دشمنوں اور خیر خواہوں کی پہچان

دشمنوں اور خیر خواہوں کی پہچان
ہفتہ‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2018 | 22:38
ایک سیاہ گوش شکاری پرندہ جس کے کان کالے، لمبے نوک دار اور کھڑے رہتے تھے جو کہ بلی سے ذرا بڑا ہوتا ہے اس سے لوگوں نے پوچھا کہ تو شیر کے ساتھ رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟اس نے جواب دیا کہ تاکہ میں شیر کا بچا کھچا کھا سکوں اور اس کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے اپنے دشمنوں سے بھی محفوظ رہوں۔لوگوں نے کہا کہ اگر یہ بات ہے کہ تو، تو اس کے نزدیک کیوں نہیں جاتا تاکہ وہ تجھے اپنے خاصوں میں شمار کرے۔اس نے کہا کہ اس کے باوجود کے میں اس کا

میں اس کا بچا کھچا کھاتا ہوں میں شیر کی گرفت سے محفوظ نہیں ہوں۔ آتش پرست اگر سو سال بھی آگ کی پوجا کرے تو آگ ایک لمحہ میں اسے جلا کر بھسم کر دے گی۔یہ بھی ممکن ہے کہ بادشاہ کا قرب پانے والا سونا حاصل کرلے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے۔

داناؤں کا قول ہے کہ بادشاہوں کی طبیعت سے ڈرتے رہو، کیونکہ وہ کبھی سلام کرنے والے سے بھی ناراض ہو جاتے ہیں اور کبھی گالی گلوچ کرنے والے کو بھی انعام سے نواز دیتے ہیں۔داناؤں کا قول ہے کہ زیادہ مذاق کرنا بادشاہ کے درباریوں کے لیے کمال ہے اور عقل مندوں کے لیے باعث عیب ہے۔ تم اپنے وقار اور مرتبہ پر قائم رہو اور ہنسی مذاق کو اپنے مصاحبوں کے لیے چھوڑ رکھو۔

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ انسان کو اپن دشمنوں اور خیر خواہوں میں پہچان کرنی چاہیے اور اپنے دشمنوں سے ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ وہ اسی تاک میں ہوتے ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور وہ نقصان پہنچائیں۔ اپنے ان منافق دوستوں سے بھی ہوشیار رہو جو بظاہر کچھ اور اندر سے کچھ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *