جہانگیر ترین جان ہتھیلی پہ رکھ کر عمران خان کے منع کرنے کے باوجود کیا کرتے رہے؟ اس سے زیادہ وفاداری کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟ شیخ رشید نے بڑا دعویٰ کر دیا

جہانگیر ترین جان ہتھیلی پہ رکھ کر عمران خان کے منع کرنے کے باوجود کیا کرتے رہے؟ اس سے زیادہ وفاداری کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟ شیخ رشید نے بڑا دعویٰ کر دیا
منگل‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:55
لاہور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو نسلی گھوڑے ہوتے ہیں وہ بھی بعض اوقات دوڑ میں زخمی ہو جاتے ہیں کیونکہ ان گھوڑوں کو ٹریک میں ہی گولی مار دی جاتی ہے، وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ جہانگیر ترین اچھے آدمی ہیں اور انہوں نے تحریک انصاف

کی بہت خدمت کی ہے، اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ جہانگیر ترین بیمار ہیں اور ان کے کئی آپریشن ہو چکے ہیں، شیخ رشید احمد نے بتایا کہ

میں نے لاہور کے جلسے میں دیکھا کہ جہانگیر ترین کے جسم پر ٹانکے لگے ہوئے تھے اور ان کی stitching بالکل تازہ تھی لیکن اس کے باوجود وہ عمران خان کی گاڑی چلا رہے تھے اور عمران خان نے جہانگیر ترین سے کہا تھا کہ تمہیں کوئی چیز لگے گی اور خدانخواستہ اس سے کوئی نقصان ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ کوئی شخص جان ہتھیلی پر رکھ کر کوئی کام کرے تو اس سے زیادہ وفاداری کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے۔

جو وعدہ کرتا ہوں پورا کرتا ہوں ، پٹھان آدمی ہوں ،سینیٹر مشاہداللہ کے اشعار سے چیئرمین سینیٹ پریشان ،دلچسپ صورتحال

جو وعدہ کرتا ہوں پورا کرتا ہوں ، پٹھان آدمی ہوں ،سینیٹر مشاہداللہ کے اشعار سے چیئرمین سینیٹ پریشان ،دلچسپ صورتحال
منگل‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:53
اسلام آباد سینیٹ میں سینیٹر مشاہداللہ خان کے اشعار نے چیئرمین سینیٹ کو پریشان کر دیا ، روکنے کے باجود مشاہداللہ بار بار شعر پڑھتے رہے ،مشاہداللہ نے کہا کہ میں جو وعدہ کرتا ہوں پورا کرتا ہوں ، پٹھان آدمی ہوں ، میں صرف بجٹ پر بات کروں گا اگر شعر سنایا بھی تو ریاضیاتی شعر سناؤں گا ، شعر سنانے کے بعد مشاہد اللہ خان نے

چیئرمین سینیٹ کو کہا کہ ریاضیاتی شعر ہے نا، مزا آیا آپ کو ، مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔پیر کو سینیٹ اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران مشاہداللہ

نے شعر کا آغاز کیا تو چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پھر شعر، جس پر مشاہداللہ نے کہا کہ میں جو وعدہ کرتا ہوں پورا کرتا ہوں ، پٹھان آدمی ہوں ، میں صرف بجٹ پر بات کروں گا اگر شعر سنایا بھی تو ریاضیاتی شعر سناؤں گا ، ایک اور شعر سنانے کے بعد مشاہد اللہ خان نے چیئرمین سینیٹ کو کہا کہ ریاضیاتی شعر ہے نا، مزا آیا آپ کو ، مزا نہ آئے تو پیسے واپس ، ایک موقع پر ریلوے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل وہ بھی ہمارا بھائی ہے جو ریلوے کا وزیر ہے ، اس نے اس دن کہا کہ

میں نے کبھی گھر میں کھانا ہی نہیں کھایا جب کھایا حرام کھایا، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ان کی بات نہ کریں وہ دوسرے ایوان کے رکن ہیں ۔ سینیٹ میں سینیٹر مشاہداللہ خان کے اشعار نے چیئرمین سینیٹ کو پریشان کر دیا ، روکنے کے باجود مشاہداللہ بار بار شعر پڑھتے رہے ،مشاہداللہ نے کہا کہ میں جو وعدہ کرتا ہوں پورا کرتا ہوں ، پٹھان آدمی ہوں ، میں صرف بجٹ پر بات کروں گا اگر شعر سنایا بھی تو ریاضیاتی شعر سناؤں گا ، شعر سنانے کے بعد مشاہد اللہ خان نے چیئرمین سینیٹ کو کہا کہ ریاضیاتی شعر ہے نا، مزا آیا آپ کو ، مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔

2014کے دھرنوں کے پیچھے لندن پلان تھا، عمران خان سمیت لندن میں کون کون اکٹھاہوا؟کیا منصوبہ بنایاگیا؟عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کا اعتراف ،حیرت انگیز انکشافات

2014کے دھرنوں کے پیچھے لندن پلان تھا، عمران خان سمیت لندن میں کون کون اکٹھاہوا؟کیا منصوبہ بنایاگیا؟عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کا اعتراف ،حیرت انگیز انکشافات
منگل‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2018 | 11:48
لا ہور پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے اعتراف کیا ہے کہ 2014 کے دھرنوں کے پیچھے لندن پلان تھا، عمران خان، پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین نے لندن میں طاہرالقادری سے ملاقات کی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی حکومت کے خلاف ایک تحریک چلائی جائے گی تاکہ حکومت کو ہٹایا جا سکے۔

پیر کے روز ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے خرم نواز گنڈا پور کا کہنا تھا کہ 2014 کے دھرنوں کے پیچھے لندن پلان تھا، عمران خان، پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین

نے لندن میں طاہرالقادری سے ملاقات کی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی حکومت کے خلاف ایک تحریک چلائی جائے گی تاکہ حکومت کو ہٹایا جا سکے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ماضی میں لندن پلان کی حقیقت سے انکار کرتے رہے ہیں۔اس حوا لے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ لندن پلان ہوا ہے لارڈز ٹیسٹ میچ کے حوالے سے، مجھے کوئی چھپانے کی چیز ہو تو میں لندن میں جا کر میٹنگ کروں یا تو میں نے کوئی خفیہ سازش کرنی ہو،

ان کا کہنا تھا کہ آگے کیا ہو سکتا ہے یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کیونکہ میری کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ان ہی سا لو ں میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بھی لندن پلان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ لندن پلان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ حکومت کا پروپیگنڈا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں ملاقات سے انکار نہیں کروں گا، کیا سیاسی رہنما آپس میں ملتے نہیں ہیں؟خیال رہے کہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے اس وقت کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا تھا۔ پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے اعتراف کیا ہے کہ 2014 کے دھرنوں کے پیچھے لندن پلان تھا

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جانوروں کی بولی سیکھنے والے شخص پر کیا بیتی؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جانوروں کی بولی سیکھنے والے شخص پر کیا بیتی؟
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:25
امام جلال الدین رومی ؒ ایک حکایت میں لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ اُسے چوپایوں اور پرندوں کی بولی سکھا دیں۔ آپ نے اُسے منع کیا کہ یہ بات خطرناک ہے۔وہ اس سے باز رہے۔ اُس نے اسرار کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُسے کتے اور مرغے کی بولی سکھا دی۔ صبح کے وقت

اُس کی خادمہ نے دسترخوان جھاڑا تو باسی روٹی کا ٹکڑا گرا مرغ نے اُس ٹکڑے کو اُٹھا لیا۔ کتا مرغ کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ مرغ تو دانا بھی

چگ سکتا ہے اور کتا دانا کھانے سے عاجز ہے لہٰذا مرغ و ہ روٹی کا ٹکڑا اُسے دے دے۔مرغ نے کتے سے کہا کہ چُپ ہو جا غم نہ کر آقا کا گھوڑا کل مر جائے گا۔تجھے اللہ پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا۔ مالک اُن کی بولی سمجھ رہا تھا اُس نے گھوڑا فروخت کر دیا اور اپنے آپ کو نقصان سے بچا لیا۔دوسرے دن بھی مرغ روٹی لے اُڑا اور گھوڑا نہ مرا تو کتے نے مرغ سے شکایت کی کہ وہ جھوٹا ہے اور کتے کو بھوک سے دو چار کر دیا ہے۔

مرغ نے کتے کو تسلی دی کہ گھوڑا مرا تو ہے لیکن دوسرے گھر میں ۔ فکر نہ کر کل مالک کا خچر مر جائے گا اور اُسے صرف کتے ہی کھا سکیں گے۔مالک جو اُن کی بولی سمجھ رہا تھا اُس نے خچر بھی فروخت کر دیا اور دوسرے نقصان سے بھی خود کو بچا لیا۔دوسرے دن خچر کے مرنے کا واقعہ نہ ہوا تو کتے نے مرغ سے سخت شکایت کی کہ تجھے آئندہ کی کوئی خبر نہیں ہوتی ، ڈینگیں مارتا رہتا ہے تو جھوٹا ہے۔مرغ نے کہا کہ ایسا نہیں خچر دوسری جگہ جا کر مر گیا ہے۔ کل اس کا غلام بیمار پڑے گا اور جب وہ مرے گا تو یہ کتوں اور مانگنے والوں کو روٹیاں کھلائے گا۔ مالک نے یہ سنا اور غلام فروخت کر دیا اور دل میں بڑا خوش ہوا کہ اُس نے کتے اور مرغے کی بولی سیکھ کر بڑی دانائی اور حکمت سے کام لیا ہے اور کس طرح تین نقصان اپنی دانائی سے ٹال دیئے۔

تیسرے دن اُس محروم کتے نے مرغ سے شدید شکایت کی، اُسے جھوٹا ، فریبی اور دغا باز کہا۔ مرغ نے کہا کہ میں اور میری قوم جھوٹ سے سخت دور ہیں۔ ہم صبح اذان دیتے ہیں تو لوگ نماز پڑھتے ہیں اگر بے وقت اذان دینے کی عادت ڈال لیں تو ہم ذبح کر دیئے جاتے ہیں۔وہ غلام بھی فوت ہو چکا ہے ہمارے مالک نے اپنا مالی نقصان تو بچا لیا ہے مگر اپنی جان پر بوجھ لاد لیا ہے۔ مرغ نے اگلے دن مالک کے مرنے کی خبر دی اور بتایا کہ اس واقع پر اُس کے ورثہ گائے ذبح کریں گے اور کھانا تقسیم کریں گے۔یہ سن کر وہ شخص حضرت موسیٰ علیہالسلام کی طرف بھاگا اور سارا واقعہ سنایا اور بتایا کہ میں ڈرا ہوا ہوں کہ کتے اور مرغ کی پہلی تینوں باتیں سچی تھیں

اب جبکہ اُنہوں نے اس کے مرنے کی خبر دے دی ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی اُسے پناہ دے سکتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اُس شخص سے کہا کہ فطرت کا اصول ہے کہ جب اُس کی کمان سے تیر نکل جائے تو موسیٰ علیہ السلام بھی اُسے واپس نہیں کر سکتے۔ ہاں میں تیرے لیے سلامتی ایمان کی دعا کر سکتا ہوں۔تیری طرف قضا نے تین دفعہ نقصان کے لیے ہاتھ بڑھایا جو تو نے اپنی تدبیر سے لوٹا دیا اگر تو ایسا نہ کرتا تو قضا تیرے مالی نقصان سے پلٹ جاتی اور یہ بڑی مصیبت اس قدر جلدی تیرے سامنے نہ آکھڑی ہوتی۔اب اس سے راہِ فرار نہیں ہے۔

اس کے تینوں پڑھے لکھے پوت پلاٹوں کی تقسیم پر تقریبا جھگڑ رہے

اس کے تینوں پڑھے لکھے پوت پلاٹوں کی تقسیم پر تقریبا جھگڑ رہے
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:20
جب انسان زمین پر آتا ہے‘ اپنے قدموں پر نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب زمین سے اٹھتا ہے‘ تو بھی اپنے قدموں پر نہیں ہوتا۔ پہلے روز کی طرح‘ مجبور و بےکس اور لاچار ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ اوروں کا محتاج ہوتا ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہوتا ہے اور یہ خلافت کا فریضہ‘ اسے اپنے قدموں پر ہونے کے بعدسے‘ تامرگ انجام دینا ہوتا ہے۔ زمین پر موجود تمام مخلوق کی اس پر ذمہ داری ہوتی ہے اور کمی کوتاہی کے سلسلہ میں‘ بعد از مرگ پوچھ گچھ کا دروازہ

کھل جاتا ہے۔بدقسمتی دیکھیے‘ وہ نفس کے تابع ہو کر‘ ذات کے خول میں مقید ہو جاتا ہے۔ کسی اور کے دکھ درد پریشانی سے لینا دینا ختم کر دیتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں موجود سب کچھ‘ گرہ میں کر لینے کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے‘ کچھ باقی رہنے کا نہیں۔ باقی تو اللہ کی ذات کو رہنا ہے۔یہ معاملہ شاہوں اور اس کے قریبیوں تک ہی محدود نہیں‘ اس میں ہر کوئی شامل ہو جاتا ہے اور اپنی سطع کی کوشش کرتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ جمع کر لینے کی فکر‘ اس سے راتوں کی نیند چھین لیتی ہے۔ اس بات کو ایک عرصہ ہوا۔ کوڑا رسید محکمے کا ایک افسر‘ جو اوروں کی طرح جب پیدا ہوا‘ یقینا اپنے قدموں پر نہ تھا‘ جب حیات سے گیا‘ چارپائی پر بےحس و حرکت پڑا ہوا تھا۔ اندر باہر جنازہ پر آنے والوں کا ہجوم تھا کہ اس کے تینوں پتر افسر اور چلتا پھرتا پرزہ تھے۔شاید ہی کسی زبان پر‘ اس کے لیے کلمہءخیر ہو گا۔ اس نے زندگی میں لٹ مچائے رکھی تھی۔ مرتشی ہونے کے حوالہ سے‘ خوب نام کمایا تھا۔ اسی کمائی سے‘ اس نے بچے پڑھائے لکھائے۔ یہ دو نمبری‘ ان کی خوراک کے لیے استعمال ہوا۔ اسی کمائی سے عالی شان کوٹھی تعمیر کی۔ ورنہ گریڈ سترہ کا افیسر بمشکل کھانا پانی اور لباس مہیا کر پاتا تھا۔ باہر صحن میں اس افسر کی میت پڑی تھی‘ اے سی لگے اندر اس کے تینوں پڑھے لکھے پوت پلاٹوں کی تقسیم پر تقریبا جھگڑ رہے۔ تقریبا اس لیے لکھا ہے کہ ابھی تک ان کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبان تک نہ پہنچے تھے۔شاید پہنچ ہی جاتے کہ ان کی ماں برق رفتاری سے اس اے سی لگے کمرے میں داخل ہوئی اور کہنے لگی: پلاٹوں کی بانٹ کا معاملہ کسی اگلی نشت پر اٹھا رکھو پہلے صحن میں پڑے ×××× کی میت کو ٹھکانے لگا لو اور مجبورآّ ہی سہی‘ برا سا منہ بنا کر آئے لوگوں میں شامل ہو جاؤ۔ ماں کا کہا مان کر وہ باہر آ گئے اور مگر مچھ کے آنسو بہانے لگے۔ دیکھنے والے ان کا چالا دیکھ چکے تھے‘تاہم وہ بھی جعلی افسردگی میں آ گئے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان تینوں میں سے‘ کسی نے بھی‘ مرنے والے کا آخری بار منہ دیکھنے کی زحمت نہ اٹھائی۔ وہ لوگوں سے زیادہ جلدیوں میں تھے۔ سوچ میں پڑ گیا‘ جن کے لیے وہ اپنے کندھوں کا بوجھ بڑھاتا رہا‘ وہ غیروں سے بھی بڑھ کر‘ غیر ہو چکے تھے۔ انہیں اسباب بالا زمین کے چھین لینے کی فکر لاحق تھی۔ زہے افسوس اسباب زیر زمین کی کسی کو یاد تک نہ تھی۔

فلمسٹار سید کمال کی آج نویں برسی ہے

فلمسٹار سید کمال کی آج نویں برسی ہے
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:49
پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اداکار ، ہدایت کار اور پروڈیوسر سید کمال کی آج نویں برسی منائی جا رہی ہے۔سید کمال 27 اپریل 1934 کو بھارت کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں ہی 23 برس کی عمر میں ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔فن ثقافت سے لگائو کی وجہ سے انہوں نے بطور فلمساز کام کا آغاز کیا اور پہلی فلم ٹھنڈی سڑک

بنائی۔اس فلم سے ملنے والی حوصلہ افزائی کمال کیلئے مشعل راہ ثابت ہوئی اور انہوں نے مزید فلموں میں اداکاری اور فلمسازی کا سلسلہ شروع رکھا ۔ ویرا، سہاگن، آشیانہ، جوکر، دال

میں کالا، باپو، اپنا پرایا، ایاز، مراد ، ان کے کیریئر کی چند یادگار فلمیں تھیں۔ 1968 میں ان کی فلم بہن بھائی ریلیز ہوئی جس پر انہیں نگار ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا ۔فلموں میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد انہوں نے ٹی وی پر بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا اور کمال کا شو کے نام سے ایک ٹی وی پروگرام کی میزبانی بھی کی جس کو خاصا پسند کیا گیا۔

کمال کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے غالب کمال نے بھی فلموں میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا مگر وہ بدقسمتی سے زیادہ کامیاب نہ ہوسکے اور جلد ہی فلم انڈسٹری سے رابطہ ختم کر کے ٹی وی سے ناطہ جوڑ لیا۔سید کمال نے آخری عمر میں اپنی شاعری کی ایک کتاب بھی تحریر کی جس کا نام کسب کمال رکھا گیا تھا ۔ سید کمال کو بہترین فلمی خدمات پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

نعیم بخاری نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھی، چیف جسٹس بھی ہنس دیے

نعیم بخاری نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھی، چیف جسٹس بھی ہنس دیے
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:48
ڈیم فنڈ پر نعیم بخاری کے چیف جسٹس کے برجستہ جلے نے سب کو ہنسنے پر مجبور کردیا۔۔نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 40 لاکھ ڈیم فنڈ میں دے دئیے ہیں ،اب کسی تگڑے موکل کی تلاش میں ہوں تاکہ 7 لاکھ اور دے سکوں ۔تفصیلات کے مطابق نعیم بخاری ،،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہونے کے ساتھ چوٹی کے وکیل ہیں تاہم نواز

شریف کے خلاف پانامہ کیس جیتنے کے بعد انکی شہرت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔نعیم بخاری چوٹی کے وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی وی سکرین کا بھی ایک بڑا نام ہیں

جو اپنے برجستہ جملوں اور بے ساختہ ہنسا دینے والے چٹکلوں کے باعث مشہور ہیں۔آج ایسا ہی ایک چٹکلا انہوں نے نے چیف جسٹس کے سامنے عدالت میں بھی چھوڑا جس پرتمام حاضرین کی ہنسی چھوٹ گئی۔

نعیم بخاری کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود تھے کہ انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو کہا کہ مجھے امریکہ اور برطانیہ سے ڈیم فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے دعوت ملی ہوئی ہے اگر عدالت اجازت دے تو میں چلا جاوں ،جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آپ کسی کے حق پر ڈاکہ کیوں مارتے ہیں، خود ڈیم فنڈ میں چندہ دیں،اس پر نعیم بخاری نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا میں نے 40 لاکھ فنڈ ڈیم کے لیے عطیہ کیا ہے اور چاہتا ہوں کہ 7 لاکھ اور دے دوں لیکن کسی تگڑے موکل کی تلاش میں ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان اس وقت خشک سالی کے سنگین خطرے سے دوچار ہے اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے۔ڈیموں کی تعمیر کے لیے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے اٹھایا گیا اقدام قابل تحسین ہے اور انکی جانب سے بنائے گئے اکاونٹ میں اب تک 2 ارب روپیے کی خطیر رقم جمع ہوچکی ہے۔تاہم 7 ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے قوم سے خصوصی خطاب کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کریں۔انہوں نے اپنی تقریر میں بیرون ملک پاکستانیوں سے بھرپور اپیل کی۔وزیر اعظم عمران خان کی آواز پر بیرون ملک پاکستانیوں نے فوری لبیک کہتے ہوئے مثبت ردعمل دے دیا ہے۔

اگر وہ نہ آتا تو میں جہنم کا ایندھن بننے ہی والی تھی۔

اگر وہ نہ آتا تو میں جہنم کا ایندھن بننے ہی والی تھی۔
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:36
جمعـہ کو نماز عصر کے بعد باپ بیٹے کا معمـول تھا کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت دینے کے لیے اپنے گھر سے نکلتے، بازار کے وسط میں سڑک کنارے کھڑے ہو جاتے ،آتے جاتے لوگوں میں اسلامی لٹریچر تقسیم کرتے۔ باپ مقامی مسجد میں خطیب ہیں۔ان کا گیارہ سالہ بیٹا گذشتہ کئی سالوں سے موسم کی شدت کی پرواہ کیے بغیر اپنے

والد کے ساتھ جاتا تھا۔ایمسٹر ڈم ہالینڈ کا دارالحکومت ھے۔ یورپ کا یہ چھوٹا سا ملک بے حد خوبصورت ہے۔ یہاں بے حد و حساب پھول پیدا ہوتے ہیں۔ بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں، اس لیے یہاں ہر

طرف ہریالی نظر آتی ہے۔ دودھ کی پیداوار اور اس کی پروڈکٹ کے اعتبار سے یہ ملک بڑا مشہور ہے۔ کتنی ہی مشہور زمانہ کمپنیاں یہاں سے خشک دودھ دنیا بھر میں سپلائی کرتی ہیں۔اس روز موسم بڑا ہی خراب تھا۔

صبح سے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ یخ بستہ سردی کے ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے بارش بھی ہو رہی تھی۔جمعہ کا دن تھا اور معمول کے مطابق باپ بیٹے کو لٹریچر تقسیم کرنا تھا۔ والد تھوڑی ہی دیر پہلے مسجد سے گھر پہنچے تھے۔انہیں قدرے تھکاوٹ بھی تھی۔ بیٹے نے خوب گرم کپڑے پہنے اور اپنے والد صاحب سے کہنے لگا: اباجان چلیے! لٹریچر تقسیم کرنے کا وقت ہو چکا ہے۔مگر بیٹے!

آج تو موسم بڑا خراب ہے۔ سردی کے ساتھ ساتھ بارش بھی ہو رہی ہے۔میں تو تیار ہو گیا ہوں۔ بارش ہو رہی ہے تو پھر کیا ہے؟ یہاں تو بارش کا ہونا معمول کی بات ہے، بیٹے نے جواب دیا۔بیٹے! موسم کا تیور آج ہم سے یہ کہہ رہا ہے کہ ہم آج گھر پر ہی رہیں، والد نے جواب دیا۔اباجان! آپ تو خوب جانتے ہیں کہ تنے ہی لوگ جہنم کی طرف جا رہے ہیں۔ ہمیں ان کو بچانا ہے۔انہیں جنت کا راستہ دکھانا ہے۔ آپ کو تو خوب معلوم ہے کہ جنت کا راستہ نامی کتاب پڑھ کر کتنے ہی لوگ راہِ راست پر آگئے ہیں۔

والد: بیٹے! آج میرا اس موسم میں باہر جانے کا قطعًا ارادہ نہیں ہے۔ کسی اور دن پروگرام بنا لیں گے۔بیٹا: اباجان! کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آج میں اکیلا ہی ان کتابوں کو تقسیم کر آؤں ؟بیٹے نے اجازت طلب نگاہوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔والد تھوڑی دیر تردد کا شکار ہوئے اور پھر کہنے لگے: میرے خیال میں تمہارے اکیلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ کا نام لے کر تم بے شک آج اکیلے ہی چلے جاؤ اور لوگوں میں کتابیں تقسیم کر آؤ۔والد نے بیٹے کو Road to Paradise’’جنت کا راستہ ‘‘نامی کچھ کتابیں پکڑائیں اور اسے فی اما ن اللہ کہہ کر الوداع کہہ دیا۔ قارئین کرام!

اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہمارے اس ننھے داعی کی عمر صرف گیارہ سال ہے اسے بچپن ہی سے اسلام سے شدید محبت ہے اور وہ نہایت شوق سے دین کے کاموں میں پیش پیش رہتا ہے۔ننھا داعی گھر سے نکلتا ہے ، اس کا رخ بازار کی طرف ہے جہاں وہ کافی عرصہ سے لٹریچر تقسیم کرتا چلا آ رہا ہے۔ اب وہ بازار میں اپنی مخصوص جگہ پر کھڑا ہے وہ اپنی مسکراہٹ سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کو سلام کرتا ہے۔ انہیں روکتا ہے۔ ان سے بات چیت کرتا ہے مسکراتے ہوئے ان سے کہتا ہے: دیکھیے سر!

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا رب آپ سے شدید محبت کرتا ہے۔ وہ انہیں کتاب پیش کرتا ہے، ان سے کہتا ہے: جناب! یہ فری ہے۔ یہ آپ کے لیے ہے۔ ان میں کچھ لوگ اس ننھے لڑکے سے کتاب لے لیتے ہیں کچھ شانے اچکا کر آگے نکل جاتے ہیں ۔کچھ کتابیں تقسیم کرنے کے بعد اب اس کا رخ قریبی محلے کی طرف ہے وہ بعض گھروں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے اگر کوئی باہر نکلتا ہے تو سکراتے ہوئے اسے کتاب کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ کوئی قبول کرلیتا ہے کوئی انکار کرتا ہے مگر وہ ان چیزوں سے بے پروا اپنے مشن میں لگا ہوا ہے۔کتابیں تقسیم کرتے ہوئے کم و بیش دو گھنٹے گزر چکے ہیں۔

اب اس کے ہاتھوں میں آخری کتاب رہ گئی ہے۔ وہ اس سوچ میں تھا کہ یہ آخری کتاب کسے دی جائے۔ اس نے گلی میں آنے جانے والے کئی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور انہیں کتاب دینے کی پیش کش کی، مگر انہوں نے تھینک یو کہہ کر انکار کیا اور آگے چل دیے۔گلی میں ایک جگہ جہاں بہت سارے گھر ایک ہی ڈیزائن کے بنے ہوئے ہیں وہ ان میں سے ایک گھر کا انتخاب کرتا ہے اور اس کے دروازے پر جا کر گھنٹی بجاتا ہے ،کسی نے جواب نہ دیا۔ اس نے بار بار گھنٹی بجائی ،مگر اندر مکمل خاموشی تھی۔ نجانے اسے کیا ہوا۔ یہ اس کے طریق کار کے خلاف تھا کہ وہ کسی کے دروازے کو اس طرح بجائے مگر آج اس نے دروازے کو زور زور سے بجانا شروع کر دیا زور سے کہا:

کوئی اندر ہے تو دروازہ کھولو۔اندر بدستور مکمل خاموشی تھی۔ وہ مایوس ہونے لگا، اس نے کچھ سوچا اور آخری بار اپنی انگلی گھنٹی پر رکھ دی۔ گھنٹی بجتی رہی، بجتی رہی… اور آخر کار اسے اندر سے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی۔ اس کے دل کی حرکت تیز ہونے لگی۔چند لمحوں بعد آہستگی سے دروازہ کھلتا ہے۔ایک بوڑھی خاتون چہرے پر شدید رنج و غم کے آثار لیے سامنے کھڑی تھی، کہنے لگی: ہاں میرے بیٹے! بتاؤ میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں؟ننھے داعی نے مسکراتے ہوئے کہا:

نہایت ہی معزز خاتون! اگر میں نے آپ کو بے وقت تنگ کیا ہے تو اس کے لیے میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ دراصل میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا رب آپ سے حقیقی اور سچی محبت کرتا ہے۔ آپ کا ہر طرح سے خیال رکھتا ہے۔ میں کچھ کتابیں تقسیم کر رہا تھا۔ میرے پاس یہ آخری کتاب بچی ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ کتاب میں آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ اس کتاب میں کیا ہے؟ یہ آپ کو پڑھنے کے بعد معلوم ہو گا ، مگر اتنی بات میں کہے دیتا ہوں یہ کتاب آپ کو آپ کے حقیقی رب کے بارے میں بہت کچھ بتائے گی۔

اسے پڑھ کر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے پیدا کرنے والے نے ہمیں کن مقاصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور ہم اپنے رب اپنے خالق اور مالک کو کیسے راضی کر سکتے ہیں۔بوڑھی عورت نے کتاب وصول کی اور بچے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: جیتے رہو بیٹا، جیتے رہو۔ننھے داعی کا آج کے لیے مشن مکمل ہو چکا تھا، اس کو جتنی کتابیں تقسیم کرنا تھیں وہ کر چکا تھا۔ اس کا رخ اب اپنے گھر کی طرف تھا۔ یوں بھی شام کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ وہ ہنستا مسکراتا اپنے گھر واپس آ گیا۔ہفتہ کے ایام جلد ہی گزر گئے ۔

آج ایک بار پھر جمعہ کا دن ہے۔ باپ بیٹا حسب معمول جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں ہیں۔ ننھے داعی کے والد نے جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ نماز پڑھانے کے بعد حسب معمول حاضرین سے کہا کہ آپ میں سے کوئی سوال کرنا چاہتا ہو یا کوئی بات کہنا چاہتا ہو تو اسے بر سر عام ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ وہ اٹھ کر بیان کر سکتا ہے۔حاضرین میں تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ آج کسی کے پاس کوئی خاص سوال نہیں۔ اچانک پچھلی صفوں پر بیٹھی ہوئی خواتین میں سے ایک بوڑھی خاتون کھڑی ہوتی ہے۔

وہ قدرے بلند آواز میں کہنا شروع کرتی ہے :خواتین و ضرات! آپ لوگوں میں سے مجھے کوئی بھی نہیں پہچانتا نہ ہی آج سے پہلے میں کبھی اس مسجد میں آئی ہوں۔ میں تو گزشتہ جمعہ تک مسلمان بھی نہ تھی۔بلکہ میں نے اسلام قبول کرنے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ تھا۔چند ماہ گذرے میرے خاوند کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد میں اس دنیا میں بالکل تنہا تھی۔گزشتہ جمعہ کے روز موسم غیر معمولی ٹھنڈا تھا۔ وقفے وقفے سے ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی۔ میں اس دنیا اور تنہائی سے تنگ آچکی تھی۔ دنیا میں میرا کوئی بھی نہ تھا۔

میں کتنے دنوں سے سوچ رہی تھی کہ میں خود کشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کیوں نہ کر لوں۔جب میرا خاوند نہیں رہا تو میں اس دنیا میں رہ کر کیا کروں گی۔بالآخر گزشتہ جمعہ کو میں نے خود کشی کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ میں بازار گئی وہاں سے ایک نہایت مضبوط رسی خریدی ۔سیڑھی پر چڑھ کر چھت کے ایک شہتیــر سے رسی کو باندھا۔ پھر میں نے رسی کے ایک سرے سے پھندا بنایا،

اگلا مرحلہ یہ تھا کہ کرسی کو اپنے قریب کر کے مجھے اس پر پاؤں رکھنا تھا اور گلے میں پھندا ڈال کر کرسی کو ٹھوکر مار دینی تھی ۔اس طرح پھندہ میرے گلے میں اٹک جاتا اور میری زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔ جوںہی میں نے گلے میں رسی ڈالی، نیچے سے گھنٹی بجنے کی آواز آئی۔ پہلے تو میں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، مگر گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ میں نے سوچا: میرا ملنے والا کون ہو سکتا ہے؟مدتیں گزر گئی ہیں مجھے کوئی ملنے کے لیے کبھی نہیں آیا۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں گھنٹی کو نظر انداز کر دوں اور خود کشی کرلوں۔ ادھر گھنٹی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کوئی غیر مرئی طاقت مجھ سے کہہ رہی تھی کہ دیکھو دروازے پر کون ہے؟ لیکن ایک سوال بار بار میرے ذہن میں آ رہا تھا: اس دنیا میں تو میرا کوئی بھی نہیں پھر یہ گھنٹی دینے والا کون ہو سکتا ہے؟اسی دوران کسی نے زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ میں نے سوچا:

چلو کوئی بات نہیں، میں خود کشی کے پروگرام کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کر دیتی ہوں چنانچہ میں نے رسی کو گردن سے اتارا، کرسی کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی اور آہستہ آہستہ نچلی منزل کی طرف چل دی۔میں نے دروازہ کھولا تو ایک بہت پیارے اور خوبصورت بچے کو دیکھا جو مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں ،مجھے دیکھ کر اسے یوں لگ رہا تھا کہ اسے کوئی بڑی نعمت مل گئی ہو۔ میں نے آج تک اس عمر کے بچے کے چہرے پر اتنی خوبصورت مسکراہٹ نہیں دیکھی ۔

میں بتا نہیں سکتی کہ وہ بچہ مجھے کتنا پیارا لگا۔اس کے منہ سے نکلنے والے کلمات نہایت پیارے اور دل کش تھے ۔جس انداز سے اس نے میرے ساتھ گفتگو کی وہ ناقابل فراموش تھی۔ اس نے مجھ سے کہا:اے معزز اور محترم خاتون!میں آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ کو بتا دوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے حقیقی محبت کرتے ہیں اور آپ کا ہر لحاظ سے خیال رکھتے ہیں۔ اس نے ’’جنت میں جانے کا راستہ‘‘ نامی کتاب میرے ہاتھوں میں دیتے ہوئے کہا :

اسے اطمینان سے ضرور پڑھیے۔وہ خوبصورت اور روشن چہرے والا بچہ جدھر سے آیا تھا ادھر ہی واپس چلا گیا، مگر میرے دل میں شدید ہلچل پیدا کر گیا۔ میں نے دروازہ بند کیا اور نچلی منزل پر ہی بیٹھ کر اس کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھنے لگی۔ میں کتاب پڑھتی چلی گئی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ کتاب میرے لیے اور صرف میرے لیے لکھی گئی ہے۔ میں نے جیسے ہی کتاب ختم کی میرے ذہن میں انقلاب آچکا تھا۔ مجھے روشنی مل گئی تھی۔ میں اوپر والی منزل میں گئی۔ چھت سے رسی کھولی اور کرسی کو پیچھے ہٹا دیا۔ اب مجھے ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہ رہی تھی۔معزز حاضرین!

اس نے لوگوں سے مخاطب ہو کرکہا: میں نہایت سعادت مند‘ اور خوش بخت ہوں کہ میں نے اپنے حقیقی رب کو پہچان لیا ہے۔ میں نے فطرت کو پا لیا ہے ۔ میں اب الحمدللہ! مسلمان ہو چکی ہوں۔ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت سے نوازا۔ کتاب کے آخری صفحہ پر اس مرکز کا ایڈریس دیا ہوا تھا میں یہاں اس لیے آئی ہوں کہ میں آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرسکوں، خصوصاً اس ننھے سے داعی کا جو میرے پاس نہایت ہی مناسب وقت پر آیا۔ بس یہ چند لمحوں کی بات تھی، اگر وہ نہ آتا تو میں جہنم کا ایندھن بننے ہی والی تھی۔

!!لوگ حیران و ششدر ہو کر بڑھیا کی بات سن رہے تھے، جب اس کی بات ختم ہوئی تو مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں شاید ہی کوئی آنکھ ہو جس میں آنسو نہ جھلک رہے ہوں۔مسجد میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ امام مسجد منبر سے نیچے اترے، سامنے والی صف میں ان کا ننھا داعی بیٹا بیٹھا ہوا تھا۔انہوں نے روتے ہوئے اسے اپنے بازوؤں میں لیا اور سینے سے لگا لیا۔ہ کہہ رہے تھے: بیٹے! مجھے تم پر فخر ہے۔ تم صحیح معنوں میں ننھے داعی اور مجاہد ہو۔ مسجد میں شاید ہی کوئی شخص ہو جس کی یہ تمنا نہ ہو کہ کاش اس کا بیٹا بھی اس قسم کا داعی ہوتا

پیرس کی ایک مسجد میں بچہ داخل ہوا

پیرس کی ایک مسجد میں بچہ داخل ہوا
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:29
پیرس کی ایک مسجد میں بچہ داخل ہوا۔امام مسجد سے کہا۔میری ماں کہتی ہے کہ مجھے اپنے اسکول میں داخل رو۔ امام صاحب نے پوچھا آپ کے ساتھ کوئی بڑا نہیں۔بچے نے کہا میری ماں باہر کھڑی ہے۔امام صاحب باہر آئے، اس کی والدہ انگریز تھی پوچھنے پر بتایا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔پھر آپ اپنے بچے کو مسلمانوں کی مسجد میں کیوں

داخل کرنا چاہتی ہیں۔امام صاحب نے پوچھا۔انگریز عورت نے کہا،میرے پڑوس میں ایک مسلم گھر ہے ان کے بچے جب مسجد سے پڑھ کر آتے ہیں تو اپنی ماں کا بہت زیادہ ادب کرتے ہیں اسکےہاتھ

چومتے ہیں۔ اور ان کے سامنے ایسے ادب سے چلتے ہیں جیسے کسی ملکہ کے سامنے فوجی ادب سے چلتے ہیں۔جب وہ کھڑی ہوتی ہے تو اسکے بچے ادب سے اسکے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور جب وہ بیٹھ جاتی ہے تو اسکے بچے اسکے سامنے زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔میری بڑی خواہش ہے کہ میرا بیٹا بھی میری اسی طرح ادب کرے اور میں اسکے لئے ملکہ جیسی بنوں۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے بیٹے کو مسجد میں داخل کریں۔

ایبنارمل کی ڈائری

ایبنارمل کی ڈائری
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:23
میری کتاب ” ایبنارمل کی ڈائری “دھیان سے پڑھیں۔ میں صابر چوہدری۔پڑھنے لکھنے سے جس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ،لیکن میں نے ہھر بھی آپ لوگوں کو اپنی کتاب مشہور کروا کے دکھا دی ہے۔ ارے انکل میری کتاب کو بک سٹال پر دیکھ کر آپ نے منہ کبوں بنایا۔آپ مجھے سیکولر لگتے ہیں۔پلیز اسے خریدیں۔خود بھی پڑھیں،اہنے

بچوں کو ہی پڑھا دیں۔تھینک یو آنٹی! آپ نے یہ کتاب خریدی،آپ کا نفسیاتی مسئلہ لگتا ہے۔کبھی میرے کلینک بھی چکر لگائیں۔ارے دور کھڑی سوچ میں گم میری گڑیا اس کتاب کے سرورق سے نہ گھبراؤ۔اس میں

وہی باتیں ہیں جو تم عمیرہ احمد نمرہ احمد کی کتابوں میں پڑھتی ہو۔دیکھیں جناب میں سرٹیفائیڈ پاگل نہیں ہوں۔آئیں آئیں کتاب کی قیمت صرف 400 روپے۔۔۔اتنے کی تو آپ آئس کریم کھالیتے ہیں۔آئیے پاکستان میں کتاب دوست کلچر پیدا کیجیے۔ارے لونڈے یہ پارلیمانی مجروں کی کتاب جس کی طرف تو للچائی نظروں سے دیکھ رہا ہے،

اس میں تجھے کچھ نہیں ملے گا۔ میری کتاب پڑھ تیرے بہت سے مسئلے حل ہوجائیں گے۔قیمت صرف 400 روپے، 400 روپے۔ابھی خریدنے پر 10 روپے کا ڈسکاؤنٹ بھی ملے گا۔وہ دور کھڑی لڑکی کو بھی میری بات پہنچی ہے۔ماشاء اللہ ۔ یہ خاتون پچاس کتابیں خرید کر لے جارہی ہیں۔ دیکھیں اس کتاب کو سکین کر کے مفت بانٹنے کی کوشش کرنے والوں سے بچیں۔میری کتاب پر ہر جگہ بہت شاندار تبصرے ہیں۔ لوگ پڑھ پڑھ کر اپنی زندگی سنوار رہے ہیں۔میری ایبارمل کتاب پڑھ کر ایک ایبارمل قاری نے ڈائری لکھی ہے، بالکل میری کتاب کے انداز میں۔

میں آپ کو اس کے مندرجات سناتا ہوں۔یقینا آپ کا اس کتاب کو پڑھنے کا اشتیاق بڑھ جائے گاانرجی سیور اور حسن پر میڈیٹیشن عجیب رات تھی۔۔۔انرجی سیور کی روشنی میں مجھے ایڈیسن نظر آتا ہے۔۔۔اسنے بھی ۔۔یقینا سورج کو دیکھ کر بلب ایجاد کیا ہوگا۔۔۔نہیں سورج نہیں۔۔۔شاید چاند۔یہ چاند بھی ۔۔۔تو تمھاری گھر کے باہر جلتے۔۔۔ انرجی سیور جیسا ہے۔۔۔ وہ بھی تمھارے حسن سے روشنی لیتا ہوگا۔۔۔ جس کی روشنی میں تمھارا سانوالا رنگ۔۔۔ کیسا جادوی تاثر دیتا ہے۔۔۔تم ۔مجھے ساؤتھ انڈین فلموں کی ہیرؤن لگتی ہو۔۔۔۔انھی جیسی موٹی۔۔۔۔مگر مناسب جگہوں سے۔۔۔ تمھاری آنکھوں کا کالا رنگ۔۔

انرجی سیور کی روشنی میں کتنا کالا۔۔۔۔جیسے کالا ناگ۔۔۔نہیں ناگ نہیں ناگن۔۔۔۔۔ تمھارے انداز بھی کسی ناگن سے کم نہیں۔۔تمھارے ڈسنے کے بعد سے میں نے پانی بھی نہیں مانگا۔۔۔۔تمھاری گلی کے باقی کتوں سے تو ۔۔۔مجھے ڈر لگتا ہے۔۔ ہائے مگر وہ ایک کتا۔۔ پتا نہیں بیچارے کی کیا کہانی ہوگی۔۔ مجھے اس کتے سے بھی پیار ہونے لگا ہے۔۔مجنوں کو بھی تو سگ لیلی سے پیار ہوا تھا۔۔۔ کیا وہ کتا بھی کہیں تمھارا عاشق تو نہیں ۔۔۔جو ہر وقت میری طرح تمھارے گھر کے باہر بیٹھا رہتا ہے۔گٹر کا فلسفہتمھارے گھر کے باہر گٹر پر پڑا آدھا ٹوٹے ڈھکن۔۔۔

جیسے کوئی ٹوٹی انگڑائی۔۔جیسے کوئی آثار قدیمہ۔۔۔۔جہاں سے نکلتے تعفن میں ہزاروں راز ہیں۔۔۔۔۔میں ہمیشہ اس گٹر کو دیکھ کر گہری سوچ میں ہڑ جاتا ہوں۔۔۔ ۔۔تم جب صبح سویرے۔۔۔۔نہاتی ہوگی۔۔ تو لکس صابن ۔۔۔اور تمھارا پسینہ۔۔۔دونوں مل کر کیا قیامت ڈھاتے ہونگے۔۔۔جانے وہ صابن اپنی قسمت پر کتنا رشک کرتا ہوگا۔۔۔۔اس صابن کی بھی کیا زندگی ہے جو میری طرح ۔۔۔۔تمھاری حسن ہر گھل گھل کر قربان ہورہا ہے۔۔۔۔ملٹی نیشنل کمپنی نے یہ صابن بنانے سے پہلے جانے کیا سوچا ہوگا۔۔ کتنے جانوروں کی چربی ۔۔۔۔

حسن کو بڑھانے اور دنیا کو صاف کرنے میں خرچ ہوئی ہوگی۔۔ وہ جانور اپنی خوشقسمتی پر ناز کرتے ہونگے۔۔۔۔ کیا انھیں پتا ہوگا؟؟؟ یہ گٹر صاف کرنے والے کلو کی ۔۔۔خاموشی میں بھی کوئی راز ضرور ہے۔۔۔ شاید وہ حسن کی نادریافت شدہ۔۔۔ ڈائمینشنز کو ڈھونڈتا ہے۔۔ یا اسنے دنیا کو پاکیزہ بنانے کا عزم کیا ہو۔۔۔۔یا ہوسکتا ہے وہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے شاندار سلوک پر غور کرتا ہو۔نسوار اور محبت کی بھیک۔۔ کل میں نے تمھیں ایک فقیر کو پانچ روپے کا سکہ دیتے دیکھا۔۔میری تو صدمے سے سسکیاں نکل گئیں ۔۔مجھ سے خوش قسمت تو یہ فقیر ہی ہے۔۔تمھیں دور کھڑے نسوار کھاتے ۔۔۔مجھ فقیر پر ترس نہ آیا۔۔۔

جو روز محبت کی بھیک مانگنے آتا ہے۔۔تمھاری یاد میں نسواریں خرید خرید کر دکان داروں کو امیر بنا چکا ہوں۔۔۔۔میں دنیا کا واحد عاشق ہوں جو نسوار کو بھی محبت کی علامت بناگیا ہے۔۔۔۔۔کل جب نسوار کھا کھا کر تمھارے ہجر میں مجھے کینسر ہوجائے گا تو ۔۔۔۔۔اسوقت بھی کیا میری ساتھی یہ نسوارہی ہوگی۔۔کیا سکندر جب ہندوستان آٰیا تو اسنے نسوار چکھی ہوگی۔۔اسکا استاد ارسطو آج ہوتا تو میری ہاتھ پر بیعت کرتا۔۔۔

اور اپنی ساری کتابوں کو جلا دیتا۔تم چورن کھاتی کتنی کیوٹ لگتی ہو۔۔۔ وہ دن جب تم نے کالج سے آتے چٹکی بھر بھر کر چورن کھاری رہی تھیں۔۔ تمھاری کھٹاس کے مزے میں بند آنکھیں۔۔۔تمھارا کیوٹ سا چہرہ۔۔ سب لوگوں کی نظریں تم ہر تھیں ۔۔۔مگر میں صرف چورن کو دیکھ رہا تھا۔۔ چورن کا سلیٹی رنگ۔۔تمھاری تھوک میں لتھڑی انگلیاں۔۔۔ان سے گرتا کھٹا میٹھا تھوک۔۔۔تمھارے پیچھے پیچھے لڑکوں کے ساتھ ساتھ چیونٹوں کی لائینیں۔۔۔۔

کئی لوگوں نے تمھیں مفت چورن دینے کی کوشش بھی کی۔۔ یہ چورن کا اور تمھارے حسن کا ضرور کوئی تعلق ہے۔۔۔۔کاسمیٹک کمپنیوں نے حسن کا یہ راز دنیا سے چھپا رکھا ہے۔ پپا کی ڈول والی فیس بک پروفائل کئی مہینوں کی انتھک محنت کے بعد مجھے تمھاری فیس بک پر پپا کی ڈول والی پروفائل ملی۔۔۔۔ وہ بھی تمھاری پاؤں کے تل کی وجہ سے۔۔۔میرے علاوہ اس راز کو کون جان سکا ہوگا۔۔۔۔

تمھارے پاؤں کا وہ تل جو تمھارے سانولے رنگ کی وجہ سے۔۔۔ پہچانا بھی نہیں جاتا۔۔۔ مگر میں نے تمھاری پپا کی ڈول والی آئی ڈی میں پیر کی تصویر سے پہچان لیا۔۔۔۔میں ہی تھا جو تمھیں روز سو سو میسج کرتا تھا،۔۔ مگر تم صرف ہوں ہاں کرتی تھیں۔۔۔۔محبت میں یہ بھی کافی ہے۔۔ تمھاری پروفائل بھی تو ایک طرح کا پردہ ہے۔۔۔ پردے میں چھپی ہیلن آف باؤ محلہ ۔۔۔کبھی کوئی ہومر ہماری کہانی بھی لکھے تو کمال ہوجائے۔۔پر اس کہانی میں میرا کردار کس کا ہوگا اکیلیس کا۔۔نہیں وہ تو مرگیا تھا۔۔۔اور مجھ میں تمھیں اغوا کرکے ۔۔۔تمھارے باپ اور آٹھ بھائیوں سے لڑائی کی ہمت نہیں ہے۔تم میری کلیوپیٹرہ ہو۔۔میں سیزر تو نہیں۔

۔مگر تمھاری پاؤں کے تل کا مالک بن کر شاید سیزر سے بھی زیادہ خوش نصیب ہوجاؤں۔۔۔۔وہ تل نہیں۔۔۔ایک پوری کائنات ہے۔۔۔۔کائنات بھی تو کبھی ایک تل جتنی ہی تھی۔۔۔کیا پتا کل کو کوایٹم فزکس تمھارے تل سے کتنی کائناتیں نکالے۔۔تو قارئین دیکھا پھر آپ نے! میری کتاب پڑھ کر عام سے لوگوں میں بھی تخلیق کے سوتے جاری ہوگئے ہیں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں میں نے یہ ناول کیوں لکھا۔

ایک نفسیات دان کی حثیت سے ناکامی کے بعد میں بہت مایوس تھا۔انھی دنوں ایک پاگل اردو رائٹر کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ یہ پاپولر اردو ادب کی رائٹر تھی۔ جس نے اشفاق احمد، بانو قدسیہ، عمیرہ احمد ، نمرہ احمد اور اس قبیل کے تمام لوگوں کو گھوٹ کر پی رکھا تھا۔ اس کی اوٹ پٹانگ باتیں سن کر میں ہسنتا کہ پاکسانی عوام کیا کیا چیزیں پڑھتی اور مانتی ہے۔ اس لڑکی کے پاگل پن کے وجہ بھی انھی رائٹرز کی باتیں لگتی تھیں۔ میں نے اسے اپنی مغربی سائیکالوجی سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی مگر کوئی فرق نہ پڑا۔

تنگ آکر میں بس اس کی باتیں سنتا۔ میں نے ان باتوں کو ایک ڈائری میں لکھنا شروع کردیا۔ کچھ عرصہ بعد ان باتوں کو پڑھا تو وہ محبت نفسیات اور روحانیت کا ایک منجن لگیں۔۔ ایک دن میری وہ ڈائری اس پاگل رائٹر کے ہاتھوں لگ گئی ۔۔ اس پاگل اس کو پڑھ کر اتنی متاثر ہوئی کہ میری فین ہوگئ۔ میں نے اسے بتانے کی کوشش کی کہ یہ اسی کی باتوں کو سن کر لکھی ہے۔ مگر وہ نہ مانی۔ کہنے لگی میں کبھی چاہ کر بھی ایسا نہیں لکھ سکی۔

اسنے اصرار کیا کہ اسے چھپواؤں۔ میں شروع میں تو نہ مانا، مگر پھر دیکھا کہ وہ پاگل رائٹر ہر وقت میری ڈائری ہی پڑھتی رہتی ہے ۔ اور اس کے دورے پڑنے بند ہوگئے ہیں۔ وہ اب باتوں سے زیادہ خیالوں میں کھوئی رہتی ہے تو میں نے سوچا ہوسکتا ہے پاپولر اردو فکشن پڑھنے والے باقی پاگلوں کا بھی کچھ بھلا ہوسکتا ہے۔ شاید پاکستان میں محبت، نفسیات اور روحانیت کا منجن ہی لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ یہ مغربی سائیکالوجی نہیں۔ میں نے اپنی سائیکالوجی کی تمام کتابیں اٹھا کر نالہ لئی میں پھینکیں اور اس انوکھے منجن کو بنانے اور بیچنے پر لگ گیا۔ وہ دن اور آج کا دن بے تحاشا لوگوں کو اس سے افاقہ ہوا ہے۔آئیں آپ بھی اس کتاب کو پڑھیں اور اپنے نفسیاتی مسائل لے کر میرے کلینک آئیں