ایک ارب پتی تاجر کی کہانی

ایک ارب پتی تاجر کی کہانی
منگل‬‮ 9 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:58
مہنگائی کتنی عظیم نعمت ہے اس کا اندازہ تم چھوٹے سے واقعے سے لگا لو ،یہ پاکستان کے ایک ارب پتی تاجر کی کہانی ہے۔انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا اور اس کے بعد گویا ہوئے ،یہ تاجر کبھی کسی دکاندار کے پاس ملازم تھا ،دکاندار اسے روزانہ دیتا تھا اور یہ دو ہزار روپوں کیلئے بارہ گھنٹے کام کرتا تھا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا

دور تھا‘ اس وقت دو ہزار روپے مناسب رقم تھی اور اس رقم سے درمیانے درجے کے گھرانے کا ٹھیک ٹھاک گزارا ہو جاتا تھا لیکن پھر ملک میں مہنگائی

کا ریلا آیا‘ضروریات کی تمام چیزوں کے ریٹس بڑھ گئے‘ اس کے گھرتین بچے بھی پیدا ہو گئے‘ ان بچوں کی ضروریات بھی بڑھ گئیں‘ والد اور والدہ بھی بیمار رہنے لگے اور مالک مکان نے بھی کرایہ بڑھا دیا‘ سائیکل پرانی ہو گئی اور اس کے خرچے بھی نکلنے لگے‘ بجلی کے ریٹس میں بھی اضافہ ہوگیا‘

ملک میں ٹی وی‘ واشنگ مشین اور فریجوں کا رواج بھی ہو گیا اور بیوی نے ان سہولتوں کیلئے ضد بھی شروع کر دی‘ مہمانوں کی آمد میں بھی اضافہ ہو گیا اور عزیز رشتے داروں کے بچے بھی شادیوں کی عمر میں پہنچ گئے چنانچہ دو ہزار روپے قلیل ہو گئے اور مسائل کثیر۔ اس نے مالک سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی لیکن مالک نے صاف انکار کر دیا یوں خاندان مسائل کے دباؤ میں آ گیا۔ اس وقت اس کی بیوی نے ایک نیا راستہ نکالا‘ اس نے گھر میں ردی کاغذوں اور اخبارات کے لفافے بنانا شروع کر دئیے‘

وہ اپنے بچوں کے ساتھ سارا دن لفافے بناتی‘ اس کا شوہر کام پر جاتے ہوئے یہ لفافے ساتھ لے جاتا اور بازار میں مختلف دکانوں پر بیچ دیتا۔ یہ کام چل نکلا جس کے نتیجے میں خاندان میں خوشحالی آ گئی‘ فریج بھی آ گیا‘ واشنگ مشین بھی اور بارہ انچ کا بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن بھی۔ یہ سہولتیں آئیں تو ان سہولتوں کا خرچ بھی آیا چنانچہ خاندان کو اب ماہانہ آٹھ‘ دس ہزار روپے چاہئے تھے‘ اس نے اس کا حل بھی دریافت کر لیا‘ یہ لوگ منوں کے حساب سے ردی کاغذ اور اخبارات خرید کر محلے کے مختلف گھروں میں تقسیم کر دیتے‘ محلے کی عورتیں اور بچے اپنے اپنے گھروں میں لفافے بناتے‘

یہ شخص لفافے جمع کرتا‘ یہ لفافے مارکیٹ میں بیچ دیتا‘ اپنی کمیشن اور ردی کاغذ کی قیمت جیب میں ڈالتا اور محلے کی عورتوں کو لفافے بنانے کا معاوضہ دے دیتا۔ اس سے یہ لوگ بھی خوش حال ہو گئے اور محلے کی عورتوں کی معاشی حالت میں بھی تبدیلی آگئی۔ اس شخص نے چند ماہ بعد نوکری چھوڑ دی اور فل ٹائم لفافہ انڈسٹری کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔ یہ کام چل نکلا تو اس نے دوستوں‘

عزیزوں اور رشتے داروں سے قرض لیا اور گھر میں پلاسٹک کے شاپنگ بیگز بنانے کا چھوٹا سا یونٹ لگا لیا‘ یہ کام بھی چل نکلا اوروہ کاغذ کے لفافوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شاپنگ بیگز کا سپلائر بھی بن گیا‘ خوشحالی آئی تو یہ اپنے ساتھ اخراجات بھی لائی‘ یہ لوگ چھوٹے گھر سے بڑے گھر میں منتقل ہو گئے‘ یہ موٹر سائیکل سے گاڑی پر آ گئے‘ انہوں نے بچوں کو مہنگے سکولوں میں داخل کرا دیا اور ان کے فریج‘

ٹیلی ویژن اور واشنگ مشین کا سائز بھی بڑا ہو گیا‘ بڑے خرچے چلانے کیلئے زیادہ رقم چاہئے تھی چنانچہ شاپنگ بیگز کا یونٹ چھوٹی سی فیکٹری بن گیا‘ فیکٹری میں ملازم رکھے گئے تو ملازموں کی تنخواہوں کا ایشو بھی آیا چنانچہ تنخواہیں پوری کرنے کیلئے مارکیٹنگ کی ٹیم رکھی گئی‘ مارکیٹنگ کی ٹیم نے نئے گاہک تلاش کئے‘ نئے گاہکوں نے نئی مصنوعات کا تقاضا کیا‘ نئی مصنوعات کیلئے نئی ٹیکنالوجی خریدی گئی‘ نئی ٹیکنالوجی مسابقت (کمپی ٹیشن) لے کر آئی‘

کمپی ٹیشن نے ایڈور ٹائزنگ کا دروازہ کھولا‘ ایڈورٹائزنگ معاشرے میں کلچرل چینج کا باعث بنی اور یوں غفورا‘ عبدالغفور‘ محمد عبدالغفور‘ شیخ محمدعبدالغفور‘ سیٹھ محمد عبدالغفور اور جی ایم برادرز بنتا چلا گیا۔ یہ اب پاکستان کے چند بڑے ارب پتی بزنس مینوں میں شمار ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے لمبی سانس لی اور بولے ’’ تم ایک لمحے کیلئے سوچو‘ اگر 1974ء میں اس کا دوہزار روپے میں گزارا ہوتا رہتا‘

مہنگائی کا ریلا نہ آتا‘ مالک مکان کرایہ نہ بڑھاتا یا پھر اس کا مالک اس کی تنخواہ میں پانچ سو یا ہزار روپے کا اضافہ کر دیتا تو یہ آج کہاں ہوتا؟ کیایہ ابھی تک اسی دکان پر جھاڑو نہ مار رہا ہوتا اور اس کے بچے شہر میں ریڑھیاں نہ لگا رہے ہوتے لہٰذا تم دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کیا مہنگائی اس کیلئے نعمت ثابت نہیں ہوئی‘‘ وہ خاموش ہو کر میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے واقعی مہنگائی کو کبھی اس زاویے سے نہیں دیکھا تھا‘ میں اسے ہمیشہ برا بھلا کہتا رہا لیکن مہنگائی نعمت بھی ہوتی ہے مجھے اس سے پہلے اس کا اندازا نہیں تھا۔ وہ بولے ’’مہنگائی بنیادی طور پر فائر الارم ہوتی ہے‘

یہ آپ کو بتاتی ہے آپ کی آمدنی کے ذرائع کم ہیں اور آپ اگر ایک مطمئن‘ پر سکون‘ شاندار اور خوشحال زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانا ہوں گے‘ آپ اپنا فالتو وقت پیسے کمانے میں صرف کریں‘ بزنس کے نئے آئیڈیاز سوچیں‘ ان آئیڈیاز کو عملی شکل دیں‘ خاندان کا مالی بوجھ اگر ایک شخص پر ہے تو دوسرے افراد بھی میدان میں آئیں‘ بیوی گھر میں کوئی یونٹ لگا لے‘ آپ ملازمت کے ساتھ ساتھ بزنس شروع کر دیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

آج کل کمپیوٹر پر لاکھوں قسم کے بزنس ہو رہے ہیں‘ آپ کمپیوٹر مارکیٹ میں چلے جائیں‘ ٹیوشنز بھی آج کل بزنس کی شکل اختیار کر چکی ہیں‘ آپ کے بچے فالتو وقت میں ہوم ٹیوٹر بن سکتے ہیں‘ آپ دس‘ بیس‘ پچاس لوگوں کا گروپ بنا کر کوئی چھوٹا موٹا بزنس شروع کر سکتے ہیں‘ کوئی ہوم انڈسٹری قائم کر سکتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو آپ ٹیلی فون یا موبائل پر مختلف کمپنیوں کی مارکیٹنگ کر سکتے ہیں‘ سینکڑوں‘ ہزاروں آپشنز موجود ہیں بس آپ نے مہنگائی کو نعمت یا فائر الارم سمجھنا ہے اور اس الارم کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے‘‘ انہوں نے لمبا سانس لیا اور بولے

’’دنیا میں آج تک مہنگائی کم نہیں ہوئی‘ یہ بوتل کا ایسا جن ہے جو ایک بار باہر آجائے تو واپس بوتل میں نہیں جاتا چنانچہ ہمیں اسے بوتل میں بند کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ‘ ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہئے‘ اگرہماری تعلیم کم ہے تو ہمیں اپنی تعلیمی استعداد بڑھانی چاہئے تا کہ ہمیں چار پانچ ہزار کی بجائے پچاس ساٹھ ہزار کی نوکری مل سکے‘ ہم اکیلے کام کر رہے ہیں تو ہمیں گھر کے دوسرے افراد کو بھی کام پر رضا مند کرنا چاہئے‘ ہم اگر نوکری کے دوران سستی‘ کام چوری‘

چغل بازی اور نمک حرامی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو ہمیں اسے فوراً ترک کر دینا چاہئے اور آج سے اپنی جاب پر اتنی توجہ دینی چاہئے کہ ہمارے مالکان ہمیں ترقی دینے پر مجبور ہو جائیں اور اگر مالکان ہماری کارکردگی کی قدر نہیں کرتے تو دوسرے ادارے ہمیں منہ مانگے معاوضے پر ملازمت دے دیں۔ ہماری دکان‘ ہماری کمپنی اور ہماری فیکٹری میں گاہک نہیں آتے تو ہم آج سے گاہکوں کو متوجہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیں‘ ان کی عزت کریں‘ انہیں دہلیز پر خوش آمدید کہیں اور گلی میں واپس چھوڑ کر آئیں‘

منافع کم کر کے سیل بڑھائیں اور گاہکوں کے حقوق کو پرافٹ پر فوقیت دیں‘ نئی ورائٹی لے کر آئیں اور ملازمین کو اپنے بچے سمجھنا شروع کر دیں توہماری آمدنی میں واضح تبدیلی ہو سکتی ہے ‘‘۔ ان کا کہنا تھا ’’دنیا میں کوئی چیز مہنگی یا سستی نہیں ہوتی‘ معاملہ صرف افورڈبیلٹی یا قوت خرید کا ہوتا ہے‘ میں اگر افورڈ نہیں کر سکتا تو چینی دس روپے کلو ہو جائے تو بھی یہ میرے لئے مہنگی ہو گی اور اگر میں افورڈ کر سکتا ہوں تو میرے لئے چھ انجن کا جیٹ جہاز بھی بہت سستا ہے۔

بھوک سے نڈھال بچے جس ریستوران کے کچرے سے روٹی کے ٹکڑے چنتے ہیں اسی ریستوران پر لوگ دس ‘دس ہزار روپے بل دے رہے ہوتے ہیں‘ یہ کیا ہے‘ یہ صرف اور صرف افورڈیبلٹی کافرق ہے۔ یہ بے حسی‘ طبقاتی تقسیم یا مہنگائی کا ایشو نہیں یہ زیادہ کام کرنے‘ بہتر کام کرنے اور اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے کا ایشو ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنی غربت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے‘

یہ لوگ اچھی زندگی کیلئے مہنگائی کی کمی کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کے لوگوں نے مہنگائی کا مقابلہ کیا‘ انہوں نے اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھائے اور آج خوشحالی ان کی دہلیز پر بیٹھ کر جگالی کر رہی ہے‘‘۔ وہ درست فرما رہے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے دس سال پہلے پورے امریکا میں یہ مہم چل رہی تھی کہ حکومت کو مزدوروں کی تنخواہ سات ڈالر فی گھنٹہ سے بڑھا کر آٹھ ڈالر کر دینی چاہئے اور اسی سال امریکا کا ایک شخص 60ملین ڈالر سالانہ تنخواہ لے رہا تھا۔

اس میں اور ان لوگوں میں کیا فرق تھا۔ ان دونوں میں صرف اپروچ کا فرق تھا‘ اس شخص نے مہنگائی کو نعمت سمجھا اور آمدنی کے وسائل بڑھانے میں جت گیا جبکہ باقی آٹھ کروڑ لوگ مہنگائی میں کمی کا انتظار کرنے لگے چنانچہ وہ شخص ترقی کی بلندی پر پہنچ گیا اور باقی لوگ ہائے ہائے کے نعرے لگاتے رہے۔ ہمیں بھی مہنگائی کو عذاب کی بجائے نعمت سمجھنا چاہئے اور اسے چیلنج بنا کر اپنے لئے ترقی کے راستے کھول لینے چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *