بھارت میں ایک بُت سے پانی ٹپکنے لگا، لوگوں نے مقدس سمجھ کر بیماریوں سے شفا کیلئے پینا شروع کردیا، لیکن دراصل یہ پانی کہاں سے آیا اور کیوں ٹپک رہا تھا؟ جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

بھارت میں ایک بُت سے پانی ٹپکنے لگا، لوگوں نے مقدس سمجھ کر بیماریوں سے شفا کیلئے پینا شروع کردیا، لیکن دراصل یہ پانی کہاں سے آیا اور کیوں ٹپک رہا تھا؟ جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 11:17
جہالت کے مارے کمزور عقیدے والے لوگ کسی بھی سمجھ میں نہ آنے والی بات کو معجزہ قرار دے دیتے ہیں.بھارتی شہر ممبئی کے مغربی حصے میں ایک بت کے پیروں سے پانی کے قطرے ٹپکنے شروع ہو گئے تو اس کے پجاریوں نے یہ اعلان کرنے میں زرا بھی دیر نہ لگائی کہ یہ ایک معجزہ ہے اور جلد ہی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی. دور و نزدیک کے لوگ اس منظر کو دیکھنے کیلئے جمع ہونے لگے. بت کے گرد ہر وقت سینکڑوں افراد کا ہجوم اکٹھا رہتا اور بیماریوں اور مصیبتوں میں مبتلا

لوگ اس کےلوگ اس کے پیروں سے ٹپکتے پانی کو اپنے لیے شفا سمجھ کر لگے.دریں اثناءاس قسم کے معاملات تحقیق کرنے والے ماہر سنال ایڈا ماروکو تک بھی خبر پہنچی اور وہ اپنے ایک انجینئر ساتھی کو لے کر معاملے کی تحقیق کیلئے پہنچ گئے. سنال اور ان کے ساتھی انجینئر نے جلد ہی سراغ لگا لیا کہ قریب ہی ایک ٹوائلٹ کے سیوریج پائپ میں کچھ رکاوٹ تھی جس کی وجہ سے سیوریج کا پانی دیوار میں رس رہا تھا. اس دیوار کے ساتھ ہی بت موجود تھا اور رستا ہوا پانی آہستہ آہستہ اس کی بنیاد میں جمع ہو رہا تھا. یہ پانی قطروں کی صورت میں بت کے پیروں سے ٹپک رہا تھا. بت کی پوجا کرنے والے اس غلیظ پانی کو اپنے جسم پر مل رہے تھے اور اسے شفاءسمجھ کر پی بھی رہے تھے.سنال نے جونہی میڈیا کو بتایا کہ اصل معاملہ کیا تھا تو ان کے خلاف غیض وغذب کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا. جب وہ ایک ٹی وی پروگرام میں اس موضوع پر بات کر رہے تھے تو باہر سینکڑوں لوگ لاٹھیاں اور پتھر لے کر جمع ہو گئے. وہ انہیں اپنے مقدس بت کی توہین کا مرتکب قرار دے رہے تھے. اگلے چند دنوں میں سنال کیلئے بھارت میں رہنا نا ممکن بنا دیا گیا. نا صرف انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں بلکہ تین تھانوں میں ان کے خلاف مقدمے بھی درج کروا دیئے گئے. بیچارے سنال کو یہ تحقیق اتنی مہنگی پڑی کہ جان بچانے کیلئے ملک سے فرار ہونا پڑ گیا. ان کی خوش قسمتی تھی کہ فن لینڈ نے انہیں پناہ دے دی. آج اس بات کو تین سال گزر چکے ہیں لیکن ’معجزاتی بت‘ کے پیروکار انہیں بھارت واپس نہیں آ نے دے رہے. یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بت کے پیروں سے پانی ٹپکنا کب کا بند ہو چکا ہے. غالباً اصل حقائق سامنے آنے کے بعد ٹوائلٹ کے مالک نے سیوریج پائپوں کی مرمت کروا لی تھی

ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا ایسا نقصان کہ جان کر آپ یہ عادت چھوڑ دیں گے ، ماہرین نے تنبیہ کر دی

ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا ایسا نقصان کہ جان کر آپ یہ عادت چھوڑ دیں گے ، ماہرین نے تنبیہ کر دی
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 15:03
ٹانگ پر ٹانگ رکھ یا چڑھا کر بیٹھنا بہت ہی زیادہ عام عادت ہے اور اکثر بیٹھنے کے دوران اس پر توجہ بھی نہیں دیتے۔ہوسکتا ہے کہ ایسے بیٹھنا آپ کو آرام دہ لگتا ہو یعنی ایک گھٹنا دوسرے گھٹنے کے اوپر مگر یہ عادت آپ کے اندازوں سے بھی زیادہ صحت کے لیے تباہ کن ہے۔یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طرح بیٹھنا درحقیقت بلڈ پریشر کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔جی ہاں بلڈ پریشر، جس کی وجہ یہ ہے کہ ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھنے سے ٹانگوں میں خون کو کشش

کے مخالف کام کرکے واپس دل کی جانب ہوتا ہے جبکہ بیٹھنے کا یہ انداز اس عمل کے لیے مزاحمت پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی گردش مشکل ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جسم بلڈ پریشر بڑھا کر خون کو واپس دل تک پہنچاتا ہے۔آپ کو اس کے فوری اثرات کا احساس تو نہیں ہوگا تاہم اگر آپ کے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزرتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ اس پر توجہ دیں کہ آپ ٹانگوں کو کتنی دیر تک ایک دوسرے پر رکھتے ہیں۔حقیق کےمطابق کسی بھی صورت پندرہ منٹ سے زیادہ اس انداز میں نہ بیٹھیں اور ہر ایک گھنٹے میں کچھ منٹ کے لیے چہل قدمی کو یقینی بنائیں۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عادت گردن اور کمردرد کا بھی باعث بنتی ہے کیونکہ ہمارا جسم اس وقت زیادہ متوازن ہوتا ہے جب پیر فرش پر ہوں، تاہم دفاتر میں اس طرح پورے دن بیٹھنا کوئی آسان کام نہیں۔جب آپ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہیں تو کولہے ایک ٹوئیسٹ پوزیشن میں آجاتے ہیں جس کے نتیجے میں pelvic کی ہڈی مڑ جاتی ہے جو کہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو سپورٹ دے رہی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ان حصوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق بہت دیر تک ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے رکھنے کے نتیجے میں ٹانگوں میں سوئیاں چبھنے یا سن ہوجانے کا احساس بھی ہوتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس انداز سے ٹانگوں اور پیروںکے اعصاب اور شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں پیر عارضی طور پر سن یا مفلوج ہوجاتے ہیں۔یہ حالت ایک سے دو منٹ تک رہتی ہے مگر بار بار ایسا کرنے سے ٹانگوں کا سن ہونا اعصاب کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔تو اگلی بار بیٹھنے کے بعد کوشش کریں کہ آپ کے دونوں پیر فرش پر ہوں جو کہ طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے فائدہ مند پوز ہے

فوزیہ فیاض سعودی عرب میں پہلی پاکستانی خاتون سفارتکار جانتے ہیں ان کا تعلق کہاں سے ہے اور یہ یہاں تک کیسے پہنچیں؟

فوزیہ فیاض سعودی عرب میں پہلی پاکستانی خاتون سفارتکار جانتے ہیں ان کا تعلق کہاں سے ہے اور یہ یہاں تک کیسے پہنچیں؟
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 13:56
صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی فوزیہ فیاض واشنگٹن اور دہلی کے بعد اب جدہ میں موجود پاکستانی قونصلیٹ میں گذشتہ ایک ماہ سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔انگریزی ادب میں ایم اے کے بعد سنہ 2006 میں سول سروسز میں شمولیت اختیار کرنے والی فوزیہ فیاض کا کہنا ہے کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ایک تو یہ پہلی بار سعودیہ میں کسی خاتون کی تقرری ہے اور دوسرے یہ سرزمینہمارے لیے بہت مقدس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قونصلر جنرل شہر یار اکبر نے کہا کہ یہاں حالات میں جو

آ رہی ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے اور یہاں موجود پاکستانی خواتین کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے کے لیے خاتون قونصلر کو تعینات کیا جائے۔فوزیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تعیناتی سے قبل تین مرتبہ سعودی عرب کا نجی دورہ کر چکی ہیں۔وہاں آنے والی حالیہ تبدیلیوں خاص طور پر خواتین کو حقوق اور خود مختاری دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ‘یہاں ہر سطح پر کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وہاں کام کرنے والوں میں بہت زیادہ خواتین بھی آپ کو اب نظر آ رہی ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سماجی تبدیلی ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہے جس پر ابھی کچھ کہنا یا ماضی سے اس کا تقابل کرنا قبل از وقت ہو گا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہی اس پر رائے دی جا سکتی ہے۔’کچھ عرصے بعد میں بہتر پوزیشن میں ہوں گی کہ اس پر رائے دے سکوں۔ سعودی عرب میں جب جون میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملے گی میرا خیال ہے اس کے بعد آپ کو سعودی معاشرے کاایک الگ چہرہ نظر آئے گا فوزیہ کہتی ہیں کہ پاکستانی اقامہ اور دیگر کاغذات کی تجدید وقت پر کروائیں اور یا یہاں وزٹ ویزے پر آ کر مدت سے زیادہ قیام نہ کریں اور ساڑھے تین ماہ کے عرصےمیں انھیں اپنے سفارت خانے، قونصلیٹ اور اس سے باہر سعودی سماج میں بہت پذیرائی ملی اور ان کی تعیناتی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔میں بہت ہی مثبت توقعات کے ساتھ یہاں آئی ہوں اور اب تک یہاں بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔ سعودی عرب سے پاکستانی تارکینِ وطن کی واپسی کے معاملے پر بات کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے یہ فیصلہ کسی مخصوص ملک کے بسنے والوں کے لیے نہیں اور نئی تبدیلیوں اور اقدامات کے اثراتوقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے۔وہ کہتی ہیں کہ یہاں مقیم اور یہاں آنے والے افراد کو چند بنیادی امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے پر انھیں بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم اور یہاں آنے والے پاکستانیوں کو اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے اقامے اور دیگر کاغذات کی تجدید وقت پر کروائیں اور یہاں وزٹ ویزے پر آ کر مدت سے زیادہ قیام نہ کریں۔

رمضان المبارک میں مسجد الحرام میں اعتکاف، پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری، سعودی حکومت نے اہم اعلان کر دیا

رمضان المبارک میں مسجد الحرام میں اعتکاف، پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری، سعودی حکومت نے اہم اعلان کر دیا
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 13:42
حرمین شریفین کی اعلیٰ انتظامیہ نے مسجد الحرام میں اعتکاف کے خواہشمندوں سے 15شعبان سے درخواستیں طلب کرلیں۔سعودی میڈیا کے مطابق درخواستیں حرمین انتظامیہ کی جنرل پریذیڈنسی کی ویب سائٹ کے ذریعے لی جائیں گی۔ 15رمضان درخواست دینے کی آخری تاریخ ہو گی۔16 رمضان سے 20رمضان تک اعتکاف کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ اعتکاف کا سلسلہ 19سے ماہ رمضان کے آخر تک جاری رہے گا۔ انتظامیہ نے توجہ دلائی ہے کہ اندراج کا تعلق مرد حضرات سے ہے۔ اعتکاف کے امیدوار مسجد الحرام کے گیٹ نمبر 119کے سامنے قائم خصوصی کیبن کی خدمات سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔

ایک ہفتے میں 150منٹ کی ورزش یا واک کی جائے تو خواتین کس بیماری سے بچ سکتی ہیں؟طبی ماہرین نے مفید مشور ہ دیدیا

ایک ہفتے میں 150منٹ کی ورزش یا واک کی جائے تو خواتین کس بیماری سے بچ سکتی ہیں؟طبی ماہرین نے مفید مشور ہ دیدیا
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 14:17
چھاتی کا سرطان پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک ڈرانا خواب بن چکا ہے اور اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والی خواتین کی 25 فیصد تعداد پر صحتیاب ہونے کے بعد بھی یہ مرض دوبارہ حملہ کرتا ہے لیکن باقاعدہ ورزش اور جاگنگ سے یہ خطرہ 40فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ٹورانٹو میں واقع سنی بروک ہیلتھ سائنس سینٹر کے ماہرین نے بریسٹ کینسر سے شفایاب ہونے والی خواتین کے 67 مطالعات کا جائزہ لیا ہے۔ اور ان کی صحتیابی میں علاج کے علاوہ غذا، وزن اور ورزش وغیرہ کے درمیان کسی ممکنہ تعلق کو تلاش

ہے جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ورزش سے کینسر کے دوسرے حملے اور موت کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بریسٹ کینسر سے اموات سے بچنے کا سب سے بہترین اور قابلِ عمل نسخہ یہی ہے کہ ایک ہفتے میں 150منٹ کی ورزش یا واک کی جائے تاہم یہ بریسٹ کینسر سے صحتیابی کے بعد شروع کی جائے کیونکہ اس سے مرض دوبارہ لاحق ہونے کو بہت حد تک ٹالا جاسکتا ہے۔ماہرین اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاید ورزش بدن میں سوزش اور جلن کے عمل کو روکتی ہے اور اس طرح خلیات میں ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوتی اور وہ سرطانی ہونے سے بچ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ورزش کینسر بڑھنے کو بھی روکتی ہے۔اس مطالعے کا ایک جھول یہ ہے کہ خود خواتین کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کتنی ورزش کرسکتی ہے کیونکہ کینسر سے شفا کے بعد بھی کمزوری برقرار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری بار لاحق ہونے والا کینسر اگر نظر میں نہ بھی آئے تب بھی خواتین کو جلد تھکا دیتا ہے اور ورزش کے فوائد کم ہوجاتے ہیں۔ واشنگٹن میں فریڈ ہچنسن کینسر مرکز کی اسکالر کے مطابق اگر خواتین کو ان کی مرضی کی ورزش کچھ عرصے تک کرنے دی جائے تو اس کے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

راحیل شریف نے کہا دھرنا ختم کردیں ہم ۔۔۔!!! سابق آرمی چیف نے عمران خان کو کیا یقین دہانی کروائی تھی؟کپتان نے پہلی مرتبہ کھل کر سب کچھ بتا دیا

راحیل شریف نے کہا دھرنا ختم کردیں ہم ۔۔۔!!! سابق آرمی چیف نے عمران خان کو کیا یقین دہانی کروائی تھی؟کپتان نے پہلی مرتبہ کھل کر سب کچھ بتا دیا
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 13:50
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شیریف نے کہا تھا کہ آپ دھرنا واپس لے جائیں ہم جے آئی ٹی بنوا دیں گے، جو الیکشن میں دھاندلی کی نشاندہی کرے گی، میں نے راحیل شریف سے کہا کہ نواز شریفجے آئی ٹی کے ممبرز کو خرید لے گا، جس پر انہوں نے گارنٹی دی کہ جے آئی ٹی شفاف تحقیقات کرے گی، 2014کا دھرنا ایک دباؤ تھا اگر واپس چلے جاتے تو پھر کچھ حاصل نہ ہوتا، مشرف دور کے آغا میں میں سمجھتا تھا کہ پرویز مشرف کرپشن کے خلاف کھڑے

گے مگر انہوں نے ڈر کر انہیں لوگوں کو ساتھ ملا دیا جو کرپشن کے رول ماڈل تھے، نواز شریف نے 1997میں ہمیں سیٹیں آفر کی تھیں، پی ٹی آئی میں2013کے عام انتخابات میں الیکشن لڑنے والے 80فیصد لوگ نئے تھے ، اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے پر نواز شریف رو رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا، پنجاب میں 2013میں ریٹرن آفیسرز کو گھیر کر ٹھپے لگائے گئے، میں سمجھتا ہوں جنرل قمر جاوید باجوہ سب سے زیادہ جمہوری آدمی ہیں ۔ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے خواجہ آصف کے خلاف اتنا اچھا فیصلہ دیا، عمران خان نے کہا کہ چوہدری نثار کو بہت اہم فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں اپنی ذات کیلئے سیاست کرنی ہےیا ملک کیلئے کرنی ہے، ان کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ مریم نواز کا آرڈر سنیں گے یا نہیں، چوہدری نثار کو بہت پہلے سے جانتا ہوں انکو پی ٹی آئی کا پیغام پہنچا دیا ہے لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ۔ چوہدری نثار کی پارٹی سے 34سالہ وابستگی ہے،انکا پارٹی بدلنا بڑا فیصلہ ہوگا، وہ 34سالہ تجربہ لے کر عزت والا فیصلہ کریں۔ میں کوشش کررہا ہوں کہ وہ عوام کیلئے سیاست کریں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نواز شریف اپنی چوری بچانے کیلئے نیب اور عدلیہ پر حملے کررہے ہیں، میں نے اپنی کتاب 2010میں لکھی تھیجس کی رونمائی 2011میں ہوتی تھی، ذوالفقار بھٹو کے ساتھ مشرقی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ تھی، صرف بے نظیر بھٹو 1988میں اسٹیبلشمنٹ کے بغیر الیکشن جیتی تھی ، اصغر خان کیس میں پیسہ دیا گیا اور آئی جی آئی بنائی گئی تھی نواز شریف پیسہ دے کر الیکشن جیتے تھے ، انہوں نے کہا کہ 29اپریل کو مینار پاکستان کو عوام سے بھر دیں گے، پی ٹی آئی مینار پاکستان پر 3بار تاریخی جلسہ کرچکی ہے ، باشعور عوام اب نواز شریف کے ساتھ نہیں ہیں، میں سمجھتا ہوں جنرل قمر جاوید باجوہ سب سے زیادہ جمہوری آدمی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں جس نے نواز شریف کی مدد کی ان کو نواز ا گیا ، پنجاب میں 2013میں ریٹرن آفیسرز کو گھیر کر ٹھپے لگائے گئے، اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے پر نواز شریف رو رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا، پی ٹی آئی میں2013کے عام انتخابات میں الیکشن لڑنے والے 80فیصد لوگ نئے تھے ، اس بار ہم ٹکٹ دیتے وقت دیکھیں گے کہ وہ الیکشن لڑنا جانتا ہے کہ نہیں، پی ٹی آئی پوری تیاری کے ساتھ الیکشن میں جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ 1996میں تحریک انصاف بنی اور 1997کے الیکشن میں صرف ایک سیٹ ملی جس کے بعد پارٹی ٹوٹ گئی ،نواز شریف نے 1997میں ہمیں سیٹیں آفر کی تھیں ،خورشید قصوری اور دانیال قصوری نواز شریف کی آفر لے میرے پاس آئے تھے ، مشرف دور کے آغا میں میں سمجھتا تھا کہ پرویز مشرف کرپشن کے خلاف کھڑے ہوں گے مگر انہوں نے ڈر کر انہیں لوگوں کو ساتھ ملا دیا جو کرپشن کے رول ماڈل تھے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شیریف نے مجھے کسی ڈیل کی پیش کش نہیں کی تھیانہوں نے کہا تھا کہ آپ دھرنا واپس لے جائیں ہم جے آئی ٹی بنوا دیں گے، جو الیکشن میں دھاندلی کی نشاندہی کرے گی، میں نے راحیل شریف سے کہا کہ نواز شریف جے آئی ٹی کے ممبرز کو خرید لے گا، جس پر انہوں نے گارنٹی دی کہ جی آئی ٹی شفاف تحقیقات کرے گی، 2014کا دھرنا ایک دباؤ تھا اگر واپس چلے جاتے تو پھر کچھ حاصل نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اچھے برے وقت میں ساتھ ہوتے ہیںانکو ساتھ لے کر چلنا چاہیے ، شیخ رشید نے ماضی میں مجھے کہا تھا کہ آپ کی تو تانگہ پارٹی ہے ماضی میں پارٹی کے لوگوں کو ان گھر والے بھی کہتے تھے کہ کس پارٹی میں ہو ضروری نہیں کہ کوئی پرانا ہے تو اسے وزیر بنا دیں یہ میرٹ کی نفی ہوگی ہم لوگوں کو میرٹ کے اوپر وزارتیں دیں گے۔

ملیریا سے نمٹنے کا گھریلو علاج کیا ہے؟

ملیریا سے نمٹنے کا گھریلو علاج کیا ہے؟
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 14:20
ملریا مچھر سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے۔دنیا بھر میں آج ملیریا کا دن منایا جا رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں انسان ملیریا کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان کا شماران ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر ملیریاکے مچھر کی افزائش اور اس سے لوگوں کو بیماریاں لگنے کے تمام عوامل موجود ہیں۔ گندگی کے ڈھیر، کھڈوں میں کھڑا پانی، اور لوگوں کی بے احتیاطی وہ وجوہات ہیں جو شہریوں کو ان مچھروں کا آسان شکار بنا دیتی ہیں۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے سے یہ مرض جان

ثابت ہوتا ہے۔ملیریا مادہ مچھر کے کاٹنے سے ہو تا ہے جو اپنے منہ میں جراثیم کو مریض سے دوسرے صحت مند افراد میں منتقل کرتا رہتا ہے۔ ملیریا کے شدید حملے کی صورت میں انسان کا اعصابی نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔ملیریا کا بخار چڑھتا ہے تو سردی لگتی ہے اور اترتا ہے تو پسینہ آتا ہے، چند روز تک بخار آتا جاتا رہتا ہے، جسم میں درد اور پٹھوں میں کھنچاؤ ہو تا ہے، ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور متلی آتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملیریا سے سب سے زیادہ بچے،حاملہ خواتین اور ایسے افراد متاثر ہوتے ہیں جن کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔ملیریا سے نمٹنے کے لئے گھر میں روز مرہ کی استعمال ہونے والی اشیاء مفید ہیں :۔دار چینی:۔۔دار چینی ملیریا میں بہت مو ثر ثابت ہوتی ہے، ایک چمچ دار چینی کا پاؤ ڈر ، ایک چمچ شہد اور چٹکی بھر کالی مرچ کو گرم پانی میں گھول کر دن میں دو مرتبہ استعمال کرنے سے ملیریا کا بخار اتر جاتا ہے۔۔ہلدی:۔۔۔ہلدی مچھر سے جسم میں پھیلنے والے زہریلے پلاس موڈیم انفیکشن کو ختم کرتی ہے۔ ایک گلاس دودھ میں ہلدی ملاکر پینے سے ملیریا سے ہونے والے جوڑوں اور پٹھوں کے درد کو بھگایا جا سکتا ہے۔۔کینوکا رس/ گریپ فروٹ:۔۔۔ملیریا سے متاثرہ مریض کو غذا کے ساتھ کینو کا جوس پینا ضروری ہوتا ہے۔ کینو میں شامل وٹامن سی ملیریا کے لئے نہایت مفید ہے ۔ ملیریا کی تشخیص ہونے کے بعد پہلے ہفتے میں زیادہ سے زیادہ کینو کا جوس پینا چاہئے اس کے ایک ہفتے بعد تک گریپ فروٹ کا جوس استعمال کرنا چاہئے۔۔ادرک:۔۔۔ملیریا کے مرض کو گرم پانی میں ادرک اور شہد ملاکر دن میں دو مرتبہ پلانے سے متلی اور درد میں افاقہ ہوتا ہے۔۔لیموں کا رس:۔۔۔پانی میں تازہ لیموں کا رس نچوڑ کر پینے سے چار دن میں ملیریا کا بخار آنا بند ہو جاتا ہے۔سیب کا سرکہ:۔۔۔ململ کے کپڑے کو پانی میں ملے سیب کے سرکے میں بھگو کر ملیریا کے مریض کے ماتھے پے دس منٹ تک رکھنے سے بخار اتر جاتا ہے۔۔سرسوں کا تیل:۔۔۔سرسوں کا تیل جراثیم کش ہوتا ہے۔ملیریا کے مریض کو دی گئی غذا کو پکانے کے لئے سرسوں کا تیل استعمال کیا جائے۔۔میتھی دانہ:۔۔۔ملیریا سے مریض کا جسم نحیف ہو جاتا ہے، اس کمزوری سے نجات کے لئے میتھی دانہ اہمیت رکھتا ہے، میتھی دانے کو رات بھر پانی میں بھگو کر رکھیں اور صبح خالی پیٹ پینے سے جسم کو فوری طاقت ملتی ہے۔

چc

ایجاد کرنے والے برائن ایکٹن کی کہانی Whatsapp

ایجاد کرنے والے برائن ایکٹن کی کہانی Whatsapp
بدھ‬‮ 25 اپریل‬‮ 2018 | 14:52
دو ہزار نو کے بیچ میں برائن ایکٹن کو کوئی بھی کمپنی جاب دینے سے کترا رہی تھی۔ براین ایکٹن نے ایک درجن سال پہلے ’ایپل‘ اور’ یاہو‘ جیسی بڑی بڑی کمپنیوں میں لگائے تھے۔ اتنا بہترین پورٹ فولیو ہونے کے باوجود اس کو فیس بک اور ٹویٹر نے اپنے ہاں جاب دینے سے انکار کر دیا۔ برائن نے ہمت نہیں ہاری بلکہ یاہو کے دور کے ایک اور کولیگ کے ساتھ مل کر اپنی کمپنی کھولی۔ اس نے اپنے ساتھی جین کوم کے ساتھ مل کر واٹس ایپ بنا ڈالی۔ واٹس ایپ ایک ایسی ایپلیکیشن ہے جو دنیا بھر

بچے بڑے یکساں استعمال کر رہے ہیں۔واٹس ایپ کی کل ورتھ انیس بلین ڈالر ہے اور بعد میں وہی فیس بک جو برائن کو جاب نہیں دے رہی تھی، اس نے واٹس ایپ کی کامیابی دیکھ کر اس کو خرید لیا۔ آج برائن کی اپنی ورتھ تین اشاریہ آٹھ ڈالر سے زائد ہے۔ دنیا بھر برائن کے نام سے واقف ہے۔ جس وقت اسکو فیس بک اور ٹویٹر نوکری نہیں دے رہے تھے، اس وقت اگر برائن ہار مان کر بیٹھ جاتا تو آج ہم سب ایک ایسی دنیا میں زندگی گزار رہے ہوتے جہاں واٹس ایپ نام کی کوئی ایپ نہ ہوتی۔تین لکیریںمیں اداسی میں اکثر کسی جھیل‘ کسی آبشار یا کسی جنگل میں جا بیٹھتا ہوں اور میں اس وقت تک وہاں بیٹھا رہتا ہوں جب تک میرا دل ہلکا نہیں ہو جاتا‘ میں 2011ءمیں بھی اسی قسم کی صورتحال کا شکار تھا‘ میرا دل بھاری تھا‘ میں شدید ڈپریشن کا شکار تھا‘ میں سوئٹزر لینڈ کے ایک غیر معروف گاﺅں میں تھا‘ میں نے وہاں ایک قبر پر سرخ گلابوں کا گل دستہ رکھا‘ فاتحہ پڑھی اور قبرستان کی سیڑھیاں اترتے اترتے نیچے جھیل تک چلا گیا۔ دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑ سوئٹزر لینڈ میں ہیں‘یہ پہاڑی ملک ہے‘ آپ کسی شہر‘ کسی قصبے یا کسی گاﺅں میں چلے جائیں پہلے آپ کی ملاقات پہاڑ سے ہو گی پھر آپ کسی نہ کسی جھیل سے ملیں گے اور آپ آخر میں گاﺅں یا قصبے میں داخل ہو جائیں گے‘ میں بھی ایک ایسے ہی گاﺅں میں تھا‘ وہ گاﺅں پہاڑ کی اترائیوں پر آباد تھا‘ میں نے دنیا میں اس گاﺅں کے قبرستان سے زیادہ خوبصورت قبرستان نہیں دیکھا‘ میراایک عزیز دوست اس قبرستان میں دفن ہے‘ میں 2011ءسے وہاں جارہا ہوں‘میں قبر پر پھول چڑھاتا ہوں اور قبرستان سے اترتا ہواجھیل تک چلا جاتا ہوں‘ گاﺅں کے نیچے سوئٹزر لینڈ کی تیسری بڑی جھیل ہے‘ یہ جھیل‘ جھیل کم اور سمندر زیادہ دکھائی دیتی ہے‘ جھیل میں بحری جہاز چلتے ہیں‘ میرا دل اس دن بہت اداس تھا‘ میں سیڑھیاں اترتے اترتے جھیل کے کنارے پہنچ گیا اور وہاں آہستہ آہستہ واک کرنے لگا‘مجھے ٹینشن‘ ڈپریشن اور اداسی میں پانی کے ساتھ آہستہ واک ہمیشہ سوٹ کرتی ہے‘ میں واک کرتے کرتے جھیل کے آخری سرے تک پہنچ گیا‘ جھیل کے آخر میں تین قلعہ نما گھر تھے‘ وہ گھر چٹان پر بنے ہوئے تھے‘پتھر کی سیڑھیاں پانی تک آتی تھیں‘ سیڑھیوں کے آخر میں چھوٹی چھوٹی تین گودیاں تھیں اور ان گودیوں میں نیلے اور سفید رنگ کی تین موٹر بوٹس کھڑی تھیں‘ گھروں کے پیچھے سرسبز پہاڑ تھا‘ گھر کا پچھلا راستہ پہاڑ کی طرف کھلتا تھا‘ وہ راستہ آگے چل کر واکنگ ٹریک بن جاتا تھا‘ گھروں کو سرخ‘ پنک اور سفید بوگن بیل کے لاکھوں پھولوں نے ڈھانپ رکھا تھا‘ سبز پہاڑ‘ سبز پہاڑ کے قدموں میں تین قلعہ نما گھر اور گھروں کے قدموں میں جھیل‘ میں وہ منظر دیکھ کر رک گیا‘ وہ منظر‘ منظر نہیں تھاوہ کیلنڈر کی خوبصورت تصویر تھا‘ شام کے رنگ گہرے ہو رہے تھے‘ جنگلی پرندے اور سفید بگلے ان گہرے ہوتے رنگوں میں آب حیات گھول رہے تھے‘ میں گھروں کے قدموں میں پتھر کے بینچ پر بیٹھ گیا‘ مجھے محسوس ہوا دنیا کے تمام مناظر روزاس منظر کا طواف کرنے یہاں آتے ہوں گے‘ وہ یہاں ماتھا ٹیک کر آگے جاتے ہوں گے‘ میں بڑی دیر وہاں بیٹھا رہا‘ میں محویت میں کبھی پہاڑوں کی طرف دیکھتا تھا‘ کبھی جھیل میں گم ہو جاتا تھا اور کبھی سرخ‘ پنک اور سفید پھولوں میں چھپے مکانوں کو دیکھنے لگتا‘سکوت کے اس عالم میں اچانک ایک آواز گونجی ”آپ کافی میں چینی لیتے ہیں“ آواز مردانہ تھی‘ لہجہ ہندوستانی تھا اور الفاظ اردو کے تھے‘میں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا‘ مکان کی کھڑکی میں ایک بوڑھا ہندوستانی کھڑا تھا‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھ رہا تھا‘ چہرے پر اپنائیت تھی‘ میں نے اونچی آواز میں جواب دیا ”میں چینی نہیں لیتا“ اس نے قہقہہ لگایا‘پھر”سیم پرابلم“ کا نعرہ لگایا اور غائب ہو گیا‘ میں نے تھوڑی دیر بعد اسے سیڑھیاں اترتے دیکھا‘ اس کے دونوں ہاتھوں میں کافی کے مگ تھے‘وہ سیڑھیاں اتر کر میرے پاس پہنچا‘ مگ بینچ پر رکھے اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دیا ”مائی نیم از موہن“ میں نے بھی اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا‘ موہن کا ہاتھ بہت نرم تھا‘ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے کسی مچھلی سے ہاتھ ملا لیا ہے‘ وہ میرے ساتھ بینچ پر بیٹھ گیا۔ وہ بھارت کے شہر چنائی کا رہنے والا تھا‘ بزنس مین تھا‘ تین میں سے ایک مکان اس کی ملکیت تھا‘ وہ ہر دو ماہ بعد ایک ہفتے کےلئے وہاں آتا تھا‘ کشتی رانی کرتا تھا‘ پہاڑ پر ٹریکنگ کرتا تھا اور کتابیں پڑھتا تھا‘ وہ غالب کا فین تھا‘اسے غالب کے درجنوں شعر یاد تھے‘ وہ مجھے شروع میں ہندوستانی سمجھا‘ پھر اس نے اندازہ لگایا ہندوستان کا کوئی شہری دو گھنٹے ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا۔ ”تم ہو نہ ہو ‘تم پاکستانی ہو‘ میں نے سوچا‘ میں نے کافی بنائی‘ چینی کا پوچھا اور کافی لے کرتمہارے پاس آ گیا“ ہم سورج ڈوبنے تک گپیں مارتے رہے‘ وہ مجھے اس کے بعد گھر کے اندر لے گیا‘ وہ گھر اندر سے بہت خوبصورت تھا‘ لکڑی کی اونچی چھتیں‘ پرانا وکٹورین فرنیچر‘ دو دو ٹن بھاری بیڈ اور پتھر کی پرانی فائر پلیسز‘ وہ گھر نہیں محل تھا‘موہن نے بتایا‘ یہ گھر ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اور یہ اس نے دو سال پہلے دس ملین ڈالر میں خریدا تھا ”مجھے یہاں بہت شانتی ملتی ہے“ اس نے بڑے فخر سے کہا‘ میں نے جواب دیا ”آپ کو اگر شانتی نہ ملتی تو آپ دس ملین ڈالر کیوں خرچ کرتے“ اس نے قہقہہ لگا کر سر ہاں میں ہلا دیا‘ میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے بزنس کب شروع کیا تھا“ اس نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اس وقت پندرہ سال کا لڑکا تھا“ میں غور سے موہن کی طرف دیکھنے لگا‘ موہن نے اس کے بعد بڑی دلچسپ داستان سنائی۔وہ جھونپڑ پٹی سے تعلق رکھتا تھا‘ باپ شراب پی پی کر مر گیا‘ ماں نے اسے دوسروں کے گھروں میں برتن اور کپڑے دھو کر پالا‘ وہ پندرہ سال کا تھا تو اس نے چائے کا چھوٹا سا کھوکھا بنا لیا‘ وہ کھوکھے کا مالک بھی تھا‘ کک بھی اور ویٹر بھی‘ وہ روز سو ڈیڑھ سو روپے کمالیتا تھا‘ گھر میں خوش حالی آ گئی مگر وہ مزید ترقی کرنا چاہتا تھا‘ چنائی یونیورسٹی کا ایک پروفیسر صبح کے وقت اس کے کھوکھے سے چائے پیتا تھا‘ وہ بچے کی محنت پر خوش تھا‘ وہ اسے روز کوئی نہ کوئی نئی بات سکھاتا تھا‘موہن نے ایک دن پروفیسر سے پوچھا ”ماسٹر کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں“ پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے“ موہن کا اگلا سوال تھا ”کیسے؟“ پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘ موہن کے کھوکھے کے پاس پہنچا‘ دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘ پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘ دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (سکل) لکھا۔ موہن پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘پروفیسر یہ لکھنے کے بعد موہن کی طرف مڑا اور بولا ”ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘ پہلا زینہ محنت ہے‘ آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے‘ آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہیے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہیے‘ آپ کامیاب ہو جائیں گے“پروفیسر نے کہا” ہمارے گرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیںآپ نوے فیصدسست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کےلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں‘ اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے‘ ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے‘ وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اوراپنی غلطی کا اعتراف کرنا‘ آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘ زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہیاور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘تم ایماندار ہو جاﺅ گے اور کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے‘ آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں‘ آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے اور پیچھے رہ گیا 20فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے‘ آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا‘ آپ سو فیصد کامیاب ہو جاﺅ گے“ پروفیسر نے موہن کو بتایا ”لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہےاور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں‘ آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘ آپ کو ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا اور آپ کو آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا“ پروفیسر نے موہن کو بتایا‘ میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘ کیوں؟کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی اور میں نے دنیا کے بے شمار بے ہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ ایماندار اور محنتی تھے ‘ پروفیسر نے اپنا چاک بیگ میں رکھا‘ موہن کی ناک چھوئی اور بولا ”تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘ تم آکاش تک پہنچ جاﺅ گے“ موہن نے لمبا سانس لیا اور بولا ”میں نے چاک سے بنی ان تین لکیروں کو اپنا مذہب بنا لیااور میں 45 سال کی عمر میں ارب پتی ہو گیا“ موہن نے بتایا‘کھوکھے کی وہ دیوار اور اس دیوار کی وہ تین لکیریں آج بھی میرے دفتر میں میری کرسی کے پیچھے لگی ہیں‘ میں دن میں بیسیوں مرتبہ وہ لکیریں دیکھتا ہوں اورپرو فیسر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں“

”برمودا“کی تہہ میں دو اہرام دریافت،ماہرین حیرت زدہ

”برمودا“کی تہہ میں دو اہرام دریافت،ماہرین حیرت زدہ
جمعہ‬‮ 27 اپریل‬‮ 2018 | 0:46
یہ دنیا عجائبات سے سے بھرپور ہے۔ اس میں ہزاروں بلکہ لاکھوں راز ایسے بھی ہیں جن پر سے پردہ اُٹھنا ابھی باقی ہے۔بس دیکھتے جائیں،دیکھتے جائیں ،دیکھتے جائیں ۔برمودا ٹرائی اینگل بھی ایسا ہی ایک متنازعہ راز ہے جس پر مباحثے اور غور و فکر تو بہت ہوئی مگر آج تک کوئی واضح اور مدلل جواب نہیں مل سکا۔کوئی اسے مذہب سے جوڑتا ہے تو کوئی سائنس کا شاخصانہ بتلاتا ہے،کوئی جنات کی سرزمین کہتا ہے توکسی کے نزدیک یہ بس اک افسانوی جگہ ہے۔حقیقت خواہ کچھ بھی ہوپر ہے انسانی سوچ سے بالا تر۔گو کہ قانونی طور اسکے

کا کوئی وجود نہیں مگربرمودا ٹرائی اینگل بحراوقیانوس کے کل300 جزیروں پر مشتمل علاقہ ہے جن میں سے اکثر جزیرے غیر آباد ہیں اور صرف 20 جزیروں پر انسانی آبادیاں ہیں ۔اس کا جوعلاقہ خطرناک اور پراسرار سمجھا جاتا ہے اس کا شمالی سرا جزائر برمودا،جنوب مشرقی سرا پورٹوریکو اور جنوب مغربی سرامیامی ( فلوریڈا) میں ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کہ ماہرین کے مطابقفلوریڈا کے معنی اس شہر کے ہیں جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔فلوریڈا کے اس معنی سے اس نظریے کو بھی تقویت ملتی ہے کہ برمودا میں ہی کہیں دجال قید ہے۔ احادیث کی مختلف کتابوں کے مطابق دجال وہ فتنہ ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا جو خود کو خدا کہے گا اور جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سی طاقتیں حاصل ہوں گی۔برمودا نامی یہ جزیرہ 1140000مربع کلو میٹر ہے۔قابلِ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دنیا کے اس سب سے پراسرار سمندر میں دواہرام دریافت ہوئے ہیں۔کرسٹل کی طرح شفاف ان اہراموں نے سمندری علوم کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔سمندری علوم کے معروف امریکی سائنسدان ڈاکٹرمئیرور لیگ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کے برمودامثلث کی تہہ میں دواہرام دریا فت ہوئے ہیں جو کرسٹل سے بنے ہوئے ہیں ۔ان اہراموں کا حجم مصر کے سب سے بڑے اہرام خوفوسے بھی 3 گنا زیادہ ہے۔برمودا مثلث ایسی مافوق الفطرت جگہ ہے جس پر بہت سے مصنفوں نے طبع آزمائی کی ہے ،سائنس فکشن سے اس جگہ کو نجات ملی تو توہم پرستوں نے اس جگہ کا نام شیطانی مثلث رکھ کر بہت سی دیو مالائی کہانیاں مشہور کرکےاس جگہ کو اور بھی پراسرار بنا دیا۔موجودہ دور گو کہ جدید ترین سائنس کادور ہے جس کی مدد سے کائنات کے سربستہ رازوں پر سے پردہ اُٹھا لیا گیا ہے مگر برمودا مثلث ایسی جگہ یا ایسا راز ہے جس پر سے پردہ مشکل ہی اُٹھتا نظر آتا ہے۔ جہاں گم ہوئے بحری و بری جہاز اور ان کی باقیات کا ابھی تک پتا نہیں لگایا جا سکا۔

دُنیا کے چار بہترین شعبے

دُنیا کے چار بہترین شعبے
جمعرات‬‮ 26 اپریل‬‮ 2018 | 17:49
ویسے تو دُنیا میں سب ہی شعبے بہترین ہیں اور جو انسان کوئی کام خوب محنت اور دل کگا کر تا ہے اُس کیلئے ہر شعبہ ہی بہترین ہے۔ درج دیل دیئے گئے وہ بہترین شعبے ہیں جن کی دُنیا میں مانگ اور تنخواہ زیادہ ہے۔ آیئے .جانتے ہیں وہ کون سے شعبے ہیں۔ DENTISTڈٰینٹیسٹ کو اب تخ دُنیا کی بہترین نوکریوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ 2015میں ایک ڈینٹیسٹ کی اوسط تنخواہ 152,700ڈالر بتائی گئی ہے۔ اور ایک عام سے ڈینٹیسٹ کی کم از کم تنخوا ہ 68,310ڈالر بتائی گئی ہے۔ ڈینٹیسٹ کو دُنیا کی سب سے زیادہ

تنخواہ دیئے جانے والے شعبوں میں 9واں نمبر حاصل ہے۔PHYSICIAN ASSISTANTدُنیا کی سو بہترین نوکریوں میں فزیشن اسسٹنٹ کو دوسرا نمبر حاصل ہے۔فزیشن اسسٹنٹ کی اوسط تنخواہ 98, 180ڈالرز بتائی گئی ہے۔ایکفزیشن اسسٹنٹ بیمار کو اُسکی بیماری سے نکلنے اور مرض کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے۔COMPUTER SYSTEM ANALYST اس شعبے کی اوسط تنخواہ 98, 260ڈالرز بتائی گئی ہے۔ 2015میں کمپیوٹر سسٹم اینالیسٹ کی اوسط تنخواہ 85, 800ڈالرز بتائی گئی ہے۔ امریکہ میں اس شعبے کی ڈیمانڈ کافی زیادہ ہے جس کی وجہ سے جدید دور کے بچے اس شعبے کی طرف اپنا رُخ موڑ رہے ہیں۔SURGEON سرجن ابھی تک دُنیا کا سب سے زیادہ تنخواہ لئے جانے والے شعبوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ ایک سرجن کی اوسط تنخواہ 187, 200ڈالرز بتائی گئی ہے۔ ایک سرجن کی سب سے کم تنخواہ 111, 420ڈالرز ہے۔ دُنیا میں .سرجنز کم ہیں جس کی وجہ سے اِس شعبے کی بہت مانگ ہے۔