عدل و انصاف

عدل و انصاف
بدھ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2018 | 9:30
حضرت موسیٰ ؑ نے ایک دفعہ اللہ سے عرض کیا اے اللہ مجھے اپنے عدل وانصاف کا کوئی نمونہ دکھا‘ حکم ہوا‘ فلاں مقام کی طرف چلے جاﺅ‘ وہاں ہمارے انصاف کا نمونہ دیکھ لو گے‘ موسیٰ علیہ السلام اس مقام کی طرف چلے گئے جہاں چند درختوں کے جھنڈے تھے اور پانی کا صاف اور ستھرا چشمہ بہہ رہا تھا‘ آپ ان درختوں میں چھپ کر بیٹھ گئے کہ ایک گھوڑا سوار آیا اور چشمہ سے تھوڑا سا پانی پیا اور ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی وہیں‘بھول کر چلا گیا‘ اتنے میں ایک کمسن لڑکا وہاں آیا اور تھیلی اٹھا

اور تھیلی اٹھا کر چلتا بنا‘

اس کے بعد ایک اندھا شخص آیا اور چشمہ سے وضو کرنے لگا مگر ادھر سوار جب تھوڑی دور پہنچا تو اسے تھیلی یاد آئی تو فوراً پلٹ کر چشمہ پر آیا اور اندھے سے پوچھا‘ تم نے میری اشرفیوں سے بھری تھیلی تو نہیں اٹھائی؟ اندھے نے جواب دیا‘ مجھے کوئی خبر نہیں‘ میں نے کوئی تھیلی نہیں اٹھائی‘ اس پر سوار کو غصہ آیا اور اس نے اندھے کو قتل کر دیا‘

موسیٰ علیہ السلام یہ سب ماجرا دیکھ رہے تھے‘ اللہ نے وحی بھیجی کہ موسیٰ تعجب کی کوئی بات نہیں‘ کم سن لڑکے نے اپنا حق پا لیا کیونکہ گھوڑے کے سوار نے اس لڑکے کے باپ سے ہزار اشرفیاں ناحق چھینی تھیں اور اندھے نے سوار کے باپ کو ناحق قتل کر ڈالا تھا تو ہر ایک حق دار کو اس کا حق مل گیا۔ (نزہة المجالس صفحہ 104‘ جلد دوم)

چیزیں

سلطان قزل ارسلان ایک ایسے مضبوط قلعے میں رہتا تھا جسے کوئی دلیر سے دلیر فوج بھی فتح کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی‘ اس قلعے کی بلندی کوہ الوند سے برابری کا دعویٰ کرتی تھی اور یہ قلعہ مضبوطی کے علاوہ اپنی تعمیر میں بھی نہایت دلفریب اور خوش منظرتھا‘ اس قلعے کی روئے زمین پر کوئی مثل نہ تھی‘ یہ قلعہ اردگرد کے مناظر کے اعتبار سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے سبزطباق میں کوئی انڈا رکھا ہوا ہو۔ایک مرتبہ ایک درویش سیاحت کرتا ہوا اس قلعے کی جانب آ نکلا‘ اس درویش کو سلطان قزل ارسلان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا‘ سلطان قزل ارسلان نے اس درویش سے سوال کیا کہ تم نے دنیا دیکھی ہے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے‘ کیا تم نے روئے زمین پر اس طرح کا مضبوط اور خوش نما قلعہ کہیں دیکھا ہے؟ تمہاری اس قلعے کے متعلق کیا رائے ہے؟ کیا کوئی ایسا ہے جو اس قلعے کو فتح کر سکے!

اس درویش نے جب سلطان قزل ارسلان کی بات سنی تو ہنس پڑا اور بولا کہ تیرا یہ قلعہ بلاشبہ اچھا ہے لیکن میں اس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کر سکتا کہ یہ مضبوط بھی ہے‘ کیا تو جانتا نہیں کہ تجھ سے پہلے جو لوگ اس میں رہتے تھے یہ قلعہ موت سے ان کی حفاظت نہیں کر سکا‘ اسی طرح یہ قلعہ تیری بھی موت سے حفاظت نہیں کر سکے گا اور تیرے بعد یقینا اس میں اور لوگ آباد ہوں گے۔ پھر اس درویش نے سلطان قزل ارسلان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے سلطان! تو اپنے باپ کے دور حکومت کو یاد کر اور اس بات کو دل سے باہر نکال پھینک کہ تو ہمیشہ اس قلعے میں رہنے والا ہے۔

حضرت شیخ سعدیؒ اپنی اس حکایت میں دنیا سے انسان کے حقیقی تعلق کو بیان کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ہر شخص ایک مقررہ وقت تک اس دنیا میں اپنا وقت گزارتا ہے‘ انسان اپنی ساری زندگی اسی جستجو میں بسر کر دیتا ہے کہ وہ اپنے لئے زیادہ سے زیادہ آسائش اور پرتعیش زندگی کا سامان اکٹھا کر لے‘ موت انسان کے سر پر منڈلا رہی ہوتی ہے اور پھر جب وہ اس کا انجام بن کر اس کے سامنے آتی ہے تو اسے یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ جن چیزوں کو وہ حقیقت سمجھتا رہا اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں تھی۔

امام ابوحنیفہ

امام ابوحنیفہ
جمعرات‬‮ 10 مئی‬‮‬‮ 2018 | 13:14
امام ابوحنیفہ کے کپڑے کی دکان تھی ۔اذ آپ مدرسے کے بعد وہاں تجارت کرتے تھے.امت محمدی کو اگر تجارت کسی نے سکھائی ہے وہ یا تو خلیفہ اول ابو بکر صدیق تھے یا پھر امام ابو حنیفہ ۔ ایک دن ظہر کی نماز کے بعد اپنی دکان بند کردی اور جانے لگے تو ساتھی دکاندار نے کہا ” ابو حنیفہ آج تو جلدی نکل لیے کہاں جارہے ہے آپ آج اتنی جلدی ” امام ابو حنیفہ نے فرمایا ” آپ دیکھ نہیں رہے کہ آسمان پہ کالے بادل آچکے ہیں” اس شخص نے کہا ” یا نعمان آسمان کے

بادلوں کا دکان سے کیا لینا دینا” امام ابو حنیفہ نے فرمایا “جب بادل گہرے ہوجاتے ھےتو چراغ کی روشنی اندھیرا ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے گاہک کو کپڑے کی ورائیٹی کا پتہ نہیں چلتا اسکو کوالٹی کی پہچان نہیں ہوتی ۔ میں نے اس وجہ سے دکان جلدی بند کردی کہ میرے پاس آیا ہوا گاہک کم قیمت کپڑے کو قیمتی سمجھ کر زیادہ پیسے نہ دے ۔” آج کے دکانداروں کے پاس جاکر پتہ چلتا ہے کہ جب انکے پاس کوئی معصوم گاہک آجاے تو وہ انکو ایسی قینچی سے زبح کرلیتے ھے کہ دو نمبری کپڑا بھی ایک نمبر کی قیمت پہ فروخت کرلیتے ھے۔ بلکہ آجکل تو باقاعدہ سے گاہک کو لوٹنے کے عجیب وجیب طریقے آے ھے ۔ کپڑے کے دکانداروں کے علاوہ باقی سب لوگ شیئر کریں

کعبہ کے فرش پر لگا انتہائی نایاب سفید پتھر رات اور دن میں اس پتھر کے باریک مسام کیا کام کرتے ہیں ؟ حیران کن رپورٹ

کعبہ کے فرش پر لگا انتہائی نایاب سفید پتھر رات اور دن میں اس پتھر کے باریک مسام کیا کام کرتے ہیں ؟ حیران کن رپورٹ
بدھ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:32
موسم گرما میں جب سورج آگ برسا رہا ہوتا ہے تو مسجد حرام اور حرم کا فرش اس وقت بھی زائرین کو ٹھنڈک کا احساس دلاتاہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حرمین کے جنرل امور کے ذمہ دار ادارے کے حکام نے کہا ہے کہ گرمیوں میں بھی سنگ مرمر کی ٹھنڈک کی وجہ اس پتھر کی خاصیت ہے۔ یہ پتھر قدرتی طور پر ہی ایسی ساخت رکھتا ہے جو گرمیوں میں بھی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔حرمین شریفین کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ گرمی اور روشنی دونوں کو منعکس کرنے والا یہ سنگ مرمرالتاسوس کہلاتا ہے۔جو بہتنایاب پتھر ہے۔

اور قدرتی سنگ مرمر میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔ اس پتھر کو یونان کے پہاڑوں سے نکالا گیا اور وہاں سے حرم مکی کے لیے لایا گیا ہے۔خیال رہے کہ حرم مکی میں پانچ سینٹی میٹر موٹی ٹائلیں لگائی گئی ہیں۔یہ پتھر رات کے اوقات میں باریک مساموں کے ذریعے رطوبت جذب کرتے ہیں اور دن کے وقت اس رطوبت کو خارج کرتے ہیں۔اس طرح یہ پتھر قدرتی طور پر بھی گرمی میں ٹھنڈا رہتا ہے۔ جہاں تک فرش کے نیچے ٹھنڈا پانی چھوڑنے کی بات ہے تو وہ قطعی بے بنیاد ہے۔

امریکی ’ان پڑھ‘ استاد جو 17 سال تک سکول میں پڑھاتا رہا

امریکی ’ان پڑھ‘ استاد جو 17 سال تک سکول میں پڑھاتا رہا
بدھ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2018 | 14:50
جان کورکورین سنہ 40 اور 50 کی دہائیوں میں میکسیکو اور امریکہ میں پلے بڑھے۔ چھ بھائی بہن میں وہ ایک تھے۔ انھوں نے ہائی سکول کیا، یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور پھر 60 کی دہائی میں پڑھانے لگے۔وہ 17 سال تک یہ خدمت انجام دیتے رہے لیکن اب وہ اپنے غیرمعمولی راز سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ بچپن میں والدین نے کہا تھا کہ میرے اندر جیت کا جذبہ ہے اور چھ سال تک میں اپنے والدین کی اس بات کو سچ سمجھتا رہا۔ میں نے دیر سے بولنا سیکھا لیکن اس امید پر سکول گیا کہ میں

اپنی بہن کی طرح پڑھنے لگوں گا۔ ابتدا میں سب ٹھیک تھا۔دوسرے درجے میں ہمیں پڑھنا سیکھنا تھا۔ لیکن میرے لیے یہ کسی چینی اخبار کو کھول کر پڑھنے سے کم نہیں تھا۔ مجھے پتہ نہیں کہ اس میں کیا لکھا تھا اور چھ، سات اور آٹھ سال کے بچے کے طور پر میں اس مسئلے کو حل کرنے سے قاصر تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں رات کو دعا کرتا تھا کہ ‘خدایا جب میں کل صبح اٹھوں تو مجھے پڑھنا آتا ہو۔’ میں رات کو کبھی روشنی جلا کر کتاب دیکھتا کہ کوئی کرشمہ ہوا یا نہیں۔میں سکول میں بدھو لڑکوں کی قطار میں ہوتا جنھیں پڑھنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ مجھے پتہ نہیں کہ میں وہاں کیسے پہنچا، وہاں سے کیسے نکلوں اور کیا سوال پوچھوں۔جب آپ بدھو لڑکوں کی قطار میں ہوتے ہیں تو آپ خود کو بدھو سمجھنے لگتے ہیں۔ٹیچر میٹنگ میں میری ٹیچر نے میرے والدین سے کہا: ‘یہ سمارٹ ہے، یہ کر لے گا’ اور مجھے تیسری جماعت میں پہنچا دیا گیا۔اسی طرح مجھے چوتھی اور پانچویں جماعت میں پہنچا دیا گیا لیکن مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔پانچویں میں پہنچتے پہنچتے میں نے پڑھنے کی امید چھوڑ دی تھی۔ روزانہ صبح اٹھتا، تیار ہوتا جیسے میں کسی جنگ پر جا رہا ہوں۔ مجھے کلاس روم سے نفرت تھی۔ وہاں کا ماحول معاندانہ تھا اور مجھے اس میں جینا تھا۔میں ساتویں جماعت میں عموما پرنسپل کے کمرے میں بیٹھا ہوتا۔ میں لڑتا تھا۔ میں ضدی تھا، میں جوکر تھا، میں خلل دینے والا تھا اور مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔لیکن میرا اندرون ایسا نہیں تھا۔ میں ویسا نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میں کچھ اور بننا چاہتا تھا، کامیاب ہونا چاہتا تھا، اچھا طالب علم ہونا چاہتا تھا لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔جب آٹھویں جماعت میں پہنچا تو میں خود کو اور گھر والوں کو پشیمان کرنے سے تھک چکا تھا۔ اس لیے میں نے شریف بننے کی ٹھان لی۔ اگر آپ سکول کے نظام کے ساتھ چلتے ہیں تو آپ کو راستہ مل جاتا ہے۔ اس طرح میں ٹیچر کا پالتو بن گیا اور پاس ہونے کے لیے ہر ضروری کام کرنے لگا۔میں ایتھلیٹ بننا چاہتا تھا کیونکہ میں اس میں اچھا تھا اور میری ریاضی بھی اچھی تھی۔ مجھ میں سماجی ہنر بھی تھا۔ میں بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ میں نے سکول کی سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والی لڑکی کے ساتھ ڈیٹ کیا تھا اور لڑکیاں زیادہ تر میرا ہوم ورک کر دیتی تھیں۔میں اپنا نام اور کچھ الفاظ لکھ سکتا تھا لیکن ایک جملہ پورا نہیں لکھ سکتا۔ لیکن میں نے کسی کو نہیں بتایا کہ میں لکھ پڑھ نہیں سکتا۔امتحان میں یا تو میں کسی کی کاپی دیکھ کر نقل کرتا یا پھر اپنی کاپی دوسرے کے حوالے کر دیتا جو میرا جواب لکھ دیتا تھا۔لیکن جب میں ایتھلیٹک کی سکالرشپ پر کالج گیا تو وہاں کہانی ہی دوسری تھی۔میں نے سوچا کہ سب تو میرے سر سے اوپر سے گزر رہا ہے اور میں اس سے کیسے نکلوں گا۔ میں نقل کرنے کا ہر حربہ استعمال کرتا۔ایک امتحان میں پروفیسر نے چار سوال کیے۔ میں سب سے پیچھے بیٹھا تھا۔ میں نے بہت محنت سے چاروں سوال اتارے لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ ان کا مطلب کیا ہے۔میں نے سکول کے شاید سب سے سمارٹ لڑکے کو کھڑکی کے پاس رکھا جو میرا جواب لکھے گا۔ وہ ذرا شرمیلا تھا اور میری نامی کی ایک لڑکی سے دوستی چاہتا تھا۔ایک دوسرا امتحان پاس کرنا میرے لیے بہت ضروری تھا اور میں نے نصف شب کو پروفیسر کے گھر چوری کی لیکن مجھے کچھ نہ ملا۔ تین رات ایسا ہی کیا لیکن کچھ نہ ملا، پھر اپنے تین دوستوں کے ساتھ وہ الماری اٹھا لایا جس میں امتحان کا پرچہ ہو سکتا تھا۔ میں نے تالا کھولنے والے کو تیار کر رکھا تھا اور مجھے امتحان کے پرچے مل گئے اور ایک ذہین لڑکے نے تمام سوالات کے صحیح جواب لکھ دیے۔میں نے الماری واپس اس کی جگہ پر جا رکھی اور سوچا کہ مشن پورا ہوا لیکن میں بستر میں آ کر خوب رویا۔ میں نے کسی سے مدد کیوں نہیں مانگی۔ شاید میں سوچتا تھا کہ کوئی مجھے پڑھنا سکھا ہی نہیں سکتا۔لیکن میں تدریس کے لیے کیوں گیا؟ میں نے پکڑے گئے بغیر سکول، کالج کر لیا تھا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ میں ٹیچر کے بھیس میں چھپ سکتا ہوں کیونکہ کوئی بھی ٹیچر کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ اسے پڑھنے نہیں آتا۔میں نے طرح طرح کے کام آزمائے۔ میں ایتھلٹکس کا کوچ بنا۔ میں سوشل سائنس پڑھاتا تھا۔ میں ٹائپنگ پڑھاتا تھا۔ میں ایک منٹ میں 65 لفظ ٹائپ کر لیتا تھا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ کیا ٹائپ کیا ہے۔ میں نے کبھی بھی بلیک بورڈ کا استعمال نہیں کیا۔ ہم کلاس روم میں بہت سی فلمیں دیکھتے اور بحث و مباحثہ کرتے۔مجھے یاد ہے کہ میں کس قدر سہما ہوا رہتا تھا۔ میں بچوں کا نام بھی نہیں پڑھ کر پکار سکتا تھا۔ اس لیے بچوں سے کہتا کہ وہ خود ہی اپنا نام اور رول نمبر بتا دیں۔ میں دو تین لڑکوں کو شروع میں چھانٹ لیتا تھا جو میرے خیال سے کلاس میں سب سے اچھا پڑھتے لکھتے تھے کہ وہ میری مدد کریں۔ وہ میرے معاون تھے لیکن انھوں نے کبھی مجھ پر شک نہیں کیا کیونکہ استادوں پر شک نہیں کیا جاتا۔پھر میری شادی ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ اب اپنی بیوی سے سب سچ بتا دوں۔ آئینے کے سامنے مشق کرتا۔ایک شام میں نے اسے بتا دیا: ‘کیتھی میں پڑھ نہیں سکتا، مجھے پڑھنا نہیں آتا۔’لیکن اسے میری بات سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ سمجھی کہ میں زیادہ کتابیں نہیں پڑھتا۔ محبت اندھی اور بہری ہوتی ہے۔ پھر ہمارا ایک بچہ پیدا ہوا۔ اور جب ہم اسے پڑھا رہے تھے تو کہیں جا کر وہ سمجھی کہ میں کیا کہہ رہا تھا۔میں نے سنہ 1961 سے 1978 تک پڑھایا اور پھر میں نے نوکری چھوڑ دی اور پھر آٹھ سال بعد میری زندگی اس وقت بدل گئی جب بابرا بش کو میں نے ٹی وی پر تعلیم بالغاں کے بارے میں بات کرتے سنا کیونکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں واحد آدمی میں ہی ہوں جو اس پریشانی سے دو چار ہے۔میں نے ایک رضاکار خاتون کی خدمات حاصل کیں اور ان سے پڑھنے لگا۔ مجھے لگا کہ مجھے ایک نیا جنم ملا ہے۔ جب آپ کو پڑھنا نہیں آتا تو آپ اپنے بچپن میں قید رہتے ہیں۔ نفسیاتی، جذباتی، تعلیمی، روحانی، ہر اعتبار سے آپ بچے ہی رہتے ہیں۔مجھے مکمل مہارت حاصل کرنے میں سات سال لگے لور میرا ضمیر اس وقت جا کر صاف ہوا جب واقعی مجھے پڑھنا آ گیا۔کیا میں لوگوں کو بتا دوں؟ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ میرے خاندان پر اس کا کیا اثر ہو گا؟ لوگ میرے بچوں کے بارے میں کیا سوچیں گے؟آخر ہمت کر کے میں نے لوگوں کو بتا دیا۔ پہلے تو انھیں یقین ہی نہیں آتا تھا۔ سب سمجھتے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔لیکن میرا پیغام یہ ہے کہ مجھ جیسے لوگ بدھو نہیں ہوتے اور کسی کام کا آغاز کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ ہم کسی بھی عمر میں سیکھ سکتے ہیں۔48 سال تک میں اندھیرے میں تھا لیکن اب اپنے بھوت سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ پڑھنا مشکل ضرور لیکن ناممکن نہیں۔

اگر آپ اپنی ہڈیوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو اس عام سی چیز کو اپنی خوراک کا حصہ بنالیں

اگر آپ اپنی ہڈیوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو اس عام سی چیز کو اپنی خوراک کا حصہ بنالیں
جمعرات‬‮ 10 مئی‬‮‬‮ 2018 | 9:14
محققین نے بزرگوں کے لئے دہی کے استعمال کو انتہائی فائدہ مند قرار دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس میں کولہے کی ہڈی کیلئے زیادہ کثافت ہوتی ہے اور یہ بزرگ مرد اور خواتین میں آسٹروپروسس کے خطرات کو کم کردیتا ہے۔آسٹروپروسس ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیوں کی مضبوطی کم ہو جاتی ہےاور ہڈی فریکچر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔تحقیق میں معلوم ہوا کہ خواتین کا دہی کھاناان میں 31فیصد آسٹو پینیا(ایسی حالت جس میں جسم نئی ہڈی نہیں بناتا)اور 39فیصد آسٹروپروسس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔اس کے برعکس مردوں میں دہی کا استعمال آسٹروپروسس کا

52فیصد تک ختم کر سکتا ہے۔

سٹیفن ہاکنگ دنیا سے جاتے جاتے کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھا گیا

سٹیفن ہاکنگ دنیا سے جاتے جاتے کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھا گیا
جمعرات‬‮ 10 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:36
اسٹیفن ہاکنگ رواں برس 14 مارچ کو 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے،وہ گذشتہ 4 دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک پیچیدہ بیماری میں مبتلا تھے اور وہیل چیئر پر بیٹھ کر سائنسی میدان میں خدمات انجام دے رہے تھے،بلیک ہولز اور نظریہ اضافیت پر انقلابی تحقیقاتی مقالے لکھنے پر اسٹیفن ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد دوسرا سب سے بڑا اور باصلاحیت سائنس دان سمجھا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔انہوں نے آئن سٹائن کی طرح سائنسی میدان میں انقلاب برپا کیا ہے،ان کی خدمات صدیوں

یاد رکھی جائیں گی،جسمانی طور پر معذور شخص مرتے مرتے ایسا کام کرگیا ہے شاید کو ئی تندرست سائنسدان ایسا کام کرسکے۔ان کا آخری مقالہ منظر عام پر آگیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کائنات ایک نہیں بلکہ اَن گنت ہیں، اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی وفات سے 10 روز قبل سائنسی جریدے ‘ہائی انرجی فزکس’ کو یہ مقالہ بھیجا تھا،جس میں ایک سے زائد کائنات ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس مقالے پر انہوں نے بیلجیئم کی کے یو لیووین یونیورسٹی کے پروفیسر تھومس ہرٹوگ کے ساتھ مل کر کام کیا تھا،یہ مقالہ پروفیسر ہاکنگ اور پروفیسر ہرٹوگ کی 20 سالہ محنت کا نتیجہ ہے، جس کی بنیاد آنجہانی سائنسدان کی ہی ایک تحقیق بنی۔واضح رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ نے 1980 میں ایک امریکی سائنسدان ہارٹل کے ساتھ کائنات کے نکتہ آغاز کے حوالے سے تحقیق کی تھی، جس کے دوران انہوں نے کائنات کے مختلف پہلووں کو جانچا تھا۔جب دوسرے سائنس دانوں نےاس نظریے کا غور سے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ بگ بینگ سے صرف ایک نہیں بلکہ اَن گنت کائناتیں تشکیل پا سکتی ہیں ان میں سے بعض کائناتیں بالکل ہماری کائنات کی طرح کی ہوں گی،اس کے علاوہ دوسری کائناتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو ہماری کائنات سے یکسر مختلف ہوں،سائنسدانوں کے مطابق اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک کائنات سے دوسری کائنات تک کا سفر بھی ممکن ہے۔

کوہ نور کی شہرت سے تو آپ واقف ہوں گے ہی لیکن اس سے جڑے حقائق کیا بتاتے ہیں یہ آپ نہیں جانتے، یہ ہیرا اتنا مشہور کیوں ہے اور پہلے کس مسلمان حکمران کی ملکیت تھا جانئے

کوہ نور کی شہرت سے تو آپ واقف ہوں گے ہی لیکن اس سے جڑے حقائق کیا بتاتے ہیں یہ آپ نہیں جانتے، یہ ہیرا اتنا مشہور کیوں ہے اور پہلے کس مسلمان حکمران کی ملکیت تھا جانئے
بدھ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2018 | 11:22
کوہ نور کا شمار دنیا کے متنازع ترین ہیروں میں ہوتا ہے۔یہ ہیرا کئی صدیوں تک معرکہ آرائیوں اور سازشوں کا موضوع بنا رہا ہے، اور مغل شہزادوں، ایرانی جنگجوؤں، افغان حکمرانوں اور پنجابی مہاراجوں کے قبضے میں رہا ہے۔ 105 قیراط وزنی یہ قیمتی پتھر 19 صدی کے وسط میں برطانویوں کے ہاتھ آیا، اور اب شاہی زیور کے طور ٹاور آف لندن میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔اس ہیرے کی ملکیت بہت سارے ہندوستانیوں کے لیے جذباتی معاملہ ہے، بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ برطانیہ نے یہ ہیرا ان سے چرا لیا تھا۔ ولیم

اور انیتا آنند نے اس موضورع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ‘کوہ نور: دنیا کا بدنام ترین ہیرا۔’ جس میں مصفین نے اس پیش قیمت ہیرے کے گرد گھومنے والی افسانوی کہانیوں یا غلط فہمیوں کا احاطہ کیا ہے۔ سنہ 1849 میں جب کوہ نور گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کے ہاتھ آیا تو انھوں نے اس کی باضابطہ تاریخ کے ہمراہ اسے ملکہ وکٹوریا کو بھیجنے کی تیاری کی۔انھوں نے اس ہیرے کی تحقیق کا کام دہلی میں ایک جونیئر اسسٹنٹ میجسٹریٹ تھیو میٹکاف کو سونپا جو جوئے اور پارٹیوں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔لیکن میٹکاف نے افواہوں اور گپ شپ سے کچھ زیادہ ہی استفادہ کر لیا۔ اس وقت سے لے کر لاتعداد مضامین میں وہی کہانیاں بیان کی گئی ہیں یہاں تک کہ کوہ نور کے حوالے سے ویکیپیڈیا پر بھی اس بات کو حقیقت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں کوہ نور سے متعلق ان چھ ‘افسانوی کہانیوں’ کا ذکر ہے جس کا تذکرہ کتاب میں کیا گیا ہے۔ کوہ نور جب برطانیہ آیا تو اس کا وزن 3۔190 میٹر قراط تھا اور اس سے ملتے جلتے کم از کم دو ہیرے اور بھی تھے، دریائے نور (اندازاً -195-175 میٹرک قراط وزنی) جو اب تہران میں ہے، اور مغل اعظم ہیرا (9۔189 میٹرک قراط) جس کے بارے میں جدید جوہریوں کا خیال ہے کہ وہ اورلوف ہیرا ہے۔ یہ تینوں ہیرے سنہ 1739 میں ہندوستان پر ایرانی حکمران نادر شاہ کے حملے کے بعد یہاں سے لوٹے گئے مال کے ساتھ ایران لے جائے گئے تھے۔ 19ویں صدی کے اوائل میں جب یہ ہیرا پنجاب پہنچا اور اس کو ایک ممتاز اور افضل ہیرا سمجھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ غیرتراشیدہ کوہ نور کے درمیان میں پیلے داغ تھے جو اس کے وسط تک موجود تھے، ان میں ایک دھبہ بڑا تھا اور روشنی کو منعکس نہیں کرتا تھا۔اسی وجہ سے ملکہ وکٹوریا کے شوہر پرنس البرٹ کوہ نور کو دوبارہ تراشنے کے حق میں تھے۔کوہ نور دنیا کا سب سے بڑا ہیرا نہیں ہے۔ درحقیقت یہ دنیا کا 90واں بڑا ہیرا ہے۔دراصل جو سیاح اسے ٹاور آف لندن میں دیکھتے ہیں وہ اکثر اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ کتنا چھوٹا سا ہے، خاص طور پر جب وہ اس کا موازنہ قریب ہی نمائش کے لیے رکھے گئے دو بڑے کلینن ہیروں سے کرتے ہیں۔ یہ جاننا ناممکن ہے کہ کوہ نور کی دریافت کب اور کہاں ہوئی۔ اسی وجہ سے یہ ایک پراسرار پتھر ہے۔کچھ یہ بھی خیال کرتے ہیں کوہ نور دراصل شیامنتک پتھر ہے جس کا ذکر ہندوؤں کے بھگوان کرشنا سے متعلق مذہبی کتاب بھگوت پران میں ملتا ہے۔ تھیو میٹکاف کی رپورٹ کے مطابق یہی روایت ہے کہ ‘یہ ہیرا کرشنا کی زندگی کے دور میں ہی نکالا گیا تھا۔’ لیکن ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں یہ ہیرا کان سے نہیں نکالا گیا تھا بلکہ شاید جنوبی انڈیا میں خشک دریائی سطح سے نکالا گیا تھا۔ انڈین ہیرے کانوں سے نہیں نکلتے بلکہ دریائی زمین سے ملتے ہیں۔ہندو اور سکھ ہیروں کو دوسرے جواہرات سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے جبکہ مغل اور ایرانی بڑے، غیرتراشیدہ اور چمکتے پتھروں کو ترجیح دیتے تھے۔بلاشبہ کوہ نور کا شمار مغلوں کے اس پیش قیمت خزانے میں ہوتا تھا جس میں بہترین اور غیرمعمولی جواہرات موجود تھے، لیکن اس خزانے میں بیشتر قیمتی پتھر ہیرے نہیں تھے۔ مغل بدخشان کے سرخ سپینل اور برما کے سرخ یاقوتوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔یہاں تک کے مغل بادشاہ ہمایوں نے بابر کے ایک ہیرے کو ایرانی بادشاہ شاہ طہماسپ کو جلاوطنی کے دوران تحفے میں دے دیا تھا۔ یہ خیال بھی ہے کہ یہی کوہ نور تھا۔ بابر کا یہ ہیرا دوبارہ دکن پہنچا لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ دوبارہ کب اور کیسے مغلوں کے پاس کیسے پہنچا۔ معروف قصہ ہے کہ نادر شاہ نے مغل بادشاہ کو اس کے ہیرے سے محروم کرنے پر اکسایا، جو اس نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھا تھا۔لیکن محمد شاہ کے پاس یہ واحد قیمتی پتھر نہیں تھا جسے اپنی پگڑی میں چھپا کر رکھتے، اور جسے نادر شاہ چالاکی سے پگڑی تبدیل کر کے حاصل کر لیتے۔ایرانی مورخ ماروی کے مشاہدے کے مطابق، بادشاہ قیمتی پتھر اپنی پگڑی نہیں چھپا نہیں سکتا تھا، کیونکہ اس وقت وہ انتہائی دلکش اور قیمتی شاہی تخت کاحصہ تھا جسے شاہ جہان کا مور تخت کہا جاتا تھا۔وہ اپنے ذاتی مشاہدے کے بارے میں لکھتے ہیں کوہ نور اس غیر معمولی تخت کی چھت پر ایک مور کے سر پر نصب تھا۔ چھٹی افسانوی کہانی: کوہ نور کو اناڑی بن سے تراشا گیا جس سے اس کا سائز کم ہوگیا فرانس کے جواہر کے تاجر اور مسافر یاں پیتستے ٹوورنیئر کو مغل بادشاہ اورنگزیب نے اپنے ذاتی جواہرات دیکھنے کی اجازت دی تھی اور ان کے مطابق پتھر تراش ہوٹینسیو بورگیو نے ایک بڑے ہیرے کو جلا دیا تھا نتیجتا اس کا سائز کم ہو گیا۔ لیکن انھوں نے اس ہیرے کی شناخت مغل اعظم ہیرے کے طور پر کی تھی جو ہیروں کے تاجر میر جملا نے مغل بادشاہ شاہ جہاں کو تحفے میں دیا تھا۔ دور جدید کے ماہرین کو یقین ہے کہ مغل اعظم ہیرا دراصل اولوف ہے، جو اس وقت کریملن میں روسی ملکہ کیتھرین کی عصائے شاہی پر نصب ہے۔مغلوں کے دیگر ہیروں کے بارے میں تقریباً سبھی بھول چکے ہیں اور تاریخی حوالوں میں تمام ہندوستانی غیرمعمولی ہیروں کا ذکر کوہ نور سمجھ کر ہی کیا جاتا ہے۔

رمضان سے پہلے ہی مہنگائی کا طوفان۔۔برائلر مرغی کی فی کلو قیمت کہاں تک جا پہنچی، عوام نے کانوں کو ہاتھ لگا لیا

رمضان سے پہلے ہی مہنگائی کا طوفان۔۔برائلر مرغی کی فی کلو قیمت کہاں تک جا پہنچی، عوام نے کانوں کو ہاتھ لگا لیا
بدھ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2018 | 11:12
رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں پر لگ گئے ہیں250اور 260 میں فروخت ہونے والا مرغی کا گوشت 320 روپے فی کلو پر جا پہنچا۔گائے اور بکرے سے ہاتھ کھینچے والے اب مرغی کے گوشت سے بھی پرہیز کرنے کا سوچنے لگے ہیں۔ دکانداروں نے بھی اس قدر اضافے کو مسترد کردیا ہے۔شہریوں نے رمضان سے پہلے مرغی مہنگی کرنے کے فیصلے کو منافع خوروں کی نئی چال قرار دے دیا۔ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لے کر ریلیف دیا جائے۔

شراب نوش مجھے ووٹ دیں،پھر جی بھر کرپیئں،تحفظ دوں گا،عراقی انتخابی امیدوار

شراب نوش مجھے ووٹ دیں،پھر جی بھر کرپیئں،تحفظ دوں گا،عراقی انتخابی امیدوار
بدھ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2018 | 12:03
انتخابی سیاست میں ووٹ مانگنے کے لئے ذات، برادری اور مسلک کے واسطے دنیا بھر میں دیئے جاتے ہیں تاہم عراق میں 12 مئی کو ہونے والے انتخابی معرکہ میں ایک امیدوار ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے روایت سے ہٹ کر مے نوشی کرنے والوں کے سامنے ووٹ کے لئے دست سوال دراز کیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق عراقی رکن پارلیمنٹ اور سویلین اتحاد کے سربراہ فائق الشیخ علی نے رندوں سے اپیل کی کہ اگر وہ مے نوشی کا اپنا شوق بلا روک ٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں تو وہ انہیں ووٹ دے کرایک مرتبہ پھر

مرتبہ پھر پارلیمنٹ کا رکن منتخب کرائیں۔

بغداد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی پارلیمنٹرین نے مے نوشوں کو وہ وقت یاد دلایا کہ جب وہ صرف اکیلے ہی ان کے “شوق” کا تحفظ کرنے کے لئے میدان میں رہ گئے تھے۔ خیال رہے کہ فائق الشیخ علی ’التمدن اتحاد‘ کی قیادت کررہے ہیں۔ اس الائنس میں چار سیکولر سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ خود فائق علی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور ان کا شمار ملک کے ملبر سیاسی رہ نماؤں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کا خاندانی پس منظر مذہبی ہے۔ ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے فائق الشیخ علی کی طرز سیاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چاکلیٹ کھلی پڑی رہے تو سفید کیوں ہو جاتی ہے ؟ماہرین نے معمہ حل کر لیا

چاکلیٹ کھلی پڑی رہے تو سفید کیوں ہو جاتی ہے ؟ماہرین نے معمہ حل کر لیا
بدھ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2018 | 11:26
چاکلیٹ دنیا بھر میں یکساں پسند کی جاتی ہے تاہم اگر اسے مناسب درجہ حرارت پر نہ رکھا جائے تو اس کا رنگ سفید ہونا شروع جاتا ہے اور اس میں چھوٹی چھوٹی دراڑیں پڑجاتی ہیں۔ پھر اسے پھینک کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ اب ماہرین نے اس کا رنگ سفید ہونے کی نہ صرف وجہ بتا دی ہے بلکہ اسے سفید ہونے سے روکنے کا انتہائی آسان طریقہ بھی بتادیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں سائنسدانوں نے دنیا کی سب سے بڑی ایکسرے استعمال کرتے ہوئے چاکلیٹ کے سفید ہونے

راز معلوم کیا۔ سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد بتایا کہ اگر چاکلیٹ کو انتہائی کم یا بہت زیادہ درجہ حرارت پر رکھا جائے تو اس میں موجود چکنائی پھولنا شروع ہو جاتی ہے اور بالآخر چاکلیٹ کے اوپر ایک سفید پاﺅڈر کی تہہ کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہے۔ اگر چاکلیٹ کو 14سے 18ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت پر رکھا جائے تو اس کی چکنائی کبھی نہیں پھولے گی اور چاکلیٹ تادیر محفوظ رہے گی۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سٹیفن روتھ کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت کی کمی یا زیادتی کے باعث چکنائی پگھل کر چاکلیٹ کی دراڑوں سے باہر نکلنا شروع کر دیتی ہے۔تاہم چاکلیٹ کے اوپر سفید تہہ کا بن جانا بھی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ اس صورت میں بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔