عمران خان کے مشیر انیل مسرت کون ہیں؟

عمران خان کے مشیر انیل مسرت کون ہیں؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:54
انیل کا بچپن ورکنگ کلاس تارکین وطن کے بچوں کی طرح ہی تھا ہر سال والدہ کے آبائی شہر چنیوٹ اور والد کے آبائی شہر گوجرہ کا چکر لگانا اور یہاں آزاد اور پر امن ماحول میں گلیوں بازاروں میں گھومنا پھرنا اُن کے لیے روٹین تھا۔ سکول میں انیل کا دل نہیں لگتا تھا اسی لیے سکول سے ڈراپ آؤٹ ہو گئے اوپر سے افتاد یہ پڑی کہ والد

کا انتقال ہو گیا جس کے بعد انہیں لڑکپن میں ہی غم روزگار میں مبتلا ہونا پڑا۔تایا لانگ سائٹ کے علاقے میں ہی پراپرٹی کا کاروبار کرتے

تھے انہی سے بزنس کے پہلے گُر سیکھے اور ابتدا میں گھر کرائے پر چڑھانے شروع کیے۔ ان کے پرانے محلے دار کہتے ہیں کہ انیل کی کاروباری سوجھ بوجھ میں ایک بوڑھے رئیل اسٹیٹ بزنس مین کا اہم کردار ہے جس نے انیل کو اس کاروبار کی اونچ نیچ سکھائی۔

تربیت کا کمال تھا یا انیل کی ذاتی محنت، لڑکپن کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مانچسٹر سے شروع ہونے والا کاروبار اب پورے یورپ میں پھیل چکا ہے۔ مگر اتنی کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود انیل اب بھی 18 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کا عزم ہے کہ وہ ایک دن برطانیہ کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ گروپ بنائیں۔

سالہا سال کی محنت کے بعد جب انیل مسرت خوشحال ہوئے تو 2004 میں انہوں نے میاں نواز شریف، عمران خان اور دوسرے پاکستانیوں سے میل جول شروع کیا۔ تقریباً اسی زمانے میں انہوں نے بھارت کے فلمی ستاروں امیتابھ بچن، شاہ رخ ، سلمان خان اور انیل کپور اور سنیل سیٹھی کے ساتھ دوستی کی بنیاد ڈالی۔ کرکٹ اور فلم ان کے بچپن کے شوق ہیں عمران خان ان کا کرکٹر ہیرو ہے اور یوں لگتا ہے

کہ وہ 30 سال گزرنے کے باوجود اب بھی عمران خان کی کرشماتی شخصیت کے مداح ہیں۔بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے دیکھتے وہ اس کے بڑے ناموں سے مانوس ہوئے اور جب وہ دولت و مرتبہ کے ایک خاص مقام پر پہنچے تو اسی طلسماتی دنیا کے کرداروں سے کندھے ملانے میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ وہ بالی ووڈ کے ستاروں کے گھر ہی کا ایک فرد ہے۔انیل مسرت کی کامیابیوں کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں وہ برطانوی سیاست کے اہم ترین کرداروں کے بھی راز دار ہیں۔

وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ شری بلیئر نے سرمایہ کاری کرنی ہو تو وہ انیل سے مشورہ کرتے ہیں اور تو اور ڈیوڈ کیمرون سے بھی ان کی گاڑھی چھنتی ہے۔ یہ سب سے بڑے نام تو سویلین دنیا کے ہیں جن سے ان کی سماجی اور سیاسی مصروفیات کی وجہ سے راہ و رسم بڑھانا مشکل نہیں ہوتا لیکن انیل مسرت کی فتوحات تو فوج کے شعبے تک بھی ہیں۔ برطانوی افواج کے کمانڈر مسٹر نِک ہوں یا پاکستانی افواج کے کمانڈر جنرل باجوہ ان کا سب سے ملنا جُلنا اور سماجی راہ و رسم ہے

ان کے دائرۂ تعلقات میں تازہ اضافہ عدلیہ کے شعبے میں ہوا۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے بھی برطانیہ میں پہلا عشائیہ انیل مسرت ہی کے ساتھ کیا ۔ بظاہر کم گو مگر فوکسڈ انیل مسرت کے دائرۂ اثر کا اندازہ ان کے ملنے والوں کی فہرست سے بخوبی ہو سکتا ہے۔انیل مسرت کی طبیعت میں عاجزی ہے وہ بڑے بڑے دعوے نہیں کرتے۔ اپنی دولت کی شیخیاں نہیں بگھارتے۔

ان کے ذاتی دوست چند ہیں مگر ان کے ساتھ آؤٹنگ کرتے ہیں اپنے بھائی نبیل چودھری اپنی بہنوں بہنوئیوں، داماد، بیوی اور والدہ سمیت سب کو ساتھ ملا کر چلتے ہیں۔ برطانیہ میں رہنے کے باوجود اپنے خاندان کو مشترکہ خاندانی نظام کی طرح چلاتے ہیں بھائی نبیل چودھری کا رہن سہن امیروں والا ہے اس کی گرل فرینڈز کے قصے زبان زدِ عام رہتے ہیں انیل خاندان لندن کے مشہور اور مہنگے ترین لیڈی انا بیل کلب کا سرگرم رکن ہے ان کے اکثر فنکشنز وہیں ہوتے ہیں۔انیل مسرت کے ناقدین اکثر یہ الزام لگاتے ہیں

کہ انیل کو شریف خاندان نے سرمایہ کاری کے لیے پیسے دیے تھے۔ انیل نے اس میں کیا خرابی کی کہ شریف خاندان اور انیل مسرت میں دوریاں پیدا ہوگئیں؟انیل مسرت کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے اس کا شریف خاندان سے ملنا جلنا ضرور تھا مگر کبھی اکٹھے کاروبار نہیں کیا۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ دھرنے کے دوران انیل مسرت عمران خان کی سٹیج پر نظر آئے تو شریف برادران ناراض ہو گئے

اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انیل کو برطانوی وزیر اعظم سے مل کر یہ درخواست کرنا پڑی کہ انہیں خدشہ ہے کہ دورۂ پاکستان کے دوران شریف خاندان انہیں کسی جھوٹے مقدمے میں گرفتار نہ کر لے۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے یہ یقینی بنایا کہ انیل مسرت کو پاکستان میں کوئی گرفتار نہ کر سکے ۔ انیل دل و جان سے عمران خان کی کامیابی چاہتے ہیں اسی لیے وہ اپنے تجربات کا نچوڑ 50 لاکھ گھر بنانے کے منصوبے کی رہنمائی کر کے ملک پر نچھاور کرنا چاہتے ہیں۔

انیل مسرت ویسے تو مشینی انسان ہیں ہر وقت پراپرٹی کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں لیکن انسانی طور پر اپنے خاندان سے جڑے رہتے ہیں۔ ان کی اہلیہ شاہ محمود قریشی کے خاندان سے ہیں انیل اپنے اکلوتے بیٹے رافع کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں اور انہیں خوب سیر کرواتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔عمران خان سے وابستگی، اُن کی الیکشن مہم میں خرچہ کرنے اور پھر ہاؤسنگ پراجیکٹ کی مشاورت کی وجہ سے انیل مسرت پاکستانی سیاست میں متنازغ کردار بن کر سامنے آئے ہیں

چونکہ لوگ ان سے زیادہ واقف بھی نہیں اسیلیے پراسراریت کا ایک ہالہ بھی ان کے گرد قائم ہو گیا ہے۔دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا انیل مسرت بھی معین قریشی، شوکت عزیز یا کئی دوسرے تارکین وطن کی طرح کسی عہدے، ٹھیکے یا مال بنانے والے کسی پراجیکٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں یا پھر وہ واقعی اپنے بین الاقوامی کامیاب تجربوں کے نچوڑ سے پاکستانی ہاؤسنگ میں انقلاب لانا چاہتے ہیں؟توقع یہی کرنی چاہیے کہ انیل مسرت صرف اپنے تجربے اور شعور کو یہاں منتقل کریں کاروبار یا مالی مفاد کاسودا نہ کریں

وہ موجد جنہیں اپنی ایجادات پر شرمندگی ہوئی

وہ موجد جنہیں اپنی ایجادات پر شرمندگی ہوئی
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:34
دوسو برسوں میں جو سائنس کی دنیا نے ترقی کی وہ تاریخ ِ انسانی میں پہلے کبھی نہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔سائنسی ایجادات نے جہاں انسانوں کو بہت سہولیات سے نوازا وہیں ان کے مؤجدوں نے ان میں موجود خرافات دیکھ کر اس پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا۔ہم آپ کو بتاتے ہیں ایسے آٹھ موجدوں کے متعلق جنہیں اپنی کی گئی ایجاد پر

شرمندگی ہوئی۔وکٹر گروئین: شاپنگ مالمال کو در حقیقت دو مربعوں میں دوکانوں اور اسکولوں کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ان کی حالیہ شکل سے گروئینکو شدید نفرت تھی۔جان سِلوان: کے کپس ارب کے کپ جو

نہ گَل سکتے ہیں نہ سڑ سکتے ہیں، زمین دوز کردیے جاتےہیں۔ اس کے سبب سِلون کو شرمندگی محسوس ہوتی ہوگی۔اوروِل رائٹ: ہوائی جہاز کا معاون موجدائٹ نے ہوائی جہاز کو بطور ہتھیار نہیں سوچا تھا۔ ہوائی جہاز نے جو کردار دونوں جنگِ عظیموں میں ادا کیا اس نے رائٹ کو خوفزدہ کر دیا۔فِلو فارنزورتھ:

ٹیلی ویژندر اصل ٹیلی ویژن کامقصد تعلیمی تھا لیکن فارنزورتھ نے اِسے وقت ضائع کرنے والا آلہ پایا۔اینا جاروِز: مدرز ڈےنیک نیتی پر مبنی اور ماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے اس طریقہ کار کی خطرناک کمرشلائزیشن ہوجانے نے جاروِز کو آگ بگولہ کردیا۔میخائل کلاشنکوف: اے کے 47اے کے 47 کے سبب سالانہ ڈھائی لاکھ لوگ مارے جاتے ہیں۔ مرنے سے قبل کلاشنکوف نے لکھا کہ اس سب کا ذمہ دار وہ خود کو محسوس کرتا ہے۔

جے روبرٹ اوپنہیمر: آیٹم بمہینری ٹرومین سے 1945میں بات کرتے ہوئے اوپنہیمر نے اعتراف کیا کہ ‘صدر صاحب مجھے اپنے ہاتھوں میں خون محسوس ہوتا ہے۔’الفریڈ نوبل: ڈائنامائیٹنوبل نے امن انعام جس میں ان کا نام آتا ہے، اپنی مہلک ترین ایجاد، ڈائنامائیٹ ، کے احساس جرم کے

لیبیا کے بیرون ملک بنکوں میں پڑے اربوں ڈالرز سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟

لیبیا کے بیرون ملک بنکوں میں پڑے اربوں ڈالرز سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:31
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمراں مقتول کرنل معمر قذافی کے دورِ حکومت میں اربوں ڈالرز بیرون ملک بنکوں میں سرمایہ کاری یا دوسرے عنوانات سے جمع کرائے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قذافی حکومت کے خلاف 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک برپا ہونے کے بعد یہ تمام اثاثے منجمد

کردیے تھے۔لیکن کسی کو ان اثاثوں کی مالیت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا تاآنکہ بیلجیئم کے ایک بنک نے ان منجمد اثاثوں پر سود کی رقم جاری کی ہے اور اس سے اس یورپی ملک میں لیبیا

کی منجمد کی گئی اربوں ڈالرز کی رقوم کا بھی پتا چلا ہے۔لیبیا کی سرمایہ کاری کارپوریشن بیرون ملک ان اثاثوں کے انتظام کی ذمے دار ہے۔جریدے پولیٹکو کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک نے معمر قذافی کے منجمد اکاؤنٹس میں سے سود کی مد میں رقم ادا کی ہے۔

برسلز میں واقع ایک بنک ’’ یورو کلئیر‘‘ سے لیبیا کے ایک منجمد اکاؤنٹ سے سود کی مد میں رقم کی ادائی کے بعد سے بیلجیئم میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ یہ رقم کس کو ادا کی گئی ہے؟لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بیلجیئم سمیت پانچ یورپی ممالک اقوام متحدہ کی لیبیا پر ماضی میں عاید کردہ پابندیوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وہ اپنے بنکوں میں جمع شدہ رقوم کو اپنے استعمال میں لارہے ہیں اور انھوں نے اس کی تفصیل بھی نہیں بتائی کہ ان کی مالیت کیا ہے۔

جریدے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ ، بیلجیئم ، جرمنی ، اٹلی اور لکسمبرگ میں قذافی حکومت کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے ۔ان ممالک کے قانون کے مطابق منجمد کردہ رقوم پر سود یا حصص پر منافع منجمد نہیں ہوتا ہے اور صرف اصل رقم ہی اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نتیجے میں منجمد کی جاتی ہے۔بیلجیئم کے بنک ’’ یورو کلئیر‘‘ نے منجمد فنڈز پر سود کی رقم لیبیا کی سرمایہ کاری کارپوریش کے لکسمبرگ اور برطانیہ میں واقع بنک کھاتوں میں منتقل کی گئی ہے لیکن آج تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ رقم کس نے وصول کی ہے؟

لیبیا کے اس ادارے نے سودی رقوم کی وصولی کی تصدیق کی ہے لیکن اس نے اس کی کوئی دوٹوک وضاحت جاری نہیں کی ہے۔لیبیا کی سرکاری سرمایہ کاری کارپوریشن کے اکاؤنٹس میں 2011ء سے 2017ء تک ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کی رقم سود کی مدد میں منتقل کی گئی تھی۔ تاہم اس ادارے کے ایک سابق افسر علی الشامخ نے العربیہ سے گفتگو میں اس رقم کی منتقلی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود اس حوالے سے میڈیا میں رپورٹس دیکھی ہیں جس سے کسی ایک سوالات نے جنم لیا ہے۔

لیبیا کی پارلیمان کی مالیاتی کمیٹی کے ایک رکن عبدالسلام نیسیہ کا کہنا ہے : ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایشو رائے عامہ اور قومی سلامتی کا ایک معاملہ بن چکا ہے مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ بیلجیئم میں تو لیبیا کے ان فنڈز کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے لیکن اس رقم کے مالک نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔بالخصوص ایسی صورت حال میں جب ان فنڈز کے غلط استعمال کی بھی اطلاعات منظرعام پر آرہی ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا :’’ ہمیں یہ جاننے میں کوئی غرض نہیں کہ یہ فنڈز کیسے جاری کیے گئے تھے بلکہ ہمیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ اس رقم کو کیسے صرف کیا گیا ہے‘‘۔

انھوں نے لیبیا کے اٹارنی جنرل سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس رقم سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام سامنے لائے جاسکیں۔لیبیا کے ان فنڈز کو تو اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کے تحت منجمد کیا گیا تھا لیکن حال ہی میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ان رقوم سے بعض فریق قذافی حکومت کی ’’ مالیاتی سلطنت‘‘ سے ابھی تک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ان سے برطانیہ ایسے ملک نے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور اس نے اس رقم کو اینٹھنے کے لیے ازخود ہی ایک قانون جاری کردیا تھا جس کے تحت وہ لیبیا کے منجمد اثاثوں کو آئرش آرمی کی مسلح کارروائیوں سے متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کا جواز یہ تراشا گیا کہ معمر قذافی آئرش آرمی کی حمایت کرتے رہے تھے۔

لیبیا کے ایک ماہر معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کے بانی سلیمان الشاہونی نے بیرون ملک لیبیا کے منجمد اکاؤنٹس کے بارے میں بین الاقوامی جائزے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ لیبیا کے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے دستیاب ہوسکیں کیونکہ ان کے بہ قول لیبیا سرمایہ کاری کارپوریشن کے متنازعہ بیانات سے ایک ابہام پیدا ہوچکا ہے۔اس لیے اس تمام معاملے کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

کیا پاکستانی میڈیا اپنی قبر خود کھود رہا ہے؟

کیا پاکستانی میڈیا اپنی قبر خود کھود رہا ہے؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:51
پاکستان میں مرکزی دھارے کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا جس بحران میں گھرا ہوا ہے وہ اب شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔نامور شخصیات کے استعفوں اور برطرفیوں کی ایک لڑی کے بعد اب خبریں ہیں کہ کئی اشاعتیں جونیئر اسٹاف کو نکال رہی ہیں جبکہ کچھ کے بارے میں افواہیں ہیں کہ یہ مکمل طور پر بند ہو رہے ہیں۔ میڈیا کی صنعت میں کئی

لوگوں کے لیے ایک مستقل خوف یعنی تنخواہوں کے اجرا میں تاخیر گزشتہ چند ماہ سے اب مزید بڑھتی جارہی ہے۔اس زوال کے پیچھے کئی وجوہات ہیں اور مختلف جگہوں پر

ان پر تفصیل سے بات ہوچکی ہے۔ ریاستی سنسرشپ کے خدشات، حکومت کی جانب سے اشتہارات کا منتخب اجرا اور میڈیا مالکان کے خراب کاروباری رویوں نے مل کر اس بحران میں کردار ادا کیا ہے۔دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں مقامی صارفین کی مارکیٹ اور اس سے متعلقہ اشتہاری صنعت بظاہر اتنی بڑی نہیں کہ وہ کئی نجی میڈیا ہاؤسز کو سہارا دے سکے۔ چنانچہ حکومتی اشتہارات سے ریونیو اور میڈیا مالکان کے دیگر کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم اس مالیاتی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

پاکستان کے معاملے میں مسئلہ اس لیے بھی شدید ہے کیونکہ یہاں ٹی وی نیوز کے شعبے میں بہت زیادہ کھلاڑی ہیں جن میں سے کافی کا اس شعبے میں آنے کا فیصلہ ممکنہ طور پر میڈیا سے متعلق ارادوں کے سبب نہیں تھا۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا میڈیا مارکیٹ چوٹی کے اور گنے چنے چینلز/اخباروں میں تنخواہوں کے معقول تر اسٹرکچر کی صورت میں مختصر مدت میں خود کو درست کر پاتی ہے

یا پھر یہ کہ اس بحران سے مزید ‘ریگولیٹڈ’ (اور دباؤ کا شکار) میڈیا جنم لے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں ان رجحانات سے خبروں اور معلومات کے مستقبل اور عمومی طور پر ثقافتی پراڈکشن اور اس کی عوام میں طلب کے حوالے سے بڑے سوالات جنم لیتے ہیں۔دیگر تمام بحثوں کی طرح اس بحث کا بھی ابتدائی نکتہ پاکستان کی آبادی کے بارے میں حقائق (ڈیموگرافکس) اور اس کے 2 بنیادی ستونوں پر ہے:

نوجوان آبادی کا حجم اور شہروں کی جانب منتقلی۔پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے (29 فیصد آبادی 15 سے 29 سال عمر کی ہے) اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 40 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے اور یہی آبادی واقعتاً ملک کا مستقبل ہے۔مگر اس میں بھی کچھ شرائط ہیں۔ تمام شہری علاقے ایک جیسے نہیں ہیں اور لسانی و طبقاتی فرق کا مختلف ثقافتی پہلوؤں سے تعلق تو ہے

مگر مجموعی طور پر کئی حالیہ تحقیقات (مثلاً یو این ڈی پی کی نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ) نے دکھایا ہے کہ پاکستان بھر کے نوجوان ایک جیسے ہی خواب، ایک جیسی ہی امیدیں اور ایک جیسی ہی بے چینیاں رکھتے ہیں۔یہ نوجوان اور شہری آبادی (اور اس کے تمام اندرونی فرق اور تقسیمیں) پاکستانی میڈیا اور ثقافتی پراڈکشن کی صنعت کی اگلی مارکیٹ ہیں۔ اور ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ خبریں یا تفریحی مواد فروخت کرنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں یا نہیں۔

میرے پیشے کی مجبوری ہے کہ مجھے 18 سے 23 سال کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد (نسبتاً صاحبِ ثروت) سے میل جول رہتا ہے۔ میں ان سے خبروں اور تفریح کے ان کے بنیادی ذرائع کے متعلق ضرور پوچھتا ہوں۔ کوئی بھی شخص جو نوجوانوں کے اردگرد رہا ہے وہ جانتا ہے کہ ٹی وی اور اخبارات کا شاید ہی کبھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اخبارات بشمول اس اخبار کے کالم پڑھنے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹس شاید ان نوجوانوں سے زیادہ ہوں جو ان کالموں سے حادثاتی طور پر گزر جاتے ہیں۔

کسی اخبار کے صفحات پلٹ کر معلومات حاصل کرنے یا اکثر ہسٹیریائی حرکتیں کرنے والے نیوز اینکرز کے سامنے تجزیات و معلومات کے حصول کے لیے بیٹھنے کو اکثر اوقات قدیم اور بورنگ کہا جاتا ہے۔اور اگر بات ثقافتی مواد کی آئے تو ان نسلوں کا یہ فرق اور بھی زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی مارکیٹ بھی اب انٹرنیٹ پر موجود آن ڈیمانڈ انٹرنیٹمنٹ کے لامتناہی سلسلے سے محفوظ نہیں ہے۔ گھروں تک انٹرنیٹ کی کم دستیابی (اور سابقہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی کے ظلم و ستم) کے باوجود تیز تر سیلولر سروس کے بتدریج پھیلنے کی وجہ سے انٹرنیٹ کے ذریعے تفریح کا حصول

شہری زندگی کا ایک خاصہ عام حصہ بن چکا ہے۔ اب نوجوانوں کے لیے آن لائن اسٹریمنگ سروسز (ادائیگی یا پائیریسی کے ذریعے حاصل کی گئی) اور فیس بک و یوٹیوب ویڈیوز کو انٹرٹینمنٹ کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔رجحان میں اس تبدیلی کا تعلق آف لائن ثقافتی پراڈکشنز سے بھی ہے اور اب لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں تھیٹر، ایونٹس، یہاں تک کہ اسٹینڈ اپ کامیڈی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو نوجوانوں کی حساسیت اور ترجیحات کو بہتر طریقے سے تسکین پہنچا سکتے ہیں،

اور ان میں سے کوئی بھی فارمیٹ یا کوئی بھی مواد ہمارے مرکزی دھارے کے ٹی وی چینلز پر نظر نہیں آتا۔آبادی کے بڑے حصوں میں ثقافتی تبدیلیوں کا واضح فرق ہمارے ملک میں میڈیا کے مستقبل پر پڑے گا۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا معلومات اور تفریح کے لیے ذوق اور ترجیحات روایتی، سنجیدہ اور یوں مستقبل میں بھی آج کے مواد کو پسند کرنے والے بن جائیں گے یا نہیں۔ یہ تصور کہ نوجوان اپنے والدین جیسے بن جائیں گے درحقیقت نسلوں کے درمیان اس خلیج کی وسعت اور اس خلیج کے بڑھنے کی رفتار کو مدِ نظر نہیں رکھتا۔

یہ وقت 1980ء کی دہائی جیسا نہیں ہے جب کوئی پی ٹی وی پر 7 سال کی عمر میں کارٹون دیکھتا تھا اور پھر 15 سال بعد خبرنامہ دیکھنا شروع کر دیتا تھا۔کمرشل خدشات کے علاوہ ثقافتی مواد کی طلب کے واضح سیاسی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر خبروں اور تجزیات کا معیار بہت ہی ناہموار ہے اور جھوٹی خبروں یا فیک نیوز کی حقیقت لازماً نوجوانوں کی سیاست میں توجہ پر اثرانداز ہوتی ہے۔

خبروں کے روایتی ذرائع کے مستقبل کے بارے میں خدشات کے علاوہ نوجوانوں کے انٹرنیٹ پر سیاسی میل جول و گفتگو کے حوالے سے بھی خدشات ہیں جو اکثر غیر فلٹر شدہ، حقائق سے بالاتر اور انتہائی جانبدار ہوتے ہیں۔ چنانچہ آپ کس طرح ایسے ناظرین یا قارئین تیار کرسکتے ہیں جو حقیقت پسندانہ رپورٹنگ اور تجزیات پسند کریں اور پھر ان نوجوانوں تک اسی زبان اور انہی تکنیکوں کے استعمال کے ذریعے پہنچا جائے

جو ان کی ترجیح ہے اور جس سے وہ سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔اب جبکہ پاکستان میں میڈیا کے مستقبل کے بارے میں بحثیں زور پکڑ رہی ہیں تو یہ اور دیگر سوالات اہمیت کے حامل ہیں۔ قابلِ فہم ہے کہ میڈیا کی آزادی اور میڈیا کارکنان کے مالیاتی تحفظ پر ہماری سب سے زیادہ توجہ ہوگی۔ مگر شاید اس سے بھی زیادہ اہم یہ متوازی بحث شروع کرنا ہے کہ میڈیا اس وقت کس کے ذوق، ترجیحات اور دلچسپیوں کا تحفظ کر رہا ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ یہی مستقبل میں جا کر میڈیا کی قبر بن جائے؟

روتا ہوا کتا اور قہقہ لگاتے انسان!

روتا ہوا کتا اور قہقہ لگاتے انسان!
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:48
لوہاروں کے محلے میں پانی اب بھی گلی کے بیچوں بیچ سے گزر رہا تھا، اُس نے بچپن سے لے کر 23 سال تک اپنی عمر انہی گلیوں میں گزاری تھی اور یہاں سے گئے ابھی 2 سال ہی تو ہوئے تھے، 2 سال میں بھلا کتنا کچھ بدل سکتا تھا؟2 سال پہلے جب وہ رات کے وقت بانو کے ہمراہ یہاں سے بھاگا تھا تو بہت جلدی میں تھا، اسے ایسا لگتا

تھا کہ ہر دیوار میں سے کئی آنکھیں نکل آئی ہیں جو انہیں رات کے اندھیرے میں دیکھ رہی ہیں۔ راستے لمبے ہوگئے تھے

اور وہ بہت مشکل سے ریلوے اسٹیشن تک پہنچے تھے۔ اسے یاد آیا کہ اس رات وہ اتنا بدحواس تھا کہ پلیٹ فارم پر موجود ایک قُلی نے پان کی پیک پھینکی جو غلطی سے اُس کے کپڑوں پر آن گری تھی، قُلی گھبرا گیا تھا کہ ابھی یہ مجھ سے لڑے گا لیکن اُس رات تو اُن کے پاس لڑنے کا وقت بھی نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئے تھے اور کونے پر موجود ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ 15 منٹ بعد ہی ٹرین آگئی تھی لیکن وہ 15 منٹ 15 صدیاں بن کر گزرے تھے۔وہ لوہار تھا،

اُس کے آباؤ اجداد بھی اِسی پیشے سے وابستہ تھے۔ اس نے بھلا کب سوچا تھا کہ شیر افضل ٹھیکیدار کی بیٹی اس سے محبت کرنے لگے گی۔ لوہاری بازار میں سارا دن ٹھک ٹھک کی آواز گونجتی رہتی تھی لیکن رات کے اس پہر مکمل خاموشی تھی، اُس نے واپسی کے لیے بھی رات کا وقت مقرر کیا تھا تاکہ اُسے کم سے کم لوگ ملیں۔اگرچہ 2 سال پہلے اور اب کے حلیے میں بہت فرق تھا۔ اب اُس نے سر اور ڈاڑھی کے بال بڑھا لیے تھے اور سر پر سفید رنگ کا بڑا سا رومال پھیلا رکھا تھا جس سے آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا،

حلیے میں اتنی تبدیلی کے باوجود صلح ہونے سے پہلے وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔بائیں طرف چھوٹی سی گلی جارہی تھی وہ وہاں رکا کہ وہاں سے یادوں کا ایک ریلا سا بہتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔ اسی گلی کے آخر میں اُس کا 2 منزلہ گھر تھا۔ اوپر کی منزل پر بھائی رفیق اور ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور نیچے امّاں، ابّا اور اس کے چھوٹے بہن بھائی رہتے تھے۔ گھر کے اندر ہی دکان تھی، جس کا دروازہ باہر کی جانب کھلتا تھا۔ دکان کے دروازے کے ساتھ ایک پرانا لکڑی کا بینچ پڑا رہتا،

جس کی ایک ٹانگ کب کی ٹوٹ چکی تھی لیکن 5 اینٹیں رکھ کر اس کی کمی کو پورا کرلیا گیا تھا۔ سارا دن اس بینچ پر ابّا کے دوست حقہ پیتے اور سارے جہان کی باتیں کیا کرتے تھے۔’تو جب وہ وہاں سے بھاگا تھا تو اس کے بارے میں بھی بینچ پر موجود لوگوں نے باتیں کی ہوں گی؟‘’ابّا نے کیا جواب دیا ہوگا؟‘یہ سوچتے ہوئے اُسے ایک جھرجھری سی آگئی۔ اُس کی نگاہوں کے سامنے اُس کے ابّا کی خاموش نگاہیں گھوم سی گئیں۔ ابّا جو ہر موضوع پر بات کرنے اور رائے دینے کو اپنا حق سمجھتا تھا، اُس کے بارے میں بات کرتے ہوئے

یقیناً خاموش ہوگیا ہوگا۔لیکن میں اب واپس آگیا ہوں، صلح ہوجائے گی تو امّاں، ابّا سے بھی معافی مانگ لوں گا۔ وہ یہ سوچ کر اُس گلی میں نہ مڑا کہ اُس کی منزل سامنے کی گلی میں تھی۔بانو نے اس سے کہا تھا کہ وہ بھی ساتھ چلے گی لیکن وہ اُسے ساتھ نہ لایا۔’ابھی نہیں ابھی تو تمہارے بھائی کا فون آیا ہے، میں جاؤں گا بات کروں گا، صلح ہوجائے گی تو تمہیں اور بچے دونوں کو لے کرجاؤں گا بلکہ پھر تو ہم واپس گاؤں ہی لوٹ جائیں گے، وہی اپنا پرانا کام پھر سے کروں گا۔‘’بھائی کرامت ہے تو بڑا سخت، معلوم نہیں کیسے اُس کا جی پگھل گیا،

مجھ سے محبت بھی تو بہت کرتا تھا۔ جس رات ہم بھاگے تھے میں کہتی تھی ابّا جاگ گیا تو وہ مجھے شاید چھوڑ دے پر بھائی کرامت نے میرے ٹکڑے کرکے اپنے شکاری کتوں کے آگے ڈال دینے تھے۔ اس کی لاڈلی بھی تو بہت تھی نا۔ شہر جاتا تھا تو پراندے اور چوڑیوں کے ڈھیر لے آتا تھا۔‘ بانو نے کہا۔’بس وہی محبت پھر جاگ اُٹھی ہے، آدمی محبت تو پھر بھی ساری عمر کرسکتا ہے، ساری عمر نفرت کی بھٹی جلائے رکھنا کوئی آسان کام تھوڑی ہے۔ کرامت کی آگ بھی ٹھنڈی ہوگئی ہوگی، بس تم میرا انتظار کرنا،‘

اُس نے بانو کو سمجھاتے ہوئے کہا۔وہ ایک دفتر میں آفس بوائے کے طور پر کام کرتا تھا، ایک دوست نے ایک کمرے کا مکان کرائے پر لے دیا تھا، جیسے تیسے کرکے زندگی کی گاڑی کھینچ رہے تھے۔ ان 2 سالوں میں وہ ایک بچے کا باپ بن گیا تھا لیکن اُس نے مُڑ کر گاؤں میں کسی سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ معلوم نہیں لوگ اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے یہ خیال اُسے اکثر آتا۔کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ اُس روز بے تحاشا گرمی تھی اور بجلی بھی کئی گھنٹوں سے لاپتہ تھی۔ وہ کئی کئی بار ایک کپڑا گیلا کرکے سر پہ باندھ لیتا لیکن پھر بھی کام کرنا مشکل ہوگیا تھا وہ دوپہر کو باہر نکلا کہ چوک سے گنے کا رس پی لے،

وہیں چوک پر جب وہ گنے کا رس پی رہا تھا تو کسی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،’اشرف یہ تم ہو؟‘ ایک آواز آئی۔اُس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا، وہ اجنبی کو پہچان نہیں پایا۔’کون۔۔۔۔؟‘ اُس نے غور کیا یہ چہرہ کہیں دیکھا ہوا تو تھا۔’کمال ہے تم مجھے بھول گئے، گاؤں کی گلیاں بھی بھول گئے کیا؟ میں سرفراز ہوں یار۔’اوہ سرفراز یاد آیا چچا گلفراز کے بیٹے، بس یار وہ گرمی اتنی ہے کہ دماغ کام نہیں کررہا۔‘’تو تم یہاں رہتے ہو؟ سرفراز نے کہا۔’نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ ہاں‘ اُس نے گھبرا کر جواب دیا،

اُسے معلوم تھا کہ سرفراز کرامت کا بڑا جگری دوست ہے، کہیں کوئی مصیبت نہ کھڑی کردے۔’اوئے اشرف گھبرا نہیں، مجھے اپنا بھائی سمجھ۔ کرامت کو بھی میں سمجھا دوں گا، تمہارے جانے کے بعد تو وہ بالکل ٹوٹ گیا تھا۔ کہتا تھا ایک ہی بہن تھی اس کی شادی بھی مرضی سے نہ کرسکا۔‘’وہ مجھے افسوس ہے کہ۔۔۔‘’او کوئی نہیں یار جوان آدمی ہو ہوجاتی ہے محبت کیا ہوگیا ہے۔ ابھی میں جلدی میں ہوں ایک کام کے سلسلے میں کچہری آیا تھا، شام تک واپس جانا ہے، تُو اپنا نمبر دے میں فون کروں گا تمہیں اور پریشان نہیں ہونا،

کرتے ہیں تمہارے سارے مسئلے حل۔ یہ شہر میں یوں کب تک چھپ چھپ کر جیو گے؟‘ سرفراز نے اُسے حوصلہ دیا۔اشرف نے کچھ نہ سمجھ آتے ہوئے اپنا نمبر اُسے دے دیا تھا۔اُسی رات شاید ایک بجے کا عمل تھا کہ اُس کا فون بج اُٹھا۔’اس وقت کون فون کرسکتا ہے؟‘ اُس نے بڑبڑاتے ہوئے فون کی اسکرین دیکھی، کوئی نیا نمبر تھا۔’ہیلو جی کون۔۔۔‘ اُس نے کہا۔’کرامت بول رہا ہوں‘ دوسری طرف سے آواز آئی

۔اُس کے اندر ایک کرنٹ سا دوڑ گیا وہ چارپائی پر اُٹھ کے بیٹھ گیا۔’جی جی کرامت بھائی آپ کیسے ہیں‘ اُس نے گھبرا کر کہا۔’میں ٹھیک ہوں بانو کیسی ہے؟ سرفراز نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا تھا، کب تک یوں مارے مارے پھرتے رہو گے؟ جو ہوا سو ہوا، میں صلح کرنا چاہتا ہوں، تم لوگوں کو گاؤں آنا ہوگا۔ میرے گھر کے دروازے کھلے ہیں تم لوگوں کے لیے۔‘’جی بھائی کرامت بہت شکریہ‘

اُسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، اُس نے 2 سال میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی گاؤں واپس جاسکے گا۔اور آج وہ ٹھیکیدار شیر افضل کے گھر کے سامنے تھا۔2 سال پہلے رات کے 2 بجے جب وہ یہاں بانو کا انتظار کررہا تھا تو اُس کی دھڑکن بہت تیز تھی جب کبھی کہیں دُور سے کوئی کتا بھونکتا تو اُس کو یوں لگتا کہ جیسے سارا شہر لاٹھیاں لے کر اُس کو مارنے آجائے گا لیکن سوائے بانو کے اور کوئی نہیں آیا تھا۔

بھاگنے سے کئی روز پہلے اُس نے بہت ضد کرکے امّاں ابّا کو ٹھیکیدار شیر افضل کے گھر رشتے لینے کے لیے بھیجا تھا اور وہ گئے بھی تھے لیکن ٹھیکیدار شیر افضل نے صاف انکار کردیا تھا کہ اُس کی اور لوہاروں کی حیثیت میں بہت فرق تھا، وہ بھلا اپن بیٹی کو کسی ایسے گھر میں کیسے بیاہ سکتے تھے کہ جہاں آمد و رفت کے لیے سب سے بڑی سہولت سائیکل تھی جس کو 4 بھائی چلاتے تھے۔اُس نے دستک کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن پھر کچھ سوچ کر دستک نہ دی اور اپنے موبائل سے کرامت کا نمبر ملایا’

جی السلام علیکم میں اشرف۔۔۔ جی میں آگیا ہوں، دروازے پر ہوں، آپ گھر پر ہیں تو باہر آجائیں۔‘دوسری طرف سے اچھا کہہ کر فون بند کردیا گیا تھا۔اُس کی دھڑکن بہت تیز ہوگئی تھی اُس کا جی چاہا کہ یہاں سے بھاگ جائے لیکن حالات بہتر بنانے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے۔تھوڑی دیر میں حویلی کا دروازہ کھلا اور کرامت باہر تھا جو تیزی سے آگے بڑھا اور اُس کا ہاتھ تھام لیا۔’اچھا کیا تم آگئے۔۔۔ آؤ ڈیرے پر چلتے ہیں، وہاں آرام سے بات ہوگی۔‘اس گلی کے پچھلی جانب چھوٹی سی پہاڑی کے نیچے اُن کا ڈیرہ تھا۔

انہوں نے ڈیرے کا گیٹ جیسے ہی پار کیا کرامت تیزی سے مُڑا اور گیٹ بند کرکے تالا لگا دیا اور شلوار میں اڑسا پستول نکال لیا۔’سالے بے غیرت! کمی کمین! تیری اتنی جرات کہ تُو ہماری عزت سے کھیل گیا‘ یہ کہہ کر کرامت نے پستول کا دستہ اُس کے سر پہ مارا۔اُس کو اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہ آیا، ڈیرے پر 2 اور لوگ بھی موجود تھے۔’پکڑ لو اِسے اور ہاتھ پیر باندھ دو!‘

کرامت نے کہا۔دونوں جوانوں نے فوراً ہی رسیوں کی مدد سے اُس کے ہاتھ اور پاؤں باندھ دیے۔کرامت اتنے میں ایک موٹا ڈنڈا ڈھونڈ لایا تھا جو اُس نے اندھا دھند اشرف پر برسانا شروع کردیا، اُس کی چیخیں بلند ہوئیں تو اُس کے منہ میں رومال ٹھونس دیا گیا، بار بار زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے اُس کے ناک اور دانتوں سے خون بہنے لگا تھا۔اُسے اب یقین آگیا تھا کہ محبت کی طرح نفرت بھی ساری عمر کی جاسکتی ہے۔بے تحاشہ تشدد کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔اُس کے منہ پر پانی پھینک کر ہوش میں لایا گیا اور منہ سے رومال نکال لیا گیا۔

’اچھا اب بول تُو کتا ہے‘، کرامت نے اُس سے کہا۔اُس کے جسم کا رواں رواں درد کررہا تھا، اُسے لگا کہ اُس کا جسم کئی جگہوں سے ٹوٹ چکا ہے اور اگر اب وہ کھڑا ہونا چاہے گا تو گرجائے گا۔’بول میں کہتا ہوں‘ کرامت نے ایک زوردار تھپڑ اُس کے منہ پر مارا۔’اور تُو یہ موبائل پکڑ اور بنا اِس کی ویڈیو سارے گاؤں کو دکھائیں گے کہ یہ سالا کتا ہے ہماری عزت کے ساتھ کھیلا تھا نا،

اب میں بتاؤں گا اِسے کہ اِس کی حیثیت کیا ہے‘۔ کرامت نے اپنا موبائل ساتھ کھڑے نوجوان کو دیا جو اشرف کی ویڈیو بنانے لگ گیا۔’ہاں اب بول کہ تو کتا ہے‘۔موت سامنے تھی، آخری امید کے طور پر وہ اپنے انسان ہونے سے مکر گیا۔’ہاں میں کتا ہوں‘، اُس نے کہا۔’اونچا بول‘ کرامت دھاڑا۔

’ہاں میں کتا ہوں‘، اُس نے درد سے کراہتے ہوئے کہا۔’اچھا اب بھونک کر دکھا‘ کرامت چلایا۔وہ چپ رہا۔’بھونک کتے!‘ کرامت نے اُسے ایک زوردار تھپڑ رسید کیا اور وہ غش کھا کر گرگیا۔گرتے کے ساتھ ہی وہ بے تحاشا بھونکنے لگا، اتنی شدت سے کہ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کرامت اور اُن 2 لڑکوں نے زندگی میں پہلی بار ایک روتا ہوا کتا دیکھا تھا، جسے دیکھ کر وہ تینوں انسان قہقہے لگا رہے تھے۔

خواتین کے لئے دنیا کے 13 غیر محفوظ ترین ممالک

خواتین کے لئے دنیا کے 13 غیر محفوظ ترین ممالک
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:42
دنیا نے اتنی ترقی تو کرلی ہے لیکن آج بھی کئی ایسے ممالک ہیں جہاں کسی نہ کسی طرح جہالت کا عنصر باقی ہے۔ آج ہم آپ کو ان ممالک کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جہاں خواتین اور ان کی عزت کسی بھی صورت محفوظ نہیں ہے۔ترکیترکی دنیا کا وہ ملک ہے جہاں خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ترکی میں سیاح خواتین کو

مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے۔ آئی ڈبلیو ٹی سی کے سروے کے مطابق ترکی کا ماحول کسی بھی خاتون کے لئے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔دی رشین

فیڈریشنروس بھی اس لسٹ میں شامل ہے جہاں خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں یہاں کرائم ریٹ بہت زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور تشدد کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔وینیزویلاگرتی ہوئی معیشت، کرائم ریٹ اور پر تشدد واقعات میں اضافہ اور سیاسی صورتحال کشیدہ ہونے کے باعث وینیزویلا بھی خواتین کے لئے خاصا غیر محفوظ ہے۔

یہاں پروفیشنل خواتین بھی صرف گھر گرہستی میں ہی محصور زندگی گزارتی ہیں۔مصرمصر میں سال 2017 کے دوران دہشتگردی، ریپ، اغواء اور ڈکیتیوں کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اسے بھی خواتین کے لئے غیر محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے۔بھارتبھارت میں زیادتی، دہشتگردی اور چائلڈ ایبیوس کے واقعات اکثر سننے کو ملتے رہتے ہیں

یہاں بھی خواتین کے غیر محفوظ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشہور خواتین شخصیات بھی یہاں محفوظ نہیں ہیں۔میکسیکومیکسیکو کے لیگل سسٹم میں عورتوں کے اوپر ہونے والے گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کا کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ یہاں بہت کم تعداد میں خواتین اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں اس وجہ سے یہ ملک بھی خواتین کیلئے بالکل بھی محفوظ نہیں۔

سعودی عربسعودی عرب کو اس فہرست میں اسلئے شامل کیا گیا ہے کیونکہ یہاں ہر سال لاکھوں خواتین بھی حج کیلئے جاتی ہیں اور کئی خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ حیران کن طور پر وہاں دہشتگردی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب بھی خواتین کے لئے غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے۔ینیاحالانکہ جب کینیا کا سنتے ہیں تو سیاحوں کو وہاں کی وائلڈ لائف یاد آجاتی ہے

لیکن یہاں کے لوگ بھی دہشتگردی، جنسی زیادتی اور گرنیڈ کے حملوں کا شکار رہتے ہیں اس وجہ سے کینیا بھی خواتین کیلئے غیر محفوظ ہے۔کولمبیاحالیہ سروے میں کولمبیا کو بھی کئی معاملات میں خواتین کے لئے غیر محفوظ پایا گیا ہے۔ یہاں تیزاب گردی کے واقعات اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں۔برازیلایک رپورٹ کے مطابق برازیل میں ہر 15 سیکنڈ میں خواتین کو حوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے

جبکہ ہر 2 گھنٹے بعد ایک خاتون کو موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے اس وجہ سے برازیل بھی خواتیں کے لئے کسی صورت محفوظ ملک نہیں۔افغانستانافغانی خواتین میں 87 فیصد خواتین ایسی ہیں جو بالکل بھی پڑھی لکھی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کی خواتین اور بھی ایسی بہت سی پابندیاں عائد ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک بھی خواتین پر کے لئے خاصا غیر محفوظ ہے۔صومالیہصومالیہ ایک افریقی ملک ہے

یہاں قانون پر عمل درآمد کرانا انتہائی مشکل کام ہے یہاں کی خواتین 4 سے لے کر 11 سال کی عمر میں بہت سے مسائل کا سامنا کرتی ہیں اس وجہ سے یہ ملک بھی کسی صورت خواتین کے لئے محفوظ نہیں۔پاکستانپاکستان میں بھی دیہی علاقوں میں ابھی تک خواتین کی عزت اس طرح محفوظ نہیں جس طرح ہونی چاہیئے۔ پاکستانی خواتین کو بھی تیزاب گردی، مشقت اور چائلڈ میرجز جیسی مشکلات کا سامنا ہے یہاں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔

جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب

جاپان میں کرائے پر باپ بھی دستیاب
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 22:29
جاپان میں اب باپ بھی کرائے پر دستیاب ہیں، ایک خاتون نے اپنی بیٹی کو باپ کے رشتے سے آشنا کروانے کیلئے ایک شخص کو کرائے پر رکھا ہے جو بچی کے والد کا کردار بخوبی نبھاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق چھوٹی بچی میگمی کے والدین کے درمیان اس وقت علیحدگی ہوگئی تھی جب وہ شیرخوار تھی۔ جب اسے بولنا آیا تو وہ روز

اپنے والد کے بارے میں پوچھتی تھی۔ اس کے بعد جب میگمی نے سکول جانا شروع کیا تو اس کا رویہ بالکل بدل گیا اور اس نے والدہ سے بات کرنا بھی بند کردی۔

اس کی وجہ یہ تھی سکول میں سب بچے اس کے والد کا پوچھتے جس کا بچی کو شدید قلق تھا اور وہ خود کو اس کا ذمے دار ٹھہراتی تھی۔اس کے بعد بچی کی ماں اساکو نے جاپانی ویب سائٹ سے رابطہ کیا جو ایسے جعلی عزیز اور رشتے دار، دوست اور شادی کے مہمان فراہم کرتے ہیں

جو اصل میں فنکار ہوتے ہیں۔ یہاں سے بچی کی ماں کو ایک فنکار تاکاشی مل گیا جسے باپ بننے پر ملکہ حاصل تھا اور اس کے لیے وہ ہالی وڈ فلمیں دیکھنے کے علاوہ ماہرینِ نفسیات سے تربیت بھی لے چکا تھا۔ اساکو نے تاکاشی کو بچی کے والد کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب دوبارہ شادی کرچکے ہیں لیکن خاتون نے دو شرطیں عائد کی تھیں کو اول یہ کہ وہ کسی طرح بچی کو بتائے کہ اب تک اس سے دور کیوں تھا

اور دوم جو کچھ اس کی بچی اپنے فرضی والد سے کہے وہ اسے یعنی اس کی ماں کو ضرور بتایا جائے۔یہاں تاکاشی نے اپنا نام یاماڈا رکھا اور بچی کے سامنے آیا جسے دیکھ کر پہلے تو وہ کچھ پریشان ہوئی اور اس کے بعد اس نے فنکار کو اپنے والد کے طور پر قبول کرلیا۔ اب وہ مہینے میں دو مرتبہ اسوکا کے گھر جاتا ہے اور بچی کو لے کر باہر جاتا ہے اور اس کے ساتھ کھیلتا ہے۔

اب یہ بچی دھیرے دھیرے نارمل ہورہی ہے اور سکول جانا بھی شروع کردیا ہے۔ اس کے بدلے اسوکا فنکار کو ایک دن کا معاوضہ 90 ڈالر میں ادا کرتی ہے۔تاہم عوام نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے بچی کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔ ان دونوں کے درمیان اب گہرا رابطہ ہوچکا ہے لیکن یاماڈا کا اس خاندان سے رابطہ محض آجر اور اجیر کا بن چکا ہے۔

یہ کردار اسے اس وقت تک نبھانا ہے جب تک بچی شادی کے قابل نہیں ہوجاتی اور اسی وجہ سے والدہ نے اسے 10 برس کے لیے بک کیا ہے لیکن شاید یاماڈا کو بچی کے بچوں کا نانا بھی بننا پڑے گا۔ واضح رہے صیغہ راز کی خاطر اس کہانی میں اصل نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

کیا آپ کو OKکا مطلب معلوم ہے ؟جواب آپ کو حیران کر دے گا

کیا آپ کو OKکا مطلب معلوم ہے ؟جواب آپ کو حیران کر دے گا
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:55
اگر یہ کہا جائے کہ انگریزی لفظ OKدنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ بات بات پر OKبولتے ہو ئے آپ نے کبھی سوچا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ دراصل یہ لفظ پرانی انگریزی کے دو الفاظ” Oll Korrect”کا مخفف ہے جن کا مطلب ہے “سب ٹھیک ہے

”۔ انیسویں صدی کے وسط میں امریکی شہرو ںبوسٹناور نیویارک میں غیر روایتی الفاظ کا استعمال عام تھا اور بڑے لفظوں کومختصر کر کے بولنا بہت پسند کیا جا تاتھا۔اس دور میں” You know”کی جگہ

KYاور” Oll wright” کی جگہ OW جیسے مخفف عام استعمال کئے جاتے تھے ۔

اگرچہ ان میں سے اکثر مخفف وقت کے ساتھ ختم ہو گئے ،مگر ایک سیاستدان کی وجہ سے OKکا استعمال جاری رہا۔یہ سیاستدان وین بورین تھے جن کا عرف عام “Old Kinderhook”تھا اور ان کے ساتھی اور کارکن انہیں مختصر ًاOKکہتے تھے اورانہوں نے ایک OKکلب بھی بنارکھاتھا۔اگرچہ اس لفظ کا تعلق سیاست سے توختم ہو گیالیکن “سب ٹھیک ہے” یا” ٹھیک” کے معنوں میں اس کا استعمال اب بھی بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ۔

ہیجڑوں کی خفیہ زبان ، جسے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا

ہیجڑوں کی خفیہ زبان ، جسے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 19:44
جنوبی ایشیا میں ایک خفیہ زبان ہے جو صرف ہیجڑے جانتے ہیں. پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بسنے والے ہیجڑے ایک ایسی مخلوق ہیں جو مردوں کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن ان کی روحیں عورتوں جیسی ہیں. وہ اپنے آپ کو شی میل ، خواجہ سرا اور مخنث بلاتے ہیں . انہیں گارڈ آف حرم بھی کہا جاتا ہے جو ان کہ مختلف علاقوں میں حکمرانی کی تاریخی خدمات کی یاد دلاتا ہے. آج کل کے ہیجڑوں کو پرفارمر اور پان ہینڈلر کہا جاتا ہے . خاص بات یہ ہے کہ وہ کئی ایسے راز

style=”text-align: right;”>جانتے ہیں جو باقی دنیا کو کم ہی معلوم ہونگے. ان میں سے ایک اہم چیز ہیجڑا فارسی زبان ہے. ہمارے لیے اہم ہے کہ جب ہم آپس میں بات کریں تو لوگوں کو معلوم نہ ہو ہم کیا بات کر رہے بات کر رہے ہیں . اس لیے ہم ایک خاص زبان استعمال کرتے ہیں. یہ لاہور میں رہنے والے ایک ہیجڑے’ دیمی’ نے بتایا. انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی سپیشل خاصیت ہے . ہیجڑے عورتوں کا لباس پہنتے ہیں

لیکن ان کو مردوں یا عورتوں کی کمیونٹی میں شامل نہیں کیا جاتا. وہ ایک تیسری جنس کی مخلوق سمجھے جاتے ہیں. یہ تیسری جنس پاکستان بھارت اور بندگلہ دیش میں ان کو قانونی طور پر حاصل ہے. قانونی حفاظت کے باوجود انہیں سوسائیٹی سے دور رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ہرقسم کے کمائی پروفشنز سے محروم رکھا جاتا ہے. وہ شادی بیاہ میں ناچ گا کر اور بد فعلی کے ذریعے اپنی روزی کماتے ہیں. جس کے وجہ سے انہیں اور بھی نفرت سے دیکھا جاتا ہے. ہیجڑا اگرچہ فارسی زبان کے نام کی طرح ہے لیکن اصلا یہ فارسی سے بلکل مختلف ہے.

کوئی نہیں جانتا کہ یہ زبان کب وجود میں آئی اگرچہ کچھ ہیجڑوں کا خیال ہے کہ یہ مغلوں کے دور سے وجود پذیر ہے. یہ اس وقت کے ایک مشہور مخنث نندی مائی نے ایجاد کی. اس دور میں خواجہ سرا بادشاہوں کے حرم کی حفاظت کیا کرتےتھے. اور انہیں عدالت تک رسائی دی جاتی تھی اسی وجہ سے آج بھی کچھ پاکستانی خواجہ سرا اپنے آپ کو خواجہ سرا کہ کر فخر محسوس کرتے ہیں. ڈاکٹر کرا ہال جو یونیورسٹی آف کولوراڈو کے ایسوشی ایٹ پروفیسر ہیں اور انڈیا سے ہیجڑا فارسی پڑھ چکے ہیں نے بتایا کہ شاید مغلیہ دور کی نسبت سے ہی اس زبان کو ہیجڑا فارسی کا نام دیا گیا ہو. وہ اپنی زبان کو فارسی اس لیے بھی کہتے ہیں کہ وہ میڈیول ایج سے ہی عدالتوں کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرتے رہے ہیں . انگریزوں کے زمانے میں ہیجڑوں کو اور بھی پریشان کیا گیا کیوں کہ وہ ہیجڑوں کے ناچ گانے کو جرم سمجھتے تھے. اس لیے ہیجڑوں نے اس زبان کے زریعے اپنے تحفظ کی بنیاد رکھی.

اگرچہ ہیجڑا فارسی کی کوئی مستند تاریخ موجود نہیں لیکن ڈاکٹر ہال کے مطابق 1800 صدی عیسوی سے یہ زبان بولی جاتی رہی ہے. ڈاکٹر محمد شیراز کے مطابق ہیجڑا فارسی کے تقریبا دس ہزار کل الفاظ ہیں جن میں بہت سے دوسری جنوبی ایشیائی زبانوں سے لیے گئے ہیں. یہ ایک مشکل زبان ہے اور اس کا ذخیرہ الفاظ بہت وسیع ہے. ان الفاظ میں تجارت، پیسے، رسومات، بد دعائوں اور جنسی تعلقات سے متعلق الفاظ شامل ہیں. بے شمار محرومی اور ظلم و ستم کے باوجود ہیجڑا فارسی زبان ہیجڑا برادری کو ایک کمیونٹی کی شکل میں پرو دیتی ہے. ہیجڑے ایک دوسرے کو دنیا دار کہہ کر بلاتے ہیں. اسی لیے ان کا ایک علیحدہ کلچر اور علیحدہ زبان ہے. ہیجڑا ہونے کا مطلب ہے کہ اس انسان کو ہیجڑا فارسی ضرور بولنا آتی ہے . بہت سے ہیجڑے اپنے گرو کے ساتھ ڈیروں پر رہتے ہیں. ہیجڑے یا تو گھروں سے بھاگے ہوئے ہوتے ہیں یا انہیں فیملی سے الگ کر کے چلے جانے پر مجبور کیا جاتا ہے.

طویل پرواز کے دوران ائیرہوسٹس اور پائلٹ کہاں سوتے ہیں؟

طویل پرواز کے دوران ائیرہوسٹس اور پائلٹ کہاں سوتے ہیں؟
بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018 | 18:32
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہوائی سفر کے دوران آپ کو کھانا کھلا چکنے کے بعد جب روشنی دھیمی کر دی جاتی ہے تو اس وقت ایئرہوسٹس کہاں گم ہو جاتی دنیا بھر میں کئی ایئرلائنز نے پندرہ گھنٹوں سے بھی طویل براہ راست پروازیں شروع کر رکھی ہیں۔ کبھی آپ نے اتنے طویل دورانیے کی فلائٹ میں سفر کیا ہو تو آپ جانتے ہیں یہ کتنا تھکا دینے والا سفر ہوتا ہے۔ ایسی پروازوں کے دوران پائلٹ جہاز اپنے شریک پائلٹ کے حوالے کر کے سستاتے ہیں۔ لیکن کہاں؟

ہیں اور طویل سفر کے دوران

پائلٹس کیسے آرام کرتے ہیں؟ جانیے مندرجہ ذیل تفصیلات اور تصاویر میں۔نئے بوئنگ 777 ہوائی جہاز میں یہ ہے پائلٹ روم۔ بزنس کلاس جیسی آرام دہ نشستوں کے ساتھ واش بیسن بھی مہیا کیا گیا ہے پائلٹس یہاں آرام کر سکتے ہیںیہ پرانے بوئنگ 777 کا پائلٹ روم ہے۔ اس جہاز کو اڑانے والے کئی کپتانوں کی شکایت ہے کہ پائلٹ روم میں آرام کرنا کسی تابوت میں سستانے کے مترادف ہے کیوں کہ اس میں پائلٹوں کے لیے نقل و حرکت کی گنجائش بہت کم ہے۔ہوائی جہاز کے مسافروں کی ضروریات مکمل کرنے کے بعد فضائی میزبانوں کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہوائی جہازوں میں ان کے لیے بھی خصوصی جگہ متعین ہوتی ہے، جو کہ ظاہر ہے مسافروں کی نظروں سے ہٹ کر ہوتی ہے۔بوئنگ 777 میں ایئر ہوسٹس کے لیے بنائے گئے خصوصی خفیہ چیمبرز طیارے کے آخر میں ہیں۔ ان تک رسائی کا راستہ اتنا تنگ ہے کہ فضائی میزبانوں کو سنبھل کر یہاں پہنچنا پڑتا ہے۔ کیبن میں چھ تا دس بستر نصب کیے جاتے ہیں۔بوئنگ 777 کی نسبت ڈریم لائنر میں ایئر ہوسٹس کے لیے کیبن کشادہ اور آرام دہ ہیں۔ اس کیبن میں نصب ہر دو بستر بستروں کے مابین پردہ بھی ہے اور روشنی مدھم یا تیز بھی کی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں یہ کیبن ساؤنڈ پروف بھی ہے۔ہوائی جہاز کی آرائش کرتے وقت پہلی ترجیح مسافروں کو دی جاتی ہے۔ فضائی میزبانوں کے لیے مختص نئے طیاروں میں دیگر سہولیات تو بہتر کی گئی ہیں لیکن انہیں جہاز سے باہر جھانکنے کے لیے کوئی کھڑکی دستیاب نہیں۔اس جہاز میں ایئر ہوسٹس اور پائلٹوں کے لیے بنائے گئے کیبنوں میں قریب ایک جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ فضائی میزبانوں کے لیے جہاز کے آخری حصے اور پائلٹس کے لیے اگلے حصے میں کیبن بنائے گئے ہیں۔