ٹاکنگ ٹام

ٹاکنگ ٹام
پیر‬‮ 19 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 18:45
ایک گاہک آئی پیڈ کی ٹُوٹی ہوئی سکرین ری پلیس کروانے کے لیے آیا تو دکاندار نے ایسے ہی پوچھ لیا “کیسے ٹوٹی” تو اُس نے خالصتاً پنجابی لب و لہجے میں جو پس منظر بتایا وہ سُن کر ہم بہت دیر تک محظوظ ہوتے رہے۔۔ اس نے بتایا کہ اس کا چھوٹا بیٹا جو ابھی تین سال کا ہے اور ٹھیک سے بولنا سیکھ رہا ہے

میرے سیل فون کے پیچھے پڑا رہتا تھا۔۔ میں نے بیگم کی فرمائش پر اسے یہ آئی پیڈ نئی لے کر دے دی۔۔ آج اسے لیے دوسرا دِن تھا کہ

صبح صبح میں نے اس میں “ٹاکنگ ٹام” ایپلیکیشن انسٹال کر دی۔۔۔ ۔کچھ دیر بعد بچہ ٹاکنگ ٹام سے باتیں کرنے لگا وہ جو کوئی لفظ منہ سے نکالتا ٹاکنگ ٹام اسے ریپیٹ کردیتا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب اس کا موڈ خراب ہوا تو اس نے ٹاکنگ ٹام سے کہا “چُپ کر جاؤ” ٹاکنگ ٹام نے بھی آگے سے یہی کہا “چُپ کرجاؤ” “تم چپ کر جاؤ” ٹاکنگ ٹام نے بھی وہی الفاظ دہرا دئیے “اثر نہیں ہوتا؟” “اثر نہیں ہوتا؟” “ابھی طبیعت ٹھیک کرتا ہوں” “ابھی طبیعت ٹھیک کرتا ہوں” ۔ اُس نے جِھلّا کر چمچ اٹھایا اور ٹاکنگ ٹام کی طبیعت ٹھیک کردی ۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کچھ لوگوں کو بہت جلد غصہ کیوں آجاتا ہے؟

کیوں کچھ لوگ باقی افراد سے زیادہ جھگڑالو اور جنونی ہوتے ہیں؟سائنس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ لوگوں کے متشدد رویے کا تعلق بچپن میں زیادہ رونے سے ہوسکتا ہے۔ نومولود بچوں کو زیادہ دیر تک رونے دیا جائے تو ان کا ایڈرینالن متحرک ہوجاتا ہے، جو بڑے ہو کرمتشدد رویے کا سبب بنتا ہے۔اس کے علاوہ اگر بچوں کو پر توجہ نہ دی جائے اور انہیں روتے ہوئے چھوڑ دیا جائے تو یہ اعصابی نقصان کا بھی باعث بنتا ہے، اور ذہنیکو متاثر کرتا ہے۔ جو بڑے ہو کر کچھ بھی سیکھنے کے عمل کو مشکل بنا دیتا ہے۔

بچے روتے ہیں تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار بنتے ہیں جو ان کی دماغی ساخت کو متاثر کرتا ہے، بلکل ویسے ہی جیسے ذہنی دباؤ بالغ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔کچھ والدین بچوں کو روتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ کچھ دیر بعد خود ہی چپ ہوجائے گا۔ لیکن یہ عمل اسٹریس ہارمونز کی پیدوار کا سبب بنتا ہے اور مدافعتی نظام کو بھی دبا دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ بہت جلد مایوس اور عاجز ہوجاتے ہیں۔نومولود بچوں کو روتے رہنے دینا یقیناً ان کے لئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔

کیونکہ جب یہ بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کا اپنےجذبات پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے، اور ان کی شخصیت میں اضطراریت اور بے چینی پائی جاتی ہے۔نومولود بچوں کے لئے رونا ہی ایک واحد ذریعہ ہوتا ہے، جس کے زریعے وہ اپنی بات ماں باپ تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس لئے اگر اس بات کو نظر انداز کیا جائے تو یہ آپ کے بچے کی تمام زندگی کو بُری طرح متاثر کرسکتا ہے۔ تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ نو سے 13برس کی عمر کے بچے دھمکی آمیز باتوں پر خاص توجہ دیتے ہیں اور پھر بے چینی کا شکار ہوکر آنکھیں ملانے سے گریز کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق بچے جتنا لوگوں سے ڈرے ہوئے ہوتے ہیں، اتنی کم ان سے آنکھیں ملاتے ہیں۔ چاہے ڈرنے کی کوئی وجہ نہ بھی ہو۔انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ بچوں میں ڈر کا احساس جاری رہتا ہے حتیٰ کے وہ شخص مزید ڈر کا سبب نہ ہو۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کیلینا میشالسکا کا کہنا تھا کہ کسی کی آنکھوں میں دیکھنے سے یہ ہوتا ہے کہ آیا وہ شخص اداس ہے،ڈرا ہوا ہے، غصے میں ہے یا حیران ہے۔ لیکن بچوں کی آنکھوں کے اشاروں کے متعلق معلومات کم ہےلہٰذ ان اشاروں کو سمجھناہمیں معاشرتی تربیت کےارتقا کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

محققین نے 82 بچوں کوکمپیوٹر اسکرین پر 2 خواتین کی تصویر دکھائی ۔کمپیوٹر سے ایک آئی ٹریکنگ آلہ لگایا ہوا تھا جس سے وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ بچےاسکرین پر کہاں دیکھ رہے اور کتنی دیر کیلئے۔شرکاء کو ان دو خواتین کی تصویر چار بار دِکھائی گئی۔ ان میں سے ایک تصویر کو ایک زور دار چیخ اور ڈراؤنے تاثر کے ساتھ دِکھائی گئی اور دوسری تصویر ان کے بغیر دِکھائی گئی۔ اور آخر میں بچوں نے دونوں چہرے بغیر کسی آواز یا چیخ کے دیکھے۔نتیجے سے معلوم ہوا کہ پریشان بچے آنکھیں ملانے سے گریز کرتے ہیں۔ جب کہ آنکھیں ملانے سے گریز کرنا قلیل مدت کیلئے پریشانی کو کم کرتا ہے۔یہ تحقیق جرنل آف چائلڈ سائیکولوجی اینڈ سائیکیٹری میں شائع ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *