میٹھے چاول کی دیگ یا نمکین کی

میٹھے چاول کی دیگ یا نمکین کی
جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 3:28
ایک شخص سمندر میں ڈوب رہا تھا ۔ اس نے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی یا اللہ مجھے بچا لے میں ایک دیگ تیرے نام پہ بانٹوں گا۔ ایک لہر نے اسے اٹھا کر باہر پٹخ دیا ۔ اس نے کنارے پر آتے ساتھ ہی کہنا شروع کر دیا کونسی دیگ کہاں کی دیگ۔ ایک اور لہر آئی اور اس نے اس شخص کو اٹھا کر واپس پھینک دیا ۔ اس شخص نے

ساتھ ہی کہنا شروع کر دیا میں تو کہہ رہا تھا کہ میٹھے چاول کی دیگ یا نمکین کی۔۔۔۔ہم سب انسان ہی

زندگی میں بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ہم گننا چاہیں تب بھی ہم نعمتوں کو گننے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ انسان کے پاس مفت میں اللہ کی دی سب سے اچھی چیز اسکی صحت ہے۔ وہ صحت جو ایک دفعہ خراب ہو جائے تو دنیا کا کوئی بھی ہسپتال اور ڈاکٹر اس کو واپس نہیں دلا سکتا۔

اس صحت کے ساتھ جتنا کھلواڑ ہم کر سکتے ہیں کرتے ہیں۔ انسان کو پاس سر ڈھکنے کے لئے ٹوپی کے ساتھ ساتھ چھت بھی ہو یہ بھی اس پر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کو زندگی میں اپنے لئے ایک سائبان جو اسکے سر پر تنا رہے مضبوط بھی اور اس پر انحصار کر سکے ۔ اگر انسان کے پاس یہ ہو تو انسان واقعی میں خوش قسمت ہے کیونکہ دنیا کی بڑی آبادی اس سے محروم ہے۔ انسان کے پاس اپنوں کا ساتھ ہو یہ وہ نعمت ہے جو صرف اللہ ہی آپکے نصیب میں لکھتا ہے۔ انسان اس نعمت پر جتنا شکر ادا کرے وہ یقینا کم ہے۔

انسان کو چند اپنے جو اسکے ساتھ سچے ہوں مخلص ہوں جتنی خوشی دیتے ہیں یہ خوشی اپنوں سے محروم کو دیکھ کر واقعتا پتہ لگتی ہے کہ کتنی ذیادہ ہے۔ کیونکہ جو نعمتیں جیسا کہ صحت چھت اپنے یہ ہمیں جب عطا کردہ ہوتی ہیں تو ہم انکو اس طرح سے نہیں لیتے انکو اس طرح سے قدر والے اور شکرانے والے انداز میں نہیں رکھتے جس طرح سے ہمیں کرنا چاہئے۔ انسان کے پاس نیک ماں باپ نیک بہن ہو یا بھائی ساتھ دینے والا ہمسفر نیک اولاد خوشحالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو ٹانگیں جس پر وہ چل سکے یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو انسان کو خوشی سے ذیادہ زندگی کا سکھ دیتی ہیں۔ اگر کسی انسان کو یہ میسر ہیں تو وہ خوش قسمت ہے۔ مگر انسان جو آج کے دور میں رہ رہا ہے اسکی تسلی ہونا بہت مشکل ہے بے انتہا مشکلآج کا انسان شکووں پر جلدی اُتر آتا ہے۔ آج کا انسان دوسروں سے تنگ جلدی پڑنے لگتا ہے جو اسکا اپنا ہو اسکا ساتھ بھی دے رہا ہو اس تک کے بارے میں بہت جلدی شکوک و شبہات میں پڑنے لگتا ہے۔ ہر نعمت ہر روز شکر مانگتی ہے۔

ہر نعمت ہر روز اپنی قدر مانگتی ہے۔ صرف اسلئے کہ انسان جبتک ہر روز انکی قدر کرتا ہے۔ انسان خوش رہتا ہے اورخوش قسمت بھی۔کیونکہ خوش قسمتی یہی تو ہے کہ انسان کے اندر ہ احساس جاگزیں ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی دنیا میں ہے وہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہ ہے اور اس پر شکر واجب ہے۔ کیونکہ خوش قسمتی یہی ہہے کہ انسان کو یاد ہو کہ نعمتیں اگر ملیں ہیں تو یہ اپنا کمال نہیں ہے یہ دینے والے کی مہربانی ہے،

کیونکہ خوش قسمتی یہی ہے کہ انسان کو نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہوئے احساس خوشی ہو کیونکہ خوش قسمتی یہ ہی ہے جو آپکے دروازے پر تب ہی کھڑی ہوتی ہے جب آپ شکر گزار ہوتے ہیں کیونکہ خوش قسمتی یہی ہوتی ہے جب بندہ یہ یاد رکھنے کے قابل رہتا ہے کہ نعمت کے ساتھ شکر لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ خوش قسمتی یہی ہے کہ بندہ بغیر بحث و مباحثے کے بغیر کہ اسکے پاس یہ ہے اسکے پاس بھی یہ ہے میرے پاس کیوں نہیں ہے کے چکر میں نہیں پڑتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *