شعیب ملک کی تعریف کرنے پر ماورہ کا مذاق بن گیا

شعیب ملک کی تعریف کرنے پر ماورہ کا مذاق بن گیا
بدھ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2018 | 21:47
رواں ایشیاکپ میں پاکستان کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی شعیب ملک اپنے تجربے کی بنیاد پر صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف کھیلے گئے دونوں میچز تو نہ جیت سکی لیکن ملِک نے شاندار کارکردگی سے اپنے مداحوں کے دل جیت لئے۔شعیب ملک اب تک رواں ایشیاکپ میں پاکستانی بیٹنگ کیلئے ریڑھ

کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں، ایسے میں انہیں کرکٹ شائقین کے ساتھ ساتھ معروف شخصیات کی جانب سے بھی سراہا جارہا ہے۔پاکستان نے سپر فور مرحلے کے پہلے میچ میں افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی

تو نامور اداکارہ ماورہ حسین نے شعیب ملک کیلئے تعریفی ٹویٹ کیا۔ماورہ نے ٹویٹ تو کردیا مگر وہ شاید یہ بھول گئیں کہ ایشیاکپ چل رہا ہے، ایشین گیمز نہیں۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں ایشیاکپ 2018 کی جگہ ایشین گیمز 2018 کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔ ماورہ کی غلطی کو جیسے ہی نوٹ کیا گیا صارفین نے انہیں مذاق کا نشانہ بنانا شروع کردیا

چوتھی شادی کے بعداداکارہ نورنے بڑافیصلہ کرلیا

چوتھی شادی کے بعداداکارہ نورنے بڑافیصلہ کرلیا
بدھ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2018 | 21:31
پاکستان کی نامور اداکارہ نور نے شوبز میں واپسی کا فیصلہ کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔واضح رہے کہ چند ماہ قبل اداکار نور نے شوبز کو خیر باد کہنے کا اعلان کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے شوبز کو خیر باد کہہ رہی ہیں چونکہ وہ ایک روحانی شخصیت کی بیت ہو چکی ہیں لہٰذا وہ اب شوبز میں رہنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

اداکارہ نور وزیراعظم پاکستان عمران خان کیاہلیہ بشریٰ بی بی سے کافی متاثر ہیں اور ان کی شخصیت میں تبدیلی کی وجہ بھی وہی بتائی

جاتی ہیں۔ نور کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آج کل ٹی وی چینل پر میزبانی کا ارادہ رکھتی ہیں اس حوالہ سے مختلف ٹی وی نیٹ ورک کے ساتھ ان کے رابطے جاری ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی شوبز میں واپسی کا فیصلہ ان کا ذاتی ہے اور وہ کسی بھی مارننگ شو کی میزبانی کرنے کی خواہش مند ہیں۔ اداکارہ نور کے قریبی ساتھی آرٹسٹوں کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ ان کے اپنے سابق شوہر عون چودھری کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں اور مالی مشکلات کے باعث انہوں نے دوبارہ شوبز میں واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔

نامور پاکستانی اداکارہ نور اپنی 6 سالہ بیٹی فاطمہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے تنقید کا نشانہ بن گئیں۔اداکارہ نور نے حال ہی میں اپنی بیٹی فاطمہ کی چھٹی سالگرہ منائی اور سالگرہ کی تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ شیئر کیں، تاہم اداکارہ نور کو بیٹی کی سالگرہ کی تصاویرشیئر کرنا مہنگا پڑگیا۔سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ نور کو آڑے ہاتھوں لیتےہوئے کہا کہ سالگرہ منانا صحیح نہیں، جب کہ کچھ لوگوں نے کہا زندگی میں میانہ روی اختیار کریں، سالگرہ اتنی زوروشور سے منانے کی ضرورت نہیں ہے۔

کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کو سادگی سے زندگی جینا سیکھائیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل اداکارہ عائزہ خان اور دانش تیمور کو بھی بیٹی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بھارت سے شکست کیوں ہوئی ،شعیب ملک نے وجہ بتادی

بھارت سے شکست کیوں ہوئی ،شعیب ملک نے وجہ بتادی
بدھ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2018 | 20:13
قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر اور سابق کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ بھارتی کھلاڑی پاکستانی ٹیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں اور پے در پے شکست نہ تجربہ کاری کا نتیجہ ہے۔دبئی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شعیب ملک نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچز میں جو کچھ ہوا اس کے بعد ڈریسنگ روم میں یقیناً مایوسی تھی جس

کے بعد کھلاڑیوں نے ساتھ بیٹھ کراس پر بات کی۔شعیب ملک نے کہا کہ ہم بھارت کے خلاف دو میچز ہارے اور بعض شعبوں میں ہمیں بہتری کی ضرورت ہے، اگلے

میچز میں انفرادی منصوبہ بندی میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑی ٹیم کے خلاف دباؤ ضرور ہوتا ہے لیکن بطور کھلاڑی یہ نہیں سمجھتا کہ کون سی ٹیم مضبوط ہے اور کون کمزور، میچ کے روز اگر دو سے تین بولرز یا بلے باز کارکردگی پیش کردیں تو میچ کا نتیجہ تبدیل ہوجاتا ہے۔

شعیب ملک کا کہنا تھا کہ جو کھلاڑی فارم میں ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ کارکردگی کا تسلسل جاری رکھیں، ہر کھلاڑی کو انفرادی طور پر پرفارم کرنا ہوگا، یہ کرکٹ بورڈ، مینجمنٹ یا سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داری نہیں بلکہ کھلاڑی کی ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کھلاڑیوں میں اعتماد کی کمی کو بیٹنگ میں ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیدیا۔23 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی ٹیم کو ہر شعبے میں آؤٹ کلاس کرتے ہوئے یک طرفہ مقابلے کے بعد 9 وکٹوں سے با آسانی شکست دے دی تھی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے کوچمکی آرتھر نے کہاکہ پاکستان کی بیٹنگ میں اعتماد کا شدید بحران ہے، اور ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑیوں کو اپنی ناکامی کا ڈر رہتا ہے، تاہم یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم بطور ٹیم کہاں کھڑے ہیں۔کھلاڑیوں میں اعتماد میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے فخر زمان کی مثال دی

اور کہا کہ جب بھارتی باؤلنگ نے ان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی تو وہ جارحانہ آغاز دینے میں ناکام ہوگئے اور یہی وجہ ہے کہ پاور پلے کے اختتام پر 31 گیندوں پر ان کا اسکور صرف 12 تھا۔کوچ مکی آرتھر کیلئے دوسری تشویش باؤلنگ ڈپارٹمنٹ ہے جو ان کے مطابق اپنے منصوبوں سے ہی ہٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری باؤلنگ میں تحمل نہیں تھا، یہ بہت مایوس کن تھی اور اسی وجہ سے ہم گھبراہٹ کا شکار ہوگئے۔

مولاناطارق جمیل اورطوائف

مولاناطارق جمیل اورطوائف
بدھ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2018 | 19:43
میانچنوں سے عبدالحکیم جاتے ہوئے راستے میں تلمبہ کا تاریخی شہر نظر آتا ہے – مؤرخین کے مطابق تلمبہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی…اسے قبل مسیح میں توحید کے متوالے بادشاہ پرھلاد کا پایہ تخت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور ھندو مذہب کے ہیرو رام چندرجی ، رام لچھمن جی اور ان کی بیوی سیتا کی

میزبانی کا بھی-بس تمبہ کے قریب سے گزرتی ہے تو ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے…. یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ حصنات…..اور یہ عین اسی جگہ واقع ہے جہاں دس

بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازار حسن تھا-اس خطے میں جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں…انگریز دور سے ہی تین بڑے بازار حسن قائم تھے…..لاہور….ملتان ….اور تلمبہ

……کراچی کی لی مارکیٹ اور نیپئر روڈ بہت بعد کی پیداوار ہیں-تلمبہ کا بازار حسن 1818 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے قائم کیا ، اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص وعام تھا سینما تھیٹر اور ٹی وی کے دور سے پہلے یہاں کی رقاصائیں ملک کے کونے کونے میں اپنے فن کا جادو جگا کر تقریبات کا حسن دوبالا کرتی تھیں…..پھر وقت بدلا اور رقص و موسیقی نے باقاعدہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا روپ اختیار کیا تو بازار بھی اس سے متاثر ہوئے- ان بازاروں کی اعلی کوالٹی ترقی کرتے کرتے پہلے فنکار….

پھر آرٹسٹ اور بعد میں سیلیبریٹیز بن گئ… اور بچا کھچا سامان طوائف کا لیبل لگا کر جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہو گیا تلمبہ کے بازارحسن کی شہرت ضرب المثل کا درجہ رکھتی تھی….. پنجاب میں دیہاتی عورتوں کی کوئ بھی لڑائ ، ایک دوسرے کو “تلمبہ دی کنجری” کہے بغیر آج بھی پھیکی سمجھی جاتی ہے……جولوگ اپنے گھر کا کچرا باہر گلی میں پھینک کر نصف ایمان کے درجے پہ فائز ہو جاتے ہیں….ان کےلیے یہ بازار قطعاً اس قابل نہ تھا کہ وہ اس کے بارے میں سوچ کر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے-

پھر ہمارے ہاں تو گندی نالیوں کی صفائ کےلیے بھی عموماً کرسچین رکھے جاتے ہیں …..نیک لوگ ایسی متعفن جگہوں سے منہ ڈھانک کر اور پائنچے چڑھا کر گزرتے ہیں…اور بد خصلت صرف رات کے اندھیرے میں ادھر جھانکتے ہیں……طارق جمیل غالباً وہ پہلا شخص تھا جس نے دن کے اجالے میں اس تاریک نگر کا رخ کیا شروع شروع میں مولانا کی یہ “حرکت” ان کے معتقدین کو بھی ناگوار گزری –

بازار کے کرتا دھرتاؤں کو بھی اس پر اعتراض ہوا…..لیکن مولانا کا استدلال یہ تھا کہ دین سیکھنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے کلمہ پڑھ رکھا ہے….. بازار حسن سے تعلق رکھنے والے چونکہ مسلمان ہیں…اس لیے انہیں اس نعمت سے محروم نہیں کیا جاسکتا….مولانا ایک مدت تک چارسو گھروں پر مشتمل اس کنجر محلہ میں جاتے اور ایک کونے میں بیٹھ کر درس قران دیتے رہے – آہستہ آہستہ پیشہ ور خواتین کی ایک معقول تعداد ان کے لیکچرز اٹینڈ کرنے لگی…..طارق جمیل صاحب انہیں میری بہنوں کہ کر مخاطب کرتے اور نماز کا درس دیتے…امہات المؤمنین کے ایمان افروز واقعات بتاتے……صحابیات کے قصے سناتے….

اور کربلاء کی عفت ماب بیبیوں کا تزکرہ فرماتے…….آخر ایک روز ایک عورت نے کہا مولانا تم روز ہمیں درس تو دینے آجاتے ہو…. لیکن ہمیں اس کا فائدہ کیا ہے….اگر ہم اس گندے کام سے توبہ بھی کر لیں تو کیا یہ معاشرہ ہمیں قبول کر لے گا…..لوگ تو ہمیں دیکھ کر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے….ہمیں اپنائے گا کون !!!!مولانا نے کہا کہ رب پر توکل کرو ….وہ فرماتا ہے….”تم میری طرف چل کر آؤ….میں دوڑ کر آؤں گا.” ……تم ایک بار چل کر تو دیکھو….باقی رب پر چھوڑ دو…….تاکہ قیامت والے دن کوئ عذر تو ہو تمھارے پاس –

پھر مولانا نے یہ بات مختلف حلقوں میں چلائ…..اس کارخیر کےلیے ملک کے دور دراز علاقوں میں خفیہ و اعلانیہ مہم چلائ…..بہت سے نیک اور صالح نوجوان ان خواتین سے شادی کےلیے تیار ہوگئے …….اور آہستہ آہستہ…پاکستان کے اس تیسرے بڑے بازار حسن کی آبادی گھٹنے لگی…..کئ سال لگے…آخر ایک دن وہ بازار ویران ہوگیا…..اور طارق جمیل صاحب نے وہ جگہ خرید کر مدرسے کےلیے وقف کردی. اس سب مساعی کے باوجود طارق جمیل میرا آئیڈیل نہیں ہے- وہ ایک انسان محض ہے-

اس میں بے شمار عیوب بھی ہیں….میری آئیڈیل شخصیت وہی ہے جنہیںتاج نبوّت نوازنے سے کئ سال پہلے خالق کائنات نے شق صدر کر کے ، ان تمام کمزوریوں سے پاک فرمادیا تھا جو عام انسانوں میں ہوتی ہیں ….لیکن مجھے فخر ضرور ہے کہ میرے آقا (ص) کا پندھرویں صدی کا امتی طارق جمیل جیسا ہےنعرے بازی…احتجاج….کافر کافر….تبرا بازی……تو سب کرتے ہیں….کاش کوئ مصلح بھی ہو …

جو اسی حکمت و بصیرت سے معاشرے کا گند صاف کرے جس طرح چودہ سوسال پہلے میرے آقا نے اس بدو کا گند صاف کیا تھا جس نے مسجد میں پیشاب کردیا تھا- !!اللہ تعالیٰ آپ کو اور هم سب کو توفیق دے کہ هم اپمے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےنقشے قدم پر چلتے ہوئے ایسا کام کرے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم هم سے راضی ہو جائے آمین الله رب العزت مولانا صاحب کو صحت وتندرستگی کےساتھ لمبی عمر عطاء فرماۓ.اورھمیں دین پرچلنے والا بناۓ آمین الله رب العزت پوسٹ کرنے والے پر, پڑھنے والے پر اور تمام احباب پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے(تحریر : عاصم ایاز)

انسان رات کی تاریکی میں خوف کیوں محسوس کرتا ہے؟

انسان رات کی تاریکی میں خوف کیوں محسوس کرتا ہے؟
منگل‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2018 | 21:46
جیسے جیسے رات کی تاریکی چھانے لگتی ہے ویسے ہی بعض انسانوں کے دلوں اور ذہن پر پر خوف کے سائے پھیل جاتے ہیں اور اندھیرے میں نکلتے ہی دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے اور ایسے میں کئی خوف انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔اسی خوف پر چین میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انسان کے اندر یہ خوف

اندھیرے کا نہیں بلکہ رات کا ہوتا ہے اسی لیے دن میں تاریکی کے باوجود انسان خوفزدہ نہیں ہوتا۔چین کی یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق کیلئے 120 خواتین کا

انتخاب کیا اور انہیں 4 اوقات دن کی روشنی، دن کی تاریکی، رات کی تاریکی اور رات کی گہری تاریکی سے گزارا گیا اور ان کو کمپیوٹر اسکرین پر 100 فیصد خوف زدہ کردینے والی مناظر اور 50 عام مناظر دکھائے گئے جب کہ اس دوران کمرے کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہوئے نفسیاتی ڈیٹا کو ناپا گیا جیسے پسینے کا نکلنا جو کہ اسکن کونڈکٹینس ٹیسٹ کے ذریعے جانچا گیا

جب کہ دل کی دھڑکن کو بھی سامنے رکھا گیا۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ عام تصاویر، دن اور رات کے درمیان میں آنے والی آوازوں پر شامل تحقیق میں خواتین نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا جب کہ خوفناک تصاویر دیکھ کر ان ہی خواتین نے رات کے وقت زیادہ خوف کا اظہار کیا جب کہ دن میں یہ خوف کچھ کم محسوس کیا گیا۔تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ انسان کے دل میں تاریکی کا نہیں بلکہ رات کا خوف طاری ہوتا ہے اسی لیے کمرے میں ہونے کے باوجود رات میں آنے والی آوازیں اور ذہن میں بننے والی تصاویر اس کے خوف کو اور بھی بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق رات میں انسانی جسم کا موڈ بہت حساس ہوجاتا ہے جو آپ کو محتاط بنا دیتا ہے اور ہلکی سے جنبش سے بھی جسم کسی انجانے خوف سے ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی سائیکل ہمارے ذہنوں میں موجود خوف کو نسل در نسل منتقل کرتا ہے اسی لیے ہمارے آباؤاجدا آج کے مقابلے میں ماضی میں زیادہ خطرناک وقت میں زندگی گزارتے تھے اسی لیے وہ رات کی تاریکی میں خوف محسوس کرتے تھے۔

تحقیق یہ بات ثابت ہوئی کہ رات میں خوف کے سگنل زیادہ ابھرتے ہیں جوذہن کے حساس حصوں میں خوف کے ردعمل کو بڑھا دیتے ہیں اور یوں انسان رات میں زیادہ ڈر اور خوف محسوس کرتا ہے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکی سائنسدانوں نے انسانی ذہن کے اس حصے کا پتا چلایا تھا جو خوف پیدا کرتا ہے یا اسے کنٹرول کرتا ہے جب کہ یہ حصہ نیوران کلسٹر کے ذریعے کام کرتا ہے۔

انسان رات کی تاریکی میں خوف کیوں محسوس کرتا ہے؟

انسان رات کی تاریکی میں خوف کیوں محسوس کرتا ہے؟
منگل‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2018 | 21:46
جیسے جیسے رات کی تاریکی چھانے لگتی ہے ویسے ہی بعض انسانوں کے دلوں اور ذہن پر پر خوف کے سائے پھیل جاتے ہیں اور اندھیرے میں نکلتے ہی دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے اور ایسے میں کئی خوف انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔اسی خوف پر چین میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انسان کے اندر یہ خوف

اندھیرے کا نہیں بلکہ رات کا ہوتا ہے اسی لیے دن میں تاریکی کے باوجود انسان خوفزدہ نہیں ہوتا۔چین کی یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق کیلئے 120 خواتین کا

انتخاب کیا اور انہیں 4 اوقات دن کی روشنی، دن کی تاریکی، رات کی تاریکی اور رات کی گہری تاریکی سے گزارا گیا اور ان کو کمپیوٹر اسکرین پر 100 فیصد خوف زدہ کردینے والی مناظر اور 50 عام مناظر دکھائے گئے جب کہ اس دوران کمرے کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہوئے نفسیاتی ڈیٹا کو ناپا گیا جیسے پسینے کا نکلنا جو کہ اسکن کونڈکٹینس ٹیسٹ کے ذریعے جانچا گیا

جب کہ دل کی دھڑکن کو بھی سامنے رکھا گیا۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ عام تصاویر، دن اور رات کے درمیان میں آنے والی آوازوں پر شامل تحقیق میں خواتین نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا جب کہ خوفناک تصاویر دیکھ کر ان ہی خواتین نے رات کے وقت زیادہ خوف کا اظہار کیا جب کہ دن میں یہ خوف کچھ کم محسوس کیا گیا۔تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ انسان کے دل میں تاریکی کا نہیں بلکہ رات کا خوف طاری ہوتا ہے اسی لیے کمرے میں ہونے کے باوجود رات میں آنے والی آوازیں اور ذہن میں بننے والی تصاویر اس کے خوف کو اور بھی بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق رات میں انسانی جسم کا موڈ بہت حساس ہوجاتا ہے جو آپ کو محتاط بنا دیتا ہے اور ہلکی سے جنبش سے بھی جسم کسی انجانے خوف سے ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی سائیکل ہمارے ذہنوں میں موجود خوف کو نسل در نسل منتقل کرتا ہے اسی لیے ہمارے آباؤاجدا آج کے مقابلے میں ماضی میں زیادہ خطرناک وقت میں زندگی گزارتے تھے اسی لیے وہ رات کی تاریکی میں خوف محسوس کرتے تھے۔

تحقیق یہ بات ثابت ہوئی کہ رات میں خوف کے سگنل زیادہ ابھرتے ہیں جوذہن کے حساس حصوں میں خوف کے ردعمل کو بڑھا دیتے ہیں اور یوں انسان رات میں زیادہ ڈر اور خوف محسوس کرتا ہے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکی سائنسدانوں نے انسانی ذہن کے اس حصے کا پتا چلایا تھا جو خوف پیدا کرتا ہے یا اسے کنٹرول کرتا ہے جب کہ یہ حصہ نیوران کلسٹر کے ذریعے کام کرتا ہے۔

پاکستان کی حساس معلومات تک رسائی کیلئے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیزنے انوکھا طریقہ اختیار کر لیا، وفاقی دارالحکومت میں قائم سفارتخانوں میں کونسے آلات نصب ہیں، سرکاری افسران کو کس چیز کے استعمال سے فوری طور پر منع کر دیا گیا؟

پاکستان کی حساس معلومات تک رسائی کیلئے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیزنے انوکھا طریقہ اختیار کر لیا، وفاقی دارالحکومت میں قائم سفارتخانوں میں کونسے آلات نصب ہیں، سرکاری افسران کو کس چیز کے استعمال سے فوری طور پر منع کر دیا گیا؟
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 15:08
اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون میں دشمن ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی طرف سے حساس معلومات اکٹھی کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،کابینہ ڈویژن نے سرکاری افسران کیلئے موبائل فون پرگفتگو سے متعلق ایڈوائزری جای کر دی اور کہاکہ ریڈ زون میں واقع سرکاری دفاتر کے افسران موبائل فون کا کم سے کم استعمال کریں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون میں دشمن ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی طرف سے حساس معلومات اکٹھی کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،م کابینہ ڈویژن نے سرکاری افسران کیلئے موبائل فون پرگفتگو سے متعلق ایڈوائزری جای کر

دیریڈ زون میں واقع سرکاری دفاتر کے افسران موبائل فون کا کم سے کم استعمال کریں، ذرائع کے مطابق اس ڈپلومیٹک انکلیو میں بعض سفارت خانوں میں انکی انٹیلیجنس ایجنسیز نے موبائل فون ٹیپ کرنے کے آلات نصب رکھے ہیں،

دشمن ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیز پاکستان سے حساس معلومات اکھٹی کر رہی ہیں،ذرائع کے مطابق پاکستان کے سرکاری حکام کے موبائل فون کی گفتگو اور ایس ایم ایس کو مانیٹر کیا جارہا ہے،ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے سرکاری افسران کیلئے موبائل فون پرگفتگو سے متعلق ایڈوائزری جای کر دی اور کہا کہ ریڈ زون میں واقع سرکاری دفاتر کے افسران موبائل فون کا کم سے کم استعمال کریں، ایڈوائزری میں کہاگیاکہ موبائل فون پر حساس نوعیت کی گفتگو سے بھی اجتناب کیا جائے،خفیہ اور حساس نوعیت کی معلومات کے تبادلے کیلئے ایس ایم ایس کا استعمال نہ کیا جائے،

دشمن ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیز پاکستان سے حساس معلومات اکھٹی کر رہی ہیں،ذرائع کے مطابق پاکستان کے سرکاری حکام کے موبائل فون کی گفتگو اور ایس ایم ایس کو مانیٹر کیا جارہا ہے،ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے سرکاری افسران کیلئے موبائل فون پرگفتگو سے متعلق ایڈوائزری جای کر دی اور کہا کہ ریڈ زون میں واقع سرکاری دفاتر کے افسران موبائل فون کا کم سے کم استعمال کریں،ایڈوائزری میں کہاگیا ہے کہ اہم اور حساس نوعیت کی معلومات کے تبادلے کے لئے لینڈ لائن فون کا استعمال کیا جائے ۔

نواز شریف کیخلاف تمام مقدمات ختم، کیا کوئی ڈیل ہو رہی ہے؟ شیخ رشید نے اندر کی خبر دیدی، بڑا دعویٰ کر دیا

نواز شریف کیخلاف تمام مقدمات ختم، کیا کوئی ڈیل ہو رہی ہے؟ شیخ رشید نے اندر کی خبر دیدی، بڑا دعویٰ کر دیا
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 15:00
اسلام آباد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمدنے کہاہے کہ نواز شریف خاندان کی سیاست صفر ہو گئی ہے ،ان کو سیاست کا جذبہ ہوتا تو وہ پھر جی ٹی روڈ جاتے ، نواز شریف کے ساتھ کوئی این آر او نہیں ہو رہا ، این ا ٓر او کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔وہ بدھ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے

کہا کہ ریلوے کے بغیر کوئی سی پیک نہیں ہے ۔ کپتان نے مجھے یہاں کھلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نواز شریف خاندان کی

سیاست صفر ہو گئی ہے ۔ نواز شریف کو سیاست کا جذبہ ہوتا تو وہ پھر جی ٹی روڈ جاتے ۔ نواز شریف کے ساتھ کوئی این آر او نہیں ہو رہا ۔ این ا ٓر او کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بات کرتا ہوں اس لئے میری بات سنی جاتی ہے ۔

کیا آپ جانتے ہیں یہ نوجوان پائلٹ لڑکی کون ہےاور اس کا تعلق دنیا کے کس بڑے عرب ملک کے شاہی خاندان سے ہے؟ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

کیا آپ جانتے ہیں یہ نوجوان پائلٹ لڑکی کون ہےاور اس کا تعلق دنیا کے کس بڑے عرب ملک کے شاہی خاندان سے ہے؟ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 14:56
اسلام آباد آج کل کے دور میں لڑکیاں بھی لڑکوں سے کم نہیں اور زندگی کے ہر شعبے اور میدان میں برابری کرتی نظر آتی ہیں مگر عرب ممالک میں خواتین کی مردوں کی برابری کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے اور ایسے میں اگر ذکر ہو عرب ممالک کے حکمران خاندانوں کا جہاں خواتین کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں تاہم وہ نہ تو کوئی

پیشہ اختیار کر سکتی ہیں اور نہ ہی کسی سپورٹ یا شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہو سکتی ہیں ایسے میں دبئی کے حکمران خاندان سے تعلق رکھنی والی شہزادی شیخا

موزا بنت مروان بن محمد بن حشر المکتون ہیں جو کہ کسی بھی ملک کے حکمران خاندان میں پہلی کمرشل پائلٹ ہیں۔ شیخا موزا بنت مروان بن محمد بن حشر المکتون کا تعلق دبئی کے شاہی خاندان سے ہے اور ان کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ جہاز اڑاتے ہوئے سپیکر پر طیارے کے مسافروں سے مخاطب ہیں۔ ویڈیو کلپ میں دیکھا سکتاہے کہ وہ مسافروں کو آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔

300ارب کی کرپشن، لوٹ مار،میگا پراجیکٹس میں کک بیکس ڈھکوسلہ نکلے، تحریک انصاف کی حکومت سرتوڑ کوششوں کے باوجود شریف فیملی کے خلاف ٹھوس ثبوت حاصل نہ کر سکی، وزیراعظم عمران خان نے کیا حکم دیدیا؟

300ارب کی کرپشن، لوٹ مار،میگا پراجیکٹس میں کک بیکس ڈھکوسلہ نکلے، تحریک انصاف کی حکومت سرتوڑ کوششوں کے باوجود شریف فیملی کے خلاف ٹھوس ثبوت حاصل نہ کر سکی، وزیراعظم عمران خان نے کیا حکم دیدیا؟
جمعرات‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2018 | 14:44
اسلام آباد تحریک انصاف کی حکومت سرتوڑ کوششوں کے باوجود شریف خاندان کے خلاف تاحال کرپشن کے ثبوت نہ ڈھونڈ سکی، شریف فیملی کی مبینہ کرپشن، کک بیکس یا کمیشن کے کیسز کے حوالے سے بھرپور کوششیں جاری ہیں کہ ٹھوس شواہد مل جائے، معروف صحافی انصار عباسی کی روزنامہ جنگ میں رپورٹ میں انکشافات۔

تفصیلات کے مطابق معروف صحافی انصار عباسی کی روزنامہ جنگ میں شائع ہونیوالی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بھرپور انداز سے کوشش کر رہی ہے کہ شریف فیملی کی مبینہ کرپشن، کک بیکس یا کمیشن

کے کیسز کے حوالے سے ٹھوس مواد مل جائے، حکمران جماعت شریف فیملی پر سرکاری خزانے کے 300؍ ارب روپے لوٹنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت نے خصوصی طور پر کوششیں شروع کر دی ہیں کہ شریف خاندان کیخلاف کرپشن کے کیسز تلاش کیے جائیں۔

نہ صرف مسلم لیگ ن کی حکومت کے کچھ پرانے لیکن اہم منصوبوں کے فارنسک آڈٹ کا حکم دیدیا گیا ہے بلکہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے اشارہ دیا ہے کہ گزشتہ حکومت کے تمام میگا پروجیکٹس کی بھی اسکروٹنی کی جائے گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں احتساب کیلئے سرکردہ مشیر بیرسٹر شہزاد اکبر نے رابطہ کرنے پر اس بات کی تصدیق کی کہ گزشتہ حکومت کے تمام میگا پروجیکٹس کا فارنسک آڈٹ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے اصرار کیا کہ حکومت کی احتساب کیلئے کوششیں کسی شخص کے حوالے سے مخصوص نہیں بلکہ اُن تمام کرپٹ افراد کیخلاف ہے جو سرکاری عہدوںپر رہے اور انہیں کرپشن کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ماتحت قائم کیے گئے اثاثہ ریکوری یونٹ نواز شریف سمیت اُن تمام افراد کے کیسز کا جائزہ لیں گے جن کے پاس پاکستان کے اندر اور باہر ایسے اثاثے ہیں جن کی وضاحت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ کا مرکز شریف فیملی نہیں لیکن جن کیخلاف تحقیقات ہو رہی ہے ان میں وہ شامل ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے حالیہ برسوں کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف پر قوم کے 300؍ ارب روپے لوٹنے کا الزام عائد کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے۔ پوچھنے پر بیرسٹر شہزاد اکبر نے اتنی بھاری رقم کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی کہ یہ رقم نواز شریف نے لوٹی ہے۔ پاناما پیپرز اور نہ ہی شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اور نیب کی جانب سے اس رقم کا ذخر کیا گیا ہے۔ پاناما جے آئی ٹی اور نیب نے بھی شریف فیملی کیخلاف کمیشن یا کک بیکس لینے کے شواہد پیش کیے اور نہ ہی ایسے الزامات عائد کیے۔

متنازع فیصلے کے ذریعے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو مجرم قرار دینے والی احتساب عدالت نے بھی تینوں کو کرپشن کے ذریعے پیسہ بنانے کے الزام سے بری قرار دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پی ٹی آئی کس طرح شریف خاندان پر الزامات عائد کرتی رہی ہے، عمران خان کی حکومت نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کیخلاف بھرپور انداز سے مبینہ کک بیکس اور کمیشن کے ذریعے کرپشن کے ٹھوس شواہد تلاش کر رہی ہے۔ گزشتہ اتوار کو پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے

وزیراعظم نے گزشتہ حکومت کے تمام بڑے منصوبوں کا فارنسک آڈٹ کرانے کا معاملہ اٹھایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم نے وزراء سے یہ بھی کہا کہ وہ گزشتہ حکومت کی زبردست کرپشن کو بے نقاب کریں۔ قبل ازیں، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں، پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا تھا کہ میٹرو پروجیکٹس کا فارنسک آڈٹ کرایا جائے گا۔ یہ تجویز پیش کی گئی کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے 2013ء سے 2018ء کے درمیان شروع کیے گئےٹرانسپورٹ کے بڑے منصوبوں کا خصوصی آڈٹ اے جی پی اور متعلقہ صوبائی حکومتیں کریں

گی، تاہم یہ تجویز مسترد کر دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس کی بجائے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کو دیا جائے اور اسی کے ذریعے ان پروجیکٹس کا فارنسک آڈٹ کرایا جائے۔ کابینہ کے اسی اجلاس کے دوران اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مسلم لیگ ن کی انتظامیہ نے مرکز میں کئی بڑے منصوبے شروع کیے تھے جن میں بھاری اخراجات کرتے ہوئے قومی خزانے پر بوجھ ڈالا گیا۔ ماضی میں اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے پی ٹی آئی شریف فیملی پر ان پروجیکٹس میں کمیشن اور کک بیکس کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ عمران خان یہ کہتے تھے کہ یہ پروجیکٹس پیسہ بنانے کیلئے شروع کیے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر مملکت برائے کمیونیکیشن مراد سعید نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والے سابقہ حکومت کے 6؍ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی مالیت میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ جب مراد سعید اپوزیشن میں تھے تو ایک عوامی اجتماع کے دوران انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وزیراعظم پاکستان بننے کے 24؍ گھنٹوں کے اندر ہی عمران خان غیر ملکی بینکوں میں جمع کیے گئے 200؍ ارب ڈالرز پاکستان واپس لائیں گے۔