شنیرا اکرم کو سبزیوں کانام لینے میں مشکل کاسامنا

شنیرا اکرم کو سبزیوں کانام لینے میں مشکل کاسامنا
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:24
یوں تو ہم اکثر اپنی روزمرہ بات چیت میں درجنوں بار سبزیوں کے ناموں کاعام استعمال کرتے ہیں تاہم گوروں کے لئے یہ کسی امتحان سے کم نہیں ۔جی ہاں آج کل سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ ویڈیو نے دھوم مچائی ہوئی ہے جس نے وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم اُردوزبان میں سبزیوں کے نام بوجھنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔اس

ویڈیو میں جارج نامی برطانوی شخص اور شنیرا اکرم کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ ہو رہا ہے جس میں دونوں سب سے زیادہ سبزیوں کے نام اردو میں دہرانے اور اس کے معنی

بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹماٹر ، بینگن ، لوکی ، کھیرا، کدو ، کریلا، گاجر، پالک اور گوبھی سمیت کئی سبزیوں کے نام اور ادائیگی تک سننے والے اپنی ہنسی روکنے میں ناکام دکھائی دئیے تاہم مقابلہ تو دل نا تواں نے خوب کیا۔

عدنان سمیع نے وزن کیسے کم کیا؟

عدنان سمیع نے وزن کیسے کم کیا؟
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:20
پاکستانی نژاد بھارتی گلوکار عدنان سمیع کا سال 2000 میں ریلیز ہونے والا گانا ’مجھ کوبھی تولفٹ کرادے‘ اور اُس پر ان کا مذاحیہ رقص آج بھی لوگوں کو نہ صرف یاد ہے بلکہ بے حد پسند بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے اس گانے نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا جس کے بعد ان کے کئی مشہور گانے ان کی پہچان بن گئےاور نا صرف ان

کے گانے بلکہ عدنان سمیع کا ’چببے لک‘ یعنی موٹاپابھی ان کی پہچان بن گیا۔شائقین عدنان سمیع کو ’موٹا‘ دیکھنے کے عادی ہوگئےاور جب انہیں اسی طرح پسند کرنے

لگے تو یہ خبر وائرل ہوئی کہ عدنان سمیع کچھ عرصے کے لیے گلوکاری کی دنیا کو خیر آباد کہہ رہے ہیں جس کی وجہ ان کا اپنے وزن میں کمی لانا ہےاور پھر سال2005 سے 2017 تک مسلسل محنت کے بعد وہ تقریباً 145 کلو وزن کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔2005 میں موسیقی کی دنیا سے دور جانے کے بعد جب وہ واپس آئے تو کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکا

کیونکہ اُن کے وزن میں کافی حد تک کمی آچکی تھی۔ آہستہ آہستہ ان کے جسم میں مزید تبدیلی آتی چلی گئی اور 2017 میں وہ 220 کلو سے 65 کلو پر آگئے تھےجو کہ اُن کے لیے ایک بہت بڑی ’اچیوومنٹ‘ تھی۔گزشتہ ماہ ’بالی ووڈ ہنگامہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عدنان سمیع جذباتی ہوگئے انہوں نے کہا کہ’ اگر آپ موٹے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس دل نہیں ہے، میں موٹے جسم کےساتھ اسکرین پر آیا اور لوگوں کے دل میں جگہ بھی بنائی جبکہ میری جگہ کوئی اورہوتا تو شایدکبھی بھی ایسا نہیں کر پاتا،

لیکن اس کے باوجود مجھےاپنے موٹاپے کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کیونکہ اس کے باعث لوگ مجھے اُس طرح سے پسند نہیں کرتے جس طرح سے پسند کیے جانا چائیے۔ ‘زندگی اور موت کا معاملہ:ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی لانا تو ٹھیک ہے لیکن اس حد تک وزن میں کمی انسان کے لیے خطرے کاباعث بھی بن سکتی ہے لیکن عدنان سمیع نے اس خطرے کی پرواہ کیے بغیر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ انہوں نے2005 میں سرجری کروائی جس کے بعد انہیں 3 مہینے تک مکمل طور پر آرام کرنے کے لیے کہا گیاتھا ،

یہی سرجری اُن کے وزن میں کمی لانے میں اہم وجہ بنی۔عدنان سمیع نے بتایا کہ بہت زیادہ وزن ہونے کے سبب انہیں سانس لینے میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹروں نے انہیں یہ تک کہہ دیا کہ آپ ’چھ مہینوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔‘ اس کے بعد انہوں نے امریکی شہر ’ہیوسٹن‘ کارخ کیا اور وہاں سے انہوں نے اپنے ’ویٹ لوس‘ سفرکا آغاز کیا جس میں ان کے اہلخانہ اور قریبی ساتھیوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

عدنان سمیع نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ بچپن سے ہی موٹاپےکا شکار نہیں تھے بلکہ وہ اپنے اسکول کے زمانےمیں ’اسکواش اور پولو‘ کے بہترین کھلاڑی تھے۔ پھر انہوں نےمیٹھی اور چکنائی والی اشیا ءکھانا شروع کردیں جس سے اُن کا وزن بڑھتا چلا گیا۔ڈائٹ پلان:عدنان سمیع کے وزن میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ ان کا ڈائٹ پلان بھی ہے۔ اپنے وزن میں کمی کے سلسلے میں انہوں نے ماہر غذائیت سے رابطہ کیا جنہوں نے عدنان سمیع کو ’لو کیلوری ڈائٹ پلان ‘بنا کر دیا،جس کے تحت انہیں سفید اُبلے چاول، ڈبل روٹی، چکنائی والے کھانے، جنک فوڈ اور دیگر وزن بڑھانے والےکھانے کھانا سختی سے منع تھا۔

وہ صرف سلاد، مچھلی اور بھنی ہوئی دال پر گزارا کرنے لگےتھے اور روزانہ اُن کے دن کا آغاز بغیر چینی کی چائےسے ہوتا تھا۔ انہوں نے چاول اور روٹی کو مکمل طور پر چھوڑ دیا تھا، انہیں صرف اتنی اجازت تھی کہ وہ شام کے وقت گھر کے بنے پاپ کارن (مکھن اور نمک کے بغیر) کھا سکتے ہیں ۔وزن میں کمی لانے کے لیے عدنان سمیع کا ’ورک آوٹ‘:اس میں کوئی شک نہیں کہ عدنان سمیع نےاپنے وزن میں کمی لانے کے لیے دن رات محنت کی ۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں جم جانے سے بلکل منع کیا ہوا تھا

کیونکہ مشینیں استعمال کے باعث اُنہیں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ تھا۔جس کے بعد انہوں نے فٹنس ماہر سے رجوع کیا اور انہوں نے عدنان سمیع کو ایک ورزش پلان بنا کر دیا جس نے ان کے وزن میں کمی لانے میں بہت مدد کی۔ورزش پلان کے ذریعےسے انہوں نے ہر مہینے اپنا10 کلو وزن کم کیا اور نہ صرف یہ بلکہ ان کی مدافعتی قوت بڑھنے لگی اور انہیں چلنے پھرنےمیں آنے والی تکلیف سے بھی نجات مل گئی

لفٹ میں آئینہ کیوں لگایا جاتا ہے؟ وجہ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں

لفٹ میں آئینہ کیوں لگایا جاتا ہے؟ وجہ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 13:17
ماضی میں دن بدن عمارتوں کی بلندی میں اضافے کے ساتھ سیڑھیوں کا استعمال مشکل ہوگیاتھا ۔ بیمار افراد تو خاص طور پر چند منزلوں سے اوپر نہیں جا سکتے۔ ایسے میں لفٹ کی ضرورت بڑھ گئی ۔ انسان کی زندگی کو آسان بنانے والی بہترین ایجادات میں لفٹ بھی شامل ہے۔انجینئرز نے لفٹ کے ساتھ بہت سے تجربات کیے ہیں، جس

کی وجہ سے یہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی رہی ہے۔لفٹ میں موسیقی یا آئینہ نصب کرنا بھی انجینئرز کی ایک حکمت عملی ہے۔لفٹ میں آئینے کو میک اپ چیک کرنے یا سیلفی لینے

کے لیے نہیں لگایا گیا۔ اس میں آئینے کی تنصیب کی کہانی کچھ مختلف ہے۔جب لفٹ ایجاد ہوئی تھی تو اس میں آئینے نہیں تھے۔

ایسے میں لفٹ میں کھڑے افراد خلاؤں میں تکتے رہتے یا بے حس و حرکت کھڑے رہتے ۔ جب لفٹ میں کھڑے ان افراد کو بظاہر کرنے کو کچھ کام نہیں ہوتا تو ان کے ذہن میں لفٹ کے گرنے کے خیالات آتے رہتے اور وہ خوفزدہ ہوجاتے۔لوگوں کے خوف پر قابو پانے کے لیے انجینئرز نے لفٹ میں آئینہ لگا دیا۔ اس آئینے نے لوگوں کی توجہ لفٹ کے گرنے کے خوف سے ہٹا کر آئینے میں خود کو دیکھنے پر مرکوز لگادی۔

اس کے علاوہ لفٹ میں سوار افراد ایک چھوٹے سے باکس نما کمرے میں کھڑے ہونے پر خود کو محصور تصور کرتے۔ آئینے لوگوں کا یہ محصوری خوف بھی دور کرتے ہیں۔ آئینے لفٹ میں ایک واہمہ بنا دیتے ہیں، جس سے لفٹ کافی چوڑی لگتی ہے۔اگلی بار جب آپ لفٹ میں آئینے میں اپنا میک اپ درست کریں، اپنے بال سنواریں یا سیلفی لیں تو یاد رکھیے گا کہ یہ آئینے اس کام کے لیے نہیں ہیں بلکہ آپ ان آئینوں سے یہ اضافی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب

جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:29
جاپان میں اب باپ بھی کرائے پر دستیاب ہیں، ایک خاتون نے اپنی بیٹی کو باپ کے رشتے سے آشنا کروانے کیلئے ایک شخص کو کرائے پر رکھا ہے جو بچی کے والد کا کردار بخوبی نبھاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق چھوٹی بچی میگمی کے والدین کے درمیان اس وقت علیحدگی ہوگئی تھی جب وہ شیرخوار تھی۔ جب اسے بولنا آیا تو وہ روز

اپنے والد کے بارے میں پوچھتی تھی۔ اس کے بعد جب میگمی نے سکول جانا شروع کیا تو اس کا رویہ بالکل بدل گیا اور اس نے والدہ سے بات کرنا بھی بند کردی۔

اس کی وجہ یہ تھی سکول میں سب بچے اس کے والد کا پوچھتے جس کا بچی کو شدید قلق تھا اور وہ خود کو اس کا ذمے دار ٹھہراتی تھی۔اس کے بعد بچی کی ماں اساکو نے جاپانی ویب سائٹ سے رابطہ کیا جو ایسے جعلی عزیز اور رشتے دار، دوست اور شادی کے مہمان فراہم کرتے ہیں

جو اصل میں فنکار ہوتے ہیں۔ یہاں سے بچی کی ماں کو ایک فنکار تاکاشی مل گیا جسے باپ بننے پر ملکہ حاصل تھا اور اس کے لیے وہ ہالی وڈ فلمیں دیکھنے کے علاوہ ماہرینِ نفسیات سے تربیت بھی لے چکا تھا۔ اساکو نے تاکاشی کو بچی کے والد کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب دوبارہ شادی کرچکے ہیں لیکن خاتون نے دو شرطیں عائد کی تھیں کو اول یہ کہ وہ کسی طرح بچی کو بتائے کہ اب تک اس سے دور کیوں تھا

اور دوم جو کچھ اس کی بچی اپنے فرضی والد سے کہے وہ اسے یعنی اس کی ماں کو ضرور بتایا جائے۔یہاں تاکاشی نے اپنا نام یاماڈا رکھا اور بچی کے سامنے آیا جسے دیکھ کر پہلے تو وہ کچھ پریشان ہوئی اور اس کے بعد اس نے فنکار کو اپنے والد کے طور پر قبول کرلیا۔ اب وہ مہینے میں دو مرتبہ اسوکا کے گھر جاتا ہے اور بچی کو لے کر باہر جاتا ہے اور اس کے ساتھ کھیلتا ہے۔

اب یہ بچی دھیرے دھیرے نارمل ہورہی ہے اور سکول جانا بھی شروع کردیا ہے۔ اس کے بدلے اسوکا فنکار کو ایک دن کا معاوضہ 90 ڈالر میں ادا کرتی ہے۔تاہم عوام نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے بچی کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔ ان دونوں کے درمیان اب گہرا رابطہ ہوچکا ہے لیکن یاماڈا کا اس خاندان سے رابطہ محض آجر اور اجیر کا بن چکا ہے۔

یہ کردار اسے اس وقت تک نبھانا ہے جب تک بچی شادی کے قابل نہیں ہوجاتی اور اسی وجہ سے والدہ نے اسے 10 برس کے لیے بک کیا ہے لیکن شاید یاماڈا کو بچی کے بچوں کا نانا بھی بننا پڑے گا۔ واضح رہے صیغہ راز کی خاطر اس کہانی میں اصل نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

چند دلچسپ باتیں

چند دلچسپ باتیں
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 20:04
۱. بھوری آنکھوں والے لوگ زیادہ تر ایماندار،دوسروں کو جج نہ کرنے والے اور بھروسے کے لائق ہوتے ہیں۔۔۲. زیادہ تر ذہین لوگوں کی لکھائی بہت زیادہ بری ہوتی ہے کیوں کہ وہ جلدی جلدی سوچتے ہیں اور اپنے خیالات کو جلدی جلدی کاغذ پر اتارتے ہیں۔۳. سائیکالوجی کی تحقیق کے مطابق اگر آپ ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ دوسرے میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے تو آپ کبھی خوش نہیں رہ سکتے ۔۔۔۴. چوراسی فیصد لوگ بے خیالی میں اکثر وہی گانا گنگناتے ہیں جس گانے سے انھیں نفرت ہو۔۵. امریکہ میں ایک

style=”text-align: right;”>لاکھ پندرہ ہزار دربان،تراسی ہزار بار ٹینڈر،تین لاکھ تئیس ہزار ویٹر اور اسی ہزار ٹرک ڈرائیور رجسٹر ہیں یہ سب وہ لوگ ہیں جو کالج پاس ہیں اور بیچلر کی ڈگری رکھتے ہیں۔۔ . کاکروچ ہم انسانوں کے بارے بالکل وہی سوچتے کے بارے بالکل وہی سوچتے ہیں جو ہم انکے بارے سوچتے ہیں۔۔جیسے ہی کاکروچ کسی انسان سے ٹچ ہوتے ہیں یہ بھاگ کر خود کو چھپا لیتے ہیں اور جلدی جلدی اپنا جسم صاف کرتے ہیں۔۔۔۔۷. تحقیق کے مطابق زندگی میں بہترین چیزیں اسی وقت ملتی ہیں جب آپ کو ان کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔۔۸. زیادہ تر لوگ دن کی نسبت رات کے وقت روتے ہیں کیوں کہ نیند کی کمی کی وجہ سے جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۹

. رات کو سونے سے پہلے آخری شخص جو آپ کے دماغ میں آیا وہی آپ کی خوشی یا غم کی وجہ ہے۔۔۔۱۰. اسی فیصد لوگ اپنی فیلنگز صرف خود تک محدود رکھتے ہیں کیوں کہ انھیں لگتا ہے لوگ ان کی فیلنگز کو نہیں سمجھ سکیں گے۔۱۱. اوور تھنکنگ یعنی حد سے زیادہ سوچنا ڈر کی ایک قسم ہے یہ عمل اس وقت مزید خطرناک بن جاتا ہے جب آپ اس میں پرانی یادیں،مستقبل کی پیش گوئیاں اور جذبات شامل کر دیتے ہیں۔

سٹریس یا ذہنی دباؤ سیکس لائف پر برے اثرات ڈالتا ہے

سٹریس یا ذہنی دباؤ سیکس لائف پر برے اثرات ڈالتا ہے
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:12
بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کی ہیلن ٹامس کہتی ہیں کہ بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو نے ایک سروے کے دوران 2,066 بالغ افراد سے ان کے جسمانی رجحانات اور تعلقات کے بارے میں سوالات پوچھے۔اس سروے میں خواب گاہ میں درپیش مسائل میں ذہنی دباؤ سے بڑا مسئلہ (فیصد) بن کر سامنے آیا۔نفسیاتی علاج کے ادارے، ریلیٹ، کی

اِلین بریڈی کہتی ہیں: ‘ہمارے پاس زیادہ تر آنے والے افراد اضطراب کا شکار ہوتے ہیں۔ اضطراب اور جسمانی اشتہا ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتے۔’سروے میں شامل افراد نے ان کی جسمانی صحت پر برے اثرات

اثرات ڈالنے والے جن دوسرے عوامل کی نشاندہی کی ان میں جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل اور بچوں کی موجودگی شامل ہے۔جبکہ دس فیصد افراد نے سوشل میڈیا کو بھی اپنی جسمانی زندگی کے لیے مسئلہ قرار دیا۔تاہم مِس بریڈی کا کنا ہے کہ غالباً مسئلہ اس سے زیادہ گمبھیر ہے۔‘

جوڑوں کے درمیان بنیادی رابطے ہی کا فقدان ہے، وہ ایک دوسرے سے آنکھ تک نہیں ملاتے، نہ بات کرتے ہیں۔ اس لیے تعجب نہیں کہ ہم بستری میں انھیں مشکل پیش آتی ہے۔’سروے میں شامل افراد کی تقریباً آدھی تعداد نے کہا کہ وہ اپنی جسمانی زندگی سے مطمئن ہیں، ان میں سے 50 فیصد مرد اور 53 فیصد عورتیں تھیں تاہم 38 فیصد مردوں اور 25 فیصد عورتوں نے اپنی جسمانی زندگی کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا۔سروے کے مطابق 58 فیصد افراد اپنی جسمانی کارکردگی سے مطمئن تھے

۔سروے کے مطابق بے وفائی کے بارے میں مردوں اور عورتوں کی سوچ مختلف تھی۔تین چوتھائی عورتوں کا کہنا تھا کہ اپنے پارٹنر کے علاوہ کسی دوسری عورت سے انٹرنیٹ پر سیکس کی بات کرنا یا کسی اور کو چومنا بے وفائی کے زمرے میں آتا ہے۔ جبکہ مردوں کی صرف آدھی تعداد اسے بے وفائی سے تعبیر کرتی ہے۔برطانیہ میں دس میں سے نو افراد کا کہنا تھا کہ اپنے پارٹنر کے سوا کسی سے سیکس کرنا بے وفائی ہے جبکہ پانچ میں سے دو افراد کا خیال تھا کہ ایک پارٹنر کے ہوتے ہوئے ڈیٹنگ ایپس پر وقت گزارنا بھی بے وفائی کے مترادف ہے۔

جسمانی زندگی کو بہتر کیسے کیا جا سکتا ہے؟مِس بریڈی کہتی ہیں کہ اس کے لیے جسمانی تعلق کو پہلے معطل اور پھر دوبارہ شروع کرنا ہوگا۔ ‘سیکس بند کر دو کیونکہ سیکس کے نام پر آپ جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ تو سب غلط تھا۔ پہلے اس غلطی کو بھلانے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد پھر سے جذباتی قربت اور لگاؤ پیدا کریں۔

’مگر مشکل یہ ہے کہ عورتیں تو جذباتی قربت، اور بوس و کنار کی خواہش رکھتی ہیں مگر مرد جسمانی فعل کو ترجیح دیتے ہیں۔مگر مِس بریڈی کا کہنا ہے کہ ‘میرے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ مردوں کو یہ بات جلد ہی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ وہ بوس و کنار اور جذباتی لگاؤ چاہتے ہیں۔ اس طرح جسمانی فعل کے لیے حالات سازگار ہو جاتے ہیں

حرام کی کمائی

حرام کی کمائی
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:09
ﺟﺐ میں ﺍﭘﻨﮯ استاد ( شیخ ) کو اپنے بے روزگاری و تنگدستی کی شکایت سُنائی اور کچھ مشورہ طلب کیا تو ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ایک جگہ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﻗﯽ

ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ان سے ﺍﺱ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ : ﺗﻢ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ

ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ”ﺗﻢ ﺁﺝ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺟﺎﺅ ۔ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﮐﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ، ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ ‘ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ “ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﻮﺩﯼ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮔﯿﺎ،

ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻢ ﺍﺏ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﻗﻢ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﻭ ۔ﺁﭖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺧﻮﺏ ﺳﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﮐﻨﮉﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺳﻮﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﻮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﺑﺘﺎئی۔ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ :

ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﮯ۔ ﺣﺮﺍﻡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﮨﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ: ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﻣﯿﺮﮮ شیخ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎیا : ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺣﺮﺍﻡ 40 ﺩﻥ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺁﭖ ﺍﻥ 40 ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ،ﺁﭖ ﻏﯿﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ،ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ،ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﯽ،ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ؟ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ “ﺍﻧﮩﻮﮞ نے ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ :

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ریاضت ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺳﯿﮑﮭﺎ ، ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﻻ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﺗﺎﻻ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﮯ ﺣﻼﻝ ، ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺟﺎﺅ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ “۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ” ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ “ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ، ﺳﻨﻨﮯ ، ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے ایسے ہی حرام لقمہ گندی سوچ اور گناہ کو کھینچتا ہے۔

ﺁﭖ ﺍﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ،ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﮌ ﺩﮮ ﮔﺎ ، تباہ کردیگا ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ، بے قیمت کردیگا آپنے گھر میں آپنے پڑوس میں اور پورے دنیا میں پھر معاشرے میں آپ کی کوئی اہمیت ہی نہ رہیگی۔ اور آپ کے چہرے کی رونق ختم ہوجائیگی، سب سے خطرناک بات یہ ہوگی کہ دِل سخت ہوجائیگا، اور جِس کا دِل سخت ہوجاتا ہے پھر خیر کی بات اس کے دِل پر کبھی اثر ہی نہیں کرتی

خواتین پر شیطانی حملے

خواتین پر شیطانی حملے
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 23:06
ایک بہن نے دکھ بھرے لہجے میں ہمیں لکھا ہے کہ نماز پڑھنے اور تلاوت کرنے میں سارا دن شیطان اس پر حملہ کرتا ہے ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ آپ یقین کریں میرے پاس اسلامی بہنوں کے جتنے مسائل آتے ہیں ان میں اکثر کا خیال ہوتا ہے ان پریا ان کے گھر پریا ان کے گھر کے کسی فرد پر جنات کا سایہ ہے۔ عورتوں کے ان

تمام مسائل ، الجھنوں اور پریشانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے میں پہلے شیطان کے دام فریب کا شکار بنانے والے اسباب واضح کیا ہوں پھر

شیطانی حملوں سے بچنے کی چنداحتیاطی تدابیر ذکر کیا ہوں ،مجھے امید ہے کہ اگر اسلامی بہن شیطانی اسباب سے پرہیز کرے اور احتیاطی تدابیر کو اپنالے تو اللہ کے فضل وکرم سے شیطانی اثرات سے پاک گھر اورنہایت پاکیزہ ماحول ملے گا۔

بلاشبہ شیطان انسانوں کو گمراہ کرتا ہے اور گمراہی کی طرف لے جانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپناتا ہے مگرمکمل طور پرشیطان کو یہ الزام دینا کہ ہم اس کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتے یا تلاوت نہیں کرتے غلط ہے کیونکہ وہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر برائی کی طرف کھینچ کرنہیں لے جاتا بلکہ وہ ہمیں شیطانی وسوسے میں مبتلا کرتا ہے ، دل میں گندے خیالات ڈالتا ہے اور شر کے راستوں کی طرف چلنے میں روحانی فوائد ولذت اذہان میں پیوست کرتا ہے ، اس کے بعد انسان خود ہی برائی کا راستہ چن لیتا ہے۔

اللہ نے خیر اور شر دونوں واضح کر دیا ہے اور انسانوں کو خیر اور شرمیں تمیز کرنے کی صلاحیت دے کرانہیں اپنانے کا اختیار بھی دیا ہے یعنی انسان چاہے تو خیر کا راستہ اپنائے اور چاہے تو شر کا راستہ اپنائے ، اللہ کا فرمان ہے:إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا(الدهر:3)ترجمہ: ہم نے تو اسے راہ دکھائی تو اب وہ خواہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا۔گویا کوئی نماز چھوڑتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے چھوڑتا ہے ، اس میں اس کےارادہ اور اس کے عمل کا دخل ہے اسی لئے ترک نماز پہ اللہ نے جہنم کی وعید کا ذکر کیا ہے اور اگر کوئی نماز پڑھتا ہے تو اس میں بھی انسان کے ارادے اور عمل کا دخل ہے ۔

ارتکاب معاصی اور اجتناب خیر پہ محض شیطان کو اگر موردالزام ٹھہرایا جائے تو پھر گنہگار کو اللہ کا سزا دینا انصاف کے خلاف ٹھہرے گا ، اسے یکسو ہوکر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے ایسے سمجھیں کہ کوئی شرابی آدمی کہے کہ مجھےشراب مجبور کرتی ہے کہ پیو ، ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عقل ودانش والا اسے نہیں تسلیم کرے گا۔ اللہ نے انسان کو جو اختیار دیا ہے وہ خیروشرپرعمل کے لئے ، خیر کے راستے پر ہم کیسے چلیں اور کن باتوں سے خیر پر استقامت ہوگی اورکیسے شیطان کے شر سے محفوظ رہیں گے ؟

ہم سے اللہ اس کے رسول اللہ ﷺ نے کھول کھول کر بیان کردیا ۔ سراسر ہماری غلطیاں ہیں کہ ہم اللہ اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے دور ہوکر برائی کی طرف لے جانے والے اسباب اپناتے ہیں اس وجہ سے ہم پر شیطان کا حملہ آسان ہوجاتا ہے یا یوں کہیں کہ شیطان اپنے مکروفریب میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ہم اس کے دام فریب کا شکار ہوجاتے ہیں جس کے نتیجہ میں کفر ومعصیت کرتے ہیں اور عبادت سے غافل ہوجاتے ہیں ورنہ اللہ نے قرآن میں ذکر کردیا ہے کہ اس کے مخلص بندوں پر شیطان کبھی حاوی نہیں ہوگا۔

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ, إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (ص:82-83)ترجمہ:(ابلیس) کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقینا بہکا دوں گا بجز تیرے ان بندوں کے جو مخلص (چیدہ اور پسندیدہ) ہوں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ شیطان بنی آدم کا کھلا دشمن ہے،یہ جانتے ہوئےبھی ہم ہمیشہ اسے بہکانے اور ورغلانے کا پورا پورا موقع دیتے ہیں ۔ عورت کی مثال لے لیں جب گھر سے نکلتی ہے تو وہ تمام اسلحہ جات سے مصلح ہوتی ہےجو شیطان کے بہکانے اور حملہ کرنےکے کام آتا ہے ۔

عریاں لباس لگانا، خوشبو لگانا، دلفریب زینت اختیار کرنا ، زینت کی نمائش کرنا، جسم کے نشیب وفراز ظاہرکرنا، راہگیروں اور اجنبی مردوں کے سامنے ناز وادا دکھانا، بغیر محرم کے نکلنا، اجنبی سے خلوت کرنا، مردوں کے ساتھ اختلاط کرنا، دلنشیں انداز میں مردوں سے بات کرنا ، فلمی ہال جانا، بازاروں میں بلاضرورت گھومنا وغیرہ وغیرہ ۔ عورت جب گھروں میں ہو تو فلمیں دیکھنا، گانے سننا، عورتوں کے درمیان غیبت کرنا، جھگڑے لگانا،

عیب جوئی کرنا، گھروں میں جاندارتصویر لٹکانا، نماز کے لئے کام کاج اور بچوں کے بہانے بنانا اور سوتےجاگتے کبھی اللہ کا نام تک نہ لینا حتی کہ کھانے پینے میں بھی اللہ کو بھول جانا، سوتے وقت گانے سنتے ہوئے یا فلم دیکھتے ہوئے سونا، اجنبی مردوں(بشمول دیور) سے ہنسی مذاق کرنا، سوشل میڈیا کے ذریعہ غیروں سے لذت اندوز چیٹ اور فضول کاموں میں بلکہ اکثر برے کاموں میں قیمتی اوقات ضائع کرنا وغیرہ ۔ معلوم یہ ہوا کہ عورتیں خود ہی باہروں سے شیطان بلاکر گھروں میںآنے کی دعوت دیتی ہیں اور اپنی مرضی سے اس کا شکار بنتی ہیں ۔

ہم مسلمان ہیں ، اسلامی تعلیمات اپنی زندگی اور گھروسماج میں نافذ کریں، شیطان کبھی اپنے مکر میں کامیاب نہیں ہوگا، وہ جتنے ہتھکنڈے ہمارے خلاف اپنائے سوائے نامرادی کے کچھ اس کے ہاتھ نہیں لگے گا۔اوپرعورتوں کے متعلق جن داخلی وخارجی برائیوں کا ذکر کیا گیاہے وہ تمام او ر ان کے علاوہ جن میں آپ ملوث ہیں وہ بھی سبھی چھوڑ دیں اور گھر میں رہتے ہوئے اور باہر نکلتے ہوئے اسلامی احکام کی پاسداری کریں شیطان آپ کے قریب نہیں آئے گا وہ آپ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل لے گا۔

جی ہاں ، راستہ بدل لے گا۔ اب آپ کو شیطان سے بچنے کی چنداحتیاطی تدابیر بتلاتا ہوں ۔ (1) عورتوں میں ضعیف الاعقتادی بہت پائی جاتی ہیں ، انہیں اپنے اندرسے ختم کریں ۔ ہرمصیبت کو جنات سے جوڑتی ہیں اور اس کا حل تلاش کرنے کے لئے بے دین عاملوں اور گجیڑی باباؤں کے پاس جاتی ہیں ۔ اس کمزوری کو دور کریں اور نحوست لینا چھوڑ دیں ۔کپڑا گرگیا، پیسہ چوری ہوگیا،

سامان گم ہوگیا، بچہ بیمار ہوگیا، جانور مرگیا،شادی میں تاخیر ہورہی ہے،میاں بیوی میں جھگڑا ہورہاہے، ان سب چیزوں کو جنات سے جوڑا جاتا ہے ۔ یہ اعتقاد رکھیں کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ مصیبت اللہ کی طرف سے ہے یہ اعتقاد رکھتے ہوئے جسمانی بیماری ہو تو اس کا جائز علاج کرائیں یعنی ماہر طبیت سے دکھائیں اور گھروں کی پریشانی کودور کرنے کے لئے اللہ کی طرف رجوع کریں ،کثرت سے توبہ واستغفار کریں ، گھروں اور انسانی زندگی میں برکتوں والے اعمال کریں مگر ہرگز کسی کاہن،

جعلی پیروعامل کے پاس اپنی مصیبت لے کر نہ جائیں ۔ اسلام میں خود سے دم کرنا اور صالح انسان سے دم کروانا جائز ہے لہذا کسی آفت کے نزول پہ اولا خود سے ادعیہ ماثورہ کے ذریعہ دم کریں ،ٹھیک نہ ہونے پر صالح اور متقی انسان کے پاس جائیں ،پیشہ ور مکارعاملوں سے توبالکلیہ اجتناب کریں اور خدا را ! ہربات کو جنات سے نہ جوڑیں ، یہ ڈھونگی بابا لوگوں کو ڈرانے اور مال لوٹنے کے لئے ہرمشکل پہ کہتے ہیں آپ پر یا آپ کے گھر پر جنات کا سایہ ہے ۔

ایسے موقع سے اللہ کا فرمان یاد کرلیں کہ جو اس پربھروسہ کرلیتا اسے کسی چیز کا ڈر نہیں ، اللہ اس کے لئے کافی ہے:وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ(الطلاق:3)ترجمہ: اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے ۔اس لئے ضعیف الاعتقادی ختم کریں اور اپناعقیدہ صحیح کرتے ہوئے اللہ پر مکمل اعتماد بحال کریں ۔ (2)اپنے اندراللہ کا تقوی پیدا کریں ۔

اس وقت برائی گھرگھر اور چاروں طرف ہے ، ان سے دامن بچانا ہے ۔ شوہر کی غیرحاضری پہ اس کے مالوں کی حفاظت کے ساتھ اپنی عزت وآبرو کو بچانا ہے ۔آپ بڑی آسانی سے اس وقت برائی کے شکار ہوسکتی ہیں اس لئے اتنا ہی محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ آج انٹرنیٹ بھی ایک بڑی آزمائش ہے ، اس کا استعمال کرتے ہوئے اللہ کا خوف کھائیں بلکہ کم سے کم اس کا استعمال کریں ۔دل میں اللہ کا خوف ایسا ہو جو ہمیں عبادت کی طرف لائے اوربرائی سے بچائے ۔

اللہ تعالی ڈرنے والوں اور ڈرنے والیوں کے لئے آزمائش کے وقت نجات کا راستہ نکال دیتا ہے ۔ (3)اسلامی عقیدہ کی تعلیم لیکر اسے اپنے اندر جاگزیں کرنے کے بعد اللہ کا خوف کھاتے ہوئے اور رسول اللہ کی سنت کی اتباع کرتے ہوئےنماز کی پابندی اپنے وقتوں پرکرنانہایت ہی ضروری ہے ۔ خود بھی نماز پڑھیں ، بچوں کو بھی نماز پڑھائیں اورگھر کے مرد لوگ بھی نماز کی پابندی کریں یعنی ہمارا گھرنمازوتعلیم کی روشنی سے منور ہو۔ نماز سے ہمارے بڑے بڑے مسائل حل ہوتے ہیں۔

اللہ کی مدد ملتی ہے، دلوں کو سکون ملتا ہے، گھروں میں برکت نازل ہوتی ہے ، برائیوں سے تحفط فراہم ہوتا ہے اور شیطانی مکروفریب سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ (4) اذکار کی پابندی کی جائے ، نماز وں کے بعد اور صبح وشام کے اذکار پر ہمیشگی کریں، بچوں کو بھی اس کی تعلیم دیں اور غسل جنابت کی ضرورت ہو تو اس میں تاخیر نہ کریں ۔

ساتھ ہی جوان عورتوں کو ماہوار ی آتی ہے ، استخاضہ اور نفاس کا خون آتا ہے ، ان ایام میں دین سےکافی غفلت پیدا ہوجاتی ہے اور شیطان کو ورغلانے کا موقع مل جاتا ہے،وہ اس طرح کہ وہ خود کو نجس سمجھتے ہوئے زبان پر کئی روز تک اللہ کا نام تک نہیں لاتیں جبکہ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنا چاہئے اورکرسکتی ہیں حتی جنابت کے علاوہ حیض ونفاس میں دستانے سے پکڑ کر یابغیر چھوئےقرآن کی تلاوت بھی کرسکتی ہیں اور استحاضہ میں نماز ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔

صبح وشام اور نماز کے اذکار کے ساتھ سونے جاگنے، کھانے پینے، حمام میں داخل ہونے نکلنے ، کام کاج کرنے ، جماع کرنے ، اور نظر بد کی دعا کرنے کا اہتمام کریں ۔ (5)گھر میں خصوصی طورپرقرآن کی تلاوت کریں بطور خاص سورہ بقرہ ۔سونے کے وقت دیگرمسنو ن اذکار کے ساتھ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ، آیت الکرسی ،سورہ سجدہ، سورہ ملک ،سورہ اخلاص،سورہ افرون،معوذتین ، سورہ فاتحہ وغیرہ اور جمعہ کو سورہ کہف پڑھیں اور گھر میں نما ز پڑھتے وقت بدل بدل سورتیں پڑھا کریں ،اس سے گھروں کی حفاظت ہوگی اور شیطانی شرانگیزی سے بچ سکیں گے ۔

(6) ترجمہ وتفسیر کےساتھ قرآن پڑھنے کے لئے ایک وقت مقرر کرلیں اور قرآن کے علاوہ حدیث کا ترجمہ بھی تھورا تھوڑا پڑھا کریں، سیرت و احکام کا بھی مطالعہ کریں۔ یہ کام ایک دم آج ہی اور پورا دن اور پوری رات نہیں کرنی ہے، اپنی فرصت اور مناسب اوقات کے حساب سے کریں۔ جوں جوں علم زیادہ ہوگا دین پر عمل کرنے کا جذبہ بڑھتا جائے گااور بے دینی کی وجہ سے شر میں واقع ہونے کے خطرات کم ہوں گے اور شیطان کے جہالت آمیز دجل سے آپ بچ سکیں گی ۔

(7) گھرو ں میں جن چیزوں سے فرشتے نہیں آتے اور اللہ کی رحمتوں کا نزول بند ہوجاتا ہے انہیں گھر سے باہر نکالیں۔کتے، دیواروں پر آویزاں جاندار تصویر، موسیقی ، آلات لہوولعب اور کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی حرام چیزیں سب ترک کردیں۔ (8) بلاوجہ اور اکیلے خصوصا رات میں باہر نہ نکلیں اور بری جگہوں مثلا ناچ گانے، سنیما گھر ، بازار ، میلے ٹھیلے ، ہوٹلوں اور رقص گاہوں سے دور رہیں ۔سورج ڈوبنے کے بعد بچوں کو بھی گھر سے باہر نہ نکلنے دیں ۔ گھر سے باہر نکلنے پر فتنہ پیدا کرنے والے تمام اسباب سے بچیں مثلا بھڑکیلا لباس، خوشبو، بناؤسنگار، زینت کا اظہار وغیر ہ بلکہ اسلامی حجاب اپناتے ہوئے سادگی میں نکلیں اور اگر عازم سفر ہوں تو محرم کو ساتھ لیں۔

(9) گھر میں اسلامی ماحول بنانےکے ساتھ اپنے روابط نیک خواتین سے رکھیں ۔ فاحشہ ،بدگوئی کرنے والی، غیبت وچغلی کرنے والی، بدکردار ، عورتوں میں فتنہ وفساد پیدا کرنےوالی،ناچنے گانے والی،شراب وکباب میں مست، شوہروں کی نافرمان اورمکار عورتوں سے دور رہیں ۔ اگر ان کی اصلاح کرسکیں تو بہتر ہے ورنہ ان کی مجلسوں سے کوسوں دور رہیں ۔ ایسی عورتوں کی صحبت سے آپ پر برا اثر پڑے گا اور ان کا شر آپ کے گھر میں داخل ہوگا۔

(10) شیطان ہر لمحہ گھات لگاکربیٹھا ہے جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے اپنا وار کرنے میں نہیں چوکتااس لئے اس کے حملوں سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ طلب کریں ، بچوں کے لئے پناہ مانگیں اور گھر میں خیر وبرکت کے نزول کی دعائیں مانگیں ۔ دعامومن مرد وعورت کا ہتھیار ہے۔ دعا کے ذریعہ بڑی سے بڑی بلا ٹل جائے گی بشرطیکہ آپ کے اندر تقوی ہو ، اللہ کی حرام کردہ کاموں سے بچتی ہوں اور اس کے اوامرکی بجاآوری کرتی ہوں ۔آخری بات یہ ہے کہ شیطان انسان کو پریشان بھی کرتا ہے ، تکلیف بھی دیتا ہے اور نوجوان لڑکیوں کو طرح طرح سے ستاتا بھی ہے ، گھروالوں کو پریشان کرنے کے لئے گھر میں سکونت اختیار کرلیتا ہے ،

راتوں کو ڈراتا ہے اور گھر کے کسی فرد پر سوار بھی ہوتا ہے ۔یہاں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس شیطان کو اپنے گھر کس نے بلایااور اپنے اوپر سوار ہونے کا موقع کس نے دیا؟ خود ہم نےموقع دیا۔ اوپر ذکر کیا گیا ہےکہ خود کو شیطان سے کیسے محفوظ رکھیں اور گھرمیں شیطان کو داخل ہونے سے کیسے روکیں ؟ اگر ان باتوں کو عمل میں لائیں گی تو شیطان آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے پھر بھی وہ سب کو تکلیف نہیں دے سکتا ، سب کو سیدھے راستہ سے نہیں بھٹکا سکتا۔ اگر شیطان ہرکسی کو نقصان پہنچا سکتا اور نیکی کی راہ سے روک سکتا اور ہرکسی کو برائی کرنے پر مجبور کردیتا تو روئے زمین پر کوئی اللہ کا نام لیوا نہ بچتا ، سبھی سے برائیاں کرواتا ، سبھی کونقصان پہنچاتا۔اس نے توتمام انسان کو گمراہ کرنے کی قسم اٹھائی ہے اور دائیں بائیں اوپر نیچے تمام جہات سے اس کا مکرو فریب بھی ازل سے جاری ہے لیکن اللہ والے ہردور میں اس کی چال سے بچتے رہے ہیں اور قیامت تک بچتےرہیں گے ۔

انسان کی ہرپریشانی کو جنات سے جوڑ نےوالے عاملوں کی حقیقت جاننے کے لئے ایک بات بتادوں کہ نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ہرآدمی کے ساتھ ایک شیطان ہے خواہ وہ مرد ہو یاعورت ۔یہ جناتی عاملین صرف سایہ کی کیوں بات کرتے ہیں مکمل شیطان ہرکسی کے ساتھ ہے لیکن کیا ہرکسی کو نقصان پہنچاتا ہے ؟ نہیں ۔ اس لئے یہ جان لیں کہ ہرمصیبت اللہ کی طرف سے ہے ، کبھی مصیبت آزمائش ہوتی ہے تو کبھی اپنے گناہوں اور ہاتھوں کا کرتوت ہوتی ہے ۔ ایسے میں صبر کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے ۔

جسمانی بیماری ہوتواسے دفع کرنے کے جائز اسباب اپنانےسے اسلام ہمیں نہیں روکتا۔ اچھے اچھے طبیب سے مراجعہ کریں اور بہترسے بہتر علاج کرائیں ، اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کا علاج نہیں ہے ۔اوراگرآپ کو لگتا ہے کہ کوئی خاتون جسمانی مرض کا شکار نہیں

بلکہ واقعی اس پر جنات سوار ہوکر اسے پریشان کررہاہے توگھر والوں کو چاہئے کہ ایسے متقی اور نیک آدمی کے پاس جائیں قرآن اور صحیح دعاؤں کے ذریعہ علاج کرتے ہوں ۔ممکن ہے آپ کامریض جعلی پیر، نقلی بابا، بے دین عامل ، جادوگر اور کسی مزار پر جاکر ٹھیک ہوجائے مگر اس سے آپ کا ایمان وعمل ضائع ہوجائے گا۔ اسلام نے ہمیں جائز طریقے سے اور حلال دواؤں کے ذریعہ علاج کرنے کا حکم دیا ہے

گھبراہٹ کی وجوہات٬ علامات اور گھریلو علاج

گھبراہٹ کی وجوہات٬ علامات اور گھریلو علاج
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:54
گھبراہٹ ایک انسانی احساس ہےاور عموماً اس کا تجربہ انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی مشکل یا کڑے وقت سے گزرتا ہے۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا رہنا اور مسائل کا سامنا کرنا، یہ طریقہ کار عام طور پر خوف اور گھبراہٹ میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر یہ احساس شدید ہوجائے یا بہت عرصے تک رہے تو یہ انسان کو ان چیزوں سے

روک سکتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔گھبراہٹ کی وجوہات جسمانی اور دماغی دونو ں طور پر ہو سکتی

ہیں۔ اس کی بنا پر انسانی جسم مختلف تغیرات کی کیفیت سے دوچار ہو سکتا ہے، جن میں دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، جسم کا کانپنا جیسی علامات ہو سکتی ہیں ۔گھبراہٹ پر قابو پانا بظاہر آسان بات لگتی ہے لیکن گھبراہٹ کے وقت کوئی ترکیب کام نہیں آتی۔ انسان خود کو لاکھ سمجھائے لیکن جیسے ہی گھبراہٹ والی صورتحال کا سامنا ہو، ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں ۔

اس وقت ساری احتیاط دھری رہ جاتی ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ پورا جسم لرزنے لگتا ہے۔ہم میں سے کچھ لوگوں کی طبیعت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہر بات پہ پریشان رہتے ہیں۔ ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کیفیت وراثت میں بھی مل سکتی ہے۔ تاہم وہ لوگ بھی جو قدرتی طور پر ہر وقت پریشان نہ رہتے ہوں اگر ان پر بھی مستقل دباؤ پڑتا رہے تو وہ بھی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔کبھی کبھار گھبراہٹ کی وجہ بہت واضح ہوتی ہے اور جب مسئلہ حل ہوجائے تو گھبراہٹ بھی ختم ہوجاتی ہے۔

لیکن کچھ واقعات اور حالات اتنے تکلیف دہ اور خوفناک ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ واقعات کے ختم ہونے کے طویل عرصے بعد تک جاری رہتی ہے۔ یہ عام طور پر اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں جن میں انسان کی جان کو خطرہ ہو مثلاً کار یا ٹرین کے حادثات اور آگ وغیرہ۔ ان واقعات میں شامل افراد مہینوں یا سالوں تک گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار رہ سکتے ہیں چاہے خود انھیں کوئی جسمانی چوٹ نہ لگی ہو۔ کبھی کبھی نشہ آور اشیا کے استعمال کی وجہ سے بھی گھبراہٹ ہوسکتی ہے۔

حتیٰ کہ کافی میں موجود کیفین بھی ہم میں سے کچھ افراد کو تکلیف دہ حد تک گھبراہٹ کا شکار کرنے کے لیے کافی ہے۔تاہم دوسری طرف یہ واضح نہیں ہے کہ کوئی مخصوص شخص کیوں گھبراہٹ میں مبتلا ہوتا ہے ۔ اور یہ کہ کیوں اور کیسے یہ اس کی شخصیت ، اس پر گزرنے والے واقعات اور زندگی کی تبدیلیوں کے باعث ہوسکتا ہے۔بعض افراد بہت زیادہ دیر تک گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں، انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں گھبراہٹ کس وجہ سے ہو رہی ہے اور کیسے ختم ہوگی۔ ان حالات میں گھبراہٹ پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔گھبراہٹ کا شکار شخص ایسی ہر صورتحال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گھبراہٹ میں مبتلا کرسکتی ہو،

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت شدید سے شدید تر ہوتی جاتی ہے۔بعض اوقات اس کا نتیجہ جسمانی محسوسات میں شدت، بدترین حالات کی سوچوں، پریشانی اور اجتنابی رویے کی صورت میں نکلتا ہے جس سے زندگی متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔گھبراہٹ کی وجوہات کا جائزہ لیتے وقت جسمانی، نفسیاتی، سماجی عوامل کو بھی دھیان میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔گھبراہٹ کا علاج کرنے سے پہلے اس کی وجوہات اور ان عوامل کا جاننا بہت ضروری ہے

جو اس کی وجہ بن رہے ہیں۔جسمانی مسائل جیسے تھائیرائڈ، امراض قلب اور دیگر ہارمونز کے مسائل کی ترتیب وار جانچ، اور ان کے علاج کے بعد ہی گھبراہٹ کی وجوہات کی تشخیص کرنا اس کے علاج کا مؤثر طریقہ ہے۔دوا کے بغیر بھی گھبراہٹ سے محفوظ رہنے کے کئی طریقے موجود ہیں، جن میں ٹینشن کو کم کرنا، ورزش، سانس لینے کی مختلف مشقیں اور یوگا کرنا شامل ہیں۔ تھراپی اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ لینا بھی ایک مؤثر طریقہ ہے،

خاص طور پر ایسی تھراپی جس میں گفتگو کے ذریعے سوچ و خیالات کا زاویہ اور انداز تبدیل کیا جاتا ہے۔گھبراہٹ میں مبتلا کچھ افراد کے علاج میں ادویات کا استعمال بھی کیاجاسکتا ہے۔عام سکون بخش ادویات گھبراہٹ کو ختم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں تاہم اس بات کا خیال رہے کہ صرف چار ہفتوں کے باقاعدہ استعمال سے انسان ان کا عادی بن سکتا ہے اور جب لوگ انھیں چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں ناخوشگوار علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کافی عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں۔

گھبراہٹ کے لمبے عرصے کے علاج کے لیے ان ادویات کا استعمال مناسب نہیں ۔شہد دل کو تقویت دینے کے لئے اور گھبراہٹ کو رفع کرنے کے لیے سب سے بہترین ہے۔ اس سے دل کو طاقت ملتی ہے اور گھبراہٹ کی علامات دور ہوتی ہیں۔ اگر کبھی بے چینی اور گھبراہٹ زیادہ بڑھ جائے اور غنودگی اور بے ہوشی کا بھی ڈر ہوتو ایسے میں شہد دینے سے چند ہی منٹوں میں قوت اور طاقت محسوس ہوتی ہے اور گھبراہٹ میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔

سونے سے پہلے ایک گلاس گرم دودھ جسم کو سکون پہنچانے اور اعصاب کو ریلیکس کرنے کے لیے ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ جس کی بنیادی وجہ دودھ میں اینٹی آکسیڈینٹس کا وافر مقدار میں موجود ہونا ہے جن میں وٹامن B2 اور B12 کے ساتھ ساتھ پروٹین اور کیلشیم بھی شامل ہیں ۔ پروٹین لیکٹیم بلڈ پریشر کو کم کرکے جسم کو پرسکون بناتا ہے، جبکہ دودھ میں پوٹاشیم کی وجہ سے اعصابی تناؤ میں کمی ہوتی ہے اور اعصاب کو سکون پہنچتا ہے۔

بادام وٹامن B2 اور وٹامن E سے بھرپور ہوتے ہیں ،اور گھبراہٹ اور سٹریس کے دوران یہ دونوں اجزاء انسانی جسم کے حفاظتی نظام /امیون سسٹم کو زیادہ بہتر طریقہ سے کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ بادام کی نو سے گیارہ گریاں روزانہ کی خوراک میں شامل کریں اور آپ خود دیکھیں گے کہ کس طرح یہ آپ کے سٹریس لیول اور گھبراہٹ کی کیفیت کو بہتر کرتا ہے۔

سنترہ میں موجود وٹامن سی کی بڑی مقدار اسے گھبراہٹ اور سٹریس میں ایک انتہائی مفید عنصر بناتی ہے۔وٹامن سی بلند فشارِ خون اور سٹریس کی وجہ بننے والے ہارمون کورٹیسول Cortisol کے لیول کو کم کرنے کیے بہترین جانا جاتا ہے۔اسے استعمال کرنے کا سب سے بہترین طریقہ تازہ سنترہ چھیل کر کھانا ہے، بہتر ہے کہ آپ اس کو براہِ راست کھائیں ، اور اگر آپ اس کا جوس استعمال کرنے چاہیں تو اس میں کسی قسم کی چینی یا مٹھاس کو شامل کرنے سے گریز کریں

ذہنی دباؤ آپ کے لئے کیسے فائدہ مند ہوسکتا ہے؟

ذہنی دباؤ آپ کے لئے کیسے فائدہ مند ہوسکتا ہے؟
جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:47
ذہنی دباؤ کے بارے میں ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ ہماری صحت کے لئے بالکل اچھا نہیں ہوتا، ذہنی دباؤ کے باعث کئی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔لیکن آج ہم آپ کو ذہنی دباؤ کے حوالے سے چند ایسے حقائق بتائیں گے، جن کو جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ ذہنی دباؤ ہماری صحت کے لئے اتنا فائدہ مند کیسے ہوسکتا ہے۔بین الاقوامی ویب سائٹ پر

شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عرصے تک رہنے والا ذہنی دباؤ آپ کو

فائدہ پہنچاتا ہے۔کم عرصے تک رہنے والے ذہنی دباؤ سے آپ کو کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، آئیے جانتے ہیں اس ویڈیو میں۔