استغفار کیا ہے؟

استغفار کیا ہے؟
ہفتہ‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:54
استغفار کیا ہے؟کسی شخص نے حضرت علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہکے سامنے بُلند آواز سے”اَستغفر اللّٰہ”کہا تو آپ رض اللہ تعالی عنہ نے اُس سے فرمایا” کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیا ہے؟ ‘استغفار’, “بُلند منزلت لوگوں” کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے۔ ا(اوّل ) یہ کہ جو ہو چکا اُس پر نادم

ہو۔ (دوم) یہ کہ ہمیشہ کے لیے اُس کے مرتکب نہ ہونے کا پکّا ارادہ کر چُکا ہو۔ (سوئم) یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا, یہاں تک کہ اللّٰہ کے

اللّٰہ کے حضور میں اِس حالتاِس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف ہو اور تم پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔ (چہارم) یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے اور تم نے انہیں ضائع کر دیا تھا اُنہیں اب پورے طور پر بجا لاؤ۔ (پنجم) یہ کہ جو گوشت حرام سے نشوونما پاتا رہا ہے اُس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤ یہاں تک کے

کھال کو ہڈیوں سے ملا دو کہ پھر سے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو۔ اور (ششم) یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو جس طرح اُسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے۔ اور پھر کہو “استغفر اللّٰہ”۔ .. نہج البلاغہ ..اِس فرمان سے یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ استغفار نہیں پڑھنا چاہیے یا بُلند آواز میں استغفار پڑھنے میں کوئی بُرائی ہے بلکہ یہ فرمان استغفار اور استغفار پڑھنے والے کا صحیح مقام پہچاننے اور اپنے قول میں صادق ہونے کا تقاضہ کرتا ہے۔ اِس فرمان میں اِس جانب اشارہ ہے کہ جب تک تُو نے دنیا سے (جو گناہ اور

فریب کا جہان ہے) مُنہ ہی نہیں موڑا, گزشتہ خطاؤں سے صدقِ دل سے توبہ ہی نہیں کی تو تُو کس حق سے اللّٰہ سے مغفرت کا طلبگار ہو رہا ہے۔؟ ساتھ ساتھ اِس جانب بھی اشارہ ہے کہ سَر محفل باآوازِ بُلند استغفر اللّٰہ کہنے میں نفس کی خواہش پوشیدہ ہو سکتی ہے کہ لوگ میری زبان سے استغفار سُن کر مجھے پاکباز سمجھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بُلند منزلت لوگوں کی نشاندہی بھی فرما دی کہ ایسے لوگ اللّٰہ سے مغفرت طلب کرنے کے حقدار ہیں جو گُناہ کے جہان سے خود کو الگ کر چُکے ہیں ورنہ جس نے گُناہ کا ارادہ ہی نہیں چھوڑا جس نے اللّٰہ کی جانب رُخ ہی نہیں پھیرا اُس کا یہ کہنا ہی درست نہیں ہے کہ میں اللّٰہ سے مغفرت کا طلبگار ہوں۔

جن کی انوکھی شرط

جن کی انوکھی شرط
ہفتہ‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:43
کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کو اذیتناک حالت میں مبتلا دیکھ کر، جس کے بارے میں شک کیا جا رہا تھا کہ اس پر جنات کا سایہ ہے، ایک بزرگ کے پاس لے گیا۔بزرگ نے پڑھائی شروع کی تو جن آخر بول ہی پڑا۔جن نے کہا میں نکلنے کیلئے تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔بزرگ نے کہا؛ کوئی شرط ورط نہیں، تجھے ایسے ہی اور

ابھی ہی نکلنا پڑے گا۔جن نے کہا میری شرط سن تو لو۔بزرگ نے کہا؛ اچھا سُنا۔ جن نے کہا؛ میں اس عورت سے باہر نکل آتا ہوں لیکن اس

عورت کے خاوند میںداخل ہو جاؤنگا۔ خاوند نے یہ سنتے ہی خوف سے کانپناشروع کر دیا اور دور جا بیٹھا۔بزرگ نے کہا؛ مجھے یہ شرط منظور نہیں۔جن نے کہا؛ جانتے ہو میں ایسا کیوں کرنا چاہتا ہوں؟بزرگ نے کہا بتاؤجن نے کہا؛ یہ آدمی نماز نہیں پڑھتا اور میں ایسا آدمی ہی تو پسند کرتا ہوں۔عورت کا خاوند

واسطے دینے لگا کہ نہیں، میں اس جن کو قبول نہیں کرتا۔بزرگ نے جن سے کہا: اچھا میں تجھے ایک راستہ بتاتا ہوں۔تو ان کے گھر کے سامنے والے درخت میں رہائش کر لے۔جس دن یہ آدمی کوئی نماز نا پڑھے تو بلا جھجھک اس میں داخل ہو جانا۔اور جن نے کہا؛ مجھے یہ شرط قبول ہے اور میں اس عورت کو ابھی چھوڑ رہا ہوں۔کچھ عرصہ کے بعد اس عورت نے اس بزرگ کو فون کر کے شکریہ ادا کیا، تو بزرگ نے باتوں باتوں میں اس کے

خاوند کا بھی پوچھ لیا۔ عورت نے کہا؛ بابا جی وہ تو آجکل نماز سے پہلے جا کر مسجد کا دروازہ کھولتا ہے۔بزرگ نے کہا؛ تو بس پھر ہم نے اس جن کو هيئة الأمر بالمعروف و النهي عن المنكرمیں ملازم رکھوا دیا ہے۔بزرگ نے عورت سے کہا؛ بیٹی میرے تو وہم و گمان میں بھی یہ طریقہ نہیں آ سکتا تھا، میں نے تو بس وہی کچھ کیا جو تو نے مجھے سمجھا دیا تھا۔(عورت کو کوئی جن وغیرہ نہیں تھے، گھر میں کئی دن پہلے ماحول بنا کر اور پھربزرگ سے فون پر طریقہ کار طے کر کے وہ اپنے علاج (در اصل اپنے خاوند کی بے نمازی کا علاج) کیلئے گئی تھی

’’تعویذ گلے میں نہ ہوتا تو وہ لڑکیاں میرا خون پی جاتیں‘‘ ایک گورکن کے ساتھ پیش آنے والا روح فرسا واقعہ

’’تعویذ گلے میں نہ ہوتا تو وہ لڑکیاں میرا خون پی جاتیں‘‘ ایک گورکن کے ساتھ پیش آنے والا روح فرسا واقعہ
ہفتہ‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:35
میں نے اپنا بچپن اور جوانی قبرستان میں گزاردی ہے .میرا باپ بھی اس قبرستان میں گورکن تھا اور میں بھی پیدائشی گورکن پیدا ہوکر مر رہا ہوں یہاں.یہ کوئی بیس سال پرانی بات ہے .یہ جنوری کا مہینہ تھا . مجھے ایک قبر تیار کرنے کا کام ملا، جس کی تدفین بعد نماز عشاء تھی. اس دن صبح سے بارش بھی ہورہی تھی۔۔ اور قبرستان میں

پانی اور کیچڑ ہوگیا تھا . خیرمیں نے مغرب کے بعد قبر تیار کرنا شروع کی اور اپنے کام سے فارغ ہوکر میں میت کا انتظار کرنے لگا. میت آئی

تو اس کو دفنکرتے ہوئے رات کے 11بج گئے. جب تمام لوگ قبرستان سے چلے گئے تو میں نے بھی اپنا سامان سمیٹنا شروع کیا. تمام کاموں سے فارغ ہوکر میں بھی گھر جانے لگا. ابھی میں نے آدھا قبرستان ہی پار کیا تھا کہ میں نے دیکھا قبرستان کے اندر مدھم سی روشنی نمودار ہوگئی ہے اور کچھ افراد وہاں موجود ہیں. میں حیران ہوا کہ اس وقت کون آسکتا ہے ؟ میں اس جانب چل دیا تاکہ معلوم کروں یہ کون لوگ ہیں۔۔ اور

اگر وہ میت لیکر آئے تھے تو انہوں نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی . جب میں نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ برگد کے پرانے درخت کے نیچے کچھ لڑکیاں آگ جلا کر اس کے گرد بیٹھی ہیں اور آپس میں کسی غیرمانوس زبان میں باتیں کررہی ہیں. میں ان کے نزدیک پہنچااورزور دار آواز سے پوچھا’’ کون ہو تم اور اس وقت قبرستان میں کیا کررہی ہو؟ ‘‘ انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو دوبارہ کہا’’تمہارے گھر والوں کو معلوم ہے کہ اس وقت تم قبرستان میں ہو؟‘‘لیکن انہوں نے میری آواز سنی ان سنی کردی . دوسرے ہی لمحے ایک لڑکی جس انداز میں بولی وہ بڑا

ہی عجیب تھا.’’میں نے کہا تھا کہ یہ آئے گا‘‘ یہ جملہ سنتے ہی دوسری لڑکیاں بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئیں. اب جو میں نے غور سے ان کی جانب دیکھا تو ایسا لگا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں.۔۔ کیونکہ ان کی ناک تھی اور نہ ہی منہ تھا. ان کے چہرے پر کان تھے.اور صرف آنکھیں تھیں جو انتہائی سرخ تھیں. یہ دیکھتے ہی میں نے بھاگنا چاہا تو مجھے لگا جیسے کسی نے میرے پاوں مضبوطی سے پکڑلئے ہوں، جنہیں میں کسی بھی طرح سے آزاد نہیں کراپارہا تھا. یہ دیکھ کر ان میں سے ایک لڑکی میرے قریب آئی اور جیسے ہی اس نے قریب آکر مجھے چھونا چاہا، اس کو ایسا جھٹکا لگا جیسے کوئی شخص بے دھیانی میں بجلی کا ننگا تار چھولے.یہ دیکھتے ہی

وہ چلائی ’’اس کے پاس تو تعویذ ہے .اس کو کیسے ماروں میں‘‘. پھر اس لڑکی نے مجھ سے کہا ’’ آج اس تعویذ نے تجھے بچالیا ورنہ آج ہم تیرے خون سے اپنی پیاسمٹاتیں‘‘ اس کے بعد وہ تمام عجیب الخلقت لڑکیاں اس درخت کے اندر اس طرح داخل ہوگئیں.جسے وہ ہوا سے بنی ہوں.۔۔ اس کے ساتھ ہی میرے پاوں آزاد ہوئے اور میں وہاں سے بھاگ نکلا. دوسرے دن میں نے اس واقعے کا ذکر ایک مولوی صاحب سے کیا تو انہوں نے مجھے بتایا ’’ تمہارا سامنا رات کو چڑیلوں سے ہوا تھا جو تمہیں اپنا شکار بنانا چاہتی تھیں. مگر تمہارے گلے میں جو تعویذ ہے اس نے تمہاری جان بچالی ہے‘‘ اس کے بعد پھر کبھی وہ مخلوق یا چڑیلیں مجھے دوبارہ نظر نہیں آئیں اور میں بھی قبرستان کے اس حصے میں صرف دن کے اوقات میں ہی جاتا ہوں.

خانہ کعبہ کے فرش پر لگا انتہائی نایاب سفید پتھر رات اور دن میں اس پتھر کے باریک مسام کیا کام کرتے ہیں ؟ حیران کن رپورٹ

خانہ کعبہ کے فرش پر لگا انتہائی نایاب سفید پتھر رات اور دن میں اس پتھر کے باریک مسام کیا کام کرتے ہیں ؟ حیران کن رپورٹ
جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018 | 13:00
ریاض موسم گرما میں جب سورج آگ برسا رہا ہوتا ہے تو مسجد حرام اور حرم کا فرش اس وقت بھی زائرین کو ٹھنڈک کا احساس دلاتاہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حرمین کے جنرل امور کے ذمہ دار ادارے کے حکام نے کہا ہے کہ گرمیوں میں بھی سنگ مرمر کی ٹھنڈک کی وجہ اس پتھر کی خاصیت ہے۔یہ پتھر قدرتی طور پر ہی ایسی ساخت رکھتا ہے جو گرمیوں میں بھی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔

حرمین شریفین کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ گرمی اور روشنی دونوں کو منعکس کرنے والا یہ سنگ مرمرالتاسوس کہلاتا

ہے جو بہت نایاب پتھر ہے۔ گرانیٹ اور قدرتی سنگ مرمر میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔ اس پتھر کو یونان کے پہاڑوں سے نکالا گیا اور وہاں سے حرم مکی کے لیے لایا گیا ہے۔خیال رہے کہ حرم مکی میں پانچ سینٹی میٹر موٹی ٹائلیں لگائی گئی ہیں۔

یہ پتھر رات کے اوقات میں باریک مساموں کے ذریعے رطوبت جذب کرتے ہیں اور دن کے وقت اس رطوبت کو خارج کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پتھر قدرتی طور پر بھی گرمی میں ٹھنڈا رہتا ہے۔ جہاں تک فرش کے نیچے ٹھنڈا پانی چھوڑنے کی بات ہے تو وہ قطعی بے بنیاد ہے۔

سردیوں میں کجھوراستعمال کرکے ان بیماریوں سے ہمیشہ کےلئے چھٹکارہ پائیں

سردیوں میں کجھوراستعمال کرکے ان بیماریوں سے ہمیشہ کےلئے چھٹکارہ پائیں
جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:54
کراچی موسم سرما میں صحت کے حوالے سے اگرآپ مختلف مسائل مثلا نزلہ ، ٹھنڈ ، جوڑوں کے درد ، الرجی اور فلو کا شکار رہتے ہیں تو آپ کو لازمی طور کھجور کا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ کھجور کو ریشے ، فولاد ، کیلشیئم ، وٹامن اور میگنیشیئم کا اچھا ذریعہ شمار کیا جاتا ہے اور یہ سب عناصر سردیوں میں انسانی جسم کو گرم

رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اگر آپ ٹھنڈ کے اثر سے نزلے میں مبتلا ہیں تو آپ دو سے تین کھجوریں ، دو عدد چھوٹی الائچی اور چند ٹکڑے

لال مرچ کو لے کر گرم پانی میں ڈال کر کچھ دیر اُبال لیں اور پھر چھان کر سونے سے پہلے اسے مشروب کے طور پر استعمال کریں۔ کھجور کے ذریعے دمے اور سانس سے متعلق دیگر الرجیوں کا بھی علاج ممکن ہے جن کا شمار سردیوں کے موسم میں پھیلے عمومی عام مسائل میں ہوتا ہے۔اس مقصد کے لیے روزانہ صبح اور شام کھجور کے ایک یا دو دانے پابندی سے کھانے چاہئیں۔

کھجور میں موجود قدرتی شکر انسانی جسم کو فوری توانائی دینے میں مددگار ہوتی ہے۔ چوں کہ کھجور ریشے سے بھرپور ہوتی ہے لہذا اسے رات بھر پانی میں بھگو کر صبح اس کو Blender میں پیس لیں اور نہار منہ پی لیں۔ یہ عمل قبض کے علاج میں بہت مفید ثابت ہوگا۔ریشے سے بھرپور ہونے کے پیشِ نظر کھجور دل کی صحت کی حفاظت کرتی ہے۔ کھجور انسان کے جوڑوں کے درد اور سوجن کی تکلیف میں کمی کرتی ہے بالخصوص سردیوں کے موسم میں جب کہ یہ مسئلہ بکثرت پھیلا ہوتا ہے۔روزانہ پانچ سے چھ کھجوریں کھانی چاہیے اس سے بلڈپریشربھی کنڑول میں رہتاہے اوردیگربیماریاں بھی ختم ہوجاتی ہیں ۔

گاجر اور پالک ملاکر استعمال کرنے کا ایسا فائدہ کہ جان کر آپ اس کو اپنی عادت بنا لیں گے

گاجر اور پالک ملاکر استعمال کرنے کا ایسا فائدہ کہ جان کر آپ اس کو اپنی عادت بنا لیں گے
جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:44
لاہور اگر آپ یا کوئی ملنے والا سانس کی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے تو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔اس بیماری کو دمہ بھی کہاجاتا ہے جس میں سانس کی نالیوں میں تناؤ کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اس کے ساتھ پھیپھڑوں میں سوزش ہونے سے صورتحال خطرناک ہوجاتی ہے اور اگر یہ زیادہ دیر تک رہے تو

انسان کی زندگی شدید خطرے میں ہوتی ہے۔دمے سے بچاؤ کے لئے کئی طرح کے انہیلرز بھی ملتے ہیں ،ان کا وقتی فائدہ تو ہوتا ہے۔لیکن زیادہ دیر تک ان کا استعمال دیگر

پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔آئیے آپ کو ایک ایسا قدرتی مشروب بتاتے ہیں

جس کے استعمال سے آپ دمے سے کافی حد تک بچ سکیں گے۔ 8گاجریں(10اونس گاجر کا جوس بنانے کے لئے) دو سے تین کپ پالک کے پتے( چھ اونس پالک کا جوس بنانے کے ئے) ان دونوں اجزاءکو ملاکر کسی اچھے جوسر سے جوس نکالیںاور فوری طور پر پی جائیں۔زیادہ سے زیادہ 15منٹ تک اس جوس کو رکھاجاسکتا ہے لیکن کوشش کریں کہ تازہ تازہ جوس پی لیا جائے کہ اس طرح زیادہ فائدہ ہوگا۔

خوبصورت عورت اور نوجوان لڑکا

خوبصورت عورت اور نوجوان لڑکا
بدھ‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2018 | 20:24
وہ عورت روز اس نوجوان کو دیکھتی لیکن وہ بغیر اس کی طرف دیکھے سر جھکا کر اسکی گلی سے گزر جاتا ، دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا ، لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی اور اب چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اس پر نظرِ التفات ڈالے ۔ لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیر

لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتا اس عورت کو اب ضد سی ہوگئی

تھی وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہوسکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے ، اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیار دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ۔

اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے لوگ ترستے ہیں وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو، اسکی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرے اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہوگئی اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کرسکے اور اسکا غرور توڑ سکے ، آخر کار شیطان نے اسے ایک ایسا طریقہ سجھا دیا جس میں پھنس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا

اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اسکے قریب آئی اور کہنے لگی بیٹا میری مالکن تمہیںبلا رہی ہے ۔ نوجوان نے کہا اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے ، اس عورت نے کہا بیٹا اس نے تم سے کوئی مسلئہ پوچھنا ہے وہ مجبور ہے خود باہر نہیں آسکتی ۔ نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہجو عورت اسے بلا رہی ہے اسکا منصوبہ کیا ہے وہ کیا چاہتی ہے وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اسکی مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آگیا اسکے ذہن میں تھا کہ شاید کوئی بوڑھی عورت ہے

جو اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور انتظار کرنےکا کہہ کر چلی گئی ، تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہی عورت داخل ہوئی نوجوان نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لی کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی ، نوجوان نے پوچھا جی بی بی آپ نے کونسا مسلئہ پوچھنا ہے ۔ عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اس نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ تمہیں حاصل کرلوں

نوجوان یہ بات سن کر کانپ گیا اور کہنے لگا اللہ کی بندی اللہ سے ڈرو کیوں گناہ کی طرف مائل ہو رہی ہو ۔ اس نے عورت کو بہت سمجھایا لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا اس نے کہا کہ یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے یا پھر میں شور مچاؤں گی کہ تم زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری عزت پر حملہ کیا نوجوان یہ بات سن کر بہت پریشان ہوا ، اسے اپنی عزت کسی بھی طرح محفوظ نظر نہیں آرہی تھی ، اسکی بات مانتا تو گناہ گار ہوتا نہ مانتا تو لوگوں کی نظر میں برا بنتا ۔

وہ علاقہ جہاں لوگ اسکی شرافت کی مثالیں دیا کرتے تھے وہاں پر اس پر اس قسم کا الزام لگ جائے یہ اسے گوارہ نہیں تھا ، وہ عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا دل ہی دل میں وہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے مدد چاہی تو اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی اس نے عورت سے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہے عورت نے اسے بیت الخلاء کا بتا دیا اس نوجوان نے اندر جاکر ڈھیر ساری غلاظت اپنے جسم پر مل لی اور باہر آگیا ، عورت اسے دیکھتے ہیں چلا اٹھی یہ تم نے کیا کیا ظالم ۔ مجھ جیسی نفیس طبعیت والی کے سامنے اتنی گندی حالت میں آگئے ، دفع ہو جاؤ ، نکل جاؤ میرے گھر سے ۔

نوجوان فورا” اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا واپس مدرسے چلا گیا نماز کے بعد جب وہ سبق میں بیٹھا تو تھوڑی دیر بعد استاد نے کہا کہ آج تو بہت پیاری خوشبو آرہی ہے ، کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے ابھی بدبو گئی نہیں اور استاد جی طنز کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھوڑی دیر بعد استاد جی نے پھر پوچھا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کرکے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے ۔

اس نوجوان کی باری آئی تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا ، استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اسکے کپڑوں سے آرہی تھی استاد نے کہا کہ تم بتا کیوں نہیں رہے تھے کہ یہ خوشبو تم نے لگائی ہے نوجوان رو پڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کریں مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بدبو آرہی ہے لیکن میں مجبور تھا

اور اس نے سارا واقعہ استاد کو سنایا استاد نے کہا کہ میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا خدا کی قسم تمہارے کپڑوں سے واقعی ہی ایسی خوشبو آرہی ہے جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی اور یقینا” یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ تم نے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو گندگی لگانا پسند کرلیا لیکن اللہ نے اسی گندگی کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا جو کہ اس دنیا کی نہیں لگتی کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے ان کپڑوں سے ہمیشہ ہی وہ خوشبو آتی رہی (نوٹ ، یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عالم دین نے اپنے بیان میں سنایا تھا ،

اگر کسی نے عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کی تو ۔۔۔سینئر صحافی سہیل وڑائچ نےتشویشناک انکشاف کر ڈالا

اگر کسی نے عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کی تو ۔۔۔سینئر صحافی سہیل وڑائچ نےتشویشناک انکشاف کر ڈالا
بدھ‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2018 | 20:55
اگر کسی نے عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کی تو ۔۔۔سینئر صحافی سہیل وڑائچ نےتشویشناک انکشاف کر ڈالا… پاکستان میں سیاسی صورتحال غیر مستحکم ہو رہی ہے ،اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔قائد حزب اختلاف شہباز

شریف کو بھی آشیانہ ہاوسنگ سکیم کیس میں نیب نے گرفتار کیا ہوا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہیں جس پر مسلملیگ ن سراپا احتجاج ہے جبکہ پی پی رہنما بھی شہباز شریف کے خلاف کارروائی کو غلط قرار دے

رہے ہیں ۔ایسی صورتحال میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے آج اپنے کالم میں لکھا ہے کہ اگر کسی نے عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کی تو اس کا شدید رد عمل ہو گا ۔

تفصیل کے مطابق سہیل وڑائچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا کالم شیئر کیا اور کہا کہ جن عاقبت نا اندیشوں کا خیال ہے کہ اگلے دو تین ماہ میں عمران حکومت گر جائے گی وہ احمقوںکی جنت میں رہتے ہیں عمران خان کی تحریک انصاف اب ہوائی جماعت نہیں ہے کروڑوں ووٹروں کی Solidجماعت بن گئی ہے اگر کسی نے عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کی تو اس کا شدید ردعمل ہوگا۔

انہوں نے آج “عمران کو چلنے دو”کے عنوان سے کالم لکھا جس میں انہوں نے کہا عمران کے حامی اور زیادہ طاقت سے اسے دوبارہ اقتدار میں لائیں گے ۔جب تک عمران کو پورا موقع نہیں ملتا ،اس وقت تک تحریک انصاف کا جذبہ سرد نہیں ہو گا اور وہ عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل چاہیں گے ۔پاکستان میں سیاسی صورتحال غیر مستحکم ہو رہی ہے ،اپوزیشن کاالزام ہے کہ حکومت انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی

دنیا میں تباہی مچانے والا بارود کب اور کیسے ایجاد ہوا؟

دنیا میں تباہی مچانے والا بارود کب اور کیسے ایجاد ہوا؟
بدھ‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2018 | 20:53
قصے کہانیوں میں بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلے چنگیز خان نے جنگ میں بارود سے کام لیا۔ یہ بات درست ہو یا نہ ہو، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ چنگیز خان کے زمانے سے بہت پہلے یعنی نویں صدی میں اہل چین بارود بناتے اور اسے آتشیں پٹاخوں میں استعمال کرتے تھے۔یورپ میں بارود کی ایجاد کا سہرا تیرھویں صدی کے دو راہیوں

میں سے کسی ایک کے سر پر ہے۔ انگریز راجر بیکس یا جرمن برتھولڈ شوارٹز بارود ہی کے بل پر یورپی سپاہیوں نے روئے زمین پر حکمرانی کے جال بچھائے۔بارود کے

لیے تین چیزیں درکار تھیں: اول قلمی شورہ، دوسری گندھک، تیسری کوئلہ، بیکن نے شورے کو صاف کر کے قلمی شورہ بنانے کا طریقہ دریافت کیا اور بارود کا نسخہ تیار کیا۔ شوراٹرز نے اس سے کام لینے کے لیے آتش بار ہتھیار بنائے۔بہرحال بارود سازی کا بندوبست ہوگیا تو یورپ کی فوج تلوار، نیزے اور تیروں کی جگہ لڑائی میں گولیاں استعمال کرنے لگی۔بارود سرنگیں بنانے اور چٹانیں توڑنے میں بھی استعمال ہوتا ہے

انڈے کھائیں اور ساتھ ان کے چھلکے بھی کھا لیں

انڈے کھائیں اور ساتھ ان کے چھلکے بھی کھا لیں
بدھ‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2018 | 20:38
انڈےغذائیت سے بھرپور غذا ہے اور اس کو ناشتے میں کھانے سے آپ دن بھر چاق و چوبند رہتے ہیں۔وہ لوگ جن کو کولیسٹرول کی بیماری ہوتی ہے وہ انڈے کی سفیدی کھانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ پورا انڈہ کھانا صحت کے لئے زیادہ فائدہ مند ہے۔لیکن آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ انڈے کے ساتھ ان کے چھلکے

بھی ہماری صحت کے لئے بے حد فائدہ مند ہیں۔بزنس انسائیڈر کی ایک ویڈیو کے مطابق امریکا میں فوڈ انڈسٹری ہر سال 150،000 انڈوں کے چھلکے جمع کرتی ہے۔انڈوں

کے چھلکوں کو پھینکنے کے بجائے ان کو کھانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ چھلکے کیلشیم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں کیونکہ یہ 95 فیصد کیلشیم کاربونیٹ سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔

ایک انڈے کے چھلکے میں تقریباً 2 گرام کیلشم موجود ہوتا ہے جوکہ دن بھر میں انسانی جسم کو ملنا ضروری ہے۔لیکن خیال رہے کہ انڈے کے چھلکوں کو کبھی بھی کچا استعمال نہیں کریں بلکہ ان کو پہلے اچھی طرح دھولیں تاکہ اس میں موجود تمام جراثیموں کا خاتمہ ہوجائے۔ پھر ان چھلکوں کو 10 سے 15 منٹ تک کے لئے اوون میں 200 فارن ہائیٹ پر بیک کرلیں۔جب بیک ہوجائیں تو بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح پیس لیں۔

انڈوں کے چھلکوں کے پاؤڈر سے کیلشیم وافر مقدار میں حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس سے ہڈیوں کا درد بھی دور ہوتا ہے اور ہڈیاں مضبوط بنتی ہیں۔ انڈوں کے چھلکوں کو مختلف کھانوں کی چیزوں میں ڈال کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جیسے آٹے اور اسیپگیٹی وغیرہ میں ڈال کر اس کو کھایا جاسکتا ہے۔

لیکن اس بات کا خیال رہے کہ بہت زیادہ کیلشیم کھانا ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک نارمل انسان کو دن میں محض 1 گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے لہذا اس سے زیادہ کیلشیم لینے سے گریز کریں۔