اگر آپ کو لوبیا میں چھپے فوائد معلوم ہو جائیں تو

اگر آپ کو لوبیا میں چھپے فوائد معلوم ہو جائیں تو
ہفتہ‬‮ 24 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 13:27
ویسے تو سبزیوں کا استعمال انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور ساتھ ہی کئی بیماریوں سے بھی نجات دلاتا ہے جن میں لوبیا اور پھلیوں کا روز مرہ کی خوراک میں استعمال مزید حیرت انگیز فائدے فراہم کرتا ہے۔ بلڈ پریشر: 8 مختلف مطالعوں سے ثابت ہوا ہے کہ غذا میں لوبیا شامل کرنے سے بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں مدد

ملتیہے، لوبیا کھانے سے سسٹولک ( اوپر) اور ڈیاسٹولک (نیچے) کا بلڈ پریشر دور رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ بڑھاپے کو دور کرے: پھلیوں میں ایک خاص جزو ریسورٹرول پایا جاتا ہے

جو ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کو روکتا ہے اور یوں عمررسیدگی کو دور کرتا ہے اور گہرے رنگ کی لوبیا میں یہ جزو خاصی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ: جسم میں فری ریڈیکلزسے دماغ، جسم کےدفاعی نظام اور جلد پر بہت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں، سبز چائے، بلوبیریز اور انار وغیرہ میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس اس نقصان کا ازالہ کرتے ہیں۔ چھوٹی سبز اور بڑی سرخ لوبیا میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو 2 اہم اینزائم کو روکتے ہیں جو موٹاپے اور شوگر کی وجہ بنتے ہیں۔ لوبیا اور کینسر: دل کے امراض کے بعد بالغ افراد میں موت کی دوسری بڑی وجہ سرطان ہے۔ لوبیا کے استعمال سے کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔

ایک مطالعے کے بعد ثابت ہوا ہے کہ لوبیا میں موجود ایک جزو آئی پی 6 کینسر سے لڑنے میں مدد بھی دیتا ہے۔لوبیا کولیسٹرول کو روکتی ہے:اگر روزانہ تھوڑی سی لوبیا کھالی جائے تو اس سے دل و دماغ کے لیے خطرناک ایل ڈی ایل سیکولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

وزن کم کرنے میں آسانی: ایک حالیہ مطالعے میں 35 موٹے افراد کو روزانہ 4 مرتبہ 8 ہفتوں لوبیا کھلایا گیا، پہلے ان کا وزن، جسمانی کیفیت، کولیسٹرول اور دیگر چیزیں نوٹ کی گئیں اور 8 ہفتوں بعد دوبارہ جب ان کاجائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کا بلڈ پریشر بہتر ہوگیا، موٹاپے میں کمی ہوئی اور انہوں نے جسمانی توانائی میں کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں کی۔ آنتوں کی صحت: لوبیا سے آنتوں کا اندرونی استر، ہاضمے کے لیے مفید بیکٹیریا اور دیگر نظام بہتررہتا ہے کیونکہ اس میں کئی طرح کے فائبر پائے جاتے ہیں جو نہ صرف کولیسٹرول کم کرتے ہیںبلکہ دورانِ خون اور نظامِ ہاضمہ کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں

گاڑی منگواؤ ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہے یہاں پاکستان کے دشمن بیٹھے ہیں

گاڑی منگواؤ ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہے یہاں پاکستان کے دشمن بیٹھے ہیں
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:50
میں اپنی بیگم اور بچوں کے ساتھ دبئی ہوٹل کی طرف آ رہا تھا کہ مجھے اس افسوس ناک سانحے کی اطلاع ملی۔ میرے ساتھ پاکستانی ڈرائیور بھائی بھی یہ خبر سن کر بہت پریشان ہو رہا تھا۔ یہ اوائل 2000ءکی بات ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پیپلزپارٹی بلوچستان کی تنظیم سازی نامور کالم نگار مطلوب وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔ اور مسائل کے حل کیلئے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ سینیٹر ڈاکٹر

جہانگیر بدر (مرحوم) عبدالقادر شاہین اور راقم کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی کہ انہی دنوں نواب اکبر

بگٹی (مرحوم) کے بیٹوں سے انکے باپ کی وفات پر تعزیت کی جائے۔ کوئٹہ ایئرپورٹ سے ہمیں پیپلزپارٹی بلوچستان کی قیادت نے ریلی کی شکل میں ساروان ہاؤس پہنچایا۔ یاد رہے میر لشکری رئیسانی ان دنوں پیپلزپارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر تھے یوں ہمیں نواب آف ساروان فیملی کی مہمانداری سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ رئیسانی خاندان کی جمہوریت اور پاکستان کیلئے بے شمار خدمات ہیں۔ اس سے پہلے نواب غوث بخش رئیسانی کو بھی پاکستان سے محبت کی وجہ سے شہید کر دیا گیا تھا۔

ابھی چند سال پہلے شہید سراج رئیسانی کے بڑے بیٹے کو مستونگ میں ایک فٹ بال میچ کے دوران خودکش دھماکہ کرکے شہید کر دیا گیا تھا ،اس طرح شہید سراج رئیسانی کی شہادت کے بعد یہ خاندان پاکستان سے محبت کے جرم میں شہادتوں کی ہیٹرک مکمل کر چکا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ابھی چند سالوں سے نواب سراج رئیسانی نے مٹھی بھر شرپسندوں اور بھارت نواز نام نہاد سرداروں کاناطقہ بند کر رکھا تھا اور کچھ پاکستان دشمن ٹِڈی دل دشمن بلوچستان کے پہاڑوں سے بھاگ کر سوئٹزرلینڈ، بھارت اور متحدہ عرب امارات میں پناہ گزیں ہیں۔ خاص طور پر مری، بزنجو اور بگٹی سردار پاکستان سے دشمنی کی کدورت رکھتے ہوئے پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔قارئین!

یہ اوائل 2000ءکی بات ہے محترمہ شہید بی بی اور میں دوبئی کے حاکم شیخ محمد کی دعوت پر انکے پیلس پہنچے ابھی عشائیہ شروع بھی نہ ہوا تھا کہ محترمہ نے مجھے کہا کہ ڈرائیور کو بلاؤ کہ گاڑی لیکر آئے ہمیں یہاں مزید نہیں رکنا۔ جب واپسی میں ،میں نے محترمہ سے اس طرح عشائیہ چھوڑ کر آنے کی وجہ پوچھی تو محترمہ نے جواب دیا کہ کیا تمہیںوہاں بیٹھے پاکستان دشمن نواب مری کے بیٹے نظر نہیں آئے؟ قارئین! یہ کوئی آج کی بات نہیں ہمارے بعض برادر اسلامی دوست ممالک ہی دراصل ہمارے پیارے وطن کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ دراصل جب سے گوادر منصوبے کا اعلان ہوا تو پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں میں سراسیمگی پھیل گئی انہیں ترقی کرتا پاکستان ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو شہید پر وار کیا اور انہیں راستے سے ہٹا دیا،

جس بھٹو نے عالم اسلام کو ایک سٹیج پر اکٹھا کیا تھا۔ہمارے بعض برادر اسلامی ممالک نہیں چاہتے تھے کہ ان کی موجودگی میں پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک لیڈرشپ اپنے ہاتھ میں لے ،خاص طور پر جب سے سی پیک منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے تب سے بھارت سے زیادہ ہمارے مسلم دوستوں کو یہ فکر لاحق ہو گئی ہے کہ گوادر اپنے حدود اربعہ اور محل وقوع کی وجہ سے جلد ہی خطے میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیگا اور جس دن پاکستان کے چین کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط ہوئے

اسی دن دوست مسلم ملک کے وزیر دفاع نے پاکستان مخالف بیان دے کر اپنی نیت کو واضح کر دیا اور جس دن اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا تو اس ملک کی حکومت نے بھارتی وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی اور بابری مسجد کو شہید کرنیوالے نریندر مودی کے ہاتھوں اسی ملک میں پہلے شیوا مندر کی بنیاد رکھی گئی اور جن دنوں پاکستان کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب فوج بھجوانے کی قرارداد منظور کی اس دن سے لیکر اب تک ان دوست ملکوں سے لاکھوں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے اور خاص طور پر جس دن سےہماری بہادر پاک فوج اور آئی ایس آئی نے کلبھوشن کو گرفتار کرکے دشمن کی گردن پر ہاتھ ڈالے ،

تب سے پاکستان کے دوست اور دشمن میں پہچان کرنا آسان ہو گیا ہے۔ کلبھوشن جس کا بہت بڑا نیٹ ورک بلوچستان کے شرپسندوں کو مالی اور تنظیمی سپورٹ مہیا کر رہا تھا۔ شواہد کیمطابق اس کا ہیڈ کوارٹر ساحلی شہر بندرعباس میں تھا ایران، متحدہ عرب امارات اور افغانستان تینوں آپس میں اچھے دوست نہیں رہے مگر جب بات پاکستان کی آتی ہے تو یہ تینوں برادر اسلامی ملک اپنی رنجشیں بھلا کر متحد ہو جاتے ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران ہونیوالے تین بم دھماکوں اور اس کے نتیجے میں شہید ہونےوالے افراد کی تعداد تین سو تک جا پہنچتی ہے جبکہ دوسو کے قریب زخمی ساری عمر کیلئے اپاہج بن کرہسپتالوں میں زیر علاج پڑے ہیں

جبکہ ہمارے بعض برادر اسلامی ممالک پاکستان کی مخالفت اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر کرتے ہیں لیکن عجب آزاد قلندر ہیں پاکستان کے پالیسی ساز اور سیاست دان جن کی زبانیں اسلامی امہ کہہ کہہ کر تھک گئی ہیں جبکہ پاکستان نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر فلسطین اور جہاں کہیں بھی مسلم ممالک کو پریشانی لاحق ہوئی ان کی مدد کی ہےاور اسی مدد کے نتیجے میں آج اسرائیل جس کی سرحدیں پاکستان سے نہیں عربوں سے ملتی ہیں وہ ہمارا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔

قارئین! پریشان حال جھورا جہاز میرے پاس بیٹھا رو رہا ہے اور مجھ سے بار بار یہ پوچھ رہا ہے کہ سولجر آف پاکستان کا اعزاز پانے والے سراج رئیسانی شہید کی روح کو آرام تب پہنچے گا جب ہم سینکڑوں بلوچ پاکستانیوں کے قاتل کلبھوشن کو تختہ دار پر پہنچائیں گے۔ جی ہاں قارئین ! اب ہمیں دنیا بھراور یورپ کی پروا نہیں کرنی چاہیے ہمیں عالمی عدالت انصاف کی بھی پروا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جب دہشتگرد پاکستان میں بم دھماکوں میں خون کی ندیاں بہا دیتے ہیں ،جب دہشتگرد ہنستے بستے گھرانوں کو پل بھر میں اجاڑ دیتے ہیں، جب دہشت گرد ہزاروں بچوں کو یتیم کر چکے ہیں اور جب دہشت گرد پاکستان کی معیشت اور وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،تو اس وقت دنیا بھر کا درد اپنے جگر میں رکھنے والی عالمی عدالت انصاف کہاں سوئی پڑی ہے؟

وہ عالمی عدالت انصاف انسانیت کے مجرموں اور قاتلوں کو سزا کیوں نہیںدلواتی؟ ہمارے تینوں برادر اسلامی ممالک ، بھارت اور دنیا بھر کی دو درجن سے زائد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پاکستان کےچاروں اطراف سرحدوں اور مملکت عزیز کے اندر غیر اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔ پاکستان تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ستر سالوں سے پاکستان کا خون جونک کی طرح چوسنے والے کرپٹ سیاست دان، بیوروکریٹس اور کرپٹ ججز اور جرنیلوں نے پاکستان کی اساس کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں مگر معروضی حالات میں بھی پاکستان کا فخر ،پاکستان کی آن، ہماری پاک فوج اور آئی ایس آئی نے ہمارا بھرم قائم رکھا ہوا ہے۔

ایک طرف خیبرپختونخوا میں بلور خاندان نے شہادتیں دے کر تاریخ رقم کی ہے تو دوسری طرف نواب غوث بخش رئیسانی نے بیٹے اور پوتے سمیت شہادتیں دے کر بلوچوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میرا مضبوط دوستی کا تعلق شہیدوں کے اس خاندان سے ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی طرفسے سولجر آف پاکستان کا خطاب فقط کافی نہیں بلکہ شہید سراج رئیسانی کو پاکستان کی جنگ لڑنے پر نشانِ حیدر دیا جانا چاہیے۔قارئین!

الیکشن کا دور دورہ ہے میاں نوازشریف صاحب اور ان کی صاحبزادی مریم نوازکو ان کے خاوند کیپٹن صفدر سمیت جیل بھیجا جا چکا ہے۔ اس طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کے لواحقین کو کچھ تو صبر ملا ہوگا مگر پاکستان عوامی تحریک کی مرکزی قیادت کوئی مربوط لائحہ عمل نہ تیار کر سکی اور آج ملک بھر میں انکے ووٹرزٹوٹی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں اور قائد تحریک لٹریسی اور ادبی کام چھوڑیں تو سیاست چلتی ہے مگر پھر تحقیقی اور نصابی کام کون کرے گا۔ بہرحال پاکستان عوامی تحریک کو اس الیکشن کے نتائج کا ادراک جب ہوگا تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

قسمت ہو تو ایسی ۔۔۔۔۔ بحرین کے بادشاہ کے بیٹے نے سڑک کنارے مچھلی فروش کے حوالے سے ایسا حکم جاری کر دیا کہ پورا ملک حیرن رہ گیا

قسمت ہو تو ایسی ۔۔۔۔۔ بحرین کے بادشاہ کے بیٹے نے سڑک کنارے مچھلی فروش کے حوالے سے ایسا حکم جاری کر دیا کہ پورا ملک حیرن رہ گیا
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:08
بحرینی دارلحکومت کی ایک مصروف سڑک کے کنارے مچھلی بیچنے والے ایک غیر ملکی نوجوان کو گزشتہ روز اس وقت ایک حیرت انگیز تحفہ ملا جب بحرینی شہزادہ شیخ ناصر بن حماد الخلیفہ خود چل کر اس کے پاس چلے آئے اور اسے ایک ایسی کاروباری پیشکش کر ڈالی کہ نوجوان کے لئے اپنی خوش قسمتی پر یقین کرنا مشکل

ہو گیا ۔گلف نیوز کے مطابق بحرین کے امیر کنگ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کے صاحبزادے پرنس شیخ ناصر بن حماد الخلیفہ حماد ٹاؤن میں سڑک کے کنارے کاروبار کرنے والے ایک مچھلی فروش کے پاس پہنچ

گئے۔ شہزادے نے اس مچھلی فروش کو پیشکش کی کہ وہ بحرین کی ایک بڑی ہائپر مارکیٹ کو مچھلی فراہم کرے تو اسے لائسنس جاری کیاجائے گا اور دکان بھی بنا کردی جائے گی۔انہوں نے مچھلی فروش سے یہ بھی پوچھا کہ آیا اسے کشتی کی ضرورت ہے یا نہیں۔محمد علی نامی مچھلی فروش شہزادے کی اچانک آمد پر پہلے ہی حیرت زدہ تھا اور اس پر یہ کاروباری پیشکش اس کے لئے ناقابل یقین ثابت ہوئی۔

بعدازاں ہائپر مارکیٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ شہزادے کی پیشکش کے بعد فوری طور پر محمد علی سے مچھلی خریدنے کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔مقامی میڈیاکے مطابق شہزادے نے اس مچھلی فروش کو پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا اور وہ کام کے ساتھ اس کی لگن اور محنت کے جذبے سے متاثر تھے۔ وہ بحرین کے لئے اس کے مثبت جذبات سے آگاہ تھے اور اس کی انہیں خوبیوں کی بنا پر انہوں نے اسے کاروبار کی شاندار پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

میں سدھرنے والا تھا

میں سدھرنے والا تھا
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:04
جوانی چڑھ گئی تو میں گھر دیر سے آنے لگا، رات دیر تک گھر سے باہر رہنا اور سارا سارا دن سوئے رہنا معمول بن گیا، امی نے بہت منع کیا لیکن میں باز نہ آیا۔ شروع شروع میں وہ میری وجہ سے دیر تک جاگتی رہتی بعد میں سونے سے پہلے فریج کے اوپر ایک چٹ چپک ا کثر سو جاتی، جس پر کھانے کی نوعیت اور جگہ کے بارے میں لکھا ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ چٹ کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور “گندے کپڑے کہاں رکھنے ہیں اور صاف کپڑے کہاں پر رکھے ہیں”

جیسے

جملے بھی لکھے ملنے لگے، نیز یہ بھی کہ آج فلاں تاریخ ہے اور کل یہ کرنا ہے پرسوں فلاں جگہ جانا ہے وغیرہ وغیرہ ۔یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا ۔ ایک دن میں رات دیر سے آیا، بہت تھکا ہوا تھا۔ حسب معمول فریج پر چٹ لگی ہوئی دیکھی لیکن بغیر پڑھے میں سیدھا بیڈ پر گیا اور سو گیا۔ ۔صبح سویرے والد صاحب کے چیخ چیخ کر پکارنے سے آنکھ کھلی۔ ابو کی آنکھوں میں آنسو تھے انہوں یہ اندوہناک خبر سنائی کہ بیٹا تمھاری ماں اب اس دنیا میں نہیں رہیں ۔ میرے تو جیسے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، غم کا ایک پہاڑ جیسے میرے اوپر آگرا۔ ۔ ۔ ۔

ابھی تو میں نے امی کے لئے یہ کرنا تھا ، وہ کرنا تھا۔ ۔ ۔ ابھی تو میں سدھرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تو امی سے کہنے والا تھا کہ اب میں رات دیر سے نہیں آیا کروں گا تدفین وغیرہ سے فارغ ہو کر رات کو جب میں نڈھال ہوکر بستر پر دراز ہوا تو اچانک مجھے امی کی رات والی چٹ یاد آگئ، فورا گیا اور اتار کر لے آیا، اس پر لکھا تھا:بیٹا آج میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے، میں سونے جا رہی ہوں ، تم جب رات کو آؤ تو مجھے جگا لینا، مجھے ذرا ہسپتال تک لے جانا

وہ ایک سبزی جس کا جوس نکال کر پئیں تو مردانہ کمزوری مکمل طور پر ختم ہوجائے، سائنسدانوں نے مردوں کو شاندار خوشخبری سنادی

وہ ایک سبزی جس کا جوس نکال کر پئیں تو مردانہ کمزوری مکمل طور پر ختم ہوجائے، سائنسدانوں نے مردوں کو شاندار خوشخبری سنادی
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 17:26
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)کام کا بوجھ، ذہنی پریشانی اور دیگر کئی وجوہات ہیں جو مردوں میں جنسی کمزوری کا باعث بنتی ہیں اور وہ اپنی شریک حیات میں دلچسپی کھو بیٹھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ازدواجی زندگی تباہی سے دوچار ہو جاتی ہے۔ کئی طرح کے مہنگے علاج بھی ایسے مردوں کے لیے اکثراوقات ناکام ثابت ہوتے

ہیں۔ تاہم اب ماہرین نے جنسی کمزوری سے نجات کا ایک آسان اور سستا علاج دریافت کر لیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ

”مردانہ کمزوری کو دور کرنے کے لیے چقندر کا جوس بہترین چیز ہے۔ روزانہ اس کا ایک گلاس پینے سے مردوں کو جنسی کمزوری سے نجات حاصل کرنے میں بے حد معاونت ملے گی۔“رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کی رکن مریسا پیئرکا کہنا تھا کہ ”چقندر کا جوس مردوں میں ٹیسٹاسٹرون نامی ہارمون کی مقدار بڑھاتا ہے۔

یہ ہارمون مردوں کی جنسی قوت کا تعین کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس جوس میں خوردنی نائٹریٹ کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے جس سے خون کی وریدیں کھلتی ہیں، نظام دوران خون بہتر ہوتا ہے اور اعضاءکو خون کی فراہمی بہتر ہونے سے قوت مخصوصہ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس میں وٹامنز اور منرلز بھی وافر پائے جاتے ہیں جو لوگوں کو چاک و چوبند اور توانا رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں

قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی

قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 16:07
آپ نے فلموں میں اکثر ڈاکٹر کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ ‘مریض کو اب دوا نہیں بلکہ دعائیں بچا سکتی ہیں۔ قدیم مصر میں مریض کو بچانے کے کام میں ادویات کے ساتھ جادو ٹونے کا بھی رواج تھا۔ اس دور میں مذہب اور سائنس کو علیحدہ کرنے والی کوئی لائن نہیں تھی۔یہاں تک کہا جاتا تھا کہ بیماریاں دیوتاؤں کی جانب سے سزا ہیں

اور اندرونی بری روح کو تعویذ، گنڈے اور منتروں سے دور کیا جا سکتا ہے۔٭لیکن یہ سب ادویات کے استعمال کے ساتھ کیا جاتا تھا اور ان کے بعض رواج اتنا

زمانہ گزرنے کے بعد بھی باقی ہے۔.بدقسمتی سے قدیم مصر میں علاج سے منسلک زیادہ تر معلومات اب معدوم ہیں جس میں سکندریہ کی شاہی لائبریری کے خزانے وغیرہ شامل ہیں۔تین ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے مصر کی ثقافت انتہائی ترقی یافتہ اور جدید تھی۔ اس دور میں مصر کے لوگ ادویات کے بارے میں اس قدر بیدار تھے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔

مصر میں لاشوں کو ممی بنا کر رکھے جانے سے آپ واقف ہی ہوں گے۔ حنوط شدہ لاشوں کے ذریعے قدیم مصر میں لوگوں نے انسانی جسم کے بارے میں اچھی خاصی معلومات جمع کر لی تھی۔اس وقت مرنے کے بعد انسان کے جسم کو آخری سفر کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ اس پورے عمل میں مصری جسم کے حصوں کو دیکھنے اور بیماریوں کو جان پاتے تھے جس کی وجہ سے ان کی زندگی ختم ہوئی۔

اس کام سے انھیں کئی بیماریوں کا علم ہو گیا تھا اور وہ بیماریوں کے علاج کے طریقوں سے واقف ہو گئے تھے۔ ان میں کھوپڑی میں سوراخ کرنے سے لے کر ٹیومر ہٹانے جیسے کام شامل تھے۔مصر کے لوگ آٹا حاصل کرنےکے لیے گندم صاف کرتے اور پیسنے کے لیے کڑی محنت کرتے تھے پھر بھی ان کے کھانوں میں کنکر اور ریت کے ذرات رہتے تھے۔ایسے کھانوں سے دانتوں کے درمیان میں فاصلے اور انفیکشن رہتا تھا۔ پرانے طبی طریقہ پیپرز ایبرز کے مطابق، ایسے بہت سے طریقے تھے جن کے استعمال سے یہ فاصلے بھرے جانے کے ساتھ انفیکشن کو دور کیا جا سکتا تھا۔ا

ن میں سے ایک طریقہ یہ بتاتا ہے کہ دانت نکلنے پر ہونے والی خارش کے لیے اس حصے پر زیرہ اور لوبان کے سامان استعمال کیے جا سکتے تھے۔ ایسا ہی ایک علاج شہد بتایا گیا ہے، جسے مصر کے لوگ اینٹی سیپٹک کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دوسرے بہت سے معاملات میں وہ ململ کا استعمال بھی کرتے تھے۔قدیم مصر کے لوگوں کو زندہ اور مردہ دونوں لوگوں کے لیے نقلی (مصنوعی) اعضاء کی ضرورت پڑتی تھی لیکن بعد کے عہد میں ایسے اعضاء کی زیادہ ضرورت پڑنے لگی۔ان کے دوسری زندگی کا یہ تصور تھا دوبارہ جسم حاصل کرنے کے لیے لاش کا مکمل ہونا ضروری ہے۔

حنوط شدہ لاش میں جسم کو پورا کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا تھا۔بہر حال آج ہی کی طرح اس وقت بھی مصنوعی اعضاء زندہ لوگوں کی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لگائے جاتے تھے۔سب سے زیادہ مصنوعی اعضاء میں انگلی شامل تھی۔ تصویر میں نظر آنے والی انگلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک خاتون نے اس کا استعمال کیا تھا اور یہ سب سے پرانا مصنوعی عضو ہے۔

تاریخ میں دنیا کے بہت سے مذہبی عقائد اور سماج میں ختنہ کا رواج تھا۔قدیم مصر میں بھی ختنے کیے جانے کی روایت تھی۔ اور یہ اتنی زیادہ تھی کہ بغیر ختنے والے عضو تناسل پر لوگ حیرت کرتے تھے۔اس بارے میں اتنا معلوم ہے کہ مصر کے فوجی اپنے قبضے میں آنے والے لیبیائي مردوں کو اپنے گھر لے جاتے تھے تاکہ ان کے رشتہ دار بھی ان کی شرمگاہ کو دیکھ سکیں۔

قدیم مصر میں صحت کی دیکھ بھال حکومت کے کنٹرول میں تھی۔اس دور میں ایسے کئی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ تھے جو ڈاکٹروں کو اس بات کی تربیت دیتے تھے اور یہ انسٹی ٹیوٹ مریضوں کا علاج بھی کرتے تھے۔کئی ایسے طبی نسخے بھی تھے جس میں مریضوں کے طریقۂ علاج لکھے تھے۔ایسی بھی تفصیل ملی ہیں، جن میں کسی تعمیراتی سائٹ پر طبی كیمپس لگائے جاتے تھے۔ اس بات کے بھی اشارے ملتے ہیں کہ جب کسی تعمیراتی سائٹ پر کوئی حادثہ ہو جاتا تو وہاں ہی ابتدائی طبی امداد اور علاج کیا جاتا تھا۔

کعبے کے طواف میں کیا حقیقت پوشیدہ ہے ؟ پڑھیے عجائبات ربی کے مظہرات کی دلچسپ تفصیل

کعبے کے طواف میں کیا حقیقت پوشیدہ ہے ؟ پڑھیے عجائبات ربی کے مظہرات کی دلچسپ تفصیل
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 14:15
خانہ کعبہ مسلمانوں کے لئے مقدس ترین مقام کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ تمام دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کیلئے قبلہ کی بھی حیثیت رکھتا ہے اور تمام دنیا میں بسنے والے مسلمان اسی کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ خانہ کعبہ سے متعلق چند حقائق ایسے ہیں جن سے عام مسلمان زیادہ تر واقف نہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ مطابق

خانہ کعبہ کو سب سے پہلے فرشتوں نے تعمیر کیا بعد میں حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور اس کے درودیوار کوکیا۔

خانہ کعبہ میں جنت سے لایا گیا ایک موتی جسے حجر اسود کہا جاتا ہے جبکہ غیر مسلم اسے سیاہ پتھر کہتے ہیں نصب ہے۔ قریش کے مختلف قبائل حجر اسود کو خانہ کعبہ میں نصب کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے تھےجس کےلئے خدشہ تھا کہ وہ باہم دست و گریبان نہ ہو جائیں اور قریش کے درمیان کثیر القبائل جنگ کا آغاز نہ ہو جائے ۔

جنگ کے خدشات کے پیش نظر ایک فیصلے کے تحت نبی کریم ﷺ نے حجراسود کو تمام قریشی قبائل کے سرداروں کی مدد سے خانہ کعبہ میں نصب فرمایا۔ یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ سائنسی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ خانہ کعبہ دنیا کے عین وسط میں موجود ہے اور زمین کی کسی بھی طرف سے پیمائش کرنے والا جب وسط میں پہنچتا ہے تو وہ یہ جان کر حیران رہ جاتا ہے کہ زمین کے کسی بھی طرف سے شروع کی گئی اس کی پیمائش کے عین وسط میں خانہ کعبہ موجود ہے۔دنیا بھر سے مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کیلئے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں اور طواف کعبہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔

کعبہ کا طواف اینٹی کلاک وائز(گھڑی کی الٹی سمت)کیا جاتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اینٹی کلاک وائزچلنے سے فاصلہ جلد طے ہو جاتا ہے اور اس طرح طواف کرنے سے جسم پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ دل کی صحت کیلئے بھی یہ اچھا ہے۔یہاں یہ امر خاص قابل ذکر ہے کہ خانہ کعبہ کی برکت اور انسانوں کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ سبحان و تعالیٰ نے یہاں پانی کا ایسا کنواں بھی پیدا فرمایا ہے جس کا پانی دنیا کے تمام پانیوں سے بہتر اور انسانی صحت کیلئے نہایت مفید قرار دیا گیا ہے ۔اس کنویں کا ماخذ آج تک دریافت نہیں ہو سکا اور آپ یہ بات بھی جان کر حیران رہ جائیں گے کہ آب زم زم دنیا میں موجود واحد پانی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت رکھ دی ہے کہ اس سے کرنٹ پاس نہیں ہو سکتا ۔

یعنی بجلی کے جاری ہونے والے ایٹمز کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے کرنٹ بے اثر ہو جاتا ہے۔ خانہ کعبہ بلا شعبہ عجائبات ربی کا ایک نہایت شاندار مظہر ہے۔ حج کے دور میں مدینہ منورہ سے ایک خاص کبوتروں کا غول خانہ کعبہ کا رخ کرتا ہے اور حج کے موسم میں مسجد حرام میں ڈیرے ڈالے رکھتا ہے ۔ حج کے چند دن بعد حاجیوں کی واپسی کے ساتھ ہی یہ کبوتر واپس مدینہ منورہ چلے جاتے ہیں اور ایسا کئی صدیوں سے جاری ہے۔ان کبوتروں سے متعلق مختلف روایات موجود ہیں ، کہا جاتا ہے کہ حضرت نوحؑ نے جس کبوتر کو طوفان کے دوران خشکی کا پتہ معلوم کرنے بھیجا تھا اور جو اپنے پنجوں میں سبز درخت کی ٹہنی توڑ کر لایا تھا یہ اسی کبوتر کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

اصلی ٹھگز آف ہندوستان‘ کون تھے، تاریخ کیا کہتی ہے؟

اصلی ٹھگز آف ہندوستان‘ کون تھے، تاریخ کیا کہتی ہے؟
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 16:05
ٹھگ لفظ سنتے ہی لوگوں کے دماغ میں ایک چالاک اور مکار آدمی کی تصویر ابھرتی ہے جو جھانسا دے کر کچھ قیمتی سامان ٹھگ لیتا ہے لیکن انڈیا میں 19ویں صدی میں جن ٹھگوں سے انگریزوں کا پالا پڑا تھا، وہ اتنے معمولی لوگ نہیں تھے۔ٹھگوں کے بارے میں سب سے دلچسپ معلومات سنہ 1839 میں شائع ہونے والی کتاب ’کنفیشنز آف

اے ٹھگ‘ سے ملتی ہیں۔ کتاب کے مصنف پولیس سپریٹنڈنٹ فلپ میڈوز ٹیلر تھے لیکن کتاب میں انھوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے ’اسے صرف قلم بند کیا ہے۔‘دراصل، ساڑھے پانچ سو صفحات

پر مشتمل یہ کتاب ٹھگوں کے ایک سردار امیر علی خان کا ’کنفیشن‘ یعنی اعترافی بیان ہے۔فلپ میڈوز ٹیلر نے امیر علی خان سے جیل میں کئی دنوں تک بات کی اور سب کچھ لکھتے گئے۔ ٹیلر کے مطابق ’ٹھگوں کے سردار نے جو کچھ بتایا، اسے میں تقریباً لفظ بہ لفظ لکھتا گیا، یہاں تک کہ اسے ٹوکنے یا پوچھنے کی ضرورت بھی کم ہی پڑتی تھی۔

‘امیر علی خان کا بیان اتنا تفصیلی اور دلچسپ ہے کہ وہ ایک ناول بن گیا اور چھپتے ہی اس نے دھوم مچا دی۔ رڈیارد کپلنگز کے مشہور ناول ’کم‘ (اشاعت:1901) سے تقریباً 60 سال پہلے شائع ہونے والی اس کتاب کی ایک اور خاصیت تھی کہ یہ کسی انگریز کا نظریہ نہیں لیکن ایک ہندوستانی ٹھگ کا ’فرسٹ پرسن اکاؤنٹ‘ یعنی اس کی اپنی کہانی ہے جو اس نے خود سنائی۔ٹیلر کا کہنا ہے کہ امیر علی خان جیسے سینکڑوں سردار تھے جن کی سرپرستی میں ٹھگی کا دھندا چل رہا تھا۔ امیر علی خان سے جب ٹیلر نے پوچھا کہ تم نے کتنے لوگوں کو مارا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’اور صاحب، وہ تو میں پکڑا گیا، نہیں تو ہزار پار کر لیتا۔ آپ لوگوں نے 719 پر ہی روک دیا۔

‘ٹھگی کا عالم تھا کہ انگریزوں کو ان سے نمٹنے کے لیے ایک الگ محکمہ بنانا پڑا تھا، وہی محکمہ بعد میں انٹیلی جنس بیورو یا آئی بی کے نام سے جانا گیا۔ٹیلر نے لکھا تھا کہ ’اودھ سے لے کر دکن تک ٹھگوں کا جال پھیلا ہوا تھا، انھیں پکڑنا بہت مشکل تھا کیونکہ وہ بہت خفیہ طریقے سے کام کرتے تھے۔ انھیں عام لوگوں سے الگ کرنے کا کوئی طریقہ ہی سمجھ نہیں آتا تھا۔ وہ اپنا کام منصوبہ بندی اور بے حد چالاکی سے کرتے تھے

تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔‘ٹھگوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ڈپارٹمنٹ کے سپریٹنڈنٹ کپٹن رینولڈز نے سنہ 1831 سے 1837 کے درمیان ٹھگوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا 1838 میں تفصیلات بیان کی تھیں۔اس بیورو کے مطابق پکڑے گئے جن 1059 لوگوں کا جرم پوری طرح ثابت نہیں ہو سکا تھا انھیں دور ملائشیا کے پاس پیناگ جزیرے پر لے جا کر چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ دوبارہ واردات نہ کر سکیں۔

اس کے علاوہ 412 کو پھانسی دی گئی اور 87 کو عمر قید کی سزائے ہوئی۔ٹھگوں کے لیے انگریزوں نے ’سیکرٹ کلٹ‘، ’ہائی وے روبرز‘ اور ’ماس مرڈرر‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ ’کلٹ‘ کہلائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے رسم و رواج، اقدار، روایات، اصول اور طور طریقے تھے جن کا وہ بہت پابندی سے مذہب کی طرح احترام کرتے تھے۔

ان کی اپنی ایک الگ خفیہ زبان تھی جس میں وہ آپس میں بات کرتے تھے۔ اس زبان کو رماسی کہا جاتا تھا۔انڈیا میں ٹھگوں کی کمر توڑنے کا سہرا میجر جنرل ولیم ہینری سلیمن کو دیا جاتا ہے جنھیں انگریز حکومت نے ’سر‘ کے خطاب سے نوازا تھا۔سلیمن نے لکھا ہے کہ ’ٹھگوں کے گروہ میں ہندو اور مسلمان دونوں ہیں۔ ٹھگی کی شروعات کیسے ہوئی یہ بتانا ناممکن ہے، لیکن اونچے رتبے والے شیخ سے لے کر خانہ بدوش مسلمان اور ہر ذات کے ہندو اس میں شامل تھے۔‘چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، ٹھگ شبھ مہورت دیکھ کر،

پوجا پاٹھ کر کے اپنے کام پر نکلتے تھے، جسے ’جتائی پر جانا‘ کہا جاتا تھا۔ ٹھگی کا موسم عام طور پر درگا پوجا سے لے کر ہولی کے درمیان ہوتا تھا۔تیز گرمی اور بارش میں رستوں پر مسافر بھی کم ملتے تھے اور کام کرنا مشکل ہوتا تھا۔ الگ الگ گروہ اپنے عقیدے کے حساب سے مندروں میں درشن کرنے جاتے تھے۔زیادہ تر ٹھگ گروہ کالی ماتا کی پوجا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ہر اگلے قدم سے پہلے شگن اور اپشگن کا وچار کرتے تھے۔ الّو کے بولنے، کوّے کے اڑنے، مور کے چلّانے،

لومڑی کے دکھائی دینے جیسی ہر چیز کا وہ اپنے حساب سے مطلب نکالتے تھے۔جتائی پر جانے سے سات دن پہلے سے ‘ساتا’، شروع جاتا تھا۔ اس دوران ٹھگ ان کے خاندان کے ارکان کھانے پینے، سونے اٹھنے اور نہانے حجامت بنانے وغیرہ کے معاملے میں کڑے اصولوں کا خیال رکھا کرتے تھے۔ساتا کے دوران باہر کے لوگوں سے میل جول، کسی اور کو بلانا یا اس کے گھر جانا نہیں ہوتا تھا۔ اس دوران کوئی دان نہیں دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ کتّے بلّی جیسے جانوروں کو بھی کھانا نہیں دیا جاتا تھا۔

جتائی سے فارغ ہو کر لوٹنے کے بعد پوجا اور خیرات جیسے کام ہوتے تھے۔اسی طرح ’اٹب‘ کے اصولوں کا احترام ہوتا تھا۔ ٹھگوں کا اس بات پر یقیقن تھا کہ کام پر نکلنے سے پہلے پوری طرح تیار ہونا بہت ضروری ہوتا تھا۔ گروہ کے کسی ٹھگ کے گھر میں کوئی پیدائش یا موت ہونے پر دس دنوں کے لیے، پالتو جانوروں کی موت ہونے پر تین دن کے لیے، اور اسی طرح جنم ہونے پر سات دن کے لیے یا تو پورا گروہ رک جاتا تھا یا وہ ٹھگ کام پر نہیں جاتا تھا، جس کے خاندان میں جنم یا موت ہوئی ہو

۔مارے جانے والے لوگوں کی قبر جس کدال سے کھودی جاتی تھی، اسے ’کسی‘ کہا جاتا تھا۔ کسی سب سے زیادہ اہمیت کی چیز تھی۔تحقیق کے بعد اردو اور ہندی میں لکھے گئے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ میں شمس الرحمان فاروقی نے کسی کی پوجا کا طریقہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔’

ایک صاف ستھری جگہ پر تھالی میں پانی سے کدالی کو دھو دیا جاتا ہے۔ پھر پوجا کا طریقہ کار جاننے والا ٹھگ بیچ میں بیٹھتا ہے، باقی ٹھگ نہا دھو کر اس کے چاروں طرف بیٹھتے ہیں، کدالی کو پہلے گڑ کے شربت، پھر دہی کے شربت اور آخر میں شراب سے نہلایا جاتا ہے۔ پھر تل، اور پھول سے اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ کدالی کی نوک پر سندور سے سات ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ اس کدالی سے ایک ناریل پھوڑا جاتا ہے۔ ناریل پھوٹنے پر سبھی ٹھگ، چاہے ہندو ہوں یا مسلمان ‘جے دیوی مائی کی’ بولتے ہیں۔‘

ٹھگوں کے درمیان ایسی کہانیاں مشہور تھیں کہ ان پر کدال دیوی کا مہربانی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور خاص بات یہ تھی کہ ٹھگوں کا یقین تھا کہ اگر وہ اصولوں کا احترام کرتے ہوئے اپنا کام کریں گے تو دیوی ماں کی ان پر مہربانی رہے گی۔پہلا اصول یہ تھا کہ قتل میں ایک بوند بھی خون نہیں بہنا چاہیے، دوسرا کسی خاتون یا بچے کو کسی حال میں نہیں مارا جانا چاہیے، تیسرا جب تک مال ملنے کی امید نہ ہو، قتل بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ٹیلر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ امیر علی خان کو اپنے کیے پر ذرا بھی پچھتاوا نہیں تھا۔

دوسرا سبھی ٹھگوں کے بارے میں بھی میجر جنرل سلیمن نے لکھا ہے کہ ’وہ مانتے ہی نہیں تھے کہ وہ کچھ غلط کر رہے ہیں، جن کی نظر میں یہ مختلف پیشوں کی طرح کا ایک پیشہ تھا اور ان کے من میں ذرا بھی پچھتاوا یا دکھ نہیں تھا کہ کس طرح معصوم لوگوں کو مار کر وہ غائب کر دیتے ہیں۔‘

جتائی پر نکلنے والے ٹھگوں کا گروہ 20 سے 50 تک کا ہوتا تھا۔ وہ عام طور پر تین دستوں میں چلتے تھے، ایک پیچھے، ایک درمیان میں اور ایک آگے۔ ان تینوں دستوں کے درمیان تال میل کے لیے ہر ٹولی میں ایک دو لوگ تھے جو ایک کڑی کا کام کرتے تھے۔ وہ اپنی چال تیز یا دھیمی کرکے آگے ہوتے یا ساتھ آسکتے تھے۔زیادہ تر ٹھگ، کئی زبانیں، گانا بجانا، بھجن کیرتن، نعت، قوالی اور ہندو مسلمان دونوں مذاہب کے طور طریقے اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ ضرورت کے مطابق یاتری،

باراتی، مزار کے زائرین یا نقلی جنازہ نکالنے والے بن جاتے تھے۔ایک راستے میں وہ کئی بار اپنا روپ بدل لیتے تھے۔ ظاہر ہے، وہ بھیس بدلنے میں بھی خاصے ماہر تھے۔ وہ بہت اطمینان سے کام کرتے تھے، اپنے شکار کو ذرا بھی بھنک نہیں لگنے دیتے تھے۔ کئی بار تو لوگ ٹھگوں کے ڈر سے ہی اصلی ٹھگوں کو شریف سمجھ کر ان کی گرفت میں آجاتے تھے۔ٹھگوں کے سردار عام طور پر پڑھے لکھے عزت دار آدمی کی طرح دکھائی دینے والے لوگ ہوتے تھے

اور باقی اس کے طرح طرح کے کارندے۔فلپ میڈوز ٹیلر کی کتاب ’کنفیشنز آف اے ٹھگ‘ میں امیر علی خان نے تفصیل سے بتایا ہے کہ کیسے وہ بڑے سیٹھوں اور مالدار لوگوں سے ضرورت کے حساب سے کبھی کسی نواب کے سپاہ سالار کی طرح ملتا تھا، کبھی مولوی کی طرح تو کبھی یاتری کا روپ دھار کر پنڈت کی طرح۔امیر علی خان نے بتایا کہ ٹھگوں کے کام بٹے ہوئے تھے۔ ’سوٹھا‘ گروہ کے سب سے سمجھدار رکن، لوگوں کو باتوں میں پھنسانے والے لوگ تھے جو شکار کی تاک میں سرائے کے آس پاس منڈلاتے تھے۔

وہ آنے جانے والوں کی ٹوہ لیتے تھے، پھر ان کے مال اسباب اور حیثیت کا اندازہ لگا کر اسے اپنے چنگل میں پھنساتے تھے۔ امیر علی خان کے گروہ کا سوٹھا گوپال تھا جو ‘بہت ہوشیاری سے اپنا کام کرتا تھا۔‘شکار کی پہچان کرنے کے بعد کچھ لوگ اس کے پیچھے، کچھ آگے اور کچھ سب سے آگے چلتے۔ راستے بھر دھیرے دھیرے کر کے ٹھگوں کی تعداد بڑھتی جاتی لیکن وہ ایسا ظاہر کرتے جیسے ایک دوسرے کو بالکل بھی نہیں جانتے اپنے ہی لوگوں کو جتھے میں شامل ہونے روکنے کا ناٹک کرتے تھے

تاکہ شک نہ ہو۔ یہ بہت صبر کا کام تھا، ہربڑاہٹ کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔امیر علی خان نے ٹیلر کو بتایا تھا کہ کئی بار تو ہفتہ دس دن تک صحیح موقعے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ اگر کسی گربڑ کا اندیشہ ہو تو واردات ٹال دی جاتی تھی۔سب سے آگے چلنے والے دستے میں ’بول‘ یعنی قبر تیار کرنے والے لوگ ہوتے تھے۔ انھیں درمیان والے دستے میں سے کڑی کا کام کرنے والا بتا دیتا تھا کہ کتنے لوگوں کے لیے قبر بنانی ہے۔ پیچھے والا دستہ نظر رکھتا تھا کہ کوئی خطرہ ان کی طرف تو نہیں آ رہا۔

آخر میں تینوں بہت پاس پاس آ جاتے لیکن اس کی خبر شکار کو نہیں ہوتی تھی۔کئی دن گزر جانے کے بعد جب شکار چوکنا نہیں ہوتا تھا اور جگہ معقول ہوتی تھی تب گروہ کو کارروائی شروع کرنے کے لیے پہلے سے طے شدہ اک اشارہ دیا جاتا تھا جو ایک فرضی نام ہوتا تھا۔ امیر علی خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس کے لیے ‘سرمست خاں’، ‘لدن خاں’، ‘سربلند خاں’، ‘ہری رام’ یا ‘جے گوپال’ جیسے ناموں کا استعمال ہوتا تھا۔یہ پہلا اشارہ تھا کہ اب کارروائی ہونے والی ہے۔

اس کے بعد ٹھگوں میں سب سے ‘عزت دار’ لوگوں کی باری آتی تھی جنھیں ‘بھتوٹ’ یا ‘بھتوٹی’ کہا جاتا تھا۔ان کا کام بنا خون بہائے رومال میں سکہ باندھ کر بنائی گئی گانٹھ سے شکار کا گلا گھونٹنا ہوتا تھا۔ ہر ایک شکار کے پیچھے ایک بھتوٹ ہوتا تھا، پورا کام ایک ساتھ دو تین منٹ میں ہوتا تھا۔ اس کے لیے مستعد ٹھگ اپنے سرغنہ کی ‘جھرنی’ کا انتظار کرتے تھے۔جھرنی آخری اشارہ ہوتا تھا کہ اپنے آگے کھڑے یا بیٹھے شکار کے گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا جائے۔ امیر علی خان نے ایک جھٹکے میں 12 سے 15 تندرست مردوں کا کام تمام کرنے کا عمل بے حد آسانی سے کیا ہے۔اس نے ٹیلر کو بتایا کہ ‘اشارہ یا جھرنی عام طور پر تمباکو کھا لو،

حقہ پلاؤ یاگانا سناؤ جیسا چھوٹا واقعہ ہوتا تھا۔ پھر پلک جھپکتے ہی بھتوٹ شکار کے گلے میں پھندا ڈال دیتے تھے اور دو تین منٹ میں آدمی تڑپ کر ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔’اس کے بعد لاشوں سے قیمتی سامان ہٹاکر انھیں پہلے سے کھودی ہوئی قبروں میں ‘ایک کے سر کی طرف دوسرے کا پیر’ والی ترکیب سے ڈال دیا جاتا تھا تاکہ کم سے کم جگہ میں زیادہ لاشیں آ سکیں۔اس کے بعد جگہ کو ہموار کر کے اس کے اوپر کانٹے دار جھاڑیاں جو پہلے سے تیار رکھی ہوتی تھیں،

لگا دی جاتیں تھیں تاکہ جنگلی جانور قبر کو کھودنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح پورا قافلہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا تھا اور ٹھگ بھی۔امیر علی خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ آج کے اترپردیش کے ضلع جالون میں وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ زیادہ تر لوگ اسے مسلمان زمیندار یا سوداگر سمجھتے تھے۔ سال کے سات آٹھ مہینے وہ گھر پر ایک عزت دار مسلمان کی طرح رہتا اور صحیح وقت پر پوجا کرنے چار مہینے کے لیے ’جتائی‘ پر نکل جاتا تھا۔بہت کم لوگ جانتے تھے کہ کون ٹھگ ہے،

لیکن ایک پورا نیٹ ورک تھا۔ امیر علی خان کے مطابق کئی چھوٹے بڑے زمیندار اور نواب ٹھگوں سے نذرانہ وصول کرتے تھے اور مصیبت کے وقت انھیں پناہ بھی دیتے تھے لیکن انگریزوں کو اس کی بھنک نہیں لگنے دیتے تھے۔اسی طرح، کئی زمینداروں نے ٹھگوں کو اپنی غیر زرعی زمین استعمال کرنے کی چھوٹ دے رکھی تھی جن میں وہ اجتماعی قبریں کھودتے تھے۔ اس کے بدلے میں انھیں ٹھگوں سے حصہ ملتا تھا۔اسی طرح ہر جگہ ٹھگوں کے مخبر اور ان کے مددگار موجود تھے۔

مدد کرنے والے ان لوگوں کو تو کئی بار پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ کس کا ساتھ دے رہے ہیں۔کون ٹھگ تھا اور کون نہیں، انگریز اس پہیلی سے لگاتار نبرد آزما رہے تھے۔ فلپ میڈوز ٹیلر نے اپنی کتاب کے آغاز میں 1825-26 کا ایک دلچسپ قصہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ‘میری تعیناتی ہنگولی میں تھی وہاں ہری سنگھ نام کا ایک بیوپاری تھا۔ ہم اس سے لین دین کرتے تھے۔ ایک دن اس نے ممبئی سے کچھ کپڑا لانے کا پرمٹ مانگا، جو اسے دے دیا گیا۔ وہ کپڑا لے آیا اور اس نے ملٹری کینٹونمنٹ میں کپڑا بیچا۔

دراصل، وہ کپڑا کسی اور بیوپاری کا تھا۔ ہری سنگھ نے اسے اور اس کے کارندوں کو مار کر کپڑا لوٹ لیا تھا۔ ہری سنگھ دراصل ٹھگ تھا۔’انگریزوں کو ہری سنگھ کے ٹھگ ہونے کا پتا کئی سال بعد چلا جب اس نے پکڑے جانے کے بعد انگریزوں کا مذاق اڑایا اور بتایا کہ ‘کیسے کپڑے کا پرمٹ لے کر اس نے ‘گورے صاحب کو اُلّو بنایا تھا۔’سنہ 1835 کے بعد کے سالوں میں جب ٹھگ پکڑے جانے لگے اور ان کے پول کھلنے لگے تو پتا چلا کہ ٹھگی کتنے بڑے پیمانے پر جاری تھی۔ فلپ میڈوز ٹیلز نے لکھا ہے کہ ‘میں مندسور میں سپریٹنڈنٹ تھا۔ جب ہم نے وعدہ معاف سرکاری گواہ بنے

ایک ٹھگ کی نشاندہی پر زمین کھودنا شروع کی تو اتنی اجتماعی قبریں ملیں کہ ہم نے پریشان ہو کر کھدائی کرنا ہی بند کر دی۔’شمس الرحمان فاروقی کے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ میں 1843-44 میں رامپور کے نواب کے خاص درباری مرزا تراب علی کے ٹھگوں کے ہاتھوں مارے جانے کا قصہ ملتا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست بہار کے شہر سونپور میں میلے سے ہاتھی گھوڑے خریدنے کے لیے جانے والے نواب کے سپہ سالار اور ان کے چھ ساتھیوں کو ٹھگوں نے مار ڈالا

۔مرزا تراب علی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے بارے میں جو تفصیل ملی، اس کے مطابق ٹھگوں نے ایک مسلمان راہگیر کی نماز جنازہ پڑھانے کے بہانے اسلحے سے لیس تراب علی اور ان کے ساتھیوں کو گھوڑوں سے نیچے اتارا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، تبھی ‘تمباکو کھلاؤ’ کی آواز آئی اور سات لوگ رومال سے گلا گھونٹ کر مار ڈالے گئے۔جب تراب علی رامپور لوٹ کر نہیں آئے تو نواب کو شک ہوا کہ کہیں ٹھگوں کے شکار تو نہیں بن گئے۔ انھوں نے افریقہ سے غلام بنا کر گجرات کےساحل پر لائے گئے افریقیوں کی کہانیاں سن رکھی تھیں، جنھیں ‘شیدی’ کہا جاتا ہے۔

انھوں نے اس کام کے لیے شیدی اکرام اور شیدی منیم کی مدد لی۔شیدیوں کے بارے میں فاروقی لکھتے ہیں کہ انہیں: ’نسل کے لحاظ سے شیدی اور کام لحاظ سے کھوجیا کہا جاتا تھا۔ ان کے ہنر کی بات دور دور تک پھل چکی تھی۔ انھیں گجرات سے اودھ تک بلایا جانے لگا تھا۔ قدموں کے نشان، لاپتہ لوگوں کا پتا لگانا اور مفرور لوگوں کے سراغ ڈھونڈنے میں وہ ماہر تھے۔

آپس میں وہ سواہلی میں جبکہ دوسرے لوگوں سے ہندی میں بات کرتے تھے۔‘رامپور کے نواب نے اپنے وفادار مرزا تراب علی اور ان کے ساتھیوں کا پتا لگانے کے لیے شیدیوں کو بھیجا۔ شیدی سارے راستے ہر چیز کی باریک پڑتال کرتے چلتے رہے۔ شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں کہ ’وہ ایک بڑے چکور میدان میں پہنچے جہاں انھوں نے لکڑی سے لکیریں کھینچ کر بڑے بڑے چوکور خانے بنائے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک ایک کر کے ان خانوں کو سونگھنا اور ان کی مٹی کو کریدنا شروع کیا۔

وہ کسی کھوجی کتے سے بھی زیادہ توجہ سے اپنا کام کر رہے تھے۔‘انھوں نے ایک جگہ پہنچ کر اواز لگائی ’جمعدار جی، وہ مارا، یہاں کھدائی کرواؤ۔‘ جب وہاں کھدائی کی گئی تو مرزا تراب علی سمیت نواب کے سبھی کارندوں کی لاشیں مل گئی۔شیدی آج بھی گجرات ریاست کے کچھ علاقوں میں بسے ہوئے ہیں

لیکن ٹھگوں کا صفایا ہو چکا ہے۔ٹھگ امیر علی خان کے بارے میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسے اس ٹھگ نے بہت پیار سے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا، جس نے اس کے باپ کو ایک واردات کے دوران مار ڈالا تھا۔ عامر کو گود لینے والے ٹھگ باپ سے ٹھگی کا سبق ملا تھا، اسی وجہ سے ٹھگی کو وہ ایک نیک کام سمجھتا تھا

حضور ؐ پر جب جادو کروایا گیا تو کون کونسی 2سورتیںپڑی جس سے جادو ختم ہوا ؟

حضور ؐ پر جب جادو کروایا گیا تو کون کونسی 2سورتیںپڑی جس سے جادو ختم ہوا ؟
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 15:53
سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جو اس کے بعد ہے ،جو اس وقت نازل ہوئی جب کہ لبیدبن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جادو کیا،اور حضور کے جسمِ مبارک اور اعضاءِ ظاہرہ پر اس کا اثر ہوا، قلب و عقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا ،چند روز کے بعد جبریل آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ایک

یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادو کا جوکچھ سامان ہے ،وہ فلاں کوئیں میں ایک پتّھر کے نیچے داب دیا ہے ، حضور

سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا، انہوں نے کنوئیں کا پانی نکالنے کے بعد پتّھر اٹھایا،اس کے نیچے سے کھجور کے گابھے کی تھیلی برآمد ہوئی، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے موئے مبارک جو کنگھی سے برآمد ہوئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کنگھی کے چند دندانے اور ایک ڈورا ،یا کمان کا چلّہ جس میں گیارہ گرہیں لگی تھیں اور ایک موم کا پُتلہ جس میں گیارہ سوئیاں چبھیں تھیں، یہ سب سامان پتّھر کے نیچے سے نکلا اور حضور کی خدمت میں حاضر کیا گیا،

اللہ تعالٰی نے یہ دونوں سورتیں نازل فرمائیں ان دونوں سورتوںمیں گیارہ آیتیں ہیں پانچ سورۂِ فلق میں ہر ایک آیت کے پڑھنے کے ساتھ ایک ایک گرہ کُھلتی جاتی تھی یہاں تک کہ سب گرہیں کُھل گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بالکل تندرست ہوگئے ۔(تفسیر خزائن العرفان(تعویذ اور جھاڑپھونک : تعویذ اور عمل(عملیات) جس میں کوئی کلمۂِ کفر یا شرک کا نہ ہو جائز ہے خاص کر وہ عمل جو آیاتِ قرآنیہ سے کئے جائیں یااحادیث میں وارد ہوئے ہوں ۔ اس حوالے سے احادیث مبارکہ ملاحظ ہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ

”رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے نظر بد سے جھاڑ پھونک کرانے کا حکم فرمایا ہے۔”(صحیح البخاری، ج۴،ص۳۱، حدیث:۵۷۳۸)ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم نے ایک بچی کو دیکھا جس کا چہرہ زرد تھا توارشاد فرمايا:”اسے دم وتعویذ کراؤ ،اسے نظرِ بد لگی ہے۔) صحیح مسلم ، ص ۱۲۰۶ حدیث:۲۱۹۷(خلاصہ معوذتین (سورۃ الفلق و سورۃ الناس )سورۂ فلق میں مخلوقات کے شر سے اللہ عزوجل کی پناہ طلب کی گئی ہے اور اس میں پناہ طلب کی گئی ہے رات کی اندھیری سے ,

جادو سے , چغلی کرنے والوں اور حاسدین کے شر سے۔سورۂ ناس میں پناہ طلب کی گئی ہے، رب عزوجل کی، جو مالک ہے اور لوگو ں کا پالنے والا معبود حقیقی ہے، شیطان اور اس کے گروہ سے بچنے کے لئے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے اور ان کو بہکاتے ہیں۔دونوں سورتیں صرف جادو کے لئے ہی نہیں بلکہ دوسری آفتوں میں بھی کام آتی ہیں جیسا کہ اس حدیثِ مبارک میں ہےحضرتِ سیِّدُنا عقبہ ابن عامررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں رسول ُاللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ جُحْفَۃ اوراَبْواء کے درمیان سفر کر رہا تھاکہ اچانک ہمیں آندھی اور سخت تاریکی نے گھیر لیا تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ’’ سورۃُ الْفَلَقْ‘‘ اور’’سورۃُ النَّاسْ‘‘کے ذریعے پناہ مانگی اور فرمانے لگے: اے عقبہ! ا ن دونوں سورتوں کے ساتھ پناہ مانگا کرو کہ کسی نے ان دونوں کے ساتھ پناہ مانگنے والے کی طرح پناہ نہیں مانگی۔

بغیر وضو نماز پڑھنے والے کو حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓکو سزا دینے سے کیوں روک دیا؟

بغیر وضو نماز پڑھنے والے کو حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓکو سزا دینے سے کیوں روک دیا؟
جمعہ‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 15:45
ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور زبان ذکر و تسبیح میں مشغول تھی۔ .حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے صبح کس حال میں کی؟ اس آدمی نے عجیب انداز سے جواب دیاکہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور

حق بات سے کراہت کرتا ہوں۔.اور بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں اور میرے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے! (یہ سن کر)

حضرت عمرؓ طیش میں آ گئے اور اللہ کے دین کی خاطر انتقام لینے پر آمادہ ہو گئے اور اس آدمی کو پکڑ کر سخت سزا دینے لگے تو حضرت علیؓ نے ہنستے ہوئے کہا: اے امیر المومنین! یہ شخص جو یہ کہتاہے کہ وہ فتنہ کو پسند کرتاہے اس سے اس کی مراد مال و اولاد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے: ’’اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃ’‘‘‘ (الانفال:28) اور حق کو ناپسند کرتا ہے اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَجَآئتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ‘‘ (ق:19) اور بغیر وضو کے نماز پڑھتاہے اس سے مراد نبی کریمؐ پر صلوٰۃ (درود) بھیجنا ہے، ظاہر ہے کہ صلوٰۃ کے لیے وضو ضروری نہیں ہے۔ اور اس نے جو یہ کہا ہے کہ اس کے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے اس سے اس کی مراد بیوی بچے ہیں، ظاہر ہے کہ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد، وہ ذات تو یکتا بے نیاز ہے،.نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اورہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور خوشی سے جھومتے ہوئے فرمایا: وہ جگہ ہی کیا ہے جہاں ابوالحسنؓ نہ ہو یعنی علی بن ابی طالبؓ۔‘‘