جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب

جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:29
جاپان میں اب باپ بھی کرائے پر دستیاب ہیں، ایک خاتون نے اپنی بیٹی کو باپ کے رشتے سے آشنا کروانے کیلئے ایک شخص کو کرائے پر رکھا ہے جو بچی کے والد کا کردار بخوبی نبھاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق چھوٹی بچی میگمی کے والدین کے درمیان اس وقت علیحدگی ہوگئی تھی جب وہ شیرخوار تھی۔ جب اسے بولنا آیا تو وہ روز

اپنے والد کے بارے میں پوچھتی تھی۔ اس کے بعد جب میگمی نے سکول جانا شروع کیا تو اس کا رویہ بالکل بدل گیا اور اس نے والدہ سے بات کرنا بھی بند کردی۔

اس کی وجہ یہ تھی سکول میں سب بچے اس کے والد کا پوچھتے جس کا بچی کو شدید قلق تھا اور وہ خود کو اس کا ذمے دار ٹھہراتی تھی۔اس کے بعد بچی کی ماں اساکو نے جاپانی ویب سائٹ سے رابطہ کیا جو ایسے جعلی عزیز اور رشتے دار، دوست اور شادی کے مہمان فراہم کرتے ہیں

جو اصل میں فنکار ہوتے ہیں۔ یہاں سے بچی کی ماں کو ایک فنکار تاکاشی مل گیا جسے باپ بننے پر ملکہ حاصل تھا اور اس کے لیے وہ ہالی وڈ فلمیں دیکھنے کے علاوہ ماہرینِ نفسیات سے تربیت بھی لے چکا تھا۔ اساکو نے تاکاشی کو بچی کے والد کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب دوبارہ شادی کرچکے ہیں لیکن خاتون نے دو شرطیں عائد کی تھیں کو اول یہ کہ وہ کسی طرح بچی کو بتائے کہ اب تک اس سے دور کیوں تھا

اور دوم جو کچھ اس کی بچی اپنے فرضی والد سے کہے وہ اسے یعنی اس کی ماں کو ضرور بتایا جائے۔یہاں تاکاشی نے اپنا نام یاماڈا رکھا اور بچی کے سامنے آیا جسے دیکھ کر پہلے تو وہ کچھ پریشان ہوئی اور اس کے بعد اس نے فنکار کو اپنے والد کے طور پر قبول کرلیا۔ اب وہ مہینے میں دو مرتبہ اسوکا کے گھر جاتا ہے اور بچی کو لے کر باہر جاتا ہے اور اس کے ساتھ کھیلتا ہے۔

اب یہ بچی دھیرے دھیرے نارمل ہورہی ہے اور سکول جانا بھی شروع کردیا ہے۔ اس کے بدلے اسوکا فنکار کو ایک دن کا معاوضہ 90 ڈالر میں ادا کرتی ہے۔تاہم عوام نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے بچی کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔ ان دونوں کے درمیان اب گہرا رابطہ ہوچکا ہے لیکن یاماڈا کا اس خاندان سے رابطہ محض آجر اور اجیر کا بن چکا ہے۔

یہ کردار اسے اس وقت تک نبھانا ہے جب تک بچی شادی کے قابل نہیں ہوجاتی اور اسی وجہ سے والدہ نے اسے 10 برس کے لیے بک کیا ہے لیکن شاید یاماڈا کو بچی کے بچوں کا نانا بھی بننا پڑے گا۔ واضح رہے صیغہ راز کی خاطر اس کہانی میں اصل نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

کیا آپ کو OKکا مطلب معلوم ہے ؟جواب آپ کو حیران کر دے گا

کیا آپ کو OKکا مطلب معلوم ہے ؟جواب آپ کو حیران کر دے گا
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:55
اگر یہ کہا جائے کہ انگریزی لفظ OKدنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ بات بات پر OKبولتے ہو ئے آپ نے کبھی سوچا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ دراصل یہ لفظ پرانی انگریزی کے دو الفاظ” Oll Korrect”کا مخفف ہے جن کا مطلب ہے “سب ٹھیک ہے

”۔ انیسویں صدی کے وسط میں امریکی شہرو ںبوسٹناور نیویارک میں غیر روایتی الفاظ کا استعمال عام تھا اور بڑے لفظوں کومختصر کر کے بولنا بہت پسند کیا جا تاتھا۔اس دور میں” You know”کی جگہ

KYاور” Oll wright” کی جگہ OW جیسے مخفف عام استعمال کئے جاتے تھے ۔

اگرچہ ان میں سے اکثر مخفف وقت کے ساتھ ختم ہو گئے ،مگر ایک سیاستدان کی وجہ سے OKکا استعمال جاری رہا۔یہ سیاستدان وین بورین تھے جن کا عرف عام “Old Kinderhook”تھا اور ان کے ساتھی اور کارکن انہیں مختصر ًاOKکہتے تھے اورانہوں نے ایک OKکلب بھی بنارکھاتھا۔اگرچہ اس لفظ کا تعلق سیاست سے توختم ہو گیالیکن “سب ٹھیک ہے” یا” ٹھیک” کے معنوں میں اس کا استعمال اب بھی بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ۔

ہیجڑوں کی خفیہ زبان ، جسے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا

ہیجڑوں کی خفیہ زبان ، جسے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:44
جنوبی ایشیا میں ایک خفیہ زبان ہے جو صرف ہیجڑے جانتے ہیں. پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بسنے والے ہیجڑے ایک ایسی مخلوق ہیں جو مردوں کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن ان کی روحیں عورتوں جیسی ہیں. وہ اپنے آپ کو شی میل ، خواجہ سرا اور مخنث بلاتے ہیں . انہیں گارڈ آف حرم بھی کہا جاتا ہے جو ان کہ مختلف علاقوں میں حکمرانی کی تاریخی خدمات کی یاد دلاتا ہے. آج کل کے ہیجڑوں کو پرفارمر اور پان ہینڈلر کہا جاتا ہے . خاص بات یہ ہے کہ وہ کئی ایسے راز

style=”text-align: right;”>جانتے ہیں جو باقی دنیا کو کم ہی معلوم ہونگے. ان میں سے ایک اہم چیز ہیجڑا فارسی زبان ہے. ہمارے لیے اہم ہے کہ جب ہم آپس میں بات کریں تو لوگوں کو معلوم نہ ہو ہم کیا بات کر رہے بات کر رہے ہیں . اس لیے ہم ایک خاص زبان استعمال کرتے ہیں. یہ لاہور میں رہنے والے ایک ہیجڑے’ دیمی’ نے بتایا. انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی سپیشل خاصیت ہے . ہیجڑے عورتوں کا لباس پہنتے ہیں

لیکن ان کو مردوں یا عورتوں کی کمیونٹی میں شامل نہیں کیا جاتا. وہ ایک تیسری جنس کی مخلوق سمجھے جاتے ہیں. یہ تیسری جنس پاکستان بھارت اور بندگلہ دیش میں ان کو قانونی طور پر حاصل ہے. قانونی حفاظت کے باوجود انہیں سوسائیٹی سے دور رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ہرقسم کے کمائی پروفشنز سے محروم رکھا جاتا ہے. وہ شادی بیاہ میں ناچ گا کر اور بد فعلی کے ذریعے اپنی روزی کماتے ہیں. جس کے وجہ سے انہیں اور بھی نفرت سے دیکھا جاتا ہے. ہیجڑا اگرچہ فارسی زبان کے نام کی طرح ہے لیکن اصلا یہ فارسی سے بلکل مختلف ہے.

کوئی نہیں جانتا کہ یہ زبان کب وجود میں آئی اگرچہ کچھ ہیجڑوں کا خیال ہے کہ یہ مغلوں کے دور سے وجود پذیر ہے. یہ اس وقت کے ایک مشہور مخنث نندی مائی نے ایجاد کی. اس دور میں خواجہ سرا بادشاہوں کے حرم کی حفاظت کیا کرتےتھے. اور انہیں عدالت تک رسائی دی جاتی تھی اسی وجہ سے آج بھی کچھ پاکستانی خواجہ سرا اپنے آپ کو خواجہ سرا کہ کر فخر محسوس کرتے ہیں. ڈاکٹر کرا ہال جو یونیورسٹی آف کولوراڈو کے ایسوشی ایٹ پروفیسر ہیں اور انڈیا سے ہیجڑا فارسی پڑھ چکے ہیں نے بتایا کہ شاید مغلیہ دور کی نسبت سے ہی اس زبان کو ہیجڑا فارسی کا نام دیا گیا ہو. وہ اپنی زبان کو فارسی اس لیے بھی کہتے ہیں کہ وہ میڈیول ایج سے ہی عدالتوں کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرتے رہے ہیں . انگریزوں کے زمانے میں ہیجڑوں کو اور بھی پریشان کیا گیا کیوں کہ وہ ہیجڑوں کے ناچ گانے کو جرم سمجھتے تھے. اس لیے ہیجڑوں نے اس زبان کے زریعے اپنے تحفظ کی بنیاد رکھی.

اگرچہ ہیجڑا فارسی کی کوئی مستند تاریخ موجود نہیں لیکن ڈاکٹر ہال کے مطابق 1800 صدی عیسوی سے یہ زبان بولی جاتی رہی ہے. ڈاکٹر محمد شیراز کے مطابق ہیجڑا فارسی کے تقریبا دس ہزار کل الفاظ ہیں جن میں بہت سے دوسری جنوبی ایشیائی زبانوں سے لیے گئے ہیں. یہ ایک مشکل زبان ہے اور اس کا ذخیرہ الفاظ بہت وسیع ہے. ان الفاظ میں تجارت، پیسے، رسومات، بد دعائوں اور جنسی تعلقات سے متعلق الفاظ شامل ہیں. بے شمار محرومی اور ظلم و ستم کے باوجود ہیجڑا فارسی زبان ہیجڑا برادری کو ایک کمیونٹی کی شکل میں پرو دیتی ہے. ہیجڑے ایک دوسرے کو دنیا دار کہہ کر بلاتے ہیں. اسی لیے ان کا ایک علیحدہ کلچر اور علیحدہ زبان ہے. ہیجڑا ہونے کا مطلب ہے کہ اس انسان کو ہیجڑا فارسی ضرور بولنا آتی ہے . بہت سے ہیجڑے اپنے گرو کے ساتھ ڈیروں پر رہتے ہیں. ہیجڑے یا تو گھروں سے بھاگے ہوئے ہوتے ہیں یا انہیں فیملی سے الگ کر کے چلے جانے پر مجبور کیا جاتا ہے.

طویل پرواز کے دوران ائیرہوسٹس اور پائلٹ کہاں سوتے ہیں؟

طویل پرواز کے دوران ائیرہوسٹس اور پائلٹ کہاں سوتے ہیں؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 18:32
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہوائی سفر کے دوران آپ کو کھانا کھلا چکنے کے بعد جب روشنی دھیمی کر دی جاتی ہے تو اس وقت ایئرہوسٹس کہاں گم ہو جاتی دنیا بھر میں کئی ایئرلائنز نے پندرہ گھنٹوں سے بھی طویل براہ راست پروازیں شروع کر رکھی ہیں۔ کبھی آپ نے اتنے طویل دورانیے کی فلائٹ میں سفر کیا ہو تو آپ جانتے ہیں یہ کتنا تھکا دینے والا سفر ہوتا ہے۔ ایسی پروازوں کے دوران پائلٹ جہاز اپنے شریک پائلٹ کے حوالے کر کے سستاتے ہیں۔ لیکن کہاں؟

ہیں اور طویل سفر کے دوران

پائلٹس کیسے آرام کرتے ہیں؟ جانیے مندرجہ ذیل تفصیلات اور تصاویر میں۔نئے بوئنگ 777 ہوائی جہاز میں یہ ہے پائلٹ روم۔ بزنس کلاس جیسی آرام دہ نشستوں کے ساتھ واش بیسن بھی مہیا کیا گیا ہے پائلٹس یہاں آرام کر سکتے ہیںیہ پرانے بوئنگ 777 کا پائلٹ روم ہے۔ اس جہاز کو اڑانے والے کئی کپتانوں کی شکایت ہے کہ پائلٹ روم میں آرام کرنا کسی تابوت میں سستانے کے مترادف ہے کیوں کہ اس میں پائلٹوں کے لیے نقل و حرکت کی گنجائش بہت کم ہے۔ہوائی جہاز کے مسافروں کی ضروریات مکمل کرنے کے بعد فضائی میزبانوں کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہوائی جہازوں میں ان کے لیے بھی خصوصی جگہ متعین ہوتی ہے، جو کہ ظاہر ہے مسافروں کی نظروں سے ہٹ کر ہوتی ہے۔بوئنگ 777 میں ایئر ہوسٹس کے لیے بنائے گئے خصوصی خفیہ چیمبرز طیارے کے آخر میں ہیں۔ ان تک رسائی کا راستہ اتنا تنگ ہے کہ فضائی میزبانوں کو سنبھل کر یہاں پہنچنا پڑتا ہے۔ کیبن میں چھ تا دس بستر نصب کیے جاتے ہیں۔بوئنگ 777 کی نسبت ڈریم لائنر میں ایئر ہوسٹس کے لیے کیبن کشادہ اور آرام دہ ہیں۔ اس کیبن میں نصب ہر دو بستر بستروں کے مابین پردہ بھی ہے اور روشنی مدھم یا تیز بھی کی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں یہ کیبن ساؤنڈ پروف بھی ہے۔ہوائی جہاز کی آرائش کرتے وقت پہلی ترجیح مسافروں کو دی جاتی ہے۔ فضائی میزبانوں کے لیے مختص نئے طیاروں میں دیگر سہولیات تو بہتر کی گئی ہیں لیکن انہیں جہاز سے باہر جھانکنے کے لیے کوئی کھڑکی دستیاب نہیں۔اس جہاز میں ایئر ہوسٹس اور پائلٹوں کے لیے بنائے گئے کیبنوں میں قریب ایک جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ فضائی میزبانوں کے لیے جہاز کے آخری حصے اور پائلٹس کے لیے اگلے حصے میں کیبن بنائے گئے ہیں۔

عورتوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق جو مردوں سے مختلف ہیں

عورتوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق جو مردوں سے مختلف ہیں
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 17:38
یہ بات ایک حقیقت ہے کہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔ عورتوں کی جذباتی اور جسمانی دونوں فطرت مردوں سے الگ ہے۔ آج ہم آپ کو عورتوں کے بارے میں کچھ ایسے حقائق اور خصوصیات بتائیں گے جو انہیں مردوں سے منفرد بناتے ہیں۔عورتوں کا دل قدرتی طور پر آدمیوں کے مقابلے ذیادہ تیز دھڑکتا ہےعورتوں کی زبان پر ذائقہ محسوس کرنے والے مساموں کی تعداد بھی ذیادہ ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عورتیں میٹھے ذائقے کی بھی بہت سی قسمیں بتا سکتی ہیں۔عورتوں کی جلد بھی دس گناہ ذیادہ حساس اور

نازک ہوتی ہے۔عورتوں جسم میں توانائی جمع کرنے کا عمل مردوں کے مقابلے میں آہستہ ہوتا ہے۔ وہ دن میں صرف 50 کلو کیلوری ہی جمع کر پاتی ہیں۔عورتوں کے پٹھوں اور گوشت میں ذیادہ لچک ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتوں کا جسم لچکدار ہوتا ہےآنکھیں جھپکنے کے معاملے میں بھی عورتیں مردوں سے مختلف ہیں اور مردوں کے مقابلے دگنی دفعہ آنکھیں جھپکتی ہیں عورتوں کی قوت مدافعت مردوں کی بانسبت ذیادہ مضبوط ہوتی ہےنیند میں عورتوں کے دماغ کی کارکردگی صرف 10 فیصد تک کم ہوتی ہے۔

اس لئے عورتوں کی نیند بہت کچی ہوتی ہےعورتیں قدرتی طور پر ذیادہ جذباتی اور حساس ہوتی ہیں۔ ایک سال میں عورتیں تقریباً 30 سے 60 مرتبہ روتی ہیں۔ جبکہ مرد صرف 6 سے 17 مرتبہ روتے ہیںیونانی کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے۔ سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کی نہیں۔ بونا وٹیوکر کا قول ہے کہ عورت اس بچھو کی مانند ہے جو ڈنگ مارنے پر تلا رہتا ہے۔ یوحنا کا قول ہے کہ عورت شر کی بیٹی ہے اور امن و سلامتی کی دشمن ہے۔ رومن کیتھولک فرقہ کی تعلیمات کی رو سے عورت کلامِ مقدس کو چھو نہیں سکتی اور عورت کو گرجا گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت رومتہ الکبریٰ میں عورتوںحالت لونڈیوں سے بدتر تھی، ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔

یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔دورِ جاہلیت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ لیکن محسنِ انسانیت، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عورت کے بارے میں ارشادات ملاحظہ فرمایئے:٭قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس پوچھوں گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں ایک بیوہ عورت ہوں، میرے چند یتیم بچے ہیں۔جس عورت نے اپنے رب کی اطاعت کی اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر کی خوبیاں بیان کرتی ہے اور

اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک درجہ ہوگا۔٭ جو عورت ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنے یتیم بچوں کی تربیت و پرورش کی خاطر نکاح نہ کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہے۔٭ جس عورت نے نکاح کیا، فرائض ادا کیے اور گناہوں سے پرہیز کیا اس کو نفلی عبادات کا ثواب خدمتِ شوہر، پرورشِ اولاد، اور امورِ خانہ داری سے ملے گا۔ ٭جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھ کر جہاد کرنے اور رات کو عبادت کرنے والی (عورت) کے برابر ثواب ملتا ہے

تورات کی وہ 12آیات جن پر حضرت علی ؓ بہت زیادہ غورو فکرکرتے تھے یہاں تک کہ دن میں تین بار ضرور ان کو پڑھتے تھےان آیات میں کیا لکھا ہے ؟دلچسپ اسلامی معلومات

تورات کی وہ 12آیات جن پر حضرت علی ؓ بہت زیادہ غورو فکرکرتے تھے یہاں تک کہ دن میں تین بار ضرور ان کو پڑھتے تھےان آیات میں کیا لکھا ہے ؟دلچسپ اسلامی معلومات
منگل‬‮ 27 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 17:15
حضور سرور کائنات ؐ کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ایسے ہے کہ ’’میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کا دروازہ‘‘حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حکمت و دانش سے لبریز کتاب نہج البلاغہ آپ کے علم ، حکمت و دانش کا ایسا سورج ہے جو تا قیامت لوگوں کو ہدایت و رہنمائی کے عظیم منبع اسلام کی جانب مبذول کراتا رہے گا ۔حضرت علیؓ نہ صرف مدینہ منورہ کے

یہودیوں میں اپنی حکمت و دانش کے باعث مشہور تھے بلکہ مشرکین مکہ بھی آپ کے علم اور عمدہ

فیصلوں کے قائل نظر آتے تھے۔ حضرت علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں کہ میں نے توریت سے بارہ کلمات اخذ کیے ہیں جن پر روزانہ تین بار غور کرتا ہوں۔ وہ کلمات درج ذیل ہیں۔ایک۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم.! تجھ کو کسی حاکم اور دشمن حتیٰ کہ جن اور شیطان سے بھی جب تک میری حکومت باقی ہے ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے۔ دو۔۔اے آدم کے بیٹے.! تو کسی قوت اور طاقت اور کسی کے باعث روزی ہونے کے سبب اس سے مرعوب نہ ہو جب تک میرے خزانے میں تیرا رزق باقی ہے اور

میں تیرا حافظ ہوں اور یاد رکھ میرا خزانہ لافانی اور میری طاقت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ تین۔۔اے ابن آدم.! جب تو ہر طرف سے عاجز ہو جائے اور کسی سے کچھ بھی تجھ کو نہ ملے اور کوئی تیری فریاد سننے والا نہ ہومیں اگر تو مجھے یاد کرے اور مجھ سے مانگے تو میں یقینا فریاد کو پہنچوں گا اور جو تو طلب کرے گا دوں گا کیونکہ میں سب کا حاجت روا اور دعاو ¿ں کا قبول کرنے والا ہوں۔چار۔۔ اے اولاد آدم! تحقیق کہ میں تجھ کو دوست رکھتا ہوں پس تجھے بھی چاہیے کہ میرا ہو جا اور مجھے یاد رکھ۔ پانچ۔۔ اے آدم کے بیٹے! جب تک تو پل صراط سے پار نہ ہو جائے تب تک تو میری طرف سے بے فکر مت ہو جانا۔چھ۔۔ اے آدم کے بیٹے.! میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیااور نطفہ کو رحم مادر

میں ڈال کر اس کو جما ہوا خون کر کے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا پھر رنگ و صورت اور شکل تجویز کر کے ہڈیوں کا ایک خول تیار کیا پھر اس کو انسانی لباس پہنا کراس میں اپنی روح پھونکی، پھر مدت معینہ کے بعد تجھ کو عالم اسباب میں موجود کر دیا، تیری اس ساخت اور ایجاد میں مجھے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی پس اب تو سمجھ لے کہ جب میری قدرت نے ایسے عجیب امور کو پایہ تکمیل

تک پہنچایا تو کیا وہ تجھ کو دو وقت کی روٹی نہ دے سکے گی؟ پھرتو کس وجہ سے مجھ کو چھوڑ کر غیر سے طلب کرتا ہے۔ سات۔۔ اے آدم کے بیٹے.! میں نے دنیا کی تمام چیزیں تیرے ہی واسطے پیدا کی ہیں اور تجھے خاص اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے مگر افسوس تو نے ان اشیاءپر جو تیرے لیے پیدا کی گئی تھیں اپنے آپ کو قربان کر دیا اور مجھ کو بھول گیا۔آٹھ۔۔ اے آدم کے بیٹے.! دنیا کے

تمام انسان اور تمام چیزیں مجھے اپنے لیے چاہتی ہیں اور میں تجھ کو صرف تیرے لیے چاہتا ہوں اور تو مجھ سے بھاگتا ہے۔ نو۔۔ اے آدم کے بیٹے.! تو اپنی اغراض فسانی کی وجہ سے مجھ پر غصہ کرتا ہےمگر اپنے نفس پر میرے لیے کبھی غصہ نہیں ہوتا۔ دس۔۔ اے آدم کے بیٹے.! تیرے اوپر میرے حقوق ہیں اور میرے اوپر تیری روزی ساری مگرتو میرے حقوق کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے

لیکن میں پھر بھی تیرے کردار پر خیال نہ کرتے ہوئے برابر تجھے رزق پہنچاتا رہتا ہوں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ گیارہ۔۔ اے آدم کے بیٹے!تو کل کی روزی بھی مجھ سے آج ہی طلب کرتا ہے اور میں تجھ سے اس روز کے فرائض کی بجا آوری آج نہیں چاہتا۔بارہ۔۔اے آدم کے بیٹے! اگرتو اپنی اس چیز پر جو میں نے تیرے مقسوم میں مقدر کر دی ہے راضی ہوا تو بہت ہی راحت اورآسائش میں رہے گا

اور اگر تو اس کے خلاف میری تقدیر سے جھگڑے اور اپنے مقسوم پہ راضی نہ ہوا تو یاد رکھ میں تجھ پر دنیا مسلط کر دوں گا اور وہ تجھے خراب و خستہ کرے گی اور تو کتوں کی طرح دروازوں پر مارا مارا پھرے گا مگر پھر بھی تجھ کو اسی قدر ملے گا جو میں نے تیرے لیے مقرر کر دیا ہے۔ معالی الہمم صفحہ نمبر ۲۲ از حضرت جنید بغدادی ؒ۔

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:53
بولی وڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون اور پگی چوپس پریانکا چوپڑا کے درمیاں جہاں اداکاری اور فیشن میں غیر اعلانیہ مقابلہ دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں اب یوں لگتا ہے جیسے دونوں نے شادی کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔جہاں پریانکا چوپڑا کو امریکی منگیتر نک جونس نے منگنی پر 3 کروڑ

روپے سے زائد کی انگوٹھی پیش کی تھی۔وہیں دپیکا پڈوکون کو رنویر سنگھ نے نک جونس سے بھی زیادہ قیمتی انگوٹھی دی، رپورٹس کے مطابق دپیکا کو ملنے والی انگوٹھی قیمت 5 کروڑ روپے تک تھی۔اسی طرح جہاں

دپیکا اور رنویر نے یورپی ملک اٹلی کے پرتعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے تک خرچ کیے۔اب وہیں اطلاعات ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور کے پر تعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا 4 کروڑ روپے تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دپیکا اور رنویر نے اٹلی کے سیاحتی مقام لیک کومو میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: فیس بکیہی نہیں بلکہ جہاں دپیکا اور رنویر نے بھی بیک وقت 2 شادیاں یعنی مختلف رسومات کیں، وہیں اب نک جونس اور پریانکا بھی یہی کرنے جا رہے ہیں۔دپیکا اور رنویر نے 14 نومبر کو کونکنی اور 15 نومبر کو سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی۔اور اب خبریں ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی 2 دن تک جاری رہنے والی شادی کی تقریبات میں 2 روایات کے مطابق شادی کی رسومات ادا کریں گے۔

رنویر اور دپیکا نے کونکنی اور سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی—فوٹو: دیپ ویر انسٹاگرامٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نک جونس 22 نومبر کو امریکا سے شادی کے لیے بھارت روانہ ہوئے، جہاں وہ سب سے پہلے دہلی میں قیام کریں گے۔رپورٹ کے مطابق خبریں ہیں کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی شادی کی دعوت دینے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور دونوں ان سے دہلی میں مل کر انہیں دعوت پیش کریں گے۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر نریندر مودی ان کی شادی میں شرکت کریں گے اور اگر انہوں نے ان کی شادی میں شرکت کی تو وہ ایک سال بعد کسی شوبز شخصیت کی شادی میں شرکت کریں گے۔

پریانکا اور نک جودھپور کے تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں شادی کریں گے—فوٹو: این ڈی ٹی ویاس سے قبل نریندر مودی انوشکا شرما اور ویرات کوہلی کی ممبئی میں ہونے والی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا بھی 2 روایات کے مطابق شادی کریں گے۔رپورٹ کے مطابق نک جونس اور پریانکا پہلے ہندی اور بعد ازاں عیسائی رسومات کے مطابق شادی کریں گے۔ان کی شادی جودھپور کے معروف اور تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں ہونے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے جوڑے نے کوئی اعلان نہیں کیا۔

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا

دپیکا کی طرح پریانکا نے بھی 2 شادیاں کرنے کا منصوبہ بنا لیا
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:53
بولی وڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون اور پگی چوپس پریانکا چوپڑا کے درمیاں جہاں اداکاری اور فیشن میں غیر اعلانیہ مقابلہ دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں اب یوں لگتا ہے جیسے دونوں نے شادی کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔جہاں پریانکا چوپڑا کو امریکی منگیتر نک جونس نے منگنی پر 3 کروڑ

روپے سے زائد کی انگوٹھی پیش کی تھی۔وہیں دپیکا پڈوکون کو رنویر سنگھ نے نک جونس سے بھی زیادہ قیمتی انگوٹھی دی، رپورٹس کے مطابق دپیکا کو ملنے والی انگوٹھی قیمت 5 کروڑ روپے تک تھی۔اسی طرح جہاں

دپیکا اور رنویر نے یورپی ملک اٹلی کے پرتعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا ساڑھے تین کروڑ روپے تک خرچ کیے۔اب وہیں اطلاعات ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور کے پر تعیش ہوٹل میں شادی کرکے تقریبا 4 کروڑ روپے تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دپیکا اور رنویر نے اٹلی کے سیاحتی مقام لیک کومو میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: فیس بکیہی نہیں بلکہ جہاں دپیکا اور رنویر نے بھی بیک وقت 2 شادیاں یعنی مختلف رسومات کیں، وہیں اب نک جونس اور پریانکا بھی یہی کرنے جا رہے ہیں۔دپیکا اور رنویر نے 14 نومبر کو کونکنی اور 15 نومبر کو سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی۔اور اب خبریں ہیں کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس بھی 2 دن تک جاری رہنے والی شادی کی تقریبات میں 2 روایات کے مطابق شادی کی رسومات ادا کریں گے۔

رنویر اور دپیکا نے کونکنی اور سندھی روایات کے مطابق شادی کی تھی—فوٹو: دیپ ویر انسٹاگرامٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نک جونس 22 نومبر کو امریکا سے شادی کے لیے بھارت روانہ ہوئے، جہاں وہ سب سے پہلے دہلی میں قیام کریں گے۔رپورٹ کے مطابق خبریں ہیں کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی شادی کی دعوت دینے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور دونوں ان سے دہلی میں مل کر انہیں دعوت پیش کریں گے۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر نریندر مودی ان کی شادی میں شرکت کریں گے اور اگر انہوں نے ان کی شادی میں شرکت کی تو وہ ایک سال بعد کسی شوبز شخصیت کی شادی میں شرکت کریں گے۔

پریانکا اور نک جودھپور کے تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں شادی کریں گے—فوٹو: این ڈی ٹی ویاس سے قبل نریندر مودی انوشکا شرما اور ویرات کوہلی کی ممبئی میں ہونے والی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نک جونس اور پریانکا چوپڑا بھی 2 روایات کے مطابق شادی کریں گے۔رپورٹ کے مطابق نک جونس اور پریانکا پہلے ہندی اور بعد ازاں عیسائی رسومات کے مطابق شادی کریں گے۔ان کی شادی جودھپور کے معروف اور تاریخی ہوٹل امید بھگوان پیلس میں ہونے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے جوڑے نے کوئی اعلان نہیں کیا۔

حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا

حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:40
ایک بار غازی الدین حیدر اپنے وقت کے مشہور درباری گویے حیدری خاں سے گانا سن رہے تھے-انہوں نے حکم دیا کہ اگر حیدری خاں نے آج انہیں رُلایا نہیں تو وہ حیدری خاں کو قید خانے میں پھنکوا دیں گے-خدا کی قدرت حیدری خاں نے ایسا گایا کہ غازی الدین حیدر رو پڑے- انہوں نے خوش ہو کر کہا “ بولو حیدری اںکیا مانگتے

ہو“-حیدری خاں نے جواب دیا “ حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا“-ادشاہ نے حیرت سے پوچھا “ کیوں؟ “-حیدری خاں نے جواب دیا “ حضور آپ

بادشاہ ہیں٬ مر گئے تو کوئی دوسرا تخت پر بیٹھا دیا جائے گا لیکن اگر میں آپ کی شاہانہ طبعیت کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو مجھ جیسا حیدری خاں دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوگا“-سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں پر بھرو سہ رکھیے۔

جب تک آپ میں یہ خوبی پیدا نہیں ہو گی، آپ کامیاب اور خوش و خرم نہیں ہو سکتے۔ ایک معقول خود اعتمادی ہی کامیابی کی طرف بڑھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ احساس کمتری اور شش و پنج کا شکار دماغ مستقبل کی کیا منصوبہ بندی کر سکتا ہے؟ لیکن خود اعتماد شخص اپنیصلاحیتوں سے مکمل آگاہ ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کامیابی کیسے ملے گی۔اس کی دماغی صلاحیت اور اندازِ فکر کی بلندی اسے سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔

یہ ایکچونکا دینے والی حقیقت ہے کہ کئی باصلاحیت افراد کو خوف زدہ کر کے نکما اور قابل رحم بنا دیا گیا ہے اور اس طرح ان کو احساس کمتری کے آزار میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ مگر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا حل درست علاج میں مضمر ہے۔ آپ اپنی ذہنی فکر و تردد کو بہتری کی جانب گامزن کر سکتے ہیں، اور اس یقین کے ساتھ کہ آپ ایسا کر کے رہیں گے۔

احساس کمتری کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں، اور ان میں سے چند ایک کی بنیاد بچپن ہی میں پڑ جاتی ہے۔ایک اعلیٰ عہدے دار نے مجھ سے رابطہ قائم کیا کہ وہ ایک نوجوان کو اپنی کمپنی میں ایک خاص ذمہ داری سونپنا چاہتا ہے۔اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’انتہائی اہمیت کے کام اور بات کو خفیہ رکھنے کی مناسبت سے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا جس عہدے پر میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں،

وہ فی الحال مشکل نظر آ رہا ہے۔ اس میں تمام اہلیت اور قابلیت موجود ہے، مگر وہ بولتا بہت زیادہ ہے اور اس کے اندر احساس ذمہ داری بالکل نہیں ہے کہ کون سی بات کس کے سامنے کہنی چاہیے اور کس کے سامنے نہیں۔‘‘ تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ’’وہ بولتا بہت ہے۔‘‘ احساس کمتری کی یہ بھی ایک قسم ہے۔ اس طرح وہ دوسروں پر اپنی قابلیت کا رعب جمانا چاہتا ہے۔

اس کا اٹھنا بیٹھنا ان لوگوں میں تھا جو اچھی مالی حیثیت کے افراد تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور خاندانی پس منظر بھی شاندار تھا۔ مگر یہ نوجوان غربت میں پلا بڑھا اور کالج کے افراد سے بھی زیادہ ملنا جلنا نہ تھا۔ چنانچہ اسے اپنی اس کمزوری کا شدت سے احساس تھا کہ اس کی تعلیم میں بھی کچھ کمی رہ گئی ہے اور خاندانی پس منظر بھی زیادہ بہتر نہیں ہے۔اپنی خودی کو بلند کرنے کا اس کو یہی نسخہ سمجھ میں آیا کہ خوب بڑھ چڑھ کر باتیں کی جائیں۔ جب آجر کو معلوم ہو گیا کہ اس شخصیت کی خصلت کیا ہے،

تو مہربان اور شفیق دوست کی حیثیت سے اس نے نوجوان کو کاروبار میں وہ مواقع فراہم کیے جہاں اس کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آنے لگیں۔ اس نے بھی واضح کیا کہ اس کی ذہنی کم مائیگی اور احساسات نے اس کے اعتماد کو زک پہنچائی تھی۔ اس خود شناسی نے مل جل کر اس کو کمپنی کا ایک سرمایہ بنا دیا۔ اس کی اندرونی صلاحیتیں اور قوتیں ابھر کر سامنے آنے لگیں۔بہت سے نوجوان اپنی ذاتی ہمت اور توجہ سے احساس کمتری پر قابو پا لیتے ہیں

پیپسی اور کریم کی نوک جھونک ہوئی ختم اور صارفین کو 20 لاکھ پروموز مل گئے

پیپسی اور کریم کی نوک جھونک ہوئی ختم اور صارفین کو 20 لاکھ پروموز مل گئے
پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:37
سوشل میڈیا کی طلسماتی دنیا نے دورِ حاضر کے انسانوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے- آئے دن چٹپٹی خبریں فیس بک اور ٹوئیٹر پر گردش کرتی رہتی ہیں- کبھی کوئی مشہور شخصیت دوسری شادی کرلیتی ہے تو کبھی کوئی سیاستدان مضحکہ خیز بیان دے دیتا ہے یا کوئی ویڈیو وائرل ہوجاتی ہے اور دنیا اس خبر کے پیچھے لگ جاتی

ہے-سوشل میڈیا کی بات چلی ہے تو آج کل لوگوں کو ایک نئے قصے نے بہت لطف اندوز کیا ہے- مشہور آن لائن کیب بکنگ سروس کریم اور مایہ ناز کولا برانڈ پیپسی آج کل

پھپھو اور بھتیجی کی کہانی بنائے ہوئے ہے- ان پر آنے والے تبصرے اور مزیدار ٹوئیٹ نے جس انداز میں تہلکہ مچایا ہے وہ قابلِ دید ہے- لوگوں نے کریم اور پیپسی کی اس لڑائی سے بہت لطف اٹھایا ہے-

سوشل میڈیا پر آنے والے کریم اور پیپسی کے ٹوئیٹ اتنے تفریح سے بھرپور تھے کہ لوگ ان تبصرے کیے بغیر نہ رہ سکے- پیپسی نے خود کو خاندان کی پھپھو ثابت کرتے ہوئے کریم کو قانونی نوٹس کی دھمکی دی٬ اس سب کی شروعات کچھ اس طرح ہوئی: اس ٹوئیٹ کی وجہ سے بڑے ملٹی نیشنل برانڈز کے درمیان جھگڑا پڑ گیا اور لوگوں کو چہ مگوئیاں کرنے کا موقع مل گیا- پیپسی کریم کے اس جھگڑے کو مزید ہوا ملی جب پیپسی نے اس ٹوئیٹ کا جواب اپنے اس ٹوئیٹ میں دیا-پیپسی نے فوراً ہی اس ٹوئیٹ کے جواب میں کہا میرا نام کیوں لیا؟ان کے اس ٹوئیٹ کی جنگ کے آغاز میں ہی لوگوں نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کرنا شروع کردیا

٬ کچھ پیپسی کے شیدائی پیپسی کے ساتھ مل گئے- کچھ لوگ کریم کو سپورٹ کرنے لگے اور کچھ لوگوں کا ردِ عمل تھا:اس بحث کے دوران کریم نے پیپسی کو مزید غصہ دلانے کے لیے ایک اور پوسٹ شئیر کی جو کریم یو اے ای کی طرف سے آئی-کریم کی اس ٹوئیٹ نے تو لوگوں کو مزید ہنسنے کا سامان دے دیا اور لوگ اس پر پیپسی کے ساتھ برا سلوک کرنے لگے- لیکن برانڈز کی لڑائی میں کون کس سے پیچھے رہ سکتا ہے؟لوگ انتظار کرنے لگے کہ انہی ٹوئیٹس میں کچھ مزیدار موڑ آئے گا اتنے میں کریم نے پیپسی کو مزید تنگ کرتے ہوئے یہ ٹوئیٹ کیا:

اس ٹوئیٹ کے جواب میں پیپسی ایک ساس بن گئی اور اپنی کریم بہو کو ڈرانے کے لیے یہ ٹوئیٹ پوسٹ کی جس سے دونوں ہی کمپنیز کے درمیان جنگ کا ماحول بن گیااس ٹوئیٹ نے لوگوں کو بہت تفریح فراہم کی٬ جیسے کہ اجازت تو ہر کام کی لینی چاہیے اور کریم نے پیپسی کی اجازت کے بغیر اس کا نام کیسے لیا؟ ارے بھئی بنا اجازت کے جیسے پیپسی پی لیتے ہیں ویسے ہی بغیر اجازت کے نام لیا-

اس بحث کے دوران سماﺀ ٹی وی گھر کی بڑی خاتون بننے کا مظاہرہ کرتے ہوئے درمیان میں کودی ایک مزیدار بیان دیتے ہوئے ایک پول شروع کیا کہ اگر کریم مفت پیپسی دے رہا ہے تو کیا پیپسی کو بھی مفت کریم پروموز دینی چاہیے یا نہیں-اس جنگ میں لوگوں نے حصہ لینا شروع کیا اور کہنے لگے کہ اب تو جینا ہوگا مرنا ہوگا٬ دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا- پیپسی کو خود کو بہتر بنانا چاہیے نہ کہ کریم کے ساتھ لڑائی میں وقت ضائع کرے- ایک تبصرہ دیکھنے میں آیا جس میں کہا گیا کہ “ پیپسی کو چاہیے کہ اتنے پیسے میں کیس کرے

٬ اتنے پیسے اپنے برانڈ پر لگا لے تو برانڈ اچھا ہوجائے“-اسی طرح لوگوں کے تبصرے اور ٹوئیٹس آتے رہے اور دونوں برانڈز کو اندر ہی اندر اپنی حکمت عملی پتہ چلتی رہی- اس ٹوئیٹ پر کچھ لوگوں نے کریم سے کہا کہ ہمیں مفت کی پیپسی نہیں چاہیے٬ ارے یہاں تو لوگ مفت کا پانی نہیں چھوڑتے تو پیپسی کون چھوڑے گا- خیر اس لڑائی کے چلتے بہت سے دلچسپ تبصرے اور ٹوئیٹس سامنے آئے-

یہیں اس کہانی نے ایک نیا موڑ لیا اور ایک سنسنی خیز ویڈیو سامنے آئی جس میں پیپسی کے مارکیٹنگ کے ہیڈ سعد خان نے اعلان کیا کہ پیپسی کریم کے ساتھ پارٹنر شپ کرتے ہوئے 1 ملین کریم پروموز کا اعلان کر رہا ہے-اس ویڈیو لنک کے جواب میں کریم کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر عمر عابدین نے فوراً ہی پیپسی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ پیپسی کے ساتھ مل کر یہ پروموز ڈبل کرسکتے ہیں- یعنی اب پیپسی اور کریم مل کر 2 ملین پروموز کا اعلان کریں گے-

دونوں ہی برانڈز نے لوگوں کو بڑے مزے سے مصروف رکھ کر یہ کہانی میڈیا کو دی اور لوگوں نے برانڈز کی اس چھوٹی سی جنگ کو مارکیٹنگ کی حکمت عملی بنا دیا- دو بلیوں کی لڑائی میں بندر روٹی لے کر بھاگ گیا کا منظر سامنے آیا اور میڈیا کو نیا مصالحہ مل گیا-

اس پوری جنگ میں جہاں کچھ لوگوں نے ساس یعنی کریم کو سپورٹ کیا وہین بہت سے لوگوں نے بہو یعنی پیپسی کو بھی سپورٹ کیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں بڑے برانڈز کی جنگ میں جیت ہوئی ان لوگوں کی جو ان دونوں برانڈز کو سپورٹ کر رہے تھے یعنی جو محاورہ ہم سنتے آرہے ہیں CUSTOMER IS ALWAYS RIGHT وہ بالکل صحیح ثابت ہوا اور پیپسی اور کریم کی جنگ میں جیت کسٹمر کی ہوئی