کیا نیو اسلام آباد ایئر پورٹ انتہائی قدیم قبرستان پر بنایا گیا ہے ؟

کیا نیو اسلام آباد ایئر پورٹ انتہائی قدیم قبرستان پر بنایا گیا ہے ؟
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 15:56
نیو اسلام آباد ائیر پورٹ اپنے افتتاح کے بعد سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے جس کی وجہ کبھی تو ائیر پورٹ کے انتطامی امور ، کبھی ائیر پورٹ پر مسافروں کے سامان کی گمشدگی ، کبھی بارشوں میں نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کی چھتوں کا ٹپکنا،کبھی ناقص انتظامیہ تو کبھی ناقص میٹیریل اور کبھی اس ائیرپورٹ پر غیر مرئی مخلوق کی

موجودگی ہے۔نیو اسلام آباد ائیر پورٹ سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہاں غیر مرئی مخلوق کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ائیر پورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی

اکثر اس مخلوق کو دیکھا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد سے ہی نیو اسلام آباد ائیر پورٹ سے متعلق کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کو قدیم قبرستان پر بنایا گیا ہےجس کی وجہ سے وہاں اس مخلوق کی موجودگی اکثر لوگوں کو دکھائی دیتی ہے۔یہی نہیں بلکہ نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کی تعمیر میں حصہ لینے والے ورکرز کو سینے پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔

اور ایک مرتبہ جہاز کی لینڈنگ کے دوران پائلٹ کو رن وے پر کچھ بچے بھی بھاگتے ہوئے نظر آئے جو اچانک غائب بھی ہو گئے۔ نیو اسلام آباد ائیر پورٹ سے متعلق یہ رپورٹس حقائق پر مبنی ہیں یا پھر یہ کوئی افسانہ ہے اس سے متعلق تو کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ اس طرح کی رپورٹس نے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ سے متعلق خوف ضرور پیدا کر دیا ہے۔جدید ترین سہولیات سے آراستہ ملک کے سب سے بڑے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر غیر مرئی مخلوق ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں دیکھ کر اے ایس ایف اہلکار سمیت کئی افراد بے ہوش ہو چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پُراسرار اور عجیب نظر آنے اور پھر اچانک غائب ہوجانے والی غیرمرئی مخلوق نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جبکہ اس مخلوق کو دیکھ کر اب تک اے ایس ایف اہلکارسمیت متعدد افراد بے ہوش ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی یہ مخلوق 2 بار دکھائی دے چکی ہے اور ہر بار سی سی ٹی وی کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ بھی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ مخلوق دکھائی دینے کے بعد غائب ہوجاتی ہے اور پھر کیمرے بھی اسے تلاش نہیں کرسکتے ۔

گزشتہ روز اے ایس ایف کا اہلکار آصف کیانی اور دیگر دو لوگ خوف زدہ ہوکر بے ہوش ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے ۔بعض لوگ اسے وہم قرار دیتے ہیں تاہم کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہونے والی تصویر شکوک وشہبات کو ختم کررہی ہے ۔ اس حوالے سے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ پر اپنے پیاروں کا انتظار کرنے والے لوگ بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یکم مئی کو 13 سال میں مکمل ہونے والے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا افتتاح کیا تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر آکر خدا سے پہلی فرمائش کونسی کی ؟

حضرت آدم علیہ السلام نے زمین پر آکر خدا سے پہلی فرمائش کونسی کی ؟
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 15:51
حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے زمین پر تشریف لے آئے تو بارگاہ خداوندی میں عرض کیا۔ کہ خدایا میں یہاں نہ تو ملائکہ کی تسبیح و عبادت کی آواز سن سکتا ہوں نہ ہی کوئی عبادت خانہ نظر آتا ہے جیسا کہ آسمان میں بیت المعمور دیکھتا تھا۔ جس کے ارد گرد ملائکہ طواف کرتے تھے۔ اس پر اللہ پاک کا حکم آیا کہ جاؤ جہاں پر ہم نشان

بتائیں وہاں پر کعبہ بیت اللہ بنا دو۔اور اس کے ارد گرد طواف بھی کر لو اس کی طرف نماز بھی ادا کر لو۔ حضرت جبرائیل علیہ

السلام ان کی رہبری کے لئے ان کے ساتھ چل پڑے۔ اور انہیں اس مقام پر لے آئے جہاں سے زمین بنی تھی یعنی جس جگہ جھاگ بنی تھی اور پھر وہی جھاگ پھیل کر پوری زمین بنی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر مار کر ساتویں زمین تک بنیاد رکھ دی۔

جس کو ملائکہ نے پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے بھرا، کوہ طور، کوہ لبنان، کوہ جودی، کوہ طور زیتا، اور کوہ حرا۔ بنیاد بھرنے کے بعد نشان کے لئے چاروں طرف کی دیواریں بھی اٹھا دیں۔ اس طرف حضرت آدم علیہ السلام نماز بھی پڑھتے رہے اور طواف بھی کرتے رہے۔ طوفان نوح تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ طوفان کے وقت وہ عمارت آسمان پر اٹھا لی گئی اور وہ جگہ ایک اور اونچے ٹیلے کی صورت میں رہ گئی۔

مگر لوگ پھر بھی برکت کے لئے یہاں آتے تھے۔ اور آ کر دعائیں مانگتے تھے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ جب حضرت اسماعیل اور حضرت حاجرہ یہاں آ کر رہے اور یہاں کچھ آبادی ہو گئی تو حضرت حاجرہ کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ حضرت اسماعیل کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ کی عمارت تعمیر کریں۔اس کی نشانی اس طرح کی گئی کہ ایک بادل کا ٹکڑا بھیجا گیا تاکہ اس کے سایہ سے کعبہ کی حد مقرر کی جائے۔

حضرت جبرائیل نے اس سایہ کی مدد سے خط کھینچا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس خط پر اس قدر کھدائی کی کہ بنیاد آدم نمودار ہو گئی۔ پھر اس پر عمارت بنائی۔اس کی بلندی ۹ ہاتھ تھی ار رکن اسود سے رکنشامی تک دیوار کی لمبائی ۳۳ ہاتھ اور رکن شامی سے رکن غربی تک ۲۲ ہاتھ۔ اور رکن غربی سے رکن یمانی تک ۳۱ ہاتھ اور رکن یمانی سے رکن اسود تک ۲۰ ہاتھ تھی۔ اس طرح خانہ کعبہ کی عمارت مستطیل کی شکل میں بنی۔

حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کے اندر ایک تغار سا بنایا ۔ تاکہ کعبہ کے لئے جو نذرانے اور تحفے آئیں وہ اس میں رکھے جا سکیں۔ اس کے دروازے دو تھے ایک داخل ہونے کے لئے اور ایک نکلنے کے لئے۔ کعبہ بنانے والے حضرت ابراہیم تھے اور ان کو گار اور پتھر اٹھا کے دینے والے حضرت اسماعیل تھے۔ اس دفعہ اس کی تعمیر کے لئے ۳ پہاڑوں کے پتھر لائے گئے۔ بعد میں اس عمارت میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی۔ اس کی اونچائی مزید بڑھائی گئی۔ دروازہ بھی دو کے بجائے ایک کیا گیا

ایک بہت خوبصورت عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے

ایک بہت خوبصورت عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:17
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے۔ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پر ھوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن

سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ھوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ھوگا۔وہ عورت بہت پریشان ھوگئی اور مایوس ھو کر واپس آگئی__اور اپنی سہیلیوں کو

بتایا۔ ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ھے مگر نا ممکن نہیں۔تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو‎ اور جہاں شیر آتا ھے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ___کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ھو جائے تو تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر آپ سے مانوس ھو جائے تو گردن سے بال اکھیڑ لینا۔

اس عورت کو بات پسند آئی ۔دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئ اور گوشت ڈال کے چھپ گئی۔شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیااس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا۔ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتا چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ھے۔کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ھو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔

ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ھوں اب آپ عمل شروع کریں،پیر صاحب نے پوچھا : کہ کیسے لائی ھو ؟ تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی ۔ پیر صاحب مسکرا ئے ! اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟؟

جوکہ خونخوار ھوتا ھے جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ھو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ھو سکتا ھے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ھو سکتا ہے ۔ گزارش ھے کہ اپنے شوہر کی خدمت صرف اور صرف الله پاک کی رضا کے لئیے کریں پھر دیکھیں الله پاک آپ کے گھر کو کیسے جنت بناتے ہیں

شوہر کا کہنا تھا اس کی بیوی نے اس ویب سائٹ پر خود کو کیوں جسم فروشی کیلئے رجسٹرڈ کرویا ہے

شوہر کا کہنا تھا اس کی بیوی نے اس ویب سائٹ پر خود کو کیوں جسم فروشی کیلئے رجسٹرڈ کرویا ہے
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:11
امریکہ کے ایک شخص کو عیاشی کا بہت شوق تھا وہ شراب اور شباب کے نشے میں ہر وقت دھت رہتا تھا ۔ ایک دن اس نے ہوٹل میں جا کر عیاشی کیلئے لڑکی منگوائی لی ۔ کچھ دیر بعد اس کی بیوی جسم فروشی کیلئے اس کے کمرے میں آن پہنچی ۔ انگلش ویب سائٹ کے مطابق ریاست ٹیکساس میں رہائش پذیر یہ آدمی گزشتہ کچھ عرصے

سے فحش ویب سائٹ کے ذریعے جسم فروش لڑکیوں کو مختلف ہوٹلوں میں بلواتا رہا تھا ۔ پچھلے ہفتے اس نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ اپنے دوستوں

کے ساتھ شکار پر جارہا ہے ۔ در حقیقت وہ ایک بار پھر بے حیائی کی نیت سے ہوٹل پہنچ گیا ۔ ہوٹل میں اپنے کمرے میں پہنچتے ہی اس نے فحش ویب سائٹ سے رابطہ کیا اور 28سالہ لڑکی کی تصویر دیکھ کر اسے ہوٹل میں بلا لیا ۔رات کے تقریباً کوئی 8بجے کے وقت اس شخص کے کمرے سے اچانک چیخ و پکار اور توڑ پھوڑ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں ۔

ہوٹل میں کمرے کے ادرگرد موجود کمروں سے لوگ باہر نکل آئے ۔ اور چھا ن بین کرنے لگے ۔ اس معاملے کا ڈراپ سین تب ہوا جس ویب سائٹ سے یہ لڑکیاں منگواتا تھا اسی پر اس کی اہلیہ نے بھی خود کو جسم فروشی کے کیلئے درج کروایا ہو ا تھا ۔ اپنی شناخت چھپانے کیلئے اس نے کسی نوجوان لڑکی کی تصویر لگائی ہوئی تھی ۔اسی طرح اس کے شوہر نے بھی اپنی جگہ کس لڑکے کی تصویر لگائی ہو ئی ۔

اتفاق یہ ہوا کہ فحش ویب سائٹ پر دونوں کا آپس میں رابطہ ہو گیا ۔ دونوں کے درمیان جنگ یہ چھڑی ہوئی تھی کہ اس کا شوہر فحش ویب سائٹ سے لڑکیاں بلاتا ہے جبکہ شوہر کا کہنا تھا اس کی بیوی نے اس ویب سائٹ پر خود کو کیوں جسم فروشی کیلئے رجسٹرڈ کرویا ہے ۔ دونوں کی لڑائی نے کمرے کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ۔ ہوٹل انتظامیہ نے دونوں کو وہاں سے نکال دیا ۔ تاہم آخری اطلاع اب تک یہ موصول ہوئی ہے کہ ان کے دونوں کے بیچ میں علیحدگی ہو چکی ہے ۔

وہ وقت جب ایک جادوگرنی اماں عائشہ ؓکے پاس پہنچی اور آکر زارو قطار رونے لگی

وہ وقت جب ایک جادوگرنی اماں عائشہ ؓکے پاس پہنچی اور آکر زارو قطار رونے لگی
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:06
جادو کے متعلق اِمام حاکم نے المستدرک میں اور ابن کثیر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی تفسیر میں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے ایک واقعہ روایت کیا ہے۔ آپ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:’’رسول اللہ اکی وفات کے تھوڑے عرصے بعد دومۃ الجندل کے باشندوں میں سے ایک عورت میرے پاس آئی۔ وہ رسول اللہ اسے مل کر جادو کے متعلق کسی

چیز کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ ا کو نہیں پایاتو میں نے اسے اس قدر روتے ہوئے دیکھا

کہ اس کے رونے کی شدت سے مجھے ترس آ گیا۔ وہ عورت کہہ رہی تھی کہ ’’مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاکت میں جا پڑی ہوں‘‘۔ میں ( یعنی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا )نے اس سے واقعے کی تفصیل پوچھی تو اس نے مجھے بتایا:’’میرا شوہر مجھ سے دور چلا گیا تھا۔ پھر ایک بوڑھی عورت میرے پاس آئی تو میں نے اس سے اپنے حال کا شکوہ کیا۔

اس نے کہا کہ اگر تو وہ سب کرے جس کا میں تجھے حکم دوں تو تیرا خاوند تیرے پاس لوٹ آئے گا۔ میں نے کہا کہ ہاں میں کروں گی۔جب رات ہوئی تو وہ میرے پاس دو سیاہ کتوں کو لے کر آئی۔ ان کتوں میں سے ایک پر وہ خود سوار ہو گئی اور دوسرے پر میں سوار ہوئی۔ ان (کتوں) کی رفتار زیادہ تیز نہ تھی۔ (ہم چلتے رہے)، یہاں تک کہ شہر بابل پہنچ کر رکے۔ وہاں دو آدمی اپنے پیروں سے ہوا میں لٹکے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ تجھے کیا ضرورت ہے؟ اور کیا ارادہ لے کر آئی ہے؟ میں نے (اپنی حاجت بیان کی اور ) کہا:

’’ جادو سیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا :’’بے شک ہم آزمائش ہیں، لہٰذا تو کفر نہ کر اور واپس لوٹ جا۔‘‘ میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں نہیں لوٹوں گی۔ انہوں نے کہا :’’تو اس تندور میں جا کر پیشاب کر۔ ‘‘میں وہاں تک گئی تو کانپ اٹھی۔ میں خوفزدہو گئی اور پیشاب نہ کر سکی اور یونہی ان دونوں کے پاس لوٹ آئی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا:’’ کیا تو نے پیشاب کیا؟ ‘‘ میں نے جواب دیا: ’’ہاں!‘‘۔ انہوں نے پوچھا :’’ کیا تو نے کوئی چیز دیکھی؟‘‘ میں نے جواب دیا:’’ میں نے کچھ نہیں دیکھا۔‘‘

انہوں نے کہا:’’ تو نے پیشاب نہیں کیا، اپنے وطن لوٹ جا اور کفر نہ کر۔‘‘ میں نے انکار کیا۔ چنانچہ انہوں نے پھر کہا :’’ اس تندور تک جا اور اس میں پیشاب کر۔‘‘ میں وہاں تک گئی، پھر مجھ پر کپکپاہٹ طاری ہو گئی اور میں ڈر گئی۔ پھر میں ان کے پاس لوٹ گئی۔ انہوں نے مجھ سے پھر پوچھا:’’ تو نے کیا دیکھا؟‘‘ یہاں تک کہ اس نے بتایا کہ میں تیسری مرتبہ گئی اور تندور میں پیشاب کر دیا۔ پس میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے لوہے کے گلو بند والا ایک گھوڑسوار نکلا اور آسمان کی طرف چلا گیا۔

تب میں ان کے پاس آئی اور انہیں اس بات کی خبر دی۔ انہوں نے کہا:’’ تو نے سچ کہا، یہ تیرا ایمان تھا جو تیرے اندر سے نکل چکا ہے، اب تو لوٹ جا۔‘‘ پس میں (یعنی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا) نے اس عورت سے کہا:’’اللہد کی قسم! میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی اور کہا، کیا انہوں نے اس کے علاوہ بھی تجھے کچھ بتایا ہے؟ ‘‘اس نے جواب دیا:’’ہاں ضرور بتایا ہے کہ آپ جو چاہیں گی وہ ہو جائے گا۔ یہ گیہوں(گندم) کے دانے لیجئے اور ان کو زمین میں بو دیجئے۔ چنانچہ میں نے وہ دانے لے لیے، اس نے کہا:

’’ نکل آ!‘‘، تو پودے نکل آئے۔ پھر اس نے کہا:’’ فصل کٹ جا!‘‘، تو فصل کٹ گئی۔ پھر اس نے کہا:’’پس کر آٹا بن جا!‘‘، تو آٹا بن گیا۔ پھر اس نے کہا:’’ روٹی پک جا!‘‘ تو روٹی پک کر تیار ہو گئی۔ جب اس( عورت) نے دیکھا کہ میں (یعنی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا) پھر بھی کچھ نہیں بولی تو وہ میرے سامنے شرمندگی سے گر پڑی اور کہنے لگی: ’’ اے ام المومنین(رضی اللّٰہ عنہا)! میں نے اس کے علاوہ کبھی کچھ نہیں کیا۔‘‘ چنانچہ میں نے رسول اللہ ا کے صحابہ رضی اﷲ عنہم سے اس بارے میں دریافت کیا لیکن انہیں بھی اس بارے میں معلوم نہیں تھا کہ(اس معاملے پر) کیا کہیں۔

(جس چیز کا مکمل علم نہ ہو اس کے متعلق صحابہ ث اپنی رائے دینے میں احتیاط کیا کرتے تھے )۔ انہوں نے صرف اتنا کہا:’’ اگر آپ کے والدین یا ان میں سے کوئی بھی حیات ہوتے تو وہ آپ کے لیے کافی ہوتے۔‘‘ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد امام حاکم رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث صحیح ہے۔‘‘ (ابنِ جریر، التفسیر۔ بیہقی، السنن۔ حاکم، المستدرک علی الصحیحین۔

ابن قدامہ المقدسی عن المغنی: ۸/ ۱۵۲) اس واقعے کے پیش نظر حقیقت میں بات یہ ہے کہ ہاروت ماروت کو اللہ تعالیٰ نے خیرو شر اور کفرو ایمان کا علم دے دیا تھا۔ اس لیے وہ ہر ایک کفر کی طرف جھکنے والے کو نصیحت کرتے اور ہر طرح روکتے۔ جب وہ نہ مانتا تو ا س سے وہ مخصوص کلمات کہہ دیتے جس سے اس کا نورِ ایمان جاتا رہتا۔ وہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا اور اسے جادو آ جاتااور یہی اس عورت کے ساتھ ہوا۔

حضرت یونس ؑمچھلی کے پیٹ میں کیسے زندہ رہے؟

حضرت یونس ؑمچھلی کے پیٹ میں کیسے زندہ رہے؟
اتوار‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2018 | 16:05
ڈاکٹر امروز جان ولسن فیلو کوئز کالج آکسفورڈ نے حضرت یونس علیہ سلام کے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنے کے بارے میں ایک مقالہ تھیولوجیکل ریویو میں تحریر کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ 1890 میں ایک جہاز فاک لینڈ کے قریب وہیل مچھلی کا شکار کر رہا تھا ۔ اسکا ایک شکاری جیمس سمندر میں گر پڑا اور ایک وہیل مچھلی نے اسے

نگل لیا۔ بڑی کوشش کے بعد وہ مچھلی دو روز بعد پکڑی گئی ۔ اسکا پیٹ چاک کیا گیا تو شکاری زندہ نکلا ۔ البتہ اسکا جسم مچھلی کی اندرونی تپش کی وجہ

سے سفید ہو گیا تھا دو ہفتے کے علاج کے بعد وہ بلکل صحت مند ہو گیا1958 میں ” ستارہ مچھلی ” نامی جہاز فاک لینڈ میں ہی مچھلیوں کا شکار کر رہا تھا کہ اسکا “بارکلے ” نامی ملاح سمندر میں گر پڑا جسے ایک وہیل نے نگل لیا ۔ اتفاقً وہ مچھلی پکڑی گئی ۔ پورا عملہ اسے کلہاڑیوں سے کاٹنے لگا ۔ دوسرے دن بھی یہ کام جاری تھا کہ مردہ مچھلی کے پیٹ میں حرکت محسوس ہوئی ۔

اسکا پیٹ چیرا گیا تو انکا ساتھی بارکلے نکلا جو تیل اور چربی میں لتھڑا ہوا تھا ۔ بارکلے کو دو ہفتوں بعد ہوش آیا اور اپنی بپتا سنائی ۔بارکلے کےمتعلق یہ خبر اخبارات و جرائد میں چھپی تو علم و سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا ۔ بہت سے لوگوں نے انٹرویو لیے ۔ ایک مشہور سائنسی رسالے کے ایڈیٹر مسٹر ایم ڈی پاول نے تحقیق کے بعد لکھا کہ ۔ ” اس حقیقت کے منکشف ہونے کے بعد میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ حضرت یونس علیہ سلام کے متعلق آسمانی کتابوں میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف صحیح ہے ” ۔1992 میں آسٹریلیا کا 49 سال ماہی گیر ٹورانسے کائس وہیل مچھلی کے پیٹ میں 8 گھنٹے رہنے کے بعد معجزانہ طور پر بچ گیا ۔

وہ بحرہند میں ایک چھوٹے ٹرالر پر مچھلیاں پکڑ رہا تھا کہ سمندر کی ایک بڑی لہر اسکے ٹرالر کو بہا لے گئی ۔ وہ کئی گھنٹوں تک سمندر میں ہاتھ پاؤں مارتا رہا ۔اسی اثنا میں اسے یوں لگا جیسے کئی شارک مچھلیاں اسکی طرف بڑھ رہی ہوں ۔ جلد ہی اسے معلوم ہوا کہ دراصل وہ ایک بہت بڑی وہیل مچھلی کی زد میں ہے جو منہ کھولے اسکی طرف بڑھ رہی ہے ۔ وہیل نے اسے اپنے منہ میں دبا لیا لیکن اسکی خوش قسمتی تھی کہ وہ جبڑوں میں ہی چمٹا رہا ۔

وہیل اسکو مسلسل نگلنے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ برابر مزاحمت کرتا رہا جسکی وجہ سے اسکی اکسیجن مل رہی تھی اور وہ زندہ تھا ۔ 8 گھنٹے کی اس جدوجہد کے بعد جبکہ وہ نیم بے ہوش ہوچکا تھا اس نے خود کو آسٹریلیا کے ایک ساحل پر پایا ۔دراصل مچھلی نے نگلنے میں ناکامی پر اس اگل دیا تھا یوں اسکی جان بچ گئی ۔لیکن ان سب نے یہ بات کی تھی کہ مچھلی کے پیٹ میں تہہ بہ تہہ تاریکی تھی اور وہاں سانس لینے میں کوئی مشکل نہ تھی ۔!

قرآن میں اللہ حضرت یونس علیہ سلام کے بارے میں فرماتے ہیں ! ” آخر اس نے تاریکیوں میں پکارا… نہیں ہے کوئی خدا مگر تو ، پاک ہے تیری ذات ، بے شک میں نے قصور کیا ” اللہ ہمارے ایمان و یقین کو کامل کرے ۔۔!!آمین ( انتطام اللہ شہابی کی کتاب ” جغرافیہ قرآن )