر جائے اور اس کی بات نہ ٹلے، مجھے دیکھو! مجال ہے جو کوئی مرغی میرے سامنے سر اٹھائے۔ مالک ایسا کیوں‌ نہیں کرتا کہ گھر میں‌ جو شہتوت کا درخت ہے، اس کی دو چار سیدھی سیدھی ٹہنیاں ‌توڑے اور اس ضدن کو تہہ خانے میں لے جا کر اسے ایسا پیٹے کہ

وہ توبہ کر لے اور پھر کبھی ایسی حرکت نہ کرے۔”زمیندار نے مرغ کی یہ بات سن کر شہتوت کی ٹہنیاں توڑیں اور انھیں تہہ خانے میں چھپا آیا۔بیوی بولی: “لو اب وضو بھی کر آئے اب بتاؤ؟”زمیندار نے کہا: “ذرا تہہ خانے چلی چلو، تاکہ میں بھید بھی کھولوں تو کوئی دوسرا جانے بھی نہیں اور وہیں مر بھی جاؤں۔”بیوی نے کہا: “اچھا۔” اور آگے آگے تہہ خانے میں گھس گئی۔ زمیندار نے دروازہ بند کر کے بیوی کو اتنا مارا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی:‌ “میری توبہ ہے، پھر کبھی میں‌ ایسی ضد نہیں کروں گی۔”اس کے بعد دونوں باہر نکل آئے۔ کنبے والے اور رشتے دار جو پریشان تھے، خوش ہو گئے اور میاں‌ بیوی مرتے دم تک بڑے اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے۔

“ سنو شام سے پہلے شہر پہنچ جاؤ گے“ حکیم لقمان کی دانائی کا ایک دلچسپ واقعہ

“ سنو شام سے پہلے شہر پہنچ جاؤ گے“ حکیم لقمان کی دانائی کا ایک دلچسپ واقعہ
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:13
حکیم لقمان کی دانائی ضرب المثل ہے- کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کہیں جارہے تھے کہ سڑک کے کنارے ایک مسافر کو بیٹھے دیکھا- مسافر نے حکیم لقمان کو آتے دیکھا تو دریافت کیا “ کیوں جناب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ میں یہاں سے شہر کتنی دیر میں پہنچ جاؤں گا“- حکیم لقمان نے مختصر سا جواب دیا “ اپنی راہ لو “-مسافر نے دوبارہ عرض کیا “ جناب والا٬ آپ نے شاید میرا سوال نہیں سنا میں تھکا ماندا مسافر ہوں٬

میں یہ پوچھ رہا تھا کہ یہاں سے شہر

کتنی دور ہے اور میں وہاں کتنی دیر میں پہنچ جاؤں گا؟“حکیم لقمان نے پھر وہی جواب دیا “ میاں کہہ تو رہا ہوں اپنی راہ لو“-مسافر سمجھا یہ ضرور کوئی پاگل ہے اور اس نے پھر کوئی سوال نہیں کیا اور شہر کے لیے چل پڑا- ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا ہوگا کہ حکیم لقمان نے زور سے آواز دی “ سنو شام سے پہلے شہر پہنچ جاؤ گے“-مسافر رک گیا اور واپس آکر دریافت کیا “ خوب جب پوچھ رہا تھا تب تم نے کوئی جواب نہ دیا اور اب میں جواب سے مایوس ہو کر چل پڑا تو تم چیخ کر جواب دے رہے ہو یہ کیا بات ہوئی؟“حکیم لقمان نے سادگی سے جواب دیا “ پہلے تو تم بیٹھے تھے اور مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ تمہاری چلنے کی رفتار کیا ہے؟٬ اب جو تمہیں چلتا دیکھا تو میں نے اندازہ لگا لیا کہ شہر تک پہنچنے میں تمہیں کتنا وقت لگے گا؟“-

بچوں کو تمیزدار بنانے کے لیے ان 5 غلطیوں سے بچیں

بچوں کو تمیزدار بنانے کے لیے ان 5 غلطیوں سے بچیں
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:10
بچوں کی ضد اور چڑچڑے پن کے آگے اکثر والدین ہار مان جاتے ہیں اور بلاآخر بچوں کی ضد ختم کرنے کے لیے ان کی بات ماننی ہی پڑتی ہے۔لیکن بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتیں مان لینے سے وہ مزید ضدی ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان میں بد تہذیبی بڑھنے لگتی ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچوں میں ضدکم ہوجائے اور وہ

بڑوں کے ساتھ ادب سے پیش آئیں تو اس کے لیے آپ کو ان 5 باتوں پر عمل کرنا ہوگا۔بچوں سے بالکل نہ گھبرائیںاگر آپ کے بچے اپنے کپ

میں دودھ پینے کے بجائے دوسرے کپ میں دودھ پینا چاہتے ہیں تو ان کی یہ بات فوری طورپر نہ مانیں۔ اگر آپ بچوں کے رونے کے ڈر سے فوراً ان کی بات لیں گے تو اس سے ان کی مزید حوصلہ افزائی ہو گی اور ہر بات منوانے کیلئے رو نے کا سہارا لینے لگیں گےغلطیوں کی پردہ پوشیجب بچے سب کے سامنے بدتمیزی اور بے ادبی سے پیش آتے ہیں تو اکثر والدین ان کا دفاع کرنے لگتے ہیں،

جس سے بچوں کوایسا کرنے کامزید اعتماد ملتا ہے اوروہ اسے اپنی عادت بنا لیتے ہیںدوسروں کے ڈانٹے پر غصے میں آجاناپہلے زمانے میں اگر اساتذہ اور دوسرے لوگ بچوں کی اصلاح کیلئے ڈانٹ ڈپٹ کردیتے تھے لیکن آج کل کے والدین یہ برداشت نہیں کرتے۔ اگر کوئی دوسرا شخص آپ کے بچے کو ڈانٹے تو اس سے الجھنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخر بچے کو ڈانٹ کیوں پڑی۔

ہر ضرورت پوری کرنابچوں میں ہر فرمائش پوری ہونے کی عادت ہرگز نہیں ڈالیں۔اس سے نہ صرف آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں گے بلکہ بچے بھی ضدی ہوتے چلے جائیں گے۔ کوشش کریں کہ ہر چیز میں توازن رکھیںہر کام میں ان کی مدد لیںگھر کی صفائی ستھرائی ، کھانا پکانے، برتن دھونے کے دوران بچوں کو مصروف رکھنے کیلئے ٹی وی یا موبائل فون کا سہارا لینے کے بجائے ان سے کچن اور صفائی میں مدد لیں۔ اس سے بچوں میں کام کرنے عادت آئے گی اور بےجا انٹرنیٹ استعمال نہیں کریں گے

جب بھی کوئی غم یا پریشانی آئے تو قرآن کے یہ 2 لفظ پڑھنا شروع کر دیں ۔۔ہر حاجت پوری ہو گی

جب بھی کوئی غم یا پریشانی آئے تو قرآن کے یہ 2 لفظ پڑھنا شروع کر دیں ۔۔ہر حاجت پوری ہو گی
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:09
اسلام و علیکم میرے پیارے بہن بھائوں زندگی میں غم اور پریشانیاں تو ہر انسان پر آتی ہیں کبھی بھی ان غموں اور پرشانیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے جب بھی کوئی غم آئے کوئی پریشانی آئے فوراً اپنا سارہ غم اپنا سارا دکھرا اللہ رب العزت کو سنایئں۔ اسی طرح غموں اور پرشانیوںکو ٹالے کےلئے خود اللہ پاک نے قرآن پاک میں سورۃ الكهف میں فرمایا۔ “اللہ کوپکارو اُس کے سفاتی ناموں کےساتھ” اسی طرح اللہ تعالیٰ کے2

سفاتی نام ’’یا قادر یا نافع ‘‘جو بڑا اثر رکھتے ہیں اور جو شخص دل کی

گھہرائوں سے ان ناموں کو پڑھے گا انشااللہ ہر حاجت پوری ہو گیسورتہ یٰسین کی ایک آیت کا کمال شوہر بیوی کی محبت میں دیوانہ بیوی کو جی جی کرکے بلائے گا۔شوہر کی محبت حاصل کرنے لے لیے سورت یٰسین کی ایک آیت کا بہت کمال کا عمل بتانے جارہے ہیں اگر شوہر عمل کرلے تو بیوی اس کی تابع ہوگی۔ اور اگر بیوی یہ عمل کرلے تو شوہر اس کا تابع ہوگا بہت ہی آسان ساوظیفہ ہے اگر آپ ایک دوسرے کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تو آج ہی یہ عمل کریں نتیجہ دیکھ کر آپ ہمیں دعائوں میں یادر رکھیں گے۔ وظیفہ کرنے کا طریقہ سورتہ یٰسین کے ہر مبین: حَسبُنَا اللہ وَنعم الوَکِیل نعم المَولیٰ وَنعم النَصَیرُ450 بار پڑھنا ہے سات دن یہ وظیفہ کرنا ہے اور عمل کے اول و آخر تین بار درور شریف لازمی پڑھنا ہے۔ اگر آپ سورہ قریش ایک دفعہ پڑھیں گے تو اگرکھانے کے اندرزہربھی ملا ہوگا تو وہاثر نہیں کرے گا۔ کھانا فوڈ پوائزن نہیں بنے گااوروہ کھانا بیماری نہیں بنے گا، صحت بنے گا۔وہ کھانا اسے گناہوں کی طرف مائل نہیں کرے گا۔

نیکی کاذریعہ بنے گااورجو دوسری دفعہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ پاک جل شانہ اس کو ایسا دسترخوان سدا دیتا رہے گا ، بہترین، اچھے سے اچھا عطا فرماتے رہیں گے ظاہر ہے روزی سکھی ہوگی تو دسترخوان اچھا ہوگا اور جو تیسری مرتبہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ اس کی سات نسلوں کو بھی لاجواب لاجواب کھانے دسترخوان رزق دیتے رہیں گے۔آپ بھی آج سے ہی یہ پڑھیں زندگی میں تبدیلی آپ خود محسوس کریں گے

پرسرار مزدورکی المناک داستان جس نے وقت کے حکمران کو بھی ہلاکررکھ دیا؟

پرسرار مزدورکی المناک داستان جس نے وقت کے حکمران کو بھی ہلاکررکھ دیا؟
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:09
ایک نیک شخص کے گھر کی دیوار اچانک گر گئی ۔ اسے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اسے دوبارہ بنوانے کے لئے کسی مزدور کی تلاش میں گھر سے نکلا اور چوراہے پر جاپہنچا ۔ وہاں اس نے مختلف مزدوروں کو دیکھا جو کام کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔ان میں ایک نوجوان بھی تھا جو سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا ، اس کے ایک ہاتھ میں تھیلا اور دوسرے ہاتھ میں تیشہ تھا ۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ ، ”میں نے اس نوجوان سے پوچھا ،”کیا تم مزدوری کرو

right;”>گے؟”نوجوان نے جواب دیا،”ہاں!” میں نے کہا ،”گارے کا کام کرنا ہوگا۔” نوجوان کہنے لگا،”ٹھیک ہے! لیکن میری تین شرطیں ہیں اگر تمہیں منظور ہوں تو میں کام کرنے کے لئے تیار ہوں، پہلی شرط یہ ہے کہ تم میری مزدوری پوری ادا کرو گے ،دوسری شرط یہ ہے کہ مجھ سے میری طاقت اور صحت کے مطابق کام لو گے اور تیسری شرط یہ ہے کہ نماز کے وقت مجھے نماز ادا کرنے سے نہیں روکو گے ۔”میں نے یہ تینوں شرطیں قبول کر لیں اور اسے ساتھ لے کر گھر آگیا،جہاں میں نے اسے کام بتایا اور کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا ۔جب میں شام کے وقت واپس آیا تو دیکھا کہ اس نے عام مزدوروں سے دوگنا کام کیا تھا ۔ میں نے بخوشی اس کی اجرت ادا کی اور وہ چلا گیا ۔

دوسرے دن میں اس نوجوان کی تلاش میں دوبارہ اس چوراہے پر گیا لیکن وہ مجھے نظر نہیں آیا ۔ میں نے دوسرے مزدوروں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ہفتے میں صرف ایک دن مزدوری کرتا ہے ۔ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ وہ عام مزدور نہیں بلکہ کوئی بڑا آدمی ہے ۔ میں نے ان سے اس کا پتا معلوم کیا اور اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ نوجوان زمین پر لیٹا ہواتھا اور اسے سخت بخار تھا ۔ میں نے اس سے کہا ،”میرے بھائی!تو یہاں اجنبی ہے ،تنہا ہے اور پھر بیمار بھی ہے ، اگر پسند کرو تو میرے ساتھ میرے گھر چلو اور مجھے اپنی خدمت کا موقع دو ۔

” اس نے انکار کر دیا لیکن میرے مسلسل اصرار پر مان گیا لیکن ایک شرط رکھی کہ وہ مجھ سے کھانے کی کوئی شے نہیں لے گا، میں نے اس کی یہ شرط منظور کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا ۔ وہ تین دن میرے گھر قیام پذیر رہا لیکن اس نے نہ تو کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی چیز لے کرکھائی ۔ چوتھے روز اس کے بخار میں شدت آگئی تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا،”میرے بھائی !لگتا ہے کہ اب میراآخری وقت قریب آگیا ہے لہذا جب میں مر جاؤں تو میری اس وصیت پر عمل کرنا کہ،”جب میری روح جسم سے نکل جائے تو میرے گلے میں رسی ڈالنا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانا اور اپنے گھر کے اردگرد چکر لگوانا اور یہ صدا دینا کہ لوگو! دیکھ لو اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والوں کا یہ حشر ہوتا ہے ۔”شاید اس طرح میرا رب عزوجل مجھے معاف کر دے ۔ جب تم مجھے غسل دے چکو تو مجھے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا پھر بغداد میں خلیفہ ہارون رشید کے پاس جانا اور یہ قرآن مجید اور انگوٹھی انہیں دینا اور میرا یہ پیغام بھی دینا کہ،”اللہ عزوجل سے ڈرو! کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت اور نشے کی حالت میں موت آجائے اور بعد میں پچھتانا پڑے،لیکن پھر اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔” وہ نوجوان مجھے یہ وصیت کرنے کے بعد انتقال کر گیا ۔

میں اس کی موت کے بعد کافی دیر تک آنسو بہاتا رہا اور غمزدہ رہا ۔ پھر (نہ چاہتے ہوئے بھی )میں نے اس کی وصیت پوری کرنے کے لئے ایک رسی لی اور اس کی گردن میں ڈالنے کا قصد کیا تو کمرے کے ایک کونے سے ندا آئی کہ ،”اس کے گلے میں رسی مت ڈالنا ، کیا اللہ عزوجل کے اولیاء سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے ؟” یہ آواز سن کر میرے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی ۔ یہ سننے کے بعد میں نے اس کے پاؤں کو بوسہ دیا اور اس کے کفن ودفن کاانتظام کرنے چلاگیا ۔ اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد میں اس کا قرآن پاک اور انگوٹھی لے کر خلیفہ کے محل کی جانب روانہ ہو گیا۔وہاں جا کر میں نے اس نوجوان کا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے اس سلسلے میں بات کرنا چاہی تو اس نے مجھے جھڑک دیا اور اندر جانے کی اجازت دینے کی بجائے اپنے پاس بٹھا لیا ۔ آخرِ کار !خلیفہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کیا اور کہنے لگا ،

”کیا میں اتنا ظالم ہوں کہ مجھ سے براہ راست بات کرنے کی بجائے رقعے کا سہارا لیا ؟” میں نے عرض کی،”اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند کرے ، میں کسی ظلم کی فریاد لے کر نہیں آیا بلکہ ایک پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں ۔” خلیفہ نے اس پیغام کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے وہ قرآن مجید اور انگوٹھی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔ خلیفہ نے ان چیزوں کو دیکھتے ہی کہا ،”یہ چیزیں تجھے کس نے دی ہیں ؟” میں نے عرض کی ،”ایک گارا بنانے والے مزدور نے ۔۔۔۔۔۔۔” خلیفہ نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا،”گارا بنانے والا،گارا بنانے والا،گارا بنانے والا۔۔۔۔۔۔۔”اور رو پڑا ۔کافی دیر رونے کے بعد مجھ سے پوچھا ،”وہ گارا بنانے والا اب کہاں ہے ؟”میں نے جواب دیا ،”وہ مزدور فوت ہو چکا ہے ۔”یہ سن کر خلیفہ بے ہوش ہو کر گر گیا اور عصر تک بے ہوش رہا ۔ میں اس دوران حیران وپریشان وہیں موجود رہا ۔ پھر جب خلیفہ کوکچھ افاقہ ہوا تو مجھ سے دریافت کیا ،

”اس کی وفات کے وقت تم اس کے پاس تھے ؟” میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا،”اس نے تجھے کوئی وصیت بھی کی تھی ؟”میں نے اسے نوجوان کی وصیت بتائی اور وہ پیغام بھی دے دیا جو اس نوجوان نے خلیفہ کے لئے چھوڑا تھا ۔ جب خلیفہ نے یہ ساری باتیں سنیں تو مزید غمگین ہو گیا اور اپنے سر سے عمامہ اتار دیا ، اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور کہنے لگا ،”اے مجھے نصیحت کرنے والے ! اے میرے زاہد وپارسا! اے میرے شفیق !۔۔۔۔۔۔” اس طرح کے بہت سے القابات خلیفہ نے اس مرنے والے نوجوان کو دئيے اور مسلسل آنسو بھی بہاتا رہا ۔ یہ سارا معاملہ دیکھ کر میری حیرانی اور پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا کہ خلیفہ ایک عام سے مزدور کے لئے اس قدر غم زدہ کیوں ہے ؟ جب رات ہوئی تو خلیفہ نے مجھ سے اس کی قبر پر لے جانے کی خواہش ظاہر کی تو میں اس کے ساتھ ہو لیا ۔ خلیفہ چادر میں منہ چھپائے میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔

جب ہم قبرستان میں پہنچے تو میں نے ایک قبر کی طرف اشار ہ کر کے کہا ،”عالی جاہ! یہ اس نوجوان کی قبر ہے ۔” خلیفہ اس کی قبر سے لپٹ کر رونے لگا ۔ پھر کچھ دیر رونے کے بعد اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو گیا اورمجھ سے کہنے لگا ،”یہ نوجوان میرا بیٹا تھا ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے جگر کا ٹکڑا تھا ، ایک دن یہ رقص وسُرور کی محفل میں گم تھا کہ مکتب میں کسی بچے نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ ترجمہ کنزالایمان : کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ27، الحدید:16) جب اس نے یہ آیت سنی تو اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور یہ پکار پکار کر کہنے لگا،”کیوں نہیں ؟ کیوں نہیں؟” اور یہ کہتے ہوئے محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ اس دن سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی یہاں تک کہ آج تم نے اس کی وفات کی خبر دی ۔” (حکایات الصالحین،ص 67)

’’یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے ‘‘ ماضی کی انتہائی خوبصورت اداکارہ اور سکینڈل کوئین ما ہیما چوہدری آج کل کہاں اور کس حال میں ہیں ؟

’’یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے ‘‘ ماضی کی انتہائی خوبصورت اداکارہ اور سکینڈل کوئین ما ہیما چوہدری آج کل کہاں اور کس حال میں ہیں ؟
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:02
بالی ووڈ کی ماضی کی مشہور و معروف اداکارہ ماہیما چوہدری 2006 میں شادی کرتے ہی فلم دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی ۔ ان کی حالیہ بالی ووڈ میں واپسی نے ان کے مداحوں پر حیرت کے پہاڑ گرا دیئے ہیں ۔ اداکارہ اپنے موٹاپے کی وجہ سے اپنی خوبصورتی کھو چکی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ہیما چوہدری نے اپنی کیرئیر کا آغاز ’’پردیس ‘‘ فلم میں شاہ رخ خان کیساتھ 1997میں آغاز کیا ۔ جبکہ انہوں نے دیگر ماہیما چوہدری

نے دھڑکن، کھلاڑی 420

اوردل کیا کرے جیسیفلموں میں کام کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ تاہم انہوں نے 2006میں معروف بزنس مین بوبی مکھر جی سے شادی کر لی جس کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کو خیر آباد کہہ دیا ۔ ان کی حالیہ تصاویر نےمداح سمیت بالی ووڈ کو بھی حیرت میں مبتلا کیا ہے ۔جس میں اداکارہ کے بے حد وزن نے ان کی خوبصورتی پر موٹاپے کی چادر پھیر دی ہے

بھٹو نے پھانسی سے قبل اپنے آخری غسل سے کیا کہہ کر انکار کر دیا؟ تختہ دار پر لٹکائے جانے سے پہلے ان کے منہ سے آخری لفظ کیا نکلا؟

بھٹو نے پھانسی سے قبل اپنے آخری غسل سے کیا کہہ کر انکار کر دیا؟ تختہ دار پر لٹکائے جانے سے پہلے ان کے منہ سے آخری لفظ کیا نکلا؟
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:01
سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔تاریخ نے اعتراف کیا ہے کہ قائد جمہوریت کو بے جرم ہی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ تاہم یہاں ان کی زندگی کے آخری چند گھنٹوں کے حوالے سے کچھ حیران کن معلومات دی جا رہی ہیں۔ملکی تاریخ کے معروف ترین صحافی ادیب جاودانی نےلکھا ہےکہ جب اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے جیل سپرنٹنڈنٹ یار محمد کو حکم جاری کر دیا جائے گا کہان

کو دوبجے پھا نسی دے دی جائے تو

یار محمد نے اپنے ماتحتو ں کاظم بلوچ اور مجید قریشی کو حکم دیا کہ کال کوٹھڑی میں بند بھٹو کو پیغام پہنچا دو کہ دو بجے ان کو پھانسی دے دی جائے گی۔ یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اگر وہ کوئی وصیت لکھنا چاہتے ہوں تو انھیں کاغذ اور قلم فراہم کر دیا جائے۔ اس پر مجید قریشی ان کے پاس آیا اور بتایا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ کی زندگی کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔جس پر بھٹو نے غیر یقینی انداز میں مجید قریشی کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ کیا نصرت کی ضیا الحقسے ملاقات نہیں ہوئی؟

نفی میں جواب ملنے پر انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا واقعی وہ ایسا کرنے والے ہیں؟ مجید قریشی نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ میں وصیت کے لیئےکاغذ اور قلم آپ کو دے دوں۔مجید قریشی وہاں سے چلا گیا اور بھٹو کافی دیر تک ان پرکچھ لکھتے رہے اورپھر سارے کاغذ پھاڑ ڈالے۔رات ایک بجے مجید قریشی دوبارہ کال کوٹھڑی میں آیا ۔مجھے کہا گیا ہے کہ میں وصیت کے لیئےکاغذ اور قلم آپ کو دے دوں۔مجید قریشی وہاں سے چلا گیا اور بھٹو کافی دیر تک ان پرکچھ لکھتے رہے اورپھر سارے کاغذ پھاڑ ڈالے۔رات ایک بجے مجید قریشی دوبارہ کال کوٹھڑی میں آیا ۔ اس نے دیکھا کہ ذوالفقار بھٹو بالکل بے حس و حرکت پڑے ۔وہ گھبرا گیا اور بھاگ کر جیل حکام کو بلا لایا۔سب نے آکر بھٹو کو دیکھا ان کی نبض دیکھی تومعلوم ہوا کہ وہ سو رہے ہیں۔انھیںجگایا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے آخری غسل کےلئے پانی تیار ہے۔انھوںنے جوا ب دیا کہ وہ پاک ہیں۔

اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ وہ پھانسی کے تختے تک جا سکیں گے یا سٹریچر منگوایا جائے ۔جس پر انھوں نے تعاون سے صاف انکار کر دیااور انھیں سٹریچر پر لے جایا گیا۔ انھوںنے اداسی سے جیل کی کال کوٹھڑی پر نگاہ ڈالی۔ وہاں سے انھیں تختے تک لے جایا گیا۔تارا مسیح نے ان کے چہرے پر ماسک چڑھایا۔ اور ان کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے ۔” فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر کا باب تمام ہو گیا۔ فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر کا باب تمام ہو گیا۔ارادہ تو تھا کہ دوست رؤف کلاسرا کی ”ایک سیاست کئی کہانیاں ” کے باقی بچے فیصل صالح حیات ‘آصف زرداری ‘ امین فہیم ‘ آفتاب شیر پاؤ’ سلطان محمود قاضی ‘ جنرل امجد’ ظفراللہ جمالی ‘میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے انٹرویو کے ٹریلرز دکھاؤں مگر جب ذوالفقار بھٹو کا وہ شاہکار انٹرویو جو عالمی شہرت یافتہ اطالوی صحافی اوریانافلاچی نے لیا اور جسکا ترجمہ کرکے رؤف نے اسے اپنیکتاب کا حصہ بنادیا ‘ نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

اسے پڑھا اور یہ سوچا کہ دسمبر چڑھ چکا اور بھٹو صاحب نے مغربی پاکستان کی باتیں بھی کی ہوئیں ‘پیپلز پارٹی کا 50واں یومِ تاسیس بھی ہو رہا اور یہ ایسی تحریر جو پڑھنے لائق بھی ‘لہٰذا ارادہ بدل کر اس انٹرویو کی چند جھلکیاں آپ تک پہنچا رہا ‘لیکن اس سوال کے ساتھ کہ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے وہ تمام کارکن جنہوں نے جمہوریت اور پارٹی کیلئے جانیں قربان کیں کیا آج پارٹی کی سیاست اور پرفارمنس سے انکی روحوں کو سکون مل رہا ہوگا۔؟۔ملاحظہ فرمائیں پہلے اوریانافلاچی کا بھٹو صاحب کی شخصیت پر تجزیہ اور پھر قائد ِ عوام کی باتیں ! بھٹو صاحب پر پہلی نظر پڑی تو سامنے وہ درازقد شخص جسکی عمر تو 44سال مگر سر کے بال جھڑنا شروع ہوچکے ‘بالوں کی رنگت بھوری ہورہی ‘گہری پلکیں ‘ ہونٹ حتیٰ کہ آنکھوں کی پتلیاں تک تھکاوٹ زدہ اورآنکھوں میں عجیب سی اداسی جبکہ مسکراہٹ میں شرمیلا پن ‘ذوالفقار بھٹو کے ساتھ صرف 6دن گزار کر ہی میں اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ وہ تضادات کا مجموعہ ‘جیسے سانگھڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے غصے اور جو ش سے دونوں بازو لہراتے

وہ ایسے شخص جنہیں تالیوں اور طاقت سے پیار ‘ ہالہ کے لان میں لوگوں کو گھنٹوں انتظار کروا کر’ خوبصورت قالینوں پر شہزادوں کی طرح چلتے پھرتے ‘ انگلی کے اشارے سے لوگوں کو اپنی طرف بلاتے اور بکرے کا صدقہ دیتےوہ ایسے انسان جن کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے’ ملٹری ہیلی کاپٹر میںچواین لائی کی دی ٹوپی پہنے میرے سامنے وہ مارکسٹ بھٹو ‘جوپاکستان کو غربت اور بھوک سے آزاد کرانے کے خواہشمند مگر اپنی کامیابی جنہیں ہر شے سے عزیز اور پرانے ایرانی قالینوں ‘ائیر کنڈیشنوں اور عالمی رہنماوں کے ساتھ کھینچی تصویروں سے بھرے راولپنڈی اور کراچی کے گھروںمیں میری ملاقات ایسے بھٹو سے ہوئی جو اندرا گاندھی ‘مجیب الرحمان اور یحییٰ خان سمیت اپنے سیاسی دشمنوں پر حملے کر رہے ‘

جو خوبصورت باتیں کرنے اور کتابیں پڑھنے کے شوقین ۔ایک دن بھٹو صاحب بولے ” شیخ مجیب پیدائشی جھوٹا ‘جھوٹ اسکی فطرت میں ‘ وہ بیمار ذہن کا جنونی ‘ مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگادیا کہ بنگالیوں کی قتل وغارت یاوحشیانہ تشدد میں نے کروایا’ یہ چھوڑیں اس نے تو ایک بار سمندری طوفان میں مرنے والوں کا الزام مجھ پر لگا دیا ‘جیسے سمندری طوفان میں نے بھیجا ‘ پھر وہ یہ سفید جھوٹ بھی بول چکا کہ جب گرفتار ہوا تو اس نے مقدمے کو ا س قابل ہی نہ سمجھا کہ دفاع کرے اور اسے جیل کے سیل میں رکھا گیا ‘

سچ یہ کہ بروہی سمیت 4وکلا ء نے اس کا کیس لڑا اور اسے تمام سہولتوں سے مزین ایپارٹمنٹ میں رکھاگیا ‘ ہاں میں مانتا ہوں کہ بنگالیوں کو قتل کیا گیا ‘ان پر تشدد ہوااور سب کچھ احمقانہ اور وحشیانہ انداز میں ہوا ‘اگر میں یہ کرتا تو اسے زیادہ سمجھداری ‘تھوڑے وحشیانہ پن اور زیادہ سائنسی انداز میں کرتا ‘ مجھے اچھی طرح یاد کہ میں ڈھاکا کے ہوٹل میں سویا ہوا تھاکہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے آنکھ کھلی ‘میں نے اپنے دوستوں کے کمروں سے بھاگنے کی آوازیں سنیں ‘ میں اُٹھ کر کھڑکی کی طرف گیا ‘پردہ ہٹایا’سامنے دیکھا اور روپڑا ‘میرے منہ سے بس اتنا نکلا My country is finished۔ جب میرے حکم پر مجیب کو رہا کر کے میرے پاس راولپنڈی لایاجانے لگا تو یہ سوچ کر اسے شاید مارنے کیلئے لے جایاجارہا ‘وہ خوفزدہ ہو کررونے لگا ‘ خیراسے راولپنڈی کے ایک بنگلے میں پہنچاکر مجھے بتایا گیا ‘ میں ریڈیو ‘ٹیلی ویژن ‘ اور کپڑے لے کر اسکے پاس گیا

نائی سیانے ہوتے ہیں

نائی سیانے ہوتے ہیں
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:00
پرانے وقتوں میں ایک جنوبی ساحلی شہر میں ایک نہایت غریب جولاہا رہا کرتا تھا۔ ایک دن وہ کپڑا بن رہا تھا کہ اس کی کپڑا بننے کی کھڈی ٹوٹ گئی۔ اس نے اپنی کلہاڑی اٹھائی اور کسی مناسب درخت کی تلاش میں جنگل پہنچ گیا۔ وہاں اسے ایک نہایت ہی قدیم اور بڑا درخت نظر آیا۔ اب بندہ سوچے، کہ اس کی ضروت لکڑی کے چند ٹکڑوں کی تھی اور معمولی سی محنت سے وہ پانچ منٹ میں چھوٹا سا درخت کاٹ کر اپنا گزارا کر سکتا تھا، لیکن وہ لالچ پر تلا ہوا

تھا

۔ بھلا سوچتا کہ وہ اکیلا آدمی، کتنی دیر میں درخت کاٹے گا اور کیسے گھر لے کر جائے گا۔ بہرحال، اس عقل کے پورے نے کلہاڑی نکالی اور درخت پر زور سے ضرب لگائی۔ ساتھ ہی اسے ایک چیخ سنائی دی۔ جولاہا گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ درخت سے ایک جن نکلا اور کہنے لگا کہ میاں کلہاڑے، تم تو سیانے ہو، کیوں مجھے کاٹ رہے ہو؟ جولاہا بولا مجھے لکڑی کی ضرورت ہے تاکہ میں اس سے اپنی کھڈی بنا لوں اور باقی لکڑی سے کچھ بیچوں گا اور کچھ جلاؤں گا۔ زندگی کچھ آسان ہو جائے گی۔ جن بولا تمہاری عقل کا تو مجھے پتہ ہے،

اسی لیے میں کلہاڑے سے بات کر رہا تھا۔ بہرحال، میں تمہاری ایک خواہش پوری کر سکتا ہوں۔ جو چاہتے ہو، مانگو، مگر درخت کو مت چھیڑو۔ یہ میرا گھر ہے۔ جولاہا کشش و پنج میں مبتلا ہو گیا اور پوچھنے لگا کہ کیا مانگوں۔ جن نے اسے کہا چلو کوئی بات نہیں ، اسی لیے میں کلہاڑے سے بات کر رہا تھا۔۔ تم ایسا کرو کہ سکون سے گھر جاؤ اور بیوی بچوں سے اور دوستوں سے مشورہ کر کے کلاسی وقت یہاں پہنچ جانا اور بتا دینا کہ کیا چاہتے ہو۔جولاہا واپس گھر کی طرف چلا تو گاؤں میں داخل ہوتے ہی اسے اپنا ایک دوست نظر آیا جو کہ نائی تھی۔ جولاہے نے نائی سے مشورہ کرنا مناسب سمجھا اور اسے بتایا کہ اسے ایک جن نے ایک خواہش دی ہے۔ کون سی خواہش بہتر رہے گی؟ نائی بولا کہ جن سے بادشاہت مانگ لو۔ تم بادشاہ بنو گے اور میں تمہارا وزیر۔ ساری زندگی دونوں موج کریں گے۔ اور اس کے بدلے ساری زندگی میں تمہاری مفت حجامت بھی کروں گا۔

جولاہا بولا ٹھیک ہے، لیکن میں اپنی بیوی سے بھی مشورہ کر لیتا ہوں۔ نائی نے کہا کہ سیانوں کا قول ہے کہ ایک عقل مند بندہ اپنی بیوی کو گہنے کپڑے اور ہیرے جواہرات دیتا ہے۔ لیکن اپنے معاملات میں اس سے مشورہ نہیں کرتا کیونکہ وہ عقل کی پوری ہوتی ہے۔ اور بزرگوں نے تو یہ بھی کہا ہے کہ جو گھر بھی عورتیں یا بچے چلاتے ہیں وہ تباہ ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ میری بہترین پیش کش کے باوجود تم میرا مشورہ ماننے سے انکاری ہو۔ جولاہے نے اس کی بات کو نظرانداز کیا اور گھر پہنچ کر اپنی بیوی کو جن اور نائی کے مشورے کے بارے میں بتایا۔ جولاہے کی بیوی نہایت غصے میں آ گئی۔ کہنے لگی کہ خدایا، کسی نائی کو کتنی عقل ہو سکتی ہے؟ اس کی بات پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی بھی عقل والا کسی نائی، فقیر، بچے یا نوکر کی بات نہیں سنتا ہے۔ بادشاہ بنوا کر تمہیں مروائے گا۔ راجہ بنتے ہی تمہیں طرح طرح کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لوگ بغاوت کریں گے۔ کسی وقت بھی کوئی دوست رشتے دار تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا اور خود بادشاہ بن جائے گا۔

اسی وجہ سے تو رام جی نے بادشاہت چھوڑ کر جنگل میں رہنا پسند کیا تھا۔ اسی لیے کوئی بھی عقل والا بندہ ایسا راج پاٹ نہیں چاہے گا جس کی وجہ سے بھائیوں، دوستوں، اور عزیزوں کا خون بہانا پڑے۔ بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ شیو کرتے کرتے وہی تمہارا گلا بھی فری میں کاٹ ڈالے گا۔ جولاہا کہنے لگا کہ نیک بخت، کہتی تو تم ٹھیک ہو۔ مجھے بھی اس کے استرے سے خوف آتا ہے۔ بتاؤ پھر جن سے کیا مانگا جائے؟ بیوی کہنے لگی کہ ہر روز تم دونوں ہاتھ چلا چلا کر بمشکل کپڑے کا ایک ٹکڑا بنتے ہو۔ اس سے ہمارا کھانا پینا چل جاتا ہے۔

تم ایسا کرو کہ جن سے ایک اور سر اور دو اور ہاتھ مانگ لو۔ اس سے تم دن کے دو کپڑے بن سکو گے۔ ایک کپڑے کو بیچ کر ہمارا کھانا پینا پورا ہو جائے گا اور دوسرے کپڑے کو بیچ کر خوشی غمی کیلئےکچھ پیسے اکٹھے ہو جائیں گے۔ اس طرح ہماری زندگی بہت آسانی سے کٹ جائے گی۔ بات جولائے کی سمجھ میں آ گئی۔ فوراً درخت کے پاس گیا اور جن سے دو مزید ہاتھ اور ایک سر مانگ لیا۔ جن نے اس کی خواہش پوری کر دی۔ جولاہا ہنسی خوشی واپس گاؤں کی طرف چل پڑا۔ گاؤں کے لوگوں نے جنگل سے ایک چار ہاتھوں اور دو سروں والے عجیب الخلقت انسان نما مخلوق کو باہر آتے دیکھا تو اس پر پتھراؤ شروع کر دیا اور جولاہا منٹوں میں مر گیا۔

ڈر

ڈر
جمعہ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2018 | 10:56
ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے‘اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا‘امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے‘آپؓ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا،جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں

مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو‘بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا

تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ‘وقت کا بادشاہ ‘بائیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو‘ اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا‘

آپؓ نے کہا نہیں نہیں‘کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے‘آپؓ روتے جاتے تھے اور فرماتے‘اے عمر تو کافر تھا‘ظالم تھا‘بکریاں چراتا تھا‘خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔