بستیاں کیوں ویران ہوتی ہیں؟َ

بستیاں کیوں ویران ہوتی ہیں؟َ
جمعرات‬‮ 13 ستمبر‬‮ 2018 | 12:22
طوطے اورطوطی کاگزرایک بستی سے ہوا،انہوں نے دیکھاکہ ساری بستی ویران پڑی ہے ،طوطی نے طوطے سے پوچھایہ بستی ویران کیوں ہے ؟طوطے نے جواب دیالگتاہے یہاں سے الوکاگزرہواہے ،‎عین اس وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہے مخاطب ہوکر بولا۔ تم لوگ اس گاؤں میں مسافرلگتے ہو۔آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ۔ میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔ اْلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کرسکا اور انہوں نے اْلو کی دعوت

اْلو کی دعوت قبول کرلی۔ کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی۔ تو اْلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ۔ تم کہاں جا رہی ہو ۔ طوطی پرشان ہو کر بولی یہ کوئی پوچنے کی بات ہے ۔ میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں۔ الو یہ سن کر ہنسا۔ اور کہا ۔ یہ تم کیا کہ رہی ہوتم تو میری بیوی ہو.۔ اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے

اور گرما گرمی شروع ہو گئی۔ دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تواْلو نے طوطے کے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا۔۔’’ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔۔ قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ہوگا۔۔ اْلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ ،قاضی نے دلائل کی روشنی میں اْلو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کردی۔ طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اْلو نے اسے آواز دی ۔ ’’بھائی اکیلئے کہاں جاتے ہواپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاؤ‘‘طوطے نے حیرانی سے اْلو کی طرف دیکھا اور بولا ’’اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو۔ یہ اب میری بیوی کہاں ہے ۔ عدالت نے تو اسے تمہاری بیوی قرار دے دیا ہے‘‘ اْلو نے طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا۔ نہیں دوست طوطی میری نہیں تمہاری ہی بیوی ہے۔ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے۔ بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے ۔

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ خواتین راز رکھنے کے معاملے میں بالکل ناکام ہیں- مگر سچ بات تو یہ ہے کہ چاہے مرد ہو یا عورت٬ حضرتِ انسان کے لیے اکثر اپنی خوشی قابو میں رکھنا مشکل ہوجاتا ہے- بالخصوص ان لوگوں سے جو ہمارے قریب ہوتے ہیں-

ایسے کئی لوگ جو جذبات میں آ کر اکثر اپنی زندگی کے وہ راز باآسانی دوسروں کو منتقل کر دیتے ہیں جو عموماً وہ کہنے سے گریز کرتے ہیں-ماہرین کے مطابق ایسی کئی چیزیں اور باتیں ہیں جو راز میں رکھنا ہمارے لیے فائدہ مند ہوتا ہے اور قبل از وقت کسی کو بھی بتانے سے گریز کرنے میں ہی عافیت ہے- ایسی کونسی چیزیں ہیں آپ بھی جانیے:

اپنے منصوبے کسی کو نہ بتائیں: آپ مستقبل میں کہیں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں٬ کسی یونیورسٹی میں پڑھنا چاہتے ہیں٬ یا بیرونِ ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں٬ عقل مندی اسی میں ہے کہ اپنے اس قسم کے تمام منصوبے جن کا ممکن ہونا آنے والے کل پر منحصر ہو خفیہ رکھیں- وہ منصوبے جو تکمیل کے قریب ہوں صرف ان کو اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کو بتائیں-

ذہانت کا اظہار ہر ایک کے لیے نہیں: ہر جگہ اور کسی کے بھی سامنے اپنی عقلمندی اور ذہانت کے جھنڈے گاڑنے کی ضرورت نہیں- اگر آپ کو کسی کے بارے میں معلومات حاصل ہیں تو بلا ضرورت اس کا اظہار نہ کریں- صرف اس وقت اپنی بات بیان کریں جب آپ سے کسی معاملے میں رائے مانگی جائے یا آپ کی بات کی اہمیت ہو-

اپنے طرزِ زندگی کے بارے میں بات نہ کریں: آپ کی روزمرہ کی زندگی کیسے گزرتی ہے٬ آپ کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے؟ یہ تمام ایسی باتیں ہیں جن کا سوائے آپ کی اپنی ذات کے کسی سے کوئی تعلق نہیں- لہٰذا اس بات کا خیال رکھیں کہ بلا ضرورت کسی کے سامنے اپنے طرزِ زندگی کو موضوع گفتگو نہ بنائیں- ایسی باتیں شیخی بگھارنے میں گنی جاتی ہیں-

طرم خانی اپنے تک رکھیں: برا وقت اور آزمائش ہر کسی پر آتی ہے- اور ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق ان سے نبرد آزما ہوتا ہے- لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنی بہادری کی داستان ہر کسی کو بتائیں- آپ نے اپنی مشکل کو کیسے حل کیا ان کا تذکرہ دوسروں سے کرنا بےکار ہے- ایسا کرنے سے دوسروں کی نظروں میں آپ کی اہمیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا-

خاندانی مسائل کا ذکر سب سے نہ کریں: جو لوگ اپنے گھریلو مسائل کا تذکرہ دوسروں سے کرتے ہیں وجہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں- اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گھر والوں کے علاوہ آپ سے کوئی مخلص نہیں ہوتا- جو لوگ آپ کے گھریلو مسائل جانتے ہیں وہ ان کو آپ کی کمزوری بنا سکتے ہیں- گھر کے باہر کے افراد کو آپ کے مسائل کا جتنا کم معلوم ہو اتنا اچھا ہے-

نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *