یا اللہ میرے شوہر آگئے

یا اللہ میرے شوہر آگئے
بدھ‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2018 | 0:09
نئی خوبصورت، طرحدار اور جواں سال پڑوسن محلے میں آباد ہوئی تھی۔ تین چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ شوہر شکل ہی سے خرانٹ اور بدمزاج لگتا تھا۔ پڑوسن کی صورت دیکھ کر ہی محلے کے مردوں کی تمام تر ہمدردیاں خاتون کے ساتھ ہوگئیں۔ خاتون نے آہستہ آہستہ محلے کے گھروں میں آنا جانا شروع کیا۔ شیخ صاحب اور مرزا

صاحب کو اپنی اپنی بیگمات کے توسط سے پتا چلا کہ نئی پڑوسن کا شوہر تند خو اور شکی ہے۔ خاتون شوہر سے کافی ڈرتی ہیں۔ یہ سنتے ہی دونوں مرد حضرات کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔

دل ہی دل میں شکوہ کر لیا کہ یا اللہ کیسے کیسے ہیرے ناقدروں کو دے دیئے ہیں۔ ایک دن نئی خوبصورت پڑوسن سبزی والے کی دکان پر شیخ صاحب کو ملی۔ خود ہی آگے بڑھ کر سلام کیا۔ شیخ صاحب کو اپنی قسمت پر ناز ہوا۔ خاتون نے کہا کہ شیخ صاحب برا نہ مانیں تو آپ سے کچھ مشورہ درکار ہے۔

شیخ صاحب خوشی سے باولے سے ہوگئے۔ خاتون نے عام گھریلو عورتوں کی طرح بھائی صاحب کہنے کے بجائے شیخ صاحب کہا تھا۔ شیخ صاحب نے دلی خوشی چھپاتے ہوئے نہایت متانت سے جواب دیا۔ جی فرمایئے۔ خاتون نے کہا میرے شوہر کام کے سلسلے میں اکثر شہر سے باہر رہتے ہیں۔ میں اتنی پڑھی لکھی نہیں۔ بچوں کے اسکول کے ایڈمیشن کی سلسلے میں رہنمائی درکار تھی۔ خاتون نے کہا کہ یوں سڑک پہ کھڑے ہو کر بات کرنا مناسب نہیں۔ کیا آپ کے پاس وقت ہوگا تو چند منٹ مجھے سمجھا دیں۔

تاکہ میں کل ہی ان کا داخلہ کروا دوں۔ شیخ صاحب چند منٹ کیا صدیاں بتانے کو تیار تھے۔ فورا کہا جی ضرور۔ آئیے۔ شیخ صاحب خاتون کے ہمراہ چلتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ ابھی صوفے پر بیٹھے ہی تھے کہ باہر اسکوٹر کے رکنے کی آواز آئی۔ خاتون گھبرا گئی۔ یا اللہ میرے شوہر آگئے۔ انہوں نے تو میرا اور آپ کا قتل ہی کر دینا ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں سنیں گے۔ ایک کام کیجیے۔ یہ سامنے کپڑوں کا ڈھیر ہے۔

آپ یہ نیلا دوپٹے کا گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جائیں اور کپڑے استری کرنا شروع کردیں۔ میں کہہ دوں گی کہ استری والی ماسی کام کر رہی ہے۔ شیخ صاحب نے جلدی سے گھونگھٹ کاڑھا اور استری کرنے لگے۔ تین گھنٹے تک استری کرتے رہے جب تک وہ خرانٹ شخص گھر میں موجود رہا۔ جیسے ہی شوہر گھر سے باہر گیا۔ پسینے میں شرابور، تھکن سے چور شیخ صاحب نڈھال قدموں سے گھر سے نکلے۔

جیسے ہی باہر نکلے سامنے مرزا صاحب آتے دکھائی دییے۔ پوچھا کتنی دیر سے اندر ہو۔ بولے تین گھنٹوں سے استری کررہا ہوں۔ مرزا صاحب نے تاسف سے دیکھا اور بولے۔ جس کپڑوں کے ڈھیر کو تم نے تین گھنٹے استری کیا ہے، کل میں نے ہی چار گھنٹے بیٹھ کر دھوئے ہیں۔کیا تمہیں بھی نیلا دوپٹہ اوڑھایا تھا؟؟؟؟؟شیخ صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں دوست مرے مرے قدموں سے اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دییے۔

1965کی جنگ میں جنرل حمید گل کا کیا کردار تھا ؟ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور روس نے آئی ایس آئی کے آگے گھٹنے ٹیکے ؟

1965کی جنگ میں جنرل حمید گل کا کیا کردار تھا ؟ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور روس نے آئی ایس آئی کے آگے گھٹنے ٹیکے ؟
منگل‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2018 | 20:24
جنرل حمید گل 1936 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے جبکہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق سوات سے تھا. انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی اور پھر 1956 کو پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا.جنرل حمید گل کا آرمی کیرئیر بےپناہ کارناموں سے بھرا پڑا ہے جس میں سنہ1965 کی جنگ میں بھارت کے خلاف چونڈہ سیکٹر میں ٹینک

رجمنٹ کی کمانڈ کرنا اور یاد رہے کہ یہ جنگ جنگی تاریخ میں ٹینکوں کی خوفناک ترین لڑائیوں میں شمار ہوتی ہے.اور یہ جنگ عظیم میں جرمنی اور روس کے درمیان لڑی جانی والی مشہور ٹینکوں

کی لڑائی بیٹل آف کرسک کے بعد دنیا بھر میں ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی سمجھی جاتی ہے. چونڈہ کی لڑائی میں دونوں جانب کا بےپناہ نقصان ہوا مگر پاکستان نے کامیابی کے ساتھ اپنی سرحدوں کے دفاع کر لیا.حمید گل کو سنہ 1978 میں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دی گی اور اس کے چند سالوں بعد انہیں پاکستان ملٹری انٹیلیجنس کا سربراہ بنا دیا گیا. اور پھر سنہ 1989 کو اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے جنرل حمید گل کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا.

اسی کی دھائی پاکستان کے لئے بہت اہم تھی جس میں پاکستان دو اطراف سے یعنی اپنی مشرقی اور مغربی سرحد کی طرف سے دشمنوں میں گھر چکا تھا. مشہور اصطلاح ہے کہ آپکے دشمن کا دشمن اپکا دوست ہوتا ہے اس اصطلاح کو استمعال کرتے ہوئے پاکستان نے امریکا کے ساتھ مل کر روس کا مقابلہ شروع کر دیا. روس کا اصل مقصد پاکستان کے گرم سمندری پانی تک رسائی تھا اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کو ساتھ ملا کر پاکستان کی مغربی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ شروع کر دی اور یہاں تک بھی ہوا کہ افغانستان کے جنگی جہازوں نے روس کی آشیرباد کے ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں کی خلاف ورزی کرتے بلکہ متعدد بار شہری علاقوں پر بمباری بھی کی.

یہ صورتحال پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے لئے نہایت فکر کا باعث تھی اور انہوں نے اس سے پہلے کہ روس افغانستان کے ساتھ ملک کر پاکستان کے خلاف بھرپور کاروائی کرتا پاکستان نے روس کو افغانستان میں ہی الجھانے کے فیصلہ کیا.پاکستان نے افغانستان میں اغان مجاہدین کی ایک کمزور مزاحمتی تحریک کو منظم کر کے افغان مجاہدین کو سپورٹ کیا گیا اور روس اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف روس میں مسلح جہاد کا اعلان کر دیا گیا.

اس سارے پلان میں جنرل حمید گل کا اہم کردار رہا ہے اور جب جنرل حمید گل جنرل اختر عبدل رحمان کی سربراہی میں ISI میں کام کر رہے تھے تو کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے چند نامور جنرل جن میں جنرل اختر عبدل رحمان جنرل آصف نواز جنجوعہ اور جنرل حمید گل جیسے قابل جنرلوں نے روس کے توڑنے کا پلان بنایااور دیوار پر لگے روس کے نقشے پر سرخ قلم سے لکیریں کھینچی اور انہوں نے بتایا کہ روس اس طرح ٹوٹے گا اور کہنے والے کہتے ہیں کہ روس بلکل اسی طرح ٹوٹا اور وہ نقشہ پاکستان آرمی کے پاس آج بھی محفوظ ہے جس کو وہ اپنے نئے آنے والے افسروں کی تربیت اور ان کو مورال کو بلند کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں.

جنرل حمید گل نے افغان جنگ میں مجاہدین کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور روس کو کاری ضرب لگانے میں کامیاب رہے. روس کے خلاف پاکستان آرمی کے جوان بھی مجاھدین کے شانہ بہ شانہ لڑے اور پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر توپوں کو رات کے اندھیرے میں اٹھا کر افغانستان میں لے جاتے جو رات بھر روسی افواج پر بمباری کرتے اور صبح ہونے سے پہلے ان توپوں کو واپس پاکستان لے جایا جاتا.تاریخ میں اس جنگ کو یوں بیان کیا جاتا ہےکہ یہ جنگ افغانستان کی سرزمین پر روس اور پاکستان کے درمیان لڑی گئی.

اور پھر وہ وقت بھی آیا جب دنیا نے دیکھا کہ ایک سپر پاور کس طرح شکست و ریخت کا شکار ہوئی.اسی کی دہائی میں ہی روس کی شکست اور اس کے دانت کھٹے کرنے کے بعد پاکستان نے بھارت کو واضح پیغام دینا تھا جو راجیو گاندھی کی سربراہی میں پاکستان پر حملے کرنے کے لئے پر تول رہا تھا.پاکستان نے جنرل حمید گل کی سربراہی میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقیں ضرب مومن کا آغاز کیا جس کا کامیابی سے انقعاد کا سہرا بھی جنرل حمید گل کے سر جاتا ہے.

غرض یہ کہ جنرل حمید گل کی شخصیت کو چند الفاظ میں بیان کرنا نہ ممکن ہے اور ہو سکتا ہے کہ کچھ حلقے ان کی طالبان کو سپورٹ کے خلاف ہوں مگر یاد رہے کہ آج کل کے طالبان وہ طالبان نہیں جنہوں نے افغان جہاد میں حصہ لیا تھا بلکہ ان میں سے بہت بڑی تعداد تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جو آج اپنے آپکو مجاہدین کہتے

ہیں.آپکو چاہے جنرل حمید گل کی پولیسیوں سے اختلاف ہو لیکن آپ اس شخص کی حب الوطنی پر شک نہیں کر سکتے اور اس بات کی گواہی پاکستان کا بچہ بچہ دے گا کے اس شخص نے اپنے ملک کو بچانے کی خاطر اس وقت کی سپر پاور روس سے نہ صرف ٹکر لی بلکہ الله تعالیٰ کی مدد سے اس کے ٹکرے ٹکرے کر دیے. جنرل حمید گل کے الفاظ تھے کہ ایک مومن کے لئے سپر پاور صرف اور صرف الله تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے اور میں الله تعالیٰ کی سوا کسی اور کو سپر پاور نہیں مانتا۔

شراب کیسے حرام ہوئی؟

شراب کیسے حرام ہوئی؟
منگل‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2018 | 20:20
مؤرخین نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت نوح علیہ السلام نے انگور کی بیل اگائی. ایک دن شیطان آیا اور اس نے انگور کی بیل پر پھونک ماری تو وہ سوکھ گئی.حضرت نوح علیہ السلام یہ کیفیت دیکھ کر پریشان ہوگئے ، پھر شیطان آپ ؑ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! آپ پریشان کیوں ہیں؟ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی

پریشانی کی وجہ بتائی ، وجہ سن کر شیطان نے حضرت نوح علیہ السلام کو مشورہ دیا کہ اگر آپ اس بیل کو سر سبز دیکھنا چاہتے ہیں تو

میرے مشورے پر عمل کریں اورمجھے اجازت دیجیئے کہ میں اس بیل پر شیر، چیتا، ریچھ، گیدڑ، کتا، لومڑی اور مرغ سات جانوروں کا خون بطور نذرانہ چڑھا دوں. اس عمل سے مجھے یقین ہے کہ یہ بیل دوبارہ ہری بھری ہو جائے گی.

حضرت نوح علیہ السلام نے اجازت دے دیاور یہ اجازت بے خبری کی وجہ سے تھی، چونکہ حضرت نوح علیہ السلام کو اس وقت نذرانے کی حرمے معلوم نہیں تھی. چناچہ شیطان نے ان سات جانوروں کا خون انگور کی بیل میں چڑھا دیا تو اچانک وہ سرسبز ہونے لگی بلکہ خون ڈالنے سے اتنا فائدہ ہوا کہ ہمیشہ بیل میں ایک ہی قسم کے انگور لگتے تھےلیکن اس مرتبہ سات قسم کے انگور آئے. اسی وجہ سے “شرابی”(شراب پینے والا) شیر کی طرح بہادر، ریچھ کی طرح طاقتور، چیتے جیسا غصہ، گیدڑ کی طرح بھونکنے والا، کتے کی طرح جھگڑالو، لومڑی کی طرح چاپلوس اور مرغ کی طرح چنختا رہتا ہے. اسی زمانے میں نوح علیہ السلام کی قوم پر شراب حرام کردی گئی.(روضہ العلماء)

مسلمانوں کی تاریخ حیران کن واقعہ ، ایک پاکستانی مسلمان سفید کی جگہ نارنجی احرام پہن کر مسجد نبویؐ پہنچا ، جب وجہ پوچھی گئی تو

مسلمانوں کی تاریخ حیران کن واقعہ ، ایک پاکستانی مسلمان سفید کی جگہ نارنجی احرام پہن کر مسجد نبویؐ پہنچا ، جب وجہ پوچھی گئی تو
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:48
مسجد نبویﷺ میں پاکستانی بزرگ نارنجی رنگ کا احرام پہن کر پہنچ گیا، مسجد نبویﷺ میں زائرین کی رہنمائی پر متعین عالم دین کے دریافت کرنے پر پیر کی سنت ادا کرنے کا اعتراف، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیاپر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان

کے شہر کراچی سے عمرہ کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس کا سفر کرنے والا بزرگ پاکستانی نارنجی رنگ کا احرام پہن کر مسجد نبویﷺ میں پہنچ گیا جس پر وہاں زائرین کی رہنمائی کیلئے متعین

ایک پاکستانی عالم دین نے انہیں اپنے پاس بلا کر نارنجی رنگ کا احرام پہننے کی بابت دریافت کیا تو پاکستانی بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے شہر کراچی کےعلاقے لانڈھی کا رہنے والا ہے اور بھارت میں مدفون حاجی وارث علی کا مرید ہے۔

ان کے مرشد نے ساری زندگی نارنجی رنگ کا ان سلا کپڑا پہنا ہے اور وہ اپنے مرشد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد یہی لباس زیب تن کئے ہوئے ہے۔ جس پر زائرین کی رہنمائی کیلئے متعین پاکستانی عالم دین نے انہیں نبی پاک ﷺ کی سیرت طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے سمجھایا کہ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں ان کو نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے ان کی پیروی کرنی چاہئے، نبی کریم ﷺ نے حج اور عمرہ میں ان سلا سفید رنگ کا احرام استعمال کیا اور حج و عمرہ کے بعد سلا ہوا لباس پہنا۔ ہمیں کسی پیر کے بجائے اپنےنبی کریمﷺ کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔

بیٹا تو اپنی حثیت سے کہیں بڑی خواھش کر بیٹھا ھے

بیٹا تو اپنی حثیت سے کہیں بڑی خواھش کر بیٹھا ھے
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:09
ایکد فعہ کا ذکر ھے ایک عورت کسی بادشاہ کے محل میں کام کرتی تھی ایک دفع ایسا ھوا کہ وہ بیمار ھو گیئ اور محل میں نا جا ساکی اس کا ایک جوان بیٹا تھا۔اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ مین بیمار ھوں تو کچھ دنوں کے لئے تو جا اور محل میں صفائ کر کھیں بادشا ھم سے ناراض نا ھو جاے ماں کی بات مان کر بیٹا محل میں چلا گیا اتفاق سے

وہ لڑکا وہہاں صفائ کرھا تھا ک اچانک بادشاھ کی بیٹی ادھر سے گزری اس جوان کی نظر جب حسین

و جمیل شھزادی پہ پڑی تو اس کا دل بے اختیار تڑپ گیا اور شہزادی ک عشق میں مبتلا ھو گیا شام کو گھر واپس ایا مگر دل کو قرار نا ملا رات جاگ کر صبح ک انتظار میں گزاری دوسرے دن جب محل میں گیا تو جسجتجو مین تھاکہ کسی طرح محبوب کی زیارت ھو جاے مگر وہ اسے کہیں نظر نا آئ اسی طرح چار دن گزر گئے۔ ادھر اس کی ماں کی صحت تھیک ھو گئ۔تو اس نے کہا کہ بیٹا میں اب تھیک ھوں اج کہ باد تم بادشاہ ک محل میں نا جانا عشق کی جو چوٹ اسے لگی تھی

اسے ایک پل قرار نا انے دیتی رفتہ رفتہ اس نے کھانا پیینا بھی چھوڑ دیا اور اتنا بیمار ھوا ک چارپائ پہ آ گیا ماں نے اسے پوچھا کہ تجھے کیا گیا ھے جس نے تری حالت یہ کر دی۔اس جوان نے ہمت کر کہ ماں کو سب قصہ سنا دیا۔ماں بیٹے کی بات سن کہ پریشان ھو گئ اور اسے سمجھا نے لگی ک بیٹا تو اپنی حثیت سے کہیں بڑی خواھش کر بیٹھا ھے اسے بھول جا کہاں بادشاہ کی بیٹی اور کہاں ھم غریب لوگ اس نے کہا ماں میں سب جانتا ہون مگر میرے بس نئ ک اسے بھلا سکوں۔ اس کا عشق سچا تھا اس لئیے ادھر شہزادی کے دل میں بھی کچھ جستجو پیدا ھوئ

دوسرے دن شہزادی نے لڑکے کی ماں سے پوچھ لیا ک جب تم بیمار تھی تو اک جوان جو محل کی صفائ کے لئے آتا تھا وہ کوون تھا ماں نے اسے بتایا ک وہ میرا بیٹا تھا اور اب وہ بہت بیمار ھے اور بستر مرگ پی ھے شہزادی نے پوچھ لیا کہ کیوں تو ماں نے کہا کہ اگر جان کی امان ھو تو سچ بتاوں۔شہزادی نے کہا بتا کیا ھوا اسے یہ قصہ سنا۔ماں شہزادی کو سب سچ بتایا وہ اک نظر تجھے دیکھ ک تیرا عاشق ھوا

اس کی خواھش تھی ک دوبارا تجھے دےکھے مگر دیکھ نئ سکا اور اب موت کے قریب ھے شہزادی ساری بات نی اور کیا کہ۔میں چاھوں بھی تو اسے مل نئ سکتی ھاں اتنا کر سکتی ھوں کہ اسے جا کے کہہ اپنا بھیس بدل اور شھر کے دروازے پے جا ک بیٹھ جا کسی سے بات نہ کر کوئ کھانے کو دے تو کھا لے ورنہ بھوکا پیاسا بیٹھا رہ کسی سے کچھ طلب نہ کر لوگ سمجھیں گے کہ کوئ فقیر ھے اللہ ولا ھے کچھ دنوں میں جب اس کا چرچا ھو جاے گا لوگ اس کی زیارت کو جائیں گے تو میں بھی اپنے باپ سے کھون گی ک شھر ک باھر کوئ فقیر ایا ھے

مجھے اس کی زیارت کہ لئیے جانے دیں اس طرح وہ مجھے اک بار دیکھ لے گا اور شائد قرار مل جاے اور تیرا بیٹا ٹھیک ھو جاے۔میں بس یہ کر سکتی ھوں اور کچھ میرے بھی بس میں نہی اس کی ماں نے ایسا ھی کیا اس کے بیٹے نے فقیروں کا بھیس بدلا اور شھر ک باھر جا کہ بیٹھ گیا چند دنوں میں شھر میں چرچا ھو گیا کہ کوئ اللہ کا بندہ شھر سے باھر ایا بیٹھا ھہ لوگ اس کی زیارت کو آنے لگے ۔

جب محل تک خبر پہچی تو شہزادی نے بھی باپ سے ارض کر دی کہ کوئ اللہ والآ ھے مجھے اس کی زیارت کو جانے کی اجازت دیں۔بادشاہ نے یہ سن کر خوشی سے اجازت دے دی کہ کل صبح چلی جانا ادھر شھزادی کو اجازت ملی اور ادھر اس عاشق ک دل میں یہ خیال گزرا ک میں نے تو جھوٹا بھیس بنایا ھے اللہ والوں کا اور اتنی عزت اور اتنی نعمتیں مل رھی ھیں ک لوگ ادب میں میرے سامنے کھڑے ھیں تو جو لوگ سچ میں اللہ کہ فقیر ھو جاتے ھیں ان کو کیا مقام ملتا ھو گا۔بس اس نے یہ سوچا اور اس رات دل سے اللہ کی عبادت کی اللہ پاک نے اس کی انکھوں کو اپنی معرفت ک نور سے سیراب کر دیا

صبح تک اس کی دنیا بدل چکی تھی شھزادی جب صبح اس کی زیارت کو پہچی اس کہ سامنے آ ک بیٹھ گئ تو اس نے نگاہ اٹھا کہ بھی نا دیکھا وہ بہت حیران ھو گیئ اور اس سے پوچھا ک تو دیکھتا کیون نہیں اس جوان نے کہا کہ تجھے کیا دیکھوں تیرا حسن نجاستوں سے بھرا ھے۔ میرے سامنے جنت کی وہ حوریں بیٹھی ھیں اس دنیا میں جن کی کوئ مثال نہی جو نجاستوں اور کثافتون سے پاک ھیں ان کا حسن دنیا کو روشن کر رھا ھے،،،

خب شھزادی نے یہ باتیں سنی تو اگے بڑھ کر اس کے منہہ پے تماچا دے مارا میری وجہ سے تو تو یہاں تک پوہچا جو تجہے نظر آ رھا ھے اب مجھے بھی دکھا جوان نے کھا اگر تجھے بھی ایسی زندگی چاھیئے تو دنیا چھوڑ ک اور میرے ساتھ بیٹھ جا اس شھزادی نے بھی دنیا ترک کی وہ عارف بن گیا وہ عارفہ بن گئ عشق حقیقی کی حقدار بس ذات خدا ھے-

حضرتِ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اگر چاہو تو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے تمہاری بیوی کو زندہ کر دوں ؟

حضرتِ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اگر چاہو تو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے تمہاری بیوی کو زندہ کر دوں ؟
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:38
ایک روز حضرتِ عیسیٰ عَلَیْہِ سَّلَام کا گزر ایک قبرستان سے ہوا ، تو وہاں ایک شخص ایک قبر کے پاس بیٹھا زار وقطار رو رہاتھا _ آ پ عَلَیْہِ السَّلَام نے رونے کا سبب پوچھا تو کہنے لگا : یہ میری زوجہ کی قبر ہے، یہ میرے چچا کی بیٹی تھی، مجھے اس سے بہت زیادہ پیار تھا میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا _۔حضرتِ عیسیٰ

عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اگر چاہو تو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے تمہاری بیوی کو زندہ کر دوں ؟ اس نے بے قرار ہو کر کہا :

ہاں ! ایسا ضرور کر دیجئے ! چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے اٹھ جا ! قبر پھٹی اوراس میں سے ایک حبشی غلام باہر نکلا جس پر آگ کے شعلےآگ کے شعلے بھڑک رہے تھے _ اس نے عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھ کربآوازِ بلند کہا:

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ عِیْسٰی رُوْحُ اللہ اس کا یہ کہنا تھا کہ آگ بجھ گئی _عذابِ الٰہی اس سے دور ہو گیا _ اس شخص نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی میری بیوی کی قبر یہ نہیں بلکہ دوسری ہے _ آپ عَلَیْہِ السَّلَام وہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے اٹھ جا ! قبر پھٹی اور اس میں سے ایک حسین وجمیل عورت باہر نکل آئی_۔اس شخص نے دیکھتے ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا :

اے روح اللہ ! یہی میری بیوی ہے۔ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ان دونوں کو وہیں چھوڑکر آگے تشریف لے گئے ۔ وہ اپنی بیوی سے مل کر بہت خوش تھا _ کچھ دیر بعد اس پر نیند کا غلبہ ہوا تو وہیں سو گیا اس کی بیوی اس کے قریب ہی بیٹھی رہی اِتنے میں وہاں سے ایک شہزادے کا گزر ہوا ، شہزادے نے اس عورت کو دیکھا تو اسے پسند آگئی، عورت کو بھی شہزادہ پسند آگیا اور وہ اپنے شوہر کو سوتا چھوڑ کر شہزادے کے ساتھ چلی گئی _ جب اس مرد کی آنکھ کھلی تو اپنی بیوی کو نہ پا کر بہت پریشان ہوا دھونڈتے دھونڈتے شہزادے کے محل تک پہنچ گیا _۔

وہاں اسے اپنی بیوی نظر آئی تو کہا :یہ میری بیوی ہے _شہزادے نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو یہ تو میری لونڈی ہے، یقین نہیں آتاتو اسی سے پوچھ لو!یہ سن کر اس بے وفاعورت نے فوراً کہا: ہاں ! میں شہزادے کی لونڈی ہوں میں تو تمہیں جانتی تک نہیں تم بے جا مجھ پر الزام لگا رہے ہو _ یہ سن کر وہ روتا ہوا محل سے واپس آگیا _کچھ دنوں بعد حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے ملاقات ہوئی تو عرض کی:اے رُوحُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام ! میری بیوی جسے آپ نے زندہ کیا تھا اب شہزدے کے پاس ہے

شہزادہ اسے اپنی لونڈی بتاتا ہے اور وہ بھی یہی کہہ رہی کہ میں شہزادے کی لونڈی ہو تمہاری بیوی نہیں_ آپ ہمارا فیصلہ فرما دیجئے _چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس عورت سے فرمایا: کیا تو وہی نہیں ہے جسے میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے زندہ کیا تھا ؟ عورت نے کہا: نہیں میں وہ نہیں ہو ں_آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فریا : اچھا تو ہماری دی ہوئی چیز ہمیں واپس کر دے !

اتنا فرمانا تھا کہ وہ جھوٹی وبے وفا عورت مردہ ہوکر زمین پر گر پڑی_۔حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : جو شخص ایسے مرد کو دیکھنا چاہے جو کافر ہوکر مرا تھا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے زندہ کرکے ایمان کی دولت سے نوازا تو وہ اس حبشی غلام کودیکھ لے اور جو ایسی عورت کو دیکھنا چاہے جو ایمان کی حالت میں مری پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے زندہ کیا اور وہ کفر کی حالت میں مری تو وہ اس عورت کو دیکھ لے_

وہ دودھ پیتا بچہ خود ہی بولنے لگا اور کہا

وہ دودھ پیتا بچہ خود ہی بولنے لگا اور کہا
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:32
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک غیر مسلم عورت اپنا بچہ اٹھائے ہوئے حاضر آئی ۔یہ عورت پیارے آقا صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کا امتحان لینے کی نیت سے آئی تھی ۔ مگر جیسے ہی وہ بچے کو لے کر حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچی تو وہ دودھ پیتا بچہ خود ہی بولنے لگا اور کہا : السلام علیکم یا رسول

اللہ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم ، ہم آپ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ۔یہ دیکھ کر عورت

کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور غصے سے بچے کو کہنے لگی : خاموش ! تجھے یہ الفاظ کس نے سکھائے؟بچہ کہنے لگا:ماں ! اپنے سر کے اوپر دیکھ جبرائیل علیہ السلام کھڑ ےہیں ۔ وہ مجھے پورے چاند کی طرح واضح نظر آ رہے ہیں ۔ وہی مجھے وصفِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکھا رہے ہیں اور شرک و کفر کے ناپاک علم سے خلاصی دلا رہے ہیں ۔اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے سے فرمایا : اے بچے یہ بتا کہ تیرا نام کیا ہے ۔۔۔ ؟

بچے نے کہا : میرا نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبد العزیز ہے ۔ مگر ان مشرک لوگوں نے میرا نام عبد ِ عزیٰ رکھا ہے ۔ اس ذات ِ پاک کی قسم جس نے آپ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبر بنایا ؛ میں اس عزیٰ معبود باطل سے بیزار اور بری ہوں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نگاہ کے صدقے اسی وقت جنّت سے ایسی خوشبو آئی جس نے اس بچے اور اس کی ماں کا دماغ معطّر کر دیا اور بچے کے ساتھ ساتھ اس کی ماں بھی ایمان لے آئی اور اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئی

ہم عیسائی ہیں اس لیے آپ کو اپنے دین چھوڑ کر عیسائی ہونا پڑیگا

ہم عیسائی ہیں اس لیے آپ کو اپنے دین چھوڑ کر عیسائی ہونا پڑیگا
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:19
امریکہ میں ایک نوجوان تھا ، کلمہ گو مسلمان تھا، لیکن جس دفتر میں کام کرتا تھا اس دفتر میں کام کرنے والی ایک امریکن لڑکی سے اس کا تعلق ہو گیا ، اس کا یہ محبت کا تعلق اتنا بڑھا کہ اس نے محسوس کیا کہ اب میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا، چنانچہ اس نے پروپوزل (تجویز) بھیج دی کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں، اس کے والدین

نے کہا ہماری یہ کنڈیشن (شرط)ہے کہ ۔ ایک : ہم عیسائی ہیں اس لیے آپ کو اپنے دین چھوڑ کر عیسائی ہونا پڑیگا۔

دو: آپ اپنے ملک واپس نہیں جایا کریں گے۔تین : جس کمیونٹی میں آپ رہتے ہیں اس کمیونٹی کے لوگوں سے آپ بالکل نہیں ملا کریں گے ۔ اگر آپ یہ تمام شرائط پوری کر سکتے ہیں تو ہم اپنی بیٹی کی شادی کر دیتے ہیں،یہ اپنے جذبات میں اس قدر مغلوب الحال تھا کہ اس اللہ کے بندے نے یہ تمام شرائط قبول کر لیں، ماں باپ سے قطع تعلقی ، عزیز و اقارب سے رشتہ ختم ، ملک سے رشتہ ختم ،

جس کمیونٹی (مسجد ) میں رہتا تھا ، وہاں آتا جاتا تھا وہاں سے رشتہ ختم ، حتی کہ اپنا مذہب چھوڑ کر عیسائی بن گیا اور عیسائیوں کے ماحول میں زندگی گزارنے لگ گیا ، پھر اس نے اس لڑکی سے شادی کر لی ، مسلمان بڑی پریشان ، کبھی کبھی وہ اس کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے مگر وہ ان سے ملنے سے کترایا کرتا تھا ، کہیں پبلک میں مل جاتا تو یہ دور کنی کترایا جاتا تھا ، لوگ بالآخر تھک گئے ۔ کسی نے کہا ، مرتد ہو گیا ۔ کسی نے کہا ، اس نے جہنم خرید لی ۔ کسی نے کہا اس نے بڑا مہنگا سودا کیا ۔

جتنے منہ اتنی باتیں، اس حال میں اس کو ایک سال گزر گیا ، دو سال گزرگئے ، چار سال یونہی گزرگئے ، اس کے دوست احباب اس سے مایوس ہو گئے ، حتی کہ یہ ان کی یادداشت سے بھی نکلنے لگ گیا اور بھولی بسری چیز بنتا چلا گیا ، اچانک ایک دن امام صاحب نے مسجد کا دورازہ کھولا تو یہ نوجوان بھی فجر کی نماز پڑھنے کیلئے آیا ، وضو کیا اور مسجد میں صف میں آکر بیٹھ گیا ، امام صاحب بڑے حیران ! ان کے کیلئے تو یہ عجیب چیز تھی ، انہوں نے نماز پڑھائی ، پھر اس سے سلام کیا اس کو اپنے حجرہ میں لے گئے ، انہوں نے محبت سےپیار سے بیٹھا کر ذرا پوچھا کہ آج بڑی مدت بعد آپ کی زیارت نصیب ہوئی ۔

اس وقت اس نے اپنی حالت بتائی کہ میں نے اس لڑکی کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا ، بہت کچھ میں اپنا ضائع کر دیا ، لیکن جس گھر میں رہتا تھا ، میرے اس گھر میں ایک جگہ پر اللہ کا قرآن پڑا ہوا تھا، میںجب کبھی آتا جاتا میری نظر قرآن مجید پر پڑتی تو اپنے دل میں سوچتا کہ یہ میرے مولا کا کلام ہے اور یہ میرے گھر میں موجود ہے، میں اپنے نفس کو ملامت کرتا کہ تو ظاہر میں جو بنا پھر تا ہے ، پھر بھی تیریے دل میں اللہ کا ایمان موجود ہے ، اعمال میرے برے تھے لیکن دل میں مجھے کہا کرتا تھا ، میں نے جس کا کلمہ پڑھا ،

میں اس سے محبت کرتا ضرور ہوں اس لیے اس کی نشانی میں نے رکھ ہوئی ہے۔ اس طرح کئی سال گزر گئے ، ایک دن میں آیا اور حسب معمول میں نے گزرت ہوئےاس پر نظر ڈالی تو جھے وہ کتاب نظر نہ اائی ، میں وائف سے پوچھا کہ ایک کتاب یہاں پڑی تھی ، وہ کدھر ہے ؟اس نے کہا ـ: میں گھر کی صفائی کی تھی تو جو غیر ضروری چیزیں تھیں ، جو استعمال نہیں ہوتی تھیں ، اس سب کو میں ٹریش کر دیا(یعنی ان کو الگ کر کے ایک گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا )اس نے پوچھا اس کتاب کو بھی ؟

ہاں! یہ نوجوان وہیں سے واپس گیا اور جا کر ٹریش کیبن میں سے وہ کتاب اٹھا لایا ، جب لڑکی نے دیکھا کہ یہ بڑی Strong Feelings (شدید جذبات)کا اظہار کر رہا ہے اس کتاب کو گھر میں رکھنا چاہتا ہوں ۔ جب لڑکی نے کتا کو دیکھا کہ عرب ہے تو سوچا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق ہے ، وہ کہنے لگی، دیکھو! یا تو اس گھر میں یہ کتاب رہے گی یا پھر میں رہوں گی ، تمہیں آج یہ طے کرنا ہے ۔

جب اس لڑکی نے کہا تو میں اپنے دل سے پوچھا کہ تو نے نفس کی خواہشا ت کی تکمیل کیلئے وہ کچھ کر لیا جو تجھے نہیں کرنا چاہیے تھا، آج تیرا رشتہ پرودگار سے ہمیشہ کیلئے ٹوٹ جائیگا ، اب تو فیصلہ کر لے کہ تو اس لڑکی کو چاہتا ہے یا پھر اپنے پرودگار کو چاہتا ہے، جب میں نے اپنے دل سوچا تو آواز دی کہ نہیں ، میں اپنے مولا سے کبھی کٹنا چاہتا ہوں ، میں اس لڑکی کو طلاق دے دی،

اب میں نے دوبارہ کلمہ پڑھا اور ہمیشہ کیلئے پکا مسلمان بن گیا ہوں ۔ تو اتنا غافل مسلمان ہو کر بھی دل میں اللہ رب العزت کی محبت کا بیج موجود ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں کسی کو فسق و فجور میں مبتلا دیکھ کر حقیر نہ سمجھنا چاہیے، کیا خبر ! اس کے دل میں محبت الہٰی کی جوبیج اور چنگاری چھپی ہے اسے یکلخت کہاں سے کہاں تک پہنچا دے ۔

اب کچھ بن کر ہی لوٹوں گا

اب کچھ بن کر ہی لوٹوں گا
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:06
اتنا غصہ تھا کہ غلطی سے پاپا کے جوتے پہن کے نکل گیا میں آج بس گھر چھوڑ دوں گا!! اور تبھی لوٹوںگا جب بہت بڑا آدمی بن جاؤں گا۔!! جب موٹر سائیکل نہیں دلوا سکتے تھے، تو کیوں انجینئر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں ؟!! آج میں پاپا کا پرس بھی اٹھا لایا تھا …. جسے کسی کو ہاتھ تک نہ لگانے دیتے تھے … مجھے پتہ ہے اس پرس

میں ضرور پیسوں کے حساب کی ڈائری ہوگی …. پتہ تو چلے کتنا مال چھپا ہے ….. ماں سے بھی … اسے ہاتھ نہیں لگانے دیتے

کسی کو .. جیسے ہی میں عام راستے سے سڑک پر آیا، مجھے لگا جوتوں میں کچھ چبھ رہا ہے …. میں نے جوتا نکال کر دیکھا ….. میری ایڑھی سے تھوڑا سا خون رس آیا تھا … جوتے کی کوئی کیل نکلی ہوئی تھی، درد تو ہوا پر غصہ بہت تھا .. اور مجھے جانا ہی تھا گھر چھوڑ کر …

جیسے ہی کچھ دور چلا …. مجھے پاؤں میں گیلا گیلا سا لگا، سڑک پر پانی پھیلا ہوا تھا …. پاؤں اٹھا کے دیکھا تو جوتے کی تلی پھٹی ہوئی تھی ….. جیسے تیسے لنگڑا كر بس سٹاپ پر پہنچا پتہ چلا ایک گھنٹے تک بس نہیں آئے گی….. میں نے سوچا کیوں نہ پرس کی تلاشی لی جائے ….

میں نے پرس کھولا، ایک پرچی دکھائی دی، لکھا تھا .. لیپ ٹاپ کے لئے 40 ہزار قرضے لئے… پر !!! لیپ ٹاپ تو گھر میں میرے پاس ہے؟دوسرا ایک جوڑ مڑا دیکھا، اس میں ان کے آفس کی کسی شوق ڈے کا لکھا تھاانہوں نے شوق لکھا: اچھے جوتے پہننا ……اوہ …. اچھے جوتے پہننا ؟؟؟ پر انکے جوتے تو ……….. !!!!

ماں گذشتہ چار ماہ سے ہر پہلی کو کہتی ہے: نئے جوتے لے لو … اور وہ ہر بار کہتے: “ابھی تو 6 ماہ جوتے اور چل جائیں گے .. میں اب سمجھا کتنے چل جائیں گے؟؟؟ …… تیسری پرچی ………. پرانا سکوٹر دیجئے ایکسچینج میں نئی موٹر سائیکل لے جائیں … پڑھتے ہی دماغ گھوم گیا ….. پاپا کا سکوٹر …………. اوہ ہ ہ ہ ہ ۔۔میں گھر کی طرف بھاگا …….. اب پاؤں میں وہ کیل نہیں چبھ رہی تھی …. میں گھر پہنچا ….. نہ پاپا تھے نہ سکوٹر ………….. اوههه!!نہیں!!

میں سمجھ گیا کہاں گئے؟ …. میں بھاگا …..اور ایجنسی پر پہنچا …… پاپا وہیں تھے …………… میں نے ان کو گلے سے لگا لیا، اور آنسؤوں سے ان کا کندھا بھیگ گیا .. ….. نہیں … پاپا نہیں …….. مجھے نہیں چاہئے موٹر سائیکل … بس آپ نئے جوتے لے لو اور مجھے اب بڑا آدمی بننا ہے .. وہ بھی آپ کے طریقے سے ….. ☑ “ماں” ایک ایسی بینک ہے جہاں آپ ہر احساس اور دکھ جمع کر سکتے ہیں … اور پاپا” ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جن کے پاس بیلنس نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے خواب پورے کرنے کی کوشش ہے

میرا پلنگ ہلنے لگا کہ کیا دیکھتا ہوں ، قائداعظم نے خواب میں کیا دیکھا ؟کئی سالوں بعد حقیقت سامنے آگئی

میرا پلنگ ہلنے لگا کہ کیا دیکھتا ہوں ، قائداعظم نے خواب میں کیا دیکھا ؟کئی سالوں بعد حقیقت سامنے آگئی
پیر‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2018 | 23:15
انسٹی ٹیوٹ آف آل انٹیلی جنٹ لائف کے بانی ڈاکٹر ایلن قیصرنے کہاہے کہ 1934ءمیں جب قائداعظم محمد علی جناحؒ لندن میں تھے لیکن جب وہ واپس ممبئی آئے تو ان کے سب سے قریبی دوست علامہ شبیر احمد عثمانی نے ان سے پوچھا کہ ہم سب آپ کو واپس لانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن آپ نہیں مانے ،آپ واپس آگئے ہیں ہم بہت

خوش ہیں ،کس کے کہنے پر آئے ،علامہ اقبال نے کوئی شاعری لکھی جس کی وجہ سے آپ واپس آئے یا لیاقت علی خان نے یا اور کسی نے،کیونکہ ہم سب

آپ کو لانے کی کوشش کررہے تھے ۔قائداعظم محمد علی جناح نے جواب دیاکہ ایسی بات نہیں ہے جیسے آپ سوچ رہے ہیں میں آپ کو بتاؤں گا حقیقت میں کیا ہوا لیکن ایک شرط پر کہ آپ کسی کو نہ بتائیں جب تک میں زندہ ہوں۔تو علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔

قائداعظم نے بتایا جب میں لندن میں تھا ،تو ایک رات کو میرا پلنگ ہل رہا تھا ، میں جاگ گیا تھا، ادھر اُدھر دیکھا کہ پلنگ ایسے کیوں ہل رہا تھاکچھ نہیں تھا میں سو گیا ، پلنگ دوبارہ ہلنے لگا، اتنے زور سے کہ میں سوچ رہا تھا کہ زلزلہ آرہا ہے، میں جاگ گیا۔اور اٹھ کر باہر نکل گیا گھر سے تو باہر دیکھا کوئی اور لوگ باہر نہیں ہیں میں پھر آ کرسوگیا۔ تیسری بار پھر پلنگ ہل رہا تھا اور پھر میں نے جاگ کر دیکھا تو ایک شخصیت کھڑی تھیں ،

میرے کمرے میں۔قائد اعظم نے انگریزی زبان میں پوچھا کہ ’آپ کون ‘ ہیں تو آگے سے انگریزی میں ہی جواب ملا کہ میں ’تمہارا نبی ﷺ ہوں ،قائد اعظم ایک دم ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں ’آپ کیلئے کیا کر سکتا ہوں ‘۔’آپ ﷺ نے حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم فوری واپس جاؤ برصغیر کے مسلمانوں کو تمہاری ضرورت ہے اور آزادی کی جدو جہد کی سربراہی کرو میں تمہارے ساتھ ہوں تم انشااللہ کامیاب ہو گے ۔