جوڑوں کا دردایسے ختم جیسے کبھی ہوا ہی نہیں لیموں کے ذریعے علاج کا حیرت انگیزنسخہ

جوڑوں کا دردایسے ختم جیسے کبھی ہوا ہی نہیں لیموں کے ذریعے علاج کا حیرت انگیزنسخہ
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:44
نیو یارک دنیابھرمیں دیگرامراض کی طرح جوڑوں کادردبھی اب پریشان کن امراض میں شمارکیاجاتاہے اورلوگ جوڑوں کے دردکےلئے کئی مہنگی ادویات کااستعمال کرتے ہیں لیکن آپ اگرقدرتی نسخے کے ذریعے اس موذی مرض سے نجات حاصل کرناچاہتے ہیں تودوتازہ لیموں ،زیتون کاتیل اورایک جارلیں ، پہلے لیموں چھیلیں اور ان کے چھلکے جار میں ڈال دیں،

اب جار کو زیتون کے تیل سے بھر دیں۔جار کو اچھی طرح بند کرکے دوہفتے تک رکھ دیں۔اس تیل کو روئی کے ذریعے جہاں درد ہو رات کے وقت لگائیں اوراگردردزیادہ ہوتودن میں تین مرتبہ اس کواستعمال کریں جوڑوں کادردایک ہفتہ

میں بالکل ختم ہوجائے

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔‎

دماغ عزیز ہے تو چند عادات فوراً چھوڑدیئجے

دماغ عزیز ہے تو چند عادات فوراً چھوڑدیئجے
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:42
ہمارا دماغ ہمارے جسم کا وہ حصہ ہوتا ہے جب سب سے زیادہ محنت کرتا ہے- یہاں تک کہ انسان کے سونے پر بھی دماغ سوتا نہیں ہے اور نہ وقفہ لیتا ہے- اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود اس کی دیکھ بھال کریں لیکن ہماری اپنی ہی چند عام عادات ہمارے دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں- یہاں ہم ایسی ہی چند عادات کا ذکر کر

رہے ہیں جو ہمارے دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اگر آپ بھی ان عادات میں سے کسی عادت کا شکار ہیں تو فورً ترک

کیجیے ناشتہ چھوڑ دینا: ہم سب جانتے ہیں کہ صبح کا ناشتہ ہمارے لیے کتنا اہم ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور ناشتہ کیے بغیر ہی اپنے روزمرہ کے کام سرانجام دینے لگتے ہیں- سونے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک آپ کھائے پیے بغیر رہتے ہیں اور اب آپ کے جسم کو غذائی اجزاﺀ کی ضرورت ہوتی ہے- صبح کچھ نہ کھانے کی وجہ سے آپ کے دماغ کے خلیے کمزور ہونے لگتے ہیں- غنودگی اور چکر آنے کی شکایت بھی عام طور پر ناشتہ نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے-

اضافی کھانا: اضافی کھانا ویسے بھی بری عادت ہے لیکن ایک اور اہم بات جس کی جانب ہم اکثر توجہ نہیں دیتے وہ یہ کہ اضافی کھانا کھانے سے ہمارے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے- یہ بری عادت ہماری شریانوں کو بھی سخت کرنے لگتی ہے جس کی وجہ سے دماغ کو شدید نقصان پہنچنے لگتا ہے- اس لیے بہتر ہے کہ اعتدال کے ساتھ کھائیے اور صحت مند زندگی گزاریے- چینی کا زیادہ استعمال: زیادہ چینی کا استعمال آپ کے جسم کو پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاﺀ کے جذب ہونے کے حوالے سے سخت بنا دیتا ہے- اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے جسم کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے جتنی غذا کی ضرورت تھی اسے اتنی ہی مل رہی ہے نہ کہ اضافی- جن لوگوں کا خیال ہے کہ وہ زیادہ کھاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چینی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو بھوکا بنا دیتی ہے- اور اضافی کھانے سے دماغ کو شدید نقصان پہنچتا ہے-

تمباکو نوشی: ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ تمباکو نوشی ہمیں صرف نقصان پہنچاتی ہے لیکن ہم پھر بھی اس کی عادت میں بری طرح گرفتار ہوتے ہیں- تمباکو نوشی ہمارے دماغی خلیوں کی قاتل ہے اور اس کی وجہ سے ہماری یادداشت مختصر اور کمزور ہونے لگتی ہے- اس کے علاوہ تمباکو نوشی الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کا سبب بھی بنتی ہے- فضائی آلودگی: یقیناً یہ کوئی عادت نہیں ہے لیکن یہ بھی دماغی صحت کو تباہ کرنے والے اسباب میں سے ایک ہے- ہمارے دماغ کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے آکسیجن کی بھاری مقدار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی اسے فضائی آلودگی ماحول میں موجود آکسیجن کی مقدار کو شدید نقصان پہنچاتی ہے- تبادلہ خیال کی کمی: مختلف مسائل اور امور پر تبادلہ خیال سے ہمارے دماغ کی افزائش ہوتی ہے اور ہمارے دماغ میں نئے آئیڈیاز بھی جنم لیتے ہیں- اس کے علاوہ تبادلہ خیال سے بےپناہ معلومات بھی حاصل ہوتی ہے- لیکن لوگوں سے بات نہ کی جائے یا کم کی جائے تو دماغ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور یہ محدود ہونے کے علاوہ کسی بھی مسئلے پر زیادہ نہیں سوچ سکتا- بات نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے دماغ سکڑنے بھی لگتا ہے-

سر کو ڈھک کر سونا: ہمارے دماغ کو صرف اس وقت ہی آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں بلکہ اس وقت بھی درکار ہوتی ہے جب ہمارا جسم سو رہا ہوتا ہے- اکثر لوگوں کو سر پر تکیہ رکھ کر یا پھر چادر یا کمبل سر تک اوڑھ کر سونے کی عادت ہوتی ہے- لیکن یہ عادت انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے

کیونکہ اس صورت میں جسم کو ملنے والی آکسیجن میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- دوسری جانب جسم میں داخل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے اور یہ بھی خطرناک ہے- بیماری کے دوران کام: کچھ لوگ طبعیت بہتر محسوس نہ کرتے ہوئے بھی مسلسل کام میں مگن رہتے ہیں جبکہ وہ حقیقت میں تھک چکے ہوتے ہیں- اس حالت میں بھی مستقل کام کرتے رہنا آپ کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ضروری ہے کہ آپ تھوڑی کے لیے آرام کیجیے- آرام کرنے سے آپ ایک مرتبہ پھر توانائی اور چستی سے بھرپور ہوجاتے ہیں اور آپ کا دماغ بھی پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتا ہے-

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔‎

ابلے چاولوں کا ایک پیالہ کوکاکولا کی کتنی بوتلوں کے برابر ہوتا ہے؟ جواب جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑ جائیں گے

ابلے چاولوں کا ایک پیالہ کوکاکولا کی کتنی بوتلوں کے برابر ہوتا ہے؟ جواب جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑ جائیں گے
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:40
اگر آپ چاول کھانے کے شوقین ہیں تو آپ کے لئے بری خبر ہے کہ اس کی وجہ سے آپ کے جسم کو بہت زیادہ نشاستے کی مقدار مل رہی ہے جو کہ آپ کے لئے خطرناک ہے۔ ایشیائی باشندوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ان میں ذیابیطس کی شرح زیادہ ہے جس کی وجہ جہاں دیگر عادات ہیں وہیں چاول کھانا بھی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چاول انسان کے لئے اس قدر خطرناک ہیں کہ ان کی وجہ سے انسان کا شوگر لیول اس قدر بڑھ جاتا ہے کہاسے ذیابیطس بھی لاحق

ہوسکتی ہے۔ اگر روزانہ چاول کھائے جائیں توذیابیطس ہونے کا امکان11فیصد بڑھ جاتا ہے۔ چاولوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زیادہ نقصان دہ نہیںحالانکہ یہ بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک چاولوں کے پیالے میں اتنی کاربوہائیڈریٹس ہوتی ہے جتنی کوکاکولا کے ایک کین میں۔جب یہ کاربز چینی میں تبدیل ہوتی ہیں تویہ فوری خون میں شامل ہوکرجسم میں داخل ہوجاتی ہے۔روزانہ چاول کھانے سے گردوں کونقصان پہنچتا ہے

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔‎

اگر آپ میں یہ 9علامات ہیں تو آپ زندگی میں کبھی امیر نہیں

اگر آپ میں یہ 9علامات ہیں تو آپ زندگی میں کبھی امیر نہیں
جمعہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2019 | 16:39
ایسی بہت سی باتیں یا عادتیں ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ زندگی میں کبھی امیر نہیں ہوسکتا ۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔1. اگرآپ بچت پر تو بہت زور دیتے ہیں مگر کمائی پر توجہ نہیں تو آپ کبھی امیر نہیں ہونگے ۔ 2. اگرآپ نے ابھی تک سرمایہ کاری شروع نہیں کی تو بھی آپ کبھی امیر

نہیں ہونگے۔3. اوسط درجے کے افراد پہلے سے مقرر شدہ تنخواہ پر کام کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ امیر ہونے کے خواہش مند نتائج

کے حساب سے اپنی تنخواہ طے کرتے ہیں۔4. اگر آپ ایسی اشیاء خریدتے ہیں جن کی آپ میں استطاعت نہیں تو آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے ۔5. اگر آپ کو امیر ہونا ہے تو اپنے کام سے محبت کریں، دوسروں کے خواب پورا کرنے میں لگے رہے تو

آپ کبھی امیر نہیں ہونگے۔6. اگرآپ خطرات مول نہیں لیتے، غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ امیر نہیں ہو سکتے۔7 . اگر آپ کے پاس پیسے ہیں مگر ان کا کوئی مقصد نہیں تو بھی آپ امیر نہیں ہو سکتے ۔8. اگر آپ پہلے خرچ کرتے ہیں اور بچ جانے والی رقم ہی بچاتے ہیں تو بھی آپ امیر نہیں ہوسکتے ۔سب سے پہلے خود کو ادائیگی کریں، یعنی پہلے بچت کریں پھر سرمایہ کاری۔9. اگر آپ سمجھتے ہیں کہ امیر ہونا صرف خوش قسمتی کی وجہ سے ہے تو یہ سوچ بھی آپ کو غریب ہی رکھے گی

جنت میں بازار بھی ہو گا اور وہاں چیزیں کس بھائو ملا کرینگی؟پرفیوم کی بوتلوں کی جگہ کیا چیز خوشبو لگایا کرے گی؟رب تعالیٰ وہاں جنتیوں سے کیا ، کیا باتیں کرینگے؟

جنت میں بازار بھی ہو گا اور وہاں چیزیں کس بھائو ملا کرینگی؟پرفیوم کی بوتلوں کی جگہ کیا چیز خوشبو لگایا کرے گی؟رب تعالیٰ وہاں جنتیوں سے کیا ، کیا باتیں کرینگے؟
ہفتہ‬‮ 26 جنوری‬‮ 2019 | 11:18
حضرت سعید بن مسیت تابعی ؒ سے روایت ہے کہ ایک دن بازار میں ان کی ملاقات حضرت ابوہریرہؓ سے ہوئی جس پر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ (جس طرح مدینے کے بازار میں آج ہم دونوں کی ملاقات ہوئی ہے اسی طرح) اللہ تعالیٰ جنت کے بازار میں بھی ہم دونوں کو ملائے. حضرت سعید ؒ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ کیا جنت میں بازار بھی ہوگا؟

حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا”ہاں”.مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ جنتی لوگ جب

جنت میں داخل ہوں گے تو اپنے اپنے اعمال کی فضیلت و برتری کے لحاظ سے جنت میں مقیم ہوں گے. (یعنی جس کے اعمال جتنے زیادہ اور جتنے اعلیٰ ہوں گے، اسی اعتبار سے اسے بلند تر اور خوب تر مکانات و منازل ملیں گے). پھر انہیں دنیاوی ایام کے اعتبار سے جمعہ کے دن اجازت دی جائے گی اور

وہ سب اس دن اپنے پروردگار کی زیارت کریں گے جو ان کے سامنے اپنا عرش ظاہر کرے گا. جنتیوں کو دیدار کرانے کے لئے وہ جنت کے ایک بڑے باغ میں جلوہ فرما ہوگا. اس باغ میں (مختلف درجات کے منبر یعنی) نور کے منبر، موتیوں کے منبر، یاقوت کے منبر، سونے کے منبر اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے جن پر جنتی بیٹھیں گے (یعنی جو جنتی جس مرتبے کا ہوگا وہ اسی لحاظ سے اپنے منبر پر بیٹھے گا) نیز ان جنتیوں میں سے جو جنتی کم مرتبے کا ہو گا،

وہ مشک و کافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا، لیکن ٹیلوں پر بیٹھنے والے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ منبر اور کرسیوں پر بیٹھنے والے لوگ جگہ و نشست گاہ کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں. حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس دن اپنے پروردگار کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یقینا . کیا تم دن میں سورج کو اور 14 ویں رات میں چاند کو دیکھنے میں کوئی شبہ رکھتے ہو؟ہم نے عرض کیا ہرگز نہیں. فرمایا. اسی طرح تمہیں اس دن اپنےپروردگار کو دیکھنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو گا. دیدارِ الٰہی کی اس محفل میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جس سے پروردگار تمام حجابات اٹھا کر براہِ راست ہم کلام نہیں ہوگا. یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حاضرین میں سے ایک شخص کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے فلاں بن فلاں، کیا وہ دن تجھے یاد ہے جب تونے ایسا اور ایسا کہا تھا؟

یہ سن کر وہ شخص گویا توقف کرے گا اور اپنے کئے ہوئے گناہوں کے اظہار میں تأمّل کرے گا. اس پر پروردگار اسے کچھ عہد شکنیاں یاد دلائے گا جس کا اس نے دنیا میں ارتکاب کیا ہو گا. تب وہ شخص عرض کرے گا کہ میرے پروردگار کیا آپ نے میرے وہ گناہ بخش نہیں دیئے؟ پروردگار فرمائے گا. بے شک میں نے تیرے وہ گناہ معاف کردیئے ہیں اور تو میری اسی معافی کے نتیجے میں آج اسمرتبے کو پہنچا ہے. پھر وہ لوگ اسی حالت اور مرتبے پر ہوں گے کہ ایک بادل آکر ان پر چھا جائے گا اور ایسی خوشبو برسائے گا کہ اس جیسی خوشبو انہوں نے اس سے پہلے کبھی کسی چیز میں نہیں پائی ہو گی. (اس کے بعد ہمارا پروردگار فرمائے گا کہ اٹھو اور اس چیز کی طرف آؤ جو ہم نے تمہاری عظمت کے باعث تیار کررکھی ہے اور

تم اپنی پسند و خواہش کے مطابق جو چاہے لے لو.(یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) جنتی لوگ اس بازار میں پہنچیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے. اس بازار میں ایسی ایسی چیزیں موجود ہوں گی کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوگی اور نہ کسی کان نے سنی ہوگی اور نہ کسی کے دل میں ایسا تصور آیا ہوگا. پھر اس بازار میں سے اٹھا اٹھا کر ہمیں وہ چیزیں دے دی جائیں گی جن کی ہم خواہش کریں گےحالانکہ اس بازار میں خرید و فروخت جیسا کوئی معاملہ نہیں ہو گا. نیز اس بازار میں تمام جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کریںگے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بلند مرتبہ شخص دوسرے نسبتاً کم درجے کے شخص کی طرف متوجہ ہوگا اور اس سے ملاقات کرے گا لیکن جنتیوں میںیہ احساس نہیں ہو گا کہ

کوئی معمولی اور ذلیل خیال کیا جائے. بہرحال اس بلند مرتبہ شخصکو کمتر مرتبے کے شخص کا لباس پسند نہیں آئے گا. ابھی ان دونوں کا سلسلہ گفتگو ختم بھی نہ ہونے پائے گا کہ (یکایک) وہ بلند مرتبہ شخص محسوس کرے گا کہ میرے مخاطب کا لباس تو مجھ سے بھی بہتر ہے. (ایسا اس لئے ہوگا کہ جنت میں کسی شخص کو غمگین ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا).پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اس کے بعد ہم سب جنتی اپنے اپنے محلات اور مکانوں کی طرف واپس ہوںگے اور وہاں ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی تو مرحبا اور خوش آمدید کہہ کر ہمارا استقبال کریںگی. ہر عورت اپنے شوہر یا مرد سے کہے گی کہ تم اس حال میں واپس آئے ہو کہ اس وقت تمہارا حسن و جمال اس حسن و جمال سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس سے جاتے وقت تمہارا تھا تو ہم اپنی بیویوں سے کہیں گے کہ آج ہمیں اپنے پروردگار کے ساتھ بیٹھنے کی عزت حاصل ہوئی ہے جو جسم و بدن اور حسن و جمال کی ہر کمی کو پورا کرنے والا ہے۔

مولانا رومؒ نے اپنے شہر کو بچانے کے لئے

مولانا رومؒ نے اپنے شہر کو بچانے کے لئے
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 9:02
اللہ کے ولی کو کبھی کوئی آفت پریشان نہیں کرتی تاوقت کہ اللہ کا حکم نہ ہو،تاریخ ایسے بے شمار واقعات کی شاہد ہے کہ اولیا اللہ کی جان لینے کے درپے دشمن خود مصیبتوں کا شکار ہوجاتے اور انکی عقلیں خبط ہوجایا کرتی تھیں۔جب ہلاکو خان قہر بن کر بغداد اور تبریز تک پہنچا تو اسکے ایک سپہ سالار نے مولانا روم ؒ کے شہر قونیہ پر

بھی یلغار کرنا چاہی مگر مولانا روم کی جلالت نے اسکے سپاہیوں کو بے خود کردیاتھا ۔یہ ولی اللہ کی شان ہے کہ زہر تلوار آگ اورتیر بھی اس

پر اثر نہیں کرسکتی ۔تیرہویں صدی میں ہلاکو خاں کے سپہ سالار بیجو خاں نے قونیہ پر حملہ کیا اور اپنی فوجیں شہر کے چاروں طرف پھیلا دیں تو اہل شہر تنگ آکر مولانا رومؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کی کہ اس قہر کو شہر برباد ہونے سے روک دیں

آپؒ نے ایک ٹیلے پر جو بیجو خاں کے خیمہ گاہ کے سامنے تھا جا کر مصلےٰ بچھا دیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی۔ بیجو خاں کے سپاہیوں نے جب آپؒ کو دیکھا تو تیر چلا کر آپؒ کو ہلاک کر نا چاہا۔ مگر کمانیں کھینچ نہ سکیں۔ آخر گھوڑے بڑھائے تاکہ تلوار سے قتل کردیں لیکن گھوڑے بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکے۔

تمام شہر میں غل غپاڑہ پڑگیا۔ سپاہیوں نے بیجو خاں سے جا کر یہ واقعہ بیان کیا۔ اس پر اس نے خیمہ سے نکل کر خود مولانا رومؒ پر کئی تیر چلائے مگر ایک بھی مولانا رومؒ کو جا کر نہ لگا۔ جھلا کر گھوڑے سے اُتر پڑا اور مولاناؒ کی طرف چلا لیکن پاؤں نہ اُٹھ سکے۔ آخر محاصرہ چھوڑ کر چلا گیا۔اور شہر قونیہ ایک ولی اللہ کی برکت و فیض سے قیامت صغریٰ سے بچ گیا ۔

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 8:54
بو الفاخر زین العابدین عبدالکلام (مختصراً: اے پی جے عبد الکلام) بھارت کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنس دان، جو 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے، اور 27 جولائی 2015ءکو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ عبد الکلام بھارتکے گیارہویں صدر تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات پدم

بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن بھی ملے۔ عبد الکلام کی صدارت کا دور 25 جولائی 2007ء کو اختتام پزیر ہوا۔ابتدائی زندگیڈاکٹر عبدالکلام کا تعلق تامل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں کو اپنی

کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبدالکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبدالکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے

دوران بھی عبدالکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔ اور اس کے بعد اس کرافٹ منصوبے پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبدالکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے

سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیاسیاسی زندگی 15 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالکلام نے 1974ء میں بھارت کا پہلا ایٹم بم تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں ’میزائل مین‘ بھی کہا جا تا ہے۔ بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو

شکست دی ہے۔ عبدالکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا ، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ عبدالکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدرتھے۔انھیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔ وفات

عبدالکلام 83 برس کی عمر میں،27 جولائی 2015ء بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گرپڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور دم توڑ دیا۔

اعزازاتعبدالکلام کو حکومت ہند کی طرف سے 1981ء میں آئی اے ایس کے ضمن میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ عبد الکلام کوبھارتکے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے 1997ء میں نوازا گیا۔ 18 جولائی، 2002ء کو عبد الکلام کو نوے فیصد اکثریت کی طرف سے بھارت کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوں نے

25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالا، اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی اس وقت کی حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے کیا تھا جسے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ صدر کے عہدے کے لئے نامزدگی پر ان کی مخالفت کرنے والوں میں اس وقت سب سے اہم جماعت بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی ساتھی جماعتیں تھیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی طرف سے 87 سالہ محترمہ لکشمی سہگل کا اندراج کیا تھا جو سبھاش چندر بوس کے آزاد ہند فوج اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے شراکت کے لئےمعروف ہیں۔

تابیںعبد الکلام نے اپنی ادبی و تصنیفی کاوشوں کو چار بہترین کتابوں میں پیش کیا ہے:پرواز (ونگس آف فائر کا اردو ترجمہ)انڈیا 2020- اے وژن فار دی نیو ملینیممائی جرنیاگنیٹڈ مائنڈز- انليشگ دی پاور ودن انڈیا ان کتابوں کا کئی ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس طرح عبد الکلام ہندوستان کے ایک ایسے سائنس دان ہیں، جنہیں 30 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں مل چکی ہیں

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 8:54
بو الفاخر زین العابدین عبدالکلام (مختصراً: اے پی جے عبد الکلام) بھارت کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنس دان، جو 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے، اور 27 جولائی 2015ءکو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ عبد الکلام بھارتکے گیارہویں صدر تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات پدم

بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن بھی ملے۔ عبد الکلام کی صدارت کا دور 25 جولائی 2007ء کو اختتام پزیر ہوا۔ابتدائی زندگیڈاکٹر عبدالکلام کا تعلق تامل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں کو اپنی

کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبدالکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبدالکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے

دوران بھی عبدالکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔ اور اس کے بعد اس کرافٹ منصوبے پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبدالکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے

سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیاسیاسی زندگی 15 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالکلام نے 1974ء میں بھارت کا پہلا ایٹم بم تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں ’میزائل مین‘ بھی کہا جا تا ہے۔ بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو

شکست دی ہے۔ عبدالکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا ، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ عبدالکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدرتھے۔انھیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔ وفات

عبدالکلام 83 برس کی عمر میں،27 جولائی 2015ء بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گرپڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور دم توڑ دیا۔

اعزازاتعبدالکلام کو حکومت ہند کی طرف سے 1981ء میں آئی اے ایس کے ضمن میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ عبد الکلام کوبھارتکے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے 1997ء میں نوازا گیا۔ 18 جولائی، 2002ء کو عبد الکلام کو نوے فیصد اکثریت کی طرف سے بھارت کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوں نے

25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالا، اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی اس وقت کی حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے کیا تھا جسے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ صدر کے عہدے کے لئے نامزدگی پر ان کی مخالفت کرنے والوں میں اس وقت سب سے اہم جماعت بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی ساتھی جماعتیں تھیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی طرف سے 87 سالہ محترمہ لکشمی سہگل کا اندراج کیا تھا جو سبھاش چندر بوس کے آزاد ہند فوج اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے شراکت کے لئےمعروف ہیں۔

تابیںعبد الکلام نے اپنی ادبی و تصنیفی کاوشوں کو چار بہترین کتابوں میں پیش کیا ہے:پرواز (ونگس آف فائر کا اردو ترجمہ)انڈیا 2020- اے وژن فار دی نیو ملینیممائی جرنیاگنیٹڈ مائنڈز- انليشگ دی پاور ودن انڈیا ان کتابوں کا کئی ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس طرح عبد الکلام ہندوستان کے ایک ایسے سائنس دان ہیں، جنہیں 30 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں مل چکی ہیں

خبردار! یوٹیوب ویڈیوز سے علاج کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

خبردار! یوٹیوب ویڈیوز سے علاج کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 8:44
اکثر لوگ ڈاکٹر گوگل یا مقبول ویڈیو ایپ یوٹیوب سے دیکھ کر پروسٹیٹ کینسر سمیت دیگر بیماریوں کا علاج کرتے ہیں لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق کے بعد خبردار کیا گیا ہے کہ ایسا کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق 60 فیصد افراد کسی بھی بیماری کے علاج یا صحت کی معلومات کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے

بجائے ڈاکٹر گوگل یا یوٹیوب ویڈیوز سے مدد لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات یہ معلومات غلط ثابت ہوتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ

پروسٹیٹ کینسر (غدود مثانے کے کینسر) کے علاج پر مبنی 77 فیصد یوٹیوب ویڈیوز غلط معلومات فراہم کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہر سال امریکا میں 1 لاکھ 65 ہزار افراد میں پروسٹیٹ کینسر تشخیص ہوتا ہے،

یہی وجہ ہے کہ اس سے متعلق یوٹیوب ویڈیوز پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔تاہم محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں سے متعدد ویڈیوز غلط معلومات اور آگاہی فراہم کر رہی ہیں جس سے مریض الجھن کا شکار ہو رہے ہیں۔نیویارک یونیورسٹی کے یورولوجسٹ ڈاکٹر سٹیسی لیوب کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز میں جڑی بوٹیوں کی مدد سے پروسٹیٹ کینسر کا علاج بتایا گیا ہے، جو ماہرین کی جانب سے تجویز نہیں کیا جاتا

کیونکہ وہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔یہ گمراہ کن ویڈیوز مردوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ انہیں اسکریننگ کی ضرورت نہیں ہے اور اس کا علاج ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر نسخوں کی مدد سے ممکن ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا میں اس مرض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے لیے محققین نے انٹرنیٹ کا سہارا لینے سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا ہے۔پروسٹیٹ کینسر کیا ہے؟

پروسٹیٹ، مردوں میں پایا جانے والا ایک چھوٹا غدود ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ پروسٹیٹ غدود بھی بڑا ہوتا جاتا ہے، جس سے مثانے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔مثانے کا خراب کنٹرول رکھنے والے لوگ اس مشکل سے پریشان اور شرمندہ ہوجاتے ہیں اور علاج کرانے سے پرہیز کرتے ہیں جو بعد میں کینسر کی شکل اختیار کرجاتا ہے

ایک نیک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ باقاعدہ شادیاں رچا رکھی تھیں

ایک نیک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ باقاعدہ شادیاں رچا رکھی تھیں
ہفتہ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2018 | 19:13
ایک نیک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ باقاعدہ شادیاں رچا رکھی تھیں۔ ایک سے خرچہ پانی لیتی، کچھ وقت گزارتی اور پھر میکے جانے کے بہانے دوسری جگہ مال بٹورنے پہنچ جاتی، آخر کب تک۔۔۔؟ بات نکلتے نکلتے سرکاری دربار تک جا پہنچی۔ تصدیق کیلئے اُسکی عدالت میں طلبی ہوئی۔ چونکہ اسلامی قانون نافذ تھا اس لئے زیادہ امکان یہی تھا کہ جب بات پایۂ ثبوت کو پہنچے گی تو اِس عورت کیلئے جان بچانا مشکل ہو جائے گا۔ اُس نے

ایک سیانے وکیل سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا، “اے خاتون!

جان تو بچ سکتی ہے مگر فیس بھاری لگے گی۔۔۔!”عورت نے کہا، “تم فیس کی پرواہ نہ کرو، جان ہے تو جہاں ہے۔ زندہ رہی تو پھر بھی کما لونگی۔۔۔!”، لہٰذا سارا زیور اور تمام جمع پونچی لا کر اُس وکیل کو دے دی۔ وکیل نے کہا عدالت میں یوں کہنا کہ “میں جمعے کے روز جامع مسجد کے پاس سے گزر رہی تھی، تو خطیب صاحب کہہ رہے تھے کہ

“اسلام میں چار چار شادیوں کی اجازت ہے۔۔۔!”، چلتے چلتے میں بس اتنی بات ہی سن سکی تھی، تب میں نے اسلام کے اس حکم پر عمل کا ارادہ کر لیا اور پھر عمل کر ڈالا۔ مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ، یہ حکم صرف مردوں کے لئے تھا، عورتوں کے لئے نہیں۔۔۔!” عزیز دوستو! پتہ نہیں اُس عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ کیا سنایا ہوگا۔ مگر چلتے چلتے آدھی بات سن کر ادھورے اسلام پر عمل کرنے کا رواج اب روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑے شہروں میں سحری اور افطاری کی تفصیلات پر مبنی بینر دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں اصل چیز روزہ نہیں بلکہ سحری اور افطاری ہے۔

اِدھر سحری کا وقت ہوتا ہے تو لوگ بھیڑوں کی طرح سحری کرنے چل پڑتے ہیں، اور اُدھر افطاری کا وقت ہوتا ہے بےصبروں کی طرف اُدھر کھانے پینے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، لیکن سحری و افطاری کے درمیان کیا کرنا چاہیے، اور کیا نہیں کرنا چاہیے، یہ بات اب اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ لوگ روزہ رکھ کے سارا دِن جھوٹ بولتے ہیں، غیبت کرتے ہیں، چوریاں کرتے ہیں، ملاوٹ کرتے ہیں، بُری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ وقت گزاری کیلئے موسیقی، شطرنج، تاش اور دوسری کھیلوں سے محظوظ ہوتے ہیں، تو بتائیے روزے کی اصل روح کہاں برقرار رہے گی؟، جب روزے کا مقصد ہی فوت ہو جائے.