جوڑوں کا دردایسے ختم جیسے کبھی ہوا ہی نہیں لیموں کے ذریعے علاج کا حیرت انگیزنسخہ

جوڑوں کا دردایسے ختم جیسے کبھی ہوا ہی نہیں لیموں کے ذریعے علاج کا حیرت انگیزنسخہ
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:44
نیو یارک دنیابھرمیں دیگرامراض کی طرح جوڑوں کادردبھی اب پریشان کن امراض میں شمارکیاجاتاہے اورلوگ جوڑوں کے دردکےلئے کئی مہنگی ادویات کااستعمال کرتے ہیں لیکن آپ اگرقدرتی نسخے کے ذریعے اس موذی مرض سے نجات حاصل کرناچاہتے ہیں تودوتازہ لیموں ،زیتون کاتیل اورایک جارلیں ، پہلے لیموں چھیلیں اور ان کے چھلکے جار میں ڈال دیں،

اب جار کو زیتون کے تیل سے بھر دیں۔جار کو اچھی طرح بند کرکے دوہفتے تک رکھ دیں۔اس تیل کو روئی کے ذریعے جہاں درد ہو رات کے وقت لگائیں اوراگردردزیادہ ہوتودن میں تین مرتبہ اس کواستعمال کریں جوڑوں کادردایک ہفتہ

میں بالکل ختم ہوجائے

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔‎

دماغ عزیز ہے تو چند عادات فوراً چھوڑدیئجے

دماغ عزیز ہے تو چند عادات فوراً چھوڑدیئجے
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:42
ہمارا دماغ ہمارے جسم کا وہ حصہ ہوتا ہے جب سب سے زیادہ محنت کرتا ہے- یہاں تک کہ انسان کے سونے پر بھی دماغ سوتا نہیں ہے اور نہ وقفہ لیتا ہے- اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود اس کی دیکھ بھال کریں لیکن ہماری اپنی ہی چند عام عادات ہمارے دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں- یہاں ہم ایسی ہی چند عادات کا ذکر کر

رہے ہیں جو ہمارے دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اگر آپ بھی ان عادات میں سے کسی عادت کا شکار ہیں تو فورً ترک

کیجیے ناشتہ چھوڑ دینا: ہم سب جانتے ہیں کہ صبح کا ناشتہ ہمارے لیے کتنا اہم ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور ناشتہ کیے بغیر ہی اپنے روزمرہ کے کام سرانجام دینے لگتے ہیں- سونے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک آپ کھائے پیے بغیر رہتے ہیں اور اب آپ کے جسم کو غذائی اجزاﺀ کی ضرورت ہوتی ہے- صبح کچھ نہ کھانے کی وجہ سے آپ کے دماغ کے خلیے کمزور ہونے لگتے ہیں- غنودگی اور چکر آنے کی شکایت بھی عام طور پر ناشتہ نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے-

اضافی کھانا: اضافی کھانا ویسے بھی بری عادت ہے لیکن ایک اور اہم بات جس کی جانب ہم اکثر توجہ نہیں دیتے وہ یہ کہ اضافی کھانا کھانے سے ہمارے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے- یہ بری عادت ہماری شریانوں کو بھی سخت کرنے لگتی ہے جس کی وجہ سے دماغ کو شدید نقصان پہنچنے لگتا ہے- اس لیے بہتر ہے کہ اعتدال کے ساتھ کھائیے اور صحت مند زندگی گزاریے- چینی کا زیادہ استعمال: زیادہ چینی کا استعمال آپ کے جسم کو پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاﺀ کے جذب ہونے کے حوالے سے سخت بنا دیتا ہے- اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے جسم کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے جتنی غذا کی ضرورت تھی اسے اتنی ہی مل رہی ہے نہ کہ اضافی- جن لوگوں کا خیال ہے کہ وہ زیادہ کھاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چینی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو بھوکا بنا دیتی ہے- اور اضافی کھانے سے دماغ کو شدید نقصان پہنچتا ہے-

تمباکو نوشی: ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ تمباکو نوشی ہمیں صرف نقصان پہنچاتی ہے لیکن ہم پھر بھی اس کی عادت میں بری طرح گرفتار ہوتے ہیں- تمباکو نوشی ہمارے دماغی خلیوں کی قاتل ہے اور اس کی وجہ سے ہماری یادداشت مختصر اور کمزور ہونے لگتی ہے- اس کے علاوہ تمباکو نوشی الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کا سبب بھی بنتی ہے- فضائی آلودگی: یقیناً یہ کوئی عادت نہیں ہے لیکن یہ بھی دماغی صحت کو تباہ کرنے والے اسباب میں سے ایک ہے- ہمارے دماغ کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے آکسیجن کی بھاری مقدار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی اسے فضائی آلودگی ماحول میں موجود آکسیجن کی مقدار کو شدید نقصان پہنچاتی ہے- تبادلہ خیال کی کمی: مختلف مسائل اور امور پر تبادلہ خیال سے ہمارے دماغ کی افزائش ہوتی ہے اور ہمارے دماغ میں نئے آئیڈیاز بھی جنم لیتے ہیں- اس کے علاوہ تبادلہ خیال سے بےپناہ معلومات بھی حاصل ہوتی ہے- لیکن لوگوں سے بات نہ کی جائے یا کم کی جائے تو دماغ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور یہ محدود ہونے کے علاوہ کسی بھی مسئلے پر زیادہ نہیں سوچ سکتا- بات نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے دماغ سکڑنے بھی لگتا ہے-

سر کو ڈھک کر سونا: ہمارے دماغ کو صرف اس وقت ہی آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں بلکہ اس وقت بھی درکار ہوتی ہے جب ہمارا جسم سو رہا ہوتا ہے- اکثر لوگوں کو سر پر تکیہ رکھ کر یا پھر چادر یا کمبل سر تک اوڑھ کر سونے کی عادت ہوتی ہے- لیکن یہ عادت انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے

کیونکہ اس صورت میں جسم کو ملنے والی آکسیجن میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- دوسری جانب جسم میں داخل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے اور یہ بھی خطرناک ہے- بیماری کے دوران کام: کچھ لوگ طبعیت بہتر محسوس نہ کرتے ہوئے بھی مسلسل کام میں مگن رہتے ہیں جبکہ وہ حقیقت میں تھک چکے ہوتے ہیں- اس حالت میں بھی مستقل کام کرتے رہنا آپ کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ضروری ہے کہ آپ تھوڑی کے لیے آرام کیجیے- آرام کرنے سے آپ ایک مرتبہ پھر توانائی اور چستی سے بھرپور ہوجاتے ہیں اور آپ کا دماغ بھی پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتا ہے-

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔‎

ابلے چاولوں کا ایک پیالہ کوکاکولا کی کتنی بوتلوں کے برابر ہوتا ہے؟ جواب جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑ جائیں گے

ابلے چاولوں کا ایک پیالہ کوکاکولا کی کتنی بوتلوں کے برابر ہوتا ہے؟ جواب جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑ جائیں گے
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:40
اگر آپ چاول کھانے کے شوقین ہیں تو آپ کے لئے بری خبر ہے کہ اس کی وجہ سے آپ کے جسم کو بہت زیادہ نشاستے کی مقدار مل رہی ہے جو کہ آپ کے لئے خطرناک ہے۔ ایشیائی باشندوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ان میں ذیابیطس کی شرح زیادہ ہے جس کی وجہ جہاں دیگر عادات ہیں وہیں چاول کھانا بھی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چاول انسان کے لئے اس قدر خطرناک ہیں کہ ان کی وجہ سے انسان کا شوگر لیول اس قدر بڑھ جاتا ہے کہاسے ذیابیطس بھی لاحق

ہوسکتی ہے۔ اگر روزانہ چاول کھائے جائیں توذیابیطس ہونے کا امکان11فیصد بڑھ جاتا ہے۔ چاولوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زیادہ نقصان دہ نہیںحالانکہ یہ بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک چاولوں کے پیالے میں اتنی کاربوہائیڈریٹس ہوتی ہے جتنی کوکاکولا کے ایک کین میں۔جب یہ کاربز چینی میں تبدیل ہوتی ہیں تویہ فوری خون میں شامل ہوکرجسم میں داخل ہوجاتی ہے۔روزانہ چاول کھانے سے گردوں کونقصان پہنچتا ہے

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔‎

اگر آپ میں یہ 9علامات ہیں تو آپ زندگی میں کبھی امیر نہیں

اگر آپ میں یہ 9علامات ہیں تو آپ زندگی میں کبھی امیر نہیں
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:39
ایسی بہت سی باتیں یا عادتیں ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ زندگی میں کبھی امیر نہیں ہوسکتا ۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔1. اگرآپ بچت پر تو بہت زور دیتے ہیں مگر کمائی پر توجہ نہیں تو آپ کبھی امیر نہیں ہونگے ۔ 2. اگرآپ نے ابھی تک سرمایہ کاری شروع نہیں کی تو بھی آپ کبھی امیر

نہیں ہونگے۔3. اوسط درجے کے افراد پہلے سے مقرر شدہ تنخواہ پر کام کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ امیر ہونے کے خواہش مند نتائج

کے حساب سے اپنی تنخواہ طے کرتے ہیں۔4. اگر آپ ایسی اشیاء خریدتے ہیں جن کی آپ میں استطاعت نہیں تو آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے ۔5. اگر آپ کو امیر ہونا ہے تو اپنے کام سے محبت کریں، دوسروں کے خواب پورا کرنے میں لگے رہے تو

آپ کبھی امیر نہیں ہونگے۔6. اگرآپ خطرات مول نہیں لیتے، غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ امیر نہیں ہو سکتے۔7 . اگر آپ کے پاس پیسے ہیں مگر ان کا کوئی مقصد نہیں تو بھی آپ امیر نہیں ہو سکتے ۔8. اگر آپ پہلے خرچ کرتے ہیں اور بچ جانے والی رقم ہی بچاتے ہیں تو بھی آپ امیر نہیں ہوسکتے ۔سب سے پہلے خود کو ادائیگی کریں، یعنی پہلے بچت کریں پھر سرمایہ کاری۔9. اگر آپ سمجھتے ہیں کہ امیر ہونا صرف خوش قسمتی کی وجہ سے ہے تو یہ سوچ بھی آپ کو غریب ہی رکھے گی

جنت میں بازار بھی ہو گا اور وہاں چیزیں کس بھائو ملا کرینگی؟پرفیوم کی بوتلوں کی جگہ کیا چیز خوشبو لگایا کرے گی؟رب تعالیٰ وہاں جنتیوں سے کیا ، کیا باتیں کرینگے؟

جنت میں بازار بھی ہو گا اور وہاں چیزیں کس بھائو ملا کرینگی؟پرفیوم کی بوتلوں کی جگہ کیا چیز خوشبو لگایا کرے گی؟رب تعالیٰ وہاں جنتیوں سے کیا ، کیا باتیں کرینگے؟
ہفتہ‬‮ 26 جنوری‬‮ 2019 | 11:18
حضرت سعید بن مسیت تابعی ؒ سے روایت ہے کہ ایک دن بازار میں ان کی ملاقات حضرت ابوہریرہؓ سے ہوئی جس پر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ (جس طرح مدینے کے بازار میں آج ہم دونوں کی ملاقات ہوئی ہے اسی طرح) اللہ تعالیٰ جنت کے بازار میں بھی ہم دونوں کو ملائے. حضرت سعید ؒ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ کیا جنت میں بازار بھی ہوگا؟

حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا”ہاں”.مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ جنتی لوگ جب

جنت میں داخل ہوں گے تو اپنے اپنے اعمال کی فضیلت و برتری کے لحاظ سے جنت میں مقیم ہوں گے. (یعنی جس کے اعمال جتنے زیادہ اور جتنے اعلیٰ ہوں گے، اسی اعتبار سے اسے بلند تر اور خوب تر مکانات و منازل ملیں گے). پھر انہیں دنیاوی ایام کے اعتبار سے جمعہ کے دن اجازت دی جائے گی اور

وہ سب اس دن اپنے پروردگار کی زیارت کریں گے جو ان کے سامنے اپنا عرش ظاہر کرے گا. جنتیوں کو دیدار کرانے کے لئے وہ جنت کے ایک بڑے باغ میں جلوہ فرما ہوگا. اس باغ میں (مختلف درجات کے منبر یعنی) نور کے منبر، موتیوں کے منبر، یاقوت کے منبر، سونے کے منبر اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے جن پر جنتی بیٹھیں گے (یعنی جو جنتی جس مرتبے کا ہوگا وہ اسی لحاظ سے اپنے منبر پر بیٹھے گا) نیز ان جنتیوں میں سے جو جنتی کم مرتبے کا ہو گا،

وہ مشک و کافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا، لیکن ٹیلوں پر بیٹھنے والے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ منبر اور کرسیوں پر بیٹھنے والے لوگ جگہ و نشست گاہ کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں. حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس دن اپنے پروردگار کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یقینا . کیا تم دن میں سورج کو اور 14 ویں رات میں چاند کو دیکھنے میں کوئی شبہ رکھتے ہو؟ہم نے عرض کیا ہرگز نہیں. فرمایا. اسی طرح تمہیں اس دن اپنےپروردگار کو دیکھنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو گا. دیدارِ الٰہی کی اس محفل میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جس سے پروردگار تمام حجابات اٹھا کر براہِ راست ہم کلام نہیں ہوگا. یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حاضرین میں سے ایک شخص کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے فلاں بن فلاں، کیا وہ دن تجھے یاد ہے جب تونے ایسا اور ایسا کہا تھا؟

یہ سن کر وہ شخص گویا توقف کرے گا اور اپنے کئے ہوئے گناہوں کے اظہار میں تأمّل کرے گا. اس پر پروردگار اسے کچھ عہد شکنیاں یاد دلائے گا جس کا اس نے دنیا میں ارتکاب کیا ہو گا. تب وہ شخص عرض کرے گا کہ میرے پروردگار کیا آپ نے میرے وہ گناہ بخش نہیں دیئے؟ پروردگار فرمائے گا. بے شک میں نے تیرے وہ گناہ معاف کردیئے ہیں اور تو میری اسی معافی کے نتیجے میں آج اسمرتبے کو پہنچا ہے. پھر وہ لوگ اسی حالت اور مرتبے پر ہوں گے کہ ایک بادل آکر ان پر چھا جائے گا اور ایسی خوشبو برسائے گا کہ اس جیسی خوشبو انہوں نے اس سے پہلے کبھی کسی چیز میں نہیں پائی ہو گی. (اس کے بعد ہمارا پروردگار فرمائے گا کہ اٹھو اور اس چیز کی طرف آؤ جو ہم نے تمہاری عظمت کے باعث تیار کررکھی ہے اور

تم اپنی پسند و خواہش کے مطابق جو چاہے لے لو.(یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) جنتی لوگ اس بازار میں پہنچیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے. اس بازار میں ایسی ایسی چیزیں موجود ہوں گی کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوگی اور نہ کسی کان نے سنی ہوگی اور نہ کسی کے دل میں ایسا تصور آیا ہوگا. پھر اس بازار میں سے اٹھا اٹھا کر ہمیں وہ چیزیں دے دی جائیں گی جن کی ہم خواہش کریں گےحالانکہ اس بازار میں خرید و فروخت جیسا کوئی معاملہ نہیں ہو گا. نیز اس بازار میں تمام جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کریںگے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بلند مرتبہ شخص دوسرے نسبتاً کم درجے کے شخص کی طرف متوجہ ہوگا اور اس سے ملاقات کرے گا لیکن جنتیوں میںیہ احساس نہیں ہو گا کہ

کوئی معمولی اور ذلیل خیال کیا جائے. بہرحال اس بلند مرتبہ شخصکو کمتر مرتبے کے شخص کا لباس پسند نہیں آئے گا. ابھی ان دونوں کا سلسلہ گفتگو ختم بھی نہ ہونے پائے گا کہ (یکایک) وہ بلند مرتبہ شخص محسوس کرے گا کہ میرے مخاطب کا لباس تو مجھ سے بھی بہتر ہے. (ایسا اس لئے ہوگا کہ جنت میں کسی شخص کو غمگین ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا).پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اس کے بعد ہم سب جنتی اپنے اپنے محلات اور مکانوں کی طرف واپس ہوںگے اور وہاں ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی تو مرحبا اور خوش آمدید کہہ کر ہمارا استقبال کریںگی. ہر عورت اپنے شوہر یا مرد سے کہے گی کہ تم اس حال میں واپس آئے ہو کہ اس وقت تمہارا حسن و جمال اس حسن و جمال سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس سے جاتے وقت تمہارا تھا تو ہم اپنی بیویوں سے کہیں گے کہ آج ہمیں اپنے پروردگار کے ساتھ بیٹھنے کی عزت حاصل ہوئی ہے جو جسم و بدن اور حسن و جمال کی ہر کمی کو پورا کرنے والا ہے۔