مولانا رومؒ نے اپنے شہر کو بچانے کے لئے

مولانا رومؒ نے اپنے شہر کو بچانے کے لئے
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 9:02
اللہ کے ولی کو کبھی کوئی آفت پریشان نہیں کرتی تاوقت کہ اللہ کا حکم نہ ہو،تاریخ ایسے بے شمار واقعات کی شاہد ہے کہ اولیا اللہ کی جان لینے کے درپے دشمن خود مصیبتوں کا شکار ہوجاتے اور انکی عقلیں خبط ہوجایا کرتی تھیں۔جب ہلاکو خان قہر بن کر بغداد اور تبریز تک پہنچا تو اسکے ایک سپہ سالار نے مولانا روم ؒ کے شہر قونیہ پر

بھی یلغار کرنا چاہی مگر مولانا روم کی جلالت نے اسکے سپاہیوں کو بے خود کردیاتھا ۔یہ ولی اللہ کی شان ہے کہ زہر تلوار آگ اورتیر بھی اس

پر اثر نہیں کرسکتی ۔تیرہویں صدی میں ہلاکو خاں کے سپہ سالار بیجو خاں نے قونیہ پر حملہ کیا اور اپنی فوجیں شہر کے چاروں طرف پھیلا دیں تو اہل شہر تنگ آکر مولانا رومؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کی کہ اس قہر کو شہر برباد ہونے سے روک دیں

آپؒ نے ایک ٹیلے پر جو بیجو خاں کے خیمہ گاہ کے سامنے تھا جا کر مصلےٰ بچھا دیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی۔ بیجو خاں کے سپاہیوں نے جب آپؒ کو دیکھا تو تیر چلا کر آپؒ کو ہلاک کر نا چاہا۔ مگر کمانیں کھینچ نہ سکیں۔ آخر گھوڑے بڑھائے تاکہ تلوار سے قتل کردیں لیکن گھوڑے بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکے۔

تمام شہر میں غل غپاڑہ پڑگیا۔ سپاہیوں نے بیجو خاں سے جا کر یہ واقعہ بیان کیا۔ اس پر اس نے خیمہ سے نکل کر خود مولانا رومؒ پر کئی تیر چلائے مگر ایک بھی مولانا رومؒ کو جا کر نہ لگا۔ جھلا کر گھوڑے سے اُتر پڑا اور مولاناؒ کی طرف چلا لیکن پاؤں نہ اُٹھ سکے۔ آخر محاصرہ چھوڑ کر چلا گیا۔اور شہر قونیہ ایک ولی اللہ کی برکت و فیض سے قیامت صغریٰ سے بچ گیا ۔

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 8:54
بو الفاخر زین العابدین عبدالکلام (مختصراً: اے پی جے عبد الکلام) بھارت کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنس دان، جو 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے، اور 27 جولائی 2015ءکو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ عبد الکلام بھارتکے گیارہویں صدر تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات پدم

بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن بھی ملے۔ عبد الکلام کی صدارت کا دور 25 جولائی 2007ء کو اختتام پزیر ہوا۔ابتدائی زندگیڈاکٹر عبدالکلام کا تعلق تامل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں کو اپنی

کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبدالکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبدالکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے

دوران بھی عبدالکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔ اور اس کے بعد اس کرافٹ منصوبے پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبدالکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے

سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیاسیاسی زندگی 15 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالکلام نے 1974ء میں بھارت کا پہلا ایٹم بم تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں ’میزائل مین‘ بھی کہا جا تا ہے۔ بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو

شکست دی ہے۔ عبدالکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا ، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ عبدالکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدرتھے۔انھیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔ وفات

عبدالکلام 83 برس کی عمر میں،27 جولائی 2015ء بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گرپڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور دم توڑ دیا۔

اعزازاتعبدالکلام کو حکومت ہند کی طرف سے 1981ء میں آئی اے ایس کے ضمن میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ عبد الکلام کوبھارتکے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے 1997ء میں نوازا گیا۔ 18 جولائی، 2002ء کو عبد الکلام کو نوے فیصد اکثریت کی طرف سے بھارت کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوں نے

25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالا، اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی اس وقت کی حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے کیا تھا جسے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ صدر کے عہدے کے لئے نامزدگی پر ان کی مخالفت کرنے والوں میں اس وقت سب سے اہم جماعت بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی ساتھی جماعتیں تھیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی طرف سے 87 سالہ محترمہ لکشمی سہگل کا اندراج کیا تھا جو سبھاش چندر بوس کے آزاد ہند فوج اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے شراکت کے لئےمعروف ہیں۔

تابیںعبد الکلام نے اپنی ادبی و تصنیفی کاوشوں کو چار بہترین کتابوں میں پیش کیا ہے:پرواز (ونگس آف فائر کا اردو ترجمہ)انڈیا 2020- اے وژن فار دی نیو ملینیممائی جرنیاگنیٹڈ مائنڈز- انليشگ دی پاور ودن انڈیا ان کتابوں کا کئی ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس طرح عبد الکلام ہندوستان کے ایک ایسے سائنس دان ہیں، جنہیں 30 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں مل چکی ہیں

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟

بھارت کو ایٹمی طاقت بنانے والے تیسرے مسلمان صدر عبد الکلام کی جب وفات ہوئی تو ان کا چہرہ اچانک کیسا ہو گیا ؟
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 8:54
بو الفاخر زین العابدین عبدالکلام (مختصراً: اے پی جے عبد الکلام) بھارت کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنس دان، جو 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے، اور 27 جولائی 2015ءکو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ عبد الکلام بھارتکے گیارہویں صدر تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات پدم

بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن بھی ملے۔ عبد الکلام کی صدارت کا دور 25 جولائی 2007ء کو اختتام پزیر ہوا۔ابتدائی زندگیڈاکٹر عبدالکلام کا تعلق تامل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں کو اپنی

کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبدالکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبدالکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے

دوران بھی عبدالکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔ اور اس کے بعد اس کرافٹ منصوبے پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبدالکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے

سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیاسیاسی زندگی 15 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالکلام نے 1974ء میں بھارت کا پہلا ایٹم بم تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں ’میزائل مین‘ بھی کہا جا تا ہے۔ بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو

شکست دی ہے۔ عبدالکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا ، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ عبدالکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدرتھے۔انھیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔ وفات

عبدالکلام 83 برس کی عمر میں،27 جولائی 2015ء بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گرپڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور دم توڑ دیا۔

اعزازاتعبدالکلام کو حکومت ہند کی طرف سے 1981ء میں آئی اے ایس کے ضمن میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ عبد الکلام کوبھارتکے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے 1997ء میں نوازا گیا۔ 18 جولائی، 2002ء کو عبد الکلام کو نوے فیصد اکثریت کی طرف سے بھارت کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوں نے

25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالا، اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی اس وقت کی حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے کیا تھا جسے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ صدر کے عہدے کے لئے نامزدگی پر ان کی مخالفت کرنے والوں میں اس وقت سب سے اہم جماعت بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی ساتھی جماعتیں تھیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی طرف سے 87 سالہ محترمہ لکشمی سہگل کا اندراج کیا تھا جو سبھاش چندر بوس کے آزاد ہند فوج اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے شراکت کے لئےمعروف ہیں۔

تابیںعبد الکلام نے اپنی ادبی و تصنیفی کاوشوں کو چار بہترین کتابوں میں پیش کیا ہے:پرواز (ونگس آف فائر کا اردو ترجمہ)انڈیا 2020- اے وژن فار دی نیو ملینیممائی جرنیاگنیٹڈ مائنڈز- انليشگ دی پاور ودن انڈیا ان کتابوں کا کئی ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس طرح عبد الکلام ہندوستان کے ایک ایسے سائنس دان ہیں، جنہیں 30 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں مل چکی ہیں

خبردار! یوٹیوب ویڈیوز سے علاج کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

خبردار! یوٹیوب ویڈیوز سے علاج کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 8:44
اکثر لوگ ڈاکٹر گوگل یا مقبول ویڈیو ایپ یوٹیوب سے دیکھ کر پروسٹیٹ کینسر سمیت دیگر بیماریوں کا علاج کرتے ہیں لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق کے بعد خبردار کیا گیا ہے کہ ایسا کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق 60 فیصد افراد کسی بھی بیماری کے علاج یا صحت کی معلومات کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے

بجائے ڈاکٹر گوگل یا یوٹیوب ویڈیوز سے مدد لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات یہ معلومات غلط ثابت ہوتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ

پروسٹیٹ کینسر (غدود مثانے کے کینسر) کے علاج پر مبنی 77 فیصد یوٹیوب ویڈیوز غلط معلومات فراہم کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہر سال امریکا میں 1 لاکھ 65 ہزار افراد میں پروسٹیٹ کینسر تشخیص ہوتا ہے،

یہی وجہ ہے کہ اس سے متعلق یوٹیوب ویڈیوز پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔تاہم محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں سے متعدد ویڈیوز غلط معلومات اور آگاہی فراہم کر رہی ہیں جس سے مریض الجھن کا شکار ہو رہے ہیں۔نیویارک یونیورسٹی کے یورولوجسٹ ڈاکٹر سٹیسی لیوب کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز میں جڑی بوٹیوں کی مدد سے پروسٹیٹ کینسر کا علاج بتایا گیا ہے، جو ماہرین کی جانب سے تجویز نہیں کیا جاتا

کیونکہ وہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔یہ گمراہ کن ویڈیوز مردوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ انہیں اسکریننگ کی ضرورت نہیں ہے اور اس کا علاج ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر نسخوں کی مدد سے ممکن ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا میں اس مرض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے لیے محققین نے انٹرنیٹ کا سہارا لینے سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا ہے۔پروسٹیٹ کینسر کیا ہے؟

پروسٹیٹ، مردوں میں پایا جانے والا ایک چھوٹا غدود ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ پروسٹیٹ غدود بھی بڑا ہوتا جاتا ہے، جس سے مثانے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔مثانے کا خراب کنٹرول رکھنے والے لوگ اس مشکل سے پریشان اور شرمندہ ہوجاتے ہیں اور علاج کرانے سے پرہیز کرتے ہیں جو بعد میں کینسر کی شکل اختیار کرجاتا ہے

ایک نیک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ باقاعدہ شادیاں رچا رکھی تھیں

ایک نیک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ باقاعدہ شادیاں رچا رکھی تھیں
ہفتہ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2018 | 19:13
ایک نیک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ باقاعدہ شادیاں رچا رکھی تھیں۔ ایک سے خرچہ پانی لیتی، کچھ وقت گزارتی اور پھر میکے جانے کے بہانے دوسری جگہ مال بٹورنے پہنچ جاتی، آخر کب تک۔۔۔؟ بات نکلتے نکلتے سرکاری دربار تک جا پہنچی۔ تصدیق کیلئے اُسکی عدالت میں طلبی ہوئی۔ چونکہ اسلامی قانون نافذ تھا اس لئے زیادہ امکان یہی تھا کہ جب بات پایۂ ثبوت کو پہنچے گی تو اِس عورت کیلئے جان بچانا مشکل ہو جائے گا۔ اُس نے

ایک سیانے وکیل سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا، “اے خاتون!

جان تو بچ سکتی ہے مگر فیس بھاری لگے گی۔۔۔!”عورت نے کہا، “تم فیس کی پرواہ نہ کرو، جان ہے تو جہاں ہے۔ زندہ رہی تو پھر بھی کما لونگی۔۔۔!”، لہٰذا سارا زیور اور تمام جمع پونچی لا کر اُس وکیل کو دے دی۔ وکیل نے کہا عدالت میں یوں کہنا کہ “میں جمعے کے روز جامع مسجد کے پاس سے گزر رہی تھی، تو خطیب صاحب کہہ رہے تھے کہ

“اسلام میں چار چار شادیوں کی اجازت ہے۔۔۔!”، چلتے چلتے میں بس اتنی بات ہی سن سکی تھی، تب میں نے اسلام کے اس حکم پر عمل کا ارادہ کر لیا اور پھر عمل کر ڈالا۔ مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ، یہ حکم صرف مردوں کے لئے تھا، عورتوں کے لئے نہیں۔۔۔!” عزیز دوستو! پتہ نہیں اُس عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ کیا سنایا ہوگا۔ مگر چلتے چلتے آدھی بات سن کر ادھورے اسلام پر عمل کرنے کا رواج اب روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑے شہروں میں سحری اور افطاری کی تفصیلات پر مبنی بینر دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں اصل چیز روزہ نہیں بلکہ سحری اور افطاری ہے۔

اِدھر سحری کا وقت ہوتا ہے تو لوگ بھیڑوں کی طرح سحری کرنے چل پڑتے ہیں، اور اُدھر افطاری کا وقت ہوتا ہے بےصبروں کی طرف اُدھر کھانے پینے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، لیکن سحری و افطاری کے درمیان کیا کرنا چاہیے، اور کیا نہیں کرنا چاہیے، یہ بات اب اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ لوگ روزہ رکھ کے سارا دِن جھوٹ بولتے ہیں، غیبت کرتے ہیں، چوریاں کرتے ہیں، ملاوٹ کرتے ہیں، بُری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ وقت گزاری کیلئے موسیقی، شطرنج، تاش اور دوسری کھیلوں سے محظوظ ہوتے ہیں، تو بتائیے روزے کی اصل روح کہاں برقرار رہے گی؟، جب روزے کا مقصد ہی فوت ہو جائے.

ان خوابوں کو کبھی نظر انداز نہیں کریں

ان خوابوں کو کبھی نظر انداز نہیں کریں
ہفتہ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2018 | 9:59
خواب ہر کسی کو آتے ہیں اور ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ ان خوابوں کی کیا تعبیر ہوتی ہے؟ ہر کسی کے خواب کا مطلب مختلف ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خوابوں کے پیچھے ایک پوری سائنس ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح جاگتے ہوئے ہم ہر چیز کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں ، خواب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ماہرین کا

کہنا ہے کہ اکثر خواب ہمارے دن بھر کی چیزوں سے متعلق ہی ہوتے ہیں یا جو چیزیں ہمارے دماغ میں زیادہ گردش کررہی ہوتی ہیں، انہی سے متعلق

ہمیں خواب آتے ہیں۔کچھ ایسے خواب ہیں ، جوکہ تقریباً ہر کسی کو آتے ہیں، وہ کون سے خواب ہیں؟ اور ان کا کیا مطلب ہے؟ وہ درج ذیل ہے:٭ اُڑناخواب میں اُڑنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کسی مقصد پر پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے خواب سے انسان بہت فریش اور ری چارجڈ اٹھتا ہے۔

اس طرح کے خوابوں سے آزادی اور کچھ کرنے کی امیدآپ کے اندر بیدار ہوجاتی ہے۔٭ پانی کا بہناجب ہمیں خواب میں پانی آتا ہے تو یہ ہمارے احساسات کو بیا ن کرتا ہے۔ پانی پاکیزگی اور شفافیت کو بیان کرتا ہے۔ یہ ہماری زندگی میں ہونے والے نئے واقعات کو بیان کرتا ہے ۔٭ دانتاکثر لوگوں کو خواب میں دانت نظر آتے ہیں۔ دانت کا ٹوٹنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کوئی چیز آپ کی زندگی سے باہر جانے والی ہے۔

خراب دانتوں کا خواب میں آنا ڈر اور خوف کو بیان کرتا ہے۔٭موتخواب میں کسی کی یا خود کی وفات ہر کوئی دیکھتا ہے۔ موت کا خواب آنا کسی چیز کے ختم ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ موت کو خواب میں دیکھنے سے مراد آپ اپنے اندر سے آنا ختم کرنے والے ہیں یا آپ کو کوئی خوف یا ڈر لاحق ہے ، وہ آُ کی زندگی سے نکلنے والا ہے۔٭گھرخواب میں گھر دیکھنا انسان کی شخصیت کے پہلوؤں کو بیان کرتا ہے۔

گھر کے مختلف کمروں کو خواب میں دیکھنے کے الگ مطلب ہوتے ہیں، جیسے اگر کسی کو خواب میں اسٹور روم نظر آیا ہے تو اس سے مراد آپ کو اپنی پرانے واقعات یاد آرہے ہیں۔٭ پیسےپیسوں کا خواب میں آنا قسمت کو بیان کرتا ہے۔ اگر آپ نے خواب میں لوٹری دیکھی ہے کہ تو اس کا مطلب آپ کا لائف اسٹائل بالکل تبدیل ہونے والا ہے اور خواب میں کسی کو پیسے دینا کوئی خوف ختم ہونے کو بیان کرتا ہے۔

٭آگآگ کو خواب میں دیکھنا مختلف باتوں کو بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے خواب میں آگ کو فاصلے پر دیکھا ہے کہ آپ کے اندر کئی خواہشات موجود ہیں، جن کو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ نے خواب میں خود کو آگ سے کھیلتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ آپ کے لیے ایک طرح کی وارننگ ہے۔نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کےلیے ہے

انسانیت ابھی زندہ ہے

انسانیت ابھی زندہ ہے
ہفتہ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2018 | 9:47
یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے، جب میں مردم شماری کی ایک ٹیم کے ساتھ اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا۔ میرے ساتھ عملے کے متعلقہ لوگ بھی ہوتے تھے، تاہم بعض اوقات اندراج کا کام مَیں اکیلے بھی کرلیا کرتا تھا۔ اسی دوران میری ڈیوٹی ’’بازارِ حُسن‘‘ میں لگ گئی، جہاں آج بھی ’’بلبل ہزار داستان‘‘ کے نام

سے بلڈنگ قائم ہے۔ آفس کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق میں گھر میں مقیم لوگوں کی پہلے شناخت کرتا تھا کہ وہ رجسٹرڈ ہیں یا نہیں۔ اگر رجسٹرڈ افراد کے علاوہ

کوئی دوسرے اس گھر میں موجود ہوتے، تو میں اُن سے پوچھ گچھ کرتا کہ پہلے رہایشی کدھر گئے، وغیرہ وغیرہ۔ سروے کے دوران میں نے ایک گھر پر دستک دی، مگر کافی دیر تک جب کوئی باہر نہ نکلا، تو جھنجھلا کر دوبارہ زور سے دستک دی۔

کچھ دیر بعد ایک نو دس سالہ بچّی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر رٹے رٹائے توتے کی طرح کہنے لگی، ’’ہم وہ نہیں ہیں، جو آپ سمجھ رہے ہیں۔‘‘ میں نے حیرانی سے اس بچّی کو دیکھا اور شفقت بھرے لہجے میں کہا ’’بیٹا! مَیں بھی وہ نہیں ہوں، جو آپ سمجھ رہی ہیں، میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور مردم شماری کے سلسلے میں آیا ہوں، گھر کے کسی بڑے کو باہر بھیجیں۔‘‘بچّی کچھ سمجھی یا نہ سمجھی، مگر دوڑ کر اندر چلی گئی۔ چند منٹ بعد ایک سہمی ہوئی خاتون دروازے پر نمودار ہوئیں،

میں نے شائستگی سے سلام کیا، اور اپنے آنے کا مقصد بتایا، تو اُن کے چہرے پر اطمینان سا پھیل گیا۔ کہنے لگیں، ’’آپ اندر آجائیے، ورنہ ابھی یہاں بھیڑ لگ جائے گی۔‘‘ میں جھجکتا ہوا اندر چلا گیا۔ نہایت سادہ سا کمرا تھا، خاتون بھی بازارِ حُسن کی نہیں لگتی تھیں، جب میں نے اُن کے گھر کے افراد کی تفصیل مانگی، تو کہنے لگیں، ’’بھائی! مجھے یہاں آئے ہوئے دو سال ہی ہوئے ہیں، اس سے پہلے اس گھر میں کون مقیم تھا، مجھے معلوم نہیں، اگر چاہیں، تو میں ایک عورت کا نام بتادیتی ہوں، آپ یہ معلومات اُن سے حاصل کرسکتے ہیں، لیکن میرے لیے کوئی ایسی مشکل کھڑی نہ ہوجائے کہ یہ ٹھکانہ بھی مجھ سے چھن جائے۔‘‘

میں نے تجسّس سے پوچھا ’’کیا یہ گھر آپ نے کرایے پر لیا ہوا ہے۔‘‘ اس خاتون نے جس کی عمر لگ بھگ پینتیس سال ہوگی، ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہنے لگیں، ’’میں آپ کو ساری حقیقت بتائے دیتی ہوں، کیوں کہ آپ مجھے بھلے مانس انسان لگ رہے ہیں۔ میں ایک کھاتے پیتے اور عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، والدین کا میرے بچپن ہی میں انتقال ہوگیا، میرے چچا بے اولاد تھے، انہوں نے میری پرورش کی، وہ سخت مزاج آدمی تھے، چچی بھی اُن سے ڈری سہمی رہتی تھیں۔ میں پانچویں کلاس کے بعد آگے پڑھنا چاہتی تھی، مگرچچا نے اجازت نہیں دی، چچی اچھی خاتون تھیں،

انہوں نے چچا کو قائل کرنے کی بہت کوشش کی، مگر وہ نہ مانے اور پندرہ سال کی عمر میں، میری شادی ایک خوش حال گھرانے میں کردی۔ شادی کے بعد زندگی اچھی گزرنے لگی۔ چار بچّے ہوئے، اس دوران میرے چچا اور چچی، حج پرگئے، تو ٹریفک کے ایک حادثے میں ان کا انتقال ہوگیا۔ میکے میں اب میرا کوئی نہیں رہا تھا۔ سسرال بھرا پُرا تھا، سب کا مشترکہ کاروبار تھا۔ میرے بچّے اچھے اسکول میں زیرِتعلیم تھے کہ قدرت نے ایک بار پھر میرا امتحان لیا۔ میرے شوہر کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا اور ایک سال کے اندر ہی وہ ہم سب کو روتا چھوڑ گئے۔

شوہر کے انتقال کے بعد سسرال والوں نے کچھ عرصے تو بچّوں کی ناز برداریاں کیں۔ میرا بھی خیال رکھا، اس دوران بہانے بہانے سے مجھ سے مختلف دستاویزات پر دستخط کرواتے رہے، پھر ایک دن مجھے بلاکر کہا کہ ’’اپنے بچّوں کو لے کر یہاں سے چلی جائو، کیوں کہ تمہارا شوہر، تم لوگوں کے نام کچھ چھوڑ کرنہیں گیا، ہم تمہارا اور بچّوں کا خرچہ زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کرسکتے۔‘‘ یہ سنتے ہی مجھ پر آسمان ٹوٹ پڑا، کافی واویلا کیا، منتّیں، ترلے بھی کرلیے۔

ان کے دیگر رشتے داروں کو بیچ میں ڈالا، تو انہوں نے بتایا کہ ’’تم نے جن دستاویزات پردستخط کیے تھے، اس کی رُو سے تمہارا حصّہ وہ تمہیں دے چکے۔‘‘ میں اَن پڑھ تھی، ان کی چالیں میری سمجھ میں کیسے آسکتی تھیں۔ اور پھر ایک روز بچّوں کی آپس کی لڑائی کا بہانہ کرکے انہوں نے صبح ہی صبح بچّوں سمیت مجھے گھر سے نکال دیا۔ میرے شوہر کے ایک دوست اس علاقے سے دو تین کلو میٹر دُور رہتے تھے، میں نے رکشا پکڑا اور انہیں اپنی بپتا سنانے ان کے گھر جاپہنچی۔

ان کی بیوی، میرے شوہر کے انتقال پر گھر آئی تھیں، اور کہا تھا کہ کوئی پریشانی ہو، تو ضرور بتانا، اسی تسلّی اور آس پر ان کے گھر گئی تھی، لیکن وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ وہ لوگ چھے ماہ پہلے کراچی شفٹ ہوگئے ہیں۔ یہ سنتے ہی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا، چھوٹے بچّوں کا ساتھ تھا، چند سو روپے کے سوا اور کچھ نہیں تھا، بچوں کا پیٹ خالی تھا، انہیں چھولے چاٹ کھلا کرآگے چل پڑی، کچھ پتا نہیں تھا کہ کدھر جارہی ہوں، یہاں تک پہنچی، تو بچّے تھک چکے تھے، مجھ میں بھی ایک قدم بڑھانے کی سکت نہ رہی، تو ایک دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ شام سر پرآگئی، لیکن مجھ میں اٹھنے کی ہمّت نہیں رہی تھی، بار بار رونا آرہا تھا، رات کہاں اور کیسے بسر کروں گی، بچّوں کو کب تک بھوکا رکھوں، وہ بے چارے بھی بے حد ڈر گئے تھے، کبھی روتے، کبھی کھیلنے لگتے۔

اسی اثناء میں ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا ’’میں بہت دیر سے تمہیں اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں، شاید تم لوگوں نے صبح سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہے، تم کہاں سے آئی ہو، کیا ساس نے گھر سے نکال دیا ہے؟‘‘میں نے اقرار میں سرہلادیا، کیوں کہ اب مجھے ہر حال میں رات گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ درکار تھا۔ وہ کہنے لگی، ’’کچھ دیر بعد یہاں بہت بھیڑ ہوجائے گی، تم میرے ساتھ میرے گھر چلو، باقی باتیں وہیں ہوں گی۔‘‘ گھر پہنچ کر میں نے اسے پوری کہانی سنادی،

اس نے میرا ہاتھ منہ دھلوایا، بچّوں کو اورمجھے کھانا دیا اورخود باہر چلی گئی، کچھ دیر بعد آئی، تو اس کے ساتھ چند عورتیں بھی تھیں، جنہیں وہ میرے بارے میں سب کچھ بتاچکی تھی۔ سب نے باری باری مجھے گلے لگایا، تسلّیاں دیں، پھر ان میں سے ایک بڑی عمر کی خاتون نے کہا کہ ’’یہ بازارِ حُسن ہے، اگر تم رضامندہو، تو ہم تمہیں تحفّظ کے ساتھ پناہ بھی دیں گے، مگر تمہیں یہاں بڑی راز داری سے رہنا ہوگا، مبادا، تمہارے رشتے داروں کو بھنک پڑجائے اور تمہارے لیے مزید مشکلات بڑھ جائیں۔‘‘میرے پاس اورکوئی راستہ نہیں تھا، میں نے فوری طور پر ان کی پناہ میں رہنا قبول کرلیا۔

انہوں نے مجھے رہنے کے لیے نہ صرف اپنے گھر کے قریب یہ خالی گھر دیا، بلکہ میرا سارا خرچہ برداشت کرنے کی ذمّے داری بھی لے لی۔ ہر مہینے راشن کا سامان باقاعدگی سے ڈلواتی ہیں، بچّوں کی پڑھائی کا خرچہ اٹھارہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جب تک بچّے کچھ بڑے نہیں ہوجاتے، یہیں رہو۔‘‘ بچّی کے بارے میں خاص ہدایت کردی کہ ’’اسے فی الحال گھر سے باہر نہ نکلنے دو، کیوں کہ یہاں اچھے لوگ نہیں آتے، اس کے لیے ہم کسی ٹیچر کا بندوبست کروادیں گے

جو اسے گھر ہی میں تعلیم دے گی۔‘‘وہ دکھی خاتون دو سال سے بازارِ حُسن کی بدنام عورتوں کی بے لوث خفیہ مدد سے اُن ہی کے درمیان اپنے بچّوں کے ساتھ عزت دارانہ زندگی گزار رہی تھی۔ یہ داستان سن کرمیری آنکھیں بھرآئیں، مجھے ایسا لگا کہ میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا ہوں۔ بلاشبہ، اس معاشرے میں ایسی خواتین بھی ہیں، دنیا جنہیں بدکردار کہتی ہیں، لیکن درحقیقت ان کے دلوں میں خدمتِ انسانیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کربھرا ہوا ہے اور ان ہی جیسے لوگوں کی وجہ سے انسانیت ابھی زندہ ہے

داڑھی کے ایسے فوائد جنہیں پڑھ کر آپ بھی اسلام کی حقانیت کے قائل ہو جائیں گے

داڑھی کے ایسے فوائد جنہیں پڑھ کر آپ بھی اسلام کی حقانیت کے قائل ہو جائیں گے
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 10:12
اگر آپ کسی بیماری کے خلاف کسی نئی اینٹی بایوٹک کی تلاش میں ہیں تو آغاز کہاں سے کریں گے؟ کسی دلدل سے؟ کسی ویران جزیرے سے؟اپنی داڑھی میں کنگھی پھیرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟بی بی سی کے پروگرام ’ٹرسٹ می آئی ایم اے ڈاکٹر میں ہم ایسے ہی کچھ تجربات کرتے ہیں جس میں بعض اوقات صحیح سائنس بھی

سامنے آ جاتی ہے۔مثال کے طور پر گذشتہ سیریز میں ہم نے یہ جانا کہ آپ پاستا پکانے، ٹھنڈا کرنے اور پھر دوبارہ گرم کرنے سے اس کے اندر موجود کیلوریز کم کر سکتے ہیں۔یہ

ایک خوشگوار نتیجہ تھا۔ لیکن ہماری حالیہ دریافت زیادہ اہم ہے، یعنی ایسے بیکٹریا کی دریافت جو اینٹی بایوٹک کا کام دیتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ داڑھی میں پائے جاتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ داڑھیاں عموماً کالی ہوتی ہیں۔ ٹھوڑی پر لکیر کی شکل میں، گلے پر داڑھی یا وین ڈائیک سٹائل کی۔محققین کے خیال میں شیو کرنے سے جلد پر خراش لگتی ہے

’جس سے بیکٹریا کی نشوونما میں مدد ملتی ہے‘بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ داڑھیوں سے رغبت نہ صرف پریشان کن ہو سکتی ہے بلکہ یہ نامناسب جراثیم کی منتقلی کا کام بھی دیتی ہیں۔تو ایسے کیا شواہد ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ داڑھیوں کا صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟ انگریزی زبان کا ایک لفظ ہے پوگونوفوبیا یعنی داڑھی سے ڈر لگنا۔ پوگونوفوبز کا یعنی جو داڑھیوں سے ڈرتے ہیں، ایک امریکی ہسپتال کی جانب سے کی جانے والی سائنسی تحقیق میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے ہیں۔

جرنل آف ہاسپٹل انفیکشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں داڑھی اور بغیر داڑھی کے ہسپتال کے 408 عملے کے ارکان کے چہروں کو پونچھ کر نمونے حاصل کیے گئے۔ہم جانتے ہیں کہ ہسپتال سے انفیکشن کی منتقلی ہسپتالوں میںہونے والی اموات کی بڑی وجہ ہے۔ بہت سارے افراد ہسپتال جا کر ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں وہ ہسپتال جانے سے پہلے مبتلا نہیں ہوتے۔ ہاتھ، سفید کوٹ، ٹائیاں اور ساز و سامان ہی اسکا سبب بن سکتا ہے، تو پھر داڑھیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ڈارھی کے بغیر عملے کے چہروں پر داڑھی والے عملے کے چہروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ غیرپسندیدہ عناصر تھے

محققین کے لیے یہ امر حیران کن تھا کہ ڈارھی کے بغیر عملے کے چہروں پر داڑھی والے عملے کے چہروں کے مقابلے میں مضر جراثیم کی تعداد زیادہ تھی۔اس مطالعے سے یہ واضح ہوا کہ داڑھی کے بغیر والے افراد پر میتھیسیلین ریزسٹنٹ سٹاف اوریوس (ایم آر ایس اے) نامی جراثیم داڑھی والوں کے مقابلے میں زیادہ تھے۔ایم آر ایس اے عام طور پر ہسپتال سے منتقل ہونے والے انفیکشنوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ بہت سارے اینٹی بایوٹکس کے مقابلے میں قوت مدافعت رکھتا ہے۔

محققین کے خیال میں شیو کرنے سے جلد پر خراشیں لگتی رہتی ہیں ’جس سے بیکٹریا کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔‘شاید اس کی وضاحت کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ داڑھیاں انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔اپنے اس تجسس کو جانچنے کے لیے ہم نے کچھ افراد کے چہرے پونچھ کر یونیورسٹی کالج لندن کے مائیکروبیالوجسٹ ڈاکٹر ایڈم رابرٹس کو بھیجے۔ڈاکٹر ایڈم داڑھیوں میں ایک سو سے زائد قسم کے بیکٹریا دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے جن میں ایک وہ قسم بھی شامل تھی جو عام طور پر چھوٹی آنت میں پائی جاتی ہے۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ انسانی فضلے سے آیا ہے۔

یہ ایک عام سی بات ہے اور پریشان کن امر نہیں۔اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ داڑھی میں موجود بعض جراثیم دوسرے بیکٹریا کے دشمن نکلے۔ہم ان جراثیم کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں لیکن وہ ہمیں ایسا نہیں سمجھتے۔ بیکٹیریا اور پھپوند کی سطح پر وہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا رہتے ہیں، وہ کھانے اور جگہ کے لیے ایک دوسرے کے خلاف سرگرم رہتے ہیں۔ اور اس کام کے دوران وہ اینٹی بایوٹک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔کیا ہمارے پراسرار جراثیم بھی کچھ ایسا ہی کر رہے ہیں، یعنی مضر بیکٹریا کو کسی زہر کے ذریعے مار دیتے ہیں؟ڈاکٹر ایڈم کے مطابق ایسا ممکن ہے۔ڈاکٹر ایڈم کے خیال میں یہ سٹیفائلوکوکس نامی جرثومے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اینٹی بایوٹکس کی مزاحمت والے انفیکشن سالانہ سات لاکھ افراد کی موت کا سبب بنتے ہیں اور سنہ 2050 تک یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ڈاکٹر ایڈم کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں کوئی نئی اینٹی بایوٹک تیار نہیں کی گئی۔محققین کے خیال میں شیو کرنے سے جلد پر خراش لگتی ہے جس سے بیکٹریا کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔داڑھی کے بغیر عملے کے چہروں پر داڑھی والوں کے مقابلے میں زیادہ ناپسندیدہ جراثیم پائے گئے۔

فالج سے بچانے میں مددگار بہترین غذائیں

فالج سے بچانے میں مددگار بہترین غذائیں
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 10:22
بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کے مسائل، خون گاڑھا ہونا یا جمنا جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔درحقیقت یہ مسائل ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا باعث بنتے ہیں جبکہ پھیپھڑوں اور دیگر جسمانی اعضاءکو نقصان پہنچ سکتا ہے۔فالج کی دو اقسام ہیں ایک میں خون کی رگیں بلاک ہوجانے کے نتیجے میں دماغ کو خون کی فراہمی میں

کمی ہوتی ہے، دوسری قسم ایسی ہوتی ہے جس میں کسی خون کی شریان سے دماغ میں خون خارج ہونے لگتا ہے۔ ان دونوں اقسام کے فالج کی علامات یکساں ہوتی ہیں اور ہر فرد

کے لیے ان سے واقفیت ضروری ہے۔تاہم چند غذاؤں کو اپنا کر آپ فالج جیسے جان لیوا مرض کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔مچھلیایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ہفتے میں تین بار مچھلی کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ 6 سے 12 فیصد تک کم ہوجاتا ہے، مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز شریانوں کا ورم کم، دوران خون بہتر جبکہ خون جمنے کا خطرہ کم کرتے ہیں، زیادہ مچھلی کھانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ سرخ اور پراسیس گوشت کم کھارہے ہیں جو کہ شریانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

جو کا دلیہہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دلیے پر مشتمل غذا کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے اور بلڈ شوگر لیول کو متوازن کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہونا دماغ کی جانب جانے والی شریانوں میں ‘کچرا’ جمع ہونے کا باعث بنتا ہے، جس سے فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔ دلیہ میں جس قسم کا فائبر ایا جاتا ہے وہ کولیسٹرول کو صحت مند سطح میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔>شکرقندیشکرقندی میں موجود وٹامن سی اور بی سکس کے ساتھ پوٹاشیم ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرتے ہیں اور جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ بلڈپریشر فالج کا خطرہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسی طرح شکرقندی میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔یلےالاباما یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں خون کی شریانوں کو سکڑنے یا خون گاڑھا ہونے کے جان لیوا عمل سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق میں بتایاگیا کہ پوٹاشیم ان جینز کو ریگولیٹ کرتا ہے جو کہ شریانوں کی لچک کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ روزانہ صرف ایک کیلا کھانے کی عادت بھی فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچا?

میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔پالکپالک آئرن، فائبر، وٹامن اے اور سی سے بھرپور سبزی ہے، یہ پوٹاشیم کے حصول کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے جو کہ بلڈپریشر کی سطح کم کرنے میں انتہائی ضروری جز ہے جبکہ شریانوں کی صحت بھی بہتر بناتا ہے، جس سے فالج کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔بادامپنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ بادام کھانے سے صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

لہسنلہسن میں ایسے مالیکیولز موجود ہوتے ہیں جو کہ بلڈ کلاٹ کا باعث بننے والی وجوہات کا خطرہ کم کرکے فالج سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، کچی لہسن بلڈ کلاٹ سے لڑنے کی زیادہ طاقت رکھتی ہے۔ روزانہ لہسن کے ایک یا دو ٹکڑے کھانا فالج سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ڈارک چاکلیٹچاکلیٹ میں موجود کوکا فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کی شریانوں کو ہونے والے نقصان سے لڑنے اور خون کے لوتھڑے بننے کی روک تھام کرتے ہیں

جو فالج کا باعث بن سکتے ہیں۔ سوئیڈن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ چاکلیٹ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ 17 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ چاکلیٹ نہیں پسند تو سبز اور سیاہ چائے، بلیو بیریز، اسٹرابری اور لہسن بھی فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ٹماٹرلائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ ٹماٹر کو سرخ رنگ

دیتا ہے اور ایک حالیہ طبی تحقیق کے مطابق جن افراد کے خون میں لائیکوپین کی مقدار زیادہ ہو ان میں کسی بھی قسم کے فالج کا خطرہ 55 فیصد، ischemic stroke کا خطرہ 59 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ اس اینٹی آکسائیڈنٹ کی زیادہ مقدار ٹماٹر میں ہی پائی جاتی ہے۔مالٹےاس پھل کو روزانہ کھانا یا اس کے جوس کا ایک گلاس پینا بھی فالج اور امراض قلب کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مالٹے وٹامن سے بھرپور پھل ہے جو کہ فالج کا خطرہ کم کرتا ہے خصوصاً اگر آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں۔ مالٹوں سے ہٹ کر یہ فائدہ اسٹرابری سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے

لفظ کشمیر کیسے وجود میں آیا ؟

لفظ کشمیر کیسے وجود میں آیا ؟
پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018 | 10:10
ایک روایت کے مطابق لفظ کشمیر کاش اور میر کا مرکب ہے۔کہا جاتا ہے کہ کاش حضرت سلیمان علیہ السلام کے شاہی دربار میں جنات کا سردار تھا۔جبکہ میر پریوں کی سردار تھی۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا بیڑا ہوا میں اڑتا ہوا خطہ کشمیر سے گزرا تو سلیمان السلام نے پانی کے ایک وسیع ذخیرے میں موجود پہاڑ کی خشک چوٹی پر

اس بیڑے کوترنے کا حکم دیا۔چنانچہ یہ بیڑا اترا تو آپ نے دیکھا.کہ آس پاس حدنظر تک پانی ٹھہرا ھوا ہے. یہ خوبصورت منظر دیکھتے ہی وہ عش عش کر اٹھے. انہوں نے

مصاحبوں سے مشورہ کیا. کہ اگراس جھیل کے پانی کو خارج کر دیا جائے ۔تو اس کی تہہ سے خوبصورت زرخیزوادی نمودار ہوگی. جس میں انسانی آبادی ممکن ہوگی. چنانچہ سوال پیدا ہوا کہ اس جھیل سے پانی کیسے خارج کیا جائے؟ جنوں کا سردار کاش جو اس میٹنگ میں موجودتھا. اس نے پیش کش کی کہ وہ یہ فریضہ سرانجام دے سکتا ہے.

لیکن اس نے یہ فرمائش کی کہ اگر وہ یہ خدمت سرانجام دے، تو شاہی دربار میں موجود میر پری اس کے عقد میں دے دی جائے. سلیمان السلام نے اس کی یہ فرمائش پوری کرنے کا وعدہ کیا. اور اسے حکم دیا. کہ وہ اس جھیل کو خالی کرے.چانچ? اس جن نے اپنے طلسماتی عمل سے بارہ کا پہاڑ کاٹ دیا. جس سے جھیل کا پانی خارج ہو گیا۔سلیمان السلام نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے میر پری اس کے عقد میں دے دی.

یوں کاش اور میر کی نسبت سے اس خطے کا نام کاشمیر رکھا گیا. جو صوتی تغیر سے کشمیر بن گیا. سری نگر کے عقب میں کوہ ہر مکھ کی چوٹی پر تخت سلیمان اس واقحہ سے منسوب ہے. چودھویں صدی عیسوی میں جب سید علی ہمدانی کشمیر تشریف لائے،تو انہوں نے شاید اسی تناظر میں کشمیر کو باغ سلیمان کا نام دیا. درجہ بالا تشریحات اور دوایات سے اس امر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے. کہ خطہ کشمیر تاریخی تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے کتنی عظمت اور وسعت اپنے دامن میں سمیٹے ھوئے ہے۔