سٹریس یا ذہنی دباؤ سیکس لائف پر برے اثرات ڈالتا ہے

سٹریس یا ذہنی دباؤ سیکس لائف پر برے اثرات ڈالتا ہے
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:12
بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کی ہیلن ٹامس کہتی ہیں کہ بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو نے ایک سروے کے دوران 2,066 بالغ افراد سے ان کے جسمانی رجحانات اور تعلقات کے بارے میں سوالات پوچھے۔اس سروے میں خواب گاہ میں درپیش مسائل میں ذہنی دباؤ سے بڑا مسئلہ (فیصد) بن کر سامنے آیا۔نفسیاتی علاج کے ادارے، ریلیٹ، کی

اِلین بریڈی کہتی ہیں: ‘ہمارے پاس زیادہ تر آنے والے افراد اضطراب کا شکار ہوتے ہیں۔ اضطراب اور جسمانی اشتہا ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتے۔’سروے میں شامل افراد نے ان کی جسمانی صحت پر برے اثرات

اثرات ڈالنے والے جن دوسرے عوامل کی نشاندہی کی ان میں جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل اور بچوں کی موجودگی شامل ہے۔جبکہ دس فیصد افراد نے سوشل میڈیا کو بھی اپنی جسمانی زندگی کے لیے مسئلہ قرار دیا۔تاہم مِس بریڈی کا کنا ہے کہ غالباً مسئلہ اس سے زیادہ گمبھیر ہے۔‘

جوڑوں کے درمیان بنیادی رابطے ہی کا فقدان ہے، وہ ایک دوسرے سے آنکھ تک نہیں ملاتے، نہ بات کرتے ہیں۔ اس لیے تعجب نہیں کہ ہم بستری میں انھیں مشکل پیش آتی ہے۔’سروے میں شامل افراد کی تقریباً آدھی تعداد نے کہا کہ وہ اپنی جسمانی زندگی سے مطمئن ہیں، ان میں سے 50 فیصد مرد اور 53 فیصد عورتیں تھیں تاہم 38 فیصد مردوں اور 25 فیصد عورتوں نے اپنی جسمانی زندگی کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا۔سروے کے مطابق 58 فیصد افراد اپنی جسمانی کارکردگی سے مطمئن تھے

۔سروے کے مطابق بے وفائی کے بارے میں مردوں اور عورتوں کی سوچ مختلف تھی۔تین چوتھائی عورتوں کا کہنا تھا کہ اپنے پارٹنر کے علاوہ کسی دوسری عورت سے انٹرنیٹ پر سیکس کی بات کرنا یا کسی اور کو چومنا بے وفائی کے زمرے میں آتا ہے۔ جبکہ مردوں کی صرف آدھی تعداد اسے بے وفائی سے تعبیر کرتی ہے۔برطانیہ میں دس میں سے نو افراد کا کہنا تھا کہ اپنے پارٹنر کے سوا کسی سے سیکس کرنا بے وفائی ہے جبکہ پانچ میں سے دو افراد کا خیال تھا کہ ایک پارٹنر کے ہوتے ہوئے ڈیٹنگ ایپس پر وقت گزارنا بھی بے وفائی کے مترادف ہے۔

جسمانی زندگی کو بہتر کیسے کیا جا سکتا ہے؟مِس بریڈی کہتی ہیں کہ اس کے لیے جسمانی تعلق کو پہلے معطل اور پھر دوبارہ شروع کرنا ہوگا۔ ‘سیکس بند کر دو کیونکہ سیکس کے نام پر آپ جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ تو سب غلط تھا۔ پہلے اس غلطی کو بھلانے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد پھر سے جذباتی قربت اور لگاؤ پیدا کریں۔

’مگر مشکل یہ ہے کہ عورتیں تو جذباتی قربت، اور بوس و کنار کی خواہش رکھتی ہیں مگر مرد جسمانی فعل کو ترجیح دیتے ہیں۔مگر مِس بریڈی کا کہنا ہے کہ ‘میرے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ مردوں کو یہ بات جلد ہی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ وہ بوس و کنار اور جذباتی لگاؤ چاہتے ہیں۔ اس طرح جسمانی فعل کے لیے حالات سازگار ہو جاتے ہیں

حرام کی کمائی

حرام کی کمائی
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:09
ﺟﺐ میں ﺍﭘﻨﮯ استاد ( شیخ ) کو اپنے بے روزگاری و تنگدستی کی شکایت سُنائی اور کچھ مشورہ طلب کیا تو ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ایک جگہ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﻗﯽ

ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ان سے ﺍﺱ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ : ﺗﻢ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ

ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ”ﺗﻢ ﺁﺝ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺟﺎﺅ ۔ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﮐﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ، ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ ‘ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ “ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﻮﺩﯼ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮔﯿﺎ،

ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻢ ﺍﺏ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﻗﻢ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﻭ ۔ﺁﭖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺧﻮﺏ ﺳﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﮐﻨﮉﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺳﻮﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﻮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﺑﺘﺎئی۔ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ :

ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﮯ۔ ﺣﺮﺍﻡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﮨﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ: ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﻣﯿﺮﮮ شیخ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎیا : ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺣﺮﺍﻡ 40 ﺩﻥ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺁﭖ ﺍﻥ 40 ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ،ﺁﭖ ﻏﯿﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ،ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ،ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﯽ،ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ؟ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ “ﺍﻧﮩﻮﮞ نے ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ :

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ریاضت ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺳﯿﮑﮭﺎ ، ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﻻ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﺗﺎﻻ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﮯ ﺣﻼﻝ ، ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺟﺎﺅ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ “۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ” ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ “ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ، ﺳﻨﻨﮯ ، ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے ایسے ہی حرام لقمہ گندی سوچ اور گناہ کو کھینچتا ہے۔

ﺁﭖ ﺍﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ،ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﮌ ﺩﮮ ﮔﺎ ، تباہ کردیگا ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ، بے قیمت کردیگا آپنے گھر میں آپنے پڑوس میں اور پورے دنیا میں پھر معاشرے میں آپ کی کوئی اہمیت ہی نہ رہیگی۔ اور آپ کے چہرے کی رونق ختم ہوجائیگی، سب سے خطرناک بات یہ ہوگی کہ دِل سخت ہوجائیگا، اور جِس کا دِل سخت ہوجاتا ہے پھر خیر کی بات اس کے دِل پر کبھی اثر ہی نہیں کرتی

خواتین پر شیطانی حملے

خواتین پر شیطانی حملے
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:06
ایک بہن نے دکھ بھرے لہجے میں ہمیں لکھا ہے کہ نماز پڑھنے اور تلاوت کرنے میں سارا دن شیطان اس پر حملہ کرتا ہے ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ آپ یقین کریں میرے پاس اسلامی بہنوں کے جتنے مسائل آتے ہیں ان میں اکثر کا خیال ہوتا ہے ان پریا ان کے گھر پریا ان کے گھر کے کسی فرد پر جنات کا سایہ ہے۔ عورتوں کے ان

تمام مسائل ، الجھنوں اور پریشانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے میں پہلے شیطان کے دام فریب کا شکار بنانے والے اسباب واضح کیا ہوں پھر

شیطانی حملوں سے بچنے کی چنداحتیاطی تدابیر ذکر کیا ہوں ،مجھے امید ہے کہ اگر اسلامی بہن شیطانی اسباب سے پرہیز کرے اور احتیاطی تدابیر کو اپنالے تو اللہ کے فضل وکرم سے شیطانی اثرات سے پاک گھر اورنہایت پاکیزہ ماحول ملے گا۔

بلاشبہ شیطان انسانوں کو گمراہ کرتا ہے اور گمراہی کی طرف لے جانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپناتا ہے مگرمکمل طور پرشیطان کو یہ الزام دینا کہ ہم اس کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتے یا تلاوت نہیں کرتے غلط ہے کیونکہ وہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر برائی کی طرف کھینچ کرنہیں لے جاتا بلکہ وہ ہمیں شیطانی وسوسے میں مبتلا کرتا ہے ، دل میں گندے خیالات ڈالتا ہے اور شر کے راستوں کی طرف چلنے میں روحانی فوائد ولذت اذہان میں پیوست کرتا ہے ، اس کے بعد انسان خود ہی برائی کا راستہ چن لیتا ہے۔

اللہ نے خیر اور شر دونوں واضح کر دیا ہے اور انسانوں کو خیر اور شرمیں تمیز کرنے کی صلاحیت دے کرانہیں اپنانے کا اختیار بھی دیا ہے یعنی انسان چاہے تو خیر کا راستہ اپنائے اور چاہے تو شر کا راستہ اپنائے ، اللہ کا فرمان ہے:إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا(الدهر:3)ترجمہ: ہم نے تو اسے راہ دکھائی تو اب وہ خواہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا۔گویا کوئی نماز چھوڑتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے چھوڑتا ہے ، اس میں اس کےارادہ اور اس کے عمل کا دخل ہے اسی لئے ترک نماز پہ اللہ نے جہنم کی وعید کا ذکر کیا ہے اور اگر کوئی نماز پڑھتا ہے تو اس میں بھی انسان کے ارادے اور عمل کا دخل ہے ۔

ارتکاب معاصی اور اجتناب خیر پہ محض شیطان کو اگر موردالزام ٹھہرایا جائے تو پھر گنہگار کو اللہ کا سزا دینا انصاف کے خلاف ٹھہرے گا ، اسے یکسو ہوکر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے ایسے سمجھیں کہ کوئی شرابی آدمی کہے کہ مجھےشراب مجبور کرتی ہے کہ پیو ، ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عقل ودانش والا اسے نہیں تسلیم کرے گا۔ اللہ نے انسان کو جو اختیار دیا ہے وہ خیروشرپرعمل کے لئے ، خیر کے راستے پر ہم کیسے چلیں اور کن باتوں سے خیر پر استقامت ہوگی اورکیسے شیطان کے شر سے محفوظ رہیں گے ؟

ہم سے اللہ اس کے رسول اللہ ﷺ نے کھول کھول کر بیان کردیا ۔ سراسر ہماری غلطیاں ہیں کہ ہم اللہ اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے دور ہوکر برائی کی طرف لے جانے والے اسباب اپناتے ہیں اس وجہ سے ہم پر شیطان کا حملہ آسان ہوجاتا ہے یا یوں کہیں کہ شیطان اپنے مکروفریب میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ہم اس کے دام فریب کا شکار ہوجاتے ہیں جس کے نتیجہ میں کفر ومعصیت کرتے ہیں اور عبادت سے غافل ہوجاتے ہیں ورنہ اللہ نے قرآن میں ذکر کردیا ہے کہ اس کے مخلص بندوں پر شیطان کبھی حاوی نہیں ہوگا۔

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ, إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (ص:82-83)ترجمہ:(ابلیس) کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقینا بہکا دوں گا بجز تیرے ان بندوں کے جو مخلص (چیدہ اور پسندیدہ) ہوں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ شیطان بنی آدم کا کھلا دشمن ہے،یہ جانتے ہوئےبھی ہم ہمیشہ اسے بہکانے اور ورغلانے کا پورا پورا موقع دیتے ہیں ۔ عورت کی مثال لے لیں جب گھر سے نکلتی ہے تو وہ تمام اسلحہ جات سے مصلح ہوتی ہےجو شیطان کے بہکانے اور حملہ کرنےکے کام آتا ہے ۔

عریاں لباس لگانا، خوشبو لگانا، دلفریب زینت اختیار کرنا ، زینت کی نمائش کرنا، جسم کے نشیب وفراز ظاہرکرنا، راہگیروں اور اجنبی مردوں کے سامنے ناز وادا دکھانا، بغیر محرم کے نکلنا، اجنبی سے خلوت کرنا، مردوں کے ساتھ اختلاط کرنا، دلنشیں انداز میں مردوں سے بات کرنا ، فلمی ہال جانا، بازاروں میں بلاضرورت گھومنا وغیرہ وغیرہ ۔ عورت جب گھروں میں ہو تو فلمیں دیکھنا، گانے سننا، عورتوں کے درمیان غیبت کرنا، جھگڑے لگانا،

عیب جوئی کرنا، گھروں میں جاندارتصویر لٹکانا، نماز کے لئے کام کاج اور بچوں کے بہانے بنانا اور سوتےجاگتے کبھی اللہ کا نام تک نہ لینا حتی کہ کھانے پینے میں بھی اللہ کو بھول جانا، سوتے وقت گانے سنتے ہوئے یا فلم دیکھتے ہوئے سونا، اجنبی مردوں(بشمول دیور) سے ہنسی مذاق کرنا، سوشل میڈیا کے ذریعہ غیروں سے لذت اندوز چیٹ اور فضول کاموں میں بلکہ اکثر برے کاموں میں قیمتی اوقات ضائع کرنا وغیرہ ۔ معلوم یہ ہوا کہ عورتیں خود ہی باہروں سے شیطان بلاکر گھروں میںآنے کی دعوت دیتی ہیں اور اپنی مرضی سے اس کا شکار بنتی ہیں ۔

ہم مسلمان ہیں ، اسلامی تعلیمات اپنی زندگی اور گھروسماج میں نافذ کریں، شیطان کبھی اپنے مکر میں کامیاب نہیں ہوگا، وہ جتنے ہتھکنڈے ہمارے خلاف اپنائے سوائے نامرادی کے کچھ اس کے ہاتھ نہیں لگے گا۔اوپرعورتوں کے متعلق جن داخلی وخارجی برائیوں کا ذکر کیا گیاہے وہ تمام او ر ان کے علاوہ جن میں آپ ملوث ہیں وہ بھی سبھی چھوڑ دیں اور گھر میں رہتے ہوئے اور باہر نکلتے ہوئے اسلامی احکام کی پاسداری کریں شیطان آپ کے قریب نہیں آئے گا وہ آپ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل لے گا۔

جی ہاں ، راستہ بدل لے گا۔ اب آپ کو شیطان سے بچنے کی چنداحتیاطی تدابیر بتلاتا ہوں ۔ (1) عورتوں میں ضعیف الاعقتادی بہت پائی جاتی ہیں ، انہیں اپنے اندرسے ختم کریں ۔ ہرمصیبت کو جنات سے جوڑتی ہیں اور اس کا حل تلاش کرنے کے لئے بے دین عاملوں اور گجیڑی باباؤں کے پاس جاتی ہیں ۔ اس کمزوری کو دور کریں اور نحوست لینا چھوڑ دیں ۔کپڑا گرگیا، پیسہ چوری ہوگیا،

سامان گم ہوگیا، بچہ بیمار ہوگیا، جانور مرگیا،شادی میں تاخیر ہورہی ہے،میاں بیوی میں جھگڑا ہورہاہے، ان سب چیزوں کو جنات سے جوڑا جاتا ہے ۔ یہ اعتقاد رکھیں کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ مصیبت اللہ کی طرف سے ہے یہ اعتقاد رکھتے ہوئے جسمانی بیماری ہو تو اس کا جائز علاج کرائیں یعنی ماہر طبیت سے دکھائیں اور گھروں کی پریشانی کودور کرنے کے لئے اللہ کی طرف رجوع کریں ،کثرت سے توبہ واستغفار کریں ، گھروں اور انسانی زندگی میں برکتوں والے اعمال کریں مگر ہرگز کسی کاہن،

جعلی پیروعامل کے پاس اپنی مصیبت لے کر نہ جائیں ۔ اسلام میں خود سے دم کرنا اور صالح انسان سے دم کروانا جائز ہے لہذا کسی آفت کے نزول پہ اولا خود سے ادعیہ ماثورہ کے ذریعہ دم کریں ،ٹھیک نہ ہونے پر صالح اور متقی انسان کے پاس جائیں ،پیشہ ور مکارعاملوں سے توبالکلیہ اجتناب کریں اور خدا را ! ہربات کو جنات سے نہ جوڑیں ، یہ ڈھونگی بابا لوگوں کو ڈرانے اور مال لوٹنے کے لئے ہرمشکل پہ کہتے ہیں آپ پر یا آپ کے گھر پر جنات کا سایہ ہے ۔

ایسے موقع سے اللہ کا فرمان یاد کرلیں کہ جو اس پربھروسہ کرلیتا اسے کسی چیز کا ڈر نہیں ، اللہ اس کے لئے کافی ہے:وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ(الطلاق:3)ترجمہ: اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے ۔اس لئے ضعیف الاعتقادی ختم کریں اور اپناعقیدہ صحیح کرتے ہوئے اللہ پر مکمل اعتماد بحال کریں ۔ (2)اپنے اندراللہ کا تقوی پیدا کریں ۔

اس وقت برائی گھرگھر اور چاروں طرف ہے ، ان سے دامن بچانا ہے ۔ شوہر کی غیرحاضری پہ اس کے مالوں کی حفاظت کے ساتھ اپنی عزت وآبرو کو بچانا ہے ۔آپ بڑی آسانی سے اس وقت برائی کے شکار ہوسکتی ہیں اس لئے اتنا ہی محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ آج انٹرنیٹ بھی ایک بڑی آزمائش ہے ، اس کا استعمال کرتے ہوئے اللہ کا خوف کھائیں بلکہ کم سے کم اس کا استعمال کریں ۔دل میں اللہ کا خوف ایسا ہو جو ہمیں عبادت کی طرف لائے اوربرائی سے بچائے ۔

اللہ تعالی ڈرنے والوں اور ڈرنے والیوں کے لئے آزمائش کے وقت نجات کا راستہ نکال دیتا ہے ۔ (3)اسلامی عقیدہ کی تعلیم لیکر اسے اپنے اندر جاگزیں کرنے کے بعد اللہ کا خوف کھاتے ہوئے اور رسول اللہ کی سنت کی اتباع کرتے ہوئےنماز کی پابندی اپنے وقتوں پرکرنانہایت ہی ضروری ہے ۔ خود بھی نماز پڑھیں ، بچوں کو بھی نماز پڑھائیں اورگھر کے مرد لوگ بھی نماز کی پابندی کریں یعنی ہمارا گھرنمازوتعلیم کی روشنی سے منور ہو۔ نماز سے ہمارے بڑے بڑے مسائل حل ہوتے ہیں۔

اللہ کی مدد ملتی ہے، دلوں کو سکون ملتا ہے، گھروں میں برکت نازل ہوتی ہے ، برائیوں سے تحفط فراہم ہوتا ہے اور شیطانی مکروفریب سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ (4) اذکار کی پابندی کی جائے ، نماز وں کے بعد اور صبح وشام کے اذکار پر ہمیشگی کریں، بچوں کو بھی اس کی تعلیم دیں اور غسل جنابت کی ضرورت ہو تو اس میں تاخیر نہ کریں ۔

ساتھ ہی جوان عورتوں کو ماہوار ی آتی ہے ، استخاضہ اور نفاس کا خون آتا ہے ، ان ایام میں دین سےکافی غفلت پیدا ہوجاتی ہے اور شیطان کو ورغلانے کا موقع مل جاتا ہے،وہ اس طرح کہ وہ خود کو نجس سمجھتے ہوئے زبان پر کئی روز تک اللہ کا نام تک نہیں لاتیں جبکہ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنا چاہئے اورکرسکتی ہیں حتی جنابت کے علاوہ حیض ونفاس میں دستانے سے پکڑ کر یابغیر چھوئےقرآن کی تلاوت بھی کرسکتی ہیں اور استحاضہ میں نماز ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔

صبح وشام اور نماز کے اذکار کے ساتھ سونے جاگنے، کھانے پینے، حمام میں داخل ہونے نکلنے ، کام کاج کرنے ، جماع کرنے ، اور نظر بد کی دعا کرنے کا اہتمام کریں ۔ (5)گھر میں خصوصی طورپرقرآن کی تلاوت کریں بطور خاص سورہ بقرہ ۔سونے کے وقت دیگرمسنو ن اذکار کے ساتھ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ، آیت الکرسی ،سورہ سجدہ، سورہ ملک ،سورہ اخلاص،سورہ افرون،معوذتین ، سورہ فاتحہ وغیرہ اور جمعہ کو سورہ کہف پڑھیں اور گھر میں نما ز پڑھتے وقت بدل بدل سورتیں پڑھا کریں ،اس سے گھروں کی حفاظت ہوگی اور شیطانی شرانگیزی سے بچ سکیں گے ۔

(6) ترجمہ وتفسیر کےساتھ قرآن پڑھنے کے لئے ایک وقت مقرر کرلیں اور قرآن کے علاوہ حدیث کا ترجمہ بھی تھورا تھوڑا پڑھا کریں، سیرت و احکام کا بھی مطالعہ کریں۔ یہ کام ایک دم آج ہی اور پورا دن اور پوری رات نہیں کرنی ہے، اپنی فرصت اور مناسب اوقات کے حساب سے کریں۔ جوں جوں علم زیادہ ہوگا دین پر عمل کرنے کا جذبہ بڑھتا جائے گااور بے دینی کی وجہ سے شر میں واقع ہونے کے خطرات کم ہوں گے اور شیطان کے جہالت آمیز دجل سے آپ بچ سکیں گی ۔

(7) گھرو ں میں جن چیزوں سے فرشتے نہیں آتے اور اللہ کی رحمتوں کا نزول بند ہوجاتا ہے انہیں گھر سے باہر نکالیں۔کتے، دیواروں پر آویزاں جاندار تصویر، موسیقی ، آلات لہوولعب اور کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی حرام چیزیں سب ترک کردیں۔ (8) بلاوجہ اور اکیلے خصوصا رات میں باہر نہ نکلیں اور بری جگہوں مثلا ناچ گانے، سنیما گھر ، بازار ، میلے ٹھیلے ، ہوٹلوں اور رقص گاہوں سے دور رہیں ۔سورج ڈوبنے کے بعد بچوں کو بھی گھر سے باہر نہ نکلنے دیں ۔ گھر سے باہر نکلنے پر فتنہ پیدا کرنے والے تمام اسباب سے بچیں مثلا بھڑکیلا لباس، خوشبو، بناؤسنگار، زینت کا اظہار وغیر ہ بلکہ اسلامی حجاب اپناتے ہوئے سادگی میں نکلیں اور اگر عازم سفر ہوں تو محرم کو ساتھ لیں۔

(9) گھر میں اسلامی ماحول بنانےکے ساتھ اپنے روابط نیک خواتین سے رکھیں ۔ فاحشہ ،بدگوئی کرنے والی، غیبت وچغلی کرنے والی، بدکردار ، عورتوں میں فتنہ وفساد پیدا کرنےوالی،ناچنے گانے والی،شراب وکباب میں مست، شوہروں کی نافرمان اورمکار عورتوں سے دور رہیں ۔ اگر ان کی اصلاح کرسکیں تو بہتر ہے ورنہ ان کی مجلسوں سے کوسوں دور رہیں ۔ ایسی عورتوں کی صحبت سے آپ پر برا اثر پڑے گا اور ان کا شر آپ کے گھر میں داخل ہوگا۔

(10) شیطان ہر لمحہ گھات لگاکربیٹھا ہے جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے اپنا وار کرنے میں نہیں چوکتااس لئے اس کے حملوں سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ طلب کریں ، بچوں کے لئے پناہ مانگیں اور گھر میں خیر وبرکت کے نزول کی دعائیں مانگیں ۔ دعامومن مرد وعورت کا ہتھیار ہے۔ دعا کے ذریعہ بڑی سے بڑی بلا ٹل جائے گی بشرطیکہ آپ کے اندر تقوی ہو ، اللہ کی حرام کردہ کاموں سے بچتی ہوں اور اس کے اوامرکی بجاآوری کرتی ہوں ۔آخری بات یہ ہے کہ شیطان انسان کو پریشان بھی کرتا ہے ، تکلیف بھی دیتا ہے اور نوجوان لڑکیوں کو طرح طرح سے ستاتا بھی ہے ، گھروالوں کو پریشان کرنے کے لئے گھر میں سکونت اختیار کرلیتا ہے ،

راتوں کو ڈراتا ہے اور گھر کے کسی فرد پر سوار بھی ہوتا ہے ۔یہاں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس شیطان کو اپنے گھر کس نے بلایااور اپنے اوپر سوار ہونے کا موقع کس نے دیا؟ خود ہم نےموقع دیا۔ اوپر ذکر کیا گیا ہےکہ خود کو شیطان سے کیسے محفوظ رکھیں اور گھرمیں شیطان کو داخل ہونے سے کیسے روکیں ؟ اگر ان باتوں کو عمل میں لائیں گی تو شیطان آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے پھر بھی وہ سب کو تکلیف نہیں دے سکتا ، سب کو سیدھے راستہ سے نہیں بھٹکا سکتا۔ اگر شیطان ہرکسی کو نقصان پہنچا سکتا اور نیکی کی راہ سے روک سکتا اور ہرکسی کو برائی کرنے پر مجبور کردیتا تو روئے زمین پر کوئی اللہ کا نام لیوا نہ بچتا ، سبھی سے برائیاں کرواتا ، سبھی کونقصان پہنچاتا۔اس نے توتمام انسان کو گمراہ کرنے کی قسم اٹھائی ہے اور دائیں بائیں اوپر نیچے تمام جہات سے اس کا مکرو فریب بھی ازل سے جاری ہے لیکن اللہ والے ہردور میں اس کی چال سے بچتے رہے ہیں اور قیامت تک بچتےرہیں گے ۔

انسان کی ہرپریشانی کو جنات سے جوڑ نےوالے عاملوں کی حقیقت جاننے کے لئے ایک بات بتادوں کہ نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ہرآدمی کے ساتھ ایک شیطان ہے خواہ وہ مرد ہو یاعورت ۔یہ جناتی عاملین صرف سایہ کی کیوں بات کرتے ہیں مکمل شیطان ہرکسی کے ساتھ ہے لیکن کیا ہرکسی کو نقصان پہنچاتا ہے ؟ نہیں ۔ اس لئے یہ جان لیں کہ ہرمصیبت اللہ کی طرف سے ہے ، کبھی مصیبت آزمائش ہوتی ہے تو کبھی اپنے گناہوں اور ہاتھوں کا کرتوت ہوتی ہے ۔ ایسے میں صبر کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے ۔

جسمانی بیماری ہوتواسے دفع کرنے کے جائز اسباب اپنانےسے اسلام ہمیں نہیں روکتا۔ اچھے اچھے طبیب سے مراجعہ کریں اور بہترسے بہتر علاج کرائیں ، اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کا علاج نہیں ہے ۔اوراگرآپ کو لگتا ہے کہ کوئی خاتون جسمانی مرض کا شکار نہیں

بلکہ واقعی اس پر جنات سوار ہوکر اسے پریشان کررہاہے توگھر والوں کو چاہئے کہ ایسے متقی اور نیک آدمی کے پاس جائیں قرآن اور صحیح دعاؤں کے ذریعہ علاج کرتے ہوں ۔ممکن ہے آپ کامریض جعلی پیر، نقلی بابا، بے دین عامل ، جادوگر اور کسی مزار پر جاکر ٹھیک ہوجائے مگر اس سے آپ کا ایمان وعمل ضائع ہوجائے گا۔ اسلام نے ہمیں جائز طریقے سے اور حلال دواؤں کے ذریعہ علاج کرنے کا حکم دیا ہے

گھبراہٹ کی وجوہات٬ علامات اور گھریلو علاج

گھبراہٹ کی وجوہات٬ علامات اور گھریلو علاج
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:54
گھبراہٹ ایک انسانی احساس ہےاور عموماً اس کا تجربہ انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی مشکل یا کڑے وقت سے گزرتا ہے۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا رہنا اور مسائل کا سامنا کرنا، یہ طریقہ کار عام طور پر خوف اور گھبراہٹ میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر یہ احساس شدید ہوجائے یا بہت عرصے تک رہے تو یہ انسان کو ان چیزوں سے

روک سکتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔گھبراہٹ کی وجوہات جسمانی اور دماغی دونو ں طور پر ہو سکتی

ہیں۔ اس کی بنا پر انسانی جسم مختلف تغیرات کی کیفیت سے دوچار ہو سکتا ہے، جن میں دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، جسم کا کانپنا جیسی علامات ہو سکتی ہیں ۔گھبراہٹ پر قابو پانا بظاہر آسان بات لگتی ہے لیکن گھبراہٹ کے وقت کوئی ترکیب کام نہیں آتی۔ انسان خود کو لاکھ سمجھائے لیکن جیسے ہی گھبراہٹ والی صورتحال کا سامنا ہو، ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں ۔

اس وقت ساری احتیاط دھری رہ جاتی ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ پورا جسم لرزنے لگتا ہے۔ہم میں سے کچھ لوگوں کی طبیعت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہر بات پہ پریشان رہتے ہیں۔ ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کیفیت وراثت میں بھی مل سکتی ہے۔ تاہم وہ لوگ بھی جو قدرتی طور پر ہر وقت پریشان نہ رہتے ہوں اگر ان پر بھی مستقل دباؤ پڑتا رہے تو وہ بھی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔کبھی کبھار گھبراہٹ کی وجہ بہت واضح ہوتی ہے اور جب مسئلہ حل ہوجائے تو گھبراہٹ بھی ختم ہوجاتی ہے۔

لیکن کچھ واقعات اور حالات اتنے تکلیف دہ اور خوفناک ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ واقعات کے ختم ہونے کے طویل عرصے بعد تک جاری رہتی ہے۔ یہ عام طور پر اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں جن میں انسان کی جان کو خطرہ ہو مثلاً کار یا ٹرین کے حادثات اور آگ وغیرہ۔ ان واقعات میں شامل افراد مہینوں یا سالوں تک گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار رہ سکتے ہیں چاہے خود انھیں کوئی جسمانی چوٹ نہ لگی ہو۔ کبھی کبھی نشہ آور اشیا کے استعمال کی وجہ سے بھی گھبراہٹ ہوسکتی ہے۔

حتیٰ کہ کافی میں موجود کیفین بھی ہم میں سے کچھ افراد کو تکلیف دہ حد تک گھبراہٹ کا شکار کرنے کے لیے کافی ہے۔تاہم دوسری طرف یہ واضح نہیں ہے کہ کوئی مخصوص شخص کیوں گھبراہٹ میں مبتلا ہوتا ہے ۔ اور یہ کہ کیوں اور کیسے یہ اس کی شخصیت ، اس پر گزرنے والے واقعات اور زندگی کی تبدیلیوں کے باعث ہوسکتا ہے۔بعض افراد بہت زیادہ دیر تک گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں، انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں گھبراہٹ کس وجہ سے ہو رہی ہے اور کیسے ختم ہوگی۔ ان حالات میں گھبراہٹ پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔گھبراہٹ کا شکار شخص ایسی ہر صورتحال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گھبراہٹ میں مبتلا کرسکتی ہو،

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت شدید سے شدید تر ہوتی جاتی ہے۔بعض اوقات اس کا نتیجہ جسمانی محسوسات میں شدت، بدترین حالات کی سوچوں، پریشانی اور اجتنابی رویے کی صورت میں نکلتا ہے جس سے زندگی متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔گھبراہٹ کی وجوہات کا جائزہ لیتے وقت جسمانی، نفسیاتی، سماجی عوامل کو بھی دھیان میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔گھبراہٹ کا علاج کرنے سے پہلے اس کی وجوہات اور ان عوامل کا جاننا بہت ضروری ہے

جو اس کی وجہ بن رہے ہیں۔جسمانی مسائل جیسے تھائیرائڈ، امراض قلب اور دیگر ہارمونز کے مسائل کی ترتیب وار جانچ، اور ان کے علاج کے بعد ہی گھبراہٹ کی وجوہات کی تشخیص کرنا اس کے علاج کا مؤثر طریقہ ہے۔دوا کے بغیر بھی گھبراہٹ سے محفوظ رہنے کے کئی طریقے موجود ہیں، جن میں ٹینشن کو کم کرنا، ورزش، سانس لینے کی مختلف مشقیں اور یوگا کرنا شامل ہیں۔ تھراپی اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ لینا بھی ایک مؤثر طریقہ ہے،

خاص طور پر ایسی تھراپی جس میں گفتگو کے ذریعے سوچ و خیالات کا زاویہ اور انداز تبدیل کیا جاتا ہے۔گھبراہٹ میں مبتلا کچھ افراد کے علاج میں ادویات کا استعمال بھی کیاجاسکتا ہے۔عام سکون بخش ادویات گھبراہٹ کو ختم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں تاہم اس بات کا خیال رہے کہ صرف چار ہفتوں کے باقاعدہ استعمال سے انسان ان کا عادی بن سکتا ہے اور جب لوگ انھیں چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں ناخوشگوار علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کافی عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں۔

گھبراہٹ کے لمبے عرصے کے علاج کے لیے ان ادویات کا استعمال مناسب نہیں ۔شہد دل کو تقویت دینے کے لئے اور گھبراہٹ کو رفع کرنے کے لیے سب سے بہترین ہے۔ اس سے دل کو طاقت ملتی ہے اور گھبراہٹ کی علامات دور ہوتی ہیں۔ اگر کبھی بے چینی اور گھبراہٹ زیادہ بڑھ جائے اور غنودگی اور بے ہوشی کا بھی ڈر ہوتو ایسے میں شہد دینے سے چند ہی منٹوں میں قوت اور طاقت محسوس ہوتی ہے اور گھبراہٹ میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔

سونے سے پہلے ایک گلاس گرم دودھ جسم کو سکون پہنچانے اور اعصاب کو ریلیکس کرنے کے لیے ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ جس کی بنیادی وجہ دودھ میں اینٹی آکسیڈینٹس کا وافر مقدار میں موجود ہونا ہے جن میں وٹامن B2 اور B12 کے ساتھ ساتھ پروٹین اور کیلشیم بھی شامل ہیں ۔ پروٹین لیکٹیم بلڈ پریشر کو کم کرکے جسم کو پرسکون بناتا ہے، جبکہ دودھ میں پوٹاشیم کی وجہ سے اعصابی تناؤ میں کمی ہوتی ہے اور اعصاب کو سکون پہنچتا ہے۔

بادام وٹامن B2 اور وٹامن E سے بھرپور ہوتے ہیں ،اور گھبراہٹ اور سٹریس کے دوران یہ دونوں اجزاء انسانی جسم کے حفاظتی نظام /امیون سسٹم کو زیادہ بہتر طریقہ سے کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ بادام کی نو سے گیارہ گریاں روزانہ کی خوراک میں شامل کریں اور آپ خود دیکھیں گے کہ کس طرح یہ آپ کے سٹریس لیول اور گھبراہٹ کی کیفیت کو بہتر کرتا ہے۔

سنترہ میں موجود وٹامن سی کی بڑی مقدار اسے گھبراہٹ اور سٹریس میں ایک انتہائی مفید عنصر بناتی ہے۔وٹامن سی بلند فشارِ خون اور سٹریس کی وجہ بننے والے ہارمون کورٹیسول Cortisol کے لیول کو کم کرنے کیے بہترین جانا جاتا ہے۔اسے استعمال کرنے کا سب سے بہترین طریقہ تازہ سنترہ چھیل کر کھانا ہے، بہتر ہے کہ آپ اس کو براہِ راست کھائیں ، اور اگر آپ اس کا جوس استعمال کرنے چاہیں تو اس میں کسی قسم کی چینی یا مٹھاس کو شامل کرنے سے گریز کریں

ذہنی دباؤ آپ کے لئے کیسے فائدہ مند ہوسکتا ہے؟

ذہنی دباؤ آپ کے لئے کیسے فائدہ مند ہوسکتا ہے؟
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:47
ذہنی دباؤ کے بارے میں ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ ہماری صحت کے لئے بالکل اچھا نہیں ہوتا، ذہنی دباؤ کے باعث کئی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔لیکن آج ہم آپ کو ذہنی دباؤ کے حوالے سے چند ایسے حقائق بتائیں گے، جن کو جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ ذہنی دباؤ ہماری صحت کے لئے اتنا فائدہ مند کیسے ہوسکتا ہے۔بین الاقوامی ویب سائٹ پر

شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عرصے تک رہنے والا ذہنی دباؤ آپ کو

فائدہ پہنچاتا ہے۔کم عرصے تک رہنے والے ذہنی دباؤ سے آپ کو کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، آئیے جانتے ہیں اس ویڈیو میں۔

عمران خان کے مشیر انیل مسرت کون ہیں؟

عمران خان کے مشیر انیل مسرت کون ہیں؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:54
انیل کا بچپن ورکنگ کلاس تارکین وطن کے بچوں کی طرح ہی تھا ہر سال والدہ کے آبائی شہر چنیوٹ اور والد کے آبائی شہر گوجرہ کا چکر لگانا اور یہاں آزاد اور پر امن ماحول میں گلیوں بازاروں میں گھومنا پھرنا اُن کے لیے روٹین تھا۔ سکول میں انیل کا دل نہیں لگتا تھا اسی لیے سکول سے ڈراپ آؤٹ ہو گئے اوپر سے افتاد یہ پڑی کہ والد

کا انتقال ہو گیا جس کے بعد انہیں لڑکپن میں ہی غم روزگار میں مبتلا ہونا پڑا۔تایا لانگ سائٹ کے علاقے میں ہی پراپرٹی کا کاروبار کرتے

تھے انہی سے بزنس کے پہلے گُر سیکھے اور ابتدا میں گھر کرائے پر چڑھانے شروع کیے۔ ان کے پرانے محلے دار کہتے ہیں کہ انیل کی کاروباری سوجھ بوجھ میں ایک بوڑھے رئیل اسٹیٹ بزنس مین کا اہم کردار ہے جس نے انیل کو اس کاروبار کی اونچ نیچ سکھائی۔

تربیت کا کمال تھا یا انیل کی ذاتی محنت، لڑکپن کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مانچسٹر سے شروع ہونے والا کاروبار اب پورے یورپ میں پھیل چکا ہے۔ مگر اتنی کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود انیل اب بھی 18 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کا عزم ہے کہ وہ ایک دن برطانیہ کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ گروپ بنائیں۔

سالہا سال کی محنت کے بعد جب انیل مسرت خوشحال ہوئے تو 2004 میں انہوں نے میاں نواز شریف، عمران خان اور دوسرے پاکستانیوں سے میل جول شروع کیا۔ تقریباً اسی زمانے میں انہوں نے بھارت کے فلمی ستاروں امیتابھ بچن، شاہ رخ ، سلمان خان اور انیل کپور اور سنیل سیٹھی کے ساتھ دوستی کی بنیاد ڈالی۔ کرکٹ اور فلم ان کے بچپن کے شوق ہیں عمران خان ان کا کرکٹر ہیرو ہے اور یوں لگتا ہے

کہ وہ 30 سال گزرنے کے باوجود اب بھی عمران خان کی کرشماتی شخصیت کے مداح ہیں۔بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے دیکھتے وہ اس کے بڑے ناموں سے مانوس ہوئے اور جب وہ دولت و مرتبہ کے ایک خاص مقام پر پہنچے تو اسی طلسماتی دنیا کے کرداروں سے کندھے ملانے میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ وہ بالی ووڈ کے ستاروں کے گھر ہی کا ایک فرد ہے۔انیل مسرت کی کامیابیوں کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں وہ برطانوی سیاست کے اہم ترین کرداروں کے بھی راز دار ہیں۔

وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ شری بلیئر نے سرمایہ کاری کرنی ہو تو وہ انیل سے مشورہ کرتے ہیں اور تو اور ڈیوڈ کیمرون سے بھی ان کی گاڑھی چھنتی ہے۔ یہ سب سے بڑے نام تو سویلین دنیا کے ہیں جن سے ان کی سماجی اور سیاسی مصروفیات کی وجہ سے راہ و رسم بڑھانا مشکل نہیں ہوتا لیکن انیل مسرت کی فتوحات تو فوج کے شعبے تک بھی ہیں۔ برطانوی افواج کے کمانڈر مسٹر نِک ہوں یا پاکستانی افواج کے کمانڈر جنرل باجوہ ان کا سب سے ملنا جُلنا اور سماجی راہ و رسم ہے

ان کے دائرۂ تعلقات میں تازہ اضافہ عدلیہ کے شعبے میں ہوا۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے بھی برطانیہ میں پہلا عشائیہ انیل مسرت ہی کے ساتھ کیا ۔ بظاہر کم گو مگر فوکسڈ انیل مسرت کے دائرۂ اثر کا اندازہ ان کے ملنے والوں کی فہرست سے بخوبی ہو سکتا ہے۔انیل مسرت کی طبیعت میں عاجزی ہے وہ بڑے بڑے دعوے نہیں کرتے۔ اپنی دولت کی شیخیاں نہیں بگھارتے۔

ان کے ذاتی دوست چند ہیں مگر ان کے ساتھ آؤٹنگ کرتے ہیں اپنے بھائی نبیل چودھری اپنی بہنوں بہنوئیوں، داماد، بیوی اور والدہ سمیت سب کو ساتھ ملا کر چلتے ہیں۔ برطانیہ میں رہنے کے باوجود اپنے خاندان کو مشترکہ خاندانی نظام کی طرح چلاتے ہیں بھائی نبیل چودھری کا رہن سہن امیروں والا ہے اس کی گرل فرینڈز کے قصے زبان زدِ عام رہتے ہیں انیل خاندان لندن کے مشہور اور مہنگے ترین لیڈی انا بیل کلب کا سرگرم رکن ہے ان کے اکثر فنکشنز وہیں ہوتے ہیں۔انیل مسرت کے ناقدین اکثر یہ الزام لگاتے ہیں

کہ انیل کو شریف خاندان نے سرمایہ کاری کے لیے پیسے دیے تھے۔ انیل نے اس میں کیا خرابی کی کہ شریف خاندان اور انیل مسرت میں دوریاں پیدا ہوگئیں؟انیل مسرت کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے اس کا شریف خاندان سے ملنا جلنا ضرور تھا مگر کبھی اکٹھے کاروبار نہیں کیا۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ دھرنے کے دوران انیل مسرت عمران خان کی سٹیج پر نظر آئے تو شریف برادران ناراض ہو گئے

اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انیل کو برطانوی وزیر اعظم سے مل کر یہ درخواست کرنا پڑی کہ انہیں خدشہ ہے کہ دورۂ پاکستان کے دوران شریف خاندان انہیں کسی جھوٹے مقدمے میں گرفتار نہ کر لے۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے یہ یقینی بنایا کہ انیل مسرت کو پاکستان میں کوئی گرفتار نہ کر سکے ۔ انیل دل و جان سے عمران خان کی کامیابی چاہتے ہیں اسی لیے وہ اپنے تجربات کا نچوڑ 50 لاکھ گھر بنانے کے منصوبے کی رہنمائی کر کے ملک پر نچھاور کرنا چاہتے ہیں۔

انیل مسرت ویسے تو مشینی انسان ہیں ہر وقت پراپرٹی کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں لیکن انسانی طور پر اپنے خاندان سے جڑے رہتے ہیں۔ ان کی اہلیہ شاہ محمود قریشی کے خاندان سے ہیں انیل اپنے اکلوتے بیٹے رافع کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں اور انہیں خوب سیر کرواتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔عمران خان سے وابستگی، اُن کی الیکشن مہم میں خرچہ کرنے اور پھر ہاؤسنگ پراجیکٹ کی مشاورت کی وجہ سے انیل مسرت پاکستانی سیاست میں متنازغ کردار بن کر سامنے آئے ہیں

چونکہ لوگ ان سے زیادہ واقف بھی نہیں اسیلیے پراسراریت کا ایک ہالہ بھی ان کے گرد قائم ہو گیا ہے۔دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا انیل مسرت بھی معین قریشی، شوکت عزیز یا کئی دوسرے تارکین وطن کی طرح کسی عہدے، ٹھیکے یا مال بنانے والے کسی پراجیکٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں یا پھر وہ واقعی اپنے بین الاقوامی کامیاب تجربوں کے نچوڑ سے پاکستانی ہاؤسنگ میں انقلاب لانا چاہتے ہیں؟توقع یہی کرنی چاہیے کہ انیل مسرت صرف اپنے تجربے اور شعور کو یہاں منتقل کریں کاروبار یا مالی مفاد کاسودا نہ کریں

وہ موجد جنہیں اپنی ایجادات پر شرمندگی ہوئی

وہ موجد جنہیں اپنی ایجادات پر شرمندگی ہوئی
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:34
دوسو برسوں میں جو سائنس کی دنیا نے ترقی کی وہ تاریخ ِ انسانی میں پہلے کبھی نہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔سائنسی ایجادات نے جہاں انسانوں کو بہت سہولیات سے نوازا وہیں ان کے مؤجدوں نے ان میں موجود خرافات دیکھ کر اس پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا۔ہم آپ کو بتاتے ہیں ایسے آٹھ موجدوں کے متعلق جنہیں اپنی کی گئی ایجاد پر

شرمندگی ہوئی۔وکٹر گروئین: شاپنگ مالمال کو در حقیقت دو مربعوں میں دوکانوں اور اسکولوں کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ان کی حالیہ شکل سے گروئینکو شدید نفرت تھی۔جان سِلوان: کے کپس ارب کے کپ جو

نہ گَل سکتے ہیں نہ سڑ سکتے ہیں، زمین دوز کردیے جاتےہیں۔ اس کے سبب سِلون کو شرمندگی محسوس ہوتی ہوگی۔اوروِل رائٹ: ہوائی جہاز کا معاون موجدائٹ نے ہوائی جہاز کو بطور ہتھیار نہیں سوچا تھا۔ ہوائی جہاز نے جو کردار دونوں جنگِ عظیموں میں ادا کیا اس نے رائٹ کو خوفزدہ کر دیا۔فِلو فارنزورتھ:

ٹیلی ویژندر اصل ٹیلی ویژن کامقصد تعلیمی تھا لیکن فارنزورتھ نے اِسے وقت ضائع کرنے والا آلہ پایا۔اینا جاروِز: مدرز ڈےنیک نیتی پر مبنی اور ماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے اس طریقہ کار کی خطرناک کمرشلائزیشن ہوجانے نے جاروِز کو آگ بگولہ کردیا۔میخائل کلاشنکوف: اے کے 47اے کے 47 کے سبب سالانہ ڈھائی لاکھ لوگ مارے جاتے ہیں۔ مرنے سے قبل کلاشنکوف نے لکھا کہ اس سب کا ذمہ دار وہ خود کو محسوس کرتا ہے۔

جے روبرٹ اوپنہیمر: آیٹم بمہینری ٹرومین سے 1945میں بات کرتے ہوئے اوپنہیمر نے اعتراف کیا کہ ‘صدر صاحب مجھے اپنے ہاتھوں میں خون محسوس ہوتا ہے۔’الفریڈ نوبل: ڈائنامائیٹنوبل نے امن انعام جس میں ان کا نام آتا ہے، اپنی مہلک ترین ایجاد، ڈائنامائیٹ ، کے احساس جرم کے

لیبیا کے بیرون ملک بنکوں میں پڑے اربوں ڈالرز سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟

لیبیا کے بیرون ملک بنکوں میں پڑے اربوں ڈالرز سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:31
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمراں مقتول کرنل معمر قذافی کے دورِ حکومت میں اربوں ڈالرز بیرون ملک بنکوں میں سرمایہ کاری یا دوسرے عنوانات سے جمع کرائے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قذافی حکومت کے خلاف 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک برپا ہونے کے بعد یہ تمام اثاثے منجمد

کردیے تھے۔لیکن کسی کو ان اثاثوں کی مالیت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا تاآنکہ بیلجیئم کے ایک بنک نے ان منجمد اثاثوں پر سود کی رقم جاری کی ہے اور اس سے اس یورپی ملک میں لیبیا

کی منجمد کی گئی اربوں ڈالرز کی رقوم کا بھی پتا چلا ہے۔لیبیا کی سرمایہ کاری کارپوریشن بیرون ملک ان اثاثوں کے انتظام کی ذمے دار ہے۔جریدے پولیٹکو کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک نے معمر قذافی کے منجمد اکاؤنٹس میں سے سود کی مد میں رقم ادا کی ہے۔

برسلز میں واقع ایک بنک ’’ یورو کلئیر‘‘ سے لیبیا کے ایک منجمد اکاؤنٹ سے سود کی مد میں رقم کی ادائی کے بعد سے بیلجیئم میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ یہ رقم کس کو ادا کی گئی ہے؟لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بیلجیئم سمیت پانچ یورپی ممالک اقوام متحدہ کی لیبیا پر ماضی میں عاید کردہ پابندیوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وہ اپنے بنکوں میں جمع شدہ رقوم کو اپنے استعمال میں لارہے ہیں اور انھوں نے اس کی تفصیل بھی نہیں بتائی کہ ان کی مالیت کیا ہے۔

جریدے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ ، بیلجیئم ، جرمنی ، اٹلی اور لکسمبرگ میں قذافی حکومت کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے ۔ان ممالک کے قانون کے مطابق منجمد کردہ رقوم پر سود یا حصص پر منافع منجمد نہیں ہوتا ہے اور صرف اصل رقم ہی اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نتیجے میں منجمد کی جاتی ہے۔بیلجیئم کے بنک ’’ یورو کلئیر‘‘ نے منجمد فنڈز پر سود کی رقم لیبیا کی سرمایہ کاری کارپوریش کے لکسمبرگ اور برطانیہ میں واقع بنک کھاتوں میں منتقل کی گئی ہے لیکن آج تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ رقم کس نے وصول کی ہے؟

لیبیا کے اس ادارے نے سودی رقوم کی وصولی کی تصدیق کی ہے لیکن اس نے اس کی کوئی دوٹوک وضاحت جاری نہیں کی ہے۔لیبیا کی سرکاری سرمایہ کاری کارپوریشن کے اکاؤنٹس میں 2011ء سے 2017ء تک ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کی رقم سود کی مدد میں منتقل کی گئی تھی۔ تاہم اس ادارے کے ایک سابق افسر علی الشامخ نے العربیہ سے گفتگو میں اس رقم کی منتقلی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود اس حوالے سے میڈیا میں رپورٹس دیکھی ہیں جس سے کسی ایک سوالات نے جنم لیا ہے۔

لیبیا کی پارلیمان کی مالیاتی کمیٹی کے ایک رکن عبدالسلام نیسیہ کا کہنا ہے : ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایشو رائے عامہ اور قومی سلامتی کا ایک معاملہ بن چکا ہے مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ بیلجیئم میں تو لیبیا کے ان فنڈز کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے لیکن اس رقم کے مالک نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔بالخصوص ایسی صورت حال میں جب ان فنڈز کے غلط استعمال کی بھی اطلاعات منظرعام پر آرہی ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا :’’ ہمیں یہ جاننے میں کوئی غرض نہیں کہ یہ فنڈز کیسے جاری کیے گئے تھے بلکہ ہمیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ اس رقم کو کیسے صرف کیا گیا ہے‘‘۔

انھوں نے لیبیا کے اٹارنی جنرل سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس رقم سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام سامنے لائے جاسکیں۔لیبیا کے ان فنڈز کو تو اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کے تحت منجمد کیا گیا تھا لیکن حال ہی میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ان رقوم سے بعض فریق قذافی حکومت کی ’’ مالیاتی سلطنت‘‘ سے ابھی تک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ان سے برطانیہ ایسے ملک نے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور اس نے اس رقم کو اینٹھنے کے لیے ازخود ہی ایک قانون جاری کردیا تھا جس کے تحت وہ لیبیا کے منجمد اثاثوں کو آئرش آرمی کی مسلح کارروائیوں سے متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کا جواز یہ تراشا گیا کہ معمر قذافی آئرش آرمی کی حمایت کرتے رہے تھے۔

لیبیا کے ایک ماہر معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کے بانی سلیمان الشاہونی نے بیرون ملک لیبیا کے منجمد اکاؤنٹس کے بارے میں بین الاقوامی جائزے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ لیبیا کے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے دستیاب ہوسکیں کیونکہ ان کے بہ قول لیبیا سرمایہ کاری کارپوریشن کے متنازعہ بیانات سے ایک ابہام پیدا ہوچکا ہے۔اس لیے اس تمام معاملے کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

کیا پاکستانی میڈیا اپنی قبر خود کھود رہا ہے؟

کیا پاکستانی میڈیا اپنی قبر خود کھود رہا ہے؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:51
پاکستان میں مرکزی دھارے کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا جس بحران میں گھرا ہوا ہے وہ اب شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔نامور شخصیات کے استعفوں اور برطرفیوں کی ایک لڑی کے بعد اب خبریں ہیں کہ کئی اشاعتیں جونیئر اسٹاف کو نکال رہی ہیں جبکہ کچھ کے بارے میں افواہیں ہیں کہ یہ مکمل طور پر بند ہو رہے ہیں۔ میڈیا کی صنعت میں کئی

لوگوں کے لیے ایک مستقل خوف یعنی تنخواہوں کے اجرا میں تاخیر گزشتہ چند ماہ سے اب مزید بڑھتی جارہی ہے۔اس زوال کے پیچھے کئی وجوہات ہیں اور مختلف جگہوں پر

ان پر تفصیل سے بات ہوچکی ہے۔ ریاستی سنسرشپ کے خدشات، حکومت کی جانب سے اشتہارات کا منتخب اجرا اور میڈیا مالکان کے خراب کاروباری رویوں نے مل کر اس بحران میں کردار ادا کیا ہے۔دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں مقامی صارفین کی مارکیٹ اور اس سے متعلقہ اشتہاری صنعت بظاہر اتنی بڑی نہیں کہ وہ کئی نجی میڈیا ہاؤسز کو سہارا دے سکے۔ چنانچہ حکومتی اشتہارات سے ریونیو اور میڈیا مالکان کے دیگر کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم اس مالیاتی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

پاکستان کے معاملے میں مسئلہ اس لیے بھی شدید ہے کیونکہ یہاں ٹی وی نیوز کے شعبے میں بہت زیادہ کھلاڑی ہیں جن میں سے کافی کا اس شعبے میں آنے کا فیصلہ ممکنہ طور پر میڈیا سے متعلق ارادوں کے سبب نہیں تھا۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا میڈیا مارکیٹ چوٹی کے اور گنے چنے چینلز/اخباروں میں تنخواہوں کے معقول تر اسٹرکچر کی صورت میں مختصر مدت میں خود کو درست کر پاتی ہے

یا پھر یہ کہ اس بحران سے مزید ‘ریگولیٹڈ’ (اور دباؤ کا شکار) میڈیا جنم لے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں ان رجحانات سے خبروں اور معلومات کے مستقبل اور عمومی طور پر ثقافتی پراڈکشن اور اس کی عوام میں طلب کے حوالے سے بڑے سوالات جنم لیتے ہیں۔دیگر تمام بحثوں کی طرح اس بحث کا بھی ابتدائی نکتہ پاکستان کی آبادی کے بارے میں حقائق (ڈیموگرافکس) اور اس کے 2 بنیادی ستونوں پر ہے:

نوجوان آبادی کا حجم اور شہروں کی جانب منتقلی۔پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے (29 فیصد آبادی 15 سے 29 سال عمر کی ہے) اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 40 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے اور یہی آبادی واقعتاً ملک کا مستقبل ہے۔مگر اس میں بھی کچھ شرائط ہیں۔ تمام شہری علاقے ایک جیسے نہیں ہیں اور لسانی و طبقاتی فرق کا مختلف ثقافتی پہلوؤں سے تعلق تو ہے

مگر مجموعی طور پر کئی حالیہ تحقیقات (مثلاً یو این ڈی پی کی نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ) نے دکھایا ہے کہ پاکستان بھر کے نوجوان ایک جیسے ہی خواب، ایک جیسی ہی امیدیں اور ایک جیسی ہی بے چینیاں رکھتے ہیں۔یہ نوجوان اور شہری آبادی (اور اس کے تمام اندرونی فرق اور تقسیمیں) پاکستانی میڈیا اور ثقافتی پراڈکشن کی صنعت کی اگلی مارکیٹ ہیں۔ اور ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ خبریں یا تفریحی مواد فروخت کرنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں یا نہیں۔

میرے پیشے کی مجبوری ہے کہ مجھے 18 سے 23 سال کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد (نسبتاً صاحبِ ثروت) سے میل جول رہتا ہے۔ میں ان سے خبروں اور تفریح کے ان کے بنیادی ذرائع کے متعلق ضرور پوچھتا ہوں۔ کوئی بھی شخص جو نوجوانوں کے اردگرد رہا ہے وہ جانتا ہے کہ ٹی وی اور اخبارات کا شاید ہی کبھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اخبارات بشمول اس اخبار کے کالم پڑھنے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹس شاید ان نوجوانوں سے زیادہ ہوں جو ان کالموں سے حادثاتی طور پر گزر جاتے ہیں۔

کسی اخبار کے صفحات پلٹ کر معلومات حاصل کرنے یا اکثر ہسٹیریائی حرکتیں کرنے والے نیوز اینکرز کے سامنے تجزیات و معلومات کے حصول کے لیے بیٹھنے کو اکثر اوقات قدیم اور بورنگ کہا جاتا ہے۔اور اگر بات ثقافتی مواد کی آئے تو ان نسلوں کا یہ فرق اور بھی زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی مارکیٹ بھی اب انٹرنیٹ پر موجود آن ڈیمانڈ انٹرنیٹمنٹ کے لامتناہی سلسلے سے محفوظ نہیں ہے۔ گھروں تک انٹرنیٹ کی کم دستیابی (اور سابقہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی کے ظلم و ستم) کے باوجود تیز تر سیلولر سروس کے بتدریج پھیلنے کی وجہ سے انٹرنیٹ کے ذریعے تفریح کا حصول

شہری زندگی کا ایک خاصہ عام حصہ بن چکا ہے۔ اب نوجوانوں کے لیے آن لائن اسٹریمنگ سروسز (ادائیگی یا پائیریسی کے ذریعے حاصل کی گئی) اور فیس بک و یوٹیوب ویڈیوز کو انٹرٹینمنٹ کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔رجحان میں اس تبدیلی کا تعلق آف لائن ثقافتی پراڈکشنز سے بھی ہے اور اب لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں تھیٹر، ایونٹس، یہاں تک کہ اسٹینڈ اپ کامیڈی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو نوجوانوں کی حساسیت اور ترجیحات کو بہتر طریقے سے تسکین پہنچا سکتے ہیں،

اور ان میں سے کوئی بھی فارمیٹ یا کوئی بھی مواد ہمارے مرکزی دھارے کے ٹی وی چینلز پر نظر نہیں آتا۔آبادی کے بڑے حصوں میں ثقافتی تبدیلیوں کا واضح فرق ہمارے ملک میں میڈیا کے مستقبل پر پڑے گا۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا معلومات اور تفریح کے لیے ذوق اور ترجیحات روایتی، سنجیدہ اور یوں مستقبل میں بھی آج کے مواد کو پسند کرنے والے بن جائیں گے یا نہیں۔ یہ تصور کہ نوجوان اپنے والدین جیسے بن جائیں گے درحقیقت نسلوں کے درمیان اس خلیج کی وسعت اور اس خلیج کے بڑھنے کی رفتار کو مدِ نظر نہیں رکھتا۔

یہ وقت 1980ء کی دہائی جیسا نہیں ہے جب کوئی پی ٹی وی پر 7 سال کی عمر میں کارٹون دیکھتا تھا اور پھر 15 سال بعد خبرنامہ دیکھنا شروع کر دیتا تھا۔کمرشل خدشات کے علاوہ ثقافتی مواد کی طلب کے واضح سیاسی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر خبروں اور تجزیات کا معیار بہت ہی ناہموار ہے اور جھوٹی خبروں یا فیک نیوز کی حقیقت لازماً نوجوانوں کی سیاست میں توجہ پر اثرانداز ہوتی ہے۔

خبروں کے روایتی ذرائع کے مستقبل کے بارے میں خدشات کے علاوہ نوجوانوں کے انٹرنیٹ پر سیاسی میل جول و گفتگو کے حوالے سے بھی خدشات ہیں جو اکثر غیر فلٹر شدہ، حقائق سے بالاتر اور انتہائی جانبدار ہوتے ہیں۔ چنانچہ آپ کس طرح ایسے ناظرین یا قارئین تیار کرسکتے ہیں جو حقیقت پسندانہ رپورٹنگ اور تجزیات پسند کریں اور پھر ان نوجوانوں تک اسی زبان اور انہی تکنیکوں کے استعمال کے ذریعے پہنچا جائے

جو ان کی ترجیح ہے اور جس سے وہ سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔اب جبکہ پاکستان میں میڈیا کے مستقبل کے بارے میں بحثیں زور پکڑ رہی ہیں تو یہ اور دیگر سوالات اہمیت کے حامل ہیں۔ قابلِ فہم ہے کہ میڈیا کی آزادی اور میڈیا کارکنان کے مالیاتی تحفظ پر ہماری سب سے زیادہ توجہ ہوگی۔ مگر شاید اس سے بھی زیادہ اہم یہ متوازی بحث شروع کرنا ہے کہ میڈیا اس وقت کس کے ذوق، ترجیحات اور دلچسپیوں کا تحفظ کر رہا ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ یہی مستقبل میں جا کر میڈیا کی قبر بن جائے؟

روتا ہوا کتا اور قہقہ لگاتے انسان!

روتا ہوا کتا اور قہقہ لگاتے انسان!
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:48
لوہاروں کے محلے میں پانی اب بھی گلی کے بیچوں بیچ سے گزر رہا تھا، اُس نے بچپن سے لے کر 23 سال تک اپنی عمر انہی گلیوں میں گزاری تھی اور یہاں سے گئے ابھی 2 سال ہی تو ہوئے تھے، 2 سال میں بھلا کتنا کچھ بدل سکتا تھا؟2 سال پہلے جب وہ رات کے وقت بانو کے ہمراہ یہاں سے بھاگا تھا تو بہت جلدی میں تھا، اسے ایسا لگتا

تھا کہ ہر دیوار میں سے کئی آنکھیں نکل آئی ہیں جو انہیں رات کے اندھیرے میں دیکھ رہی ہیں۔ راستے لمبے ہوگئے تھے

اور وہ بہت مشکل سے ریلوے اسٹیشن تک پہنچے تھے۔ اسے یاد آیا کہ اس رات وہ اتنا بدحواس تھا کہ پلیٹ فارم پر موجود ایک قُلی نے پان کی پیک پھینکی جو غلطی سے اُس کے کپڑوں پر آن گری تھی، قُلی گھبرا گیا تھا کہ ابھی یہ مجھ سے لڑے گا لیکن اُس رات تو اُن کے پاس لڑنے کا وقت بھی نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئے تھے اور کونے پر موجود ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ 15 منٹ بعد ہی ٹرین آگئی تھی لیکن وہ 15 منٹ 15 صدیاں بن کر گزرے تھے۔وہ لوہار تھا،

اُس کے آباؤ اجداد بھی اِسی پیشے سے وابستہ تھے۔ اس نے بھلا کب سوچا تھا کہ شیر افضل ٹھیکیدار کی بیٹی اس سے محبت کرنے لگے گی۔ لوہاری بازار میں سارا دن ٹھک ٹھک کی آواز گونجتی رہتی تھی لیکن رات کے اس پہر مکمل خاموشی تھی، اُس نے واپسی کے لیے بھی رات کا وقت مقرر کیا تھا تاکہ اُسے کم سے کم لوگ ملیں۔اگرچہ 2 سال پہلے اور اب کے حلیے میں بہت فرق تھا۔ اب اُس نے سر اور ڈاڑھی کے بال بڑھا لیے تھے اور سر پر سفید رنگ کا بڑا سا رومال پھیلا رکھا تھا جس سے آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا،

حلیے میں اتنی تبدیلی کے باوجود صلح ہونے سے پہلے وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔بائیں طرف چھوٹی سی گلی جارہی تھی وہ وہاں رکا کہ وہاں سے یادوں کا ایک ریلا سا بہتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔ اسی گلی کے آخر میں اُس کا 2 منزلہ گھر تھا۔ اوپر کی منزل پر بھائی رفیق اور ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور نیچے امّاں، ابّا اور اس کے چھوٹے بہن بھائی رہتے تھے۔ گھر کے اندر ہی دکان تھی، جس کا دروازہ باہر کی جانب کھلتا تھا۔ دکان کے دروازے کے ساتھ ایک پرانا لکڑی کا بینچ پڑا رہتا،

جس کی ایک ٹانگ کب کی ٹوٹ چکی تھی لیکن 5 اینٹیں رکھ کر اس کی کمی کو پورا کرلیا گیا تھا۔ سارا دن اس بینچ پر ابّا کے دوست حقہ پیتے اور سارے جہان کی باتیں کیا کرتے تھے۔’تو جب وہ وہاں سے بھاگا تھا تو اس کے بارے میں بھی بینچ پر موجود لوگوں نے باتیں کی ہوں گی؟‘’ابّا نے کیا جواب دیا ہوگا؟‘یہ سوچتے ہوئے اُسے ایک جھرجھری سی آگئی۔ اُس کی نگاہوں کے سامنے اُس کے ابّا کی خاموش نگاہیں گھوم سی گئیں۔ ابّا جو ہر موضوع پر بات کرنے اور رائے دینے کو اپنا حق سمجھتا تھا، اُس کے بارے میں بات کرتے ہوئے

یقیناً خاموش ہوگیا ہوگا۔لیکن میں اب واپس آگیا ہوں، صلح ہوجائے گی تو امّاں، ابّا سے بھی معافی مانگ لوں گا۔ وہ یہ سوچ کر اُس گلی میں نہ مڑا کہ اُس کی منزل سامنے کی گلی میں تھی۔بانو نے اس سے کہا تھا کہ وہ بھی ساتھ چلے گی لیکن وہ اُسے ساتھ نہ لایا۔’ابھی نہیں ابھی تو تمہارے بھائی کا فون آیا ہے، میں جاؤں گا بات کروں گا، صلح ہوجائے گی تو تمہیں اور بچے دونوں کو لے کرجاؤں گا بلکہ پھر تو ہم واپس گاؤں ہی لوٹ جائیں گے، وہی اپنا پرانا کام پھر سے کروں گا۔‘’بھائی کرامت ہے تو بڑا سخت، معلوم نہیں کیسے اُس کا جی پگھل گیا،

مجھ سے محبت بھی تو بہت کرتا تھا۔ جس رات ہم بھاگے تھے میں کہتی تھی ابّا جاگ گیا تو وہ مجھے شاید چھوڑ دے پر بھائی کرامت نے میرے ٹکڑے کرکے اپنے شکاری کتوں کے آگے ڈال دینے تھے۔ اس کی لاڈلی بھی تو بہت تھی نا۔ شہر جاتا تھا تو پراندے اور چوڑیوں کے ڈھیر لے آتا تھا۔‘ بانو نے کہا۔’بس وہی محبت پھر جاگ اُٹھی ہے، آدمی محبت تو پھر بھی ساری عمر کرسکتا ہے، ساری عمر نفرت کی بھٹی جلائے رکھنا کوئی آسان کام تھوڑی ہے۔ کرامت کی آگ بھی ٹھنڈی ہوگئی ہوگی، بس تم میرا انتظار کرنا،‘

اُس نے بانو کو سمجھاتے ہوئے کہا۔وہ ایک دفتر میں آفس بوائے کے طور پر کام کرتا تھا، ایک دوست نے ایک کمرے کا مکان کرائے پر لے دیا تھا، جیسے تیسے کرکے زندگی کی گاڑی کھینچ رہے تھے۔ ان 2 سالوں میں وہ ایک بچے کا باپ بن گیا تھا لیکن اُس نے مُڑ کر گاؤں میں کسی سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ معلوم نہیں لوگ اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے یہ خیال اُسے اکثر آتا۔کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ اُس روز بے تحاشا گرمی تھی اور بجلی بھی کئی گھنٹوں سے لاپتہ تھی۔ وہ کئی کئی بار ایک کپڑا گیلا کرکے سر پہ باندھ لیتا لیکن پھر بھی کام کرنا مشکل ہوگیا تھا وہ دوپہر کو باہر نکلا کہ چوک سے گنے کا رس پی لے،

وہیں چوک پر جب وہ گنے کا رس پی رہا تھا تو کسی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،’اشرف یہ تم ہو؟‘ ایک آواز آئی۔اُس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا، وہ اجنبی کو پہچان نہیں پایا۔’کون۔۔۔۔؟‘ اُس نے غور کیا یہ چہرہ کہیں دیکھا ہوا تو تھا۔’کمال ہے تم مجھے بھول گئے، گاؤں کی گلیاں بھی بھول گئے کیا؟ میں سرفراز ہوں یار۔’اوہ سرفراز یاد آیا چچا گلفراز کے بیٹے، بس یار وہ گرمی اتنی ہے کہ دماغ کام نہیں کررہا۔‘’تو تم یہاں رہتے ہو؟ سرفراز نے کہا۔’نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ ہاں‘ اُس نے گھبرا کر جواب دیا،

اُسے معلوم تھا کہ سرفراز کرامت کا بڑا جگری دوست ہے، کہیں کوئی مصیبت نہ کھڑی کردے۔’اوئے اشرف گھبرا نہیں، مجھے اپنا بھائی سمجھ۔ کرامت کو بھی میں سمجھا دوں گا، تمہارے جانے کے بعد تو وہ بالکل ٹوٹ گیا تھا۔ کہتا تھا ایک ہی بہن تھی اس کی شادی بھی مرضی سے نہ کرسکا۔‘’وہ مجھے افسوس ہے کہ۔۔۔‘’او کوئی نہیں یار جوان آدمی ہو ہوجاتی ہے محبت کیا ہوگیا ہے۔ ابھی میں جلدی میں ہوں ایک کام کے سلسلے میں کچہری آیا تھا، شام تک واپس جانا ہے، تُو اپنا نمبر دے میں فون کروں گا تمہیں اور پریشان نہیں ہونا،

کرتے ہیں تمہارے سارے مسئلے حل۔ یہ شہر میں یوں کب تک چھپ چھپ کر جیو گے؟‘ سرفراز نے اُسے حوصلہ دیا۔اشرف نے کچھ نہ سمجھ آتے ہوئے اپنا نمبر اُسے دے دیا تھا۔اُسی رات شاید ایک بجے کا عمل تھا کہ اُس کا فون بج اُٹھا۔’اس وقت کون فون کرسکتا ہے؟‘ اُس نے بڑبڑاتے ہوئے فون کی اسکرین دیکھی، کوئی نیا نمبر تھا۔’ہیلو جی کون۔۔۔‘ اُس نے کہا۔’کرامت بول رہا ہوں‘ دوسری طرف سے آواز آئی

۔اُس کے اندر ایک کرنٹ سا دوڑ گیا وہ چارپائی پر اُٹھ کے بیٹھ گیا۔’جی جی کرامت بھائی آپ کیسے ہیں‘ اُس نے گھبرا کر کہا۔’میں ٹھیک ہوں بانو کیسی ہے؟ سرفراز نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا تھا، کب تک یوں مارے مارے پھرتے رہو گے؟ جو ہوا سو ہوا، میں صلح کرنا چاہتا ہوں، تم لوگوں کو گاؤں آنا ہوگا۔ میرے گھر کے دروازے کھلے ہیں تم لوگوں کے لیے۔‘’جی بھائی کرامت بہت شکریہ‘

اُسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، اُس نے 2 سال میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی گاؤں واپس جاسکے گا۔اور آج وہ ٹھیکیدار شیر افضل کے گھر کے سامنے تھا۔2 سال پہلے رات کے 2 بجے جب وہ یہاں بانو کا انتظار کررہا تھا تو اُس کی دھڑکن بہت تیز تھی جب کبھی کہیں دُور سے کوئی کتا بھونکتا تو اُس کو یوں لگتا کہ جیسے سارا شہر لاٹھیاں لے کر اُس کو مارنے آجائے گا لیکن سوائے بانو کے اور کوئی نہیں آیا تھا۔

بھاگنے سے کئی روز پہلے اُس نے بہت ضد کرکے امّاں ابّا کو ٹھیکیدار شیر افضل کے گھر رشتے لینے کے لیے بھیجا تھا اور وہ گئے بھی تھے لیکن ٹھیکیدار شیر افضل نے صاف انکار کردیا تھا کہ اُس کی اور لوہاروں کی حیثیت میں بہت فرق تھا، وہ بھلا اپن بیٹی کو کسی ایسے گھر میں کیسے بیاہ سکتے تھے کہ جہاں آمد و رفت کے لیے سب سے بڑی سہولت سائیکل تھی جس کو 4 بھائی چلاتے تھے۔اُس نے دستک کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن پھر کچھ سوچ کر دستک نہ دی اور اپنے موبائل سے کرامت کا نمبر ملایا’

جی السلام علیکم میں اشرف۔۔۔ جی میں آگیا ہوں، دروازے پر ہوں، آپ گھر پر ہیں تو باہر آجائیں۔‘دوسری طرف سے اچھا کہہ کر فون بند کردیا گیا تھا۔اُس کی دھڑکن بہت تیز ہوگئی تھی اُس کا جی چاہا کہ یہاں سے بھاگ جائے لیکن حالات بہتر بنانے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے۔تھوڑی دیر میں حویلی کا دروازہ کھلا اور کرامت باہر تھا جو تیزی سے آگے بڑھا اور اُس کا ہاتھ تھام لیا۔’اچھا کیا تم آگئے۔۔۔ آؤ ڈیرے پر چلتے ہیں، وہاں آرام سے بات ہوگی۔‘اس گلی کے پچھلی جانب چھوٹی سی پہاڑی کے نیچے اُن کا ڈیرہ تھا۔

انہوں نے ڈیرے کا گیٹ جیسے ہی پار کیا کرامت تیزی سے مُڑا اور گیٹ بند کرکے تالا لگا دیا اور شلوار میں اڑسا پستول نکال لیا۔’سالے بے غیرت! کمی کمین! تیری اتنی جرات کہ تُو ہماری عزت سے کھیل گیا‘ یہ کہہ کر کرامت نے پستول کا دستہ اُس کے سر پہ مارا۔اُس کو اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہ آیا، ڈیرے پر 2 اور لوگ بھی موجود تھے۔’پکڑ لو اِسے اور ہاتھ پیر باندھ دو!‘

کرامت نے کہا۔دونوں جوانوں نے فوراً ہی رسیوں کی مدد سے اُس کے ہاتھ اور پاؤں باندھ دیے۔کرامت اتنے میں ایک موٹا ڈنڈا ڈھونڈ لایا تھا جو اُس نے اندھا دھند اشرف پر برسانا شروع کردیا، اُس کی چیخیں بلند ہوئیں تو اُس کے منہ میں رومال ٹھونس دیا گیا، بار بار زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے اُس کے ناک اور دانتوں سے خون بہنے لگا تھا۔اُسے اب یقین آگیا تھا کہ محبت کی طرح نفرت بھی ساری عمر کی جاسکتی ہے۔بے تحاشہ تشدد کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔اُس کے منہ پر پانی پھینک کر ہوش میں لایا گیا اور منہ سے رومال نکال لیا گیا۔

’اچھا اب بول تُو کتا ہے‘، کرامت نے اُس سے کہا۔اُس کے جسم کا رواں رواں درد کررہا تھا، اُسے لگا کہ اُس کا جسم کئی جگہوں سے ٹوٹ چکا ہے اور اگر اب وہ کھڑا ہونا چاہے گا تو گرجائے گا۔’بول میں کہتا ہوں‘ کرامت نے ایک زوردار تھپڑ اُس کے منہ پر مارا۔’اور تُو یہ موبائل پکڑ اور بنا اِس کی ویڈیو سارے گاؤں کو دکھائیں گے کہ یہ سالا کتا ہے ہماری عزت کے ساتھ کھیلا تھا نا،

اب میں بتاؤں گا اِسے کہ اِس کی حیثیت کیا ہے‘۔ کرامت نے اپنا موبائل ساتھ کھڑے نوجوان کو دیا جو اشرف کی ویڈیو بنانے لگ گیا۔’ہاں اب بول کہ تو کتا ہے‘۔موت سامنے تھی، آخری امید کے طور پر وہ اپنے انسان ہونے سے مکر گیا۔’ہاں میں کتا ہوں‘، اُس نے کہا۔’اونچا بول‘ کرامت دھاڑا۔

’ہاں میں کتا ہوں‘، اُس نے درد سے کراہتے ہوئے کہا۔’اچھا اب بھونک کر دکھا‘ کرامت چلایا۔وہ چپ رہا۔’بھونک کتے!‘ کرامت نے اُسے ایک زوردار تھپڑ رسید کیا اور وہ غش کھا کر گرگیا۔گرتے کے ساتھ ہی وہ بے تحاشا بھونکنے لگا، اتنی شدت سے کہ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کرامت اور اُن 2 لڑکوں نے زندگی میں پہلی بار ایک روتا ہوا کتا دیکھا تھا، جسے دیکھ کر وہ تینوں انسان قہقہے لگا رہے تھے۔