ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ

ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 19:07
بغداد ﭘﺮ ﺗﺎﺗﺎﺭﯼ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ، ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮔﺸﺖ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺠﻮﻡ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ؟ﺟﻮﺍﺏ ﺁﯾﺎ : ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺧﺘﺮِ ﮨﻼﮐﻮ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺗﺎﺗﺎﺭﯼ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻻ ﺣﺎﺿﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ :

ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ؟ﻋﺎﻟﻢ : ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟ﻋﺎﻟﻢ : ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﺱ

ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭺ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟ﻋﺎﻟﻢ : ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ -ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟ﻋﺎﻟﻢ : ﻧﮩﯿﮟﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﮐﯿﺴﮯ؟ﻋﺎﻟﻢ : ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ؟ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﮨﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯﻋﺎﻟﻢ : ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﯾﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮫ ﭼﮭﻮﮌﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﮨﺎﮞ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻋﺎﻟﻢ : ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﻮ ﻧﮑﻞ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﮞ ، ﺍﻭﺭ

ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ، ﺗﻮ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺘﮯ ﺩﻭﮌﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ۔ﻋﺎﻟﻢ : ﻭﮦ ﮐﺘﮯ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﮭﯿﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ : ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻓﺮﺍﺭ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﮯ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮧ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ۔ﻋﺎﻟﻢ : ﺗﻮ ﺁﭖ ﺗﺎﺗﺎﺭﯼ ﻟﻮﮒ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺘﮯ ﮨﯿﮟ؛ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺩﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮩﺞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺗﺐ ﺗﮏ ﺧﺪﺍ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺩﻭﮌﺍﺋﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ ، ﺗﺐ ﺗﮏ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﻣﻦ ﭼﯿﻦ ﺗﻢ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯿﮯ ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ؛ ﮨﺎﮞ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻏﻮﺭﻭﻓﮑﺮ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ

معدے کے امراض کے اسباب اور علاج

معدے کے امراض کے اسباب اور علاج
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 18:29
انسانی جسم ایک خود کار مشین ہے، قدرت نے اس طرز پر بنایا ہے کہ ہر عضو اپنا کردار اور کام اپنی حدود میں بغیر کسی مزاحمت کے کرتا ہے۔ جب انسان اپنی غلطی، غفلت اور مسائل کی وجہ سے ان اعضأ اور جسم کی ضروریات کے مطابق ان کا خیال نہیں رکھتا تو پریشانیاں اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ معدہ انسانی جسم کا ایک اہم

حصہ ہے۔ انسانی جسم میں توانائی، حرکت اور نشو و نما کی بنیادیں اسی میں ہوتی ہیں۔ انسان جو کچھ کھاتا ہے، اسے کھا کر چبانا، ہضم کرنا اور پھر سے

جسم انسانی کا حصہبنانا یہ سب کام معدہ اور اس کے معاون اعضا ہی کرتے ہیں۔ نشاستے، لحمیات، حیاتین اور معدنیات انسان کی خوارک کا حصہ ہیں، ان اجزأ کا ایک فیصد استعمال ہوتا ہے اور باقی ناقابلِ ہضم اجزأ معدہ جسم سے خارج کرتا ہے۔ خوراک ہضم کرنے میں لعاب کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر

لعاب ٹھیک نہ ہو تو نظامِ انہضام میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس مضمون میں کوشش ہے کہ اسے عام فہم انداز میں پیش کروں تا کہ ہر پڑھنے والے کو فائدہ پہنچے اور اسے اپنے معدہ کی اصلاح میں مدد ملے۔ معدہ کی تکالیف میں عمومی طور پر ورمِ معدہ، نظامِ ہضم کی خرابیاں، بھوک نہ لگنا، پیٹ میں ریاح ، گیس، تبخیر، انتڑیوں کا سکڑ جانا اور السر یعنی معدہ کے زخم وغیرہ شامل ہیں۔ معدہ کا ورم جب حادّ ہو جائے تو معدہ کا داخلی حصہ اور دیواریں سرخ اور سوجی ہوئی حالت میں تبدیل ہو جاتی ہیں ، اس سے معدہ کا درد، قے، متلی، سینہ کی جلن سمیت

کئی پریشان کن علامات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ معدہ کی ان بیماریوں کی وجہ سے انسان کا پورا جسم متاثر ہوتا ہے اور مزید کئی بیماریوں کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ سر کا درد، آدھے سر کا درد، نظر کی کمزوری، جگر کا تازہ خون کی پیدائش روک دینا، ہڈیوں کا درد، گردوں میں خرابیاں، وزن میں کمی، مردوں میں احتلام و جریان، خواتین میں لیکوریا اور ماہواری کی خرابیاں، نیند میں خرابی اور ذہنی انتشا ر و تناؤ۔۔ یہ سب وہ مسائل ہیں جن کا بالواسطہ یا

بلاواسطہ معدہ سے لازمی تعلق ہے۔ معدہ کی بیماریوں کے اسباب: معدہ کی بیماریوں میں معدہ کا ورم اور السر نمایاں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ فاسٹ فوڈ، غیر مسلم ممالک میں خنزیر جیسے جانور کا حرام گوشت، زیادہ تیل اور گرم کھانا، بازاری اچاری کھانے، سگریٹ نوشی، شراب و الکوحل ، بروقت نہ کھانا، جنسی عمل میں زیادتی، سوئے تغذیہ ( غذائی کمی یا لازمی غذائی اجزاء کا جذب نہ ہونا) عفونت جراثیمی، جیسے کہ ایچ پائلوری انفکشن، آنتوں کی

عفونت، نمونیا، مسمومیت غذائی، اینٹی بائیوٹک ادویات کا غلط استعمال، دافع درد انگریزی ادویات (ڈکلوفینک سوڈئیم، ڈکلوفینک پوٹاشئیم، آئیبو پروفین، انڈو میتھاسون، فینائل بیٹازون، کوٹیزون، اسپرین) اور کیمو تھراپی کے لئیے استعمال ہونے والی ادویات۔ انگریزی ڈاکٹر صاحبان دافع درد ادویات کے ساتھ احتیاطاً رینیٹیڈین، زینیٹیڈین اور اومپرازول استعمال کرواتے ہیں اس کا مقصد مریض کو ان ادویات کہ ممکنہ خطرات سے بچانا ہوتا ہے جو کہ معدہ کی تکایف کی صورت میں ہوتا ہے۔ ۔ جنسی ہارمون اور کورٹی سون کا استعمال السر پیدا کرسکتا ہے۔ شراب نوشی‘

تمباکونوشی اور تفکرات کے علاوہ صدمات بھی السر پیدا کرتے ہیں۔ جیسے کہ خطرناک نوعیت کے حادثات‘آپریشن‘ جل جانے اور دل کے دورہ کے بعد اکثر لوگوں کو السر ہوجاتا ہے۔ میں خود اس حالت میں مبتلا رہ چکا ہوں۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ صدمات چوٹ اور دہشت کے دوران جسم میں ایک ہنگامی مرکب ہسٹامین پیدا ہوتا ہے یہ وہی عنصر ہے جو جلد پر حساسیت کا باعث ہوتا ہے۔ یقین کیا جارہا ہے کہ اس کی موجودگی یا زیادتی معدہ میں السر کا باعث ہوتی ہے۔ اسی مفروضہ پر عمل کرتے ہوئے السر کی جدید دواؤں میں سے سیمیٹیڈٰن بنیادی طور پر ہسٹامین کو بیکار کرتی ہے اور یہی اس کی افادیت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ ایسی خوراک جس میں ریشہ نہ

ہو۔ جیسے کہ خوب گلا ہوا گوشت۔ چھنے ہوئے سفید آٹے کی روٹی السر کی غذائی اسباب ہیں۔ اکثر اوقات السر خاندانی بیماری کے طور پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔ آپس میں خونی رشتہ رکھنے والے متعدد افراد اس میں بیک وقت مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ ان میں تکلیف وراثت میں منتقل ہوتی ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بودوباش کا اسلوب‘ کھانا پینا یا عادات ایک جیسی تھیں۔ اس لیے ان کو السر ہونے کے امکانات دوسروں سے زیادہ رہے50فیصدی مریضوں کو السر معدہ کے اوپر والے منہ کے قریب ہوتا ہے وہ اسباب جو معدہ

میں زخم پیدا کرتے ہیں وہ بیک وقت ایک سے زیادہ السر بھی بنا سکتے ہیں لیکن 90فیصدی مریضوں میں صرف ایک ہی السر ہوتا ہے۔ جبکہ 10-15فیصدی میں ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔ اس پر حکمأ اور معالجین متفق ہیں کہ السر کے متعدد اقسام جلد یا بدیر کینسر میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے پر یہ پھٹ جاتا ہے، عموماً مریض کو اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب قے کے ساتھ خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے پھٹنے میں شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور دافع درد ادویات کا اہم کردار ہوتا ہے۔ السر

کی تمام پیچیدگیاں خطرناک ہوتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی علامت یا پچید گی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ السر کا مریض زندگی سے مایوس، پریشان و بے چین اور اعصابی تناؤ کا شکار رہتا ہے، میرا ذاتی تجربہ ہے کہ لمبی چوڑی تنخواہوں اور وی آئی پی کلچر میں رہنے والوں کو جب یہ بیماری لاحق ہوئی تو صحت کے ساتھ ساتھ سب کچھ برباد اور تباہ ہو گیا۔ اس مختصر مضمون میں معدہ کے امراض کے اسباب و علاج مکمل لکھنا ممکن نہیں،

آگہی اور علاج میں معاونت مقصود ہے۔ جس کسی کو بھی یہ تکلیف محسوس ہو اسے چاہیئے کہ فی الفور کسی مستند طبیب سے رجوع کرے۔ آپ کے آس پاس میں بہت سارے نیم حکیم آپ کو ملیں گے، تعویذ اور دم والوں کی بھی بھرمار ہو گی مگر یاد رکھیں علاج کروانے کی ترغیب ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ نے دی ہے۔ اس علاج میں کچھ میڈیکل ٹیسٹ بھی کروانے پڑتے ہیں۔ اس لئیے کسی منجھے ہوئے حکیم یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں، دم اور تعویذ کے چکر میں پڑ کر اپنا وقت برباد نہ کریں ۔ اولیأ کاملین کی دعا اثرات سے بھرپور ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ امراض معدہ کا آسان علاج: میری عادت ہے کہ میں انٹرنیٹ یا اخباری مضامین میں

کوئی نسخہ یا علاج نہیں لکھتا کیونکہ اگر پڑھنے والے کی سمجھ میں نہ آئے تو نسخہ کی ترکیب و استعمال کے غلط ہو جانے سے زبردست نقصان کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔ عمومی طور پر میں میڈیا کے ذریعہ نسخہ جات کی بجائے خواراک سے علاج کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہاں کچھ علامات کے ساتھ آسان علاج پیش کرتا ہوں تاہم گذارش ہے کہ اگر کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو اس وقت تک استعمال نہ کرے جب تک مجھ سے یا کسی اچھے طبیب سے مشاورت نہ کر لیں۔ نسخہ نمبر1: اگر سر میں درد رہتا ہے، پاخانہ وقتِ مقررہ یا معمول میں نہیں ہے، نیند کی زیادتی ہے تو کسی اچھے دواخانے کی بنی ہوئی اطریفل زمانی ناشتہ کے بعد ایک چھوٹا چمچ پانی کے ساتھ کھائیں۔ رات

سونے سے قبل چار عدد انجیر نیم گرم دودھ کے ساتھ۔ صبح نہار منہ زیادہ سے زیادہ تازہ پانی پئیں۔ نسخہ نمبر 2: اگر سر میں درد، جسم میں تھکاوٹ کمزوری، قبض اور پاخانہ درد وجلن کے ساتھ ہو یعنی بواسیر کی علامات ظاہر ہو رہی ہوں یا پاخانہ میں خون خارج ہوتا ہو تو جوارش جالینوس ایک چھوٹا چمچ رات کے کھانے کے بعد پانی کے ساتھ، جوارش کمونی ناشتہ کے بعد ایک چھوٹا چمچ پانی کے ساتھ۔ چار عدد انجیر دوپہر کے کھانے کے بعد نیم گرم دودھ کے ساتھ۔ مدت علاج دو مہینے۔ نسخہ نمبر 3: معدہ کی تکالیف کی وجہ سے نظر اور دماغ کمزور ہو گیا ہو، قبض کا احساس ہو اور کھانا ہضم نہ ہوتا ہو، سر میں درد، چکر ، آدھے سر کا درد ہو تو ایسی علامات میں شربتِ فولاد دو چمچ صبح شام، اطریفل اسطخودوس رات میں ایک چھوٹا چمچ، مربہ ہریڑ چار عدد نیم گرم دودھ کے ساتھ

رات میں۔ مدت علاج دو ماہ۔ نسخہ نمبر 4: اگر سینہ میں جلن، تبخیر، قے اور معدہ میں درد کا احساس ہو تو یہ علامات بنیادی طور پر السر کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اس کی تشخیص براہِ راست مشاورت اور چیک اپ کے بغیر نا ممکن ہے۔ اس لئیے اپنے طبیب سے ضرور ملیں۔ کچھ مفید تراکیب و علاج یہ ہیں کہ ایسے مریض کو ہلدی کے زیرو سائز کیپسول بنا کر دیں، دو کیپسول صبح شام پانی کے ساتھ۔ زیادہ سے زیادہ مائع خوراک بشکل دودھ، جوس اور صاف پانی دیں۔ میٹھا اور ترش چیزوں سے پرہیز۔ پرہیز: معدہ کی بیماریوں میں مبتلا تمام مرد و عورتیں ہر قسم کی ترش کھٹی ، گھی، مرچ مسالہ، گوشت اور بازاری خوارک سے بچیں۔ فاسٹ فوڈ کو خود کے لئیے حرام سمجھیں۔ سگریٹ نوشی کسی زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ شادی شدہ خواتین و حضرات جنسی عمل میں اعتدال برتیں۔ خوراک: نہار منہ صاف تازہ پانی، ٹھنڈا دودھ، جوس، پھل، ہرے پتے والی سبزی، ریشہ دار غذائیں، انجیر اور ہریڑ کا استعمال کریں۔

امام غزالیؒ کے بھائی ان کے پیچھے نمازکیوں نہیں پڑھتے تھے ‎‎؟‎

امام غزالیؒ کے بھائی ان کے پیچھے نمازکیوں نہیں پڑھتے تھے ‎‎؟‎
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 18:27
محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ اور احمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ دو بھائی تھے یہ اپنے لڑکپن کے زمانے میں یتیم ہوگئے تھے ، ان دونوں کی تربیت ان کی والدہ نے کی ان کے بارے میں ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ماں ان کی اتنی اچھی تربیت کرنے والی تھی کہ وہ ان کو نیکی پر لائیں حتیٰ کہ عالم بن گئے مگر دونوں بھائیوں کی طبیعتوں میں فرق

تھا ۔امام غزالی رحمتہ ا…للہ علیہ اپنے وقت کے بڑے واعظ اور خطیب تھے اور مسجد میں نماز پڑھاتے تھےان کے بھائی عالم بھی تھے اور

نیک بھی تھے لیکنوہ مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے اپنی الگ نماز پڑھ لیا کرتے تھے توایک مرتبہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی والدہ سے کہا امی لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں تو اتنا بڑا خطیب اور واعظ بھی ہے اور مسجد کا امام ہے مگر تیرا بھائی تیرے پیچھے نماز نہیں پڑھتا امی آپ بھائی سے کہیں

وہ میرے پیچھے نماز پڑھا کرے ماں نے بلا کر نصیحت کی چنانچہاگلی نماز کا وقت آیا امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھانے لگے اور ان کے بھائی نے بھی پیچھے نیت باند لی لیکن عجیب بات ہے کہ جب ایک رکعت پڑھنے کے بعد دوسری رکعت شروع ہوئی تو ان کے بھائی نے نماز توڑ دی اور نماز کی جماعت سے باہر نکل آئے اب جب امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے نماز مکمل کی ان کو بڑی سبکی محسوس ہوئی وہ بہت زیادہ پریشان ہوئے لہٰذا مغموم دل کے ساتھ گھر واپس لوٹے ، ماں نے پوچھا بیٹا بڑے پریشان نظر آتے ہو کہنے لگے امی بھائی نہ جاتا تو زیادہ بہتر

رہتا ۔ یہ گیا اور ایک رکعت پڑھنے کے بعد دوسری میں واپس آگیا اور اس نے آکر الگ نماز پڑھی تو ماں نے اس کو بلایا اور کہا بیٹا ایسا کیوں؟ چھوٹا بھائی کہنے لگا میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے لگا پہلی رکعت انہوں نے ٹھیک پڑھائیمگر دوسری رکعت میں اللہ کی طرف دھیان کے بجائے ان کا دھیان کسی اور جگہ تھااس لئے میں نے ان کے پیچھے نماز چھوڑ دی اور آکر الگ پڑھ لی ۔ ماں نے پوچھا امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ سے کہ کیا بات ہے؟

کہنے لگے کہ امی بالکل ٹھیک بات ہے میں نماز سے پہلے فقہ کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا اور نفس کے کچھ مسائل تھے جن پر غور وخوض کر رہا تھا جب نماز شروع ہوئی تو پہلی رکعت میں میری توجہ الی اللہ میں گزری لیکن دوسری رکعت میں وہی نفس کے مسائل میرے ذہن میں آنے لگ گئے ان میں تھوڑی دیر کے لیے ذہن دوسری طرف متوجہ ہوگیا اس لیے مجھ سے یہ غلطی ہوئی تو ماں نے ایک وقت ایک ٹھنڈا سانس لیا اور کہا افسوس کہ تم دونوں

میں سے کوئی بھی میرے کام کا نہ بنا اس جواب کو جب سنا دونوں بھائی پریشان ہوئے ۔ امام غزالی رحمتہ اللہ نے تو معافی مانگ لی امی مجھ سے غلطی ہوئی مجھے تو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مگر دوسرا بھائی پوچھنے لگا امی مجھے تو کشف ہوا تھا اس لیے کشف کی وجہ سے میں نے نماز توڑ دی تو میں آپ کے کام کا کیوں نہ بنا؟تو ماں نے جواب دیا کہ “تم میں سے ایک تو نفس کے مسائل کھڑا سوچ رہا تھا اور دوسرا پیچھے کھڑا اس کے دل کو دیکھ رہا تھا ، تم دونوں میں سے اللہ کی طرف تو ایک بھی متوجہ نہ تھا لہٰذا تم دونوں میرے کام کے نہ بنے” نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

لڑکیوں کو کس عمر کے لڑکے سب سے زیادہ پسند آتے ہیں؟تحقیق نے تمام دعوے غلط ثابت کر دئیے

لڑکیوں کو کس عمر کے لڑکے سب سے زیادہ پسند آتے ہیں؟تحقیق نے تمام دعوے غلط ثابت کر دئیے
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 18:23
جس طرح لڑکیوں کو یہ تجسس ہوتا ہے کہ لڑکے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں بالکل ویسے ہی لڑکےبھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ لڑکیوں کو کس عمر کے لڑکے زیادہ پسند آتے ہیں۔ایک کتابDataclysmمیں بتایا گیا ہے کہ 20سال یا اس سے کچھ زائد عمر کی لڑکیوں کو اپنے سے بڑے عمر کے لوگ پسند ہوتے ہیں۔ لڑکوں کے

ساتھ عمر کا یہ فرق دو یا تین سال سے زائد کا ہوسکتا ہے۔ اس کتاب میں مختلف خواتین سے بات کی گئی ہےاور ان سے ان کی ترجیحات کے بارے میں جب سوال

کیا گیا توانہوں نےاپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کیا۔انٹرویوز میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکیوں کو اپنے سے کچھ زائد عمر کے لڑکوں میں دلچسپی ہوتی ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی

ہے کہ لڑکیاں چاہتی ہیں کہ جس لڑکے کو وہ پسند کریں اس کی شخصیت میں نکھار ہو اور ایسا صرف بڑی عمر کے لڑکے میں دیکھنے کو ملتا ہے جس کی وجہ سے لڑکیاں ان کی جانب متوجہ ہوتی ہیں۔ایک بار پھر یہ بتاناضروری ہے کہ یہ تجزیہ مختلف لوگوں سے بات کرکے مرتب کیا گیاہے لہذا ضروری نہیں کہ تمام لڑکے ،لڑکیوں پر یہ بالکل صحیح بیٹھے۔

نہ ولیوں کو

نہ ولیوں کو
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 18:17
حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ نے ایک مرتبہ دل میں خیال کیا کہ اگر شیطان سے ملاقات ہوجائے تو ایک سوال کروں گا اور انہوں نے ایک دن اللہ سے دعا بھی کردی کہ اے اللہ! کبھی شیطان سے ملاقات کرادے تاکہ اس سے سوال کرلوں‘ایک دن نماز پڑھ کر مسجد کے باہر نکلے تو ایک بوڑھا آدمی باہر کھڑا تھا‘ حضرت جنید رحمت اللہ

نے اس کو دیکھ کر کہا کہ کون ہو تم؟ کہنے لگا کہ میں وہی ہوں جس سے ملنے کی آپ کو آرزو اور تمنا تھی ‘حضرت سمجھ گئے کہ یہ اصل

میںشیطان ہےمیں شیطان ہے ‘ شیطان نے کہا کہ آپ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے؟ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ میرے ذہن میں تیرے متعلق ایک سوال ہے، سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تجھے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر تجھے کس

چیز نے اللہ کے حکم کی تعمیل سے منع کیا؟ کیوں تو نے سجدہ نہیں کیا، کیا اللہ کی عظمت کو نہیں جانتا تھا؟ ارے تجھے اللہ کی معرفت حاصل تھی‘ اللہ کی عظمتوں اور جلالتوں سے تو واقف تھا‘ اس قدر اللہ کی قربت رکھنے کے باوجود جب اللہ نے تجھے حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کر تو تونے آخر کیوں سجدہ نہیں کیا؟

اس پر شیطان کا جواب کیا تھا، وہ سننے کے قابل ہے‘ اس کے جواب نے کچھ دیر کے لیے حضرت جنید رحمت اللہ علیہ کے ہوش اڑادیے ‘ اس نے کہا کہ جنید! آپ جیسا توحید پرست آدمی اور یہ مشرکانہ سوال؟ آپ جیسا توحید پرست ایک اللہ کو ماننے والا‘ ایک اللہ کی پوجا کرنے والا اور آپ کے ذہن میں ایسا سوال آرہا ہے جو مشرکانہ ہے‘یہ سوال کہ میں نے غیر اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟ کہنے لگا کہ آدم تو غیر خدا تھے‘ خدا تو نہیں تھے‘ میں غیر اللہ کو کیوں سجدہ کرلیتا؟ آپ جیسا توحید پرست آدمی ایسا مشرکانہ سوال میرے سے کر رہا ہے‘ بڑے افسوس کی بات ہے۔

حضرت جنید رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب اس نے یہ بات مجھ سے کہی تو مجھے لگا کہ ہاں! یہ تو ٹھیک کہ رہا ہے اور پھر تھوڑی دیر کے لیے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرا ایمان سلب ہورہا ہے‘ اسلئے میں سناٹے میں پڑگیا‘ہوش و حواس باقی نہ رہے‘ میں سوچنے لگا کہ اس کو کیا جواب دے سکتا ہوں‘ اسلئے کہ جب وہ کہہ رہا ہے کہ تم ایک اللہ کو ماننے والے ہو اور مجھے پوچھتے ہو کہ آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟ حضرت جنید رحمتہ اللہ

کہتے ہیں کہ میرے ذہن میں جواب نہیں آیا‘فوراً اللہ کی طرف سے الہام ہوا اور مجھ سے کہا گیا کہ اس سے یہ پوچھو کہ حکم دینے والا کون تھا؟ حکم دینے والا جب خود کہہ رہا ہے کہ فلاں چیز کو سجدہ کرو تو توحید اسی کا نام ہے کہ اس کی بات کو مان لیا جائے‘ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس الہام کے بعد میرا ایمان برقرار ہوا ورنہ تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے ایمان میں تزلزل پیدا ہو گیا ہے۔

یہ ہے شیطان کی مکاری اورعیاری‘ نہ ولیوں کو چھوڑا‘ نہ غوث وقطب وابدال کو چھوڑا‘ نہ انبیائے کرام کو چھوڑا‘ غور کرو کہ شیطان باتوں اور چیزوں کو کس طرح مزین کرتا ہے اور گمراہ کر نے کی کوشش کرتا ہے ‘اس کا ذرا اندازہ اس واقعے سے آپ کر لیجیے‘ اس لئے کبھی بھی شیطان سے بے فکر نہیں ہونا چاہیے‘ شیطان کی عیاری اور مکاری سے بسااوقات انسان بے ایمان بھی ہو جاتا ہے لیکن اسے خبر نہیں رہتی کہ میں بے ایمان ہو گیا ہوں‘شیطان کفر کو مزین کردیتا ہے ‘اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفس اور شیطان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رکھے۔

جسم فروش خواتین جب بوڑھی ہوجاتی ہیں تو پھر کیا کرتی ہیں؟پہلی مرتبہ حیران کر دینے والی تفصیلات

جسم فروش خواتین جب بوڑھی ہوجاتی ہیں تو پھر کیا کرتی ہیں؟پہلی مرتبہ حیران کر دینے والی تفصیلات
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 18:03
جسم فروشی کی چکا چوند دنیامیں جوانی گرارنے والی بدقسمت خواتین پر جب بڑھاپا آ جاتا ہے تو بازار میں کوئی انہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ تب یہ کسی حال میں زندہ رہتی ہیں، اس کی ایک جھلک میکسیکو کے دارالحکومت میں قائم ایک خصوصی مرکز میں رہنے والی معمر خواتین کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے، جس کی مثال دنیا

میں کہیں اور نہیں مل سکتی۔اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق شہر کے مرکزی حصے میں زندگی کی چہل پہل اور رونق سے الگ تھلگ ایک پرانی اور بوسیدہ عمارتہے جس کے اندر

300 کے لگ بھگ معمر خواتین رہتی ہیں۔بظاہر تو یہ مرکز بھی معمر افراد کے لئے بنائے گئے کسی دوسرے مرکز جیسا ہے لیکن اس کی ایک خاص

بات یہ ہے کہ یہاں صرف وہی خواتین رہتی ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر جسم فروشی کرتے ہوئے گزاری ہے۔مغرب کے دیگر ممالک کی طرح میکسیکو میں بھی جسم فروشی کا کلچر بہت عام پایا جاتا ہے لیکن معاشی عدم استحکام اور عمومی سماجی بدحالی کی وجہ سے یہاں ان خواتین کو بہت برے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کی جوانی تو جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہوئے گزرجاتی ہے لیکن جب بڑھاپا آتا ہے تو انہیں کوئی سہارا میسر نہیں آتا۔ ان کی اکثریت کے حالات اس قدر قابل رحم ہو جاتے ہیں کہ یہ سڑکوں پر بھٹکتی اور برفانی راتوں

میں فٹ پاتھوں پر ٹھٹھرتی نظر آتی ہیں۔دارالحکومت کی سڑکوں پر بے سہارا پڑی ایسی درجنوں معمر خواتین کے حالات دیکھنے والی خاتون کارمن میونز نے بالآخر ان کے لئے ایک فلاحی مرکز قائم کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ خود بھی جسم فروشی کے شعبے سے منسلک تھیں اور اپنے جیسی دیگر خواتین کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھیں۔

کارمن کا کہناہے کہ انہیں یہ مرکز قائم کرنے کے لئے 20 سال تک جدوجہد کرنا پڑی جس کے بعد بالآخر حکومت نے شہر کے مرکزی حصے میں ایک عمارت ان کے لئے مختص کردی۔ کاشاشوکی کیٹزل کے نام سے شہر کے پرانے علاقے میں یہ مرکز 2006ءمیں قائم کیا گیا اور اب 300 سے زائد سابقہ فروش خواتین یہاں مقیم ہیں۔ یہ خواتین کہتی ہیں کہ وہ دنیا سے یوں الگ تھلک رہ رہی ہیں گویا کوڑھ کی مریض ہوں جن کے قریب آنا بھی کوئی پسند نہیں کرتا۔ لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ یہاں آنے کے بعد انہیں پہلی بار سکون اور تحفظ کا احساس ملا ہے۔

اگرچہ یہاں پہنچنے کے بعد ان میں سے اکثر ماضی کی زندگی سے نجات ملنے پر شکرگزار نظرآتی ہیں مگر کچھ ایسی بھی ہیں جو اب بھی کبھی کبھار ماضی کی یادیں تازہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن پھر مایوس کر واپس لوٹ آتی ہیں۔ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والی جسم فروش خواتین کے لئے قائم کئے گئے دنیا کے اس واحد مرکز کی اندرونی زندگی کے مناظر پہلی دفعہ فوٹوگرافر بینی ڈکٹ ڈیسرز دنیا کے سامنے لائی ہیں۔ انہوں نے میکسیکو میں جسم فروش خواتین پر تحقیق کرتے ہوئے 8سال صرف کئے اور اس تحقیق کی بنیاد پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔

عہد فاروقیؓ میں ایک نوجوان کو زنا کے جرم میں سزا کیلئے لے جایا جارہا تھا وہ نوجوان چلا چلا کر کہنے لگا میں بے گناہ ہوں ،حضرت علیٰؓ نے یہ سنا تو ۔۔!!! پڑھئے ایمان تازہ کردینے والا واقعہ

عہد فاروقیؓ میں ایک نوجوان کو زنا کے جرم میں سزا کیلئے لے جایا جارہا تھا وہ نوجوان چلا چلا کر کہنے لگا میں بے گناہ ہوں ،حضرت علیٰؓ نے یہ سنا تو ۔۔!!! پڑھئے ایمان تازہ کردینے والا واقعہ
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 18:00
اسلام آباد ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمرؓ کے عہد خلافت میں ایک لڑکے کو زنا کے جرم میں سزا دینے کیلئے لے جایا جارہا تھا(واضح رہے کہ اسلام میں شادی شدہ زانی کیلئے سنگسار اور غیر شادی شدہ کیلئے اسی کوڑے بطور سزا ہیں) وہ لڑکا اونچی اونچی آواز سے پکار رہا تھا کہ میں بے گناہ ہوں مجھے سزا نہ دی جائے ۔ حضرت علی ؓکا

وہاں سےگزر ہوا تو حضرت علیؓ نے اس لڑکے کی پکار سن کر سرکاریاہلکاروں کو روکنے کا حکم فرمایااور لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے؟لڑکے نے حضرت علیؓ سے کہا

کہ جناب! جس جرم نسبت میری طرف کی جارہی ہے وہ میں نے نہیں کیا ،دعویٰ کرنے والی میری ماں ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا اس کی سزا کو روک دیا جائے

میں اس کیس کو دوبارہ سن لوں ۔اگر یہ لڑکا گناہ گار ہوا تو تب سزا دینا۔دوسرے دن حضرت علیؓ نے عورت اور لڑکے کوعدالت میں طلب فرمایا لیا،عورت سے پوچھا کیا اس نے تیرے ساتھ غلط کام کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں، پھرحضرت علیؓ نےلڑکے سے پوچھا یہ عورت تیری کیا لگتی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ میری ماں ہے،عورت نے اسے بیٹا ماننے سے انکار کردیا ،

فیصلہ سننے کیلئے لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم جمع تھا،حضرت علیؓ نے فرمایا تو اچھا پھر اے عورت!میں اس لڑکے کا تیرے ساتھ اتنے حق مہر کے بدلے نکاح کرتا ہوں تو عورت چیخ اٹھی کہ اے علی ؓ!کیا کسی بیٹے کا ماں کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے؟ حضرت علیؓ نے استفسار فرمایا کہ کیا مطلب ؟تو اس عورت نے جواب دیا کہ اے علیؓ !یہ لڑکا تو واقعی میرا بیٹا ہے اس پر حضرت سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ کیا کوئی بیٹا اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کر سکتا ہے ؟ عورت نے کہا کہ نہیں ۔حضرت سیدنا علیؓ نے فرمایا تو پھر تونے اس اپنے بیٹے پر ایسا الزام کیوں لگایا؟ تو عورت نے جواب دیا ۔اے علیؓ! میری شادی ایک امیر کبیر شخص سے ہوئی تھی۔

اس کی بہت زیادہ جائیداد تھی یہ بچہ ابھی کمسن ،دودھ پیتا ہی تھا کہ میرا خاوند مر گیا،تو میرےبھائیوں نے مجھے کہا کہ یہ لڑکا تو اپنے باپ کی جائیداد کا وارث ہے اس کو کہیں چھوڑ آؤ میں اسے کسی آبادی میں چھوڑ آئی ،ساری جائیداد میری اور میرے بھائیوں کی ہوگئی ،یہ لڑکا بڑا ہوا تو ماں کی محبت نے اس کے دل میں انگڑائی لی ،یہ ماں

کو تلاش کرتا کرتا میرے تک پہنچ گیا میرے بھائیوں نے مجھے پھر ورغلایا کہ اس پر جھوٹا الزام لگا کر اس کی زندگی کا سانس ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے تو میں نے اپنے ہی بیٹے پر جھوٹا الزام اپنے بھائیوں کی باتوں میں آکر لگا دیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور بالکل بے گناہ ہے۔جب اس قضیٔے کا علم امیر المومنین،خلیفتہ المسلمین،خلیفۂ دوئم سیدنا عمر ابن خطاب ؓکو ہوا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اگر آج علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہوجاتا۔

مہمان اللہ کی رحمت

مہمان اللہ کی رحمت
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 17:58
اشرف صاحب تھکے ماندے گھر لوٹے تو دیکھا کہ اُن کابارہ سالہ بیٹا کاشف اپنی ماں سے اُلجھ رہا ہے۔ کیا ہوابھئی؟ آج موڈ خراب کیوں ہے؟ اُنہوں نے بیٹے سے پوچا۔ ہونا کیا ہے ، پاپا ! ابھی کچھ دن پہلے بڑی آنٹی اپنے بچوں کیساتھ دس بارہ دن ہمارے گھر پر رہ کر گئی ہیں۔آج ماما جان چھوٹی آنٹی کو فون پر کہہ رہی تھیں کہ ہمارے

پاسکب آرہی ہو؟ پھر کیا ہوا کاشف کے پاپا نے کہا۔ ہونا کیا ہے ، ہم ماما سے پاکٹ منی مانگیں تو دس روپے پکڑا دیتی ہیں۔اگر کہیں

کہ دس روپے سے کیا آتا ہے تو کہتی ہیں تمہارے پاپا پرائیوٹ کمپنی میں ملازم ہیں کوئی بنک کے مالک نہیں۔ بھئی مہنگائی کے اِس دور میں دس روپے بھی غنیمت ہے۔ وہ تو ٹھیک ہے آنٹی کے بچوں کو تو بیس بیس روپے دیتی ہیں۔ اور نان چنے ، دہی بھلے اور بریڈ بھی کھلاتی ہیں۔ کاشف نے جواب دیا۔ بھئی مہمان تو اللہ

کی رحمت ہوتے ہیں انکی خدمت کرنا پیارے آقاﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ بات تو آپکی ٹھیک ہےمگر اپنی پاکٹ بھی دیکھنی چاہئے آپ کی سیلر ی میں بیس ہزار روپے ہے اگر ان پر دوہزار خرچ کریں تو ظاہر ہے بجٹ خراب ہوگا اور مہینہ کے آخر پر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے۔ ”نوٹینشن! ادھار کا سلسلہ چلتا رہتا ہے جب سیلری آئیگیانہیں دے دیں گے․․․“ جو مہمان آتا ہے وہ اپنی قسمت اپنے حصے کا رزق ساتھ لیکر آتا ہے اور تمہیں پتہ ہے

بظاہر مہمان کے آنے سے بجٹ خراب ہوتا ہے مگر اسکے عوض اللہ تعالیٰ اُس گھر پررحمتوں کی بارش کردیتا ہے ، وہ بظاہر نظر نہیں آتیں مگر وہ گھرانہ خوش رہتا ہے، ایک مرتبہ ہمارے پیارے نبی حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا! اے میرے رب جب تو خوش ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مہمان بھیجتا ہوں۔ دوسری بار پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیٹیاں دیتا ہوں تیسری بار پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

بارش دیتا ہو․․․ آپ خود اندازہ لگاؤ جس گھرانے پر اللہ مہربان ہوتا ہے وہاں مہمان بھیجتا ہے، وہاں کا رزق پہلے بھیج دیتا ہے۔ وہ کیسے؟ پاپا میں سمجھا نہیں ۔ اچھا سنو۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ گھروں میں مہمان آنے پر خوشیاں منایا کرتے تھے اور یہ عالم ہواکرتا تھا کہ اگر مہمان کسی ایک گھر میں آتا تو پورے محلے کے گھرانے ایک ایک

کرکے مہمان کی تواضع کے متمنی ہوتے۔ مہمان دوسرے گھرانے کی دعوت قبول کر لیتا تو اُس گھر میں خوشی کی لہڑ دوڑ جاتی۔ کسی مجبوری کی وجہ سے وہ دعوت قبول نہ کرتا تو اچھے اچھے پکوان پکا خود اُس کے گھر میں پہنچائے جاتے تھے۔ کیا اچھا زمانہ تھا اور کیا اچھے لوگ تھے۔ زمین پر بچھی چٹائی پر دسترخوان لگتا تھا۔ جس پر مکئ یا جوار کی روٹی، لسی کا گلاس اور مکھن رکھ دیا جاتا تھا

اور اگر․․․پاپا جان آج کونسا دودھ لسی مکھن کا دورہے ،پیزا برگر کا دور ہے۔بھئی وقت وقت کی بات ہے اچھا ایک اور واقعہ سنو:پیارے آقاﷺ کے دور میں ایک خاتون نے آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش ہوکر عرض کی کہ اسکا شوہر روزکئی مہمانوں کو لیکر آتا ہے۔ اُس نے انکی خدمت نہیں ہوسکتی۔ آپ ﷺ نے اُس خاتون کی بات سن لی ۔ اُسے کچھ نہ کہا۔ کچھ دنوں بعد آپ ﷺ نے اسکے شوہر سے کہا وہ اُن کے گھر مہمان بن کر آنا چاہتے ہیں کیونکہ

اس شخص نے جب اپنی بیوی کو بتایا تو اُس خاتون خانہ کوبے حد خوشی ہوئی۔ اُس نے سوچا کہ میں نے جو پیارے آقاﷺ سے شکایت کی تھی شاید میرے شوہر کو سمجھانےآرہے ہیں کہ مہمان نہ لایا کرو۔ تاہم پیارے نبی ﷺ نے کھانا تناول فرمایا اور صحابی سے کہا کہ میں جب گھر سے جاؤں گا تو تمہاری بیوی مجھے جاتا ہوئے دیکھے۔ جب آپ ﷺ تشریف لے گئے

تو اُس خاتون خانہ نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے پیچھے حشرات اور بلائیں بھی گھر سے باہر جارہی ہیں۔ آپ ﷺ نے اُس گھرانے کو درس عظیم دیتے ہوئے کہا کہ جب مہمان گھر سے روازنہ ہوتے ہیں تو اُن کی برکت سے گھر میں موجود بلائیں بھی گھر سے چلی جاتے ہیں۔ اسلئے۔ مہمان کی قدر و منزلت کرنے چاہیے ۔ سبحان اللہ ! کاشف کے منہ سے نکلا۔سوری پاپا جان اب میری سمجھ میں آگیا کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔اب میں خود چھوٹی آنٹی کو فون کرکے کہتا ہوں کہ وہ ہمارے گھر․․․․․مہینہ بھر رہیں․․․․․․ننھی سحرش نے کہا سبھی مسکرانے لگ

جب بھی کوئی غم یا پریشانی آئے تو قرآن کے یہ 2 لفظ پڑھنا شروع کر دیں ۔۔ہر حاجت پوری ہو گی

جب بھی کوئی غم یا پریشانی آئے تو قرآن کے یہ 2 لفظ پڑھنا شروع کر دیں ۔۔ہر حاجت پوری ہو گی
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 17:55
اسلام و علیکم میرے پیارے بہن بھائوں زندگی میں غم اور پریشانیاں تو ہر انسان پر آتی ہیں کبھی بھی ان غموں اور پرشانیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے جب بھی کوئی غم آئے کوئی پریشانی آئے فوراً اپنا سارہ غم اپنا سارا دکھرا اللہ رب العزت کو سنایئں۔ اسی طرح غموں اور پرشانیوںکو ٹالے کےلئے خود اللہ پاک نے قرآن پاک میں سورۃ الكهف

میں فرمایا۔ “اللہ کوپکارو اُس کے سفاتی ناموں کےساتھ” اسی طرح اللہ تعالیٰ کے2سفاتی نام ’’یا قادر یا نافع ‘‘جو بڑا اثر رکھتے ہیں اور جو شخص دل کی گھہرائوں سے ان ناموں

کو پڑھے گا انشااللہ ہر حاجت پوری ہو گیسورتہ یٰسین کی ایک آیت کا کمال شوہر بیوی کی محبت میں دیوانہ بیوی کو جی جی کرکے بلائے گا۔شوہر کی محبت حاصل کرنے لے لیے سورت یٰسین کی ایک آیت کا بہت کمال کا عمل بتانے جارہے ہیں اگر شوہر عمل کرلے تو بیوی اس کی تابع ہوگی۔ اور اگر بیوی یہ عمل کرلے تو شوہر اس کا تابع ہوگا بہت ہی آسان ساوظیفہ ہے اگر آپ ایک دوسرے کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تو آج ہی یہ عمل کریں نتیجہ دیکھ کر آپ ہمیں دعائوں میں یادر رکھیں گے۔ وظیفہ کرنے کا طریقہ سورتہ یٰسین کے ہر مبین: حَسبُنَا اللہ وَنعم الوَکِیل نعم المَولیٰ وَنعم النَصَیرُ450 بار پڑھنا ہے سات دن یہ وظیفہ کرنا ہے اور عمل کے اول و آخر تین بار درور شریف لازمی پڑھنا ہے۔ اگر آپ سورہ قریش ایک دفعہ پڑھیں گے تو اگرکھانے کے اندرزہربھی ملا ہوگا تو وہاثر نہیں کرے گا۔ کھانا فوڈ پوائزن نہیں بنے گااوروہ کھانا بیماری نہیں بنے گا، صحت بنے گا۔وہ کھانا اسے گناہوں کی طرف مائل نہیں کرے گا۔

نیکی کاذریعہ بنے گااورجو دوسری دفعہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ پاک جل شانہ اس کو ایسا دسترخوان سدا دیتا رہے گا ، بہترین، اچھے سے اچھا عطا فرماتے رہیں گے ظاہر ہے روزی سکھی ہوگی تو دسترخوان اچھا ہوگا اور جو تیسری مرتبہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ اس کی سات نسلوں کو بھی لاجواب لاجواب کھانے دسترخوان رزق دیتے رہیں گے۔آپ بھی آج سے ہی یہ پڑھیں زندگی میں تبدیلی آپ خود محسوس کریں گے

عجوہ کھجور کھجوروں کی سردار کیسے بنی ؟

عجوہ کھجور کھجوروں کی سردار کیسے بنی ؟
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 17:53
ایک حبشی جس کی ناک موٹی، آنکھیں چھوٹی ، رنگت سیاہ، چلتا تو لنگڑاہٹ نمایاں نظر آتی تھی بولتا تو زبان میں لکنت ، غلام ابن غلام باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چننے میں مصروف تھا، یہ کھجوریں نرم نہ تھیں اور ذائقہ میں بھی باقی کھجوروں سے مختلف جبکہ رنگ گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔جھولی میں آئی کھجوریں اس باغ

کا آخری پھل تھا وہ شہر میں انہیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر کوئی انکھجوروں کا طلبگار نہ تھا۔اسی اثنا میں ایک آواز آئی’’اے بلالؓ یہ کھجور تو تجھ جیسی کالی اور

خشک ہے‘‘۔دل اور خشک ہے‘‘۔دل کے آبگینے پر اک ٹھیس لگی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، سیدنا بلال ؓ کھجوریں جھولی میں ہی سمیٹ کر بیٹھ گئے۔ ایسے

میں وہاں سے اس کا گذر ہو جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے جس نے مسکینوں کو عزت بخشی وہ جس کا نام غمزدہ دلوں کی تسکین ہے، ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا تو سیدنا بلال ؓنے جھولی کھول کر سب ماجرہ کہہ سنایا۔رحمت اللعالمین ﷺ نے بازار کی جانب رخ انور موڑا اور آواز لگائی’’لوگو یہ کھجور ‘‘عجوہ‘‘ ہےیہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہے،

یہ فالج کے لیئے شفاء ہے،یہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہے،اور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے،پھر یہ کہہ کر بس نہیں کیا فرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے‘‘۔منظر بدل گیا وہ بلال رضی اللہ عنہ جس کے پاس چند لمحے پہلے تک جھاڑ جھنکار تھا اب رحمت اللعالمین ، نبی آخر الزمان ،رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے غنی کر دیا۔پھر راوی لکھتے ہیں کہ لوگ بلال کی منتیں کرتے اور بلال کسی مچلے ہوئے بچے کی مانند آگے آگے بھاگتے۔تاریخ گواہ ہے کہ وہ جسے کبھی دنیا جھاڑ جھنکار سمجھ رہی تھی بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں آ کر اورمصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ کا صدقہ آج بھی کھجوروں کی سردار ہے