رزق اتنا ملے گا کہ ختم کرنا چاہیں گے بھی تو ختم نہیں ہوگا

رزق اتنا ملے گا کہ ختم کرنا چاہیں گے بھی تو ختم نہیں ہوگا
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 9:04
ہر بندے کو رزق عطا کرنا اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے ،یہ الگ بات ہے کہ بندہ سمجھتا ہے اس نے جو کمایا ،جو کمانے کی منصوبہ سازی کرتا ہے ،وہ اکسی اپنی کوششوں سے ممکن ہے حالانکہ اللہ کریم کا واضح وعدہ ہے کہ وہ رزق سے کسی کو محروم نہیں رکھتا ۔جو مسلمان ذکر اذکار کرتے ہیں ان کو دو رزق ملنے میں فراوانی ہوجاتی ہے

،ایکروحانی اور دوسرا مادی رزق ،ایک تعلق روح سے دوسرے کا دنیاوی امور اور ضرورتوں سے ہوتا ہے ۔ذکر و اذکار سے خالق دوجہاں کو راضی رکھنے

والے اگر اپنے معمولات کے دوران روزناہ درود تاج پڑھا کریں تو انہیں روح و جسم کے رزق وافر ملیں گے۔ درود تاج کے بے پناہ فیوض و برکات ہیں، روز اوّل سے یہ عاشقان رسول کریم ﷺ کا محبوب وظیفہ ہے

ہر دور کے عارفانہ حق اور اولیاءنے یہ درود پاک خود پڑھا اور اپنے ارادتمندوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کی۔ اس درود کو پڑھنے والے صاحب کشف بھی بن جاتے ہیں۔ اگر کوئی روزانہ 100 مرتبہ پڑھے تو صاحب کشف ہونے کے ساتھ ساتھ قلب کی صفائی بھی نصیب ہوتی ہے ،سحر یا آسیب یا شیاطین کے تنگ کرنے کی صورت میں صرف 11 بار اس درود پاک کو روزانہ پڑھیں۔ اضافہ رزق کے لئے 7بار، دشمنوں اور حاسدوں ظالموں سے بچنے کے لئے روزانہ ایک بار پڑھنا ہی کافی ہے۔ اس درود پاک میں ہر بیماری پریشانی کا حل موجود ہے۔

جب ایک صحابی کا پاؤں آپ ﷺ کے پاؤں پر آ گیا تو آپ ﷺ نے اسے ’چھڑی‘ مار دی! پھر کیا ہوا؟ حیات طیبہﷺ کا ایسا سبق آموز واقعہ جو آپ کی بھی زندگی بدل کے رکھ دے گا

جب ایک صحابی کا پاؤں آپ ﷺ کے پاؤں پر آ گیا تو آپ ﷺ نے اسے ’چھڑی‘ مار دی! پھر کیا ہوا؟ حیات طیبہﷺ کا ایسا سبق آموز واقعہ جو آپ کی بھی زندگی بدل کے رکھ دے گا
جمعہ‬‮ 30 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 14:17
معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایمان افروز واقعہ سنایا۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب حنین کی جنگ میں شکست ہوئی تو صحابہ بھاگنے لگے، ایک صحابی کا پاؤں بھاگتے ہوئے آپ ﷺ کے پاؤں پر آ گیا۔ صحابی کے پاؤں میں جنگ میں پہننے والا سخت جوتا تھا۔

جو آپ ﷺ کے پاؤں پر پڑاتو آپ ﷺ نے صحابی کو ’چھڑی‘ مار دی اور صحابی سے کہا ’ارے! تم نے تو میرا پاؤں ہی مسل دیا‘ ۔ صحابہ اس وقت جان بچا کر بھاگ رہے تھے جب

اس صحابی کے کان میں آواز پڑی تو وہ کہنے لگے کہ بس اب میری خیر نہیں، اب کوئی نہ کوئی وحی میرے بارے میں آئے گی کہ میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو دکھ پہنچایا اور ان کے پاؤں پر پاؤں مار دیا، صحابی ساری رات نہ سو سکے اور سوچتے رہے کہ صبح میرے بارے میں وحی آئے گی ۔ مولانا طارق جمیل نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ صبح فجر کی نماز کے وقت اعلان ہو ا کہ جس کا پاؤں نبی ﷺ کے پاؤں پر پڑا تھا وہ دربار رسالت میں حاضر ہو ‘ صحابی نے کہا کہ

میری ہائے نکلی اور کہنے لگا وہی کام ہوا جس کا مجھے ڈر تھا ، ضرور نبی ﷺ کے پاس میرے بارے میں کوئی بڑا حکم آیا ہوا ہوگا۔ صحابی جب دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے صحابی کو دیکھ کر مسکرائے اورفرمایا کہ ’’میرے بھائی! کل میں نے آپ کو چھڑی ماری تھی‘ اس پر معافی مانگنے کیلئے آپ کو بلایا ہے۔ یہ 60 ساٹھ اونٹنیاں میری طرف سے تحفے میں قبول کریں ، امید ہے اب آپ مجھے معاف فرما دیں گے‘‘۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ آپ ﷺ کی چھڑی صحابی کو اس جگہ لوہے کی ذرہ پر لگی جہاں تلوار اثر نہیں کرتی لیکن آپ ﷺ نے 60 اونٹیناں دیں اور معافی علیحدہ مانگی ‘ یہ آپ ﷺ کا حسن اخلاق، برداشت اور درگزر ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میرے نبی ﷺ نے ہمیشہ معاف فرمانا اور درگزر کرنا نہیں بھولا۔

باہر والی

باہر والی
جمعہ‬‮ 30 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 14:12
زینب کی شادی کو آج سترہ سال پورے ہونے کو آئے تھے. مگر اکثر وہ یہ بات دہرایا کرتی اللہ کسی کو” باہر والی ‘ کا دکھ نہ دکھائے.اس کی بیٹیاں اکثر اس سے پوچھتی؛ اماں! یہ باہر والی کون ہوتی ہے ؟آج اس کی بیٹیاں اس کو زبردستی بٹها کر پوچھنے لگیں. زینب ہنس کر بولی بیٹا! باہر والی تمہاری ماں جیسی ہوتی ہے. بچیاں حیرانی سے

بولیں :”اماں ! زینب ہنس کر بولی :”بیٹا! تمہارے ابا کا رشتہ جب میرے ماں باپ نے قبول کیا تو وہ اسی بات کے داعی تھے کہ زات پات،

برادریاں، قبیلوں کی تقسیم صرف انسانوں کی پہچان کے لیے ہے ان کی تقسیم کے لئے نہیں.”مگر شادی کہ بعد مجھے میرے سسرال نے بتایا کہ میرا تعلق ان کی برادری سے نہیں .اس لئے میں “باہر والی ” ہوں. کتنے مزے کی بات ہے کہ آج سترہ سال بعد بھی میں باہر والی ہوں.کمرے میں خاموشی چھا گئی “باہر والی ” کے غم میں

’’پاکستان سب پر بازی لے گیا‘‘ اب صرف 45 منٹ میں کینسر کا علاج ممکن

’’پاکستان سب پر بازی لے گیا‘‘ اب صرف 45 منٹ میں کینسر کا علاج ممکن
جمعہ‬‮ 30 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 14:08
ویسے تو کراچی کے جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سینٹر(جے پی ایم سی) کا شمار ملک کے سب سے بڑے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔لیکن اب اس ہسپتال کے شعبہ ’ریڈیو لاجی‘ میں ’سائبر نائف‘ نامی ایک نیا شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے،جو موضی مرض کینسر کے علاج کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔شعبہ سائبر نائف میں کینسر کے

مریضوں کا روبوٹ کے ذریعے صرف اورصرف 30 سے 45 منٹ میں آپریشن کیا جاتا ہے، وہ بھی مریض کے جسم کو قینچی یا دیگر آلات سے کاٹنے اور اس کے کپڑے تبدیل کیے بغیر۔جناح ہسپتال میں نجی فلاحی

تنظیم پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن، سندھ حکومت ، پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) اور دیگر مخیر حضرات کی امداد سے 40 کروڑ روپے مالیت کا سائبر نائف روبوٹ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو تمام طرح کے کینسر کے مریضوں کی سرجری کرنے سمیت کینسر کی شناخت کا کام کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سائبر نائف روبوٹ سسٹم کے 250 سے بھی کم سسٹم موجود ہیں، جن میں سے ایک جناح ہسپتال میں بھی نصب کیا گیا ہے۔ان جدید طبی روبوٹ کی مالیت کروڑوں روپے میں ہے، جب کہ امریکا جیسے ممالک میں ان کے ذریعے کینسر کے مریضوں کی سرجری 50 سے 90 ہزار ڈالر یعنی پاکستانی 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ میں ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ علاج مفت ہو رہا ہے۔

ایک غزوے میں حضور اکرم ﷺ کا ہاتھ لگنے کے بعد 21 کھجوریں کتنے سو افراد نے کھا لیں؟

ایک غزوے میں حضور اکرم ﷺ کا ہاتھ لگنے کے بعد 21 کھجوریں کتنے سو افراد نے کھا لیں؟
جمعہ‬‮ 30 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 11:45
دلائل النبوۃ میں امام بیہقی رحمہ اللہ نے ایک روایت کو نقل کیا ہے ، جو سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ایک غزوہ میں تھے، آپ صلی اللہ عیہ وسلم کو کھانے کی ضرورت محسوس ہوئی،تو پوچھا : اے ابو ھریرہ ! تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے ؟ میں نے جواب دیا : میرے پاس توشہ

دان میں کچھ کھجوریں موجود ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لاؤ میں توشہ دان لایا تو آپصلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا : چمڑے

کا فرش لاؤ میں نے چمڑے کا فرش بچھا دیا آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور کھجوروں کواپنے ہاتھ میں لیا جن کی تعداد اکیس تھی، پھر آپ صلی اللہ عیہ وسلم ہر ایک کھجور زمین پر رکھتے رہے اور بسم اللہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آخری کھجورپر بھی ایسے ہی بسم اللہ پڑھا اور کھجوروں کو جمع کر کے فرمایا : فلاں اور اس کے ساتھیوں کو بلاؤ انہوں نے آکر کھایا اور

آسودہ ہو کر نکل گئے پھر آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا : فلاں اور اس کے ساتھیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے آسودہ ہو کھایا اور چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فلاں اور اس کے ساتھیوں کو بلاؤ انہوں نے بھی آسودہ ہو کر کھایا اور چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فلاں اور اس کے ساتھیوں کو بلاؤ )اس کے بعد بھی(کھجور بچ گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جاؤ ؛؛ میں بیٹھ گیا پھر ہم دونوں نے کھایا غرض سینکڑوں لوگ کھجوریں کھا گئے اور

ایک کھجور باقی رہ گئی تو میں نے اپنا توشہ دان رکھ لیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ھریرہ جب کھانے کو دل کرے تو اپنا ہاتھ داخل کر کے )ضرورت کے مطابق ( لے لینا اور اسے مت پلٹنا ورنہ وہ تم پر پلٹ جائے گا سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی کھجور کھانےکا ارداہ کرتا تو اپنا ہاتھ توشہ دان میں داخل کرتا، میں نے اللہ کی راہ میںاس میں سے پچاس وسق کھجور دی وہ توشہ دان میرے کجاوے کے پیچھے لٹکا رہتا تھا لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ کی شہادت ہوئی تو وہ توشہ دان کھو گیا۔

شنیرا اکرم کو سبزیوں کانام لینے میں مشکل کاسامنا

شنیرا اکرم کو سبزیوں کانام لینے میں مشکل کاسامنا
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:24
یوں تو ہم اکثر اپنی روزمرہ بات چیت میں درجنوں بار سبزیوں کے ناموں کاعام استعمال کرتے ہیں تاہم گوروں کے لئے یہ کسی امتحان سے کم نہیں ۔جی ہاں آج کل سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ ویڈیو نے دھوم مچائی ہوئی ہے جس نے وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم اُردوزبان میں سبزیوں کے نام بوجھنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔اس

ویڈیو میں جارج نامی برطانوی شخص اور شنیرا اکرم کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ ہو رہا ہے جس میں دونوں سب سے زیادہ سبزیوں کے نام اردو میں دہرانے اور اس کے معنی

بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹماٹر ، بینگن ، لوکی ، کھیرا، کدو ، کریلا، گاجر، پالک اور گوبھی سمیت کئی سبزیوں کے نام اور ادائیگی تک سننے والے اپنی ہنسی روکنے میں ناکام دکھائی دئیے تاہم مقابلہ تو دل نا تواں نے خوب کیا۔

عدنان سمیع نے وزن کیسے کم کیا؟

عدنان سمیع نے وزن کیسے کم کیا؟
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:20
پاکستانی نژاد بھارتی گلوکار عدنان سمیع کا سال 2000 میں ریلیز ہونے والا گانا ’مجھ کوبھی تولفٹ کرادے‘ اور اُس پر ان کا مذاحیہ رقص آج بھی لوگوں کو نہ صرف یاد ہے بلکہ بے حد پسند بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے اس گانے نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا جس کے بعد ان کے کئی مشہور گانے ان کی پہچان بن گئےاور نا صرف ان

کے گانے بلکہ عدنان سمیع کا ’چببے لک‘ یعنی موٹاپابھی ان کی پہچان بن گیا۔شائقین عدنان سمیع کو ’موٹا‘ دیکھنے کے عادی ہوگئےاور جب انہیں اسی طرح پسند کرنے

لگے تو یہ خبر وائرل ہوئی کہ عدنان سمیع کچھ عرصے کے لیے گلوکاری کی دنیا کو خیر آباد کہہ رہے ہیں جس کی وجہ ان کا اپنے وزن میں کمی لانا ہےاور پھر سال2005 سے 2017 تک مسلسل محنت کے بعد وہ تقریباً 145 کلو وزن کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔2005 میں موسیقی کی دنیا سے دور جانے کے بعد جب وہ واپس آئے تو کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکا

کیونکہ اُن کے وزن میں کافی حد تک کمی آچکی تھی۔ آہستہ آہستہ ان کے جسم میں مزید تبدیلی آتی چلی گئی اور 2017 میں وہ 220 کلو سے 65 کلو پر آگئے تھےجو کہ اُن کے لیے ایک بہت بڑی ’اچیوومنٹ‘ تھی۔گزشتہ ماہ ’بالی ووڈ ہنگامہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عدنان سمیع جذباتی ہوگئے انہوں نے کہا کہ’ اگر آپ موٹے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس دل نہیں ہے، میں موٹے جسم کےساتھ اسکرین پر آیا اور لوگوں کے دل میں جگہ بھی بنائی جبکہ میری جگہ کوئی اورہوتا تو شایدکبھی بھی ایسا نہیں کر پاتا،

لیکن اس کے باوجود مجھےاپنے موٹاپے کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کیونکہ اس کے باعث لوگ مجھے اُس طرح سے پسند نہیں کرتے جس طرح سے پسند کیے جانا چائیے۔ ‘زندگی اور موت کا معاملہ:ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی لانا تو ٹھیک ہے لیکن اس حد تک وزن میں کمی انسان کے لیے خطرے کاباعث بھی بن سکتی ہے لیکن عدنان سمیع نے اس خطرے کی پرواہ کیے بغیر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ انہوں نے2005 میں سرجری کروائی جس کے بعد انہیں 3 مہینے تک مکمل طور پر آرام کرنے کے لیے کہا گیاتھا ،

یہی سرجری اُن کے وزن میں کمی لانے میں اہم وجہ بنی۔عدنان سمیع نے بتایا کہ بہت زیادہ وزن ہونے کے سبب انہیں سانس لینے میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹروں نے انہیں یہ تک کہہ دیا کہ آپ ’چھ مہینوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔‘ اس کے بعد انہوں نے امریکی شہر ’ہیوسٹن‘ کارخ کیا اور وہاں سے انہوں نے اپنے ’ویٹ لوس‘ سفرکا آغاز کیا جس میں ان کے اہلخانہ اور قریبی ساتھیوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

عدنان سمیع نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ بچپن سے ہی موٹاپےکا شکار نہیں تھے بلکہ وہ اپنے اسکول کے زمانےمیں ’اسکواش اور پولو‘ کے بہترین کھلاڑی تھے۔ پھر انہوں نےمیٹھی اور چکنائی والی اشیا ءکھانا شروع کردیں جس سے اُن کا وزن بڑھتا چلا گیا۔ڈائٹ پلان:عدنان سمیع کے وزن میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ ان کا ڈائٹ پلان بھی ہے۔ اپنے وزن میں کمی کے سلسلے میں انہوں نے ماہر غذائیت سے رابطہ کیا جنہوں نے عدنان سمیع کو ’لو کیلوری ڈائٹ پلان ‘بنا کر دیا،جس کے تحت انہیں سفید اُبلے چاول، ڈبل روٹی، چکنائی والے کھانے، جنک فوڈ اور دیگر وزن بڑھانے والےکھانے کھانا سختی سے منع تھا۔

وہ صرف سلاد، مچھلی اور بھنی ہوئی دال پر گزارا کرنے لگےتھے اور روزانہ اُن کے دن کا آغاز بغیر چینی کی چائےسے ہوتا تھا۔ انہوں نے چاول اور روٹی کو مکمل طور پر چھوڑ دیا تھا، انہیں صرف اتنی اجازت تھی کہ وہ شام کے وقت گھر کے بنے پاپ کارن (مکھن اور نمک کے بغیر) کھا سکتے ہیں ۔وزن میں کمی لانے کے لیے عدنان سمیع کا ’ورک آوٹ‘:اس میں کوئی شک نہیں کہ عدنان سمیع نےاپنے وزن میں کمی لانے کے لیے دن رات محنت کی ۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں جم جانے سے بلکل منع کیا ہوا تھا

کیونکہ مشینیں استعمال کے باعث اُنہیں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ تھا۔جس کے بعد انہوں نے فٹنس ماہر سے رجوع کیا اور انہوں نے عدنان سمیع کو ایک ورزش پلان بنا کر دیا جس نے ان کے وزن میں کمی لانے میں بہت مدد کی۔ورزش پلان کے ذریعےسے انہوں نے ہر مہینے اپنا10 کلو وزن کم کیا اور نہ صرف یہ بلکہ ان کی مدافعتی قوت بڑھنے لگی اور انہیں چلنے پھرنےمیں آنے والی تکلیف سے بھی نجات مل گئی

لفٹ میں آئینہ کیوں لگایا جاتا ہے؟ وجہ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں

لفٹ میں آئینہ کیوں لگایا جاتا ہے؟ وجہ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 13:17
ماضی میں دن بدن عمارتوں کی بلندی میں اضافے کے ساتھ سیڑھیوں کا استعمال مشکل ہوگیاتھا ۔ بیمار افراد تو خاص طور پر چند منزلوں سے اوپر نہیں جا سکتے۔ ایسے میں لفٹ کی ضرورت بڑھ گئی ۔ انسان کی زندگی کو آسان بنانے والی بہترین ایجادات میں لفٹ بھی شامل ہے۔انجینئرز نے لفٹ کے ساتھ بہت سے تجربات کیے ہیں، جس

کی وجہ سے یہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی رہی ہے۔لفٹ میں موسیقی یا آئینہ نصب کرنا بھی انجینئرز کی ایک حکمت عملی ہے۔لفٹ میں آئینے کو میک اپ چیک کرنے یا سیلفی لینے

کے لیے نہیں لگایا گیا۔ اس میں آئینے کی تنصیب کی کہانی کچھ مختلف ہے۔جب لفٹ ایجاد ہوئی تھی تو اس میں آئینے نہیں تھے۔

ایسے میں لفٹ میں کھڑے افراد خلاؤں میں تکتے رہتے یا بے حس و حرکت کھڑے رہتے ۔ جب لفٹ میں کھڑے ان افراد کو بظاہر کرنے کو کچھ کام نہیں ہوتا تو ان کے ذہن میں لفٹ کے گرنے کے خیالات آتے رہتے اور وہ خوفزدہ ہوجاتے۔لوگوں کے خوف پر قابو پانے کے لیے انجینئرز نے لفٹ میں آئینہ لگا دیا۔ اس آئینے نے لوگوں کی توجہ لفٹ کے گرنے کے خوف سے ہٹا کر آئینے میں خود کو دیکھنے پر مرکوز لگادی۔

اس کے علاوہ لفٹ میں سوار افراد ایک چھوٹے سے باکس نما کمرے میں کھڑے ہونے پر خود کو محصور تصور کرتے۔ آئینے لوگوں کا یہ محصوری خوف بھی دور کرتے ہیں۔ آئینے لفٹ میں ایک واہمہ بنا دیتے ہیں، جس سے لفٹ کافی چوڑی لگتی ہے۔اگلی بار جب آپ لفٹ میں آئینے میں اپنا میک اپ درست کریں، اپنے بال سنواریں یا سیلفی لیں تو یاد رکھیے گا کہ یہ آئینے اس کام کے لیے نہیں ہیں بلکہ آپ ان آئینوں سے یہ اضافی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب

جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:29
جاپان میں اب باپ بھی کرائے پر دستیاب ہیں، ایک خاتون نے اپنی بیٹی کو باپ کے رشتے سے آشنا کروانے کیلئے ایک شخص کو کرائے پر رکھا ہے جو بچی کے والد کا کردار بخوبی نبھاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق چھوٹی بچی میگمی کے والدین کے درمیان اس وقت علیحدگی ہوگئی تھی جب وہ شیرخوار تھی۔ جب اسے بولنا آیا تو وہ روز

اپنے والد کے بارے میں پوچھتی تھی۔ اس کے بعد جب میگمی نے سکول جانا شروع کیا تو اس کا رویہ بالکل بدل گیا اور اس نے والدہ سے بات کرنا بھی بند کردی۔

اس کی وجہ یہ تھی سکول میں سب بچے اس کے والد کا پوچھتے جس کا بچی کو شدید قلق تھا اور وہ خود کو اس کا ذمے دار ٹھہراتی تھی۔اس کے بعد بچی کی ماں اساکو نے جاپانی ویب سائٹ سے رابطہ کیا جو ایسے جعلی عزیز اور رشتے دار، دوست اور شادی کے مہمان فراہم کرتے ہیں

جو اصل میں فنکار ہوتے ہیں۔ یہاں سے بچی کی ماں کو ایک فنکار تاکاشی مل گیا جسے باپ بننے پر ملکہ حاصل تھا اور اس کے لیے وہ ہالی وڈ فلمیں دیکھنے کے علاوہ ماہرینِ نفسیات سے تربیت بھی لے چکا تھا۔ اساکو نے تاکاشی کو بچی کے والد کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب دوبارہ شادی کرچکے ہیں لیکن خاتون نے دو شرطیں عائد کی تھیں کو اول یہ کہ وہ کسی طرح بچی کو بتائے کہ اب تک اس سے دور کیوں تھا

اور دوم جو کچھ اس کی بچی اپنے فرضی والد سے کہے وہ اسے یعنی اس کی ماں کو ضرور بتایا جائے۔یہاں تاکاشی نے اپنا نام یاماڈا رکھا اور بچی کے سامنے آیا جسے دیکھ کر پہلے تو وہ کچھ پریشان ہوئی اور اس کے بعد اس نے فنکار کو اپنے والد کے طور پر قبول کرلیا۔ اب وہ مہینے میں دو مرتبہ اسوکا کے گھر جاتا ہے اور بچی کو لے کر باہر جاتا ہے اور اس کے ساتھ کھیلتا ہے۔

اب یہ بچی دھیرے دھیرے نارمل ہورہی ہے اور سکول جانا بھی شروع کردیا ہے۔ اس کے بدلے اسوکا فنکار کو ایک دن کا معاوضہ 90 ڈالر میں ادا کرتی ہے۔تاہم عوام نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے بچی کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔ ان دونوں کے درمیان اب گہرا رابطہ ہوچکا ہے لیکن یاماڈا کا اس خاندان سے رابطہ محض آجر اور اجیر کا بن چکا ہے۔

یہ کردار اسے اس وقت تک نبھانا ہے جب تک بچی شادی کے قابل نہیں ہوجاتی اور اسی وجہ سے والدہ نے اسے 10 برس کے لیے بک کیا ہے لیکن شاید یاماڈا کو بچی کے بچوں کا نانا بھی بننا پڑے گا۔ واضح رہے صیغہ راز کی خاطر اس کہانی میں اصل نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

چند دلچسپ باتیں

چند دلچسپ باتیں
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 20:04
۱. بھوری آنکھوں والے لوگ زیادہ تر ایماندار،دوسروں کو جج نہ کرنے والے اور بھروسے کے لائق ہوتے ہیں۔۔۲. زیادہ تر ذہین لوگوں کی لکھائی بہت زیادہ بری ہوتی ہے کیوں کہ وہ جلدی جلدی سوچتے ہیں اور اپنے خیالات کو جلدی جلدی کاغذ پر اتارتے ہیں۔۳. سائیکالوجی کی تحقیق کے مطابق اگر آپ ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ دوسرے میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے تو آپ کبھی خوش نہیں رہ سکتے ۔۔۔۴. چوراسی فیصد لوگ بے خیالی میں اکثر وہی گانا گنگناتے ہیں جس گانے سے انھیں نفرت ہو۔۵. امریکہ میں ایک

style=”text-align: right;”>لاکھ پندرہ ہزار دربان،تراسی ہزار بار ٹینڈر،تین لاکھ تئیس ہزار ویٹر اور اسی ہزار ٹرک ڈرائیور رجسٹر ہیں یہ سب وہ لوگ ہیں جو کالج پاس ہیں اور بیچلر کی ڈگری رکھتے ہیں۔۔ . کاکروچ ہم انسانوں کے بارے بالکل وہی سوچتے کے بارے بالکل وہی سوچتے ہیں جو ہم انکے بارے سوچتے ہیں۔۔جیسے ہی کاکروچ کسی انسان سے ٹچ ہوتے ہیں یہ بھاگ کر خود کو چھپا لیتے ہیں اور جلدی جلدی اپنا جسم صاف کرتے ہیں۔۔۔۔۷. تحقیق کے مطابق زندگی میں بہترین چیزیں اسی وقت ملتی ہیں جب آپ کو ان کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔۔۸. زیادہ تر لوگ دن کی نسبت رات کے وقت روتے ہیں کیوں کہ نیند کی کمی کی وجہ سے جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۹

. رات کو سونے سے پہلے آخری شخص جو آپ کے دماغ میں آیا وہی آپ کی خوشی یا غم کی وجہ ہے۔۔۔۱۰. اسی فیصد لوگ اپنی فیلنگز صرف خود تک محدود رکھتے ہیں کیوں کہ انھیں لگتا ہے لوگ ان کی فیلنگز کو نہیں سمجھ سکیں گے۔۱۱. اوور تھنکنگ یعنی حد سے زیادہ سوچنا ڈر کی ایک قسم ہے یہ عمل اس وقت مزید خطرناک بن جاتا ہے جب آپ اس میں پرانی یادیں،مستقبل کی پیش گوئیاں اور جذبات شامل کر دیتے ہیں۔