وقت رشتے ، حالات

وقت رشتے ، حالات
بدھ‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2018 | 17:49
عبدل ہادی میرے تایا زاد چھ فٹ سے نکلتے قد ، چوڑے شانے مضبوط جسم مگر نرم سا دل رکھنے والا،،،،،، بےحد مخلص انسان سے یاد نہیں کہ کب مجھے محبت ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔ شاید جب میں پندرہ سولہ سال کی تھی تب،،،،، جب وہ مجھے لیٹل فرینڈ کہتا تھا،،،،، میری بہت کیئر کرتا تھا —— ہادی کو سارے کزنز میں حورین انمول یعنی میں حقیقا بے حد عزیز تھی جانے کیوں ،،،،، وہ میری ہر برتھ ڈے پر سب سے پہلے وش کرتا تھا وہ کہتا تھا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی میری فرینڈ کو مجھ سے پہلے

مجھ سے پہلے وش کرے،،،،،،، جب ہم سارے کزنز کوئی گیم کھیلتے تھیں تو ہادی ہمیشہ میرا پارٹنر بنتا—- اور جیت بھی ہادی کی وجہ سے ہمیشہ میری ہوتی تھی وہ مجھے ہارنے نہیں دیتا تھا—- خیر یہ سب کچھ بچپن مٰیں تھا بڑے ہونے کے بعد ہماری پھر اسی بے تکلفی نہ رہی تھی — ہم سارے کزنز کے گھر ساتھ ساتھ تھیں روز کا آنا جانا تھا —

ویسے ہم سارے کزنز میں پیار بہت تھا مگر میرے اور ہادی کا پیار ان سب سے الگ تھا اور اس کا احساس ہم دونوں کو تب ہوا جب ہماری فیملی بابا کی بزنس کی وجہ سے اسلام آباد شفٹ ہوئی تھی،،،،، اسلام آباد آکر مجھے ایک پل کے لیے بھی سکون نہیں مل رہا تھا عجیب بے چینی سی تھی اور تب ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوا تھا کہ میں اسلام آباد بنا دل کے آگئی ہوں دل تو پنڈی میں ہادی کے پاس ہی رہ گیا تھا،،،،،،،، یہی حال ہادی کا بھی تھا—– تب ہی تو وہ مجھے میرے پرسنل نمبر کالز کرنے لگا تھا—-

اس سے بات کر کے مجھے سکون ملتا تھا– شاید اس کو بھی تب ہی تو وہ دن رات کالز کرتا تھا—- ہم دونوں نے اپنے پیار کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکہ ہم بنا اظہار کے ایک دوسرے کے دل کا حال جان گئے تھے —- اس بات کا پتا گھر میں کسی کو بھی نہ تھا —- میں گھر والوں سے چھپ کر ہادی سے بات کرتی تھی —- ہادی کے گھر میں بھی کسی کو پتا نہ تھا—-اور یوں ہم دونوں کو چھپ چھپ کر باتیں کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا تھا —- اس ایک سال میں بہت کچھ بدل گیا تھا —

وقت رشتے ، حالات ، —– اسلام آباد شفٹ ہونے کے بعد ہمارا بزنس بہت اچھا چلنے لگا لگا تھا جبکہ ہادی لوگوں کے حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوگئے تھیں —– تایا ابو کا کاروبار ختم ہو گیا تھا— اس لیے مجبورا ہادی اور اس کے بڑے بھائی کو جاب کے لیے دبئی جانا پڑا تھا —- اور اللہ کا شکر ہے دبئی میں ہادی کو بہت اچھا جاب مل گیا تھا — ان کے گھر کی گاڑی مشکل سے ہی سہی مگر چلنے لگی تھی — ان ہی دنوں میری آپی جس کی منگنی ہادی کےبڑے بھائی سے ہوئی تھی اور یہ رشتہ دادی نے بہت پہلے طے کیا تھا ان کی شادی ہوگئی ہادی کے بھائی سے —-

یہ شادی بڑی مشکل سے ہوئی تھی کیونکہ اسلام آباد شفٹ ہونے کے بعد میری فیملی والوں کی سوچ بدل گئی تھی– ہمارے حالات بدل گئے تھیں —- مجھے بہت دکھ ہوتا تھا یہ سب دیکھ کر— ٹھیک ہے لمحوں میں حالات بدل جاتے ہیں — لیکن یہ رشتوں ، پیاروں ، اور لوگوں کو کیا ہو جاتا ہے؟ کہ وہ لمحوں کا وقت بھی نہیں لیتے بدلنے میں—–آپی اس شادی سے خوش نہیں تھی اس کا مزاج اپنے سسرال والوں سے الگ تھا — اس کے سسرال والے بہت اچھے محبت کرنے والے لوگ تھیں اس گھر میں اگر آپی کو کوئی تکلیف تھی تو وہ صرف معاشی تنگی تھی بس— باقی وہ لوگ آپی کا بہت خیال رکھتے تھے —-

می ابو کو لگتا ہے کہ ان کی بیٹی خوش نہیں ہے اس گھر میں — ان کا خیال تھا کہ اگر اپنے جیسے لوگوں میں بیٹی کی شادی کرتے تو وہ خوشیوں سے مالا مال ہوتی —- میں نے امی سے کئی بار کہا امی اگر آپی کے نصیب میں خوشیاں ہوئے تو ان ہی لوگوں سے ملے گے اگر نہیں تو پھر کہے سے بھی نہیں — مگر امی یہ بات مانتی ہی نہیںمیری اور ہادی کی پسندیدگی کا سب کو پتا بھی آپی کے شادی کے پانچ ماہ بعد ہوا تھا

—– آپی کے شادی سے پہلے سب ٹھیک تھا—- اس کی شادی کے پانچ ماہ بعد ہادی نے اپنی بڑی بہن کو اپنی پسندیدگی کے بارے میں بتا دیا وہ بہت خوش ہوئی تھی کیونکہ ان کی فیملی مجھے بہت پسند کرتی تھی—- اسی خوشی میں ہادی کی بہن نے یہ بات آپی سے کر دی اس نے آپی سے کہا اب حورین بھی بہت جلد ہادی کی دلہن بن کر ہمارے گھر آئی گی— ہادی اور حورین ایک دوسرے کو لائک کرتے ہے—- آپی اس ٹائم اپنی نند سے کچھ بھی نہیں کہا اور جب اسلام آباد آئی تو امی کو سب کچھ بتا دیا——-

آج سے چار سال پہلے آپی کی شادی کے پانچ ماہ بعد ہادی کی ساری فیملی ہمارے گھر آئی تھی ساتھ میں آپی بھی تھی ان لوگوں نے اچانک آکر ہمیں سر پرائز دیا تھا ہادی بھی ان دنوں پاکستان آیا ہوا تھا— میں بہت خوش تھی ان سب کے آنے سے —– ہادی کو میں ایک سال بعد دیکھ رہی تھی وہ پہلے سے زیادہ سمارٹ لگ ر ہا تھا — سب کے سامنے تو ہماری صرف سلام دعا ہی ہوئی تھی لیکن جب دن کے ٹائم سب سونے چلے گئے تو ہادی نے مجھے مسیج کیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں پلیز گھر کے پچلے طرف لان میں آجاؤ میں ویٹ کر رہا ہوں —

میں نے مانا کر دیا کیونکہ مجھے اس ٹائم بہت ڈر لگ رہا تھا—- لیکن پھر ہادی کے بے حد اصرار پر میں اس سے ملنے لان میں چلی آئی میرے پہنچتے ہی وہ گھٹنوں کے بل زمین پر میرے سامنے بیٹھ گیا تھا اس کے ہاتھ میں بہت ہی خوبصورت رنگ تھی— کبھی یوں ہادی سے فیس ٹو فیس ملی نہیں تھی اس ٹائم شرم بھی آرہا تھا خوش بھی تھی اور ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی آ نہ جائے—-

اور پھر آچانک ہادی نے میرا ہاتھ تھام لیا رنگ پہنانے سے پہلے اس نے کہا تھااس انگھوٹی کو تھامنے والا ہاتھ تمہارا ہے حورین اور اس ہاتھ کے مالک کا دل بھی تمہارا ہے — کیا یہ دل ہمیشہ کے لیے تمہارا بن سکتا ہے؟ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہادی مجھے یوں یہاں بولا کے اتنے خوبصورت انداز میں پروپوز کرے گا— میں حیرت خوشی سےگنگ رہ گئی تھی —–

اچانک سے ڈیر ساری آنسو میرے آنکھوں میں آئے تھے — یہ خوشی کے آنسو تھے –ہادی نے مجھے خاموش دیکھ کر ایک بار پھر سے کہا تھا حورین well you marry me یہ بولتے ہوئے اس کے لبوں پر بہت ہی خوبصورت سی مسکان تھی — میں نے دھیرے سے اثبات مٰیں سر ہلایا تھا اور ہادی نے میرے انگلی میں دھیرے سے رنگ پہنا دی تھی میری ڈھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی — رنگ پہنانے کے بعد اس نے i love you jaan e hadi کہا اور جلدی سے لان سے چلا گیا تھا کیونکہ وہاں کسی کا بھی آنے کا خطرہ تھا —- لیکن میرے پاؤں اس جگہ جم گئے تھے مٰیں پوری برف ہو گئی تھی —

موسم ایک دم سے بہت خوبصورت ہو گیا تھا —- سخت گرمی کا موسم ایک دم سے خوبصورت ہوگیا تھا —- یہ سب محبت کا کمال تھا — بہت خوبصورت احساس تھا میں لفظوں میں بتا نہیں سکتی اس ٹائم کی فیلنگ کو مجھے لگ رہا تھا جیسے ساری دنیا زمین پر ہیں اور میں آسمان پر ہوں میری اور ہادی کی روز واٹس اپ پر بات ہوتی تھی مگر یہ جو احساس تھا کبھی نہیں ہوا تھا —- اگلے دن وہ سب چلے گئے تھیں آپی چند دن رہنے کے لئے آئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *