جمال خاشقجی نے آخری کالم میں کیا لکھا؟

جمال خاشقجی نے آخری کالم میں کیا لکھا؟
پیر‬‮ 5 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:53
امریکی اخبار نے گمشدہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا آخری کالم شائع کردیا،جمال خاشقجی نے آخری کالم میں عرب ملکوں میں اظہار آزادی رائے سے متعلق خیالات کا اظہار کیاہے۔جنگ کے مطابق کالم میں جمال خاشقجی نے لکھا ہے کہ عرب ملکوں میں سرکاری میڈیا کی جانب سے غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں،

عربوں کو خود ان کیزبان میں آزاد میڈیا کی ضرورت ہے۔سعودی صحافی نے مزید لکھا کہ عرب اسپرنگ سے امید کی کرنیں جلد ہی دم توڑ گئیں بلکہ اندھیرا اور گہرا ہو گیا،میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن پر کوئی عالمی رد عمل نہآنے

پر عرب ملکوں میں کریک ڈاؤن کا عمل اور تیز ہو رہا ہے.دو اکتوبر کو لاپتہ ہونے والے جمال خاشقجی کا یہ کالم ان کے مترجم نے 3 اکتوبر کو امریکی اخبار کو بھیجا تھا۔سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018 کو

استنبول میں واقع سعودی سفارتخانے میں داخل ہوئے اور اس کے بعد سے اب تک لاپتہ ہیں۔ اس حوالے سے جنم لینے والے خدشات اب شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ انہیں سفارتخانے کے اندر ہی قتل کر دیا گیا ہے۔ ایک ترک اخبار ’ینی شفق‘ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ جمال خاشقجی کو تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا تھا۔ ابھی اس کی ترکی کے تحقیقاتی اداروں یا سعودی عرب کی جانب سے تصدیق سامنے نہیں،

مگر مبینہ قتل کی وجہ سے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔مندرجہ ذیل مضمون جمال خاشقجی کا آخری کالم ہے، جو انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے واشنگٹن پوسٹ کے لیے تحریر کیا تھا، ڈان اپنے قارئین کے لیے اس کا اردو ترجمہ شائع کر رہا ہے۔حال ہی میں میں فریڈم ہاؤس کی جانب سے شائع کی گئی 2018 فریڈم ان دی ورلڈ رپورٹ دیکھ رہا تھا۔ عرب دنیا میں صرف ایک ملک ہے جسے “آزاد” قرار دیا گیا ہےونس ہے۔ اردن، مراکشاور کویت “جزوی آزادی” کے ساتھ دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ عرب دنیا کے باقی تمام ممالک کو “غیر آزاد” کا درجہ دیا گیا ہے۔

نتیجتاً ان ممالک میں رہنے والے عرب یا تو لاعلم ہوتے ہیں یا پھر غلط معلومات رکھتے ہیں۔ وہ خطے اور ان کے روز مرّہ کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے معاملات کو مناسب طور پر حل کرنا تو درکنار ان پر عوامی سطح پر بات بھی نہیں کر سکتے۔ ریاستی بیانیہ عوامی نفسیات پر حاوی ہے اور جہاں کئی لوگ اس بیانیے کو تسلیم نہیں کرتے، وہیں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد اس جھوٹے بیانیے کا شکار بھی ہو جاتی ہے۔افسوسناک بات ہے کہ اس صورتحال میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔2011 کے موسمِ بہار میں عرب دنیا امیدوں سے بھرپور تھی۔

صحافی، تعلیم دان اور عوام اپنے اپنے ممالک میں ایک روشن اور آزاد عرب معاشرے کی امیدوں سے سرشار تھے۔ انہیں امید تھی کہ وہ اپنی حکومتوں کی بالادستی، اور معلومات کے پھیلاؤ میں مسلسل مداخلت اور سنسرشپ سے آزاد ہو جائیں گے۔ یہ امیدیں جلد ہی ٹوٹ گئیں اور یہ معاشرے یا تو واپس پرانے اسٹیٹس کو پر پہنچ گئے یا پھر یہاں پہلے سے بھی زیادہ سخت حالات ہوگئے۔مشہور سعودی لکھاری اور میرے پیارے دوست صالح الشیہی نے سعودی پریس میں شائع ہونے والے مشہور ترین کالموں میں سے ایک کالم لکھا تھا۔

اب وہ سعودی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مبینہ تبصرے کی وجہ سے 5 سالہ قید کاٹ رہے ہیں۔مصری حکومت کی جانب سے اخبار مصری الیوم کی تمام کاپیاں ضبط کر لینے پر ساتھیوں کی جانب سے کوئی ردِ عمل یا غم و غصہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس طرح کے اقدامات پر اب بین الاقوامی برادری کے سخت ردِ عمل کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے ان اقدامات کی مذمت تو کی جاتی ہے مگر پھر جلد ہی خاموشی چھا جاتی ہے۔پڑھیے: سعودی عرب جمال نتیجتاً عرب حکومتوں کو میڈیا کو خاموش کروانے کے لیے کھلی چھوٹ مل چکی ہے۔

ایک وقت تھا جب صحافی سمجھتے تھے کہ انٹرنیٹ پرنٹ میڈیا میں موجود سینسرشپ اور کنٹرول سے معلومات کو آزاد کروائے گا۔ مگر یہ حکومتیں جن کی بنیاد ہی معلومات پر کنٹرول پر قائم ہے، نے انٹرنیٹ پر سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقامی رپورٹرز کو گرفتار بھی کیا ہے جبکہ اشتہار دہندگان پر مختلف اشاعتوں کے منافع کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی دباؤ ڈالا ہے۔مگر اب بھی اس صحرا میں کچھ نخلستان ایسے ہیں جہاں عرب بہار کی روح موجود ہے۔ قطری حکومت اپنے بین الاقوامی نیوز کوریج کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اس کے پڑوسی ممالک “اولڈ عرب آرڈر” کے تحفظ کے لیے معلومات پر کنٹرول جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہاں تک کہ تیونس اور کویت میں بھی جہاں پریس کو کم از کم “جزوی آزاد” تصور کیا جاتا ہے، وہاں میڈیا مقامی مسائل پر تو توجہ دیتا ہے مگر ان مسائل پر نہیں جن کا عرب دنیا کو مجموعی طور پر سامنا ہے۔ وہ سعودی عرب، یمن اور مصر کے صحافیوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔حتیٰ کہ لبنان، جسے پریس کی آزادی کے اعتبار سے عرب دنیا کے سر کا تاج قرار دیا جاتا ہے، وہ بھی قطبیت اور ایران کی حامی حزب اللہ کے دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔

عرب دنیا بھی ایک طرح سے آہنی پردے کا شکار ہے جو کہ بیرونی عناصر کی جانب سے نہیں بلکہ طاقت کی بھوکی مقامی قوتوں کی جانب سے کھڑا کیا گیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران ریڈیو فری یورپ، جو کہ آنے والے سالوں میں ایک تنقیدی ادارہ بنا، نے آزادی کی امید پیداکرنے اور اسے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔عربوں کو بھی ایسی ہی چیز کی ضرورت ہے۔ 1967 میں دی نیویارک ٹائمز اور دی واشنگٹن پوسٹ نے اخبار انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون کو مشترکہ طور پر ملکیت میں لیا اور یہ اخبار آگے چل کر دنیا بھر کی آوازوں کا پلیٹ فارم بنا۔میرے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے میرے کئی مضامین کو عربی میں ترجمہ کرنے اور شائع کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔ اس کے لیے میں ان کا شکرگزار ہوں۔

عربوں کو اپنی زبان میں پڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مغرب اور امریکا میں جمہوریت کے مختلف پہلوؤں اور پیچیدگیوں کو سمجھ سکیں اور ان پر بحث کر سکیں۔ اگر کوئی مصری شخص واشنگٹن میں ایک تعمیراتی منصوبے کی اصل قیمت کو آشکار کرنے والا کوئی مضمون پڑھے گا یا پڑھے گی تو وہ اپنی برادری میں اسی طرح کے منصوبوں کے نتائج و اثرات کو بھی سمجھ پائے گا یا پائی گی۔عرب دنیا کو اب پرانے کثیر الملکی میڈیا کی جدید صورت کی ضرورت ہے تاکہ اس کے شہری بین الاقوامی واقعات سے آگاہ ہو سکیں۔

اس سے بھی زیادہ اہم عرب آوازوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ ہم غربت، بدانتظامی اور خراب تعلیم کا شکار ہیں۔ پروپیگنڈا کے ذریعے نفرت پھیلانے والی قوم پرست حکومتوں کے اثر و رسوخ سے آزاد بین الاقوامی فورم تیار کر کے عرب دنیا کے عام لوگ بھی اپنے معاشروں میں بنیادی مسائل کو حل کرنے کے اہل ہو سکیں گے۔اشنگٹن پوسٹ کی گلوبل اوپینیئن ایڈیٹر کیرن عطیہ کی جانب سے نوٹمجھے یہ کالم جمال خاشقجی کے مترجم اور اسسٹنٹ سے ان کے استنبول میں گمشدہ ہونے کے ایک دن بعد موصول ہوا۔

پوسٹ نے اس کی اشاعت اس لیے روک رکھی تھی کیوں کہ ہمیں یہ امید تھی کہ وہ واپس آئیں گے اور ہم اسے مشترکہ طور پر ایڈٹ کر سکیں گے۔مجھے اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہونے والا۔ یہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے ان کا آخری مضمون ہوگا جو میں ایڈٹ کروں گی۔ یہ کالم عرب دنیا میں آزادی کے لیے ان کے عزم اور جذبے کا عکاس ہے۔ وہ آزادی جس کے لیے بظاہر انہوں نے اپنی جان دے دی ہے۔میں ہمیشہ ان کی احسان مند رہوں گی کہ انہوں نے ایک سال قبل واشنگٹن پوسٹ کو اپنا آخری صحافتی مسکن بنایا اور ہمیں ساتھ کام کرنے کا موقع دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *