جاپان کا وہ اہم علاقہ جہاں عورتوں کاداخلہ ممنوع ہے

جاپان کا وہ اہم علاقہ جہاں عورتوں کاداخلہ ممنوع ہے
جمعرات‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:39
اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے جاپان میں قدیم مذہبی حیثیت رکھنے والے اس جزیرے کو عالمی ورثہ قرار دے دیا ہے جہاں عورتوں کا داخلہ منع ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اوکینو شیما پر سترہویں صدی میں اوکیستو نامی عبادت گاہ بنائی گئی جہاں سمندر میں جانے والوں کی خیریت کے لیے دعا کی جاتی تھی۔ اوکینو شیما پر سترہویں صدی میں اوکیستو نامی عبادت گاہ بنائی گئی۔ جزیرے پر اترنے سے پہلے مردوں کو اپنے کپڑے اتار کر پاک ہونے کی رسم ادا کرنی ہوتی ہے۔واپسی پر انہں یہاں سے کوئی بھی چیز بطور نشانی لے جانے کی اجازتنہیں اور

ہی وہ یہاں کے دورے کی تفصیلات کسی کو بتا سکتے ہیں۔ یہ عبادت گاہ تعمیر کی گئی تھی اوکینو شیما پر سمندر میں جانے والے جہازوں اور چین اور کوریا کے لوگوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کے لیے دعا کی جاتی تھی۔اس جزیرے پر ہزاروں نوادارات بطور تحفہ لائے گئےجن میں کوریا سے لائی جانے والی سونے کی انگوٹھیاں شامل ہیں۔اس جزیرے پر ہر سال میں صرف ایک دن کے لیے لوگوں کو جانے کی اجازت ہے۔ یہ قدیم روایت ہے جو اب بھی قائم ہے۔یہاں آنے والوں کی تعداد بھی صرف 200 افراد تک محدود ہے۔ انہیں لازمی طور پر سمندر میں طہارت کا عمل کرنا ہوتا ہے اور سب سے متنازع چیز ان کا مرد ہونا لازم ہے۔

قدیم مصر کے فرعون طوطن خامن کو عام طور پر ایک طلسماتی بادشاہ کے

قدیم مصر کے فرعون طوطن خامن کو عام طور پر ایک طلسماتی بادشاہ کے
جمعرات‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2018 | 15:33
قدیم مصر کے فرعون طوطن خامن کو عام طور پر ایک طلسماتی بادشاہ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے اور مصری دیو مالاؤں اور تاریخی تذکرو ں مٰن بھی اسے بہت ہی ہیبت اور جلال والا فرعون ظاہر کیا جاتا ہے لیکن ایک طویل سائنسی تحقیق کے بعد اب اس کی اصلیت دنیا کے سامنے آ گئی ہے. ماہرین آثار قدیمہ ، تاریخ دانوں ، سائنسدانوں اور علم بشر ہات ماہرین نے ملکر ایک طویل تحقیق کی . انہوں نے مصری شہر گیزا میں فرعون کے مقبروں کے شہر میں موجود طوطن خامن کے ڈھانچے اور باقیات پر جدید

کی مدد سے تحقیق کی اور طاقتور کمپیوٹروں سے بنائے گئے 2000جسمانی نقوش کی مدد سے اس کے جسم اور خدوخال کی تصویر تیار کر لی .حقائق سے پردہ اٹھا تو معلوم ہو ا کہ یہ فرعون قدرے زنانہ جسم کا مالک تھا ،اس کا بایاں پاؤں ٹیڑھا تھا اور بیماری اور کمزوری کی وجہ سے وہ چھڑی کے سہارے چلتاتھا.طوطن خامن اس کے والد اخناطون او ر والدہ کے ڈی این اے نمونوں کے تجزئیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے والدین آپس میں بھائی بہن تھے اور ان کے شرمناک تعلق سے اس کی پیدائش ہوئی.ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرعون کی جسمانی خامیوں ، کمزوریوں کی وجہ بھی یہی تھی کہ اس کے والدین میں بھائی بہن کا رشتہ تھا.طوطن خامن فرعون آج سے تقریباً 3500سال قبل مصر کا حکمرا ن تھا . مقبرہ فرعون کی رانی کا ہے جن کا نام خنت کاوس سوئم ہے،آثار قدیمہ کے ماہرین نے مصر میں لگ بھگ 4،000 سال پرانی قبر دریافت کی ہے. چیک آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق، یہ قبر فرعون کے شاہی گھرانے کی ایک ایسی رانی کی ہے جو مقبرے کی دریافت سے پہلے تاریخ میں نامعلوم تھیں.مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقبرہ مصر کی دارالحکومت قاہرہ کے جنوب مغرب میں 32 کلو میٹر کی دوری پر واقع قدیم ریاست ‘ابوسر.کے سب سے بڑے قبرستان میں دریافت ہوا ہے جو فراعین کی پانچویں نسل کے گھرانوں کے ساتھ منسوب ہے.ابو سر قدیم مصر کے دارالحکومت میمیفس کا پرانا شاہی قبرستان تھا. یہاں فرعون نفرفری کا اہرام ہے، جس نے4500 قبل مسیح پہلے مصر میں حکومت کی تھی.یہ دریافت شدہ قبر فرعون نفرفری کے مقبرے کے احاطے میں ملی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ فرعون نفرفری کی بیوی کا مقبرہ ہو سکتا ہے جسے رینفرف بھی کہا جاتا تھا.ایجنسی فرانس پریس کے مطابق، مصر کے وزیر آثار قدیمہ ممدوح الدمتی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مقبرہ فرعون کی رانی کا ہے جن کا نام ‘خنتکاوس سوئم.ہے رانی کا نام اور عہدہ قبر کی اندرونی دیوار پر کنندہ لکھائی سے معلوم ہوا ہے.انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو رانیاں بھی اسی نام کی دریافت کی جا چکی ہیں اسی لیے اس رانی کو خنتکاوس سوئم کے نام سے ظاہر ہوئی ہیں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ رانی کا نام مقبرہ تعمیر کرنے والے ہنرمندوں نے دیوار پر کنندہ کیا تھا.الدمتی کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہم نے اس رانی کا نام دریافت کیا ہے، جواپنے مقبرے کی دریافت سے پہلے تک ہماری نامعلوم تھیں.الدمتی نے مزید کہا کہ اس مقبرے کی دریافت سے ہمیں پانچویں نسل کے شاہی گھرانوں کے کچھ پوشیدہ پہلووں سے آگاہی حاصل ہوئی ہےجس نے فراعین کی چوتھی نسل کے ساتھ ملکر پہلے اہراممصر کی تعمیر کا مشاہدہ کیا تھا.مصری نودارات کی وزارت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ قبر مورخہ 2994.2345 قبل مسیح میں فرعون کے پانچویں نسل کے گھرانوں کے درمیان کی معلوم ہوتی ہے.ان کا کہنا تھا کہ مقبرے کی تلاش گذشتہ چند سالوں کی دریافت میں سے اہم ہے جو ایک بار پھر تصدیق کرتی ہے کہ ابو سر کا قبرستان قدیم مصری تاریخ کے اہم ادوار کو ازسرنو جاننے کے حوالے سے بڑی تعداد میں منفرد ذرائع فراہم کرتا ہے.مصر میں آثار قدیمہ کی چیک ماہرین میر سلاؤبارٹا کی قیادت میں 1976 سے ابو سر میں کام کر رہی ہے. ماہرین کو مقبرے کی دریافت کے ساتھ 30 برتن ملے ہیں جس میں سے 24چونے کے پتھراور 6 تانبے کے برتن ہیں.

زمین پر موجود وہ سات انسانی سٹرکچر جو خلا سے بھی نظر آتے ہیں

زمین پر موجود وہ سات انسانی سٹرکچر جو خلا سے بھی نظر آتے ہیں

  جمعرات‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2018  |  15:15

ہمارا سیارہ ایک بہت بڑی جگہ ہے اور کئی ہزار سال سے انسان اسے بڑے اور شاندار تعمیرات سے بھر رہے ہیں جیسے عظیم الجثہ اہرام، بلند و بالا دیواریں ، گنجان آباد شہر اور بہت کچھ۔مگر زمین کی سطح سے لگ بھگ 250 میل اوپر واقع انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے ہمارا یہ بڑا سیارہ کافی چھوٹا نظر آتا ہے، یہاں موجود گھر، سڑکیں اور عمارات نظرون سے اوجھل ہوجاتیں، یہاں تک کہ عظیم الشان تعمیرات بھی ایک نیلے، سفید اور سبز رنگ کی دھند میں گم ہوجاتے ہیں۔مگر پھر بھی کچھ اسٹرکچر ایسے ہیںجو زمین سے

خلاء میں ڈھائی سو میل کے فاصلے سے بھی نظر آتے ہیں جن میں سے کچھ نیچے دیئے گئے ہیں۔ گیزہ کے عظیم اہرامکیا آپ کو تصویر کے مرکز مین 2 چھوٹے سے تکونی سائے نظر آرہے ہیں؟ یہسائے درحقیقت انسانوں کی تعمیر کردہ چند ذہن گھمادینے والی عمارات میں سے ایک ہیں اور یہ مصر میں دریافت ہونے والے اہراموں میں سب سے زیادہ معروف ہیں ، یہ ہیں گیزہ کے اہرام۔ ان تینوں میں سب سے بڑا لگ بھگ 500 فٹ طویل ہے مگر خلاءسے یہ مصری صحرا مین ایک ننھے نشان جیسا ہی نظر آتا ہے۔ رات کو شہروں کی روشنیاںرات کے وقت شہروں کو جگمگانی والی روشنیاں بے شک ستاروں کو آسمان سے غائب کررہی ہوں، مگر خلاءسے دیکھا جائے تو بیشتر شہروں کی یہ مصنوعی روشنیاں اپنی کہکشاں بنائے نظر آتی ہیں، جن سے ان کے ارگرد کا علاقہ منور ہورہا ہوتا ہے۔ کیننیکوٹ کاپر مائنامریکی ریاست یوٹاہ کے علاقے سالٹ لیک سٹی کے جنوب میں واقع یہ کان دنیا کی چند بڑی کھلی کانوں میں سے ایک ہے۔ یہ ڈھائی میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور 4 ہزار فٹ گہری ہے، یہاں سب سے پہلے کان کنی کا آغاز 19 ویں صدی کے آخر میں ہوا۔ پلانسان زمانہ قدیم سے پلوں کو تعیر کررہے ہیں اور ہر دور میں ان میں بہتری ہی آئی ہے۔ ان میں کچھ انجنیئرنگ کا شاہکار بھی ہیں، ایسے عظیم الجثہ برج پانیوں کے اوپر سے گزر کر آمد و رفت کو ممکن بناتے ہیں، یہاں موجود تصویر آئی ایس ایس جانے والے ایک خلاءباز نے لی تھی جو کہ امریکا کے بے ایریا کی ہے۔ دبئی کے پام آئی لینڈزیہ پام آئی لینڈز انسان کے تعمیر کردہ جزیروں کے مجموعی پر مشتمل ہیں جو دبئی کے ساحل پر تعمیر ہوئے، ان جزیروں کی تعمیر کے لیے مزدورون نے خلیج فارس کی تہہ سے ریت کو نکالا اور اس کو ایسے انداز سے اسپرے کیا کہ وہ گہرے پانی میں جزیرے کی شکل اختیار کرگئی۔ کچھ جزیروں کو پام درختوں کی شکل مین تعمیر کیا گیا ۔المیرہ کے گرین ہاؤسز جنوبی اسپین کے صوبے المیرہ میں ساحلی علاقے پر بڑی تعداد میں گرین ہاؤسز کو تعمیر کیا گیا ہے جو 64 ہزار رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، یہاں ہر سال لاکھوں ٹن پھل اور سبزیوں کو اگایا جاتا ہے جنھیں دنیا کے مختلف مقامات پر برآمد کیا جاتا ہے، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان گرین ہاؤسز کو خلاءسے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی سرحدیہ دونوں ممالک روایتی حریف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دونوں کی سرحدی لکیر پر فلڈ لائٹس کو رات کو جلایا جاتا ہے تاکہ اسلحے، ٹریفکنگ اور دیگر جرائم کو روکا جاسکے۔ یہ روشنیاں اتنی زیادہ روشن اور نارنجی رنگ کی ہوتی ہیں کہ انہیں آئی ایس ایس سے بھی شناخت کیا جاسکتا ہے۔ اس تصویر میں اوپر کا روشن حصہ انڈیا جبکہ اس سے نیچے پاکستان کا ہے۔دن کی بہتر ین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس کے فیس بک پیج پر سینڈ میسج بٹن پر کلک کریں

سورج کی موت واقع ہوگی تو کیا ہوگا؟

سورج کی موت واقع ہوگی تو کیا ہوگا؟
جمعرات‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2018 | 5:12
کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ نظام شمسی کا سب سے بڑا ستارہ سورج جب ایک دن ختم ہو جائے گا تو کیا ہوگا۔ہماری دنیا سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ جب سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، جب سورج ڈوبتا ہے تو شام اور پھر رات۔ لیکن اگر کسی دن سورج نہ نکلے تو کیا ہوگا؟ اگر سورج کی موت آ جائے تو کیا یہ دنیا بھی ختم ہوجائے گی؟ تاروں کے ٹوٹنے کے بارے میں آپ نے سنا ہوگا۔ لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ نظام شمشی کا سب سے بڑا تارا

ایک دن ختم ہو جائے گا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگلے پانچ ارب سالوں میں سورج کی موت واقع ہو جائے گی۔ لیکن اب تک انھیں بھی اس بات کا علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔سورج کا سائز برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی میں ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اس کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بعض پیش گوئیاں کی ہیں۔ ان ماہرین فلکیات کے مطابق جب سورج کی موت کا وقت قریب آئے گا تو وہ انٹرسٹیلر (تاروں کے درمیان) گیس اور غبار کے ایک روشن چھلے میں تبدیل ہو جائے گا۔اس عمل کو ‘پلینیٹری نیبولا’ یا سیارے کے گرد گیس و غبار کے چھلے کہا جاتا ہے۔ اس کے سبب زندہ ستارے میں 90 فیصد تک تبدیلی آ جاتی ہے جس کے نتیجے میں سرخ رنگ کے اس عظیم الجثہ سورج کا سائز ایک سفید رنگ کے گولے کی طرح ہو جائے گا۔ ‘نیچر ایسٹرونومی’ کے عنوان کے تحت کیے جانے والے مطالعے کے ایک مصنف البرٹ زجلسٹرا نے بتایا: ‘جب ایک تارا مرتا ہے تو اس سے بہت سی گیس اور غبار نکلتا ہے جسے انولپ (یعنی لفافہ) کہا جاتا ہے۔ یہ دھول اور گیس سورج کے کل حجم کا نصف رہ جاتا ہے اور اس کے اثرات اس کے مرکز پر بھی پڑتے ہیں اور وہ رفتہ رفتہ کمزور ہو جاتا ہے۔’مرتے وقت سورج کیا کرے گا سائنسدانوں کے مطابق، یہ اس وقت ہوتا ہے جب ستارے کے گرم اندرونی حصہ سے نکلنے والا غبار اور گیس دس ہزار سال تک چمکتا ہے جو کہ عالم فلکیات میں ایک مختصر مدت ہے۔ اس طرح پلینیٹری نیبولا نظر آتا ہے۔ کئی نیبولے تو اتنے چمکدار ہوتے ہیں کہ انھیں لاکھوں نوری سال کی دوری سے دیکھا جا سکتا ہے۔ البرٹ زجلسٹرا نے کہا: ‘ہم نہ صرف کروڑوں سال پرانے ستارے کی موجودگی کا پتہ لگا سکتے ہیں، بلکہ اب ہم نے یہ بھی تلاش کر لیا ہے کہ مرتے وقت سورج کا کیا رد عمل ہوگا۔’مطالعہ کی تکمیل سے قبل سائنسدانوں کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ سورج کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ سورج کے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ جاننے کے لیے ماہرین فلکیات نے ایک نیا ڈیٹا ماڈل تیار کیا ہے۔ یہ ڈیٹا ماڈل مختلف عمر کے ستاروں سے نکلنے والی چمک کی بنیاد پر پیش گوئی کرتے ہیں۔ یہ نیا ماڈل جمع شدہ اعداد و شمار اور سائنسی قیاس کے ماڈل کے تضادات پر روشنی ڈالتا ہے۔ البرٹ نے کہا کہ ‘اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سورج جیسے کم وزنی ستارے سے بھی آپ کو روشن پلینیٹری نیبولا مل سکتا ہے۔’ اس سے قبل یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کم از کم سورج کے دگنا وزن والے ستارے سے ہی روشن نیبولا نظر آ سکتا ہے۔اب یہ پتہ چلا ہے کہ ستارے کی موت کے دوران جب وہاں سے گیس اور غبار نکلتے ہیں تو وہ پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اور اسی لیے سورج جیسا کمزور اور کم وزنی ستارہ بھی نیبولا بن جاتا ہے۔ اخیر میں البرٹ کہتے ہیں: ‘اس تحقیق کے نتائج بہترین ہیں۔ اب نہ صرف ہم نظام شمسی یا پھر اس سے دور کی کہکشاؤں موجود لاکھوں سال پرانے تاروں کے بارے میں پتہ لگانے کی طریقے جانتے ہیں بلکہ اب تو ہم نے یہ بھی تلاش کر لیا ہے کہ جب سورج کی موت آئے گي تو اس میں کیا تغیرات رونما ہوں گے۔’

Great Insult of Maryam Nawaz In Court Room

فیصل کمال پاشا *** محمد انیس

اسلام آباد … مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے بدھ کو کہا ہے کہ احتساب عدالت میں ان کے خلاف درج کردہ حوالہ جات کے پیچھے واحد مقصد انہیں وزیراعظم کے ہاؤس سے ہٹانے اور پروویز مشرف کے خلاف غداری کیس کو روکنے کے لئے تھا.

نواز نے کہا کہ اس نے آون فیلڈ کے حوالہ میں اپنے بیان کو مکمل کیا، جبکہ ان کے وکیل خواجہ حارس احمد نے احتساب عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے دفاع میں کسی بھی گواہ نہیں لائے گا کیونکہ پراسیکیوشن اس کیس کو قائم کرنے میں ناکام رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ اس کے کلائنٹ کو عدالت کے سامنے گواہی بھی نہیں دی جائے گی اور اس کیس کے قسمت کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لۓ اپنے ورژن کو پیش کرکے عدالت چھوڑ دیا گیا تھا. دریں اثنا، مریم نواز اور کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر آج (جمعرات) اپنے بیانات کو ریکارڈ کریں گے.

نواز، ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیوں کہ اس کے خلاف بدعنوانی کا حوالہ دیا گیا تھا، اس کی لمبائی چھ صفحات پر مشتمل تشریح کی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد شہری حکومت کی طاقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا.

“یہ تمام جھوٹے، بے بنیاد اور کم از کم بدعنوانی کے معاملات ان کے خلاف قائم ہوئے تھے کیونکہ میں سابق فوجی آمر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے خلاف ایک غداری مقدمہ بنائے اور کسی بھی دباؤ سے بچا نہیں سکا. میں نے کہا کہ ہمیں اپنا گھر گھر میں ڈالنے کی ضرورت ہے، میں نے قومی مفاد کے مطابق خارجہ پالیسی کو تشکیل دینے کی کوشش کی اور میں نے یہ سب کچھ کیا جیسا کہ میرا یہ خیال ہے کہ، کیا وزیر اعظم کی حیثیت سے، مجھے آئین کے تحت کیا کرنا چاہئے مینڈیٹ، “انہوں نے کہا.

نواز نے کہا، “شاید، ایک تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ میں کچھ مسائل میں رکاوٹ یا رکاوٹ ہوں اور صرف ایک ہی حل زندگی کے لئے ناگزیر ہے، پارٹی کے صدر سے مجھ سے ہٹانا اور میری سیاست پر پابندی عائد کرنا ہے.”

“مجھے سبق سکھانے کے لئے، مشرف کے غداری کیس سے بچانے کے لئے 2014 کے احتجاجی مظاہرے شروع کیے گئے ہیں. چاہے آپ مجھے ہجیکر، گودھولی، سلیش مافیا یا غدار کہتے ہیں، یہ مجھے بالکل متاثر نہیں کرتا. میں مٹی کا ایک بیٹا ہوں اور میں اس ملک سے تعلق رکھتا ہوں کہ ہر گندگی سے متعلق محبت کرتا ہوں. یہ کسی سے محب وطن کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے مجھ سے توہین ہے. ”

سابق وزیر اعظم نے کہا، “مجھے حکومت سے باہر ڈالنا کچھ لوگوں کی نظر سے مطمئن ہوسکتا ہے لیکن اس نے دنیا بھر میں نظام، جمہوریت اور پاکستان کا احترام کیا. جولائی 28، 2017 کیا فیصلہ بھی اس ملک کے عدالتی نظام کو دیا؟ ”

Nawaz Sharif Gone Mad When Judge Call Maryam At rostrum

احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے ممبروں کے خلاف بدعنوان کیسوں کو سنبھالنے والے سابق وزیراعظم کی طرف سے درخواست دی ہے کہ وہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ذریعہ درج کردہ تین ریفرنسز کے ساتھ جمع کریں.

سیکورٹی اہلکاروں نے نواز شریف کو عدالت میں لے جانے والی گاڑی کی حفاظت کی. – اے ایف پی
فیصلے کی اعلان کے بعد، شریف کو چھتری سے بلایا گیا اور جج نے اس کے خلاف الزامات کو پڑھا. سابق وزیراعظم کو ہر تین حوالوں میں علیحدہ علیحدہ کیا گیا تھا – انہوں نے تمام الزامات میں “مجرم نہیں” کی درخواست کی.

چھتوں پر، شریف نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے چھ ماہ کے اختتام پر لپیٹ کرنے کے لئے آخری وقت دیا ہے، اس مدت میں چار حوالہ جات کا مطلب یہ ہے کہ ہر معاملے میں صرف 1.5 مہینے ہوتے ہیں. تاہم، جج نے کہا ہے کہ اگر ایک بار سنا تو مقدمات وقت کے اندر اندر ختم ہوسکتے ہیں.

اگلے سماعت میں عدالت نے ان کی موجودگی کے لئے، عدالت نے پراسیکیوشن گواہوں کے لئے سمنوں کی بحالی کی. سیکوروریزس اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان اور سید جھنگیر احمد کے وفاقی بورڈ کے جھنگیر احمد کی.

15 نومبر کو ہونے والی سماعت ملتوی کرنے کے بعد شریف کے خاندان کے ارکان نے عدالت چھوڑ دیا.

عدالت نے منگل کو شریف دفاع کی درخواست پر دفاعی وکیل اور نیب کے پراسیکیوشن دونوں کے دلائل سننے کے بعد اپنا حکمران رکھی ہے.

نواز شریف کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی مریم نواز اور بہو سے ریٹائرڈ کپتان محمد صفدر نے بدھ کو اسلام آباد میں احتساب عدالت سے پہلے شائع کیا تھا جبکہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے پاناما کے کاغذات کیس کے فیصلے میں ریفرنس جاری کئے.

‘مجھے پتہ تھا کہ فیصلہ میرے خلاف ہوگا’
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وہ پاناما کے کاغذات کے خلاف دائر شدہ درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر پہلے سے ہی جانتے تھے کہ کیس کے فیصلے کبھی بھی ان کے حق میں نہیں آئے گی.

انہوں نے کہا، “یہ ججوں کو سختی سے بھرا ہوا ہے … ان کی پوجا اور غصہ الفاظ میں آ چکا ہے،” انہوں نے کہا، تفصیلی حکم میں استعمال ہونے والے مضبوط الفاظ پر تبصرہ کرتے ہوئے.

“یہ افسوس، غصہ اور الفاظ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن جائے گا.”

نوازشریف نے کہا کہ عدلیہ نے تاکتیکی قوانین کے دوران پاکستان کی تاریخ میں کئی سیاہ بابوں کو پیار کیا ہے اور جائزہ لینے کی درخواست پر فیصلہ “بھی لکھا خطوط” ہوگا.

See How Nawaz Sharif Take Revenge From Benazir Bhutto

پاکستان میں قیام کے لۓ ایک اور دھچکا بیان کیا جا سکتا ہے، وزیر اعظم نواز شریف کو دور کرنے کے دوران احتساب عدالت میں اپنے بیان کو ریکارڈ کرنے کے دوران ان کے خلاف سازش کی فوجی سازش کا الزام لگایا گیا تھا.

اپنے بیان میں، نواز شریف نے کہا کہ 2014 میں بیٹھ کر اس کے باہر نکلنے کی کوشش کی اور اس وقت آرمی ہائی کورٹ کی حمایت کی. اس کے علاوہ، نواز شریف نے عدالتوں کے ذریعے ان کا شکار کرنے کی فوج کے قیام پر الزام لگایا.

روزانہ
رپورٹ

ایشیا بھر سے پڑھنا ضروری ہے – براہ راست اپنے ان باکس میں

آپ کا ای میل یہاں
ایک جذباتی شریف نے اپنے بیان میں بھی سوال اٹھایا کیوں کہ صرف منتخب نمائندوں کو بدعنوانی اور غداروں کے طور پر قرار دیا جاتا ہے، اور مزید کہا کہ وجوہات کی تحقیقات کی جانی چاہیئے.

نواز شریف نے یہ بھی بتایا کہ وہ سابق آرمی چیف مشرف کو عدالت میں لے کر قانون کے مطابق غداری مقدمہ شروع کرنے کے لئے فوج کی طرف سے نکال دیا گیا ہے.

ایک محافظ شریف نے بھی عدلیہ کی کردار اور احتساب جج پر تنقید کی ہے اگر وہ پوچھ سکتے ہیں کہ سینئر ججوں نے ہمیشہ مارشل قانون کی توثیق کی ہے، جو آئین کی روح کے خلاف تھا، اور کیوں مشرف کی ڈپٹیٹروں کو آئین کو معطل کرنے کے مقدمے پر مقدمہ نہیں کیا گیا.

نواز شریف نے پاناما کے کاغذات کیس میں اس کے فریم ورک کے قیام پر الزام لگایا تھا، اس حقیقت کے باوجود اس کا نام پاناما لیک میں شامل نہیں تھا.

انہوں نے مشرف کے عدالت انصاف کو لانے کے لئے کوشش کرنے کے لئے ان کے خلاف ایک سازشی اور بدلہ کا ایک مکمل عمل پاناما کے کاغذات کا معاملہ قرار دیا.

نوازشریف نے یہ بھی کہا کہ سابقہ ​​انٹیلی جنس کے سربراہ نے انہیں استعفی دینے یا ایک طویل چھٹی پر جانے کے لئے کہا تھا، لیکن انہوں نے اس مشورہ کو نہیں سنائی، جس کے نتیجے میں ایک متنازعہ عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں ان کی مدد کی گئی تھی.

جیسا کہ سب کچھ کافی نہیں تھا، نواز شریف عدالت کے عملے کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہیں اور اپنے عدالت کا بیان پڑھتے ہیں، یہ عوامی اور ہر ایک سے واقف ہوتے ہیں.

نواز شریف پاکستان کی تاریخ میں پہلا سیاست دان ہے جس نے نہ صرف عسکریت پسندوں کے براہ راست اثرات اور شہریوں کی حکومتوں کو ختم کرنے کے سازشوں پر مبنی الزامات مرتب کیے ہیں، بلکہ اس طرح کی ایک بیان بھی عدالت کی کارروائی کا حصہ بنا دیا ہے.

Outstanding Speech By Kaptan In Parliament

قومی اسمبلی نے جمعرات کو خیبر پختون خواہ (خیبر پختونخواہ) کے ساتھ وفاقی انتظامیہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے بہت سے منتقلی کے لۓ آئینی ترمیم منظور کردی.

جمعیت علماء اسلام – فضل (جے یو آئی ایف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) کے وکیلوں نے ووٹ سے پہلے اسمبلی سے باہر نکلنے کا انتخاب کیا. پی ٹی آئی سے داور کنڈی حتمی شمار میں واحد متفق ووٹ تھا.

سینیٹ کا ایک اجلاس جمعہ (کل) کو بلایا گیا ہے اور بل کا جائزہ لینے کے لئے کہا گیا ہے.

ایک ساتھ آنے کے لئے حکومت، اپوزیشن جماعت کی پارلیمان
وزیر اعظم شاہد خاق عباسی نے “تاریخی” بل کے حق میں ووٹ دینے کے لئے اپوزیشن بینچ کا شکریہ ادا کیا.

عمران خان کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے – جس میں پی ٹی آئی کے سربراہ نے ہجرت، پیسہ لاؤنڈنگ اور پاناما کے کاغذات کا مقدمہ اٹھایا ہے – وزیر اعظم نے کہا کہ وہ غیر متعلقہ معاملات کے بارے میں بات کرتے ہوئے تاریخی بل سے توجہ نہیں دینا چاہتا.

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو آج متنازع معاملات پر چھوڑا نہیں ہونا چاہئے. “آج، ہم [پارلیمان] نے ثابت کیا ہے کہ اتفاق رائے [قومی اہمیت کے معاملات پر] قائم کیا جاسکتا ہے.”

انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری کوشش – ہماری تمام کوششوں کو تمام قومی مسائل پر اتفاق کرنا ہوگا.”

خان، جس نے عباسی کے سامنے حق پارلیمنٹ کو خطاب کیا، پارلیمنٹ اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود پارلیمان کو بھی مبارکباد دی.

انہوں نے کہا، “قبائلی عوام فوری طور پر انصاف چاہتے ہیں، جیسا کہ ہم نظام کے تحت خیبرپختونخواہ میں ہیں.”

لیکن خان، جو دو سال بعد پارلیمان میں پیش آیا تھا، جلد ہی اس موضوع سے الگ ہو گیا تھا کہ اس گھر سے اپنی طویل غیر موجودگی کی وضاحت کرنے کے لئے بولی لگ رہی تھی.

خزانہ بنچوں کی بڑھتی ہوئی جلدی سے زیادہ، خان نے کہا کہ پارلیمان کی اپنی شکایتوں کو سننے میں ناکام ہونے کے بعد ان کی پارٹی نے 2014 ء میں بیٹھ لیا تھا.

انہوں نے کہا کہ “ہمیں قومی اسمبلی اور دیگر اداروں سے کوئی جواب نہیں مل سکا.”

انہوں نے کہا کہ “ایک سال کے بعد [جواب کے انتظار میں] ہم بیٹھے ہوئے ہیں،” اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہ “ایک جمہوریہ کے طور پر” یہ احتجاج کرنے کا حق تھا اور لوگوں کے حقوق کے لئے حوصلہ افزائی کرتا تھا.

ا

Such Cheap act by Molana Fazal ur Rehman

اسلام آباد: افغان طالبان نے پاکستانی مذہبی علماء کو اس ہفتے انڈونیشیا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.

کانفرنس افغانستان اور انڈونیشی عالموں نے بھی افغانستان میں امن کے لئے دباؤ ڈالے جائیں گے.

11 مئی کو کانفرنس افغانستان میں تشدد کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کرنے کا امکان ہے کہ افغانستان باغیوں کے لئے شرمندہ ہوسکتا ہے، جو پہلے سے ہی افغان افغان مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے دباؤ میں ہیں.

اجلاس میں پہلے ہی مارچ میں منعقد ہونے کا ارادہ کیا گیا تھا لیکن طالبان تاخیر جاری کرنے کے بعد میں تاخیر کررہے تھے، اس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی حملہ آوروں کی طرف سے “انٹیلی جنس چلو” کہا ہے کیونکہ وہ جنگ میدان پر شکست کا سامنا کرتے ہیں. “طالبان نے انڈونیشیا سے بھی اس طرح کے کنونشنوں کو سہولت نہیں دی تھی.

جیسا کہ انڈونیشیا اور افغان حکام اب سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کانفرنس ہو جائے گی، طالبان ایک ایسے وقت میں مذہبی اجتماع کے نتائج کے بارے میں فکر مند ہیں جب انہوں نے اپنے موسم بہار کے آغاز کے آغاز کے بعد حملوں کو تیز کردیا ہے.

طالبان پاکستانی علماء کی ممکنہ شمولیت پر تشویشناک ہیں، خاص طور پر جنہوں نے طویل عرصے سے باغیوں کی وجہ سے ہمدردی کے طور پر سمجھا جاتا ہے.

ڈیلی ٹائمز نے پاکستانی ملازمین اور بعض دیگر شخصیات کو ‘علماء’ تک پہنچنے کے لئے ایک طالبان پیغام بھیجا ہے اور ان کانفرنس کو چھوڑنے کے لئے کہا ہے.

پیغام نے 22 پاکستانی شخصیات کے ناموں کا ذکر کیا ہے جو طالبان پر یقین رکھتے ہیں کہ افغانوں اور انڈونیشیا کے علماء علماء نے ان کے خلاف تشدد کے اثرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے علماء کے پہلے تر پارلیمانی اجلاس میں شامل ہونے کا امکان ہے.

“شرکاء کی فہرست میں کئی علماء ہیں، جو ہمارے ملک اور مجاہدین (طالبان) پر اثر انداز کر رہے ہیں اور وہ اچھی ساکھ سے لطف اندوز ہوتے ہیں. اگر وہ کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تو یہ ہمارے مفاد میں ہو گا اور ان کی غیر موجودگی سازشی سے محروم ہوجائے گی. ”

پاکستانی دعوت نامہ زیادہ تر ایسے افراد ہیں جنہوں نے اس سال جنوری میں ‘فتوا’ پیش کی تھی جس میں انہوں نے متفق طور پر دہشت گردی کے تمام اقسام اور خودکش حملہ غیر اسلامی قرار دیا. ملک کے تمام اسلامی اسکولوں کے 1،829 صحافیوں نے دستخط کئے، 49 صفحات کا دستاویز، صرف پاکستان میں دہشت گردی کے بارے میں تھا. افغان صدر اشرف غنی نے “پاہد آف پاکستان” یا “پاکستان کا پیغام” نامزد کیا تھا، اور کہا کہ اسلامی تعلیمات صرف ایک ملک تک محدود نہیں ہوسکتی تھیں.

Dabang Speech of Imran Khan In Assembly After Long Time

اسلام آباد: شاہراہ کے رویے سے زیادہ شاہی نے گرمی میں ایک اور حکمرانی پارٹی کے قانون ساز بنائے ہیں: نہایت ہشمی نے سینیٹ کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں ایک ویڈیو ویڈیو کے بعد وائرس چلا گیا تھا. “ان تحقیقات” کے وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کے خلاف اپنی ڈائری دکھایا.

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 28 مئی کو کراچی میں واقع ہونے والے ایک دھماکہ خیز تقریر کو سپریم کورٹ سے فوری ردعمل کا اظہار کیا تھا، اس کے ساتھ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انکوائری نوٹس لے کر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو جمعرات (آج) پینامیٹ جیٹ کا کام ایک نوٹس بھی پاکستان کے لئے اٹارنی جنرل کو بھی جاری کیا گیا تھا.

“آج آپ فرض پر ہیں. یاد رکھیں، آپ کو کل ریٹائرمنٹ کیا جائے گا. ہم آپ کی زندگی اور آپ کے خاندان کے اہلکاروں کو پاکستان میں بدقسمتی سے بنا دے گی. “ہشمی کو ایک مختصر ویڈیو کلپ میں ایک ناظرین کے بارے میں بتایا گیا تھا.

“سن! آپ نوازشریف کے بیٹے سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کی تفصیلات جمع کروائیں. آپ کون اس کے اکاؤنٹ کی تفصیلات سے پوچھیں گے ہم نواز شریف کے کارکن ہیں. ہم ان لوگوں کا ایک مثال بنیں گے جو ہمارا جواب دہندہ ہے. ہم ان لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے ہمیں احتساب کیا ہے اور جو ہمیں ہمیں جواب دہانہ بنا رہے ہیں، “ہشمی نے ویڈیو میں کہا ہے کہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور جیو ٹی کے اراکین نے اعلی عدالت کی طرف سے تشکیل دیا ہے کہ وہ شریف خاندان کے غیر ملکی جائداد کی تحقیقات کریں.