کرائے کی کوکھ… ایک حل؟

کرائے کی کوکھ… ایک حل؟
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 17:44
سنی لیون کو کون نہیں جانتا۔ انہوں نے اور ان کے شوہر ڈینیل ویبر نے گزشتہ برس ایک بچی کو گود لیا تھا۔ اب ان کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جس کا اعلان انہوں نے 5 مارچ کو سوشل میڈیا کے ذریعے کیا اور ساتھ ہی بچوں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔مجھے دیکھ کر بہت اچھا لگا اور خوشی ہوئی کہ دونوں کا پروفیشن جو بھی

ہے، جیسا بھی ہے، مگر ایک فطری اور ارتقائی تسلسل کو برقرار رکھنے اور اپنے رشتے کو مضبوط بنانے کےلیے انہوں نے جو بھی کیا وہ خاصی حد

تک درست تھا۔خاصی حد تک اس لیے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ سنی کو طبی مسائل تھے یا وہ اپنی مصروفیات کی بناء پر اس طریقہ تولید کو اپنانے پر آمادہ ہوئیں۔ خیر، وجہ جو بھی ہو، میں ڈینیل ویبر کو اس بات کےلیے سراہتی ہوں کہ اگر وہ روایتی پاکستانی مردوں کی طرح ہوتا تو سنی لیون کو نہ

جانے کن کن القابات سے نوازتا اور سب کچھ کرلینے کے بعد شاید اسے برا بھلا کہنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتا۔مجھے سیروگیسی کے بارے میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ انڈیا میں غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود فلم ساز کرن جوہر نے بھی سروگیسی کے ذریعے 2 جڑواں بچے پیدا کر رکھے ہیں جب کہ ادکار تشار کپور نے بھی شادی سے قبل ہی اسی سہولت کے ذریعے بیٹا پیدا کر رکھا ہے۔

علاوہ ازیں بولی ووڈ کے بادشاہ، شاہ رخ خان نے بھی اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو سروگیسی کے ذریعے ہی پیدا کیا جب کہ عامر خان بھی اسی سہولت کے ذریعے ایک بیٹے کی پیدائش کرچکے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ’’سروگیسی‘‘ ہے کیا؟ تو جناب جب بیوی کسی وجہ سے خود بچے کو جنم نہ دے سکے تو میاں کے نطفے اور بیوی کے بیضے سے لیبارٹری میں جنین (بارور بیضہ) تیار کرکے اسے کسی صحت مند عورت کے رحم میں منتقل کردیا جاتا ہے جہاں یہ قدرتی عمل سے گزر کر ایک بچہ بننے کے بعد مقررہ وقت پر پیدا ہوجاتا ہے۔

یہی وہ عمل ہے جسے ’’سروگیسی‘‘ (surrogacy) کہا جاتا ہے۔ اس طرح بچے کو جنم دینے والی خاتون کو ’’سروگیٹ مدر‘‘ (surrogate mother) یا متبادل ماں کہا جاتا ہے۔ یہ عورت اگرچہ اس بچے کی حقیقی ماں نہیں ہوتی لیکن اس کے رحم میں جنین منتقل کردیا جاتا ہے جسے وہ نو مہینے اپنے رحم میں پالتی ہے اور جنم دیتی ہے۔اب پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں بچہ نہ ہونے پر طلاقیں ہونا ایک عام سی بات ہوکر رہ گئی ہے۔

شادی شدہ جوڑوں میں طلاق کا راستہ اختیار کرنے کی متعدد وجوہ ہیں۔ اکثر اوقات اس کی ایک وجہ جوڑوں کا ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہونا ہے اور بعض اوقات اس کے پیچھے جہیز سے جڑے ہوئے مسائل ہیں، یا دوسری عورت… جبکہ اس کے پیچھے ایک وجہ عورت کا بانجھ ہونا بھی ہے۔ مرد، عورت کو طلاق دے کر کسی اور عورت کو بیاہ لیتا ہے جو اس کے خیال میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔میں ذاتی طور پر یہ سمجھتی ہوں کہ طلاق دینے کےلیے بچہ پیدا کرنے کی اہل نہ ہونے کی وجہ بتانا بالکل بے بنیاد ہے۔

اگر کسی وجہ سے جوڑا بچہ پیدا نہیں کرسکا تو بچہ گود لینے میں کوئی حرج نہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ بچہ ان کا نہیں ہوگا، باپ چاہتا ہے کہ بچہ اس کا اپنا ہو، جس کی رگوں میں اس کا اپنا خون دوڑ رہا ہو۔ اس خیال نے مجھے بہت پریشان کیا ہوا ہے اور میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس وجہ سے ہونے والی طلاقوں کو روکنے کےلیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔ بہت غور و خوص کے بعد میں ایک غیر روایتی خیال تک پہنچی… ایک

ایسا خیال جو ہمارے معاشرے میں سوچنا بھی ممنوع ہے۔ اور وہ ہے surrogacy یعنی کرائے کی ماں حاصل کرنا۔ اس عمل میں تولیدی مادہ مصنوعی ذرائع سے کسی دوسری عورت کے رحم میں داخل کرکے، اس کی کوکھ میں اپنا بچہ پالا جاتا ہے اور کوئی دوسری عورت اسے اس عورت کےلیے جنم دیتی ہے جو بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہے۔ جب مجھے سروگیسی کی بابت معلوم ہوا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ طریقہ اختیار کرکے کسی عورت کو طلاق سے بچایا جاسکتا ہے۔۔

اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا کہ وہ مجھے بہت ڈانٹتی ھے

اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا کہ وہ مجھے بہت ڈانٹتی ھے
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:23
آپ حضرات نے عدلِ فاروقی کے بارے میں تو سنا ھو گا مگر شاید صبرِ فاروقی کے بارے میں نہیں سنا ،، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں عام تأثر یہی ھے کہ آپؓ بہت سخت طبیعت کے مالک تھے ،، مگر حقیقت یہ ھے کہ آپ نہایت رقت آمیز طبیعت کے مالک تھے ،آپ کی سختی اصول پر مبنی ھوتی تھی اور وہ ایک

ایڈمنسٹریٹر کے لئے بہت ضروری بھی تھی ،،،، ایک بدو صبح صبح امیر المومنین عمر ابن الخطابؓ کے گھر اپنی بیوی کی زبان درازی کی شکایت کرنے آیا،، آپ

ایکمعمولی گھر میں رھتے تھے کوئی 100 کنال کا محل تو تھا نہیں اندر کی بات باھر صاف سنائی دیتی تھی ،، بدو جونہی دروازے کے پاس پہنچا ، اس نے جناب فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بولتےسنا وہ خوب کلاس لے رھی تھی اور آگے سے جناب فاروقؓ کی آواز تک نہیں آ رھی تھی ،،

اگر عمر ابن الخطابؓ کا یہ حال ھے جو اتنے سخت ھیں اور امیر المومنین بھی ھیں تو میرا شمار تو کسی شمار میں نہیں ھے ، پھر شکایت کا فائدہ؟ ادھر بدو واپسی کے لئے پلٹا ادھر امیرالمومنین سیچوئیشن کو ٹھنڈا کرنے کے لئے گھر سے باھر نکل آئے ،، آپؓ نے بدو کو واپس جاتے دیکھا اور اس کی چال ڈھال سے سمجھ لیا کہ یہ مدینے کا باسی نہیں کوئی مسافر ھےآپ نے اس کو آواز دی کہ بھائی کسی کام سے آئے تھے ؟

وہ واپس پلٹا اور کہا کہ امیرالمومنین میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا کہ وہ مجھے بہت ڈانٹتی ھے مگر آپ کو بھی اسی مصیبت میں مبتلا دیکھ کر واپس جا رھا تھا کہ جب امیرالمومنین کا خود اپنا یہ حال ھے تو پھر ھمارے لئے بھی صبر کے سوا چارہ نہیں ،،، امیر المومنین عمر فاروقؓ نے اسے نصیحت کی ،فرمایا میرے بھائی اس کی یہ ساری باتیں میں اس کے ان احسانات کے بدلے برداشت کرتا ھوں جو وہ مجھ پر کرتی ھے ،،

وہ میرا کھانا تیار کرتی ھے ، میری روٹی پکاتی ھے ،میرے کپڑے دھوتی ھے ، میری اولاد کو دودھ پلاتی ھے اور میرے دین کی حفاظت کرتی ھے اور مجھے حرام سے بچاتی ھے اور یہ سب اس پر واجب بھی نہیں ھے ، ، اس شخص نے کہا کہ امیر المومنین میری بیوی بھی یہ سب کام کرتی ھے ، آپ نے فرمایا تو پھر اس کو برداشت کرو بھائی ،، فانھا مدۃ یسیرہ ،، یہ تھوڑی سی مدت ھی کی تو بات ھے ،، پھر نہ ھم رھیں گے اور نہ وہ ،،،،،،،،،،،، صدقت یا امیر المومنین ،، بدو نے نے کہا آپ سچ کہتے ھیں امیرالمومنین اور واپس چل پڑا ، اسے عملی سبق مل چکا تھا کہ بولنا عورت کا عیب نہیں ،، برداشت کرنا مرد کا امتحان ھے ،،

ارجن کپور ، اداکارہ ملائیکا اروڑا کی شادی ، دبنگ خان بھی میدان میں کود پڑے ، دھماکے دار اعلان کردیا

ارجن کپور ، اداکارہ ملائیکا اروڑا کی شادی ، دبنگ خان بھی میدان میں کود پڑے ، دھماکے دار اعلان کردیا
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:22
پریانکا چوپڑہ اور نک جونس اور دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کی شادی کی خبروں کے بعد اب قیاس آرائیاں ہیں کہ بالی وڈ کے نوجوان اداکار ارجن کپور بھی آئندہ برس اداکارہ ملائیکا اروڑا سے شادی کرنے جارہے ہیں۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے متعدد ارجن اور ملائیکا کے درمیان طویل عرصے سے قریبی دوستی ہے اور دونوں کو ایک

دوسرے کے ساتھ اکثر کئی تقریبات اور ایئرپورٹ پر دیکھا گیا ہے۔فلم فیئر کی رپورٹ کے مطابق ارجن اور ملائیکا آئندہ برس شادی کرنے جارہے ہیں اور جلد ہی اپنے رشتے کے حوالے سےسب کو آگاہ کردیں

گے۔رپورٹ کے مطابق ارجن نے حال ہی میں ملائیکا کے ایک رئیلٹی ٹی وی شو میں شرکت کی تھی، جس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نظر آئے۔واضح رہے کہ ارجن کپور کی عمر 33 برس ہے اور ملائیکا کی عمر 45 برس ہے یعنی دونوں کے درمیان 12 سال کا فرق ہے۔

رپورٹس کے مطابق ارجن کپور کے والد اور معروف پروڈیوسر بونی کپور ان کی ملائیکا سے شادی کرنے کے خلاف ہیں۔ملائیکا اروڑا، اداکار ارباز خان کی سابق اہلیہ ہیں، دونوں نے شادی کے 21 برس بعد ذاتی ترجیحات کی بنا پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ دونوں کا ایک بیٹا بھی ہے۔دونوں کی شادی بارے دبنگ خان نے کہا کہ شادی اداکارہ ملائیکا اروڑاکی مرضی جس سے وہ شادی کرنا چاہتی ہے کرسکتی ہے ۔ نہ میرا پہلا اس معاملے میں کوئی کردار تھا نہ رہے گا

سلمان خان 52سال کے ہو گے مگر ابھی تک شا دی کیو ں نہیں کی ؟؟ دبنگ خا ن کے والد نے حقیقت بتا دی

سلمان خان 52سال کے ہو گے مگر ابھی تک شا دی کیو ں نہیں کی ؟؟ دبنگ خا ن کے والد نے حقیقت بتا دی
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:19
سلمان خان جس لڑکی کی تلاش میں ہیں ویسی ابھی تک نہیں ملی اس لئے غیر شادی شدہ ہے:والد سلیم خانبالی وڈ کے سلطان سلمان خان کے والد سلیم خان نے اپنے بیٹے کے شادی نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سلمان جیسی لڑکی تلاش کررہے ہیں ویسی ابھی تک ملی نہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا بیٹا ابھی تک غیر شادی شدہ ہے۔52

سالہ اداکار سلمان خان ابھی تک کنوارے ہیں اور ان کے مداح شدت سے چاہتے ہیں کہ سلمان جلد از جلد شادی کے بندھن میں بندھ جائیں۔ سلمان خان شادی

کا سوال ہمیشہ ہی نظر انداز کردیتے ہیں تاہم ان کے والد سلیم خان نے ان کےبیٹے کے شادی نہ کرنے کے راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سلیم خان نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ سلمان خان چاہتے ہیں کہ وہ جس لڑکی سے بھی شادی کریں وہ بالکل ان کی ماں کی طرح ہو جو گھر اور خاندان کو سنبھالے اور اپنی فیملی کو مکمل توجہ دے، تاہم ابھی تک سلمان کو ویسی لڑکی نہیں ملی یہی وجہ ہے کہ سلمان ابھی تک کنوارے ہیں۔

وہ 5 خطرناک سچ جو آپ کے پاؤں بولتے ہیں

وہ 5 خطرناک سچ جو آپ کے پاؤں بولتے ہیں
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:17
آپ کے پاؤں ڈاکٹر کے لیے ایک حیرت انگیز تشخیصی آلے کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے کئی بیماریوں کے خطرات کے بھانپ سکتا ہے- درحقیقت انسان کے پاؤں کی حالت صحت کے مختلف مسائل کی جانب اشارہ کر رہی ہوتی ہے- پاؤں یہ حالت دراصل ان بیماریوں کی علامت ہوتی ہے- ہم یہاں چند بیماریوں کی ایسی

علامات کا ذکر کر رہے ہیںجو آپ کے پاؤں سے ظاہر ہوتی ہیں-Dry, Flaking Skinاگر آپ کے پاؤں کی ایڑیاں خشک اور کھردری ہیں تو یہ تھارائیڈ کی خرابی کی جانب سے اشارہ کر کر

کر رہی ہیں- ہمارے تھارائیڈ گلینڈ ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں جو ہمارے بلڈ پریشر٬ ٹشو کی پیداوار اور اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں- لیکن

تھارائیڈ میں خرابی کا مطلب ہے ان تمام چیزوں میں خرابی پیدا ہونا- اگر آپ کے پاؤں کی جلد خشک ہے٬ اور اس کے ساتھ آپ کا وزن بڑھ رہا ہے٬ نظر کمزور ہورہی ہے اور ہاتھ سُن ہوجاتے ہیں تو آپ کو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے-Balding Toes

مرد و خواتین کے پاؤں کی انگلیوں پر بالوں کا ہونا ایک عام سی بات ہے- لیکن اگر آپ دیکھتے ہیں کہ یہ بال جڑ رہے ہیں یا پھر آپ کے پاؤں کی اںگلیاں مکمل گنجی ہوچکی ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے آپ کے جسم میں خون کی گردش صحیح نہیں ہورہی- دورانِ خون میں مسئلے کی ایک وجہ شریانوں میں خرابی بھی ہوسکتی ہے جو آپ

کے پاؤں تک پہنچنے والے خون کو متاثر کر رہی ہے- یہ خرابی ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بھی بن سکتی ہے- ایسی علامت محسوس ہوتی ہے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ تمباکو نوشی کو ترک کردی٬ غذا متوازن کر دیں اور ورزش کو معمول بنا لیں-Foot Numbnessاگر آپ کے پاؤں سُن ہوجاتے ہیں تو یہ بھی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاؤں کی طرف خون کی گردش میں کوئی خرابی پیدا ہوچکی ہے- ممکن ہے اگر آپ ایک ہی پوزیشن میں کافی وقت تک بیٹھے رہتے ہیں یا غلط انداز میں سو جاتے ہیں تو اس وجہ سے بھی آپ کا پاؤں

سُن ہوجائے- لیکن اگر یہ مسئلہ اکثر رہتا ہے تو پھر آپ کو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے- پاؤں کا سُن ہونا ذیابیطیس ٹائپ 2 کا مرض لاحق ہونے کی علامت بھی ہوسکتی ہے- ذیابیطیس کے مریضوں میں پاؤں کی جانب ہونے والی خون کی گردش میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کے زخم بھی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتے- روزانہ کی ورزش اور صحت بخش غذا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں-Black Spots or Lines Under Your Toenails

عام طور پر اگر آپ کے پاؤں کی انگلیوں یا اس کے ناخن والے حصے پر کوئی بھاری چیز گر جائے تو اس کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے- لیکن اگر آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن پر کالی یا بھوری لکیریں موجود ہیں جبکہ آپ کو اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کا پاؤں زخمی بھی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے ناخنوں پر کوئی چوٹ پہنچی تھی تو پھر آپ کو ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کرنا چاہیے- یہ لکیریں melanoma

نامی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہیں- یہ ایک جلد کا کینسر ہوتا ہے اور اسے ہرگز نظر انداز مت کیجیے-Morning Foot Painاگر مریض یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ صبح سویرے ان کے پاؤں میں شدید درد ہوتا ہے- جب وہ بستر سے نیچے چند قدم رکھتے ہیں تو ان کے پاؤں میں درد شروع ہوجاتا ہے- یہ rheumatoid arthritis (RA) کی علامت بھی ہوسکتی ہے جسے عام زبان میں جوڑوں کا درد کہا جاتا ہے- جوڑوں کا درد جوڑوں میں سوزش پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے- اس سلسلے میں اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کے علاوہ روزانہ ورزش کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کے جسم کے تمام جوڑ مضبوط اور صحت مند ہوں-

ٹیپو سلطان کے پڑپوتے عنایت خان کی بیٹی نورالنسا کی تصویربرطانوی کرنسی نوٹ پر جاری کرنے کا فیصلہ،جانتے ہیں انہیں کس ملک کی جاسوسی کرنے کے الزام میں منہ نہ کھولنے پر سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا؟

ٹیپو سلطان کے پڑپوتے عنایت خان کی بیٹی نورالنسا کی تصویربرطانوی کرنسی نوٹ پر جاری کرنے کا فیصلہ،جانتے ہیں انہیں کس ملک کی جاسوسی کرنے کے الزام میں منہ نہ کھولنے پر سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا؟
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:21
لندن(این این آئی) برطانیہ کے مرکزی بینک نے کرنسی نوٹ پر ایک مسلمان خاتون کی تصویر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے مرکزی بینک ’بینک آف انگلینڈ‘ نے کرنسی نوٹ پر پہلی مرتبہ ایک مسلم خاتون کی تصویر جاری کرنے کی تیاری شروع کردی ہے، 50 پاؤنڈ کے کرنسی نوٹ پر اس وقت

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی تصویرموجود ہے۔نورالنسا عنایت نامی مسلم خاتون نے دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس میں رہتے ہوئےبرطانوی افواج کیلئے جاسوسی کے فرائض انجام دیئے تھے اور نور کے شان دار کارنامے کے سبب

بینک آف انگلینڈ کی جانب سے شخصیات کے انتخاب میں معاونت پر مامور مؤرخین نے 50

پاؤنڈ کے کرنسی نوٹ پر نور کی تصویر چھاپنے کرنے کی تجویز پیش کی۔یکم جنوری 1914ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں پیدا ہونے والی نور النساء کے والدین کا تعلق ہندوستان سے تھا اور ان کے والد عنایت خان 18 ویں صدی میں سلطنت خداداد میسور ریاست کے حکمران ٹیپو سلطان کے پڑپوتے تھے۔نور النساء نے 19 نومبر 1940ء میں خواتین کی ضمنی ایئر فورس WAAF میں کلاس 2 ایئر کرافٹ افسر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور برطانیہ کی جانب سے جرمنی کے خلاف کام کرنے والی پہلی خاتون ’’وائرلیس آپریٹر‘‘ بنیں۔

نور کو 13 اکتوبر 1943ء میں پیرس میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور ایک عسکری کیمپ میں 10 ماہ تک تشدد کا نشانہ بنانے کے باوجود منہ نہ کھولنے پر سر پر گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا، اس وقت نور کی عمر صرف 29 برس تھی۔نور النساء برطانیہ میں Nora Baker کے نام سے مشہور ہیں، انہیں 1949ء میں برطانیہ کے سب سے بڑے شہری اعزاز ’’جارج کراس‘‘ سے نوازا گیا۔ نور پہلی مسلم اور ایشیائی خاتون ہیں جن کا تانبے سے بنا مجسمہ لندن کے گورڈن اسکوائر گارڈن میں لگایا گیا ہے۔ فرانس کی جانب سے بھی انہیں سب سے اعلیٰ شہری اعزاز ’کروکس ڈی گیری‘ سے نوازا جاچکا ہے۔

خواتین زیادہ لمبی زندگی کیوں جیتی ہیں؟

خواتین زیادہ لمبی زندگی کیوں جیتی ہیں؟
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:09
جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خواتین کا مدافعتی نظام مردوں کے مقابلے میں دیر سے بوڑھا ہوتا ہے، اس لیے خواتین مردوں کے مقابلے میں طویل عمر پاتی ہیں۔جاپانی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ مردوں کا مدافعتی نظام کمزور ہونے سے ان کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق

سائنسی جریدے امیونٹی اینڈ ایجنگ میں ایک مضمون شائع ہوا جس کے مطابق مدافعتی نظام کے معائنے کے بعد کسی بھی شخص کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مدافعتی نظام جسم میں

سرطان اور انفکیشن کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے اور نظام میں کمزوری کے باعث ہی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔جاپانی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مرد اور عورتوں کی عمروں میں اوسط فرق کی وجہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ مدافعتی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں ہی ہیں۔حیاتیاتی اصطلاح میں بات کریں تو میں کسی ایسی چیز کو نہیں جانتا جو عمر بڑھنے کے ساتھ بہتر ہوتی ہو۔

سپین کے نیشنل سینٹر فار آن کولوجیکل انویسٹیگیشن میں ڈاکٹر میوویل سرانو کی یہ بات کافی افسردہ کرنے والی ہے۔وہ ‘سائنز آف ایجنگ’ نامی ایک نئی تحقیق کے مصنفین میں سے ایک ہیں جس میں محقیقین وقت گذرنے کے ساتھ ہمارے جسم میں رونما ہونے والی بنیادی عوامل کی فہرست مرتب کرتے ہیں۔سرانو نے بی بی سی کو بتایا ‘یہ عوامل ناگزیر ہیں۔’ڈاکٹر سرانو کا کہنا ہے کہ مختلف افراد میں ان کے زندگی گزارنے کے انداز یا جینیاتی وجوہات سے ان عوامل کا اظہار کم یا زیادہ ہو سکتا ہے لیکن ایسا ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔ممالیہ مخلوق جن میں انسان بھی شامل ہے میں درج ذیل علامتوں سے عمر بڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔

ڈی این اے کی ضرر رسانی میں اضافہہمارا ڈین این اے ایک جنیاتی کوڈ ہے جو ایک عمل کے تحت خلیوں کے درمیان منتقل ہوتا ہے۔بڑھتی ہوئی عمر اس عمل میں ہونے والی غلطیوں میں اضافہ کرتی ہے۔یہ غلطیاں خلیوں میں اکھٹی ہو جاتی ہیں۔یہ رجحان جینیاتی عدم استحکام کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر اس بات سے متلعق ہے جب ڈی این اے کی غلطیاں خام خلیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

ایسے سیل جن سے تمام دوسرے مخصوص وظائف پیدا ہوتے ہیں۔جینیاتی عدم استحکام خام خلیوں کے کردار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اگر غلطیاں بڑھتی رہیں تو وہ خلیے کو کینسر سے متاثر کر سکتی ہیں۔وقت کے ساتھ کروموسومز اثر کھو دیتے ہیںڈے این اے کے فتیلے کے سرے پر خول کرموسومز کی حفاظت کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے جوتوں کے تسموں کے کناروں پر لگے ہوئے خول۔

انھیں ٹیلو میئرز کہا جاتا ہے۔ جیسے جیسے ہم بوڑھے ہوتے ہیں یہ حفاظتی بند کمزور ہو جاتے ہیں اور کروموسومز کا بچاؤ ختم ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ افزائشِ نو میں غلطیاں کرتے ہیں جو مسائل کا سبب بنتی ہے۔سائنسی تحقیق نے ٹیلومیئر کو پھیپھڑوں کی نسیجوں کی سوزش اور سرخ خلیوں میں نشو نما کی خرابی جیسی خطرناک بیماریوں سے منسلک کیا ہے۔سائسن دان پہلے ہی کامیابی سے اس لحمیے کی مقدار کو بڑھانے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو ٹیلی مییر کی لمبائی میں اضافہ کرتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق ٹیلی میئر کی لمبائی چوہوں کی عمر بڑھا سکتی ہے۔خلیے کا برتاؤمتاثر ہوتا ہےہمارے جسم میں ایک عمل ہوتا رہتا ہے جسے ڈی این اے کا اظہار کہتے ہیں۔ اس عمل میں ایک خاص خلیے میں ہزاروں کی تعداد میں موجود جینز ہدایات جاری کرتے ہیں کہ خلیے کو کیا کام کرنا ہے۔ کیا اسے جلد کے خلیے کا کردارادا کرنا ہے یا ذہن کے خلیے کی حیثیت میں عمل کرنا ہے۔

گزرتا وقت اور زندگی گزارنے کا طریقہ، خلیوں میں ہدایات کے اس عمل کو تبدیل کر سکتا ہے۔لہذا خلیے جس طرح کا عمل کرنے کے لیے بنے تھے اس سے ہٹ کر عمل کر سکتے ہیں۔خلیے میں تجدیدِ نو کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہےخلیات میں نقصان سے متاثرہ حصوں کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے ہمارے جسم میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ موجودہ مواد کی مسلسل تجدید کرتا رہے۔لیکن عمر بڑھنے سے اس صلاحیت کی رفتار ماند پڑ جاتی ہے۔چناچہ خلیے ایسے بے کار یا زہریلے پروٹین کو جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق بھولنے کی بیماری یا پارکنسن کے مرض یا آنکھ میں موتیا اترنے سے بھی ہوتا ہے۔

خلیات کا میٹابولزم کا کنٹرول کھو دیناوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خلیات چکنائی اورچینی جیسے مواد کو پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔اس سے ذیابیطس جیسی بیماری ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ خوراک کے ان اجزا کو جو خلیات میں پہچنتے ہیں مناسب طریقے سے میٹابولائز نہیں کر سکتے۔عمر سے متعلق ذیابطیس اسی وجہ سے لاحق ہوتی ہے کیونکہ عمررسیدہ جسم کھانے کی تمام چیزوں کو پروسس نہیں کر سکتا۔خلیات میں پائے جانے والے جسمیے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیںخلیات میں پائے جانے والے جسمیے خلیوں کو توانائی فراہم کرتے ہیں لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ وہ اپنی لیاقت کھو دیتے ہیں۔جب وہ خراب ہوتے ہیں تو ڈی این اے کے لیے نقصان دہ ہو جاتے ہیں۔بعض تحقیقات کے مطابق ایسے خلیات کی تعمیر کا عمل ممالیہ میں زندگی بڑھا سکتا ہے۔

سائنسی جریدے ‘نیچر’ کے مطابق جون میں ہونے والی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چوہوں کے جسم میں خلیات کے اندر پائے جانے والے جسیموں کی بحالی سے ان کی جھریاں ختم ہو گئیں۔خلیات زومبی بن جاتے ہیںجب خلیے کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے تو اس میں عیب دار خلیوں کی پیدائش روکنے کا عمل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ایسا خلیہ مرتا نہیں لیکن اس میں تقسیم کا عمل رک جاتا ہے۔یہ زومبی خلیہ جسے بوڑھا خلیہ کہتے ہیں، اپنے قرب و جوار کے دیگر خلیات کو متاثر اور پورے جسم میں سوزش پیدا کر سکتا ہے۔عمر رسیدہ خلیات جسم کے بوڑھا ہونے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔چوہوں میں ایسے خلیات کے خاتمے سے بظاہر عمر بڑھنے کے اثرات کم ہوئے ہیں۔

سٹیم سیل یا خام خلیوں میں توانائی کا خاتمہعمر بڑھنے کی علامات میں سب سے واضح افزائشِ نو کی قابلیت میں کمی ہونا ہے۔خام خلیے بالاآخر تھک جاتے ہیں اور ان میں افزائشِ نو کا عمل رک جاتا ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق خام خلیوں کو ‘جوان بنانے’ سے جسم پر بڑھاپا طاری ہونے کا طریقہ پلٹایا جا سکتا ہے۔خلیوں کے درمیان ابلاغ رک جاتا ہےخلیے مستقل طور پر ایک دوسرے کے ساتھ ابلاغ کرتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔اس سے سوزش ہوتی ہے جو ‘ خلیوں کے درمیان گفتگو’ میں مسائل پیدا کرتی ہے۔نتیجتاً خلیے مہلک خلیوں اور بکٹیریا کی موجودگی کے بارے میں چوکنا نہیں رہتے۔

سرانو کے مطابق عمر بڑھنے کے عمل کی تحقیق ایسے طریقے سامنے لا سکتی ہے جن کی مدد سے دوائیاں اعضا اور ٹشوز کے عمومی بگاڑ کی رفتار کم کر سکتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ عمر بڑھنا ناگزیر ہے لیکن زندگی گزارنے کے صحت مند طریقوں سے اسے کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔’گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں آج کل ضعیف افراد کے لیے زندگی زیادہ بہتر اور صحت مند ہے۔ سب سے اچھا طرزِ عمل یہ ہے کہ بڑھتی عمر میں بھی ہمیں زندگی سے لطف اٹھاتے رہنا چاہیے

ہائرنگ منیجر ریزیومے کیسے پڑھتے ہیں؟

ہائرنگ منیجر ریزیومے کیسے پڑھتے ہیں؟
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:04
کیریئر ریسرچرز نے دو درجن سے زائد ریکروٹر ز کوجانچا۔اس مرحلے میں معلوم ہوا کہ ہائرنگ منیجرز آپ کے ریزیومے پڑھنے کیلئے صرف چھ سیکنڈ خرچ کرتے ہیں۔ان چھ سیکنڈوں میں وہ کیا دیکھتے ہیں ملاحظہ ہونام حالیہ پوزیشن تجربے کا دورانیہ ماضی کی پوزیشن اور ان کا دورانیہ تعلیم لہٰذا ہائرنگ منیجر کی توجہ کے ان چھ

سیکنڈوں کوکام میں لائیے۔ہم اس دورمیں رہ رہے ہیں جہاں دس فیصد سے بھی کم کمپنیاں پورے منافع کا 80 فیصد حاصل کر رہی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم نے دنیا کی دس سب سے بہترین اور بڑی کمپنیوں کی

نئی فہرست جاری کردی ہے۔ جس کے مطابق:چائینہ موبائلدسویں نمبر پر موجود یہ دنیا کی سب سے بڑے موبائل نیٹ ورک کا چلا رہی ہے اور سب سے صارفین کی حامل ہے۔جنرل الیکٹرکجنرل الیکٹرکس نویں نمبر پر ہے۔ اسے 1878 میں تھامس ایڈیسن کے زمانے میں قائم کیا گیا۔جانسن اینڈ جانسنیہ ایک ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کاسامان بنانے والی کمپنی ہے۔ جسے آٹھواں نمبر دیا گیا ہے۔فیس بکسال 2013 اواخر میں فیس بک کے 1.79 ملین ایکٹیو یوزرس تھے۔ اسی لئے اسے ساتواں نمبر دیا گیا ہے۔

ایمازونچھٹے نمبر پر موجود ایمازون کی ویب سائیٹ صرف 49 منٹ کیلئے بند ہوئی تھی جس سے اسے 5.7 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا تھا۔ایکسزون آئلپانچویں نمبر پر موجود دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی 2006 میں پہلے نمبر پر تھی۔برکشائر ہیتھاوےاس کی شروعات ایک ٹیکسٹائل کمپنی کے طور پر ہوئی تھی لیکن اب یہ کئی فیلڈز میں زور آزمائی کر رہی ہے اور اب چوتھے نمبر پر ہے۔

مائیکروسافٹبل گیٹس اور پال ایلن نے 1975 میں اس ملٹی بلین کمپنی کی بنیاد ایک گیراج میں رکھی تھی۔ جو اب تیسری سب سے بڑی کمپنی ہے۔ایلفابیٹدنیا کی دوسری سب سے بڑی کمپنی گوگل کی ماں تصور کی جاتی ہے۔ گوگل کی شروعات اسی کمپنی سے ہوئی تھی۔ایپلدنیا کی دوسری سب سے بڑی کمپنی گوگل کی ماں تصور کی جاتی ہے۔ گوگل کی شروعات اسی کمپنی سے ہوئی تھی۔ایپل کی مجموعی مالیت 605 بلین ڈالرز ہے۔ اسی لئے اسے پہلےنمبر حاصل ہوا ہے۔

6 غلطیاں جو جلد بوڑھا کردیں

6 غلطیاں جو جلد بوڑھا کردیں
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 15:01
ہوسکتا ہے آپ ایسے 80 یا 90 سالہ افراد کو جانتے ہوں جو جسمانی طور پر مستعد اور ہر کام کرتے ہوں اور ایسے بھی 40 یا 50 سال کے لوگ آپ نے دیکھے ہوں گے جن سے ہلا بھی نہیں جاتا۔ درحقیقت آپ کی چند عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو جسم کو تیزی سے بڑھاپے کی جانب گامزن کردیتی ہیں۔ تاہم ان عادتوں سے واقف ہوکر انہیں

ترک کرنا اور قبل از وقت بڑھاپے سے بچنا کافی آسان ہے۔ خراب غذائی عادات ناقص غذا شرطیہ آپ کو قبل از وقت بڑھاپے کاشکار بناسکتی ہے، جنک فوڈ،

میٹھی یا زیادہ چربی والی غذائیں اس سفر کو تیز کردیتی ہیں جبکہ محدود مقدار میں کیلوریز اور زیادہ غذائیت پر مبنی خوراک جیسے پھل، سبزیاں، اجناس اور گوشت وغیرہ کا

استعمال اس سے سے بچاتا ہے۔ کم نیند اگر آپ مناسب نیند نہیں لیتے تو آپ کا پورا جسم متاثر ہوتا ہے، نیند صحت مند اور خوش باش زندگی کے ضروری ترین اجزاء میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ دماغ کو اپنا کام ٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہے جبکہ جسمانی نظام کو بھی ری چارج کرتی ہے۔ نیند سے دوری سے جسمانی وزن میں اضافہ، کینسر اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تناؤ کبھی کبھی کا تناؤ تو نقصان دہ نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے کیونکہ یہ مختلف ہارمونز کو خارج کرتا ہے، مگر جب یہ روزمرہ میں آپ کو شکار کرنے لگے تو یہ ہارمونز سردرد اور دل میں درد کا باعث بنتے ہیں، طویل المعیاد بنیادوں پر شدید تناؤ آپ کو نوجوانی میں ہی بوڑھا دکھانے لگتا ہے۔ جسمانی سرگرمیوں سے

دوری ہر وقت بیٹھے رہنے کی عادت جسم کے لیے تباہ کن بلکہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، بیٹھے رہنے کے نتیجے میں زیریں جسم کے عضلات کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے جبکہ میٹابولز پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان جلد بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ بہت زیادہ جسمانی محنت کرنے لگیں بلکہ کرسی سے کچھ دیر کے لیے اٹھ کر چہل قدمی کرنا بھی مثبت اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

تمباکو نوشی اگر آپ تمباکو نوشی، منشیات وغیرہ کی لت کا شکار ہوں تو یہ چیزیں جسم کو آپ کے خیال سے بھی تیزی سے تباہ کردیتی ہیں، ایک سگریٹ کے نتیجے میں 15 منٹ کے اندر ڈی این اے کو نقصان پہنچ سکتا ہے تواس سے نجات پالینا ہی بہترین ہے۔ تمباکو نوشی کے نتیجے میں جلد موت کا خطرہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

خطرات کے عناصر کو نظرانداز کرنا اگر ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ گلوکوز یا ہائی گلوکوز کی تشخیص نہ ہوسکے تو یہ جسم کو تباہ کردینے والے امراض ثابت ہوتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اکثر افراد کو ان امراض کا علم ہی اُس وقت ہوتا ہے جب ہارٹ اٹیک یا فالج کا حملہ ہوتا ہے اور اُس وقت تک کافی تاخیر ہوچکی ہوتی ہے، تو ہر چند ماہ کے اندر ان کے ٹیسٹ کرالینا اور ان کی علامات پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

’’ہر عروج کوزوال اوریہی قانون قدرت بھی ہے‘‘ مشہور کامیڈین کپل شرما شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد زوال کا شکارہونے کے بعد اب کیا کام کرنے پر مجبور ہو گئے، کس حال میں ہیں ؟ پہچاننا بھی مشکل ہو گیا

’’ہر عروج کوزوال اوریہی قانون قدرت بھی ہے‘‘ مشہور کامیڈین کپل شرما شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد زوال کا شکارہونے کے بعد اب کیا کام کرنے پر مجبور ہو گئے، کس حال میں ہیں ؟ پہچاننا بھی مشکل ہو گیا
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 14:54
اسلام آباد مشہور بھارتی کامیڈین کپل شرما نےنئے شو کیساتھ چھوٹی سکرین پر انٹری کیلئےتیاری شروع کر دی۔ تفصیلات کے مطابق مشہور بھارتی کامیڈین کپل شرما ایک بار پھر نئے شو کیساتھ چھوٹی سکرین پر انٹری کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔ ’’کامیڈی نائٹ ود کپل شرما‘‘سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے کپل شرما ایک بار پر

نئے شو کیساتھ چھوٹی سکرینپر قسمت آزمائی کیلئے تیاریاں کر رہے ہیں۔ واضحرہے کہ ’’کامیڈی نائٹ ود کپل شرما‘‘شو نے بھارتی اداکار کو جہاں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا وہیں اس دوران کئی مشکلات اور اتار چڑھائو بھی انہیں دیکھنے

پڑے جس کا اختتام شو بندہونے پر ہوا۔ بعدازاں کپل شرما ایک نئے شو کیساتھ سلور سکرین پر

جلوہ گر ہوئے جس کا نام ’’فیملی ٹائم وو کپل‘‘تھا تاہم یہ شو ناکام ہو گیا۔ شو بند ہونےکے بعد کپل شرما ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو گئے اور اپنی صحت پر توجہ نہ دینے کے باعث ان کے وزن میں بے تحاشا اضافہ ہوا جس کے باعث ان کا پہچاننا مشکل ہو گیا

لیکن اب ایک بار پھر ان پر قسمت مہربان ہو چکی ہے اور ان کو دوبارہ سلور سکرین پر جلوہ گر ہونے کا موقع میسر آگیا ہے جس کیلئے انہوں نے بھرپور تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں تاہم کپل کو اپنے وزن کم کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑے گی۔وزن کم کرنے کیلئے کپل شرما نے ایک ٹرینر کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں اور خود کو شو کیلئے دوبارہ سے فٹ اور جاذب نظر بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔خیال رہے کہ کپل شرما ایک فلم میں بطور ہیرو کا کردار بھی ادا کر چکے ہیں۔

یہ فلم مزاحیہ تھی تاہم اس سے کپل شرما کا بالی ووڈ میں بھی کیرئیر شروع ہو چکا تھا ، کپل شرما کئی ایوارڈ شو کی بھی میزبانی کر چکے ہیں جس کیلئے انہیں خوب سراہا گیا تھا۔ کپل شرما کی بام عروج پر منگنی کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں تاہم ذرائع کے مطابق مسلسل ناکامیوں کے باعث کپل شرما شراب نوشی میں اضافہ کر چکے ہیں جس کے باعث ان کے وزن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔