غریدہ فاروقی سکول ٹیچر سے نیوروم تک کیسے آئی شرمناک انکشاف

غریدہ فاروقی سکول ٹیچر سے نیوروم تک کیسے آئی شرمناک انکشاف
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 14:53
خدائے بزرگ وبرتر کی لاٹھی بڑی بےآواز ہوتی ہے ۔وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کی رسی درازرکھتا ہے جو اس کی مسلسل نافرمانی کرتے ہیں وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ کہاں تک جا سکتا ہے ۔انسان اسی زعم میں فرعون بن جاتا ہے اور اپنے تئیں لوگوں کی رزق ، زندگی اور موت کا مالک بن جاتا ہے – یہ ہوتی ہے انسان کی انتہا۔۔۔اور یہاں سے

انسان کا زوال کا آغاز ہوتا ہے۔پروردگار چاہتا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے معافی مانگ لے میں اسے معاف کر دوں گا مگراس کا وعدہ ہے کہ میں لوگوں

کے ساتھ کیےکے ساتھ کیے جانے والے ظلم وزیادتی کو معاف نہیں کروں گا جب تک کہ وہ انسان جس کے ساتھ ظلم ہوا ہو وہ معاف نہ کر دے-آج آپ کو ایک ایسی خاتون کا واقعہ بتاتا ہوں

جس نے تکبر کی ہر حد پار کی، بس (نعوذ باللہ ) خدائی دعویٰ کرنا رہ گیا تھا کہ اللہ نے اس کی دارز کی ہوئی رسی کو کھینچا اوروہ منہ کے بل زمین پہ آگری-اس خاتون کا نام غریدہ فاروقی ہے جو کہ پیشہ کے اعتبار سے صحافی ہے۔اس کا تعلق ملتان کے ایک غریب اور متوسط گھرانےسے تھا۔۔۔

آپ اب بھی اس کےآبائی گھر کا رخ کریں تو انتہائی تنگ گلیوں سے ہوتے ہوے ایک چھوٹا سا گھر آتا ہے-ان گلیوں سے گزرتے ہوئے آپ کو لاہور کے شاہی محلے کی گلیوں کا گمان ہو گا ۔ آج بھی اس کے بھائی کانوں میں بالیاں ڈالے،لمبے بال اور منہ میں پان دبائے ملیں گے۔ غریدہ فاروقی کچھ عرصہ مقامی سکول میں بچوں کوپڑھاتی بھی رہی مگر بعدازاں معروف سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کی طرح ملتان سے آنکھوں میں حسین خواب سجائے ہر قیمت پر پردہ سکرین پر شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا عزم لیے لاہور کا سفر کیا۔ لاہور پہنچ کر نیوز کاسٹر سے اپنے کیرئر کا آغاز کیا ،۔

گزشتہ ایک دہائی سے نیوز کاسٹر رہنے کے بعد 2014 کے دھرنے میں رپوٹنگ کے دوران عحیب و غریب اور چھچھوری حرکات کی وجہ سے میڈیا کی توجہ حاصل کی اور پھر پروگرام لینے میں کامیاب ہو گئی ۔کراچی میں جس چینل پے پروگرام کا آغاز کیا وہ پروگرام تو مشہور نہ ہوسکا مگر پورے چینل میں اینکر صاحبہ کے رویے نے شہرت حاصل کر لی-یہ شہرت کوئی نیک نامی والی نہیں تھی بلکہ بہت بری تھی جس کی بنیادی وجہ موصوفہ کا غیر انسانی رویہ تھا ۔غیر انسانی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ انسانیت تو دوسروں کے ساتھ پیار اوراحترام سیکھاتی ہے مگر اینکر صاحبہ کے پاس اس طرح کی تہذیب نام کی کوئی شے نہ تھی

یا شائد اس کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہو جہاں صرف اپنے کام سے مطلب ہو انسان کی کوئی قدر نہ ہوتی ہو۔ گھریلو ماحول اور تربیت کا بھی انسان کی شخصیت پر بڑا اثر ہوتا ہے جسیے تیسے کر کے بندہ اچھے ماحول میں آ بھی جائے مگر کہیں نہ کہیں انسان اپنی اصلیت دکھا ہی دیتا ہے ۔اینکر صاحبہ نے ایسی اصلیت دکھائی کہ پورا کا پورا چینل سٹاف ان کے نفسیاتی رویےسے تنگ تھا-

اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اس نے چینل چھوڑا توتمام سٹاف نے میٹھایاں تقسیم کیں ۔اور خدا کا شکر ادا کیا۔2015 میں خصوصی سفارش پر اس نے ایکسپریس نیوز جوائن کیا اورلاہور سے “جی فار غریدہ” کے نام سے پروگرام شروع کیا ۔لاہور میں رہنے کے لیے اس کے پاس نہ گھر تھا اور نہ ہی وسائل – عارضی طور پر ادارے کی جانب سے رہائش کے لیے ادارے کا گیسٹ ہاؤس دیا گیا جو صرف کراچی یا اسلام آباد سے آنے والے مہمانوں کے لیے مختص تھا مگر محترمہ تو 2 کمروں کا سامان لے آئیں جیسے دلہن سسرال بیاہ کر آئی ہو۔نئی نویلی دلہن کی طرح ان کے نخرے تو ساتویں آسمان پرتھے ،

کیوں نہ ہوتے ، اتنے بڑے چینل میں پرائم ٹائم کا شو اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ تخواہ بھی اتنی کہ زندگی میں اس کے بزرگوں نے بھی اتنی رقم یکمشت نہ دیکھی ہو۔ذہنی مریضہ تو وہ پہلے سے ہی تھی مگر اچانک اتنی شہرت ،دولت،اور پروٹوکول دیکھ کے دماغ بالکل ہی کام کرنا چھوڑ گیا اور موصوفہ تکبر کے اس اوج پر پہنچ گئی کہ خدا کے قہر کے علاوہ میڈیا کے پاس کم از کم اس کا علاج نہیںتھا۔اسی وجہ سے گزشتہ ڈھائی سالوں میں اس نے 26 پروڈیوسرز کو ذلیل خوار کر کےنکالا ۔

اگر ہر ایک کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کاذکر کیا جائے تو مجھے ڈر ہے کہ کوئی انسانی تذلیل کا سن کے غریدہ فاروقی کے خلاف انتہائی اقدام نہ اٹھالے۔انتظامیہ نےحیلے بہانوں سے چینل کا گیسٹ ہاؤس خالی کروایا تو گیسٹ ہاؤس کےملازمین نے خدا کا شکر ادا کیا اور موصوفہ بحریہ ٹاون میں پہلے 5 مرلے اور بعدازاں ایک کنال کے گھر میں منتقل ہو گئیں۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ موصوفہ شادی شدہ تھیں یا نہیں۔۔۔ بلکل نہیں۔۔۔ ابھی باضابطہ شادی نہیں ہوئی تھی تاہم اکژ رات گئے دلہن کی طرح ساڑھی پہنے بناؤ سنگار کرکےخود کو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر گھنٹوں خود سے باتیں کرتی ہیں اور اکیلے سج سنور کے گھر میں گھومتی رہتی ہیں ۔غریدہ فاروقی جس گھر میں منتقل ہوئیں اس کی بھی ایک سٹوری ہے لیکن بھر کسی دن ذکر کریں گے کہ موصوفہ کا مہربان کون ہے اور اتنی نوازشات کیوں ہو رہی ہیں ۔

کیسے پوری گلی کو کارڈن آف کیا گیا ہے اور کس کے کہنے پر ۔اہل محلہ اس سے اس قدر تنگ ہیں کہ الامان۔ گزشتہ دنوں اے آر وائی نیوزاور سوشل میڈیا پر خبر سنے کو ملی کہ اینکر صاحبہ نے اپنی ملازمہ کو گزشتہ 6 ماہ سے حبس بے جا میں رکھا ہوا تھا ۔خدا کا شکر ہے کہ عدالت اور پولیس کی مداخلت سے بچی بحفاظت بازیاب ہوئی ۔متعلقہ پولیس اسٹیشن نے عدالت میں جو رپورٹ جمع کروائی ہے اس میں انھوں نے 4 ایف آئی آرکا بھی ذکر کیا ہے جو موصوفہ اپنے ملازمین کے خلاف درج کروا چکی تھیں اور اس کے علاوہ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر تھا۔

کہ وہ پولیس ملازمین پر اپنے اینکر ہونے کا رعب جھاڑتی ہیں، تذلیل کرتی رہیں اور حکم نہ ماننے پر معطل کروانے کی دھمکیاں بھی دیتی رہیں-یہ سب دیکھ کے بہت دکھ ہوا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں کو صادق اور امین کا لیکچر دینے والی خود کس قدر پست ذہن اورمنافق ہےمگر آج یہ خبر سن کر خوشی ہوئی کہ چینل انتظامیہ نے اُس کی اس ذلیل حرکت پر اس کوچینل سے اٹھا کرباہر پھینک دیا ہے۔۔اسے کہتے ہیں اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے

نماز عصر کے بعد 30 مرتبہ پڑھیں ہر انسان آپ کی بات مانے گا ساری دنیا آپ کی عزت کرے گی

نماز عصر کے بعد 30 مرتبہ پڑھیں ہر انسان آپ کی بات مانے گا ساری دنیا آپ کی عزت کرے گی
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 14:47
اسلام علیکم دوستوآج میں آپ کوایک اسیے بہترین وظیفہ کے بارے میں بتائو گا انشاءاللہ اگرآپ اس وظیفہ کو بعد نما عصرکریں گے تواللہ پاک کا خاص کرم اور عنایت آپ پر ہو گی اورلوگ آپ کوعزت اوراحترام کی نظرسے دیکھیں گے دوستو جس طرح ہمارے دکھ تکلیف ہماری زندگی کاایک حصہ ہیں اسی طرح ہم کو نمازاور دوسری عبادات کو

اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیےاسلامی وظائف سے ہمارا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو لیکن اللہ کی نظر میں وہ شخص قابل تعریف ہےجو اللہکی زات پر توقل کرتا ہے اور اس سے ہی مانگتا

ہے اور اسی کے آگے جگتا ہے دوستو اللہ تعالی نے دنیا میں کسی بھی چیز کو بنا کسی مقصد کے تخلیق نہیں ہے کیا دنیا میں ہر آنے والی شے کو اللہ تعالی نے کسی

نہ کسی کام کے لیےمخصوص کیا ہے مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ان پتھروں کو سوچ کر یہ کہے کہ اللہ تعالی نے انہیں کیوں تخلیق کیا دوستو یاد رہے کہ جب خانہ کعبہ اللہ کے گھر پر حملہ ہوا تھا تو ابابیلوں نے اپنی چونچ اور پنجوں میں انہی بے جان پتھروں کی کنکڑیوں کو رکھ کر خانہ کعبہ پر حملہ کرنے والوں کو شکست سے دوچار کیا تھا

دوستو اس سے ثابت ہو کہ اللہ تعالی نے دنیا میں کسی بھی چیز کو بے کار پیدا نہی ہے کیا ہم کو اپنی آخرت اور دنیا دونوں کے ہی سنوارنہ ہے دوستو یہ وظیفہ جس پر مجھے کاملے یقین ہے کے انشاءاللہ کہ اگر کوئی شخص اس وظیفے کو بلا ناغہ ایکس دن کرتا ہے تو اللہ کے حکم سے اسے ایمان اور یقین حاصل ہو گا اور نفس کی پاکیزگی کا احساس بھی ہو گا اس وظیفہ کے اور بہت فائدے ہیں اس لیے آپ سے شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے دوستو اس وظیفے کی اجازتہر خاص وعام کو ہے لیکن صرف جائز مقاصد کے لیے وظیفہ دوستو آپ نے کرنا یہ ہے کہ بعد نماز عصر یہ وظیفہ شروع کرنا ہے

عصر سے فارغ ہوآپ نے آیت مبارکہ کو 30 مرتبہ اول آخر ایک بار درود شریف پڑھنا ہے آیت مبارکہ ہےلِيَجْزِيَهُـمُ اللّـٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَيَزِيْدَهُـمْ مِّنْ فَضْلِـهٖ ۗ وَاللّـٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (38) ترجمہ تاکہ اللہ انہیں ان کے عمل کا اچھا بدلہ دے اور انہیں اپنے فضل سے اور بھی دے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔ یاد رہے وظیفہ شروع کرنے سے پہلے کسی غریب کو ایک وقت کا کھانا ضرور کھلادیں تاکہ اللہ پاک کی رضا آپ کو اس وضیفے میں حاصل ہو سکے جس مکام پر وظیفہ شروع کریں اس کا پاک وصاف لازمی ہونا چاہیے ۔ کپڑوں پر کائی ہلکی خوشبو لگالیں تاکہ ماحول خشگوار ہو سکے ۔ وظیفہ ختم کرنے کے بعد دعا کا اہتمام کریں اسی ترتیب سے اس وضیفے کو آپ نے 21 دن کرنا ہے انشاء اللہ تعالی آپ کی ہر جائز حاجت لازمی پوری ہو گی آج کا وظیفہ اچھا لگا ہو تو دوستو لازمی شیئرکریں

مرغی پہلے آئی یا انڈہ، آخرکار جواب مل گیا

مرغی پہلے آئی یا انڈہ، آخرکار جواب مل گیا
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 13:15
آج تک اس سوال کا کوئہ منطقی جواب نہیں ملا کہ ‘ مرغی پہلے آئی تھی یا انڈہ؟’ تاہم اب ایک محقق رابرٹ کرول وچ نے اس کا جواب دے دیا ہے۔ لیکن اس جواب کے بعد بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔رابرٹ کے مطابق آج سے ہزاروں سال پہلے دنیا میں مرغی کا وجود نہیں تھا البتہ اس وقت اس سے ملتا جلتا ایک پرندہ موجود تھا جسے پروٹو

چکن کانام دیا گیا ہے۔جب پروٹومرغی نے ایک انڈہ دیا تو یہ پہلے والے انڈوں سے ذرا مختلف تھا کیونکہ اس میں ایک جینیاتی تبدیلی ہو

گئی تھی۔اس انڈے سے جو چوزا نکلا وہ پروٹو چکن نہیں بلکہ آج کی مرغی کی نسل کا آغاز تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ پروٹو چکن کی نسل ختم ہو گئی اور صرف وہ مرغیاں باقی رہ گئیں جنہیں آج ہم جانتے اور پالتے ہیں لہذا اس تحقیق کے نتیجہ میں یہ تو ثابت ہو گیا کہ آج کی مرغی اور انڈے میں سے پہلے دنیا میں آنے والی چیز انڈہ تھی لیکن اب یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ پروٹو چکن دنیا میں پہلے آیا یا اس کا انڈہ۔

ایک جگہ پہ ایک باز اور ایک مرغ اکٹھے بیٹھے تھے۔ باز مرغ سے کہنے لگا کہ میں نے تیرے جیسا بے وفا پرندہ نہیں دیکھا۔ تو ایک انڈے میں بند تھا۔ تیرے مالک نے اس وقت سے تیری حفاظت اور خاطر خدمت کی، تجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا۔ جب تو چوزہ تھا تو تجھے اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایااور اب تو اسی مالک سے بھاگا پھرتا ہے۔

مجھے دیکھ میں آزاد پرندہ تھا، میرے مالک نے مجھے پکڑا تو سخت قیدو بند میں بھوکا پیاسا رہا، مالک نے بہت سختیاں کیں لیکن جب بھی مالک شکار کے پیچھےچھوڑتا ہے تو شکار کو پکڑ کر اسی مالک کے پاس ہی لاتا ہوں۔مرغ کہنے لگا۔تیرا انداز بیان شاندار ہے اور تیری دلیل بھی بہت وزنی لگتی ہے لیکن اگر تو دو باز بھی سیخ پہ ٹنگے ہوئے دیکھ لے تو تیری دلیل دھری کی دھری رہ جائے اور کبھی لوٹ کر مالک کے پاس واپس نہ آئے

ایک شخص حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے رات کو نیندٹھیک سے نہیں آتی

ایک شخص حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے رات کو نیندٹھیک سے نہیں آتی
منگل‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2018 | 12:49
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آتا ہے اورعرض کرتا ہے۔ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے رات کو نیند ٹھیک سے نہیں ہے آتی رات کو سو نہیں ہو پاتا اور صبح جب اٹھتا ہوں تو پورے جسم میں درد سا رہتا ہے اور وہ درد بڑھتا رہتا ہے جب وہ اپنا درد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کر چکا تو تو انہوں

نے اس شخص سے فرمایا کے اے شخص اگر تم رات کو پانی پیتے ہو تو پانی پینا بند کر دو کیونکہ ایسا کرنا سخت

کے لئے انتہائی نہ مناسب ہے کیونکہ رات کو پانی پینے سے جسم میں ایسا دردشروع ہوجاتا ہے اگر اللہ پاک اسے شفاء دینا چاہیں تو دے سکتا ہے ورنہ اس کا علاج نا ممکن ہےمیرے دوستو میری بہنو میرے بھائیو پانی جسم کے لئے ایک بہت اہم چیز ہے جب ہم مناسب مقدار میں پانی نہیں ہے پیتے تو ہمارے جسم سے پانی خشک ہو جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت ہمیں پانی کی پیاس زیادہ لگتی ہے

ہمیں رات کے وقت پانی کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور اکثر لوگ رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں اس کا نقصان کیا ہوتا ہے رات کو اٹھ کر پانی پینے سے اب میڈیکل بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ رات کے وقت پانی پینے سے غریض کرناچاہیئے کس وجہ سے تین بڑی وجوہات ہے ایک تو یہ ہے کہ بستر پر جانے سے قبل پانی کا استعمال نیند کو متاثر کرتاہے اور اس عادت کے نتیجے میں رات کو پیشاب کے لئے بار بار اٹھنا پرتا ہے

انسان گرم بستر سے ایک دم واشروم جاتا ہے تو جسم ٹھنڈا پر جاتا ہے اس سورت میں بھی اٹھنا سخت کے لئے نقصان دہ ہے۔اور دوسری بری وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق گردوں کے ساتھ ہے آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ رات کو گردے اپنے کام میں بہت آہستہ ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کے صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھ پائوں سوجن کا شکار ہوتے ہیں رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد کے لئے یہ مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔ اور تیسری بری وجہ اگر آپ سونے سے قبل پانی پیتے ہیں تو

یہ آپ کی نیند میں مداخلت کا سبب بنتا ہے وزن کم کرنے کے لئے پانی کی طرح نیند بھی ایک اہم چیز ہے اور میڈیکل سائنس یہ کہتی ہے کہ چھ سے آٹھ گھنٹے نیند ہماری زندگی میں واقع ایک تبدیلی لا سکتی ہے سائنس کے مطابق وہ لوگ جو کم سوتے ہیں اور وہ لوگ جو زیادہ نیند لیتے ہیں ان کے وزن بڑھنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں کھڑے ہو کر پانی پینا اخلاقیات کے خلاف سمجھا جاتا ہے،اور اس حوالے سے اب ماہرین بھیبہت سے مشورہ دے رہے ہیں۔

ہربل ماہرین کےمطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری نسیں کھنچائو پیدا ہو تا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہربل ماہرین کےمطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری نسیں کھنچائو پیدا ہو تا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس طریقے سے ہم آہستہ آہستہ کھانا کھاتے ہیں اسی طرح آرام سے پانی بھی بیٹھ کر اور آہستہ آہستہ پینا چاہیئے۔ جلدی جلدی پانی پینے سے جسم میںآکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے جس سے دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ماہرین ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بیٹھ کر سکون سے پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرے جسم کھڑے ہوکر پانی پیا جاتا ہے تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتا ہے

اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے، یہ لہر معدے کی دیوار، ارگرد موجود اعضاءاور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے۔ گردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پیشاب کی نالی کیسوزش کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہے جو آگے بڑھ کر سینے میں جلن یا السر وغیرہ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ پیاس نہیں بجھتی ماہرین کے مطابق کبھی کبھار کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی برائی نہیں یا نقصان نہیں ہوتا مگر اس عادت بنالینے سےگریز کرنا چاہئے، اس عادت کے نتیجے میں پیاس کی بھی صحیح معنوں میں تشفی نہیں ہوتی۔

پیرومرشد

پیرومرشد
ہفتہ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:37
ایک شخص جسے لوگ ٹڈا کہتے تھے‘ اپنی بیوی کو لیکر اپنے مقامی گاﺅں سے نکل کر دوسرے گاﺅں میں سیٹل ہوگیا۔ فیصلہ کیا اس نئے گاﺅں میں نئی شناخت پیدا کروں گا اب لوگ مجھے ٹڈا نہیں پیر صاحب کہے گے۔ بیگم نے پوچھا وہ کیسے ؟

جواب دیا اس گاﺅں کے چوہدری کی بہن کے پاس ایک قیمتی ہار ہے بس تم وہ ہار کسی طرح چرا کر لے آﺅ‘ پھر دیکھتی جاﺅ‘بیگم نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہار کمال مہارت سے چرایا اور لاکر ٹڈے کو دے دیا‘دوسری جانب گاﺅں میں ہنگامہ ہوگیا

ہار کی چوری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی‘ٹڈے نے اپنی بیوی کو کہا جاﺅ جاکر چوہدری کی بہن کو بتا آﺅ کہ میرا خاوند بہت بڑا بزرگ ہے ‘لوگوں کی گمشدہچیزیں برآمد کرتا ہے۔اس بات پر چوہدری اپنے گھرانے اور گاﺅں والوں کو ساتھ لیکر ٹڈے کے ہاں حاضر ہوگیا اور پیر صاحب سے کہا جی بتائیے ہمارا ہار کہاں ہوسکتا ہے۔ ٹڈے نے راتوں رات ہار چوہدری کے گھر کی چھت پر پھینک دیا تھا‘ بتایا آپ کا ہار کسی نوکرانی نے چرایا تھا

جس نے بعد میں خوفزدہ ہوکر آپ کی چھت پر پھینک دیا‘جاکر اٹھا لو وہاں سے۔ ہار ملنے کے بعد اس ابتدائی کرامت پر سارا گاﺅں پیر صاحب کا مرید ہوگیامگر چوہدری جو اندھوں میں کانا راجہ تھا اسے پیر صاحب کھٹکنے لگا‘ گاﺅں والوں کو سمجھایا کہ یہ شخص مجھے فراڈ معلوم ہوتا ہے مگر گاوں والے انکار کرتے رہے‘ چوہدری نے پیر صاحب کو ایک اور آزمائش میں ڈالا مگر خوش قسمتی سے وہ اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوگیا‘لوگوں نے چوہدری کو سمجھایا کہ اب بس کرو بزرگوں پر شک نہیں کیا جاتا‘ چوہدری پریشان ہوگیا اور عہد کرلیا جو بھی ہو میں اس پیر کا بھانڈا پھوڑ کے ہی چھوڑں گا‘آخر ایک دن چوہدری نے اعلان کیا کل کھلے میدان تمام گاوں کے لوگ اکٹھے ہونگے اگر پیر صاحب نے بتا دیا کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے تو میں سب کے سامنے اس کے ہاتھ پر بیت ہوجاونگا‘سب لوگ پیر سمیت میدان میں پہنچ گئے چوہدری گھر

سے نکلا تو سوچتا رہا ہاتھ میں کیا پکڑا جائے؟ اچانک اس کی نظر ایک ٹڈے پر پڑ گئی اس نے پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ پھدک گیا ، پھر ہاتھ بڑھایا پھر پھدک گیا ، تیسری دفعہ میں پکڑا گیا۔چوہدری مجمعے میں پہنچا اور سوال کیابتاﺅ‘ میری مٹی میں بند ہے کیا‘اس سے پہلے کہ پیر صاحب جواب دیتا کہ” ناز پان مسالہ“ایک گہری سوچ میں پڑ گیا‘ اسے اپنی شامت نظر آئی‘ دو بار تو جیسے تیسے بچ گیا تھا مگر اس بار بچنا ناممکن تھا لہٰذا مایوسی میں آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور اپنے آپ کو کوستے ہوئے کہا‘ہائے رے ٹڈے پہلی چھلانگ میں تو بچ گیا تھا‘ دوسری چھلانگ میں بھی بچ گیا مگر اب تیسری دفعہ تم گرفت میں آگئے۔یہ سنتے ہی چوہدری ٹڈا المعروف پیر صاحب کے پاﺅں سے لپٹ گیا دھاڑے مار مار کر معافیاں مانگیں‘ کہا کوئی مانے نہ مانے میں مانتا ہوں کہ تم پیر ہو مرشد ہو۔

پاکستان کے ساتھ کی گئی تاریخی دھوکے بازی

پاکستان کے ساتھ کی گئی تاریخی دھوکے بازی
ہفتہ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:27
بھارت اور پاکستان کی سرحدوں کا تعین کرنے کی خاطر جون 1947ء میں برطانوی حکومت نے دو باؤنڈری کمیشن بنائے جن کا سربراہ ایک انگریز جج سرریڈ کلف مقررکیا گیا۔ان دونوں کمیشنز کو پنجاب اور بنگال کے صوبے پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرنے تھے۔

ریڈ کلف 8 جولائی کو ہندوستان پہنچا اور مسلم و غیر مسلم ارکان ِکمیشن کے ساتھ سرحدوں کا تعین کرنے میں مصروف ہو گیا۔9 تا 12 اگست چار دنوں کے درمیان باؤنڈری کمیشنزنے اپنا کام مکمل کر لیا۔اسی دوران کمیشنز کی خفیہ رپورٹوں کی نقول کانگریس کی جانب جھکاؤ رکھنے والے

وائسرائے ہندلارڈ ماؤنٹ بیٹن یا ریڈ کلف کے کسی ہندو اسسٹنٹ نے پنڈت نہرو تک پہنچا دیں۔ان رپورٹوں کی رو سے ضلع فیروزپور اور ضلع گورداس پور پاکستان میں شامل دکھائے گئے تھے۔ان دونوں ہی اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی ہندوئوں اور سکھوں سے زیادہ تھی۔ رپورٹیں دیکھ کر پنڈت نہرو اور دیگر کانگریسی لیڈر پریشان ہو گئے۔ضلع فیروزپور میں فیروز پور ہیڈورکس سے نکلنے والی نہریں پنجاب اور راجھستان کے وسیع رقبے کو سیراب کرتی تھیں۔

یہ ہیڈورکس پاکستان کے قبضے میں چلا جاتا تو کسی بھی نازک صورت حال میں وہ بھارتی علاقوں کا پانی روک کر بھارتی حکومت کو مشکلات میں ڈال سکتا تھا۔جبکہ ضلع گورداس پور میں بھی مشرقی پنجاب کو سیراب کرنے والی نہروں کے ہیڈورکس واقع تھے۔نیز اسی ضلع کی تحصیل پٹھان کوٹ سے کشمیر کو راستہ جاتا تھا۔یہ ضلع پاکستان کو مل جاتا تو ریاست کشمیر بھی خودبخود پاکستان میں ضم ہو جاتی۔

ریاست کا ہندو راجا بھی کوئی الٹی حرکت نہ کر پاتا۔یہ خطرات دیکھ کر پنڈٹ نہرو نے ماؤنٹ بیٹن کی بیوی،ایڈوینا کے ذریعے وائسرائے ہند پر زبردست دباؤ ڈالا کہ وہ ریڈکلف کو حکم دے کر دونوں درج بالا ضلاع بھارت میں شامل کرا دے۔چنانچہ 15 اگست کی رات لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف کو کھانے پر بلا لیا۔اس دعوت میں وائسرائے نے مہمان جج پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ باؤنڈری کمیشنز کی رپورٹیں تبدیل کر دے۔

ریڈکلف دباؤ برداشت نہ کر سکا اور اس نے فیروزپور اور گورداس پور کے اضلاع بھارت میں شامل کر دیے۔یوں خود کو انصاف پسند،دیانت دار اور حق گو کہنے والے برطانوی لیڈروں نے کھلے عام پاکستان سے دھوکے بازی کی اور اسے نقصان پہنچا یا۔ حالانکہ یہ ملک حال ہی میں وجود میں آیا تھا۔یہ منافق مغربی استعمار کے ظلم اور عالم اسلام سے تعصب کی نمایاں مثال ہے

ایک مرتبہ حضرت مرتش ؒ بغداد کے ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک لڑکی کو دیکھا اور اُس پر فریفتہ ہوگئے

ایک مرتبہ حضرت مرتش ؒ بغداد کے ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک لڑکی کو دیکھا اور اُس پر فریفتہ ہوگئے
ہفتہ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:20
حضرت مرتعش رحمتہ اللہ علیہ ایک روز بغداد کے کسی محلہ میں سے گزر رہے تھے۔کہ انہیں پیاس محسوس ہوئي ۔ایک مکان پر دستک دی اور پانی مانگا۔تھوڑی دیر بعد ایک عورت پانی کا برتن لے آئی ۔انہوں نے پانی پیا اور جب پانی پلانے والی کی طرف دیکھا تو اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئے۔

جاری ہے۔اور دروازے پر دھرنا مار کر بیٹھہ گئے۔چند لمحوں بعد مالک ء مکان باہر نکلا تو حضرت مرتعش نے کہا اے خواجہ؛ میں پانی کا ایک گھونٹ پینے کے لئے یہاں آیا تھا اور تمہارے گھر سے جو

عورت پانی پلانے آئي میرا دل لے گئ ہے ۔ مالک ء مکان نے کہا وہ میری بیٹی ہے اور میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔حضرت مرتعش دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر گھر کے اندر گئے اور لڑکی سے نکاح کرلیا لڑکی کا باپ بیحد امیر انسان تھا۔وہ انہيں حمام لے گیا اور پھر گڈری اتروا کر عمدہ پوشاک پہنا دی ۔رات ہوئي اور حضرت مرتعش نماز پڑھنے کے بعد تنہائي میں ورد کرنے لگے تو انہوں نے آواز دی کہ میری گڈری لائي جائے۔گھر والوں نے پوچھا کہ کیا بات ہوگئ ہے؟۔جاری ہے۔

حضرت نے کہا کہ غیب سے ندا آئي ہے کہ اے مرتعش؛تم نے ایک نظر ہمارے غیر پر ڈالی ہے اور ہم نے اس کی سزا کے طور پر تم سے صلاحیت کا لباس اور تمہارے ظاہر سے گڈری اتار لی ہے۔اب اگر تم دوسری مرتبہ ہمارے غیر پر نظر ڈالو گے تو ہم تمہارے باطن سے اس قرب و معرفت کا لباس بھی اتار لیں گے۔جس کے پہننے سے اللہ کی رضا اور اسکےمحبوبوں اور اولیائے کرام کی تائید حاصل ہوتی ہے اور اس پر برقرار رہنا۔جاری ہے۔مبارک ہوتا ہے۔اگر تم اللہ تعالی کے ساتھہ اس میں زندگي بسر کرسکتے ہو تو کرو اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو اولیائے کرام کے لباس میں خیانت نہیں کرنی چآہئے

وکس کے استعمال کے 8 شاندار طریقے

وکس کے استعمال کے 8 شاندار طریقے
ہفتہ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:35
ہر گھر میں ادویات کے ساتھ وکس ویپورب کا ہونا لازمی سی بات ہے۔ یہ مرہم مختلف اقسام کے درد میں آرام پہنچاتا ہے۔ لیکن وکس روز مرہ کی زندگی میں اور بہت سی چیزوں کے لئے بھی کارآمد ہے۔ ہم آج اپ کو اس کے استعمال کے اور بھی طریقے بتائیں گے۔پالتو جانوروں کی تربیتعام طور پر جانور ادویات وغیرہ کی خوشبو سے دور

بھاگتے ہیں۔ اگر اپنے پالتو جانور کو کسی کام سے یا کسی جگہ جانے سے روکنا ہو تو اس جگہ تھوڑی سی وکس لگا دیں۔ پالتو جانور وہاں نہیں جائے گا جہاں

سےاسے وکس کی خوشبو آئے گی۔پھٹی ایڑھیاں اور فُٹ فنگسوکس ایک چکناہٹ سے بھرپور مرہم ہے جو جلد میں نمی برقرار رکھنے لے لئے مفید ہے۔ وکس کے استعمال سے پیروں کی پھٹی ایڑھیاں اور کھال دوبارہ نرم و ملائم بنائی جاسکتی ہے۔

رات کو سونے سے پہلے پیروں پر اچھی طرح وکس کا مساج کریں اور صبح اُٹھ کر ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔ مردہ کھال رگڑ کر اتاردیں اور پھر جلد اور ایڑھیوں پر کوئی بھی اچھا لوشن لگا لیں۔ فُٹ فنگس سے نجات کے لئے بھی متاثرہ حصوں پر وکس لگائیں اور موزے پہن کر سوجائیں۔ صبح ٹھنڈے پانی سے دھو کر ناخن کاٹ لیں۔چہرے کی جھریاں اور اسٹریچ مارکسدن میں ایک مرتبہ چہرے کی جھریوں اور اسٹریچ مارکس پر وکس کا مساج کریں۔ تھوڑے ہی عرصے میں یہ نشانات غائب ہوجاتے ہیں۔

زخم یا چوٹ کے نشانجلد پر گہرے زخم یا کٹنے کے نشانات پر وکس لگائیں۔ نہ صرف زخم جلدی بند ہوگا بلکہ اس کا نشان بھی نہیں پڑے گا۔مختلف اقسام کے درد٭ وکس ویپورب کی تھوڑی سی مقدار روئی میں لگائیں اور کچھ گھنٹوں کے لئے کان میں رکھ لیں۔ یہ نہ صرف درد کھینچنے میں مدد دے گا بلکہ اس کی اینٹی سیپٹک خصوصیات کان کے انفیکشن کو بھی ختم کر دیں گی۔٭ اس کے علاوہ سر کے درد میں وکس کنپٹیوں اور ماتھے پر مل کر سر پر گرم کپڑا یا تولیہ لپیٹ لیں۔

٭ پٹھوں میں کھنچاؤ کے باعث اینٹھن یا درد ہو تو متاثرہ حصے پر وکس مل کر گرم پٹی باندھ لیں۔ پٹی کو نہ ذیادہ کس کر باندھیں نہ ذیادہ ڈھیلا۔ کچھ دیر میں درد غائب ہو جائے گا۔کیڑے مکوڑوں سے حفاظتوکس جلد کے کھلے حصوں پر لگانے سے کیڑے مکوڑے پاس نہیں آئیں گے۔

اگر کسی کیڑے نے کاٹ لیا ہو تو وکس نشان سے خارش اور سرخی ختم کر کے اس سے انفیکشن کا خطرہ بھی ختم کر دے گا۔شفاف نظرآنکھوں کے نیچے جلد پر وکس لگانے سے آنکھوں میں پانی آئے گا جس سے آنکھوں کی اندرونی صفائی ہوجائے گی۔ گرد و غبار صاف ہوجانے سے منظر شفاف نظر آئے گا۔بے آواز دروازےدروازوں کے قبضوں میں وکس لگانے سے چرچراہٹ کی آواز ختم ہوجاتی ہے اور دروازے آسانی سے کھلتے بند ہوتے ہیں

ہم انڈیا سے کیوں الگ ہوئے

ہم انڈیا سے کیوں الگ ہوئے
ہفتہ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:33
1۔ دنیا میں سب سے زیادہ غریب انڈیا میں پائے جاتے ہیں۔ 2۔ دنیا میں سب سے زیادہ ان پڑھ انڈیا میں پائے جاتےہیں۔ 3۔ دنیا میں سب سے زیادہ بے روزگار انڈیا میں پائے جاتےہیں۔ 4۔ انڈیا میں کم از کم 2 کروڑ لوگ چوہے کھاتے ہیں۔ 5۔ دنیا میں سب سے زیادہ جسم فروشی انڈیا میں ہوتی ہے۔ 6۔ انڈیا کی 70 فیصد آبادی کے پاس بیت

الخلا کی سہولت موجود نہیں۔ 7۔ دنیا میں سب سے زیادہ جسمانی اعضاء انڈین بیچتے ہیں۔ انڈیا دنیا کا واحد ملک ہے کہ گاؤں کے باہر اشتہار لگا

ہوتا ہے کہ اس گاؤں میں ہر بندے کا گردہ برائے فروخت ہے۔ 8۔ دنیا میں سب سے زیادہ فٹ پاتھ پر سونے والے بھی انڈیا میں پائے جاتے ہیں۔ جہاں فٹ پاتھون پر پورے پورے خاندان بستے ہیں۔ 9۔ غربت کے ہاتھوں دنیا میں سب سے زیادہ خود کشیاں انڈیا میں ہوتی ہیں۔ 10۔ بھارت پر 500 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرضہ ہے۔11۔ انڈیا کے پاس 377 ارب ڈالر کے ذر مبادلہ کۓ ذخائر ہیں

جو اس کے اپنے نہیں بلکہ 8 فیصد کی شرح سود پر جمع بینکوں سے لی گئی رقوم ہیں۔ بھارتی معیشت ہوا میں کھڑی ہے۔ 12۔ بھارت کے 29 میں سے 22 صوبے آزادی مانگ رہے ہیں۔ کم از کم 100 پرائویٹ افواج بھارتی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ 13۔ انڈیا کے کم از کم 40 فیصد حصے پر انڈیا حکومت کی رٹ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ 14۔ بھارت کے مختلف صوبوں میں پاکستانی جھنڈے لہرانا معمول ہے۔ 15۔ بھارت میں بچیوں کو ماؤوں کے پیٹ میں قتل کرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ہمارے کچھ لوگ روتے رہتے ہیں کہ ” ہم انڈیا سے کیوں الگ ہوئے ” ۔۔۔ پاکستان زندہ آباد ہمیں پاکستان کی قدر کرنی چاہیے اسلام سب سے بڑی نعمت ہے

کیا پانی پر قرآنی آیات پڑھ کر دم کر نے سے ہمارے جسم پر کوئی فرق پڑتا ہے ؟جب جاپانی سائنسدانوں نے اس پر ریسرچ کی تو کیا حیران کن بات پتہ چلی ؟

کیا پانی پر قرآنی آیات پڑھ کر دم کر نے سے ہمارے جسم پر کوئی فرق پڑتا ہے ؟جب جاپانی سائنسدانوں نے اس پر ریسرچ کی تو کیا حیران کن بات پتہ چلی ؟
ہفتہ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:30
پانی کا اپنا نہ کوی رنگ ہے نہ بو, اور نہ ہی کوئ ٹھوس ماہیت. بلکہ پانی ہر چیز کے اثرات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور جس چیز میں ڈالو وہی ماہیت اختیار کر لیتا ہے.ایک جاپانی سائنس دان Dr. Masaru Emoto نے پانی پر مختلف تجربے کیے جس کا احوال ان کی کتاب The hidden message in water میں بیان کیا گیا

ہے،جس کا اردو ترجمہ محمد علی سید نے اپنی کتاب ’’پانی کے عجائبات‘‘ میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمیںشکر اور ناشکری کے الفاظ کے حیران کن

کن اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے ذرات یعنی کرسٹلزکی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی اور دریا اور جھیل کے پانیوں کے نمونے لیے اور انھیں برف کے ذرات یعنی Crystals کی شکل میں جمایا۔اس تجربے سے اسے معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے،

صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل تھے۔اس نے ایک اور تجربہ یہ کیا کہ ایک ہی پانی کو مختلف بوتلوں میں جمع کیا اور ہر بوتل کے سامنے مختلف قسم کی موسیقی بجائ. موسیقی کی ہر قسم سے کرسٹلز کی ایک نئی شکل بنتی گئی.

مطلب پانی ہر موسیقی کا مختلف اثر لیتا گیا. اس کے بعد اس نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔ اس نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کیے۔ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر اس نے لکھا “You Fool” اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا “Thank You” یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دوبوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو “You Fool” اور “Thank You”

والی بوتل کے پاس ٹھہرکر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بڑی شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو “Thank You”۔یہ عمل 25 دن جاری رہا۔ 25 ویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کو برف بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوبصورت کرسٹل بنے تھے) کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل۔ ڈاکٹر اموٹو کے کہنے کے مطابق یہ کرسٹل اس پانی کے کرسٹل سے ملتے جلتے تھے جن پر ایک مرتبہ انھوں نے “SATAN” یعنی شیطان لکھ کر رکھ دیا تھا۔نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے،

اس مرتبہ اس پر ’’تھینک یو‘‘ لکھا ہوا تھا اور کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر ’’تھینک یو‘‘ کہتے رہے تھے، اس پانی سے بہترین اور خوب صورت کرسٹل بن گئے تھے۔اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ پانی باتوں کا بھی اثر لیتا ہے اور ویسی ہی ماہیت اپنا لیتا ہے. اچھی باتوں سے اچھی ماہیت اور بری باتوں سے بری.Thank you اور you foolوالا تجربہ کھانے کی چیزوں کے ساتھ بھی کیا گیا. ایک کیک کے دو پیس کاٹے گئے اور ایک کو Thank you کہا گیا اور دوسرے کو You fool. ایک بار پھر نتیجہ یہ نکلا کہ برے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے بھی بہت پہلے خراب ہو گیا

جبکہ اچھے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے کافی زیادہ وقت تک تازہ اور زائقہ دار رہا.مطلب کھانے پینے کی ہر چیز الفاظ اور سوچ کا اثر لیتی ہے. ان تجربات سے ہمیں یہ بات سمجھ آئ کہ جب ہم پانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں تو اس میں کس طرحبرکت پیدا ہوتی ہے کھانے پینے کی چیزوں پر سورت فاتحہ یا کوی بھی کلام پاک پڑھتے ہیں تو پانی کی ماہیت کس طرح تبدیل ہو کر پینے والے کو شفا دیتی ہے. جب ہم روٹی کے ہر لقمے پر اللہ کا نام یا واجد پڑھ کر کھاتے ہیں تو وہ کس طرح ہمارے اندر نور پیدا کرتا ہے.

سبحان اللہ لیکن یہاں ایک اور تجزیہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہم کھانے پینے کی اشیاء سامنے رکھ کر جو جو بولتے ہیں اور جو جو سوچتے ہیں ہمارے کھانے اس کا بھی اثر لیتے ہیں. منفی سوچ اور منفی باتوں کا برا اثر اور اچھی باتوں کا اچھا اثر. کھانے کے دوران لوگوں کی غیبت کریں گے تو کھانا برا اثر لے کر ہمارے پیٹ میں جاۓ گا. اگر ٹی وی ڈرامے یا فلمیں دیکھتے ہوے کھانا کھائیں گے تو وہ کھانا ہمارے پیٹ میں جا کر بھی ویسا ہی اثر دکھاۓ گا. اگر پانی کے سامنے موسیقی بجے گی تو ہمارے پیٹ میں بھی وہی موسیقی کے مضر اثرات جائیں گے. اور اگر ہمارا کھانا اور پانی اللہ کا کلام جذب کریں گے تو شفا کا سبب بنیں گے.کھانا پینا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

کھانے کو اگر ہم اسلامی آداب اور سنت کے مطابق کھائیں گے تو ہمیں بے شمار برکتوں کے علاوہ ثواب بھی ہاتھ آئے گا۔ کھانے کے درج ذیل آداب ہیں۔ * اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے “کھاؤ پیو مگر فضول خرچی نہ کرو۔“ (الاعراف 31) * سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ * آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا دستور تھا کہ جب تک بھوک نہ لگے نہ کھاتے، اور تھوڑی بھوک رہنے پر کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے۔ (زاد المعاد) * آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ انسان کو چند لقمے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، کافی ہیں۔ * کھانے سے مقصود راہ آخرت کیلئے قوت ہے۔ اس کی صورت یہ ہونی چاہئیے کہ (1) حرص نہ ہو (2) وجہ حلال ہو (3) آداب طعام ملحوظ ہو۔ * احیاء العلوم میں ہے، کہ مسلمان جب حلال کا پہلا لقمہ کھاتا ہے اس کے پہلے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ * مردار، بہایا ہوا خون اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا حرام ہے۔

(البقرہ) کھانے سے پہلے کے آداب و سنن * رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے سے قبل دونوں ہاتھوں کو دھونا اور کلی کرنا برکت کا سبب ہے۔ (احیاء العلوم) *اگر چھوٹے بچے ساتھ ہوں تو پہلے ان کے ہاتھ دھلا لیں۔ * زمین پر سرخ دسترخوان بچھا کر کھایا کریں۔ (شمائل ترمذی) * کھانے سے پہلے جو ہاتھ دھوئیں تو حکم ہے کہ ان ہاتھوں کو تولیہ یا رومال سے نہ پونچھیں۔ (شمائل الرسول) * آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بھوکے سونے سے منع فرماتے۔ (زاد العماد) * فرمایا کہ ساتھ مل کر کھانے سے اپنے ساتھی کا خیال رکھو۔ * سب مل کر کھانے میں برکت ہے۔ * میوہ اور کھانا اگر جمع ہو تو فرمایا کہ پہلے میوہ کھایا جائے اولہ الطفہ (جامع صغیر سیوسطی) * علی الصبح کچھ نہ کچھ مختصر کھا لینے کو بہتر فرمایا۔ (جامع صغیر) کھانے پر بیٹھنے کا طریقہ * کھانے کے وقت الٹا پاؤں بچھا دیں اور سیدھا کھڑا رکھیں یا سرین پر بیٹھ جائیں اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھیں

یا دو زانو بیٹھ جائیں تینوں میں سے جس طرح بیٹھیں سنت ادا ہو جائے گی۔ کھانے کے دوران کے آداب * رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے پہلے اور بعد میں نمک استعمال فرماتے۔ * اگر اتفاقاً ابتدا میں بسم اللہ کہنا بھول جائیں تو بسم اللہ اولہ واخرہ۔ (شمائل الرسول) * بسم اللہ وعلی برکت اللہ کچھ بلند آوام سے پڑھیں۔ (حوالہ مذکور) * سیدھے ہاتھ سے چھوٹا لقمہ (تین انگلیوں کی مدد سے) بنائے اور اپنے سامنے سے کھائیں۔ (زاد المعاد) * ہر نوالہ کو خوب چبا چبا کر کھائیں۔ * سالن یا چٹنی کی پیالی روٹی پر نہ رکھیں۔ * گرم گرم کھانے اور اس پر پھونک لگانے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ * آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں عیب نہ نکالتے، پسند نہ ہو تو چھوڑ دیتے۔

* آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے دوران سوائے شدید ضرورت کے پانی نہ پیتے۔ (احیاء العلوم) * کھانے کے فوری بعد میں پانی پینے کی عادت نہ تھی۔ * آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بھوک رہنے پر ہاتھ کھینچ لینے کی تاکید فرماتے۔ * فرماتے کہ اگر اپنے ساتھیوں سے پہلے کھا چکو تو تب بھی آہستہ آہستہ کھاتے رہو تا کہ تمہارے ساتھی بھوکے نہ رہ جائیں۔ اگر ضرورت ہو تو ساتھی سے اجازت لیکر اٹھ سکتے ہو۔ * آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہمان کو بار بار فرماتے “اور کھائیے اور لیجئے“ اور جب وہ آسودہ ہو جاتا اور انکار کرتا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصرار نہ فرماتے۔ * آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کی تقسیم اپنی سیدھی جانب سے شروع فرماتے اور اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال فرماتے۔

* اپنے کھانے کے برتن کو خوب خوب صاف کرتے اور اپنی انگلیوں کو بھی چوس لیتے تھے۔ روٹی کے ریزے بھی چن کر کھاتے۔ کھانے کے برتن میں ہاتھ دھونا معیوب سمجھتے۔ (شمائل الرسول) * فرمایا کھانے پینے کی چیز کسی کے پاس لے جایا کرو تو ڈھانک کر لے جایا کرو۔ (متفق علیہ) * کھانے کے دوران مختصراً عمدہ گفتگو بھی کی جائے۔ (چونکہ یہود خاموش کھاتے ہیں) اس لئے ان کے خلاف کرنے کا حکم ہے۔ (جامع صغیر) کھانے کے بعد کے احکام * آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کھانے کے بعد دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوتے اور فرماتے کہ اپنے ہاتھوں کو کھانے کی بو سے پاک کر لیں تاکہ لوگ اس کی بو سے ایذا نہ پائیں۔ (اس لئے اشنہ یا صابن وغیرہ کا استعمال کر لیں) اور اس کے بعد کپڑہ وغیرہ سے ہاتھ پونچھ لیں۔ (طبرانی)

* پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے بعد خلال فرماتے اور ارشاد فرماتے میری امت میں جو لوگ وضو میں مسواک اور کھانے کے بعد “خلال“ یعنی دانتوں میں کاڑی کرتے ہیں وہ خوب ہیں۔ (طبرانی) * رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو کھانے کے فوری بعد سو جانے کی ممانعت فرمائی اور دوپہر کے وقت قیلولہ (تھوڑی دیر لیٹ جانے کا) حکم فرمایا۔ (شمائل الرسول) کھانے کے بعد یہ دعا فرماتے۔ الحمدللہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین ہ پانی پینے کے آداب پانی بیٹھ کر ، اجالے میں دیکھ کر ، سیدھے ہاتھ سے بسم اللہ پڑھ کر اس طرح پئیں کہ ہر مرتبہ گلاس کو منہ سے ہٹا کر سانس لیں ، پہلی اور دوسری بار ایک ایک گھونٹ پئیں اور تیسری سانس میں جتنا چاہیں پئیں ۔ حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا:

”اونٹ کی طرح ایک ہی گھونٹ میں نہ پی جایا کرو بلکہ دو یا تین بار پیا کرو اورجب پینے لگو تو بسم اللہ پڑھا کرو اورجب پی چکو تو الحمد للہ کہا کرو۔” (سنن ترمذی،کتاب الاشربۃ،باب ماجاء فی التنفس فی الاناء،الحدیث۱۸۹۲،ج۳،ص۳۵۲) حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،فیض گنجینہ ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پینے میں تین بار سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے :”اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لئے مفید وخوش گوار ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ ،باب کراھۃ التنفس فی الاناء …الخ،الحدیث ۲۰۲۸،ج۳،ص۱۱۲۰)

حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے پیارے محبوب ،دانائے غیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایاہے ۔ (سنن ابو داؤد ،کتاب الاشربۃ ،الحدیث ۳۷۲۸،ج۳،ص۴۷۵) حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،فیض گنجینہ راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایاہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ ،باب کراھۃ الشرب قائما ،الحدیث ۲۰۲۴،ص۱۱۱۹) اللہ پاک ہم سب کو اسلامی آداب کے مطابق کے مطابق کھانا پینا نصیب فرماے اور کھانے اور پانی پر مضر اثرات ڈالنے والے غلط اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرماے. آمین.نوٹ : ڈاکٹر اموٹو نے آب زم زم پر بھی تجربہ کیا اور اقرار کیا کہ آب زم زم میں قدرتی طور پر صحت افز اور شفا بخشنے والی کمپوزیشن موجودہے. سبحان الل