میں جب روضہ رسول ﷺ کی جالی مبا رک کو چو منے لگا تو عر بی پو لیس نے مجھے پیچھے دھکیل دیا

میں جب روضہ رسول ﷺ کی جالی مبا رک کو چو منے لگا تو عر بی پو لیس نے مجھے پیچھے دھکیل دیا
ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018 | 14:20
گلوکار ابرار الحق نے کہا ہے کہ کھوٹے سکے مدینے میں چلتے ہیں ، اس کی بڑی مثال میری اپنی ذات ہے ،ایک مرتبہ میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب گیا اور جب میں نے مدینہ میں روزہ رسول کی جالیوں کے پاس جا کر انہیں چومنا چاہاتو وہاں موجود شرطوں نے مجھے بازئوں سے زبردستی پیچھے کی جانب سے دھکیل دیا۔۔۔۔اور پھر خدا کی ذات نے وہ معجزہ بھی دکھایا جب میں پاکستان واپس پہنچا تو چند روز بعد چوہدری شجاعت ایک

ماہ کے لئے وزیراعظم بن گئے اور میں ان کو

مبارکباد دینے کے لئے ان کے پاس پہنچا تو وہ عمرے پر جانے کی باتیں کررہے تھے تو میں نے بھی ان سے کہاکہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا اور پھر میں وزیراعظم کے وفد کے ہمراہ عمرے کی سعادت کے لئے گیااور مدینہ شریف میں روزہ رسول پر حاضری ہوئی تو ہمارے لئے روزے کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور میں روزہ رسول کے اندر تھا اور وہاں میری کیفیت ایسی تھی کہ میں بیان نہیں کرسکتا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے ایک معجزہ ہی تھا کہ ایک وقت میں مجھے جالیوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیا گیا اور دوسری مرتبہ میں وزیراعظم کے ہمراہ احترام سے روزہ کی زیارت کی اور وہاں پر موجود برتنوں کو بوسہ دیا ۔ انہوںنے کہاکہ یہ میری زندگی کا یادگار لمحہ تھا جس کو میںکبھی بھی فراموش نہیں کرسکتاے چینی بھی ایک بڑا روگ بن چکی ہے۔کسی کو رزق میں فراوانی کے باوجود بے چینی ہے اور تسکین قلب نہیں.کوئی بچوں کے مستقبل سے خوف کھاتا ہے اور بے چین رہتا ہے.دیکھا جائے تو بے چینی کامطلب ہے کہ انسان کو تسکین قلب میسر نہیں.تسکین قلب ایک نعمت اور رحمت ہے لیکن جب یہ ہی انسان کو میسر نہ آئے تو ایسے جینے میں کوئی لطف نہیں رہتا.

تسکین قلب کے لئے اوربے چینی کو ختم کرنے کے لئے رسالت مآب حضور اکرم ﷺ نے ایک دعا تعلیمفرمائیہے جس کے پڑھتے ہی رحمت کانزول شروع ہوجاتا ہے . یہ دعا بہت مجرب ہے جو بھی پریشانی ہو اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کے ساتھ پڑھیں ان شاءاللہ فائدہ ہوگا۔اللهم رحمتك ارجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين ، وأصلح لي شأني كله ، لا إله إلا أنت دعا ایسے موقع کے لئے تیر بہدف کا کام کرتی ہے جب کوئی کام رکا ہوا ہو یا سخت سے سخت پریشانی لاحق ہو .بہتر طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نماز حاجت پڑھیں اور سلا م کے بعد ۱۱ بار یہی دعا پڑھیں ان شاءاللہ کام ہو جائے گا اول و آخر درود ابراہیمی ضرور پڑھیں . نیز یہ دعا اگر کوئی ہر نماز کے بعد ایک بار پڑھیں تو اس کا کوئی کام رکا نہیں رہے گا۔استاد نے کلاس میں بچوں سے سوال کیایہ بتاؤ کہ وہ کون لوگ ہیں جو نماز ادا نہیں کرتے؟پہلا بچہ: (معصومیت سے) جو لوگ مرچکے ہیں.دوسرا بچہ: (ندامت سے) جنکو نماز پڑھنی نہیں آتی.

تیسرے بچے نے بڑا معقول جواب دیا:سر وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہیں.چوتھے بچے نے جواب دیا جو لوگ کافر ہوتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے ہیں پانچویں بچے نے کہا جو لوگ اللہ پاک سے ڈرتے نہیں ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے بچے تو جواب دے کر فارغ ہوگئے مگر مجھے سوچنے پر لگادیا کہ:میرا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے؟1. کیا میں مرچکا ہوں؟2. کیا مجھےنماز نہیں آتی؟کیا میں مسلمان نہیں ہوں؟کیا مجھے اپنے رب کا خوف نہیں ؟؟کیا میں کافر ہوں جو اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا؟؟؟؟حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نماز کو حقیر جانے گا اس کو الله تعالیٰ کی طرف سے پندرہ سزائیں ملیں گی، ﭽﮭ سزائیں زندگی میں، تین مرتے وقت، تین قبر میں اور تین روز حساب میں-

زندگی کی ﭽﮭ سزائیں ١)۔۔۔ الله اس کی زندگی سے رحمتیں اٹھا لے گا-(اس کی زندگی بد نصیب بنا دے گا) ٢)۔۔۔ الله اس کی دعا قبول نہیں کرے گا- ٣)۔۔۔ الله اس کے چہرے سے اچھے لوگوں کی علامات مٹا دے گا- ٤)۔۔۔ زمین پر موجود تمام مخلوقات اس سے نفرت کریں گی- تمام مخلوقات اس سے نفرت کریں گی-٥)۔۔۔ الله اسے اس کے اچھے کاموں کا صلہ نہیں دے گا-٦)۔۔۔ وہ اچھے لوگوں کی دعاؤں میں شامل نہیں ہو گا-مرتے ہوئے تین سزائیں١)۔۔۔ وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے-٢)۔۔۔ وہ بھوکا مرتا ہے-٣)۔۔۔ وہ پیاسا مرتا ہے- (اگرچہ وہ تمام سمندروں کا پانی پی لے، پیاسا ہی رہے گا)قبر میں تین سزائیں١)۔۔۔ الله اس کی قبر اتنی تنگ کردے گا جب تک اس کی پسلیاں ایک دوسرے کے اوپرنہ چڑھ جائیں-٢

)۔۔۔ الله اسے چنگاریوں والی آگ میں انڈیل دے گا-٣)۔۔۔ الله اس پر ایسا سانپ بٹھائے گا جو ٰبہادر اور دلیرٰ کہلاتا ہے، جو اسے نماز فجر چھوڑنے پر صبح سے لے کر دوپہر تک ڈسے گا،نماز ظہر چھوڑنے پر دوپہر سے لے کر عصر تک ڈسے گا، اور اسی طرح ہر نماز چھوڑنے پر اگلی نماز تک ڈسے گا، ہر ضرب کے ساﺘﻬ ستر گز زمین کے اندر دھنسے گا-روز حساب کی تین سزائیں١)۔۔۔ الله اسے منہ کے بل جہنم میں بھیج دے گا جو جرم میں شامل ہو گا-٢)۔۔۔ الله اسے غصے سے دیکھے گا جس سے اس کے چہرے کا ماس گر جائے گا-٣)۔۔۔ الله اس کا سخت حساب لے گا اور اسے جہنم میں پھینکنے کا حکم دے گا-جو اپنی نمازوں کو ادا نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔فجر: ان کے چہرے کا نور ختم ہو جاتا ہے-ظہر: ان کی آمدنی سے برکت اٹھا لی جاتی ہے-عصر: ان کے جسم کی مضبوطی اٹھا لی جاتی ہے-مغرب: انہیں اپنے بچوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا-عشاء: ان کی نیند سے سکون ختم ہو جاتا ہے

ہارورڈ یونیورسٹی میں بینظیر بھٹو لیڈر شپ پروگرام کا آغاز

ہارورڈ یونیورسٹی میں بینظیر بھٹو لیڈر شپ پروگرام کا آغاز
جمعہ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2018 | 20:23
امریکا میں کلاس اچیونگ چینج نامی تنظیم نے کہا ہے کہ مسلمان ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے افراد کیلئے ہارورڈ یونیورسٹی نے بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔بی بی سی اردو کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام (بی بی ایل پی) کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔یہ پروگرام کلاس

اچیونگ چینج ٹو گیدرکی جانب سے کیا گیا ہے جو پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے کلاس فیلوز نے بنائی ہے۔اس پروگرام کا آغاز منگل کو کیا گیا اور اس حوالے سے ایک اجلاس کیا

گیا جس کا موضوع تھا ‘مسلمان ممالک میں قیادت: آج کے دور میں بینظیر کیا کرتیں؟’بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کے تحت مسلمان ممالک سے خواتین کو ترجیح دی جائے گی۔اس پروگرام کی تکمیل کے بعد ان خواتین سے توقع کی جائے گی کہ وہ اپنے ملک واپس جائیں اور جو سیکھا ہے

اس کے ذریعے سیاست یا سرکاری یا پرائیوٹ اداروں میں تبدیلی لائیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام میں 2018 سے لوگ آنا شروع ہوں گے۔واضح رہے کہ بینظیر بھٹو پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور ان کو 27 دسمبر 2007کو پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک خودکش دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام کا مشاورتی بورڈ ابھی تیار کیا جا رہا ہے اور فی الحال اس میں بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو، کمل چین، سینیٹر ایل فرینکن، سابق سفیر پیٹر گیلبرتھ، کروئیشیا کی صدر کولنڈا گریبر اور سابق نائب گورنر کیتھلین کینیڈی شامل ہیں۔

جب حضرت جبرئیل ؑ نے ‘برّاق’ کو شرمندہ کیا

جب حضرت جبرئیل ؑ نے ‘برّاق’ کو شرمندہ کیا
جمعہ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2018 | 12:53
واقعہ معراج سے تو تقریباً سبھی مسلمان آگاہ ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر اس مبارک واقعہ کے حالات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان پر اللہ کے حضور پیش ہوئے تو اس سے پہلے کیا ہوا تھا۔سرکارِ دوعالم ﷺ کو معراج تک لے جانے کے حوالے سے ‘براق’ سے متعلق متعدد مستند احادیث موجود ہیں کہ یہ سواری اللہ

سبحانہُ وتعالیٰ نے اپنے محبوب کو لانے کے لئے بھیجی تھی ۔مسلم شریف کی ایک حدیث مبارکہ میں واقعہ معراج کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت انس

بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ‘میرے پاس براق لایا گیا، وہ ایک لمبے قد اور سفید رنگ کا چوپایہ تھا۔ گدھے سے بڑا اور خچر سے کم تھا۔ اس کا قدم نظر کی انتہاء پر پڑتا تھا۔ میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس تک پہنچا اور جس جگہ انبیاء علیہم السلام اپنی سواریوں کو باندھتے تھے، وہاں میں نے اس کو باندھ دیا۔

پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعات پڑھ کر باہر آیا۔ جبرئیلؑ میرے پاس ایک برتن میں شراب اور دوسرے میں دودھ لے کر آئے، میں نے دودھ لے لیا، جبرئیل نے کہا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا، پھر مجھے آسمان پر لے جایا گیا اور جبرائیل نے آسمان کا دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا تم کون ہو؟ کہا جبرئیل، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے، کہا ‘ہاں انہیں بلایا گیا ہے’۔ حضور نے فرمایا ‘پھر ہمارے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا۔

’واقعہ معراج کے حوالہ سے ترمذی شریف میں بھی ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت جبرئیلؑ براق کو لے کر آئے تو وہ رقص کرنے لگا تھا۔اس حدیث کی رو سے حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں شب معراج براق لایا گیا جس پر زین کسی ہوئی تھی اور لگام ڈالی ہوئی تھی۔

(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سواری بننے کی خوشی میں) اس براق کے رقص کی وجہ سے آپ ﷺ کا اس پر سوار ہونا مشکل ہو گیا، تو حضرت جبرئیلؑ نے اسے کہا ‘کیا تو حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس طرح کررہا ہے؟ حالانکہ آج تک تجھ پر کوئی ایسا شخص سوار نہیں ہوا جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ ﷺ جیسا معزز و محترم ہو۔ یہ سن کر وہ براق شرم سے پسینہ پسینہ ہو گیاتھا۔’

مولوی کی بیوی سے محبت

مولوی کی بیوی سے محبت
جمعہ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2018 | 12:52
ایک لڑکے کو اپنے محلے کے امام مسجد کی بیوی سے بے انتہا محبت ہوگئی، لڑکے نے اپنی اس محبت کا ذکر اپنے ایک بہت قریبی یار سے کیا۔ اس نے اپنے یار سے کہا مجھے امام صاحب کی بیوی سے بے انتہا محبت ہے اور میں چاہتا ہوں اس معاملے میں تم میری مدد کرو۔ اس کے دوست نے استفسار کیا۔کہ میں تمہاری مدد کیسے

کرسکتا ہوں۔ اس لڑکے نے کہا میں امام صاحب کی بیوی سے ملنا چاہتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امام صاحب نماز پڑھا کر جلدی گھر آجاتے ہیں اور مجھے

ملنے کا بالکل بھی وقت نہیں ملتا۔ تم ایسا کرو کل سے نمازیں پڑھنا شروع کرو اور امام صاحب کو اپنے عجیب عجیب مسئلوں میں الجھا کر رکھو تاکہ وہ تمہارے مسئلوں کو جواب دیتے دیتے گھر سے لیٹ ہوجائیں اور اسی دوران مجھے ان کی بیوی سے ملاقات کیلئے خوب وقت مل جائے گا۔ اس کے دوست نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں، اس سے اگلے دن وہ لڑکا نماز پڑھنے کیلئے چلا گیا۔ یہ نماز نہ تو اللہ کیلئے تھی۔اور نہ ہی کوئی نیکی کی نیت تھی ،یہ محض

اپنے دوست کے گناہ میں ایک معاونت تھی۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا، جب بھی امام صاحب نماز پڑھا کر فارغ ہوتے تووہ امام صاحب کو لے کر ایک کونے میں بیٹھ جاتا، امام صاحب سے عجیب عجیب سوال کرتا اور امام صاحب اس کے عجیب سوالوں کا جواب دیتے لیٹ ہوجاتے۔ اسی دوران اس کا دوست امام صاحب کی بیوی سے ملاقات کرلیتا۔ یہ معاملہ تقریباً دو سے تین مہینے چلتا رہا، ایک دن اس کے دن میں خیال آیا کہ میں کتنا غلط کررہا ہوں، امام صاحب کی بیوی کیلئے میں نے کیا کیا تاکہ میرا دوست خوش ہوجائے لیکن یہ تو گناہ ہے جس کا مجھے کل کو حساب دینا ہے۔ دنیا مکافات عمل ہے ہوسکتا ہے۔کل کو یہ میرے ساتھ بھی ہوجائے۔

اس کے دل میں طرح طرح کے خیال آنا شروع ہوگئے۔ اس رات یہ سو نہیں پایا اور اس نے عہد کیا کہ میں صبح جاکر امام صاحب سے سب بات بیان کردوں گا اور اس کے بعد وہ جو مجھے سزا دیں گے مجھے قبول ہے۔اگلے دن لڑکے نے جاکر امام صاحب کو سب ماجرا بیان کردیا، امام صاحب نے اس کی بات سنی اور مسکرا کرکہا ارے نادان نہ تو میری کوئی بیوی اور نہ ہی میری کوئی بہن، تمہارا دوست کس کی بیوی کو ملنے جاتا ہے؟یہ بات سن کر وہ لڑکا پریشان ہوا اور امام صاحب سے کہنے لگا کہ واقعی آپ کی شادی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ کی کوئی بہن ہے۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ لڑکا بہت پریشان ہوا،

اس نے سوچا کیوں نہ میں دیکھوں آخر وہ کس کو ملنے جاتا ہے، ایک دن اس نے اپنے دوست کا تعاقب کیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا دوست اس کے گھر میں داخل ہوااور اسی کی بیوی کے ساتھ ملاقات کرتا رہا،۔یہ دیکھ کر یہ لڑکابہت پریشان ہوا ، اس کے پاوں نیچے سے جیسے زمین نکل گئی، یہ ہاتھ ملتا رہا۔ واقعی دنیا مکافات عمل ہے، جو کسی کے لئے گڑھا کھودے گا وہ اس میں خود ہی گرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں گناہ میں کسی کا ساتھ مت دو اور نیکی میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دو اور اچھا دوست وہی ہے جو کسی کو گناہ سے روکے اور اس کو اللہ کی طرف متوجہ کرے۔

پاک فوج مارشلاء کیوں لگاتی رہی۔۔۔؟

پاک فوج مارشلاء کیوں لگاتی رہی۔۔۔؟
جمعہ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2018 | 12:52
آج پاکستان کی اکثریت نے نہ بھٹو کو دیکھا ہے نہ بھٹو کا دور، صرف پیپلز پارٹی کو جانتے ہیں۔وطن کے بزرگوں نے 65 ءکی جنگ میں بھٹو کی غداری کی بھی دیکھی اور تاشقند معاہدے میں اس کی خیانت بھی۔71ءکی جنگ میں بھٹو کا ناپاک کردار کہ جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا۔ ”یہاں ہم، وہاں تم“ کا نعرہ لگانے والا بھٹو کہ جس

نے الیکشن میں ہارنے کے بعد یہ فیصلہ کرلیا کہ کسی صورت میں بھی اقتدار مجیب کے حوالے نہیں کرے گا چاہے اس کے لیے ملک ہی کیوں نہ توڑ دیا

جائے۔ وہ دوسری بات ہے کہ مجیب خود غدار تھا۔ ایسا بھی دور آیا کہ جب بھٹو خود چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی تھا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے بھٹو نے اپنی ایک ذاتی دہشت گر د تنظیم بنائی کہ جس کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین کو اغواءاور قتل کروا کر اپنی ساکھ کو مظبوط کرنا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں مخالفین کو پورے پاکستان سے اٹھایا جانے لگا، دہشت گردی کے مراکز میں اذیتیں دی جاتیں اور قتل کرکے لاشیں ویرانوں میں پھنکوا دی جاتیں۔

اپنے بڑوں سے پوچھیں انہوں نے آزاد کشمیر میں قائم ”دولائی کیمپ“ کا نام ضرور سنا ہوگا۔ یہ وہ بدنام زمانہ عقوبت خانہ تھا کہ جہاں سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو لاکر اذیت کا نشانہ بنایا جاتا۔ اسی فیڈرل سیکورٹی فورس نے مشہور وکیل احمد رضا قصوری کے والد کو قتل کرنے کیلئے لاہور میں ان پر حملہ کیا۔ یہی وہ قتل بعد میں بھٹو کی پھانسی کا باعث بھی بنا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے تمام افسران بھٹو کے خلاف گواہ بن گئے اور انہی کی شہادتوں پر احمد رضا قصوری نے بھٹو کے خلاف مقدمہ لڑا اور سزائے موت دلوائی۔

احمد رضا قصوری آج بھی زندہ ہیں اور اسلام آباد کے مشہور و کیل ہیں۔ ان کے جسم میں آج بھی وہ گولیاں پیوست ہیں کہ جو بھٹو کے حکم پر فیڈرل سیکورٹی فورس کے دہشت گردوں نے ان پر چلائی تھیں۔ لہذا اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور وہ بے گناہ تھا تو وہ صرف ایک فحش اور جھوٹ کلمہ ادا کرتا ہےجس کے زریعے سادہ عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ بھٹو نے پاکستان بھی توڑا، پاکستان سے غداری بھی کی ، ہزاروں لوگوں کو قتل بھی کروایا ،

ہزاروں کو اغواءبھی کروایا، دولائی کیمپ جیسے دہشت گردی کے مراکز بھی بنائے اور پھر جب وہ اللہ کے عذاب میں آیا تو ایک قتل اس کی پھانسی کا باعث بن گیا۔ بے شک اس کو ایک مقدمے میں سزائے موت ہوئی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کو ہزاروں بے گناہ افراد کے قتل پرہزاروں دفعہ لٹکانا چاہتے تھے۔70 ءکی دہائی کا آغاز پاکستان ٹوٹنے سے ہوا تھا۔ پھر بھٹو کا دور حکومت شروع ہوا،

اور ساتھ ہی فحاشی اور عریانی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوتا ہے کہ الامان الحفیظ! شرم، حیائ، دین اور شریعت کو بحیرہ عرب میں غرق کردیا گیا۔ پورے ملک میں گلی گلی شراب خانے کھولے گئے، زناءاور بدکاری کے اڈے قائم کیے گئے، آج بھی بزرگ جانتے ہیں کہ پی ٹی وی کے اوپر رات دس بجے کے بعد فحش فلموں کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ آج بھی کراچی کے ساحل پر مشہور سند باد کے نام سے بچوں کا پلے لینڈ ہے۔ یہ بھٹو کے دور میں ایشیاءکا سب سے بڑا جوا خانہ بن رہا تھا، کہ جو بعد میں اس کے دفعہ ہونے کے بعد بچوں کے پارک میں تبدیل کردیا گیا۔

نظریاتی طور پر بھٹو ایک لادین مکتبہءفکر سے تعلق رکھتا تھا، کہ جو ہر صورت میں مذہب کو سیاست اور ریاست سے دور رکھتے ہوئے ملک کو مکمل طور پر ایک سیکولر ریاست بنا رہا تھا۔ اس کا مشہور نعرہ تھا ”اسلام ہمارا مذہب ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے اور سوشلزم ہماری معیشت“۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں نظریہءپاکستان اور اسلام کو مکمل طور پر دفن کردیا گیا تھا، اور معاشرے کے ہر طبقے میں کرپشن، بدکاری، شراب اور زناءمکمل طور پر فروغ پاچکا تھا۔ ایک ایسی قوم کہ جو چند سال پہلے ہی اللہ کے عذاب میں گرفتار ہو کر آدھے ملک سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی،

اب ایک عذاب سے نکل کر دوسرے عذاب میں گرفتار ہوچکی تھی۔یہی وجہ تھی کہ 1977 ءمیں جب بھٹو کے خلاف تحریک چلی تو اس کا نام ”نظام مصطفی تحریک“ تھا۔ پوری قوم اس لادینیت، بے حیائی اور بے غیرتی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اسی آخری دور میں کہ جب بھٹو کو اپنے اقتدار کی کرسی ڈوبتی ہوئی نظر آئی تو اس کے عوام کے غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے شراب پر پابندی لگائی اور جمعے کی چھٹی کا اعلان کیا، ورنہ اس سے پہلے وہ اپنی مشہور تقریر میں پوری قوم کے سامنے اپنی شراب نوشی کا اقرار ان الفاظ میں کرچکا تھا کہ ” تھوڑی سی پیتا ہوں کوئی زیادہ تو نہیں پیتا“۔

اپنے نظریات کی وجہ سے بھٹو نے پاکستان کی تمام تر صنعت کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب پاکستان میں بڑے بڑے کارخانے کام کررہے تھے، جدید ملیں لگائی جارہی تھیں، اور صنعتی اعتبار سے پاکستان بہت ترقی کررہا تھا۔ ایک دو سال کے اندر اندر ہی تمام منافع بخش کارخانے کھنڈر بن کر یا تو بند ہوگئے یا نقصان میں چلنے لگے۔ ملکی معیشت کو اس سے زیادہ کاری ضرب اور نہیں لگائی جاسکتی کہ جتنی بھٹو نے لگائی۔ اس دن سے لیکر آج تک پاکستان صنعتی میدان میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکا۔

اس نے اپنا لباس بھی’’ ماوزے تنگ‘‘ جیسا بنا لیا تھا۔اس دور میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان فسادات شروع ہوگئے تھے اور بھٹو کو مجبوراً پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو بلا کر ان کا موقف پوچھنا پڑا۔ جب قادیانیوں نے پوری پارلیمان کے سامنے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا تو جذبات بہت زیادہ بھڑک گئے اور بھٹو کیلئے ممکن نہ رہا کہ وہ عوام کے جذبات کے سامنے کوئی مزاحمت کرسکتا۔ لہذا مجبوراً پوری پارلیمان کے فیصلے کے مطابق اسے قادیانیوں کو کافر قرار دینا پڑا،1977 ءکے الیکشنز میں دھاندلی کے بعد بھٹو کے خلاف نظام مصطفیٰ تحریک چل پڑی۔ بھٹو نے اپنی مخالفت کو دبانے کیلئے فیڈرل سیکورٹی فورس کے غنڈوں کے ذریعے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا۔

سینکڑوں لوگوں کو شہید اور زخمی کیا گیا اور ہزاروں کو گرفتار۔ مگر مظاہرے بڑھتے ہی رہے ۔ پھر فوج کوبلا لیا گیا۔ بھٹو نے فوج کو براہ راست حکم دیا کہ عوام پر گولیاں چلائے۔ لاہور میں چار بریگیڈیئروں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور فوج میں بغاوت پھیل گئی۔ اب صورتحال بہت نازک ہوچکی تھی۔ فوج کا ڈسپلن ٹوٹ رہا تھا، پورے ملک میں مظاہرے ہورہے تھے، اور بھٹو بضد تھا کہ فوج اپنے ہی عوام کا قتل عام کرے۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب مجبوراً اس وقت کے سپہ سالار جنرل ضیاءالحق کو ملک میں مارشل لاءلگانا پڑا۔

لوگ ضیاءالحق کو مارشل لگانے پر تو گالیاں دیتے ہیں مگر کوئی ان اسباب کا ذکر نہیں کرتاکہ ایسا کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی۔آج نہ کوئی بھٹو کے جرائم کی بات کرتا ہے کہ جن کی وجہ سے فوج مجبور ہوئی کہ عوام کو بچانے کیلئے مارشل لاءلگائے۔وطن عزیز سے ہر قسم کے فتنے کو دفن کرنا ہم سب پر لازم ہے ،اور ہم کامیاب ہوں گے، ان شاءاللہ۔

مضطرب لوگوں میں ‘سپر پاور’ ہو سکتی ہیں

مضطرب لوگوں میں ‘سپر پاور’ ہو سکتی ہیں
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 21:53
سائنسدانوں کا کہنا کہ بے چین یا اضطرابی کیفیت والے لوگوں میں ‘سپر پاورز’ ہوسکتی ہیں۔جو لوگ اضطرابی کیفیت کا شکار رہتے ہیں انہیں یہ مذاق لگتا ہوگا، کیونکہ بے چینی یا اضطراب کے ساتھ رہنے کے کوئی مثبت اثرات نہیں ہیں۔ اس میں مبتلا ہر شخص مختلف جدوجہد اور تجربات سے گزرتا ہے۔سپر پاور کا مطلب ہوا میں اڑنا

یا طاقتور ہوجانا نہیں بلکہ کچھ صلاحیتو﷽ میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔مضطرب افراد میں فکرمندی عروج پر ہوتی ہے۔ اسے عام طور پر برا سمجھا جاتا ہے لیکن بعض مرتبہ یہ فائدہ مند بھی ثابت ہوتی ہے۔تحقیق

سے ثابت ہوا ہے کہ اضطراب بالکل ذہانت کی طرح ارتقاء کے مراحل طے کرتا ہے۔ جبکہ مضطرب افراد میں آئی کیو لیول بہت اونچا ہوتا ہے۔لوگوں کا ماننا ہے کہ بے چین لوگ دوسروں کے درد کو سمجھتے ہیںاور جذباتی علامات کو سمجھ سکتے ہیں۔

یہ 10مثبت عادات آپ کی زندگی بدل سکتی ہیں

یہ 10مثبت عادات آپ کی زندگی بدل سکتی ہیں
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 21:52
جیسی کرنی ویسی بھرنی پر بھروسہ رکھیںجب آپ اچھائی کریں تو اخلاص کے ساتھ اور اپنے دل سے کریں، اس لئے نہیں کہ آپ یہ امید کریں کہ بعد میں آپ کے ساتھ اچھا ہوگا۔راضاکارانہ سرگرمیاںکسی یتیم کے ساتھ آپ کا ایک گھنٹہ گزار لینااُس کی زندگی میں آپ کی سوچ سے زیادہ تبدیلی لا سکتا ہے۔اپنے جزبات کا احترام کریں( جب تک وہ

کسی دوسرے کیلئے تکلیف دہ نہ ہوں)ہم لوگ خوشی، غم، ڈر، غصہ، مایوسی، جلن، دلچسپی، محبت وغیرہ سب محسوس کرتے ہیں۔ یہی وہ جزبات ہیں جو ہمیں مزید عاجز اور صابر انسان بناتے

ہیں۔نعمتوں کا شکر ادا کریںاپنے اپ پر ترس کھانا بند کریں، کیوں کہ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو آپ سے بد تر حالت میں ہیں۔احباب کےساتھ ہر لمحہ آخری لمحہ سمجھ کر گزاریںاحباب کے ساتھ گزارے جانے والے ہر لمحے کو ایسے گزاریں جیسے وہ ان کے ساتھ گزارے جانے والا آخری لمحہ ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو آپ انہیں کھو دیں اور آپ کو یہ بتانے کا موقع نہ مل سکے کہ آپ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔رائے کم قائم کریںکوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی مشکل کا شکار ہوتا ہے، جس کے بارے کوئی دوسرا نہیں جانتا۔غور و فکر کریں آپ غور و فکر کے زریعے اپنی جزباتی ، ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھ سکتے ہیں۔

ہر کام کی لسٹ بنائیںہر کام کی لسٹ بنانے سے آپ منظم اور یکسو ہو جائیں گے اور چیزیں کم بھولیں گے۔جزبات کے احترام کے ساتھ ان کااظہار بھی ضروری ہےجتنا اپنے جزبات کا احترام ضروری ہے اُتنا ہی اس کا اظہار بھی ضروری ہے۔ اپنے جزبات کے اظہار کا سہارا مختلف چیزوں سے لیا جا سکتا ہے جیسے کہ ڈائری لکھنا، موسیقی سننا، خاکے بنانا وغیرہ۔دل کی سنیئے لیکن دماغ کو حاضر رکھیںزندگی بہت چھوٹی ہے۔ ان غلطیوں میں وقت برباد نہ کریں جن سے آپ دو بار سوچ کر بچ سکتے تھے

دجّال کا حلیہ کیسا ہوگا؟ اس کی نشانیاں کیا ہیں؟

دجّال کا حلیہ کیسا ہوگا؟ اس کی نشانیاں کیا ہیں؟
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 21:49
دجال کو جھوٹا مسیح یا جھوٹا خدا بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان ہے کہ دجال اپنی طاقت اور فریب کے زریعے تباہی لائے گا۔حضرت محمد ﷺ دنیا کے سب سے قابل اور جان کار انسان ہیں۔ آپﷺ نے دجال کی کئی واضح نشانیاں بتائی ہیں۔ جبکہ مغرب میں اسے ‘اینٹی کرائسٹ’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو دنیا

بھر میں اپنے شعبدوں سے تباہی پیدا کرے گا۔نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق دجال کا ظہور قیامت سے پہلے اور دنیا کے آخری دنوں میں

ہوگا۔ اس کا مقصد دنیا سے اسلام اور اسکے پیروکاروں کو ختم کرنا ہونا۔دجال اللہ کے ماننے والوں کو اپنی بندگی پر مجبور کر کے انہیں جہنم میں دھکیلنے کیلئے آئے گا۔دجال کے فتنے سے بچنے کیلئے نبی کریم ﷺ نے بارہا اس کی نشانیوں سے آگاہ کیا اور واضح بتایا کہ دجال کیسا دکھے گا اور اس کی نشانیاں کیا ہوں گی۔آپ ﷺ نے فرمایا دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا، وہ ایک جگہ نہیں رکے گا ، اس کی رنگت سرخی مائل سفید ہوگی۔ اس کی پیشانی نمایاں اور گردن بہت زیادہ چوڑی ہوگی۔

اس کا قد چھوٹا ہوگا اور کمر میں کبھ ہوگا۔ اس کے باوجود وہ بہت طاقتور ہوگا۔ وہ عام انسانوں کی طرح نہیں چل سکے گا۔دجال کے گھنگریالے بال ہوں گے جو سر سے سانپوں کی مانند لٹک رہے ہوں گے۔ دجال ایک مرد ہوگا اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگا۔ اس کی پیشانی پر دونوں آنکھوں کے بیچ کافر یا ک،ف،ر لکھا ہوگا۔درج بالا نشانیوں کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔(۶۳۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِؐ : ((الدَّجَّالُ اَعْوَرُ العَیْنِ الیُسْرَیٰ، جُفَالُ الشَّعَرِ، مَعَہُ جَنَۃٌ وَنَاٌر، فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وَجَنَّتُہُ نَارٌ)) [م(۶۶۳۷)، جہ (۱۷۰۴) ]ترجمہ: حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ نبیؐ نے ارشاد فرمایا دجال بائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اس کے بال گھنے ہوں گے،

اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہو گی، اس کی جہنم حقیقت میں جنت ہو گی، اور اس کی جنت حقیقت میں جہنم ہو گی۔حدیث: حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ نبیؐ نے ارشاد فرمایا مجھے دجال سے بھی اس بات کا زیادہ علم ہے کہ اس کے ساتھ کیا چیزیں ہوں گی؟ اس کے ساتھ دو جاری نہریں ہوں گی، ان میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہو گی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ کی ہو گی، اگر کوئی شخص وہ زمانہ پائے تو اسے چاہیئے کہ اس نہر پر جائے جو دیکھنے میں آگ نظر آ رہی ہو گی، اور اس میں غوطہ لگا دے،

پھر اپنا سر جھکا کر اس میں سے پیئے، وہ ٹھنڈا پانی ہو گا، اور دجال کی ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہو گی، اس پر موٹا ناخنہ ہو گا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا، جسے ہر مؤمن پڑھ لے گا خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔[م (۷۶۳۷)، خ (۰۵۴۳)، د(۵۱۳۴)]تشریح: اس حدیث کی تشریح میں سب سے پہلے تو دجال کی آنکھوں کی کیفیت کوو اضح کرنا مقصود ہے،۔اس سلسلے میں اتنی بات تو متعین ہے کہ دجال ایک آنکھ سے کانا ہو گا، اسی وجہ سے عوام میں وہ’کانے دجال’ کے نام سے ہی مشہور ہے،

اسی طرح یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ اس کی دوسری آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہو گی اور اس کی پلکوں کے پاس گوشت کا اُبھرا ہوا چھوٹا سا ٹکڑا ہو گا، لیکن یہ بات متعین نہیں ہے کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہو گا یا بائیں آنکھ سے، اسی طرح اس کی پھولی ہوئی آنکھ کون سی ہو گی؟ احادیث کی روشنی میں اسے متعین کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا،

اور ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اسی بنا پر اس کی دوسری آنکھ کی کیفیت بھی متعین کرنا دشوار ہے۔ چنانچہ بعض علماء نے دائیں آنکھ والی روایات کو ترجیح دی ہے اور بعض علماء نے بائیں آنکھ والی روایت کو ترجیح دی ہے، اس ناکارہ کا رجحان اسی دوسری رائے کی جانب ہے جس کے مطابق دجال بائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اکثر روایات میں بھی یہی آتا ہے،

اس طرح یہ بات خود بخود متعین ہو جاتی ہے کہ اس کی دائیں آنکھ پھولی ہوئی ہو گی، جسے بعض روایات میں انگور کے دانے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور بعض روایات میں اسے موٹے ناخنہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حدیث میں ایک اضافی بات یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس کے بال خوب گھنے ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ دجال کی ان عیب دار آنکھوں کے درمیان اللہ تعالیٰ اس کے دجل و فریب اور جھوٹ کو ثابت کرنے کیلئے اس پر لفظ کافر لکھ دے گا، دراصل احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ دجال ابتدائی طور پر رسالت کا اور پھر خدائی کا دعوٰی کرے گا،

یہ عجیب خدا ہو گا جو ایک آنکھ سے کانا اور دوسری سے بھینگا ہو گا یعنی اس میں اتنی بھی طاقت نہ ہو گی کہ اپنے جسم کے اتنے بڑے اور نمایاں عیب ہی کو دور کر سکے ، اس لیے اس کا خدائی کا دعویٰ کرنا کسی مذاق سے کم نہ ہوگا۔ایسا نہ ہو گا کہ وہ لفظ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گا، بلکہ پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ ساتھ ان پڑھ لوگ بھی اسے پڑھ سکیں گے، دجال کی پیشانی پر موجود لفظِ کافر دنیا کا کوئی صابن اور کیمیکل نہ مٹا سکے گا،۔البتہ یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے،

ایک تو یہ کہ بعض روایات میں دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ’کافر’ حروفِ تہجی کے ساتھ الگ الگ کر کے لکھنے کا تذکرہ ملتا ہے یعنی یہ لفظ اس طرح’ک ف ر’ لکھا ہو گا، اور بعض روایات میں حروفِ تہجی ملا کر ‘کافر’ لکھے ہونے کا ذکر ہے۔تاہم معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہو گا، اور دوسری بات یہ کہ کیا یہ لفظ حقیقتاً اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا یا حدیث میں اس کا مجازی معنی مراد ہے؟ اس سلسلے میں بھی علماء کی دو رائیں ہیں، بعض علماء اس کا مجازی معنی مراد لیتے ہیں، ان کا یہ کہنا ہے کہ دجال اکبر کے چہرے پر ہی ایسی علامات ہوں گی جن سے اس کا حادث ہونا ثابت ہوتا ہو گا،

ان علامات کو لفظِ کافر سے ذکر فرما دیا گیا ہے ، لیکن اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ کتابت اپنے حقیقی معنی میں ہی ہے، اور حقیقی طور پر اس کی آنکھوں کے درمیان لفظِ کافر لکھا ہو گا، اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے کہ اس کے کفر اور اس کے جھوٹ کی واضح علامت اس کے چہرے پر ہی نمایاں فرما دے، تا کہ ہر آدمی اسے شناخت کر سکے، اس کے جھوٹا اور کافر ہونے کا یقین کر سکے اور اس کے فتنے سے اپنے آپ کو بچائے۔

تیسری قابل وضاحت بات دجالِ اکبر کی جنت اور جہنم سے متعلق ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو ڈھیل دیتا ہے تو اس کی رسی خوب دراز کر دیتا ہے اور جب اسے سزا دینے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اس رسی کو کھینچ لیتا ہے، دجالِ اکبر جب خدائی کا دعویٰ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ڈھیل دے گا، حتی کہ دجال اپنے ساتھ جنت اور جہنم کو لیے پھرتا ہو گا، جب کسی پر اپنا انعام کرنا چاہے گا تو اسے اپنی جنت میں داخل کر دے گا، جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جہنم ہو گی، اور جب کسی کو سزا دینا چاہے گا تو اسے اپنی جہنم میں داخل کر دے گا،

بظاہر وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی جنت ہو گی، لوگ جب اس کے ساتھ جنت اور جہنم کو دیکھیں گے تو خوفزدہ ہوں گے اور اس پر ایمان لانے لگیں گے، خاص طور پر جب وہ یہ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے دجال کو اپنا رب نہیں مانا، دجال نے انہیں بھڑکتے ہوئے شعلوں کی نذر کر دیا، وہ مزید مرعوب ہو جائیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جس چیز کو جنت سمجھ رہے ہوں گے، وہ ان کی نظر یا ان کی سوچ کا دھوکہ اور غلط فہمی ہو گی، حقیقت میں وہ جہنم ہو گی اور جس چیز کو لو گ جہنم سمجھ رہے ہوں گے ،

وہ ان کی غلط فہمی ہو گی اور ان کی نظر کا دھوکہ ہو گا، حقیقت میں وہ جنت ہو گی۔ اسی لیے نبیؐ نے فرمایا اگر کسی آدمی کو دجال کا زمانہ مل جائے اور وہ آزمائش میں پڑ جائے تو اسے چاہیے کہ بے کھٹکے دجال کی جہنم میں چھلانگ لگا دے، وہ آگ اس کیلئے اسی طرح ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی جیسے حضرت ابراھیم علیہ السلام کیلئے بن گئی تھی اور اسے اس سے کچھ نقصان نہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی جنت میں کود گیا تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے بہت گھاٹے کا سودا کیا،

اور وہ خسارے میں پڑ گیا۔رہی یہ بات کہ کیا واقعی دجال کے ساتھ جنت اور جہنم ہوں گے، یا یہ نعمت و راحت اور سزا و تکلیف سے کنایہ ہے؟ سو اس سلسلے میں محدثین نے دو رائیں اختیار کی ہیں، جن محدثین نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے ، ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے دجال کو جس جنت اور جہنم پر حکم چلانے کا موقع عطا فرمائے گا، اس کی ظاہری اور بیرونی حالت تو دجال کی خواہش کے مطابق ہی رہے گی لیکن اندرونی اور حقیقی کیفیت اس کے برعکس ہو گی،

اس لیے نبیؐ کے فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ اس موقع پر انسان اپنی آنکھوں پر اعتماد نہ کرے، بلکہ نبیؐ کے حکم پر اعتماد کرے، اپنی بصارت کو ایک طرف رکھ دے اور ایمانی بصیرت سے کام لے، اور بعض محدثین نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے ، ان کا یہ کہنا ہے کہ جو لوگ دجال کو رب مان کر اس پر ایمان لے آئیں گے، دجال ان پر اپنے انعام و اکرام کی بارش برسا دے گا،

یوں ان کی دنیا بھی جنت بن جائے گی، تاہم آخرت میں اس عیاشی کا انجام جہنم کے سوا کچھ نہ ہو گا، اور جو لوگ دجال کو اپنا رب ماننے سے انکار کر دیں گے، دجال انہیں طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا کر دے گا جس کی وجہ سے یہ دنیا ہی ان کیلئے جہنم بن جائے گی، لیکن دنیا کی ان تکلیفوں کا انجام آخرت میں جنت کے سوا کچھ نہیں ہو گا، اس لیے انسان کو چاہیے کہ بصارت کی بجائے اس موقع پر بصیرت سے کام لے تا کہ دنیا میں بھی سرخرو ہو اور آخرت میں بھی اس کا انجام اچھا ہوا۔ واللہ اعلم

ستمبر کی وہ رات جب تیسری جنگِ عظیم چِھڑنے والی تھی

ستمبر کی وہ رات جب تیسری جنگِ عظیم چِھڑنے والی تھی
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 21:47
سال 1983کی شدید تناؤ میں گزرنے میں والی ایک رات کواگر معاملات کچھ مختلف ہوتے تو دنیا نے گزشتہ روز تیسری جنگِ عظیم کی 35ویں برسی منائی ہوتی۔پچیس ستمبر 2018کو مشرقی معیارِ وقت کے مطابق صبح 6بجے اس شخص کو یاد کیا جس کے فیصلےنے دنیا کو نیوکلیئر جنگ سے بچایا۔چھبیس ستمبر1983کو رات کے آخری

پہر جنوبی ماسکو کے ملٹری علاقے سرپوکوف-5میں سائرن بجنا شروع ہوا۔لیفٹننٹ کرنل اسٹانسِلف پیٹروف کے شیشے کے آفس کے تمام اطراف سرخ اسکرین چلنے لگی جس پر ایک ہی لفظ ‘سٹارٹ’ لکھا آرہا تھا۔سوویت یونین کے اوکو لانچ ڈیٹیکشن کمپیوٹر سسٹم نے

خبردار کیا کہ امریکا نے سوویت یونین پر سنگل انٹر کونٹینینٹل بیلیسٹک میزائل فائر کیا ہے اور وہ 12منٹ میں سویت یونین پر گِرنے والا۔پیٹروف نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے اعلیٰ افسران کو اس انتباہ کے متعلق مطلع کیا اور انہیں بتایا کہ یہ الارم غلط ہے۔

اُسے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ امریکا سویت یونین کی جانب سنگل میزائل کیوں فائر کرےگا۔ پیٹروف جو کہ ایک سافٹ ویئر انجنیئر تھا ، نے یہ انتباہ نئے خبردار کیےجانے والے کمپیوٹر سسٹم کا مسئلہ سمجھا۔اُس نے فون رکھا ہی تھا کہ سسٹم نے دوبارہ وارننگ دینا شروع کردی اور اس کے بعد تین بار اور خبردار کیا گیا۔سسٹم کے مطابق سویت یونین کی جانب پانچ نیوکلئیر میزائلز فائر کیے گئے تھے۔پیٹروف کا کام ملنے والی وارننگ کو اعلیٰ افسران تک پہنچانے کا تھا۔ان افسران کو جن کے پاس یہ اختیار تھا کہ اس سے پہلے امریکی میزائل سوویت یونین کو نشانہ بنائیں، وہ اپنے نیوکلیئر میزائل چلادیں۔لیکن پیٹروف ایسی کوئی بھی وارننگ اوپر دینے میں جھجکا کیونکہ اُسے اس کمپیوٹر سسٹم پر اعتبار نہیں تھا جِسے بہت عجلت میں کام میں لایا گیا تھا۔

گراؤنڈ ریڈار جنہیں ایک حد کے بعد ان میزائلز کی نشاندہی کرلینی چاہیئے تھی، خاموش رہے۔پیٹروف کے سامنے موجود اسکرین اُسے ابھی تنبیہ کررہی تھی اور سائرن بج رہے تھے تب اس نے دوبارہ فون اٹھایا اور اعلیٰ افسران کو غلط انتباہ کےمتعلق بتایا ۔ اس لمحے بھی اُسے اس پر بھروسہ نہیں تھا۔ایک انٹرویو میں اس نے کہا یہ خیال میرے ذہن سے گزرا کہ ہوسکتا ہے واقعی میزائل فائر کیے گئے ہوں۔اس بات کی تصدیق کیلئے 15مشکل ترین منٹ درکار تھے۔

لیکن آخر میں کچھ نہیں ہوا۔دنیا نیوکلیئر جنگ کے دہانے سے ہوکر گزرگئی اور پیٹروف اور اس کے اعلیٰ افسران کے علاوہ 1998تک کسی کو اس بات کے متعلق کچھ معلوم نہ ہوا۔پیٹروف کا کمپیوٹر سسٹم پر بھروسہ نہ کرنا درست ثابت ہوا۔ کمپیوٹر نے شمالی ڈکوٹا کے بادلوں کو میزائل بتا کر انتباہ جاری کیا۔پیٹروف جس نے زبردست خطرہ مول لیا اور کروڑوں لوگوں کی جان بچائی، کو فوری طور پر نہ انعام دیا گیا نہ سزا دی گئی۔

اس کا خاموشی سے تبادلہ کیا گیااور 1984میں سوویت آرمی سے قبل از وقت ریٹائر کردیا گیا۔ کچھ برس قبل اُس کی اہلیہ کینسر کےخلاف زندگی کی بازی ہارگئی۔پیٹروف کے دلیرانہ فیصلے کے متعلق جب معاملات 1998 سامنے آئے تو اُسے بین الاقوامی پذیرائی ملی۔ لیکن متعدد بین الاقوامی ٹور اور لاتعداد میڈیا انٹرویو کے باجود اس باہمت شخص نے ماسکو میں 2017میں موت واقع ہونے سے پہلے تک انتہائی محدود پینشن اور چھوٹے سے فلیٹ میں گزارا کیا۔

ماؤنٹ ایورسٹ پر آکسیجن چوری ہو رہی ہیں

ماؤنٹ ایورسٹ پر آکسیجن چوری ہو رہی ہیں
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 21:58
دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے بیرونی کوہ پیماؤں اور شرپاؤں کو اونچے کیمپوں سے آکسیجن کی بوتلوں کی بڑھتی ہوئی چوریوں پر سخت تشویش لاحق ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے کوہ پیماؤں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک موسم کی خرابی اور وہاں بھیڑ کی وجہ سے

ہونے والی تاخیر کی مناسبت سے اتنی ہی آکسیجن کی بوتلیں لاتا ہے جتنی اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کوہ پیماؤں کی بھیڑ، جن میں سے بہت سے غیر

تجربہ کار مناسب گائیڈ کے بغیر ہیں، کی وجہ سے بھی اس طرح کے حالات پیدا ہوئے ہیں۔شیرپا نیما تینجی کوہ پیمائی کے گائیڈ ہیں اور ابھی ابھی ماؤنٹ ایورسٹ سے واپس لوٹے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘وہاں اوپر یہ ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔’ان کا کہنا تھا: ‘میں مہم جو گروپوں سے اکثر سنا کرتا ہوں کہ ان کی آکسیجن کی بوتلیں غائب ہوجاتی ہیں اور یہ تو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے،

خاص طور پر اس وقت جب انھوں نے بوتلوں کو راستے میں استعمال کیا ہو اور ابھی ایورسٹ تک پہنچے بھی نہ ہوں یا پھر انھوں نے واپسی میں انھیں استعمال کے لیے محفوظ رکھا ہو۔’بعض بیرونی کوہ پیماؤں نے ان چوریوں سے متعلق سوشل میڈیا پر بھی لکھا ہے۔گذشتہ پیر کو ایک مہم کے لیڈر ٹم موزڈیل نے فیس بک پر لکھا تھا: ‘ہماری سپلائی سے سات اور بوتلیں گم ہو گئی ہیں۔ اس بار ساؤتھ کول (چوتھا کیمپ، ایورسٹ پر پہنچنے سے پہلے کا آخری کیمپ، سے ایسا ہوا ہے۔

’اس سے قبل اس طرح کی اطلاعات آئی تھیں کہ اس سیزن میں اب تک دس کوہ پیما ہلاک ہوچکے ہیں، نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ابھی صرف ایسی پانچ اموات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔لیکن ابھی تک ان میں کسی بھی موت کا تعلق آکسیجن کی چوری یا اس کی کمی سے نہیں جوڑا گیا۔نیپال نیشنل ماؤنٹین گائیڈز ایسوسی ایشن (این این ایم جی اے) کے جنرل سکریٹری پھربا نامگیال شیرپا کا کہنا ہے: ‘آپ کیا کرسکتے ہیں جب چور ٹینٹ کے تالے توڑ کر آکسیجن کی بوتلیں اور دیگر اشیا خوردنی چوری کر لے جائیں؟

یہ ایک ٹرینڈ بنتا جارہا ہے۔’ان کا کہنا تھا: ‘اسی طرح کے واقعات کے سبب کئی کوہ پیماؤں کو راستے سے ہی واپس آنا پڑا کیونکہ جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کے پاس زندگی بچانے کے لیے بوتلیں ہی نہیں ہیں تو پھر سب سے پہلے آپ یہ کرتے ہیں کہ اپنے بیس کیمپ واپس آجاتے ہیں۔’تجربہ کار شرپاؤں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے چوروں میں سے کسی ایک کو بھی چوری کرتے نہیں پکڑا جا سکا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسا گروپ ہو سکتا ہے جو پوری طرح سے تیاری کے ساتھ نہ گیا ہو اور زندگی کے لیے خطرے کی صورت حال سے دوچار ہو

تبھی ایسی حرکتوں پر مجبور ہوا ہو۔حکومتی افسران کو اس کا علم ہے اور اسی لیے کوہ پیمائی کے لیے بعض نئے اصول و ضوبط متعارف کروانے کی بات کی ہے۔اس کے مطابق ہر ایک کوہ پیما کو ایک تجربہ کار شرپا کو اپنے ساتھ لینا ضروری ہے تاکہ ہر شخص کے پاس آکسیجن کی بوتلیں، دوائیں اور غذائی اشیا سمیت بنیادی چیزیں موجود ہوں۔حکومت نے رواں سیزن میں تقریباً 400 کوہ پیماؤں کو ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس میں تقریباً 300 افراد نے ایورسٹ سر کرنے کا مقصد پورا کر لیا ہے جبکہ 100 کوہ پیما موسم کے بہتر ہونے کے