ایک گلاس گرم پانی کیساتھ 3کھجوریں کھانے کے فوائد کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی نہیں مل سکتے

ایک گلاس گرم پانی کیساتھ 3کھجوریں کھانے کے فوائد کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی نہیں مل سکتے
اتوار‬‮ 13 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:05
کھجور ایک قسم کا پھل ہے۔ کھجور زیادہ تر خلیج فارس کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے اعلٰی کھجور عجوہ ہے جو سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔ کھجور کا درخت دنیا کے اکثر مذاہب میں مقدس مانا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں اس کی اہمیت کی انتہا یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام درختوں میں سے اس درخت کو مسلمان کہا ہے کیونکہ صابر، شاکر اور اللہ کی طرف سے برکت والا ہے۔قرآن مجید اوردیگر مقدس کتابوں میں جابجا کھجور کا ذکر ملتا ہے۔

کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ گھر ایسا ہے کہ جیسے اس میں کھانا نہ ہو‘‘ اور جدید سائنس نے اب یہ بات ثابت کردی ہے کہ کھجور ایک ایسی منفرد اور مکمل خوراک ہے جس میں ہمارے جسم کے تمام ضروری غذائی اجزاء4 وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔رمضان المبارک میں افطار کے وقت کھجور کا استعمال اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے چونکہ دن بھر فاقہ کے بعد توانائی کم ہوجاتی ہے اس لیے افطاری ایسی مکمل اور زود ہضم غذا سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ طاقت و توانائی فراہم کرسکے اور کھجور یہ تمام مقاصد فوراً پورا کردینے کی اہلیت رکھتی ہے۔جن لوگوں کا وزن کم ہو یا خون کی کمی ہو انہیں پابندی کے ساتھ کھجور اور شہد کا استعمال کرناچاہئے. یہ امراض قلب میں بھی فائدہ مند ہے اس کے معدنی نمکیات دل کی دھڑکن کو منظم کرتے ہیں اور اس کے بعض اجزاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خون بننے میں مدد دیتے ہیں کھجور کے ریشے‘ میگنیشم‘ کیلشیم کے حصول کا عمدہ ذریعہ ہے اور ان میں پوٹاشیم کی بھی وافر مقدار موجود ہوتی ہے. کھجور‘ فیٹ‘ سوڈیم اور کولسٹرول فری ہے اور صحت کے بارے میں حساس افراد کیلئے بہترین معیاری غذا ہے. طب نبویﷺ کے مطابق عجوہ کھجور کی خاص ادویائی اہمیت ہے. یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح گھٹاتی اور انجائنا کے مریضوں کو فائدہ پہنچاتی ہے.خصوصاً مدینہ منورہ کی عجوہ کھجوریں کولیسٹرول لیول گھٹانے میں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں.کولیسٹرول کی سطح گھٹانے کا ایک نسخہ یہ ہے کہ 42 عجوہ کھجوروں کی گٹھلیاں پیس کر اور باریک سفوف بنا کر ایک مرتبان میں رکھ لیں روزانہ نہارمنہ استعمال کریں . ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک چائے کا چمچہ خالص شہد بھر کے اب اس میں کھجور کی 2 گٹھلیوں کا سفوف ملالیں اور 21 دن تک صبح نہار منہ استعمال کریں اور آدھے گھنٹے بعد ناشتہ کرلیں.شہد اور کھجور کے استعمال سے انجائنا سے بچاؤ بھی ممکن ہے. عجوہ کھجور کے 21 دانے لیں اور اس سے گٹھلیاں نکالنے کے بعد پیس کر باریک سفوف بنالیں.پھر اس سفوف کو دوبارہ اسی خالی جگہ میں بھردیں جہاں سے گٹھلیاں نکالی گئی تھیں ان میں سفوف بھر دیں اور سفوف کی ذرا سی بھی مقدار باقی نہ بچے اب انہیں 21 روز تک باقاعدگی سے استعمال کریں انشاء اﷲ تعالیٰ افاقہ ہوگا.اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے شہد میں بھی اتنی افادیت رکھی ہے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا.شہد کمزور لوگوں کیلئے اﷲ تعالیٰ کا بہت بڑا تحفہ ہے جس کا سردیوں میں مستقل استعمال انسان کو چار چاند لگا دیتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مردانہ کمزوری دور کرنے کیلئے رات کو سونے سے قبلدو چمچ شہد کے گرم دودھ میں ملا کر پینے سے مردانہ کمزوری دور ہوجاتی ہے اور اگر اس کے ساتھ کھجور کا استعمال کیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا. معدہ ،جگر ‘ مثانہ میں گرمی ‘ ورم اور سوزش پیدا ہو ہوجائے توآپ صبح نہار منہ ایک گلاس میں 2شہد کے چمچ ملا کر پئیں انشاء اﷲ تعالیٰ فائدہ ہوگا. بچوں اور بڑوں کو اکثر دائمی نزلہ و زکام اور کھانسی کی شکایت رہتی ہے جوکہ بظاہر ایک چھوٹی سی بیماری نظر آتی ہے جسے اکثر چھوٹے بڑے نظرانداز کردیتے ہیں اور یہ مرض بعد میںشدت اختیار کرجاتا ہےجس کے نتیجے میں انسان کو سر درد‘ جسم میں کمزوری‘ آنکھوں سے پانی کا بہنا‘ حلق میں خراش اور ہلکا ہلکا بخاراور تھکاوٹ بھی شروع ہوجاتی ہے جس سے ہر وقت بدن سست روی کا شکار ہوتا ہے. ایسے مریضوں کو چاہئے کہ وہ یہ نسخہ بنا کر استعمال کریں ان سب تکالیف کو دور کرنے کیلئے ایک مفید نسخہ آپ کی نظر پیش کرتا ہوں. آدھا تولہ ملٹھی‘ آدھا تولہ لونگ‘ آدھا تولہ دارچینی‘ آدھا تولہ فلفل دراز اور آدھا تولہ الائچی کلاں لے کر اس کو باریک پیس لیں اور شہد میں حسب مقدار ملا کر اس کی معجون بنالیںاور رات کو سونے سے قبلآدھی چمچ کھانے سے انشاء اﷲ تعالیٰ کھانسی ‘ نزلہ و زکام اور بخار کی حدت میں کمی واقع ہوگی.شدید گرمی کے عالم میں توانائی فوری طور پر بحال کرنا ہو تو کھجور اس کیلئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔پیٹ کے کیڑے مارنے کیلئے نہار منہ اس کا استعمال مفید ہے۔تازہ پکی ہوئی کھجور کا مسلسل استعمال خون کثرت سے آنے والی بیماری میں فائدہ مند ہے۔ یہ کیفیت غدودوں کی خرابی‘ جھلیوں کی سوزش، غذائی کمی اور خون میں فولاد کیکمی وغیرہ سے پیدا ہوسکتی ہے۔کھجور ان میں سے ہر ایک کا مکمل علاج ہے۔دل کے دورے میں کھجور کو گٹھلی سمیت کوٹ کر دینا جان بچانے کا باعث ہوتا ہے چونکہ دل کا دورہ شریانوں میں رکاوٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے شریانوں میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہونے والی تمام بیماریوں میں کھجور کی گٹھلی تریاق کا اثر رکھتی ہے۔چونکہ کھجور رافع قولنج اور جھلیوں سے سوزش کو دور کرنے کیلئے مسکن اثرات رکھتی ہےاس لیے دمہ خواہ وہ امراض تنفس سے ہو یا دل کی وجہ سے اسے دفع کرتی ہے۔کھجور کا مسلسل استعمال اور اس کی پسی ہوئی گٹھلیاں دل کے بڑھ جانے میں مفید ہیں۔ یہی نسخہ کالاموتیا کے مریضوں کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔بلغم کو خارج کرتی ہے لہٰذا بعض ماہرین اسے تپ دق میں موثر قرار دیتے ہیں۔پرانے قبض کی بہترین دوا اور بہترین علاج ہے۔*کھجور کے درخت کی جڑوں کو جلا کر زخموں پر مرہم کی صورت میں لگانےسے زخم بہت جلد ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اس سفوف کے منجن سے دانت کا درد جاتا رہتا ہے۔ سوزش میں ایک بہترین ٹانک کا درجہ رکھتا چند دنوں تک کھجور کےباقاعدہ استعمال سے کوڑھ کے مرض میں فائدہ ہوتا ہے۔نوزائیدہ بچے کو کھجور منہ میں چبا کر تھوڑی تھوڑی کھلائیے۔جلی ہوئی کھجور زخموں سے خون بہنے کو روکتی ہے اور زخم جلدی بھرتی ہے‘ خشک کھجور کو جلا کر راکھ بناکر بوقت ضرورت استعمال میں لایا جاتا ہے۔کھجور کو خشک کرکے ہمراہ گٹھلی رگڑ کر منجن بنایا جاتا ہے جو دانتوں اور مسوڑھوں کومضبوط کرتا ہے۔مغز بادام دو تولے اور کھجور دو تولے کھانا باہ کو مضبوط کرتا ہے۔کھجور کے ساتھ کھیرا کھانے سے جسم توانا اورخوبصورت ہوجاتا ہے۔کھجور کو دھو کر دودھ میں ابال کر دینا زچگی کے بعد کی کمزوری اور بیماری کے بعد کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔کھجور کو نہار منہ کھایا جائے تو یہ پیٹ کے کیڑے مارتی ہے۔کھجور کھانے سے عمر میں اضافے کے ساتھ نظر کی کمزوری کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت اندھے پن کی شکایت رفع کرنے میں کھجور کی افادیت مسلم ہے۔ جو لوگ اکثر قبض کے شاکی ہوتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ کھجور سے استفادہ کریں ، اس لئے کہ کھجور میں موجود حل پذیر ریشے آنتوں کومتحرک کرکے فضلے کے اخراج میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے کھجور کو ایک گلاس پانی میںرات بھر پڑا رہنے دیا جائے ، بعد میں اسی پانی میں انہیں حل کر کے شربت کی صورت میں صبح کے وقت پی لیا جائے تو یہ بہترین قبض کشا دوا کا کام کرے گی۔کھجور کے ساتھ منقہ یا کشمش نہیں کھانا چاہیے نہ ہی اسے انگور کیساتھ استعمال کریں۔نیم پختہ کھجور کو پرانی کھجور کیساتھ ملا کر مت کھائیں۔کھجور کا ایک وقت میں زیادہ استعمال ٹھیک نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سات آٹھ دانے کافی ہیںوہ بھی اس صورت میں جب کھانیوالاحال ہی میں بیماری سے نہ اٹھا ہو۔جس کی آنکھیں دکھتی ہوں اس کیلئے کھجوریں کھانا مناسب نہیں۔کھجور کیساتھ اگر تربوز کھایا جائے تو اس کی گرمی تربوز کی ٹھنڈک سے زائل ہوجاتی ہے۔کھجور کیساتھ مکھن استعمال کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔جو خواتین دبلے پن کا شکار ہوں وہ تازہ پکی ہوئی کھجوریں اور کھیرے کھائیں بہت جلد اپنے جسم میں نمایاں تبدیلی محسوس کریں گی۔کھجور کیساتھ انار کا پانی معدہ کیسوزش اور اسہال میں مفید ہے۔مسلمانوں اور عرب ملکوں کے حوالے سے کھجور کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں کھجور کا استعمال پوری اسلامی دنیا میں بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت کھجور سے روزہ افطار کر کے سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتی ہے۔ افطارکے موقع پر کھجور استعمال کرنے کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ کھجور کی مٹھاس بھوک کی شدت کوبڑی حد تک کم کر دیتی ہے اور اس سے روزہ کھلنے کے بعد بہت زیادہ کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کھجور کو بجا طور پر صحت بخش غذا کا درجہ دیا جا سکتا ہے، اس میں بے شمار معدنی غذائی اجزا شامل ہیں۔

انیس بلین ڈالر کمانے تک کا سفر

انیس بلین ڈالر کمانے تک کا سفر
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:05
وہ اپنی ضد سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کےلئے تیار نہ ہوا‘ اس کا کہنا تھا وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا معاہدہ شہر کی فلاحی عمارت میں کرے گا‘ فیس بک کی انتظامیہ تیار نہیں تھی لیکن یہ اس کی پہلی اور آخری خواہش تھی‘ سودا بڑا تھا‘ فیس بک یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی لہٰذا یہ لوگ اس کی ضد کے سامنے پسپا ہو گئے‘ یہ کاغذات لے آئے‘ سنیپ (SNAP) کی عمارت کے ویٹنگ روم میں پہنچے اور جین کوم کو تلاش کرنے لگے‘ وہ آخری کرسی پر سر جھکا کر بیٹھا تھا‘ وہ

کے قریب پہنچے اور آہستہ آواز میں کہا”مسٹر جین وی آر ہیئر“ اس نے ٹشو پیپر کے ساتھ آنسو صاف کئے‘ پین نکالا اور ہاتھ آگے بڑھا دیا‘معاہدے کے کاغذات اس کے حوالے کر دیئے گئے‘ وہ دستخط کرتا چلا گیا‘ کاغذات ختم ہو ئے اور وہ 19 بلین ڈالر کا مالک بن گیا‘ وہ 38 سال کی عمر میں دنیا کے بڑے بلینئریز میں شامل ہو چکا تھا۔جین کوم کی کہانی اس سنٹر سے شروع ہوئی تھی لیکن اس کہانی سے پہلے یوکرائن آتا ہے‘ وہ یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا‘ خاندان عسرت میں زندگی گزار رہا تھا‘ گھر میں بجلی تھی‘ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا‘ گرمیاں خیریت سےگزر جاتی تھیں لیکن یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پرمجبور ہو جاتے تھے‘ اس غربت میں 1992ءمیں زیادتی بھی شامل ہو گئی‘ یوکرائن میں یہودیوں پر ایک بار پھر ظلم شروع ہو گیا‘ والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا‘ ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما‘ اٹیچی کیس میں بیٹے کی کتابیں بھریں اور یہ دونوں امریکا آ گئے‘ کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا‘ امریکا میں ان کے پاس مکان تھا‘ روزگار تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان‘ یہ دونوں ماں بیٹا مکمل طور پر خیرات کے سہارے چل رہے تھے‘ امریکا میں ”فوڈ سٹمپ“ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے‘ حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاءخریدنے کےلئے فوڈ سٹمپس دیتی ہے‘ یہ سٹمپس امریکی خیرات ہوتی ہیں‘ یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ یہ زندگی بچانے کےلئے خیرات لینے پر مجبور تھے‘ جین کوم کے پاس پڑھائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ یہ پڑھنے لگا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی مہنگی ہونے لگی‘ فوڈ سٹمپس میں گزارہ مشکل ہو گیا‘ جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی‘ خوشقسمتی سے اسے ایک گروسری سٹور میں سویپر کی ملازمت مل گئی‘ سٹور کے فرش سے لے کر باتھ روم اور دروازوں کھڑکیوں سے لے کر سڑک تک صفائی اس کی ذمہ داری تھی‘ وہ برسوں یہ ذمہ داری نبھاتا رہا‘ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہوگیا‘ یہ شوق اسے سین جوز سٹیٹ یونیورسٹی میں لے گیا‘ وہ 1997ءمیں ”یاہو“ میں بھرتی ہوا اور اس نے نو سال تک سر نیچے کر کے یاہو میں گزار دیئے‘2004ءمیں فیس بک آئی‘ یہ آہستہ آہستہ مقبول ہو تی چلی گئی‘ یہ 2007ءمیں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی‘جین کوم نے فیس بک میں اپلائی کیا لیکن فیس بک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا‘ وہ یہ نوکری حاصل نہ کر سکا‘ وہ مزید دو سال ”یاہو“ میں رہا‘ وہ آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن حالات اجازت نہیں دے رہے تھے‘ اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کئے اور نیا آئی فون خرید لیا‘ یہ آئی فون آگے چل کر اس کےلئے سونے کی کان ثابت ہوا‘جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے سوچا‘ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناﺅں جو فون کا متبادل بھی ہو‘ جس کے ذریعے ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے‘ تصاویر بھی بھجوائی جا سکیں‘ ڈاکومنٹس بھی روانہ کئے جا سکیں اور جسے ”ہیک“ بھی نہ کیا جا سکے‘یہ ایک انوکھا آئیڈیا تھا‘ اس نے یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست برائن ایکٹون کے ساتھ شیئر کیا‘ یہ دونوں اسی آئیڈیا پر جت گئے‘ یہ کام کرتے رہے‘ کام کرتے رہے یہاں تک کہ یہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے‘ یہ ”ایپ“ فروری 2009ءمیں لانچ ہوئی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی حدیں کراس کر گئی‘ یہ ایپ ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب تھی‘ اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔یہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کہلاتی ہے‘ دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں‘ یہ ایپ دنیا کا تیز ترین اور محفوظ ترین ذریعہ ابلاغ ہے‘ آپ واٹس ایپ ڈاﺅن لوڈ کریں اور آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی آپ کسی موبائل کمپنی کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے‘آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے ۔جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا‘ یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کےلئے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا‘ فروری 2014ءمیں فیس بک بھی ”واٹس ایپ“ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی‘ فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی‘ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر بولا ” یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ءمیں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا“ وہ دیر تک ہنستا رہا‘ اس نے اس ہنسی کے دوران ”فیس بک“ کو ہاں کر دی‘ 19بلین ڈالر میں سودا ہوگیا‘یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجئے‘ پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا جبکہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی‘ جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی”میں فوڈ سٹمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کروں گا“ فیس بک کےلئے یہ شرط عجیب تھی‘ یہ لوگ یہ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ڈٹ گیا یہاں تک کہ فیس بک اس کی ضد کے سامنے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی‘ایک تاریخ طے ہوئی‘ فیس بک کے لوگ فلاحی سنٹر پہنچے‘ وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا‘ وہ کیوں نہ روتا‘ یہ وہ سنٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں ”فوڈ سٹمپس“ کا انتظار کرتے تھے‘ یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے‘ ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی‘ وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی‘ طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی”تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے‘ تم کام کیوں نہیں کرتے“یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے‘ خاتون انہیں ”سلپ“ دیتی تھی‘ ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے‘ وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اس ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے 19 بلین ڈالر کی ڈیل پر ”فوڈ سٹمپس“ کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کئے‘ چیک لیا اور سیدھا کاﺅنٹر پر چلا گیا‘ فوڈ سٹمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی‘ جین نے 19بلین ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا ”آئی گاٹ اے جاب“ اور سنٹر سے باہر نکل گیا۔یہ ایک غریب امریکی کے عزم وہمت کی انوکھی داستان ہے‘ یہ داستان ثابت کرتی ہے آپ اگر ڈٹے رہیں‘ محنت کرتے رہیں اور ہمت قائم رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کےلئے کامیابی کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے‘جین کوم نے وطن چھوڑا‘ والد نے ساتھ جانے سے انکار کیا‘ وہ بے چارہ بیٹے اور بیوی کی صورت کو ترستا ہوا 1997ءمیں یوکرائن میں انتقال کر گیا‘ جین نے خیرات لے کر تعلیم حاصل کی‘ گروسری سٹور پر سویپر کا کام کیا اور وہ آخر میں اللہ تعالیٰ کے کرم سے کھرب پتی بن گیا‘ یہ داستان جہاں جین کوم کے عزم اور ہمت کی دلیل ہے یہ وہاں امریکی معاشرے کی وسعت اور فراخ دلی کا ثبوت بھی ہے‘ یہ ثابت کرتی ہے امریکا ایک ایسا ملک ہے جس میں کوئی شخص 1992ءمیں آ کر خیرات کے پیسے سے تعلیم حاصل کرتا ہے اور صرف 24 برسوں میں کھرب پتی بن جاتا ہے اور یہ صرف امریکا میں ممکن ہے‘ ہم جہاں اس داستان سے جین کوم کا عزم سیکھ سکتے ہیں ہمیں وہاں اس داستان سے ایک ایسے معاشرے کا آئیڈیا بھی ملتا ہے جس میں صرف عزم اور محنت کاشت ہوتی ہو‘جس میں ترقی صرف ترقی یافتہ لوگوں کی وراثت نہ ہو اور جس میں ہمیشہ کامیاب لوگ کامیاب لوگوں کو جنم نہ دیتے ہوں‘جس میں سب کےلئے محنت کے برابر مواقع موجود ہوں‘ میں جب بھی جین کوم جیسے لوگوں کی داستان پڑھتا ہوں‘ میرا دل دکھ سے بھر جاتا ہے اور میں سوچتا ہوں ہم مسلمان کس قدر بدقسمت ہیں‘ ایسے فراخ دل معاشرے کاخواب ہمارے رسول نے دیکھا تھا لیکن یہ معاشرہ ٹرمپ جیسے لوگوں کے حصے آیا‘ ہم مسلمان ایسے معاشرے کب بنائیں گے‘ ہم اپنے رسول کی خواہش کب پوری کریں گے‘ ہمارے معاشروں میں جین کوم جیسے لوگ کب پیدا ہوں گے‘ ہم کب 19بلین ڈالر مالیت کی ایپلی کیشنز بنائیں گے۔زیروپوائنٹ/جاویدچودھری

اللہ کے دوست

اللہ کے دوست
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 16:04
سن 410 ہجری میں جب سلطان محمود غزنوی کی وفات ہوئی تو اس وقت وہ دنیا کا سب سے بہادر مشہور و مقبول مسلمان بادشاہ تھا ۔ سلطان محمود غزنوی نے 33 سال افغانستان پر حکومت کی ۔ 1974 میں افغانستان کے شہر غزنوی میں زلزلہ آیا تو تباہی کی وجہ سے سلطان محمود غزنوی کی قبر بھی متاثر ہوئی ۔ اور قبر کی دوبارہ تعمیر و مرمت کی ضرورت پیش آگئی ۔ اس وقت افغانستان میں ظاہر شاہ کی حکومت تھی جس نے سلطان محمود کی قبر کشائی کرکے دوبارہ دفن کرنے اور از سر نو قبر بنانے کا حکم

۔جباس مقصد کے لیے قبر کو کھولا گیا تو وہاں موجود لوگ سارا منظر دیکھ کر چکرا گئے۔سلطان محمود غزنوی کے انتقال کو لگ بھگ 1000 سال گزر چکے تھے لیکن قبر میں سلطان کا تابوت اور اسکی لکڑی بالکل درست حالت میں موجود تھی۔ اور اسے معمولی سی دیمک نہیں لگی تھی نہ ہی تابوت کی لکڑی کے کسی حصے کو کسی قسم کا اور نقصان پہنچا تھا ۔یہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ جب تابوت کو کھولنے کا حکم دیا گیا تو تابوت کھولنے والے یہ دیکھ کر غش کھا گئے کہ سلطان محمود غزنوی کا جسد ایسی حالت میں موجود تھا جیسے اسے آج ہی دفن کیا گیا ہو ۔ سلطان کا سیدھا ہاتھ اسکے سینے پر رکھا تھا اور بایاں ہاتھ جسم کے متوازی رکھا ہوا تھا ۔ جسم اور ہاتھ اس طرح نرم ومحفوظ حالت میں تھے جیسے سلطان محمود کو وفات پائے چند لمحے گزرے ہوں یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس بات کا انعام تھا کہ جو لوگ اللہ اور اسکے نبی کے احکامات کی فرمانبرداری کریں اور احکام الٰہی کو ہر دوسری چیز پر مقدم سمجھیں تو اللہ تعالیٰ ان پر خاص عنایت کرتا ہے ۔جو شخص اللہ کی خوشنودی کے لیے مخلوق خدا کی بہتری بھلائی کے لیے سرگرم رہے اسے اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد بھی فنا نہیں ہونے دیتا ۔

سوچا کچھ، ہوا کچھ اور۔۔۔

سوچا کچھ، ہوا کچھ اور۔۔۔
پیر‬‮ 14 مئی‬‮‬‮ 2018 | 17:58
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ واقعات اس طرح وقوع پذیر نہیں ہوتے جیسا آپ سوچ رہے ہوتے ہیں لیکن اگر ہم غور کریں تو اس میں بھی قدرت کی طرف سے کوئی نہ کوئی بہتری پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہمارے آج کے اس مضمون کی فہرست میں مائکروویواون سے لے کر آئس کریم کون تک ایسی ہی چیزیں شامل ہیں جو حادثاتی طور پر دریافت یا ایجاد ہوئیں اور اب ہماری روز مرہ زندگی میں اہم سہولیات کے طور پر اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ -1 ماچس (Matches) 1800ء کی دھائی میں برطانیوی فارماسیسٹ ’’جان واکر‘‘ (John walker) ادویات

استعمال ہونے والے مختلف کیمیکلز کو لکڑی کے تنکوں کے ذریعے مکس کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ ایک تنکے کے سرے پر کوئی مادہ چپکا ہوا ہے۔ جب انہوں نے اس مادہ کو رگڑ کر صاف کرنے کی کوشش کی تو وہ مادہ آگ پکڑ گیا۔ یہاں سے ’’جان‘‘ کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ زندگی کو آسان بنانے کے لئے ماچس بنائی جائے۔ انہوںنے پھر ایسا ہی کیا اور بڑے پیمانے پر ماچسیں بنانی شروع کر دیں اور یوں باقاعدہ ایک کمپنی بنا کر تجارتی بنیادوں پر ماچسوں کی تیاری اور فروخت ہونے لگی۔ مگر انہوں نے کاروبار میں اپنی اجارہ داری قائم نہ کرنے کے لئے اپنی اس ایجاد کو رجسٹر نہ کروایا کیونکہ ان کے خیال میں اس طرح ان کی یہ ایجاد انسانیت کے زیادہ کام آ سکتی تھی کہ اور لوگ بھی ماچسیں بنائیں اور عام لوگوں کو فائدہ ہو۔ ماچس جلد ہی ساری دنیا میں مقبول ہو گئی اور آج بھی ایک انتہائی مفید اور کارآمد چیز ہے۔2- ’’آلو کے چپس‘‘(Potato Chips) امریکہ کے شہر نیویارک میں رہنے والے ’’جارج کرم‘‘ (George Crum) ایک بہت مشہور شیف تھے۔ لیکن ستم ظریفی یہ تھی کہ ان کے اکثر گاہک یہ شکایت کرتے تھے کہ ان کے تلے ہوئے آلو کے قتلے بہت زیادہ ہی خستہ ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے غصہ میں آ کر جارج نے بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے گاہکوں کی اس شکایت کو دور کرنے کے لئے آلو کے قتلے انتہائی باریک کاٹے گا اور انہیں تیل میں خوب بھون کر اور ان پر نمک چھڑک کر اپنے گاہکوں کو پیش کرے گا۔ اپنی طرف سے جارج نے یہ کام گاہکوں کو پریشان کرنے کے لئے کیا تھا مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ لوگ اس کی اس نئی ترکیب سے بنے آلوؤں کے قتلوں کے دیوانے ہو گئے۔ 1853ء سے لے کر آج تک آلوؤں کے چپس بنانے کی کئی ترکیبیں منظر عام پر آ چکی ہیں اور اب یہ دو سو سے زائد مختلف ذائقوں میں دستیاب ہیں۔3’۔ ’’آئس کریم کون‘‘(Ice cream cones) آئس کریم بذات خود کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ 200 سال قبل از مسیح میں بھی چین کے لوگ اس سے ملتی جلتی ایک چیز کھایا کرتے تھے، لیکن آئس کریم کون بہرحال 1904ء میں ایجاد ہوئی۔ اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ’’سینٹ لیوئس‘‘ (St Louis) کے میلے میں آئس کریم کے اسٹالز پر اتنا رش ہوتا تھاکہ سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا۔ ارنس ہیمرک نامی ایک دکاندار جو ایرانی بسکٹ بیچا کرتا تھا، نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت اپنے بسکٹوں کو گول کون نما شکل میں بنا کر اپنے ساتھی دکانداروں کو دینا شروع کر دیئے تاکہ وہ ان میں آئس کریم ڈال کر گاہکوں کو پیش کریں اور آئس کریم کے کپ اور چمچوں کے جھنجھٹ سے آزاد ہو کرتیزی سے اپنا کام نمٹا سکیں۔ گاہک اس نئی چیز کو پسند کرنے لگے اور اس طرح آئس کریم کون وجود میں آ گئی۔4۔ ’’سیفٹی گلاس‘‘ (Safety Glass) فرانس کے ایک کیمیا دان ’’ایڈوریڈ بینیڈپکٹس ‘‘ (Edouard Benedictuc) ایک دن اپنی تجربہ گاہ میں کسی تجربے میں مصروف تھے کہ اچانک ان کے ہاتھ سے شیشے کا ایک ’’بیکر‘‘ (beaker) پھسل کر نیچے فرش پر جا گرا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شیشہ کرچی کرچی نہیں ہوا بلکہ محض تڑخ کر رہ گیا۔ انہوںنے جب جانچ بڑتال کی کہ ایسا کیوں ہوا ؟ تو انہیں یہ معلوم ہوا کہ شیشے کے اس بیکر میں پتلے پلاسٹک کا محلول موجود تھا جو کسی پچھلے تجربے کے بعد اسی میں بچ گیا تھا اور یوں ٹوٹ کر کرچیوں میں نہ تبدیل ہونے والا شیشہ ایجاد ہوا، جو آج کل کئی چیزوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ کاروں کی ونڈ سکرین وغیرہ تاکہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں سکرین اگر ٹوٹے بھی تو اس کی کرچیاں کار کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔5۔ ’’ربڑ‘‘(Vulcanizad Rubber) انیسویں صدی میں ربڑ کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں تھی۔وہ نرم ہوتا تھا اور اس میں پائیداری بھی نہیں پائی جاتی تھی۔ ایک نوجوان سائنسدان ’’چارلس گڈیئر‘‘ (Charles Goodyear) کافی عرصے سے اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ کسی طرح ربڑ کی کوالٹی کو بہتر بنایا جائے۔ وہ خام ربڑ میں نمک‘ مرچیں‘ چینی‘ ریت اور ارنڈی کا تیل‘ یہاں تک کہ سوپ تک ملا ملا کر تجربات کرتا رہا۔ یوںدکھائی دیتا تھا کہ جیسے وہ کوئی کھانے پینے کی چیز بنا رہا ہو، حالانکہ وہ بے چارہ تو محض ان سب چیزوں کے صحیح تناسب کے ملاپ سے ربڑ کو ایک مکمل شکل دینے کی سعی میں معروف تھا۔ تھک ہار کر ایک دن اس نے ایک مختلف تجربہ کرنے کا سوچا اورخام ربڑ میں میگنیشا‘ چونا اور گندھک کا تیزاب ملایا، لیکن ایک مرتبہ پھر اس کا تجربہ ناکام ثابت ہوا۔ ایک دن اسی طرح کے تجربات کے دوران اس نے خام ربڑ میں ’’سلفر‘‘ مکس کیا اچانک وہ مرکب ’چارلس‘ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور ایک گرم سطح پر گرا۔ یہ حادثہ کامیابی کی نوید بن گیا اور چارلس ’’ولکنائزڈ ربڑ‘‘ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ جس سے اب باسکٹ بال سے لے کر گاڑیوں کے ٹائرز تک بے شمار چیزیں بنائی جاتی ہیں۔6- ’’پلاسکٹ‘‘ (Plastic) پلاسٹک کی ایجاد سے پہلے سریش نما ایک مادہ جو الکوحل اور سرکے کے ملاپ سے بنتا تھا‘ استعمال کیا جاتا تھا۔ بیسویں صدی کے شروع تک مختلف مقاصد جیسے لکڑی کو فارمیکا کرنے‘ ریکارڈ پلیئرز کے ریکارڈ بنانے اور دانتوں کی فلنگ تک کے لئے استعمال ہونے والے اس مادے کو ’’شیلاک‘‘ (Shellac) کہتے تھے۔ مگر یہ بہت مہنگا پڑتا تھا۔ اسی وجہ سے ایک کیمیا دان ’’لیو ہینڈرک بیکیلینڈ‘‘ (Leo hendrik Baekeland) کو ’’شیلاک‘‘ کا کوئی سستا متبادل تلاش کرنے کی جستجو ہوئی۔ اپنے تجربات کے دوران وہ ’’شیلاک‘‘ سے بھی زیادہ فائدہ مند چیز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ نیا مکسچر ایک ایسا قابل ذکر مادہ تھا جو انتہا ہی درجے کی حرارت کو بھی برداشت کر سکتا تھا۔ یہی مادہ اب پلاسٹک کے نام سے جانا جاتا ہے۔7- ’’اینٹی ڈپریسنٹ ادویات‘‘(Antidepressants) آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دوسرا شخص ڈپریشن کے مرض کا شکار نظر آتا ہے۔ جدید دور کی معروف زندگی‘ غیر متوازن کھانوں اور سہولیات کے حصول کی بھاگ دوڑ اس کے بنیادی اسباب ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں لوگوں کو ڈپریشن نہیں ہوتا تھا۔ ہر دور کے اپنے تقاضے اور مسائل ہوتے ہیں۔ آج شاید یہ مرض زیادہ شدت اختیار کر گیا ہو، مگر یہ موجود ہر زمانے میں رہا ہے۔ انٹی ڈپریسنت ادویات پہلے پہل 1957ء میں سامنے آئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ادویات اصل میں ’’ٹی بی‘‘ کے مرض کے سدباب اور علاج کے لئے بنائیں گئیں تھیں جو اس وقت ایک موذی اور ناقابل علاج مرض سمجھا جاتا تھا۔ اس کو بنانے والے فارماسیسٹس نے یہ بات نوٹ کی کہ ان ادویات نے ’’ٹی بی‘‘کے علاج میں تو خاطر خواہ فائدہ نہیں دکھایا لیکن ان ادویات کو استعمال کرنے والے مریضوں کے مزاج پر ان کے بہت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے۔ جب سے اب تک یہ ادویات ڈپریشن کو رفع کرنے کے لئے استعمال کروائی جاتی ہیں۔8- ’’پیس میکر‘‘ (Pace Maker) دل کے امراض میں سے ایک مرض دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونا بھی ہے۔ یہ مرض بڑھاپے یا کسی بھی وجہ سے دل کے کمزور ہو جانے کے باعث لاحق ہو جاتا ہے۔ ایک امریکی انجینئر ’’ولسن گریٹ بیچ‘‘ (Wilson Great Batch) انسانی دل کی دھڑکنوں کو ریکارڈ کرنے کے لئے ایک آلہ بنانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ وہ بھول سے ایک غلط برقی عنصر اس آلے میں لگا بیٹھا۔ جب اس آلے کو دل کی دھڑکن نوٹ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس نے دل کی بے ترتیب دھڑکن کو دوبارہ صحیح ردہم میں ترتیب دے دیا ہے۔ 1960ء میں یہ ’’پیس میکر‘‘ پہلے انسان کے جسم میں لگا دیا گیا اور یہ جب ہی سے انسانی زندگیاں بچانے کے کام آ رہا ہے۔9- ’’اینٹی بائیوٹک‘‘ (Antibiotice) اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ’’الیگزینڈ فلیمنگ ‘‘(Alexander fleming) کی لیبارٹری کے فرش پر ہر طرف کاغذ اور ’’بیکرز‘‘ بکھرے ہوئے تھے۔ پلیٹوں میں مختلف اقسام کے بیکٹریاز کو معائنے کے لئے رکھا ہوا تھا۔ ایک دن سائنسدان نے دیکھا کہ اس پلیٹ میں پھپھوندی لگی ہوئی ہے جس میں پیپ کا موجب بننے والے جرثومے رکھے ہوئے تھے اور پھپھوندی نے ان جرثوموں کو ختم کر دیا تھا۔ ’’فلیمنگ‘‘ نے اس پھپھوندی پر مزید تحقیق کی اور اس کے نتیجے میں اینٹی بائیوٹک وجود میں آئیں۔ اس دریافت پر ’’فلیمنگ‘‘ کو 1945ء میں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔10۔ ’’ایکس رے‘‘ (X rays) 1895ء میں ’’ولہالم روینجین‘‘ (Wilhelm Roentgen)نے حادثاتی طور پر ہی ایکس ریز دریافت کیں۔ ایک بار اس نے لاشعوری طور پر ا لیکٹرونک بیم (برقیاتی شعاع) کے سامنے اپنا ہاتھ رکھا تو اسے فوٹو گرافک پلیٹ ہر اپنے ہاتھ کا عکس نظر آیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ وہ عکس ہاتھ کے اندرونی حصے کا تھا۔ اس نے نوٹ کیا کہ تابکاری شعاع، ٹھوس اشیاء اور اجسام میں سے گزرتے ہوئے ایک سائے جیسا عکس بناتی ہے۔ آج ہم جسم کے اندر ہونے والی کسی بھی تبدیلی کو دیکھنے کے لئے ایکس ریز کا استعمال کرتے ہیں۔11- ’’مائیکرو ویو اون‘‘(Micro wave Oven) اگلی مرتبہ جب بھی آپ اپنا کھانا سیکنڈوں میں گرم کریں تو ’’پرسی سپنیر‘‘ (Percy Spencer) کو ضرور یاد کرنا نہ بھولئے گا جو ایک امریکی موجد تھا۔ اس اون کی ایجاد سے پہلے مائکرو ویوز صرف ریڈارز میں استعمال ہوتی تھیں۔ ایک دن ’’سپینر‘‘ جو بحریہ کا ایک ریڈار سپیشلسٹ تھا‘ نے محسوس کیا کہ جب وہ مائکروویو پیدا کرنے والے آلے کے سامنے کھڑا تھا تو اس کی جیب میں موجود چاکلیٹ بار پگھل کر ایک چپچپی سی شکل اختیار کر گیا تھا اور اس طرح یہ حادثہ 1945ء میں مائیکرو ویو اون کی ایجاد کا باعث بنا۔

Nawaz Sharif Ignored To Gave Answer On Kulbhushan Jadhav

سلیم آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جان بوجھ کر بھارتی جاسوس سے متعلق پیراگراف کو ہٹا دیا ہے. انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ستمبر میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بلوچستان میں شمولیت اختیار کی.

اے آر او نیوز اسلام آباد بیورو کے چیئرمین صابر شاکر کے مطابق، سابق وزیراعظم سے کہا گیا تھا کہ وہ بھارتی جاسوس اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں پڑوسی ملک کی شمولیت کو بڑھانے کے لئے لیکن اس نے اپنی تقریر سے متعلق موضوع پر پوری پیراگراف کو ہٹا دیا.

متعلقہ
اقوام متحدہ 2016 میں نواز شریف کی پوری تقریر
اس وقت وحی ایک ایسی وقت ہوتی ہے جب ملک کے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاق عباسی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس میں حصہ لینے کے لئے ہے.

یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نیویارک میں وزیراعظم کے ساتھ صحافی اجلاسوں سے دور رہ رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے جاری پریس بیانات پر زور دیتے ہیں.
یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نیویارک میں وزیراعظم کے ساتھ صحافی اجلاسوں سے دور رہ رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے جاری پریس بیانات پر زور دیتے ہیں.

اقوام متحدہ کے مطابق عباسی کا پتہ – 2 ستمبر کو مستحکم ہے.
Nawaz Sharif Ignored To Gave Answer On Kulbhushan Jadhav

Maryam Nawaz Response On Reporter Question About Traitor Nawaz Sharif

ایک ٹویٹ میں، سابق وزیراعظم کی بیٹی نے لکھا، “میڈیا کو سختی سے بتایا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے نفاذ کو واضح کرنے اور پروپیگنڈے کو بڑھانے کے لئے نہیں. لگتا ہے کہ منصوبہ ساز بہت خطرناک ہیں. ”

مریم نواز شریف

MaryamNSharif
پی ایم ایل این کی وضاحت کو نمایاں کرنے اور پروپیگنڈا کو اپنانے کے لئے میڈیا کو سختی سے نہیں بتایا گیا ہے. لگتا ہے کہ منصوبہ ساز بہت ہی خطرناک ہیں.

20:34 – 13 مئی 2018
6،114
5،648 لوگ اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں
ٹویٹر اشتہارات کی معلومات اور رازداری
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی وضاحت بھی شامل کی جس میں حکمران جماعت نے کہا، “نوازشریف کسی کو کسی بھی سرٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں ہے اور ان کی صلاحیتوں پر قابو پانے اور حفاظت کی حفاظت، تحفظ اور فروغ دینے کی ضرورت ہے.”

درمیانی کہانیاں
اس کے علاوہ، مریم نے کہا کہ شریف کا بیان ملک کے بہترین مفاد میں تھا. “جو بھی میاں صبا [نواز شریف کو پڑھیں] نے ملک کے بہترین مفاد میں تھا. کوئی بھی اس سے بہتر نہیں جانتا جو بیماری ملک کو ضائع کر رہا ہے. وہ علاج بھی کہہ رہا ہے، “مریم نے ٹویٹ کیا.

Maryam Nawaz Response On Reporter Question About Traitor Nawaz Sharif

نوازشریف جھوٹا ثابت.. دیکھئے اجمل قصاب جسکو 2006 میں نیپال سے اغوا کر کے ممبئی حملہ ڈرامہ کیس میں پیش کیا کیسے وہ بھگوان سے بھیک مانگ رہا رحم کی

اسلام آباد، 7 جنوری کو پاکستان کے حکام، ممبئی کے قاتل میں اپنی تحقیقات کے دوران، نے قائم کیا ہے کہ صرف بچنے والے دہشت گرد اجمل قصاب پاکستانی پاکستانی ہیں.

حکومت کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرنے والے مختلف حکام کی طرف سے متضاد بیانات کی ایک سیریز کے بعد، یہ سرکاری طور پر اعتراف کیا گیا تھا کہ ڈان نیوز نیوز ٹی وی اجمل قصاب کی شناخت کے حوالے سے سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں خبر تھی.

اس سے پہلے، اعلی درجے کے سرکاری اہلکار ڈان نے بتایا کہ ابتدائی تلاش میں کافی معلومات فراہم کی گئیں کہ یہ ہندوستان اس وقت کی گرفتاری پنجاب پنجاب کے ایک گاؤں سے تھا، اور شاید وہ عسکریت پسند گروہ سے تعلق رکھتا تھا جسے خطے کو غیر مستحکم کرنے پر روکا تھا. امن عمل کو کم کرنے کے.

سرکاری، جس نے نام نہاد کی درخواست کی، کہا کہ حکام اپنی تحقیقات کی بنیاد پر حکام کے ساتھ ساتھ بھارت اور امریکیوں کی طرف سے فراہم کی معلومات پر پہیلی کے تمام حصوں کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں.

تاہم، انہوں نے کہا کہ محققین کے ذہنوں میں کوئی شک نہیں تھا کہ قبضہ شدہ دہشت گرد پاکستان تھا. “افسوس، یہ قائم کیا گیا ہے کہ قصاب ایک پاکستانی شہری ہے.”

لیکن وحی، الجھن، اور کچھ متنازعہ منٹ کے اندر اندر، اسلام آباد میں حکومت کے مختلف حصوں سے بیانات نے بیان کیا. جبکہ بھارتی ٹیلی ویژن چینل نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے طور پر اجمل قصاب کی شناخت قائم کی گئی ہے، خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر نے اسی چینل کو بتایا کہ یہ کچھ بھی کہنا تھا کہ تحقیقات جاری رہی.
Mumbai attacker Ajmal Kasab Admitted He Is An Indian Agent

Saleem Safi Analysis On Nawaz Sharif’s Statement

اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) اجلاس کے بعد پیر کے روز وزیر اعظم شاہد خاکی عباسی اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لئے چودھری منیر کے گھر سے ملاقات کی.

منیر نواز کا قریبی دوست ہے.

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی نے این ایس سی پریس ریلیز جاری کرنے سے قبل نواز شریف کو اعتماد میں لے لیا. وزیر اعظم عباسی نے اس بیان کے بارے میں نواز شریف کو آگاہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رپوٹوں نے عوامی اور قومی شرمندگی کی وجہ سے. کئی دیگر مسلم لیگ ن نواز (مسلم لیگ ن) رہنماؤں بھی موجود تھے.
پارٹی معاملے پر قیادت کے موقف پر الجھن میں ہے. نواز شریف نے اپنے الفاظ پر زور دیا ہے جبکہ، وزیراعظم عباسی اور وزیراعلی شہباز نے کہا ہے کہ ان انٹرویو کو سیاق و سباق سے نکال دیا گیا ہے.

نواز شریف کا کہنا ہے کہ نئی صف کو سنبھالنے کے بعد، سچ باتیں جاری رکھیں گے

مسلم لیگ (ن) کے رہنما دعوی کی طرف سے کھڑے ہیں کہ نواز کی باتیں سیاحت سے باہر نکلیں. تاہم، احتساب عدالت کے باہر غیر رسمی طور پر بات کرتے ہوئے، نواز نے کہا کہ وہ اس کی طرف سے کھڑا ہے. نواز نے مزید کہا کہ وہ سچ بولیں گے اور وہ اپنے قومی اور اخلاقی فرض کو ایسا کرنے کے بارے میں سمجھتے ہیں.

Saleem Safi Analysis On Nawaz Sharif’s Statement

Last Picture of College Students Before Bridge Collapse in Neelum Valley

Last Picture of College Students Before Bridge Collapse in Neelum Valley


مظفر آباد: پیر کے نزدیک وادی پل میں موت کی تعداد 12 ہوگئی، پیر کے روز ایک سرکاری اہلکار نے تصدیق کی.

کمشنر مظفرآباد امتیاز احمد نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ “سیاحوں کی چھ لاشیں پانی کی چینل سے برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ چھ لاپتہ افراد کی تلاش ابھی جاری ہے.”

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مصری واقعے میں پانچ خواتین اور سات مرد اپنی جان کھو چکے ہیں.
سات سیاحوں کو ڈوب گیا، نویلم وادی میں پل کے طور پر نو لاپتہ نو دیگر

مقتول شہزاد زئی، عبدالرحمان سعید، نعیم، اشعار ندیم، حماد اور راشام ناز کے طور پر شناخت کی گئی.

ایک مقامی آدمی، سیم شفیات بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ڈوب دیا. کمشنر نے تصدیق کی ہے کہ وہ سیاحوں کی زندگی کو بچانے کے لۓ اپنی زندگی کھو دیا اور اب بھی غائب ہے.

ایک اہلکار نے بتایا کہ چار لاشیں اپنے متعلقہ گاؤں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بھیجے گئے ہیں.

تقریبا 28 سیاحوں نے پل پر تصاویر لینے لگے، جب یہ گر گیا جب کھنال شاہی علاقے میں جگرا ندی میں واقع ہوا.

عارضی طور پر کھڑا پھانسی پل اس پر کھڑا ہونے والوں کے بوجھ کا سامنا نہیں کر سکا اور گر گیا.

Hafizullah Niazi Badly Crushing Nawaz Sharif on His Statement

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف پیر نے کہا کہ وہ ان حقائق کو قبول کرنے کے لئے سب سے پہلے نہیں ہے.

ممبئی کے حملوں میں پاکستان پر مبنی غیر ریاستی اداکاروں کے کردار کے بارے میں انہوں نے ایک انٹرویو میں اپنے حالیہ بیان کا حوالہ دیا تھا.

“میں نے ایک سوال پوچھا تھا. مجھے جواب کی ضرورت ہے، “نواز نے کہا کہ احتساب عدالت کے اندر صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے.

تین بار وزیراعلی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کے موقف کو نہیں سنتا اور کہا کہ یہ ضروری ہے کہ یہ کیوں کیوں ہے.

نواز نے افسوس کی ہے کہ جو سوال پوچھتے ہیں وہ میڈیا میں غدار قرار دیتے ہیں. سابق وزیر اعظم نے کہا کہ “جو جوہری کاموں کا تجربہ کرتا ہے اسے غدار قرار دیا جا رہا ہے.”

انہوں نے کہا، “سچ بات کریں گے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا،” اور پھر ان کے بیان کو اپنے موبائل فون سے انٹرویو سے اپنے نقطہ نظر کو مضبوط بنانے کے لئے پڑھائیں.

نواز نے مزید کہا کہ مسلح افواج، شہریوں اور پولیس نے زبردست قربانی دی ہیں.

Hafizullah Niazi Badly Crushing Nawaz Sharif on His Statement